فاقد تصویر
غیر جامع

حدیث سلسلۃ الذہب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حدیث سلسلۃ الذہب
حدیث سلسله الذهب.jpg
حدیث سلسلۃ الذہب کی کاشی پر خوشنویسی
حدیث کے کوائف
موضوع: توحید اور اس کے شرائط
صادر از: حدیث قدسی
اصلی راوی: پیغمبر اکرمؐ
راویان: اس روایت کے روای سب ائمہ معصومینؑ ہیں۔
اعتبارِ سند: متواتر
شیعہ مآخذ: التوحید، معانی الاخبار، عیون اخبار الرضا، روضۃ الواعظین، بشارۃ المصطفی، الامالی (شیخ صدوق)، الامالی شیخ طوسی
سنی مآخذ: ینابیع المودۃ
مشہور احادیث
حدیث سلسلۃ الذہب.حدیث ثقلین.حدیث کساء.مقبولہ عمر بن حنظلہ.حدیث قرب نوافل.حدیث معراج. حدیث ولایت.حدیث وصایت.حدیث جنود عقل و جہل


حدیث سِلسِلَۃ الذَّهَب توحید خداوندی اور اس کی شرائط کے بارے میں امام رضاؑ سے منسوب ایک حدیث قدسی ہے جسے آپؑ نے مدینہ سے مرو جاتے ہوئے نیشابور کے مقام پر بیان فرمایا۔ امامؑ نے اس حدیث میں خود (امامت) کو توحید کی شرط قرار دیا ہے۔

چونکہ اس حدیث کے تمام راوی پیغمبر اکرمؐ تک معصوم‌ امام ہیں اور اس کا سلسلہ اللہ تعالی تک پہنچتا ہے اس لئے اسے "حدیث سلسلۃ الذهب" یعنی "زرّین سلسلہ" والی حدیث کہا جاتا ہے۔ بعض مورخین کے مطابق اس موقع پر 20 ہزار سے زیادہ اشخاص نے اس حدیث کو تحریر کیا ہے۔

اس حدیث کے مطابق توحید پر عقیدہ رکھنا جہنم کی آگ سے نجات کا ذریعہ ہے لیکن اس کے کچھ شرائط ہیں، امام رضاؑ نے خود کو ان شرائط میں سے ایک قرار دیا ہے۔ شیعہ علماء کے مطابق اس جملے سے امام کی مراد امامت پر عقیدہ رکھنا ہے۔

حدیث کا متن اور ترجمہ

حدیث سلسلۃ الذہب

اللَّه جَلَّ جَلَالُهُ یقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حِصْنِی فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِی أَمِنَ مِنْ عَذَابِی قَالَ فَلَمَّا مَرَّتِ الرَّاحِلَةُ نَادَانَا بِشُرُوطِهَا وَ أَنَا مِنْ شُرُوطِهَا
...اللہ جل جلالہ نے فرمایا: کلمہ "لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ" میرا مظبوط قلعہ ہے، پس جو بھی میرے اس قلعہ میں داخل ہوگا وہ میرے عذاب سے محفوظ رہے گا۔ جب آپ کی سواری چلنے لگی تو امام رضاؑ نے فرمایا البتہ اس کے کچھ شرائط ہیں اور میں(امامت) ان شرائط میں سے ہوں۔

شیخ صدوق، التوحید، ۱۳۸۹ق، ص۲۵.

شیخ صدوق نے کتاب التوحید میں اسے یوں نقل کیا ہے کہ اسحاق بن راہویہ کہتا ہے: جب امام رضاؑ خراسان جاتے ہوئے نیشابور کے مقام پر پہنچے اور وہاں سے مأمون کی طرف کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو نیشابور کے مُحدِّثین جمع ہوئے اور عرض کیا:‌ یا بن رسول اللہؐ ہمیں کوئی حدیث بیان کئے بغیر ہمارے شہر سے تشریف لے جارہے ہیں؟ محدثین کی اس فرمائش پر امام رضاؑ نے اپنا سر اونٹ کے کجاوے سے باہر نکالا اور فرمایا: میں نے اپنے والد گرامی، موسی کاظمؑ سے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنے والد گرامی، امام صادقؑ سے اور انہوں نے اپنے والد گرامی، امام باقرؑ سے اور انہوں نے اپنے والد گرامی، امام سجادؑ سے اور انہوں نے اپنے والد گرامی، امام حسینؑ سے اور انہوں نے اپنے والد گرامی، امیرالمؤمنین علی بن أبی طالبؑ سے اور انہوں نے رسول خداؐ سے اور انہوں نے جبرئیل سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے پروردگار عزّ و جلّ سے سنا کہ خداوند عالم فرماتا ہے: اللَّه جَلَّ جَلَالُهُ یقُولُ لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ‏ حِصْنِی‏ فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِی أَمِنَ مِنْ عَذَابِی قَالَ فَلَمَّا مَرَّتِ الرَّاحِلَةُ نَادَانَا بِشُرُوطِهَا وَ أَنَا مِنْ شُرُوطِهَا ترجمہ:...خداوند جل جلالہ نے فرمایا: کلمہ "لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ" میرا مضبوط قلعہ ہے، پس جو بھی میرے اس قلعہ میں داخل ہوگا وہ میرے عذاب سے محفوظ رہے گا۔ جب آپ کی سواری چلنے لگی تو امام رضاؑ نے فرمایا البتہ اس کے کچھ شرائط ہیں اور میں(امامت) ان شرائط میں سے ہوں۔[1]

علت نامگذاری

یہ حدیث، "حدیث سلسلۃ الذّہب" [زرّین سلسلہ] سے معروف ہے۔ یہ نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس حدیث کی سند کے اندر موجود تمام راوی معصوم ہیں یعنی امام رضاؑ نے امام موسی کاظمؑ سے انہوں نے امام جعفر صادقؑ سے حدیث کو نقل کیا ہے یہاں تک کہ یہ سلسلہ ہمارے پہلے امام، امام علیؑ تک پہنچتا ہے اور حضرت علیؑ نے اس حدیث کو پیغمبر اکرمؐ سے اور پیغمبر اکرمؐ نے اسے جبرئیل کے توسط سے خود خداوند عالم سے نقل کیا ہے۔ اسی لئے یہ حدیث، احادیث قدسی میں بھی شمار کی جاتی ہے۔ [2]

شرح

شیخ صدوق امام رضاؑ کے کلام کو اپنی کتاب توحید میں نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں: امامؑ کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ کلمہ "لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ‏" کی قبولیت کی شرط میری امامت پر اقرار کرنا ہے اور یہ اقرار کرنا کہ میں خدا کی جانب سے منصوب امام ہوں جس کی اطاعت اور فرمانبرداری واجب ہے۔ [3]

اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ یہ حدیث توحید اور ولایت و امامت کی طرف اشارہ کرتی ہے، اس حدیث کا اصلی مقصد توحید اور امامت و ولایت کے درمیان موجود رشتے کو بیان کرنا قرار دیا گیا ہے؛ کیونکہ نیشاپور میں اکثر اہل سنت رہتے تھے اور وہ ائمہ معصومینؑ کی امامت و ولایت کے قائل نہیں تھے۔ اس بنا پر امام رضاؑ نے ان کے درمیان اس حدیث کو ارشاد فرمایا جس کے مطابق توحید دین کا اصل قلعہ ہے اور خالص توحید تک پہنچنے کا واحد راستہ امام معصوم کی طرف رجوع کرنا اور ان سے حقیقی توحید اور اسلامی تعلیمات اخذ کرنا ہے۔[4]

کتابت

امام رضاؑ کے نیشابور پہنچنے کے بعد ابو زرعہ رازى اور محمد بن اسلم طوسى سمیت محدثین اور راویوں کی بے شمار تعداد امامؑ کے ہاں آتے ہیں اور آپؑ سے درخواست کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ سے کوئی حدیث نقل کریں۔ اس وقت امامؑ نے مذکورہ حدیث کا متن ان کیلئے بیان فرمایا۔ بعض تاریخی منابع کے مطابق جنہوں نے اس موقع پر اس حدیث کو لکھا ان کی تعداد 20 ہزار سے بھی زیادہ تھی۔ ایک اور قول کی بنا پر یہ تعداد 24 ہزار تک پہنچتی ہے۔[5]

اہل سنت مآخذ میں

اہل سنت منابع میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ اہل سنت حدیثی منابع میں اس حدیث کو نقل کرنے والوں کی تعداد کے بارے میں کئی اقوال موجود ہیں جن میں سے بعض نے ان کی تعداد 10 ہزار[6] بعض نے 20 ہزار[7] اور بعض نے ان کی تعداد 30 ہزار تک بیان کی ہیں[8] اور بعض نے 20 ہزار والے قول کو مشہور قرار دیا ہے۔[9] اس بنا پر اہل سنت کے بہت سارے محدثین نے اس حدیث کو نقل کیا ہے؛ لیکن ان میں سے صرف بعض افراد نے ہی جیسے قندوزی نے ینابیع المودۃ میں اس حدیث کے آخری حصے " وانا من شروطہا" کی طرف اشارہ کیا ہے[10] اسی طرح اہل سنت کے بعض علماء من جملہ احمد بن حنبل اور اباصلت ہروی سے منقول ہے کہ اس حدیث کو اگر کسی دیوانے پر پڑھا جائے تو اسے شفا ملے گی۔[11]

سلسلۃ الذہب کی ایک اور روایت

یقُولُ اللَّهُ تَبَارَک وَ تَعَالَی وَلَایةُ عَلِی بْنِ أَبِی طَالِبٍ حِصْنِی فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِی أَمِنَ نَارِی۔
خداوند جل جلالہ ارشاد فرماتا ہے: ولایت علی ابن ابیطالب میرا قلعہ ہے، پس جو بھی میرے قلعے میں داخل ہو گا میرے عذاب سے محفوظ رہے گا۔

ابن بابویہ(صدوقامالی، ۱۳۷۶ش، ص۲۳۵۔

شیعہ اور اہل سنت کے یہاں معروف "حدیث سلسلۃ الذہب" کے علاوہ اس سے مشابہ ایک اور حدیث بھی نقل ہوئی ہے، البتہ ان کے مضمون میں کچھ فرق ہے۔ یہ دونوں حدیث، حدیث قدسی ہیں یعنی ان کا مضمون خدا کی طرف سے رسول خداؐ کے قلب مبارک پر القا ہوا ہے۔[12] اور دونوں احادیث کے راوی ائمہ معصومینؑ ہیں۔ دوسری طرف سے دونوں احادیث امام رضاؑ سے نقل ہوئی ہیں۔ لیکن ان دونوں میں جو بنیادی فرق ہے وہ یہ ہے کہ متأخر الذکر حدیث میں "ولایت علی ابن ابیطالب" کی تصریح کی گئی ہے۔ شیخ صدوق نے کتاب امالی [13] اور عیون اخبار الرضا[14] میں، شعیری نے اپنی کتاب جامع الأخبار[15] اور حسکانی (وفات ۴۹۰ھ) نے اپنی کتاب شواہد التنزیل لقواعد التفضیل[16] میں اس حدیث کو نقل کیا ہے اور ان کے بعد آنے والے محدثین نے ان سے نقل کیا ہے۔

بعض کا کہنا ہے کہ سزاوار ہے اس حدیث کو جس میں امام رضاؑ تک تمام ائمہ معصومینؑ اور خدائے متعال کا اسم گرامی درج ہے، کفن پر لکھا جائے۔[17]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. ابن بابویہ، کتاب التوحید، ص۴۹، صدوق، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، ص۲۱-۲۲۔
  2. صدوق، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، ص۲۲.
  3. صدوق، التوحید، ص۲۵.
  4. حبیبی‌تبار، مروجی طبسی، «توحید و امامت در حدیث سلسلۃ الذہب»، ۱۳۹۲ش، ص۵۲-۵۳۔
  5. أعيان الشيعۃ، محسن الأمين ،ج‏2،ص:18
  6. خنجی اصفہانی، مہمان‌‌نامہ بخارا، تہران، ص۳۴۵؛ بہ نقل از حبیبی‌تبار، مروجی طبسی، «توحید و امامت در حدیث سلسلۃ الذہب»، ۱۳۹۲ش، ص۴۳۔
  7. ابن صباغ مالکی، الفصول المہمہ، ۱۴۰۹ق، ص۲۴۳؛ سہمودی، جواہر العقدین، ۱۴۰۷ق، ۳۳۴؛ ابن حجر ہیثمی،‌ الصواعق المحرقۃ، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۵۹۵؛ بہ نقل از حبیبی‌تبار، مروجی طبسی، «توحید و امامت در حدیث سلسلۃ الذہب»، ۱۳۹۲ش، ص۴۳۔
  8. خنجی اصفہانی، وسیلۃ الخادم، ۱۳۷۵ش، ص۲۲۰:؛ بہ نقل از حبیبی‌تبار، مروجی طبسی، «توحید و امامت در حدیث سلسلۃ الذہب»، ۱۳۹۲ش، ص۴۳۔
  9. حبیبی‌تبار، مروجی طبسی، «توحید و امامت در حدیث سلسلۃ الذہب»، ۱۳۹۲ش، ص۴۳.
  10. قندوزی، ینابیع المودہ، ۱۴۲۲ق، ص۳۶۴.
  11. ابن حجر ہیثمی،‌ الصواعق المحرقۃ، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۵۹۴-۵؛ سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ۱۴۱۷ق، ص۳۱۵؛ بہ نقل از حبیبی‌تبار، مروجی طبسی، «توحید و امامت در حدیث سلسلۃ الذہب»، ۱۳۹۲ش، ص۴۳۔
  12. مدیرشانہ چی، علم الحدیث، ۱۳۷۵ش، ص۱۳۔
  13. صدوق، امالی، ۱۳۷۶ش، ص۲۳۵.
  14. صدوق، ، عیون أخبار الرضا علیہ السلام، ۱۳۷۸ق، ج۲، ص۱۳۶۔
  15. شعیری، جامع الاخباری، نجف، ص۱۴۔
  16. حسکانی، شواہد التنزیل، ۱۴۱۱ق، ص۱۷۰۔
  17. ہاشمی شاہرودی، فرہنگ فقہ فارسی، ۱۳۸۵ش، ج۴، ص۵۲۳۔


مآخذ

  • ابن حجر ہیتمی مکی، احمد (۹۷۴ق)، صواعق المحرقہ، شرکہ الطباعہ الفنیہ المتحدہ فی مصر، قاهرہ، چاپ دوم، ۱۳۸۵ق.
  • ابن صباغ مالکی، علی بن محمد بن احمد (۸۵۵ق)، الفصول المہمہ فی معرفہ احوال الائمہ علیہم السلام، موسسہ اعلمی، تہران، چاپ دوم.
  • امین، سید محسن، أعیان الشیعۃ، دار التعارف، بیروت، ۱۴۰۳ق.
  • صدوق، محمد بن علی، التوحید، محقق: ہاشم حسینی، قم، جامعہ مدرسین، ۱۳۹۸ق.
  • صدوق، محمد بن علی، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، ترجمہ علی‌ اکبر غفاری، چ۱، تہران: صدوق، [بی‌تا].
  • قندوزی حنقی، سلیمان بن إبراہیم، ینابیع المودّۃ،‌ دار العراقیۃ ـ الکاظمیۃ، و انتشارات محمّدی، قم، چاپ ہشتم، ۱۳۸۵ق.
  • مناوی، عبد الرئوف، فیض القدیر فی شرح جامع الصغیر، دار الفکر، بیروت، ۱۳۹۱ق، چاپ دوم.