حديث ثقلین

ویکی شیعہ سے
(حدیث ثقلین سے رجوع مکرر)
حديث ثقلین
حدیث ثقلین
حدیث کے کوائف
موضوعمنزلت قرآن و اہل بیتؑ
صادر ازرسول خداؐ
اعتبارِ سندمتواتر
شیعہ مآخذالکافی، کمال الدین، امالی صدوق، امالی مفید، امالی طوسی، عیون اخبار الرضا، الغیبہ نعمانی، بصائر الدرجات
مشہور احادیث
حدیث سلسلۃ الذہب . حدیث ثقلین . حدیث کساء . مقبولہ عمر بن حنظلہ . حدیث قرب نوافل . حدیث معراج . حدیث ولایت . حدیث وصایت . حدیث جنود عقل و جہل


حدیث ثقلین قرآن اور اہل‌ بیتؑ کا مقام ہدایت اور ان کی اطاعت لازم ہونے کے بارے میں رسول خداؐ کی مشہور اور متواتر حدیث ہے۔ اس حدیث کے مطابق قرآن کریم اور اہل بیتؑ دو گراں بہا چیزیں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں یہاں تک کہ حوض کوثر پر رسول اللہؐ سے محلق ہوجائیں۔

شیعہ متکلمین شیعہ ائمہ کی امامت اور ولایت ثابت کرنے کے لئے حدیث ثقلین سے استناد کرتے ہیں۔ اسی حدیث سے استناد کرتے ہوئے شیعہ علما کا کہنا ہے کہ جو خصوصیات اور صفات قرآن مجید کے لئے ذکر ہوئی ہیں وہ اہل بیتؑ پر بھی صدق آتی ہیں۔ اس حدیث سے علم کلام میں کچھ ثابت کرتے ہیں جن میں شیعہ ائمہ کی امامت اور اس کا استمرار قیامت تک، ان کی اطاعت لازم ہونا، عصمت ائمہ، علمی مرجعیت، رہبری اور ولایت نیز قرآن اور اہلبیت کے درمیان اختلاف نہ ہونا شامل ہیں۔

بعض اہل سنت علما کے مطابق یہ حدیث مَوَدّت اہل‌بیت، ان کا احترام اور ان کے مستحب اور واجب حقوق ادا کرنے پر تاکید کرتی ہے۔ بعض اہل سنت اس بات کو مانتے ہیں کہ یہ حدیث اہل بیت سے تمسک پر دلالت کرتی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ حدیث امامت اور خلافت پر دلالت نہیں کرتی ہے۔

شیعہ اور اہل سنت علما کا کہنا ہے کہ یہ حدیث صرف ایک بار بیان نہیں بلکہ متعدد بار رسول اللہ سے نقل ہوئی ہے۔ پیغمبر اکرمؐ سے حدیث بار بار بیان ہونا اس کی اہمیت اور عظمت سمجھاتی ہے۔ حدیث ثقلین شیعہ اور سنی متعدد مصادر حدیث میں نقل ہوئی ہے اور دونوں مذاہب اس حدیث کا مضمون صحیح ہونے پر اتفاق رائے رکھتے ہیں۔

یہ حدیث مختلف سند کے ساتھ 20 سے زائد اصحاب سے نقل ہوئی ہے۔ سید ہاشم بَحرانی اپنی کتاب غایَۃُ المَرام میں کافی، کمال‌ الدین، عیون اخبار الرضا(ع)، بَصائِر الدرجات جیسے شیعہ مصادر حدیث سے اسی مضمون کی 82 احادیث اور صحیح مسلم، سُنَن تِرْمِذی، سنن نِسائی، سنن دارَمی و مسند احمد بن حنبل جیسی اہل سنت مصادر حدیث سے 39 احادیث نقل کرتے ہیں۔

حدیث ثقلین کے مصادیق میں شیعہ علما صراحت سے بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد شیعوں کے بارہ ائمہ ہیں اور بعض روایات میں اس بات کی تصریح بھی ہوئی ہے؛ لیکن اہل سنت علما کے درمیان حدیث کا مصداق بیان کرنے میں اختلاف رائے پائی جاتی ہے؛ بعض نے اصحاب کساء کو رسول اللہ کی عترت اور اہل بیت سمجھا ہے بعض نے آل‌ علی، آل‌ عقیل، آل‌ جعفر اور آل‌ عباس جن پر صدقہ حرام ہے کو بھی اہل بیت میں شامل کیا ہے۔

اہمیت

حدیث ثقلین رسول خداؐ کی مشہور[1] اور متواتر حدیث[2] ہے اور سارے مسلمان مانتے ہیں۔[3] اس حدیث کا پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے مختلف مواقع پر بیان ہونا اس حدیث کی اہمیت اور مقام پر دلالت کرتا ہے۔[4] شیعہ متکلمین نے اس حدیث سے شیعہ ائمہ کی ولایت اور امامت ثابت کرنے کے لئے استفادہ کیا ہے۔[5] مختلف مذاہب اور فرقوں کے کلامی مباحث، جیسے امامت و خلافت کے مسئلے میں اس حدیث سے بحث کی جاتی ہے اور امامت سے مربوط مباحث اور مسائل میں اسے بے نظیر سمجھا گیا ہے۔[6]

مجمع جہانی اہل‌بیت کے مونوگرام میں حدیث ثقلین کا ایک حصہ

عَبَقات‌ الانوار میں کہا گیا ہے کہ اس حدیث کی اسناد کی کثرت اور متن کے استحکام کی وجہ سے قدیم الایام سے یہ حدیث علما اور محدثین کی توجہ کا مرکز رہی ہے اور بعض نے تو اس حدیث کے بارے میں مستقل کتاب یا رسالہ لکھا ہے۔[7] بعض محققین کے مطابق یہ حدیث پہلی صدی ہجری سے ہی شیعہ اور اہل سنت مصادر حدیث میں نقل ہوئی ہے۔ اس کے بعد بھی تاریخی، رجالی، کلامی، اخلاقی، فقہی اور اصولی مصادر میں اس کے شایان شان بحث ہوئی ہے[8]

دانشنامہ جہان اسلام میں موجود مقالہ «حدیث ثقلین» میں کہا گیا ہے کہ شیعہ علما نے قدیم الایام سے اس حدیث کو حدیثی مثادر میں نقل کیا ہے لیکن متقدمین کی کلامی کتابوں میں امامت اور خلافت کی بحث میں اس سے کم استناد کیا ہے۔ البتہ بعض علما نے کلامی مباحث میں بھی استناد کیا ہے۔ مثال کے طور پر شیخ صدوق نے زمین اللہ کی حجت سے خالی نہ ہونے کی بحث میں، شیخ طوسی نے ہر عصر میں اہل بیت میں سے کوئی ایک امام ہونے میں اس حدیث سے استناد کیا ہے۔ علامہ حلی نے کتاب نہج‌ الحق میں امام علی کی خلافت ثابت کرنے کے لئے جبکہ فیض کاشانی نے قرآن کی عظمت کی بحث میں اس حدیث سے استفادہ کیا ہے۔[9]

کہا جاتا ہے کہ میر حامد حسین ہندی (متوفی 1306ھ) نے عبقات الانوار میں اس حدیث کی سند اور دلالت پر کئی فصلوں میں بحث کر کے اس حدیث کے تعارف کروانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ ان کے بعد اس حدیث پر بہت توجہ دی گئی ہے یہاں تک کہ معاصر علما کے ہاں یہ حدیث، اہلبیت سے تمسک کی ضرورت اور اس کے لزوم کے لئے استناد کی جانے والی اہم روایات میں سے ایک شمار ہوتی ہے۔[10]

قرآن کی عظمت، اہل بیت کی احادیث کی حجیت، ظواہرِ قرآن کی حجیت، قرآن اور احادیث اہل بیت کی مطابقت اور قرآن کا احادیث اہل بیتؑ پر مقدم ہونے کے حوالے سے شیعہ متکلمین نے حدیث ثقلین سے استناد کیا ہے۔[11]

یہ حدیث چونکہ اہل بیت کی منزلت اور ان کی علمی مرجعیت پر تاکید کرتی ہے اسی لئے مذاہب اسلامی کے مابین ہونے والی گفتگو اور مناظروں میں راہ گشا ثابت ہوئی ہے۔ جیسا کہ سید عبد الحسین شرف‌ الدین کا شیخ سلیم بُشری سے ہونے والی گفتگو میں یہ بات مشہود ہے۔[12]

متن حدیث

حدیث ثقلین شیعہ[13] اور اہل سنت[14] مختلف مصادر حدیث میں مختلف عبارتوں کے ساتھ پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوئی ہے۔[15]

اہل تشیع کی بنیادی چار کتابوں میں شامل اصول کافی میں یہ حدیث اس صورت میں وارد ہوئی ہے: '"...إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا، كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَهْلَ بَيْتِى عِتْرَتِى أَيُّهَا النَّاسُ اِسْمَعُوا وَقَدْ بَلَّغْتُ إِنَّكُمْ سَتَرِدُونَ عَلَيَّ الْحَوْضَ فَأَسْأَلُكُمْ عَمَّا فَعَلْتُمْ فِى الثَّقَلَيْنِ وَالثَّقَلَانِ كِتَابُ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ وَأَهْلُ بَيْتِى فَلَا تَسْبِقُوهُمْ فَتَهْلِکُوا وَ لَاتُعَلِّمُوهُمْ فَإِنَّهُمْ أَعْلَمُ مِنْکُم‏‏؛...

ترجمہ: میں تمہارے درمیان دو امانتیں چھوڑے جارہا ہوں، تم ان کا دامن تھامے رکھوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے: کتاب خدا اور میری عترت جو اہل بیت علیہم السلام اور میرے خاندان والے ہیں۔ اے لوگو! سنو، میں نے تمہیں یہ پیغام پہنچا دیا کہ تمہیں حوض کے کنارے میرے سامنے لایا جائے گا؛ چنانچہ میں تم سے پوچھوں گا کہ تم نے ان دو امانتوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا؛ یعنی کتاب خدا اور میرے اہل بیت ان سے آگے مت جاؤ ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور ان کو کچھ مت سکھاؤ کیونکہ وہ تم سے زیادہ جاننے والے ہیں۔[16]

شیعہ حدیثی کتاب بَصائرالدرجات میں امام محمد باقر سے یہ حدیث یوں نقل ہوئی ہے: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّی تَارِکٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ أَمَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا: كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِی أَهْلَ بَيْتِی فَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْض؛ اے لوگو! "میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں اللہ کی کتاب (قرآن کریم) اور عترت یا اہل بیت چھوڑے جا رہا ہوں۔ اگر ان دونوں سے متمسک رہوں گے تو ہرگز گمراہ نہیں ہوگے۔ قرآن اور اہل بیت قیامت تک ایک دوسرے سے الگ نہیں ہونگے" یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس وارد ہوں گے۔[17]

اہل سنت کی حدیثی کتاب صحیح مسلم میں حدیث ثقلین کو زید بن اَرقَم سے یوں نقل کیا ہے: «... وَأَنَا تَارِکٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللهِ، وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: «وَأَهْلُ بَيْتِی أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِی أَهْلِ بَيْتِی، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِی أَهْلِ بَيْتِی، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِی أَهْلِ بَيْتِی.»[18] میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: پہلی اللہ کی کتاب، جس میں ہدایت اور نور ہے۔ پس اللہ کی کتاب سے تمسک کرو۔ رسول اللہؐ نے اللہ کی کتاب کی ترغیب دی ہے پھر فرمایا: اور میرے اہل بیتؑ، اللہ کی خاطر میری اہل بیت کو یاد کرو اور انھیں مت بھولو۔[19]

احادیث کی بعض کتابوں میں ثقلین کے بجائے خَلیفَتَین» (دو جانشین)[20] یا «اَمرَین» (دو امر)[21] کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ اور بعض کتابوں میں «‌عِترتی‌»، کے بجائے «‌سنّتی‌» کا لفظ آیا ہے۔[22] شیعہ عالم اور مصنف ناصر مکارم شیرازی کا کہنا ہے کہ جن کتابوں میں «‌عترتی‌» کے بجائے «‌سنّتی‌» کا لفظ آیا ہے وہ قابل استناد نہیں ہیں؛ کیونکہ اگر یہ صحیح بھی ہوں تو آپ میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ پیغمبر اکرمؐ نے ایک جگہ کتاب اور عترت کی تاکید کی ہے اور دوسری جگہ قرآن اور سنت کی۔[23]

کامل اور معصوم انسان کا مصداق صرف عترت طاہرہ ہیں، جو قرآن کے ہم پلہ اور برابر ہیں، حدیث متواترِ ثقلین کے مطابق یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے ہیں .... قرآن اللہ کی تدوینی کتاب کی تجلی ہے اور انسانِ کاملِ معصوم اللہ کی تکوینی کتاب کے تجلی ہیں۔۔۔۔ معصومینؑ کی روایات بھی قرآن اور عترت کے مابین نہ ختم ہونے والے رابطے کو بیان کرتی ہیں اور حدیث ثقلین کی طرح ان دو حقیقتوں اور ان کے احکام کے مابین جدائی ممکن نہ ہونے اور ان میں سے کسی ایک کو دوسری کے بغیر شناخت ممکن نہ ہونے کو کو بیان کرتی ہیں۔[24]

اعتبار حدیث

شیعہ علما حدیث ثقلین کو متواتر سمجھتے ہیں۔[25] 12ویں صدی ہجری کے شیعہ محدث صاحبْ‌ حَدائق کے مطابق یہ حدیث شیعہ اور اہل سنت کے درمیان متواتر معنوی ہے۔[26] گیارہویں صدی ہجری کے شیعہ عالم دین ملا صالح مازندرانی کا کہنا ہے کہ اس حدیث کے مضمون اور اس کے صحیح ہونے میں شیعہ اور اہل‌ سنت کا اتفاق ہے۔[27] شیعہ متکلم؛ جعفر سبحانی کا کہنا ہے کہ اس حدیث کی صحت میں سوائے جاہل اور دشمن کے کوئی اور شک نہیں کرسکتا ہے۔[28]

صحیح بخاری کے بعد اہل سنت کی سب سے اہم کتاب صحیح مسلم[29] کے علاوہ اہل سنت کے محدث حاکم نیشابوری نے بھی المستدرک میں حدیث ثقلین کو زید بن اَرقم سے نقل کیا ہے۔ اور بُخاری و مُسْلم نیشابوری کے تصریح کردہ شرائط کے مطابق اس حدیث کے صحیح ہونے کی تصریح کی ہے۔[30]شافعی عالم دین ابن‌حَجَر ہَیْتَمی نے بھی اس حدیث کو صحیح جانا ہے۔[31] عبدالرَّؤُوف مَناوی اپنی کتاب فَیْضُ‌القَدیر میں ہیثمی سے نقل کرتے ہیں کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔[32] شافعی عالم دین علی بن عبداللہ سَمْہودی اپنی کتاب جَواہِرُ العِقْدَیْن میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث کو احمد بن حَنْبَل اپنی کتاب مُسند احمد میں صحیح اسناد سے اور سلیمان‌ بن‌ احمد طَبَرانی اپنی کتاب مُعْجَمُ‌ الکبیر میں اس روایت کو ثقہ راویوں کی سند سے نقل کیا ہے۔[33]

چھٹی ہجری کے جنبلی عالم دین ابن‌جوزی اپنی کتاب العِلَل المُتَناہیہ میں حدیث ثقلین کو ایک خاص سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور بعض راویوں کے ضعیف ہونے کی وجہ سے حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔[34] سَمہودی اور ابن‌حجر ہیتمی جیسے علما نے ابن‌ جوزی کا حدیث ثقلین کو ضعیف سمجھنے کو درست نہیں سمجھا ہے؛ کیونکہ یہ حدیث صحیح مسلم اور دیگر کتابوں میں اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی نقل ہوئی ہے۔[35]

راوی اور مصادر حدیث

شیعہ علما علامہ شرف‌الدین،[36] اور جعفر سبحانی[37] اور سنی علما میں سمہودی[38] اور ابن‌حجر ہیتمی[39] نے حدیث ثقلین کو مختلف اسناد کے ساتھ 20 سے زائد اصحاب پیغمبر سے نقل کیا ہے۔ جبکہ بعض نے 50 سے زائد صحابی کا بھی کہا ہے۔[40] میر حامد حسین نے کتاب عَبَقات‌الاَنْوار میں حدیث ثقلین کو 30 اصحاب اور 200 سے زائد اہل سنت علما کا ذکر کیا ہے جنہوں نے اپنی کتابوں میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔[41] آپ نے دوسری صدی ہجری سے 13ویں صدی تک کے اہل سنت راویوں کے نام ذکر کیا ہے۔[42] قوام‌الدین محمد وشنوی کے مطابق اس حدیث کو نقل کرنے کے اسناد 60 سے زائد ہیں۔[43]

شیعہ مصادر میں یہ حدیث اصحاب میں سے امام علی(ع)،[44] امام حسن(ع)،[45] جابر بن عبداللہ انصاری،[46] حُذَیْفۃ بن یَمان،[47] حُذَیْفَہ بن اُسَیْد،[48] زید بن اَرْقم،[49] زید بن ثابت،[50] عمر بن خَطّاب[51] اور ابو ہُرَیْرہ[52] سے نقل ہوئی ہے۔ امام باقر(ع)،[53] امام صادق(ع)[54] اور امام رضا(ع)[55] نے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔

اہل‌ سنت مصادر میں بھی اصحاب میں سے امام علی(ع)،‌[56] حضرت زہرا(س)،[57] امام حسن(ع)،[58] زید بن ارقم،[59] ابوذر غفاری،[60] سلمان فارسی،[61] ابوسعید خُدْری،[62] اُم‌ّ سَلَمہ،[63] جابر بن عبداللہ انصاری،‌[64] زید بن ثابت،[65] حُذَیفۃ بن اسید،[66] ابوہریرہ،[67] جُبَیْر بن مُطْعِم،[68] ابورافِع،[69] ضُمَیْرۃ الاسلَمی،[70] اُم‌ّہانی دختر ابوطالب[71] اور عَمْرو بن عاص[72] سے نقل ہوئی ہے۔ علامہ تہرانی کہتے ہیں کہ اکثر احادیث کے مصادر میں حدیث ثقلین زید بن ارقم سے نقل ہوئی ہے اور اہل سنت میں سے اکثر نے بھی انھی سے نقل کیا ہے۔[73]

سید ہاشم بَحرانی نے غایَۃُالمَرام میں حدیث ثقلین کے مضمون سے مشابہ 82 حدیث کو مختلف شیعہ کتابوں سے نقل کیا ہے جن میں کافی، کمال‌الدین، اَمالی صدوق، اَمالی مفید، اَمالی طوسی، عُیونُ اَخبارِ الرِّضا، بَصائرالدرجات[74] شامل ہیں جبکہ اہل سنت مآخذ میں 39 احادیث جمع آوری کی ہے[75] جن میں صحیح مسلم،[76] سُنَن تِرْمِذی،[77] سنن نسائی،[78] سنن دارَمی،[79] مُسند احمد بن حنبل،[80] المُسْتَدرکُ عَلیَ الصَّحیحَین،[81] السُّنَنُ الکبری،[82] مَناقب خوارزمی،[83] المُعجَم الکبیر،[84] کتابُ‌السُّنۃ،[85] مَجْمَع الزَّوائِد و مَنْبَع الفَوائِد،[86] فَرائِدالسِّمْطَین،[87] جَواہِرالعِقْدَین،[88] جامع الاصول فی احادیث الرسول(ص)،[89] کَنْزالعُمّال،[90] حِلْیَۃ الاَولیاء و طبقات الاَصْفِیاء،[91] المُؤْتَلف و المُخْتَلف،[92] اِسْتِجْلاب اِرْتَقاء الغُرَف،[93] اِحْیاء المَیّت بفضائل اہل البیت(ع)[94] و جامع المَسانید و السُّنَن.[95] شامل ہیں۔

حدیث صادر ہونے کا زمان و مکان

شیعہ عالم دین شیخ مفید[96] اور قاضی نوراللہ شوشتری،[97] کا کہنا ہے کہ حدیث ثقلین متعدد بار پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوئی ہے۔[98] ناصر مکارم شیرازی کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے صرف ایک مرتبہ روایات بیان کیا ہو اور مختلف راویوں نے مختلف عبارتوں میں اسے نقل کیا ہو؛ بلکہ روایات ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور متعدد بھی۔[99] قاضی نوراللہ شوشتری نے اِحقاق‌الحق میں کہا ہے کہ حدیث ثقلین پیغمبر اکرمؐ سے چار جگہوں پر نقل ہوئی ہے: روز عرفہ اونٹ پر، مسجد خَیف میں، حَجَّۃُالوداع کے دوران خطبہ غدیر میں اور روز رحلت منبر پر۔[100] سید عبدالحسین شرف‌الدین نے پانچ جگہوں کا نام لیا ہے: روز عرفہ، غدیر خم، طائف سے واپسی پر، مدینہ میں منبر پر اور بیماری کے دوران پیغمبر کے حجرے میں۔[101]

اہل سنت عالم دین ابن‌حجر ہیتمی لکھتے ہیں کہ حدیث ثقلین کے لئے مختلف زمان اور مکان ذکر ہوئے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں: حَجَّۃ‌الوداع، مدینہ میں پیغمبر اکرمؐ کی بیماری کے دوران، غدیر خم میں اور طائف سے واپسی پر خطبے میں۔ ان کے مطابق ان اسناد اور زمان و مکان کے فرق ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ یہ احتمال دیا جاسکتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے قرآن اور اہل بیت کی عظمت و منزلت کے پیش نظر مختلف جگہوں پر اس حدیث کو بیان کیا ہو۔[102]

شیعہ اور اہل سنت مآخذ میں حدیث ثقلین کے صدور کے لئے جو مختلف زمان و مکان نقل ہوئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:

عترت اور اہل بیت کے مصادیق

حدیث ثقلین کے اکثر نقل میں[112] میں لفظ "اہل بیت" "عترت" کے ساتھ آیا ہے؛[113] لیکن بعض روایات میں صرف لفظ "عترت" آیا ہے[114] اور بعض روایات میں صرف لفظ "اہل بیت"[115] آیا ہے۔ بعض کتابوں میں عترتی کے بجائے علی بن ابی طالب اور ان کی عترت کا ذکر ہے۔[116] بعض عبارتوں میں اہل بیت کی سفارش دہرائی گئی ہے۔[117]

بعض مصادر میں عترت کا لفظ اہل بیت کے بغیر ذکر ہوا ہے، اور جب عترت کے بارے میں سوال ہوا تو اس کے جواب میں اہل بیتؑ ہی معرفی ہوئے ہیں۔[118] حدیث ثقلین کے بعض شیعہ نقل میں اہل بیتؑ کی توضیح میں شیعہ ائمہ ذکر ہوئے ہیں۔[119] رسول اللہ سے مروی ایک حدیث میں اہل بیتؑ کے بارے میں سوال ہوا ہے کہ اہل بیتؑ کون ہیں؟ جواب میں آنحضرتؐ فرماتے ہیں: علیؑ، میرے دو نواسے اور حسینؑ کی نسل سے 9 فرزند جو امین امام اور معصوم ہیں۔ آگاہ ہوجاؤ وہ میری اہل بیت اور عترت اور میرا گوشت اور خون ہیں۔[120]

امام علیؑ بھی ایک حدیث میں حدیث ثقلین میں مذکور عترت کے مصادیق بیان کرتے ہوئے اس بات کی تصریح کرتے ہیں کہ اس سے مراد میں، حسن، حسین اور حسینؑ کی نسل سے 9 فرزند جن میں آخری مہدی ہے۔[121]

شیعہ علما میں شیخ صدوق[122] اور شیخ مفید[123] جیسے علما نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ حدیث ثقلین میں عترت اور اہل بیت سے مراد شیعوں کے بارہ امام ہیں۔[124] آیت‌اللہ بروجردی اپنی کتاب جامع احادیث الشیعہ کے مقدمے میں رقمطراز ہیں کہ شیعہ اس بات پر متفق ہیں کہ عترت اور اہل بیت وہ لوگ ہیں جو تمام شرعی علوم، دینی اسرار اور گفتار و کردار میں گناہ سے پاک ہیں۔ یہ وہ شیعہ ائمہؑ ہیں۔[125]

عترت کے مصادیق اہل سنت مآخذ میں

عبدالرؤوف مناوی اپنی کتاب فیض‌القدیر میں اہل‌بیت کی وہی توضیح دی ہے جو عترت کی دی گئی ہے۔ اور اس سے مراد اصحاب کساء سمجھتے ہیں۔[126] ابن‌ابی‌الحدید معتزلی شرح نہج‌البلاغہ میں لکھتے ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ نے حدیث ثقلین میں عترت سے مراد اہل بیتؑ بیان کیا ہے اور دوسری جگہ اصحاب کسا کو اپنی اہل بیتؑ معرف کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: «اللہم هؤلاءِ اهلُ بَیتی.»[127] حاکم حَسکانی، براء بن عازب انصاری سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ نے اپنی عترت کو علی(ع)، فاطمہ(س)، حسن(ع) و حسین(ع) ذکر کیا ہے۔[128] سَمہودی کہتے ہیں کہ اہل بیتؑ میں سے علی بن ابی طالب وہ امام اور عالم ہیں جو پیروی کے لائق اور شائستہ ہیں۔[129] اہل سنت کے بعض مآخذ میں زید بن ارقم سے مروی ہے کہ پیغمبر کے اہل بیت وہ لوگ ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اور وہ آل‌علی، آل‌عقیل، آل‌جعفر اور آل‌عباس ہیں۔[130]

لغت کی کتابوں میں عترت سے مراد نسل اور قریبی رشتہ،[131] اولاد اور ذریت[132] یا مخصوص رشتہ دار[133] ہیں۔

ثقلین کی وجہ تسمیہ

اس حدیث میں ثقلین کا لفظ آنے کی وجہ سے اس نام سے مشہور ہوئی ہے۔[134] ثقلین کو «ثَقَلَیْن» اور «ثِقْلَیْن» دو طرح سے پڑھ سکتے ہیں؛ پہلے کے معنی گرانبہا چیز اور دوسرے کے معنی زیادہ وزنی چیز کے ہیں۔[135] قرآن اور اہل بیتؑ کو ثقلین نام دینے کے حوالے سے مختلف نظریات پیش ہوئے ہیں۔ جامع احادیث الشیعہ کے مقدمے میں 9 وجوہات ذکر ہوئے ہیں[136] جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  • ابوالعباس ثَعْلَب، تیسری صدی ہجری کے ادیب اور زبان‌ شناس سے ہونے والے سوال کے جواب میں ان کا کہنا ہے چونکہ اہل بیتؑ اور قرآن کی پیروی کرنا سخت اور سنگین ہے اس لئے ثقلین نام دیا گیا ہے؛[137]کیونکہ یہ دونوں، انسان کو بندگی، اخلاص، عدالت اور نیکی کا حکم دیتے ہیں اور فحشا اور منکرات نیز نفس امارہ اور شیطان کی پیروی سے منع کرتے ہیں۔[138]
  • بعض کا کہنا ہے کہ قرآن و اہل بیتؑ کو اس لئے ثقلین کہا گیا کہ قرآن اور اہل بیتؑ کے حقوق پر عمل اور ان کی حرمت کی پاسداری کرنا سخت اور سنگین ہے۔[139]
  • اہل سنت علما کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ قرآن اور اہل بیتؑ کی منزلت اور مقام بیان کرنے کے لئے ثقلین کہا گیا ہے؛[140] کیونکہ ہر قیمت اور گراں بہا چیز کو ثقیل کہا جاتا ہے۔[141]
  • سَمہودی اور بعض دیگر علما کا کہنا ہے کہ قرآن اور اہل بیتؑ علوم دینی، شرعی احکام اور اسرار کے معدن ہیں اس لئے پیغمبر اکرمؐ نے انہیں ثقلین کہا ہے۔ اسی سبب اہل بیت کی پیروی اور ان سے تمسک کرنے اور ان سے سیکھنے کی ترغیب دی ہے۔[142]

ثقل اکبر و ثقل اصغر

حدیث ثقلین کے بعض نقل میں قرآن کو ثقل اکبر اور اہل‌ بیت کو ثقل اصغر نام دیا گیا ہے۔[143]

ثقل اکبر یا ثقل اصغر کہنے کی مختلف وجوہات بیان ہوئی ہیں: ابن‌میثم بَحرانی کا کہنا ہے کہ قرآن ایک اصل ہے اس کی پیروی ہونی چاہئے اس لئے ثقل اکبر نام دیا گیا ہے۔[144] مرزا حبیب‌اللہ خویی کا کہنا ہے کہ قرآن کی طرح اہل بیت کی بھی پیروی ہونی چاہئے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ احتمال دے سکتے ہیں کہ قرآن چونکہ رسالت کا معجزہ اور دین کی بنیاد ہے اسے ثقل اکبر اور اہل بیت سے بڑا قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ قرآن چونکہ پیغمبرؐ اور اہل بیتؑ بشمول تمام لوگوں پر حجت ہے لیکن اہل بیتؑ صرف امت پر حجت ہیں، لہذا قرآن کو ثقل اکبر اور اہل بیت کو ثقل اصغر کہا گیا ہے۔[145] شیعہ عالم دین عبداللہ جوادی آملی کہتے ہیں کہ اہل‌ بیتؑ ظاہری دنیا کی نظر میں اور معارف دینی کی تعلیم و تفہیم کے مدار میں ثقل اصغر ہیں؛ لیکن معنوی مقام اور عالَم باطن میں قرآن سے کمتر نہیں ہیں۔[146] امام خمینی نے اپنے سیاسی الہی وصیت نامے میں اہل بیتؑ کو ثقل کبیر سے یاد کیا ہے کہ وہ ہر چیز سے بڑے ہیں سوائے ثقل اکبر کے کہ جو خود اکبر مطلق ہے۔[147]

امامت میں شیعہ عقائد کے اثبات کے لئے شیعہ علما کا استناد

کلی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ جو بھی صفت یا خصوصیت قرآن کے لئے ذکر ہوئی ہے حدیث ثقلین کی روشنی میں وہ اہل بیتؑ کے لئے بھی ثابت ہے۔ ان خصوصیات میں سے بعض مُبین ہونا، فرقان ہونا، نور ہونا،‌ حبل‌اللہ اور صراط مستقیم ہونا ہیں۔[148]شیعہ علما نے جن عقائد کو ثابت کرنے کے لئے حدیث ثقلین سے استناد کیا ہے ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

شیعہ ائمہ کی امامت

حدیث ثقلین کو شیعہ ائمہ کی امامت کی دلیل سمجھا جاتا ہے۔[149] حدیث ثقلین کا امام علیؑ اور دیگر ائمہ کی امامت پر دلالت کرنے کے لئے درج ذیل دلائل ذکر ہوئے ہیں:

  • قرآن اور اہل بیتؑ میں جدائی کے عدم امکان پر حدیث ثقلین تصریح کرتی ہے کیونکہ اہل بیتؑ قرآن کا علم رکھتے ہیں اور اپنے گفتار اور کردار میں اس کی مخالفت نہیں کرتے ہیں۔ یہ بات اہل بیتؑ کی فضیلت اور برتری پر دلالت کرتی ہے۔ اور جو شخص برتر اور افضل ہونا امامت کرنے کے لئے شایستہ اور لائق بھی وہی ہوگا۔
  • حدیث ثقلین میں اہل بیتؑ کو قرآن کے ہم پلہ قرار دیا ہے اسی لئے قرآن کی طرح ان کی پیروی اور ان سے تمسک کرنا بھی واجب ہے۔ پیغمبر اکرمؐ اور امام معصومؑ کے علاوہ کسی اور کی بغیر شرط کے پیروی کرنا واجب نہیں ہے۔
  • بعض نسخوں میں ثقلین کی جگہ «خلیفتین» (دو خلیفے) کا لفظ آیا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ کسی شخص کی خلافت اس کی امامت اور امت کی ضرورت کے امور کی انجام دہی سے وابستہ ہے۔
  • حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص ثقلین کی پیروی کرے گا وہ ہرگز گمراہ نہیں ہوگا۔ پیغمبر اکرمؐ نے امت کے گمراہ نہ ہونے کو ثقلین کی پیروی سے مربوط کیا ہے۔[150]

بعض کا کہنا ہے کہ اگر شیعوں کے پاس امام علیؑ کی جانشینی اور خلافت پر حدیث ثقلین کے علاوہ کوئی اور دلیل نہ ہوتی تو بھی مخالفوں کے مقابلے میں یہی ایک حدیث کافی تھی۔[151]

امامت کا دوام اور استمرار

محمد حسن مظفر کا کہنا ہے کہ اس حدیث میں بعض ایسے فقرے ہیں جو دلالت کرتے ہیں کہ قیامت تک عترت پیغمبر میں سے کوئی دنیا میں باقی رہے۔ وہ فقرے درج ذیل ہیں:

  • عبارت «اِن تَمَسَّکْتُم بِہِما لَن تَضِّلّوا» (ثقلین سے تمسک سے انسان ہرگز گمراہ نہیں ہوگا): ہرگز گمراہ نہ ہونا اس بات پر مبتنی ہے کہ جس پر تمسک کیا جاتا ہے وہ ہمیشہ موجود ہو۔
  • عبارت «لَن یَفتَرِقا» (قرآن و عترت میں جدائی ناممکن ہونا)، اگر کسی وقت عترت میں سے کوئی نہ ہو تو قرآن اور اہل بیتؑ میں جدائی لازم آئے گی۔ لہذا عترت میں سے کوئی ہمیشہ کے لئے دنیا میں موجود ہونا چاہئے۔[152]

ناصر مکارم شیرازی کہتے ہیں کہ حدیث کا یہ جملہ کہ «یہ دونوں ہمیشہ ساتھ ہیں یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس آئیں» سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تاریخ میں اہل بیتؑ میں سے ایک معصوم پیشوا ہمیشہ سے موجود ہو۔ جس طرح سے قرآن ہمیشہ کے لئے چراغِ ہدایت ہے اہل بیتؑ بھی چراغ ہدایت ہیں۔[153]

اہل بیت کی پیروی کا لازم ہونا

شیعہ علما کا کہنا ہے کہ اس حدیث میں اہل بیتؑ کو قرآن کے برابر میں ذکر کیا ہے اور ان میں جدائی ناممکن ہے لہذا جس طرح سے مسلمانوں پر قرآن کی پیروی لازمی قرار دی گئی ہے، اہل بیتؑ کی پیروی بھی لازمی اور ضروری ہے۔ اسی طرح پیغمبر اکرمؐ نے ان کی پیروی کرنے کے لئے کوئی شرط بیان نہیں کیا ہے اسی طرح ان کی پیروی بھی بغیر شرط کے تمام گفتار اور کردار میں واجب ہے۔[154]

عصمت اہل بیت

شیعہ علما کہتے ہیں کہ حدیث میں واضح کیا گیا ہے کہ قرآن اور اہل بیتؑ ہمیشہ ساتھ رہیں گے اور جدائی ناپذیر ہے۔ اور یہ بات اہل بیت کی عصمت پر دلالت کرتی ہے؛ کیونکہ کسی بھی قسم کا گناہ اور خطا کا ارتکاب اہل بیتؑ کو قرآن سے جدا ہونے کا باعث بنے گا۔[155] اسی طرح پیغمبر اکرمؐ نے اس حدیث میں تصریح کی ہے کہ جو بھی قرآن اور اہل بیتؑ سے متمسک ہوگا وہ گمراہ نہیں ہوگا۔ اگر اہل بیتؑ معصوم نہ ہوتے تو ان کی بلاشرط پیروی کرنا گمراہی کا باعث بنتا۔[156] چوتھی اور پانچویں صدی ہجری کے فقیہ اور متکلم ابو الصلاح حلبی کہتے ہیں کہ اہل بیتؑ کی مطلق اطاعت کا واجب ہونا ان کی عصمت کی دلیل ہے۔[157]

حدیث ثقلین سے اہل بیت کی عصمت ثابت کرنے کے لئے دلیل کو کچھ یوں بیان کیا گیا ہے:

  • اگر کوئی شخص ہمیشہ قرآن کے ساتھ ہو تو وہ گناہ اور خطا سے محفوظ رہتا ہے؛ کیونکہ قرآن ہر قسم کے خطا اور اشتباہ سے محفوظ ہے۔
  • حدیث ثقلین کے مطابق اہل بیت ہمیشہ قرآن کے ساتھ ہیں اور قیامت تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے۔
  • پس اہل بیتؑ قرآن کی طرح معصوم ہیں۔[158]

سید علی حسینی میلانی کہتے ہیں کہ ابن حجر ہیتمی کی طرح اہل سنت کے بعض محققین نے بھی حدیث ثقلین کا اہل بیتؑ کی عصمت و طہارت پر دلالت کرنے کو مان لیا ہے۔[159]

اہل بیت کی علمی مرجعیت

شیعہ علما کے مطابق حدیث ثقلین اہل بیتؑ کی علمی مرجعیت بیان کرتی ہے؛[160] کیونکہ پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے قرآن اور اہل بیتؑ سے تمسک کرنے کی دعوت اس بات کی دلیل ہے کہ علمی مرجعیت صرف اہل بیتؑ ہی میں منحصر ہے اور مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ دینی مسائل میں ان کی طرف رجوع کریں۔[161] اسی لئے اہل بیتؑ کے بیانات اور ان کی باتیں قرآن کی طرح مسلمانوں کے لئے حجت ہیں۔[162]

اسی طرح کہا گیا ہے کہ یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ قرآن اور اہل بیتؑ ہر ایک الگ الگ مستقل اور معتبر حجت ہیں۔ اگر کسی ایک سے کوئی حکم کسی بھی مورد میں آئے، خواہ عقائد میں ہو یا احکام اور اخلاق میں، وہ حجت اور سند ہے۔[163]

حدیث کے بعض نسخوں میں حدیث کے آخر میں یہ جملہ آیا ہے: «فَلَا تَسْبِقُوهُمْ فَتَهْلِكُوا وَ لَا تُعَلِّمُوهُمْ فَإِنَّهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُم‏؛ یعنی ان سے آگے مت بڑھو ورنہ ہلاک ہوجاوگے اور ان کو کچھ مت سکھاؤ کیونکہ وہ تم سے زیادہ عالم ہیں۔»[164]جامع احادیث الشیعہ کے مقدمے میں اس حدیث سے استناد کرتے ہوئے اہل بیت کی علمی مرجعیت کے بارے میں حدیث ثقلین سے سات نکات اخذ کیا ہے:

  1. گمراہی سے بچنے کے لئے پیغمبر اکرمؐ کی عترت سے سیکھنا واجب ہے؛
  2. اہل بیتؑ کے علمی احاطے کی وجہ سے رسول اللہؐ نے ان سے سیکھنے کا حکم دیا؛
  3. اہل بیت کے علاوہ دوسرے لوگوں کو ہر شرعی حکم کا علم نہیں جس کی وجہ سے ان کی پیروی گمراہی کا باعث بن سکتا ہے؛
  4. غیر اہل بیتؑ کا قرآن پر احاطہ اور تسلط نہ ہونا اور احکام الہی استنباط کرنا اہل بیتؑ سے اختصاص؛
  5. اہل بیتؑ کے علاوہ دوسرے احکام الہی کی تعلیم نہیں دے سکتے ہیں؛
  6. عترت کے اعلم ہونے کے ناطے ان کی بات رد کرنا حرام ہے؛
  7. عترت پیغمبرؐ تمام دینی اور غیر دینی علوم میں باقیوں سے اعلم ہیں۔[165]

شیعہ عالم دین سید کمال حیدری حدیث ثقلین سے استناد کرتے ہوئے ائمہؑ کے علم کو لامحدود سمجھتے ہیں۔[166]

اہل بیت کی برتری

کہا گیا ہے کہ حدیث ثقلین سے اہل بیت کی دوسروں پر برتری ثابت ہوتی ہے؛ کیونکہ پیغمبر اکرمؐ نے صرف اہل بیتؑ کو قرآن کے برابر قرار دیا ہے۔ اسی لئے جس طرح قرآن کریم مسلمانوں سے افضل ہے اسی طرح اہل بیت بھی دوسروں پر برتری رکھتے ہیں۔[167]

ولایت اور رہبری

جعفر سبحانی کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ کا کتاب اور اہل بیتؑ سے تمسک کی دعوت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سیاسی قیادت اور رہبری صرف اہل بیتؑ سے خاص ہے۔[168] حدیث ثقلین کے بعض نسخوں میں قرآن اور اہل‌ بیت کو ثقلین کے بجائے «خلیفتَین» (دو جانشین) کی تعبیر آئی ہے۔[169] اس نقل کے مطابق اہل بیتؑ پیغمبر اکرمؐ کے جانشین اور خلیفہ ہیں اور ان کی جانشینی ہر پہلو سے ہے جو سیاسی امور اور رہبری کو بھی شامل ہے۔[170]اسی طرح اہل بیت کی پیروی کا بلاقید و شرط وجوب کو سیاسی قیادت اور رہبری کی دلیل قرار دیا ہے؛ کیونکہ پیروی کا واجب ہونا مسلمانوں کے زندگی سے مربوط تمام امور میں ہے خواہ وہ عبادی مسائل ہوں یا اقتصادی یا سیاسی اور سماجی۔ اس لئے معاشرے کے سیاسی اور حکومتی مسائل میں بھی ان کی پیروی واجب ہے۔[171]

قرآن و اہل‌بیت میں اختلاف نہ ہونا

حدیث ثقلین سے اخذ شدہ کلامی نکات میں سے ایک یہ ہے کہ «لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْض»، کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن اور اہل بیتؑ کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے۔[172] محمد واعظ‌زادہ خراسانی کہتے ہیں کہ قرآن اور اہل بیتؑ کے آپس میں فرق اور اختلاف نہ ہونا اس وجہ سے ہے کہ امام کا علم پیغمبر اکرمؐ کے علم سے مستند ہے اور ان کا علم وحی الہی سے مربوط ہے اسی لئے ان دونوں کے مابین کوئی اختلاف یا فرق نہیں آتا ہے اور دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے موافق ہیں ہیں۔[173]

قرآن میں تحریف نہ ہونے پر حدیث کی دلالت

حدیث ثقلین اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ قرآن مجید میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہے کیونکہ رسول اللہؐ نے یہی فرمایا ہے کہ قرآن و اہل بیتؑ قیامت تک باقی ہیں اور جو بھی ان دونوں سے تمسک کرے گا وہ گمراہ نہیں ہوگا۔ اگر قرآن تحریف سے محفوظ نہ ہوتا تو اس سے تمسک کرنا گمراہی کا باعث بنتا۔[174]

اہل‌ سنت کا نظریہ

اہل سنت علما نے بھی اس حدیث سے بعض نکات اخذ کئے ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں: نویں صدی ہجری کے شافعی محدث اور مفسر ابن‌حجر ہیتمی اور شمس‌الدین سخاوی کہتے ہیں کہ حدیث ثقلین میں مودت اہل‌بیت، ان کا احترام اور ان پر احسان اور ان کے واجب اور مستحب حقوق ادا کرنے کی تاکید ہوئی ہے؛ کیونکہ اہل بیتؑ حسب و نسب کے اعتبار سے روے زمین پر سب سے شریف لوگ ہیں۔[175]

علی بن عبداللہ سَمہودی کہتے ہیں کہ اس حدیث پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے تمسک کے لئے دی جانے والی ترغیب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قیامت تک قرآن کی طرح عترت پیغمبرؐ سے کوئی روے زمین پر ہے جس سے تمسک کرنا شایستہ ہے۔ اہل بیت اہل زمین پر امان دینے والے ہین اگر وہ نہ ہوں تو زمین نابود ہوجائے گی۔[176]

دسویں صدی ہجری کے شافعی عالم دین عبدالرؤوف مناوی کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ نے امت کو یہ وصیت کی ہے کہ وہ قرآن اور اہل بیتؑ سے اچھا برتاؤ کرے اور ان کو سب پر فوقیت دے اور دین میں ان سے تمسک کرے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قیامت تک اہل بیتؑ میں سے کوئی ایسا شخص دنیا میں ہو جو تمسک اور پیروی کی صلاحت اور اہلیت رکھتا ہو۔[177]

آٹھویں صدی ہجری کے اہل سنت اشعری مذہب کے متکلم سعد الدین تفتازانی کہتے ہیں کہ حدیث ثقلین میں اس بات کا اشارہ ہے کہ اہل بیتؑ باقیوں پر برتری رکھتے ہیں اور اس برتری کا معیار علم اور تقوی اور نسبی شرافت ہے۔ یہ بات اہل بیت کا قرآن کے ساتھ ذکر کرنے اور ان سے تمسک کرنا واجب ہونے سے معلوم ہوتی ہے؛ کیونکہ قرآن سے تمسک کرنا قرآن اور اہل بیت کے علم اور ہدایت پر عمل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔[178]

نویں اور دسویں صدی ہجری کے اہل سنت عالم دین فضل بن روزبہان کے مطابق حدیث ثقلین گفتار اور عمل میں اہل بیت کی پیروی اور ان سے تمسک، ان کا احترام اور مودت پر دلالت کرتی ہے لیکن امامت اور خلافت میں تصریح نہیں ہے۔[179]

مونوگراف

شیعہ علما نے حدیث ثقلین کو روایت کرنے کے علاوہ اس بارے میں مستقل کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  • حدیث‌الثقلین، تالیف، قوام‌الدین محمد وشنوی قمی: اس کتاب میں حدیث کے مختلف اسناد کی تحقیق کی ہے اور حدیث کے مختلف نسخوں پائی جانے والی لفظی فرق کو بھی بیان کیا ہے۔[180]
  • حدیث‌الثقلین، تالیف، نجم‌الدین عسکری: یہ کتاب عربی زبان میں ہے اور ایک جلد میں چھپ کر منظر عام پر آئی ہے۔
  • حدیث‌الثقلین، تالیف سید علی میلانی: یہ کتاب حدیث ثقلین کے بارے میں علی احمد السالوس کی طرف سے کئے جانے والے سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے۔[181]
  • حدیث الثقلین و مقامات اہل البیت(ع): یہ کتاب بحرینی عالم دین احمد الماحوزی کی حدیث ثقلین پر کی جانے والی تقاریر پر مشتمل ہے جسے بحرین کے مدرہ اہل الذکر کے طلاب نے جمع آوری کی ہے۔[182]
  • حدیث الثقلین؛ سنداً و دلالۃً: سید کمال حیدری کی تقاریر کا مجموعہ ہے جسے اسعد حسین علی شمری نے تین فصلوں میں مرتب کیا ہے جو حدیث کی سند، دلالت اور اس سے مربوط سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے۔[183]
  • موسوعۃُ حدیثِ الثَّقلین: مرکز ابحاث العقائد نے اس کتاب کو چار جلدوں میں چھاپ کیا ہے جس کی پہلی دو جلدوں میں حدیث ثقلین کے بارے میں پہلی صدی سے دسوی صدی ہجری تک لکھی جانے والی کتابوں اور دوسری دو جلدوں میں زیدی اور اسماعیلیہ کتابوں کا تذکر کیا ہے جو حدیث ثقلین کے موضوع پر لکھی گئی ہیں۔

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. نفیسی، «ثقلین، حدیث»، ص103.
  2. ملاحظہ کریں: بحرانی، منار الہدی، 1405ھ، ص670؛ مظفر، دلائل الصدھ، 1422ھ، ج6،‌ ص240؛ میر حامد حسین، عبقات الانوار، 1366شمسی۔‌ ج18، ص7.
  3. ملاحظہ کریں: مازندرانی، شرح‌الکافی، 1382ھ، ج6، ص124، ج10، ص118؛ میر حامد حسین، عبقات‌الانوار، 1366شمسی۔‌ ج18، ص7؛ خرازی، بدایۃالمعارف، 1417ھ، ج2، ص19.
  4. واعظ‌زادہ خراسانی، «مقدمہ» در حدیث الثقلین، ص17 و 18.
  5. نفیسی، «ثقلین، حدیث»، ص102.
  6. نفیسی، «ثقلین، حدیث»، ص102.
  7. میر حامد حسین، عبقات الانوار، 1366شمسی۔ ج23، ص1245.
  8. حاج منوچہری، «ثقلین، حدیث»، ص73 و 74.
  9. نفیسی، «ثقلین، حدیث»، ص102 و 103.
  10. نفیسی، «ثقلین، حدیث»، ص103.
  11. نفیسی، «ثقلین، حدیث»، ص105.
  12. نفیسی، «ثقلین، حدیث»، ص103.
  13. ملاحظہ کریں: کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص294، ج2،‌ ص415؛ صفار، بصائرالدرجات، 1404ھ، ص413؛ خزاز رازی،‌ کفایۃالاثر، 1401ھ، ص87، 137، 163، 265؛ قمی، تفسیرالقمی، 1404ھ، ج1،‌ ص172، 173، ج2، ص345، 447؛ صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، 1378ھ، ج1، ص229، ج2، ص30، 31، 62.
  14. ملاحظہ کریں: مسلم نیشابوری، صحیح مسلم، دار احیاء التراث العربی، ج4،‌ ص1873؛ نسائی، السنن الکبری، 1421ھ، ج7، ص310 و 437؛ ترمذی، سنن‌التزمذی، 1395ھ، ج5، ص662، 663؛ ابن‌حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، 1421ھ، ج17، ص169، 170، 211، 308، 309، ج18، ص114، حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، 1411ھ، ج3، ص118، 160.
  15. مختلف اسناد اور عبارتوں سے آشنائی کے لئے ملاحظہ کریں:بحرانی، غایۃالمرام، 1422ھ، ج2،‌ ص304-367؛ شوشتری، احقاق الحق، 1409ھ، ج9، ص309-375، ج18، ص261-289؛ میر حامد حسین، عبقات‌الانوار، 1366شمسی۔‌ کل جلد 18 و 19.
  16. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص294.
  17. صفار، بصائرالدرجات، 1404ھ، ص413، حدیث 3.
  18. مسلم نیشابوری، صحیح مسلم، دار احیاء‌التراث العربی، ج4،‌ ص1873، حدیث 36.
  19. مکارم شیرازی، پیام قرآن، 1386، ج9، ص63.
  20. صدوق، کمال الدین و تمام النعمۃ، 1395ھ، ج1، ص240؛ ابن‌حنبل، مسند احمد بن حنبل، 1416ھ، ج35، ص456، 512؛ ہیثمی، مجمع‌الزوائد، دارالکتاب العربی، ج9، ص163؛ متقی ہندی، کنزالعمال، 1401ھ، ج1، ص186؛ شوشتری، احقاق الحق، 1409ھ، ج9، ص375 ، ج18، ص279-281.
  21. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص294.
  22. ملاحظہ کریں: صدوق، کمال الدین و تمام النعمۃ، 1395ھ، ج1، ص235؛ متقی ہندی، کنزالعمال، 1401ھ، ج1، ص173، 187.
  23. مکارم شیرازی، پیام قرآن، 1386شمسی۔‌ ج9، ص76، 77.
  24. «فضیلت نیمہ شعبان و ہمتایی آن با شب قدر از منظر آیت‌اللہ جوادی آملی»، وبگاہ دفتر مرجعیت.
  25. ملاحظہ کریں: ابن‌عطیہ، ابہی‌المداد، 1423ھ، ج1،‌ ص130؛ بحرانی، منارالہدی، 1405ھ، ص670؛ مظفر، دلائل‌ الصدھ، 1422ھ، ج6،‌ ص240؛ میر حامد حسین، عبقات‌الانوار، 1366شمسی۔‌ ج18، ص7؛ سبحانی، الالہیات على ہدى الکتاب و السنۃ و العقل‏،‌ 1412ھ، ج4، ص106؛ شرف‌الدین، المراجعات،‌ 1426ھ، ص70.
  26. بحرانی، الحدائق الناظرۃ، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ج9، ص360.
  27. مازندرانی، شرح‌الکافی، 1382ھ، ج6، ص124، ج10، ص118؛ میر حامد حسین، عبقات‌الانوار، 1366شمسی۔‌ ج18، ص7؛ خرازی، بدایۃالمعارف، 1417ھ، ج2، ص19.
  28. سبحانی، الالہیات على ہدى الکتاب و السنۃ و العقل‏،‌ 1412ھ، ج4، ص105؛ سبحانی، سیمای عقاید شیعہ،‌ 1386شمسی۔ ص232.
  29. مسلم نیشابوری، صحیح مسلم، ج4،‌ ص1873، حدیث 36.
  30. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، 1411ھ، ج3، ص160.
  31. ابن‌حجر ہیتمی، الصواعق المحرقہ، 1417ھ، ج2،‌ ص439 و 653.
  32. مناوی، فیض‌القدیر، 1391ھ، ج3، ص15.
  33. سمہودی، جواہرالعقدين، 1405ھ، ج2،‌ بخش اول، ص82.
  34. ابن‌جوزی، العلل المتناہیۃ فی الاحادیث الواہیۃ، 1401ھ، ج1، ص268.
  35. سمہودی، جواہرالعقدين، 1405ھ، ج2،‌ بخش اول،‌ ص73؛ ابن‌حجر ہیتمی، الصواعق المحرقہ، 1417ھ، ج2،‌ ص652.
  36. شرف‌الدین، المراجعات، 1426ھ، ص70.
  37. سبحانی، الالہیات على ہدى الکتاب و السنۃ و العقل‏،‌ 1412ھ، ج4، ص105؛ سبحانی، سیمای عقاید شیعہ،‌ 1386شمسی۔ ص232.
  38. ملاحظہ کریں: مناوی، فیض القدیر، 1391ھ، ج3، ص14.
  39. ابن‌حجر ہیتمی، الصواعق المحرقہ، 1417ھ، ج2،‌ ص440 و653.
  40. ملاحظہ کریں: جمعی از طلاب، حدیث الثقلین و مقامات اہل البیت(ع)، مکتبۃالثقلین، ص5.
  41. میر حامد حسین، عبقات‌الانوار، 1366شمسی۔‌ ج18، مقدمہ، ص2.
  42. ملاحظہ کریں: میر حامد حسین، عبقات‌الانوار، 1366شمسی۔‌ ج18، ص9-15.
  43. وشنوی، حدیث‌الثقلین، 1428ھ، ص41.
  44. ملاحظہ کریں: کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2،‌ ص415؛ صدوق، کمال الدین و تمام النعمۃ، 1395ھ، ج1، ص236، 237، 239.
  45. خزاز رازی،‌ کفایۃالاثر، 1401ھ، ص163.
  46. صفار، بصائرالدرجات، 1404ھ، ص414.
  47. خزاز رازی،‌ کفایۃ الاثر، 1401ھ، ص136، 137.
  48. خزاز رازی،‌ کفایۃالاثر، 1401ھ، ص128.
  49. صدوق، کمال الدین و تمام النعمۃ، 1395ھ، ج1، ص234، 237.
  50. صدوق، الامالی، 1376شمسی، ص415؛ صدوق، کمال الدین و تمام النعمۃ، 1395ھ، ج1، ص236.
  51. خزاز رازی،‌ کفایۃالاثر، 1401ھ، ص91، 92.
  52. خزاز رازی،‌ کفایۃالاثر، 1401ھ، ص87.
  53. صفار، بصائرالدرجات، 1404ھ، ص413.
  54. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص294؛ عیاشی،‌ تفسیرالعیاشی،‌ 1380ھ، ج1،‌ ص5.
  55. صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، 1378ھ، ج1، ص229.
  56. ملاحظہ کریں: متقی ہندی، کنزالعمال، 1401ھ، ج1، ص379،‌ حدیث 1650؛ سمہودی، جواہرالعقدين، 1405ھ، ج2،‌ بخش اول، ص81، 85، 86؛ حموی جوینی، فرائدالسمطین، مؤسسہ محمودی، ج2، ص147؛ ہیثمی، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، 1414ھ، ج9، ص163؛ سیوطی، احياء المیت بفضائل اہل البیت‌(ع)، 1421ھ، ص23، حدیث 23.
  57. قندوزی، ينابيع المودہ لذوی القربی، 1422ھ، ج1، ص124.
  58. قندوزی، ينابيع المودہ لذوی القربی، 1422ھ، ج1، ص73 و 74.
  59. ملاحظہ کریں: مسلم نیشابوری، صحیح مسلم، دار احیاء‌ التراث العربی، 1873؛ ترمذی، سنن‌الترمذی، 1419، ج5،‌ ص478، 479؛ نسائی، السنن الکبری، 1421ھ، ج7، ص310، 437؛ دارمی، سنن‌الدارمی، 1421ھ، ج4، ص2090؛ ابن‌حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، 1421ھ، ج32، ص10، 11؛ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، 1411ھ، ج3، ص118، 160؛ بیہقی، السنن الکبری، 1424ھ، ج2، ص212، حدیث 2857.
  60. ملاحظہ کریں: ترمذی، سنن‌الترمذی، 1419، ج5،‌ ص478؛ دارقطنی، المؤتلف و المختلف، 1406ھ، ج2، ص1046؛ سمہودی، جواہرالعقدين فی فضل الشرفين، 1405ھ، ج2،‌ بخش اول،‌ ص86؛ سخاوی، استجلاب ارتقاء الغرف، بیروت، ج1، ص359.
  61. قندوزی، ينابيع المودہ لذوی القربی، 1422ھ، ج1، ص114.
  62. ملاحظہ کریں: ابن‌حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، 1421ھ، ج17، ص211، 309، ج18، ص114؛ ابن‌ابی‌عاصم، کتاب‌السنہ، 1413ھ، ص629، 630؛ ہیثمی، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، 1414ھ، ج9، ص163؛ حموی جوینی، فرائدالسمطین، مؤسسہ محمودی، ج2، ص146.
  63. سخاوی، استجلاب ارتقاء الغرف، بیروت، ج1، ص363؛ سمہودی، جواہر العقدين فی فضل الشرفين، 1405ھ، ج2،‌ بخش اول،‌ ص88؛ قندوزی، ينابيع المودہ لذوی القربی، 1422ھ، ج1، ص123، 124.
  64. ترمذی، سنن‌الترمذی، 1419، ج5،‌ ص478؛ ابن‌اثیر، جامع الاصول فی احادیث الرسول(ص)، 1420ھ، ج1، ص277، حدیث 65؛ متقی ہندی، کنزالعمال، 1401ھ، ج1، ص172، حدیث 870؛ طبرانی، المعجم الکبیر، 1405ھ، ج3، ص66؛ طبرانی، المعجم الاوسط، 1415ھ، ج5، ص89.
  65. ابن‌حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، 1421ھ، ج35، ص456؛ ابن‌ابی‌عاصم، کتاب‌السنہ، 1413ھ، ص629؛ طبرانی، المعجم الکبیر، 1405ھ، ج5، ص154؛ متقی ہندی، کنزالعمال، 1401ھ، ج1، ص172، حدیث 872، ص186، حدیث 945 و 946؛ سیوطی، احياء المیت بفضائل اہل‌البیت‌(ع)، 1421ھ، ص9، 10، حدیث 7، ص42، حدیث 56؛ ابن‌کثیر، جامع المسانید و السنن، 1419ھ، ج3، ص156.
  66. ترمذی، سنن‌الترمذی، 1419، ج5،‌ ص478؛ ابونعیم اصفہانی، حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء، 1407ھ، ج1، ص355؛ طبرانی، المعجم الکبیر، 1405ھ، ج3، ص67، 180؛ سمہودی، جواہرالعقدين، 1405ھ، ج2،‌ بخش اول، ص78، 79، 83.
  67. ہیثمی، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، 1414ھ، ج9، ص163؛ سخاوی، استجلاب ارتقاء الغرف، بیروت، ج1، ص362؛ سمہودی، جواہرالعقدين، 1405ھ، ج2،‌ بخش اول،‌ ص87.
  68. قندوزی، ينابيع المودہ لذوی القربی، 1422ھ، ج1، ص102.
  69. سمہودی، جواہرالعقدين، 1405ھ، ج2،‌ بخش اول،‌ ص87؛ سخاوی، استجلاب ارتقاءالغرف، بیروت، ج1، ص360، 361.
  70. سخاوی، استجلاب ارتقاء الغرف، بیروت، ج1، ص351، 352.
  71. سمہودی، جواہرالعقدين، 1405ھ، ج2،‌ بخش اول،‌ ص88؛ سخاوی، استجلاب ارتقاء الغرف، بیروت، ج1، ص363 و 364؛ قندوزی، ينابيع المودۃ لذوی القربی، 1422ھ، ج1، ص123؛ شوشتری، احقاق الحق، 1409ھ، ج9، ص309-367.
  72. ملاحظہ کریں: شوشتری، احقاق الحق، 1409ھ، ج5،‌ ص51.
  73. حسینی تہرانی، امام‌شناسی، 1426ھ، ج13، ص266.
  74. بحرانی، غایۃ المرام و حجۃ الخصام، 1422ھ، ج2، ص320-367.
  75. بحرانی، غایۃ المرام و حجۃ الخصام، 1422ھ، ج2، ص304-320.
  76. مسلم نیشابوری، صحیح مسلم، دار احیاء‌التراث العربی، ص1873.
  77. ترمذی، سنن الترمذی، 1419، ج5،‌ ص478، 479.
  78. نسائی، السنن الکبری، 1421ھ، ج7، ص310، 437.
  79. دارمی، سنن‌الدارمی، 1421ھ، ج4، ص2090.
  80. ابن‌حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، 1421ھ، ج17، ص211، 309، ج18، ص114، ج32، ص10، 11، ج35، ص456.
  81. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، 1411ھ، ج3، ص118، 160.
  82. بیہقی، السنن الکبری، 1424ھ، ج2، ص212، حدیث 2857.
  83. خوارزمی، المناقب، 1411ھ، ص155، حدیث 182.
  84. طبرانی، المعجم الکبیر، 1405ھ، ج3،‌ ص66، 67، 180، ج5، ص154، 166، 169، 170، 182، 186.
  85. ابن‌ابی‌عاصم، کتاب‌السنہ، 1413ھ، ص629، 630.
  86. ہیثمی، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، 1414ھ، ج9، ص163.
  87. حموی جوینی، فرائدالسمطین، مؤسسہ محمودی، ج2، ص146.
  88. سمہودی، جواہر العقدين فی فضل الشرفين، 1405ھ، ج2،‌ بخش اول،‌ ص78، 79، 83 ، 86-88.
  89. ابن‌اثیر، جامع الاصول فی احادیث الرسول(ص)، 1420ھ، ج1، ص277، حدیث 65.
  90. متقی ہندی، کنزالعمال، 1401ھ، ج1، ص172، حدیث 870، ص186، حدیث 945، 946.
  91. ابونعیم اصفہانی، حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء، 1407ھ، ج1، ص355.
  92. دارقطنی، المؤتلف و المختلف، 1406ھ، ج2، ص1046.
  93. سخاوی، استجلاب ارتقاء الغرف، بیروت، ج1، ص351، 352، 359، 362، 363.
  94. سیوطی، احياء المیت بفضائل اہل البیت‌(ع)، 1421ھ، ص9، 10، 23، 42.
  95. ابن‌کثیر، جامع المسانید و السنن، 1419ھ، ج3، ص98، 156.
  96. مفید، الارشاد، 1413ھ، ج1، ص179-180
  97. شوشتری، احقاق الحق، 1409ھ، ج9، ص309.
  98. ملاحظہ کریں: سبحانی، سیمای عقاید شیعہ،‌ 1386شمسی، ص232؛ مکارم شیرازی، پیام قرآن،‌1386شمسی،‌ ج9، ص62، 77؛ شرف‌الدین، المراجعات، 1426ھ، ص70.
  99. مکارم شیرازی، پیام قرآن،‌1386شمسی،‌ ج9، ص62.
  100. شوشتری، احقاق الحق، 1409ھ، ج9، ص309.
  101. شرف‌الدین، المراجعات، 1426ھ، ص70.
  102. ابن‌حجر ہیتمی، الصواعق المحرقہ، 1417ھ، ج2،‌ ص440.
  103. ملاحظہ کریں: صدوق، کمال الدین و تمام النعمۃ، 1395ھ، ج 1، ص234، ح45، ص238، حدیث 55؛ ابن‌ابی‌عاصم، کتاب‌السنہ، 1413ھ، ص630؛ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، 1411ھ، ج3، ص118؛ طبرانی، المعجم الکبیر، 1405ھ، ج5، ص186؛ سمہودی، جواہر العقدين فی فضل الشرفين، 1405ھ، ج2،‌ بخش اول،‌ ص86.
  104. ترمذی، سنن‌الترمذی، 1419، ج5،‌ ص478؛ ابن‌اثیر، جامع الاصول فی احادیث الرسول(ص)، 1420ھ، ج1، ص277؛ طبرانی، المعجم الاوسط، 1415ھ، ج5، ص89؛ سمہودی، جواہرالعقدين، 1405ھ، ج2،‌ بخش اول،‌ ص77؛ ابن‌حجر ہیتمی، الصواعق المحرقہ، 1417ھ، ج2،‌ ص653، 654.
  105. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2،‌ص415؛ عیاشی، کتاب‌التفسیر، 1380ھ، ج1، ص5، حدیث 9.
  106. صفار، بصائرالدرجات، 1404ھ، ص413؛ قمی، تفسیرالقمی، 1404ھ، ج1،‌ ص172، ج2، ص447.
  107. قمی، تفسیرالقمی، 1404ھ، ج1، ص3، 173.
  108. عیاشی، کتاب‌التفسیر، 1380شمسی، ج1، ص4، حدیث 3.
  109. دیلمی، ارشاد القلوب، 1412ھ، ج2، ص340
  110. ابن‌حجر ہیتمی، الصواعق المحرقہ، 1417ھ، ج2،‌ ص440؛ شرف‌الدین، المراجعات، 1426ھ، ص70.
  111. ابن‌حیون، دعائم‌الاسلام، 1385ھ، ج1، ص27، 28.
  112. وشنوی، حدیث‌الثقلین، 1428ھ، ص41.
  113. ملاحظہ کریں: کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص294؛ صفار، بصائرالدرجات، 1404ھ، ص413؛ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، 1395ھ، ج1، ص234-240؛ ترمذی، سنن‌الترمذی، 1419، ج5،‌ ص478، 479؛ حاکم نیشابوری، المستدرک، 1411ھ، ج3، ص118.
  114. رجوع کریں: صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378شمسی، ج2، ص62، حدیث 259؛ ابن‌کثیر، جامع المسانید و السنن، 1419ھ، ج3، ص98؛ حموی جوینی، فرائدالسمطین، مؤسسہ محمودی، ج2، ص144.
  115. رجوع کریں: مسلم نیشابوری، صحیح مسلم، دار احیاء‌ التراث العربی، ج4،‌ ص1873؛ حاکم نیشابوری، المستدرک، 1411ھ، ج3، ص160؛ حموی جوینی، فرائدالسمطین، ج2، ص250، 268.
  116. صدوق، الخصال، 1362شمسی، ج1،‌ ص66.
  117. رجوع کریں: مسلم نیشابوری، صحیح مسلم، دار احیاء‌التراث العربی، ج4،‌ ص1873؛ ابن‌حنبل، مسند الإمام أحمد بن حنبل، 1421ھ، ج32، ص11؛ دارمی، سنن الدارمی، 1421ھ، ج4، ص2090 و 2091؛ حموی جوینی، فرائد السمطین، مؤسسہ محمودی، ج2، ص250 و 268.
  118. صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، 1395ھ، ج1، ص237؛ حموی جوینی، فرائدالسمطین، مؤسسہ محمودی، ج2، ص145.
  119. ملاحظہ کریں: صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، 1378ھ، ج1، ص57؛ صدوق، کمال الدین و تمام النعمۃ، 1395ھ، ج1، ص279، حدیث 25؛ خزاز رازی،‌ کفایۃالاثر، 1401ھ، ص 89، 91، 92، 129، 171.
  120. ملاحظہ کریں: خزاز رازی،‌ کفایۃالاثر، 1401ھ، ص 171، 172؛ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، 1395ھ، ج1، ص279؛ صدوق، معانی‌الاخبار، 1403ھ، ص91.
  121. صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، 1378ھ، ج1، ص57؛ صدوق، کمال الدین و تمام النعمۃ، 1395ھ، ج1، ص240 و 241.
  122. صدوق، معانی‌الاخبار، 1403ھ، ص93.
  123. مفید، المسائل الجارودیہ،‌ 1413ھ، ص42.
  124. ملاحظہ کریں: معزی ملایری، جامع احادیث الشیعہ، 1373شمسی، ج1، ص44؛ شرف‌الدین، المراجعات، 1426ھ، ص79.
  125. معزی ملایری، جامع احادیث الشیعہ، 1373شمسی، ج1، ص44.
  126. مناوی، فیض‌القدیر، 1391ھ، ج3، ص14.
  127. ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، 1404ھ، ج6، ص375، 376.
  128. حاکم حسکانی، شواہدالتنزیل، 1411ھ، ج2، ص26، 27.
  129. سمہودی، جواہر العقدين فی فضل الشرفين، 1405ھ، ج2،‌ بخش اول،‌ ص97.
  130. ملاحظہ کریں: ابن‌حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، 1421ھ، ج32، ص11؛ طبرانی، المعجم الکبیر، 1405ھ، ج5، ص182-184؛ ابن‌حجر ہیتمی، الصواعق المحرقہ، 1417ھ، ج2،‌ ص653، 654..
  131. جوہری، الصحاح، 1407ھ، ج2، ص 735.
  132. ابن‌منظور، لسان‌العرب، 1414ھ، ج4، ص538.
  133. ابن‌اثیر، النہایہ، 1367شمسی، ج3، ص177.
  134. نفیسی، «ثقلین، حدیث»، ص100.
  135. مکارم شیرازی، پیام قرآن، 1386شمسی، ج9، ص62.
  136. معزی ملایری، جامع احادیث الشیعۃ، 1373شمسی، ج1، ص36-41؛
  137. صدوق، معانی الاخبار، 1403ھ، ص90؛ صدوق، کمال الدین و تمام النعمۃ، 1395ھ، ج1، ص236؛ حموی جوینی، فرائد السمطین، مؤسسہ محمودی، ج2، ص145.
  138. احمدی میانجی، فی رحاب حدیث الثقلین و احادیث اثنی‌عشر، 1391شمسی، ص89.
  139. سمہودی، جواہر العقدين فی فضل الشرفين، 1405ھ، ج2،‌ بخش اول،‌ ص92؛ ابن‌حجر ہیتمی، الصواعق المحرقہ، 1417ھ، ج2،‌ ص653.
  140. سمہودی، جواہر العقدين فی فضل الشرفين، 1405ھ، ج2،‌ بخش اول،‌ ص92؛ ابن‌حجر ہیتمی، الصواعق المحرقہ، 1417ھ، ج2،‌ ص653؛ سخاوی، استجلاب ارتقاء الغرف، بیروت، ج1، ص364.
  141. سخاوی، استجلاب ارتقاء الغرف، بیروت، ج1، ص364.
  142. سمہودی، جواہر العقدين فی فضل الشرفين، 1405ھ، ج2،‌ بخش اول،‌ ص92؛ معزی ملایری، جامع احادیث الشیعہ، 1373شمسی، ج1، ص36، 37؛ احمدی میانجی، فی رحاب حدیث الثقلین و احادیث اثنی‌عشر، 1391شمسی، ص87، 88.
  143. ملاحظہ کریں: قمی، تفسیرالقمی، 1404ھ، ج1،‌ ص3؛ صفار، بصائرالدرجات، 1404ھ،‌ ص414؛ عیاشی، التفسیر العیاشی، 1380ھ، ج1، ص4، 5.
  144. بحرانی، شرح نہج البلاغہ، 1404ھ، ج2، ص303.
  145. خویی، مِنہاجُ‌البَراعۃ، 1400ھ، ج6، ص215، 216.
  146. جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1385شمسی، ج1، ص76.
  147. خمینی، صحیفہ امام، 1389شمسی، ج21، ص393.
  148. ملاحظہ کریں: جمعی از طلاب، حدیث الثقلین و مقامات اہل البیت(ع)، مکتبۃالثقلین، ص160-186.
  149. ملاحظہ کریں: مفید، المسائل الجارودیہ،‌ 1413ھ، ص42؛ ابن‌عطیہ، ابہی المداد، 1423ھ، ج1،‌ ص131؛ مظفر، دلائل‌الصدق، 1422ھ، ج6، ص241-244.
  150. ملاحظہ کریں: ابن‌عطیہ، ابہی‌المداد، 1423ھ، ج1،‌ ص131؛ مظفر، دلائل‌ الصدھ، 1422ھ، ج6، ص241-244.
  151. ابن‌عطیہ، ابہی‌المداد، 1423ھ، ج1،‌ ص132.
  152. مظفر، دلائل‌ الصدھ، 1422ھ، ج6، ص246.
  153. مکارم شیرازی، پیام قرآن، 1386شمسی، ج9، ص75.
  154. ملاحظہ کریں: حلبی، الکافی فی الفقہ، 1403ھ، ص97؛ مکارم شیرازی، پیام قرآن، 1386شمسی، ج9، ص75.
  155. نگاہ کنید بہ مفید، المسائل الجارودیہ،‌ 1413ھ، ص42؛ ابن‌عطیہ، ابہی‌المداد،‌ 1423ھ، ج1،‌ ص131؛ بحرانی، منارالہدی، 1405ھ، ص671؛ مکارم شیرازی، پیام قرآن، 1386شمسی، ج9، ص75؛ سبحانی، الالہیات على ہدى الکتاب و السنۃ و العقل‏،‌ 1412ھ، ج4، ص105، 106.
  156. نگاہ کنید بہ: ابن‌عطیہ، ابہی المداد،‌ 1423ھ، ج1،‌ ص131؛ بحرانی، منار الہدی، 1405ھ، ص671؛ مکارم شیرازی، پیام قرآن، 1386شمسی، ج9، ص75؛ سبحانی، الإلہیات على ہدى الکتاب و السنۃ و العقل‏،‌ 1412ھ، ج4، ص106.
  157. حلبی، الکافی فی الفقہ، 1403ھ، ص97.
  158. فاریاب، عصمت امام در تاریخ تفکر امامیہ، ص303.
  159. ملاحظہ کریں: حسینی میلانی، نفحات‌الازہار، 1414ھ، ج2، ص268، 269.
  160. ملاحظہ کریں: سبحانی، سیمای عقاید شیعہ، 1386شمسی، ص231، 232؛ خرازی، بدایۃالمعارف، 1417ھ، ج2، ص19، 20.
  161. سبحانی، سیمای عقاید شیعہ، 1386شمسی، ص231، 232.
  162. خرازی، بدایۃالمعارف، 1417ھ، ج2، ص20.
  163. واعظ‌زادہ خراسانی، «مقدمہ» در حدیث الثقلین، ص20، 21.
  164. ملاحظہ کریں: کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص294؛ خزاز رازی،‌ کفایۃالاثر، 1401ھ، ص163؛ طبرانی، المعجم الکبیر، 1405ھ، ج5، ص 167؛ قندوزی، ينابيع المودہ لذوی القربی، 1422ھ، ج1، ص73، 74.
  165. معزی ملایری، جامع احادیث الشیعہ، 1373شمسی، ج1، ص82.
  166. الحیدری، علم‌الامام، 1429ھ، ص110-157.
  167. .ربانی گلپایگانی، «اہل‌بیت»، ص556.
  168. سبحانی، سیمای عقاید شیعہ، 1386شمسی، ص231، 232.
  169. شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، 1395ھ، ج1، ص240؛ ابن‌حنبل، مسند احمد بن حنبل، 1416ھ، ج35، ص456، 512؛ ہیثمی، مجمع‌الزوائد، دارالکتاب العربی، ج9، ص163؛ شوشتری، احقاق الحق، 1409ھ، ج9، ص375، ج18، ص279-281.
  170. ربانی گلپایگانی، «اہل‌بیت»، ص562.
  171. ربانی گلپایگانی، «اہل‌بیت»، ص561.
  172. واعظ‌زادہ خراسانی، «مقدمہ» در حدیث الثقلین، ص22.
  173. واعظ‌زادہ خراسانی، «مقدمہ» در حدیث الثقلین، ص22.
  174. خرازی، بدایۃالمعارف، 1417ھ، ج1، ص294.
  175. ابن‌حجر ہیتمی، الصواعق المحرقہ، 1417ھ، ج2،‌ ص653؛ سخاوی، استجلاب ارتقاء الغرف، بیروت، ج1، ص367.
  176. سمہودی، جواہر العقدين فی فضل الشرفين، 1405ھ، ج2،‌ بخش اول،‌ ص94.
  177. مناوی، فیض‌القدیر، 1391ھ، ج3، ص15.
  178. تفتازانی، شرح‌المقاصد، 1409ھ، ج5، ص302، 303.
  179. ملاحظہ کریں: مظفر، دلائل‌ الصدھ، 1422ھ، ج6، ص238، 239.
  180. صداقت ثمر حسینی، «حدیث ثقلین و پژوهش قوام الدین محمد وشنوی درباره آن»، کتابخانہ الکترونیک شیعہ.
  181. «حدیث الثقلین»، وبگاہ لوح دانا.
  182. جمعی از طلاب، حدیث الثقلین و مقامات اہل البیت، مکتبۃالثقلین، ص3.
  183. «حدیث القلین سنداً و دلالۃً»، وبگاہ مؤسسہ امام جواد(ع).

مآخذ

  • ‌ ابن‌ابی‌الحدید، عبدالحمید بن ہبۃ‌اللہ، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم،‏ قم، مکتبۃ آیۃ‌اللہ المرعشی النجفی، چاپ اول، 1404ھ۔
  • ابن‌ابی‌عاصم، احمد بن عمرو، کتاب‌السُّنہ، بیروت، المکتب الاسلامی، چاپ سوم، 1413ق/1993ء۔
  • ابن‌اثیر، مبارک بن محمد، جامع الاصول فی احادیث الرسول(ص)، تحقیق عبدالقادر ارناووط، بیروت، دارالفکر، 1420ھ۔
  • ابن‌اثیر، مبارک بن محمد، النہایہ فی غریب الحدیث و الاثر، قم، اسماعیلیان، چاپ چہارم، 1367ہجری شمسی۔
  • ابن‌جوزی، ابوالفرج عبدالرحمن بن علی، العلل المتناہیۃ فی الاحادیث الواہیۃ، فیصل‌آباد پاکستان، ادارۃ العلوم الاثریۃ، چاپ دوم، 1401ق/1981ء۔
  • ‌ ابن‌حجر ہیتمی، احمد بن محمد، الصواعق المحرقہ علی اہل الرفض و الضلال و الزندقہ، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، چاپ اول، 1417ھ۔
  • ابن‌حنبل، احمد بن محمد، مسند الامام احمد بن حنبل، تحقیق شعیب ارناووط و عادل مرشد و دیگران، تحت اشراف عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی، بیروت، مؤسسۃ الرسالہ، چاپ اول، 1421ق/2001ء۔
  • ‌ ابن‌حیون، نعمان بن محمد مغربی، دعائم‌الاسلام، تحقیق آصف فیضی، قم، مؤسسہ آل‌البیت(ع)، چاپ دوم، 1385ھ۔
  • ابن‌عطیہ، مقاتل، ابہی المداد فی شرح مؤتمر علماء بغداد، شرح و تحقیق محمدجمیل حمود، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی، چاپ اول، 1423ق/2002ء۔
  • ابن‌کثیر، اسماعیل بن عمر، جامع المَسانيد و السُنَن الہادی لِاَقوم سَنَن، تحقیق عبدالملک بن عبداللہ دہیش، بیروت، دارُاَخضر، 1419ھ۔
  • ابن‌منظور، محمد بن مکرم، لسان‌العرب، تحقیق جمال‌الدین میردامادی، بیروت، دارالفکر-دارصادر، چاپ سوم، 1414ھ۔
  • ابونعیم اصفہانی، احمد بن عبداللہ، حليۃ الاولياء و طبقات الاصفياء، بیروت، دار الکتاب العربی، چاپ پنجم، 1407ق/1987ء۔
  • احمدی میانجی، علی، فی رحاب حدیث الثقلین و احادیث اثنی‌عشر، قم، دارالحدیث، 1391ہجری شمسی۔
  • بحرانی، ابن‌میثم، شرح نہج‌البلاغہ، تہران، دفتر نشر الکتاب، 1404ھ۔
  • بحرانی، سیدہاشم بن سلیمان، غایۃ المرام و حجۃ الخصام فی تعیین الامام من طریق الخاص و العام‏، بیروت، مؤسسۃ التأریخ العربی، چاپ اول، 1422ھ۔
  • بحرانی، علی، منار الہدی فی النص علی امامۃ الائمۃ الاثنی‌عشر(ع‏)، بیروت، دارالمنتظر، 1405ھ۔
  • بیہقی، احمد بن حسین، ‏السنن الكبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دارالکتب العلمیہ، چاپ سوم، 1424ق/2003ء۔
  • ترمذی، محمد بن عیسی، سنن‌الترمذی، تحقیق احمد محمد شاکر، قاہرہ، دارالحدیث، 1419ق/1999ء۔
  • تفتازانی، سعدالدین، شرح المقاصد، تحقیق عبدالرحمن عمیرۃ، قم، شریف رضی، چاپ اول، 1409ھ۔
  • جمعی از طلاب، حدیث الثقلین و مقامات اہل البیت(ع)؛ محاضرات سماحۃ الشیخ احمد الماحوزی، ماحوز، مکتبۃالثقلین، بی‌تا.
  • ‌ جوادی آملی، عبداللہ، تفسیر تسنیم، قم، مرکز نشر اسراء، 1385ہجری شمسی۔
  • جوہری، ابونصر اسماعیل بن حماد، الصحاح؛ تاج اللغۃ و صحاح العربیۃ، بیروت، دار العلم للملایین،‌ چاپ چہارم، 1407ھ۔
  • حاج منوچہری، فرامرز، «ثقلین، حدیث»، در دایرۃ‌المعارف بزرگ اسلامی،‌ ج17، تہران، مرکز دایرۃ‌المعارف بزرگ اسلامی، چاپ اول، 1388ہجری شمسی۔
  • حاکم حسکانی، عبیداللہ بن عبداللہ، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل‏، تحقیق محمدباقر محمودی، تہران، وزرات فرہنگ و ارشاد اسلامی، چاپ اول، 1411ھ۔
  • حاکم نیشابوری، محمد بن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، تحقیق مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیہ، چاپ اول، 1411ھ۔
  • ‌ «حدیث الثقلین»، وبگاہ لوح دانا، تاریخ بازدید: 22 تیر 1402ہجری شمسی۔
  • «حدیث القلین سنداً و دلالۃً»، وبگاہ مؤسسہ امام جواد(ع)، تاریخ بازدید: 22 تیر 1402ہجری شمسی۔
  • حسینی تہرانی، سید محمدحسین، امام شناسی، مشہد، علامہ طباطبایی، چاپ سوم، 1426ھ۔
  • حسینی میلانی، سید علی، نفحات‌الاَزہار، قم، انتشارات مہر، چاپ اول، 1414ھ۔
  • حلبی، ابوالصلاح تقی‌الدین، الکافی فی الفقہ، تحقیق رضا استادی، اصفہان، مکتبۃ الامام امیرالمؤمنین(ع)، چاپ اول، 1403ھ۔
  • حموی جوینی، ابراہیم بن محمد، فرائد السمطین فی فضائل المرتضی و البتول و السبطین و الائمۃ من ذریتہم(ع)، تحقیق محمدباقر محمودی، بیروت، مؤسسہ محمودی، 1398ـ1400ھ۔
  • حیدری، سید کمال، علم‌الامام؛ بحوث فی حقیقہ و مراتب علم الائمۃ المعصومین، بقلم علی حمود العبادی، قم،‌ دار فراقد، 1429ھ۔
  • خرازی، سید محسن، بدایۃ المعارف الالہیۃ فی شرح عقائد الامامیۃ، قم،‌ مؤسسۃ النشر الاسلامی، چاپ چہارم، 1417ھ۔
  • ‌ خمینی، سید روح‌اللہ، صحیفہ امام، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، چاپ پنجم، 1389ہجری شمسی۔
  • خوارزمی، موفق بن احمد، المناقب، تحقیق مالک محمودی، قم، موسسۃ النشر اسلامی، 1411ھ۔
  • خویی، میرزا حبیب‌اللہ، مِنْہاجُ البَراعہ فی شَرْح نَہجُ البَلاغَۃ، تحقیق سید ابراہیم میانجی، تہران، مکتبۃالاسلامیۃ، چاپ چہارم، 1400ھ۔
  • دارقطنی، علی بن عمر، المؤتلف و المختلف، تحقیق موفق بن عبداللہ بن عبدالقادر، بیروت، دار المغرب الاسلامی 1406ھ/1986ء۔
  • دارمی، عبداللہ بن عبدالرحمن، سنن‌الدارمی (مسندالدارمی)، تحقیق حسین سلیم اسد دارانی، ریاض، دارالمغنی، چاپ اول، 1421ھ۔
  • دیلمی، حسن بن محمد، ارشادالقلوب، قم، شریف رضی، چاپ اول، 1412ھ۔
  • زرقانی، محمد بن عبدالباقی، شرح المواہب اللدنیہ، بیروت، دار الکتب العلمیہ، چاپ اول، 1417ھ۔
  • سبحانی، جعفر، الالہیات على ہدى الکتاب و السنۃ و العقل‏،‌ قم، المرکز العالمی للدراسات الاسلامیۃ، چاپ سوم، 1412ھ۔
  • سبحانی، جعفر، سیماى عقاید شیعہ‏، ترجمہ جواد محدثى‏، تہران، نشر مشعر، چاپ اول، 1386ہجری شمسی۔
  • سخاوی، شمس‌الدین محمد بن عبدالرحمن، استجلاب ارتقاء الغرف بحب اقرباء الرسول و ذوی الشرف، تحقیق خالد بن احمد الصمی بابطين، بیروت، دارالبشائر الاسلامیہ، بی‌تا.
  • سمہودی، علی بن عبداللہ، جواہر العقدین فی فضل الشرفین، تحقیق موسی بنای علیلی، بغداد، مطبعۃالعانی، 1405ھ۔
  • سیوطی، جلال‌الدین، احياء المیت بفضائل اہل‌البیت‌(ع)، تصحیح و پاورقی کاظم فتلاوی و محمدسعید طریحی، مقدمہ و ترجمہ احمد امامی، تہران، مجمع جہانی اہل‌بیت‌(ع)، چاپ اول، 1421ق/2000ء۔
  • شرف‌الدین، سید عبدالحسین، المراجعات، قم، مجمع جہانی اہل‌بیت(ع)، چاپ دوم، 1426ھ۔
  • شوشتری، قاضی نوراللہ، احقاق الحق و ازہاق الباطل، قم، کتابخانہ آیت‌اللہ مرعشی نجفی، چاپ اول، 1409ھ۔
  • صداقت ثمر حسینی، کامیار، «حدیث الثقلین و پژوہش قوام الدین محمد وشنوی دربارہ آن»، مجلہ پژوہش‌نامہ علوی، شمارہ دوم،‌ پاییز و زمستان 1390ہجری شمسی۔
  • صدوق، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا(ع)، تحقیق مہدی لاجوردی، تہران، نشر جہان، چاپ اول، 1378ہجری شمسی۔
  • صدوق، محمد بن علی، الامالی، تہران، کتابچی، چاپ ششم، 1376شمسی،
  • صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمہ، تحقیق علی‌اکبر غفاری، تہران، اسلامیہ، چاپ دوم، 1395ھ۔
  • ‌ صفار قمی، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد(ص)، تحقیق محسن کوچہ‌باغی تبریزی، قم، مکتبۃ آیۃاللہ المرعشی النجفی،‌ چاپ دوم، 1404ھ۔
  • طبرانی، سلیمان‌ بن‌ احمد، المعجم الکبیر، تحقیق حمدی عبدالمجید سلفی، قاہرہ، مکتبۃ ابن‌تیمیہ، چاپ دوم، 1405ھ۔
  • طبرانی، سلیمان بن‌ احمد، المعجم الاوسط، تحقیق طارق بن عوض‌اللہ و عبدالمحسن بن ابراہیم الحسینی، قاہرہ، دارالحرمين، 1415ھ۔
  • عیاشی، محمد بن مسعود، کتاب‌التفسیر، تحقیق رسولی محلاتی، تہران، المطبعۃ العلمیہ، چاپ اول، 1380ھ۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیرالقمی، تحقیق موسوی جزائری، طیب، قم، دار الکتاب، چاپ سوم، 1404ھ۔
  • قندوزی، سلیمان بن ابراہیم، یَنابیع الموَدَّۃِ لِذَوی القُربی، قم، دار الاسوہ للطباعۃ و النشر، 1422ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ چہارم، 1407ھ۔
  • مازندرانی، محمدصالح، شرح‌الکافی (الاصول و الفروع)، تحقیق ابوالحسن شعرانی، تہران، المکتبۃ الاسلامیۃ، چاپ اول، 1382ھ۔
  • متقی ہندی، علی بن حسام‌الدین، کنز العمال فی سنن الاقوال و الافعال، تحقیق بکری حیانی و صفوۃ السقّا، بیروت، مؤسسۃالرسالۃ، چاپ پنجم، 1401ھ۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار الجامعۃ لدرر اخبار الائمۃ الاطہار(ع)، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ دوم، 1403ھ۔
  • مسلم نیشابوری، مسلم بن‌ حجاج، صحیح مسلم، تحقیق محمد فؤاد عبدالباقی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا.
  • مظفر، محمدحسن، دلائل‌ الصدھ، قم، مؤسسہ آل‌البیت(ع)، چاپ اول، 1422ھ۔
  • معزی ملایری، اسماعیل، جامع احادیث الشیعۃ فی احکام الشریعۃ، تحت اشراف و نظارت سید حسین طباطبایی بروجردی، قم، نشر مؤلف، 1373شمسی/1415ھ۔
  • مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج اللّہ علی العباد، قم، کنگرہ شیخ مفید، چاپ اول، 1413ھ۔
  • مفید، محمد بن محمد، المسائل الجارودیہ، قم، المؤتمر العالمی للشیخ المفید، چاپ اول، 1413ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، پیام قرآن، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ نہم، 1386ہجری شمسی۔
  • مناوی، محمد عبدالرؤوف، فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، بیروت، دارالمعرفہ، چاپ دوم، 1391ھ/1972ء۔
  • میر حامد حسین، عبقات الانوار فی اثبات امامۃ ائمۃ الاطہار(ع)، اصفہان، کتابخانہ امیرالمؤمنین(ع)، چاپ دوم، 1366ہجری شمسی۔
  • نسائی، احمد بن شعیب، السنن الکبری، تحقیق حسن عبدالمنعم شلبی، بیروت، مؤسسۃالرسالہ، چاپ اول، 1421ھ/2001ء۔
  • نفیسی، شادی، «ثقلین، حدیث»، در دانشنامہ جہان اسلام، ج9، تہران، بنیاد دایرۃالمعارف اسلامی، چاپ اول، 1384ہجری شمسی۔
  • واعظ‌زادہ خراسانی، محمد، «مقدمہ»، در حدیث‌الثقلین، تألیف قوام‌الدین محمد وشنوی، تہران، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، 1428ھ۔
  • وشنوی، قوام‌الدین محمد، حدیث‌الثقلین، تہران، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، 1428ھ۔
  • ہیثمی، علی بن‌ ابوبکر، کشف الاستار عن زوائد البزار، بیروت، مؤسسۃالرسالہ، چاپ اول، 1399ھ۔
  • ہیثمی، علی بن‌ ابوبکر، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، تحقیق حسام‌الدین قدسی، قاہرہ، مکتبۃالقدسی، 1414ھ/1994ء۔