امام موسی کاظم علیہ السلام

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
امام موسی کاظم علیہ السلام
کاظمین قدیم.jpg
حرم کاظمین کی پرانی تصویر
منصب شیعوں کے ساتویں امام
نام موسی بن جعفر
کنیت ابو الحسن (الاول)، ابو ابراہیم، ابو علی
القاب کاظم، عبد صالح
تاریخ ولادت 7 صفر، 128 ہجری۔
جائے ولادت ابواء، مدینہ
مدت امامت 35 سال (148 تا 183ھ)
شہادت 25 رجب، 183 ہجری۔
مدفن کاظمین
رہائش مدینہ
والد ماجد جعفر بن محمد
والدہ ماجدہ حمیدہ بربریہ
ازواج نجمہ،...
اولاد امام رضاؑحضرت معصومہإبراہیمقاسمشاہ چراغ حمزہعبداللہإسحاقحکیمہ
عمر 55 سال
ائمہ معصومینؑ

امام علیؑ • امام حسنؑ  • امام حسینؑ • امام سجادؑ • امام محمد باقرؑ • امام صادقؑ  • امام موسی کاظمؑ • امام رضاؑ  • امام محمد تقیؑ  • امام علی نقیؑ • امام حسن عسکریؑ • امام مہدیؑ

موسی بن جعفر (128۔183 ھ)، امام موسی کاظم علیہ السلام کے نام اور کاظم و باب الحوائج کے لقب سے مشہور، شیعوں کے ساتویں امام ہیں۔ سنہ 128 ہجری میں بنی امیہ سے بنی عباس کی طرف حکومت کی منتقلی کے دروان آپ کی ولادت ہوئی اور سنہ 148 ھ میں اپنے والد امام جعفر صادقؑ کی شہادت کے بعد منصب امامت پر فائز ہوئے۔ آپ کی 35 سالہ امامت کے دوران بنی عباس کے خلفاء منصور دوانقی، ہادی، مہدی اور ہارون رشید بر سر اقتدار رہے۔ منصور عباسی اور مہدی عباسی کے دور خلافت میں آپ نے کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور سن 183 ھ میں سندی بن شاہک کے زندان میں جام شہادت نوش کیا اور منصب امامت آپ کے فرزند امام علی رضا علیہ السلام کی طرف منتقل ہوگیا۔

آپؑ کی زندگی بنی عباس کے اوج اقتدار کے زمانے میں گزری ہے۔ اس بنا پر آپ تقیہ سے کام لیتے اور اپنے پیروکاروں کو بھی تقیہ کرنے کی سفارش کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی زندگی میں نہ بنی عباس کے حکمرانوں کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام دیکھنے میں آتے ہیں اور نہ ان کے مقابلے میں چلائی جانے والی علوی تحریکوں جیسے قیام شہید فخ وغیرہ کی صریح حمایت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود آپ بنی عباس اور دیگر افراد کے ساتھ ہونے والے مناظرات اور علمی بحث و مباحثوں میں بنی عباس سے خلافت کی مشروعیت کو سلب کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔

اسی طرح عیسائی اور یہودی علماء کے ساتھ بھی آپؑ کے مختلف مناظرات اور علمی گفتگو تاریخی اور حدیثی منابع میں ذکر ہوئے ہیں۔ دوسرے ادیان و مذاہب کے علماء کے ساتھ آپؑ کے مناظرات مد مقابل کے پوچھے گئے سوالات اور اعتراضات کے جواب پر مشتمل ہوا کرتے تھے۔ مسند الامام الکاظمؑ میں آپ سے منقول 3000 ہزار سے زائد احادیث جمع کی گئی ہیں جن میں سے بعض احادیث کو اصحاب اجماع میں سے بعض نے نقل کیا ہے۔

اسی طرح آپ نے نظام وکالت کی تشکیل اور اسے مختلف علاقوں میں وسعت دینے کیلئے مختلف افراد کو وکیل کے عنوان سے ان علاقوں میں مقرر کیا تھا۔ دوسری طرف سے آپؑ کی زندگی شیعہ مذہب میں مختلف گروہوں کے ظہور کے ساتھ ہم زمان تھی اور اسماعیلیہ، فطحیہ اور ناووسیہ جیسے فرقے آپ کی حیات مبارکہ ہی میں وجود میں آگئے تھے جبکہ واقفیہ نامی فرقہ آپ کی شہادت کے بعد وجود میں آیا۔

شیعہ و سنی منابع آپ کے علم، عبادت، بردباری اور سخاوت کی تعریف و تمجید کے ساتھ ساتھ آپ کو کاظم اور عبد صالح کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ بزرگان اہل‌ سنت آپ کا ایک دین شناس ہونے کے عنوان سے احترام کرتے ہیں اور شیعوں کی طرح بعض اہل سنت بھی آپ کی زیارت کیلئے جاتے ہیں۔ آپ کا مزار آپ کے پوتے امام محمد تقی علیہ السلام کے ساتھ شمال بغداد میں واقع ہے جو اس وقت حرم کاظمین کے نام سے مشہور مسلمانوں خاص طور پر شیعوں کی زیارت گاہ ہے۔

نسب، کنیت و لقب

اہل سنت کے مشہور عالم ابن حجر ہیتمی (م 974 ھ) رقمطراز ہیں: آپ بہت زیادہ درگذر کرنے اور بردباری کی وجہ سے کاظم کہلائے اور عراقیوں کے نزدیک باب الحوائج عند اللہ (یعنی اللہ کے نزدیک حاجات کی برآوری کرنے والے) کے عنوان سے مشہور تھے اور اپنے زمانے کی عابد ترین، دانا ترین، عالم ترین اور انتہائی فیاض شخصیت کے مالک تھے۔[5]

انگشتریوں کے نقش

امام موسی کاظم علیہ السلام کی انگشتریوں کے لئے دو نقش: الْمُلْكُُ‏ للہِ وَحْدَه[6] اور حَسبِيَ اللهُ منقول ہیں۔[7]

زندگی نامہ

زندگی نامہ امام کاظمؑ

حرم کاظمین.jpg

7 صفر 128ھ ولادت امام کاظم‌ؑ
145ھ قیام نفس زکیہ
25 شوال 148ھ شہادت امام صادقؑ اور امام کاظمؑ کی امامت کا آغاز
11 ذیقعدہ 148ھ ولادت امام رضاؑ
محرم کے ابتدائی ایام149ھ وفات عبداللہ افطح اور انکے ماننے والوں کا امام کاظمؑ کی امامت کی طرف لوٹ آنا[8]
160-169ق مہدی عباسی کی خلافت کے دوران امامؑ کو دو مرتبہ بغداد بلایا گیا اور مختصر عرصہ قیدی رہے۔ انہی میں سے کسی دیدار میں امامؑ نے مہدی عباسی سے فدک کا مطالبہ کیا۔[9]
169ھ قیام فخ
ربیع‌الثانی 170ق امامؑ نے ایک خط کے ذریعے ہادی عباسی کی ماں خیزران کو اس کی موت پر تسلیت دی۔[10]
172ھ مراکش میں ادریسیان کی پہلی شیعہ حکومت کی تشکیل
176ھ یحیی بن عبداللہ نے طبرستان میں قیام کے بعد امام کاظمؑ کو خط لکھا اور آپ کا ساتھ نہ دینے پر گلہ کیا۔[11]
شوال 179ھ اسی سال ماہ رمضان میں ہارون الرشید نے عمرہ انجام دیا اور پھر مدینہ جاکر قبر پیغمبر اکرمؐ کے پاس جاکر بڑے افتخار کے ساتھ اے چچازاد بھائی کہہ کر سلام دیا۔ اس وقت امامؑ قریب آئے اور پیغمبر اکرمؐ کو باپ کہہ کر سلام دیا۔[12]
20 شوال 179ھ ہارون کے حکم سے امامؑ کو مدینہ سے عراق بھیجا گیا۔[13]
7 ذی‌الحجہ 179ھ بصرہ میں عیسی بن جعفر کے گھر امام کاظمؑ کا قید ہونا۔[14]
اواخر 180ھ ہارون نے ایک خط میں عیسی بن جعفر کو امام کاظمؑ کے قتل کا حکم دیا لیکن اس نے ماننے سے انکار کردیا۔[15]
22 رجب 183ھ سندی بن شاہک کے زندان میں مسموم ہونا۔[16]
25 رجب 183ھ شہادت[17]

ولادت

امام موسی کاظمؑ نے بروز اتوار 7 صفر سنہ 127 یا 128 ہجری[18] میں مکہ و مدینہ کے درمیان ابواء نامی مقام پر اس وقت دنیا میں قدم رکھا جب حضرت امام جعفر صادقؑ اپنی زوجہ کے ہمراہ حج سے واپس تشریف لا رہے تھے۔ تاہم بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ آپؑ 129ھ میں مدینہ میں پیدا ہوئے ہیں۔[19]

کتاب محاسن میں برقی کی روایت کے مطابق، امام صادقؑ نے اس نومولود کی ولادت کے بعد تین دن تک عمومی ضیافت کا بندوبست کیا۔[20]

روز ولادت میں اختلاف ہے بعض نے مہینے اور دن کے بغیر صرف مقام ولادت ذکر کیا ہے[21]خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag لیکن یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ طبری نے ان کی ولادت ماه ذی الحجہ[22] اور بعض جیسے طبرسی 7 صفر میں نقل کی ہے۔[23]

امام موسی کاظمؑ 25 رجب سنہ 183 ہجری میں بغداد میں شہید ہوئے۔[24]

آپؑ متوسط القامہ، نورانی چہرے کے مالک تھے۔ آپ کے چہرے کی رنگت گندمی، داڑھی گھنی اور سیاہ تھی۔[25] شیخ مفید لکھتے ہیں: آپؑ اپنے زمانے کی عابد ترین، فقیہ ترین، سخی ترین اور بزرگوار ترین شخصیت سمجھے جاتے تھے۔[26]

موسی بن جعفرؑ کی ولادت امویوں سے عباسیوں کی طرف حکومت کے منتقلی کے دور میں ہوئی۔ آپ کا سن چار سال تھا کہ پہلا عباسی خلیفہ مسند حکومت پر بیٹھا۔ منابع تاریخی میں امام کاظم کی زندگی کے امامت سے پہلے دور کے متعلق کوئی معلومات ذکر نہیں ہے البتہ بچپن میں ابو حنیفہ[27] اور دوسرے ادیان کے علما سے مدینہ میں ہونے والی چند گفتگوئیں مذکور ہیں۔[28]

مناقب کی روایت کے مطابق ایک مرتبہ امام ایک اجنبی شخص کی حیثیت سے شام کے ایک دیہات میں وارد ہوئے تو ایک راہب سے گفتگو ہوئی جس کے نتیجے میں راہب، اس کی بیوی اور اس کے ساتھی بھی مسلمان ہوئے۔[29] اسی طرح حج اور عمرے کے بارے میں کچھ روایات مذکور ہیں۔[30] چند مرتبہ خلفائے عباسی کی طرف سے بغداد امام احضار ہوئے۔ اس کے علاوہ امام ساری زندگی مدینہ میں رہے۔

ازواج اور اولاد

آپ کی ازواج کی تعداد واضح نہیں ہے لیکن منقول ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کنیزیں ہیں جنہیں آپ خرید لیتے تھے اور پھر انہيں آزاد کرکے ان سے نکاح کر لیتے تھے۔ ان میں سب سے پہلی خاتون امام رضاؑ کی والدہ نجمہ خاتون ہیں۔[31] آپ کے فرزندوں کی تعداد کے بارے میں تاریخی روایات مختلف ہیں۔ شیخ مفید کا کہنا ہے کہ امام کاظمؑ کی 37 اولاد ہیں جن میں 18 بیٹے اور 19 بیٹیاں شامل ہیں:[32]

  1. علی بن موسى الرضا (ع)
  2. إبراہيم
  3. عباس
  4. قاسم، ان سب کی والدہ ام ولد (نجمہ خاتون) تھیں۔
  5. إسمعيل
  6. جعفر
  7. ہارون
  8. حسين، ان کی والدہ ام ولد تھیں۔
  9. أحمد
  10. محمد
  11. حمزة، جن کی والدہ ام ولد تھیں۔
  12. عبد اللہ
  13. إسحق
  14. عبيد اللہ
  15. زيد
  16. حسن
  17. فضل
  18. سليمان، ان کی والدہ ام ولد تھیں۔
  19. فاطمۂ كبرى
  20. فاطمۂ صغرى
  21. رقيہ
  22. حكيمہ
  23. أم أبيہا
  24. رقيہ صغرى
  25. كلثوم
  26. أم جعفر
  27. لبابہ
  28. زينب
  29. خديجہ
  30. عليّہ
  31. آمنہ
  32. حسنہ
  33. بريہہ
  34. عائشہ
  35. أم سلمہ
  36. ميمونہ
  37. أم كلثوم، ان سب کی والدہ بھی ام ولد ہیں۔

ایران اور دنیا کے دیگر کئی ممالک میں امام موسی کاظمؑ کی اولاد، موسوی سادات موجود ہیں جبکہ آپ کے قرزند امام علی بن موسی رضا کی اولاد رضوی سادات کے نام سے مشہور ہیں۔

اسیری اور قیدخانہ

امام کاظمؑ کی گرفتاری کے اسباب میں مختلف اقوال نقل ہوئے ہیں جس سے اہل تشیع کے درمیان امامؑ کے مرتبے اور مقام و منزلت کی عکاسی ہوتی ہے۔ چنانچہ مؤرخین نے بیان کیا ہے کہ عباسی دربار کے وزیر یحیی برمکی یا پھر امامؑ کے ایک بھائی نے عباسی بادشاہ ہارون عباسی کے پاس چغل خوری اور بہتان تراشی کی تھی۔ ہارون نے امامؑ کو دو مرتبہ قید کیا لیکن تاریخ پہلی مدتِ قید کے بارے میں خاموش ہے جبکہ دوسری مدتِ قید سنہ 179 سے 183 ہجری تک ثبت کی گئی ہے جو امامؑ کی شہادت پر تمام ہوئی۔[33]
ہارون نے سنہ 179 میں امامؑ کو مدینہ سے گرفتار کیا۔ امامؑ 7 ذی الحجہ کو بصرہ میں عیسی بن جعفر کے قیدخانے میں قید کئے گئے؛ جہاں سے آپ کو بغداد میں فضل بن ربیع کی زندان میں منتقل کیا گیا۔ فضل بن یحیی کی زندان اور سندی بن شاہک کا زندان وہ قید خانے تھے جن میں امامؑ نے اپنی عمر کے آخری لمحات تک اسیری کی زندگی گذاری۔[34]

شہادت کی کیفیت

امام کاظمؑ 25 رجب سنہ 183 ہجری کو بغداد میں واقع سندی بن شاہک کی زندان میں شہید کیا گیا۔ آپ کی شہادت کے بعد سندی نے حکم دیا کہ آپ کا جسم بے جان بغداد کے پل پر رکھ دیا جائے اور اعلان کیا جائے کہ آپ طبیعی موت پر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔[35]
آپ کی شہادت کے متعلق بیشتر تاریخ نگار مسمومیت کے قائل ہیں اور یحیی بن خالد اور سندی بن شاہک آپ کے قاتلوں کے طور پر جانے گئے ہیں۔[36] جبکہ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ آپ کو ایک بچھونے میں لپیٹ دیا گیا جس کی وجہ سے آپ کا دم گھٹ گیا اور شہید ہوگئے ہیں۔[37] اور بعض دیگر نے لکھا ہے کہ ہارون کے حکم پر پگھلا ہوا سیسہ امامؑ کے گلے میں انڈیل دیا گیا۔[38] تاہم مشہور ترین قول ـ جو تواتر کی حد تک پہنچ گیا ہے ـ یہی ہے کہ یحیی برمکی نے ہارون کے حکم پر سندی بن شاہک کے ذریعے زہر آلود کھجوروں کے ذریعے امام کو شہید کروایا۔ روایت میں ہے کہ ہارون نے شیعیان آل رسولؐ کا مرکز متزلزل کرنے، اپنے اقتدار کو طول دینے اور حکومت کے استحکام کی غرض سے آپ کی شہادت کا حکم جاری کیا اور یہودی سندی بن شاہک نے 10 زہریلی کھجوریں امامؑ کو کھلا دیں اور کہا مزيد تناول کریں تو امامؑ نے فرمایا: حَسبُکَ قَد بَلَغتَ ما یَحتاجُ اِلیهِ فِیما اُمِرتَ بِهِ۔ تیرے لئے یہی کافی ہے اور تجھے جو کام سونپا گیا تھا اس میں تو اپنے مقصد تک پہنچ گیا"۔
اس کے بعد سندی نے چند قاضیوں اور بظاہر عادل افراد کو حاضر کیا تاکہ ان سے گواہی دلوا سکے کہ امام بالکل صحیح و سالم ہیں۔ امام کاظمؑ نے سندی کی سازش کو بھانپتے ہوئے درباری گواہوں سے کہا: گواہی دو کہ مجھے تین دن قبل مسموم کیا گیا ہے اور اگر چہ میں بظاہر تندرست ہوں مگر بہت جلد اس دنیا سے رخصت ہو جاؤں گا؛ راوی کہتا ہے کہ امامؑ اسی دن اس دنیا سے رخصت ہوئے۔[39]

مدفن اور زیارت کا ثواب

شیعوں کو امامؑ کی شہادت کی اطلاع ملی تو انھوں نے آپ کا جنازہ اٹھایا اور عقیدت و احترام کے ساتھ قبرستان قریش میں سپرد خاک کیا۔ جہاں آپ کا حرم مطہر آج بھی زیارت گاہ خاص و عام ہے۔
امام رضا علیہ السلام نے امام کاظمؑ کی زیارت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: من زار قبر أبي ببغداد كمن زار قبر رسول الله (صلى الله عليه و آله) و قبر أمير المؤمنين (صل) إلا أن لرسول الله و لأمير المؤمنين صلوات الله عليهما فضلهما"؛(ترجمہ: جس نے بغداد میں میرے والد امام کاظمؑ کی قبر کی زیارت کی گویا اس نے رسول خداؐ اور امیر المؤمنینؑ کی زيارت کی ہے۔ سوا اس کے کہ رسول خداؐ اور امیرالمؤمنینؑ کی اپنی خاص فضیلت ہے)۔ نیز حسن بن الوشاء کہتے ہیں: "سألته عن زيارة قبر أبي الحسن (عليه السلام) مثل قبر الحسين (عليه السلام)؟ قال: نعم"۔(ترجمہ: میں نے امام رضاؑ سے پوچھا: کیا امام ابوالحسن (امام کاظم) کی قبر کی زيارت کا ثواب زیارتِ قبرِ حسینؑ کے برابر ہے؟ فرمایا: ہاں)۔[40]

خطیب بغدادی کا کلام

خطیب بغدادی نے اپنے وقت کے حنبلی شیخ، حسن بن ابراہیم ابو علی خلال سے نقل کیا ہے: مجھے کبھی بھی کوئی دشوار مسئلہ پیش نہیں آیا مگر یہ کہ میں قبرِ موسی بن جعفر پر حاضر ہوا اور ان سے متوسل ہوا اور وہ مسئلہ خداوند متعال نے میرے لئے آسان بنا دیا ہے۔[41]

امامت

آپ نے اپنے والد ماجد امام صادقؑ کی شہادت کے بعد سنہ 148 ہجری میں امامت کا عہدہ سنبھالا اور آپ کی امامت 35 برس کے عرصے پر محیط ہے۔ اگرچہ امام صادقؑ نے عباسی خلیفہ منصور عباسی کی سازش ناکام بنانے کے لئے پانچ افراد کی جانشینی کا اعلان کیا تھا جن میں منصور عباسی بھی شامل تھا تاہم حقیقی شیعیان آل رسولؐ نے آپ کی امامت کو تسلیم کیا۔[42]

دلائل امامت

بعض فقہا اور امام صادقؑ کے با اعتماد اصحاب نے امام موسی کاظمؑ کی امامت کے اعلان و تائید کے سلسلے میں امام صادقؑ کے اقوال نقل کئے ہیں جن میں مفضل بن عمر جعفی، معاذ بن کثیر، عبد الرحمن بن حجاج، فیض بن مختار، یعقوب سراج، سلیمان بن خالد اور صفوان جمال شامل ہیں۔

ایک روایت میں ہے کہ امام صادقؑ نے فرمایا: وهب الله لي غلاما، وهو خير من برأ الله (ترجمہ: خدواند متعال نے مجھے ایسا فرزند عطا کیا جو اس کی مخلوقات میں سب سے بہتر ہے)۔[43]امام صادقؑ نے ایک دوسری حدیث کے ضمن میں فرمایا: وَدِدْتُ‏ أَنْ‏ لَيْسَ‏ لِي‏ وَلَدٌ غَيْرُهُ حَتَّى لَا يَشْرَكَهُ فِي حُبِّي لَهُ أَحَدٌ (ترجمہ: میری پسند یہ تھی کہ اس (موسی کاظم) کے سوا میرا کوئی فرزند نہ ہوتا تاکہ کوئی اس سے میری محبت میں شریک نہ ہوتا)۔[44]

امام صادق) کے فرزند علی بن جعفر نقل کرتے ہیں کہ میرے والد نے اپنے خواص اصحاب سے اپنے بیٹے موسی کے متعلق یوں سفارش کی:

فَإِنَّهُ أَفْضَلُ وُلْدِی وَ مَنْ أُخَلِّفُ مِنْ بَعْدِی وَ هُوَ الْقَائِمُ مَقَامِی وَ الْحُجَّةُ لِلہِ تَعَالَى عَلَى كَافَّةِ خَلْقِهِ مِنْ بَعْدِی‏[45] وہ میرا افضل ترین فرزند ہے اور یہ وہ ہے جو میرے بعد میری جگہ لے گا اور میرے بعد مخلوق خدا پر اللہ کی حجت ہے۔

علاوہ ازیں رسول اللہؐ سے احادیث منقول ہیں جن میں 12 ائمۂ شیعہ کے اسمائے گرامی ذکر ہوئے ہیں اور یہ احادیث امام موسی بن جعفر الکاظم علیہ السلام سمیت تمام آئمہؑ کی امامت، خلافت اور ولایت کی تائید کرتی ہیں۔[46]

ہم عصر خلفاء

  امام کاظمؑ کے دورامامت میں درج ذیل عباسی خلفا رہے:

شیعہ گروہ بندی

پیروان اہل بیتؑ میں سے بعض شیعہ امام صادقؑ کی حیات میں ہی آپ کے بڑے بیٹے اسماعیل بن جعفر کی امامت کے قائل تھے۔ اسماعیل کا انتقال ہوا تو ان کی موت کا یقین نہین کیا اور انہیں پھر بھی امام سمجھتے رہے۔ امام صادقؑ کی شہادت کے بعد ان میں سے بعض نے اسماعیل کی حیات سے مایوس ہوکر ان کے بیٹے محمد بن اسماعیل کو امام سمجھا اور اسماعیلیہ کہلائے۔ بعض دوسرے امام صادقؑ کی شہادت کے بعد عبداللہ افطح کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کی پیروی کی اور فطحیہ کہلائے۔ امام موسی کاظمؑ کے زمانے کے دوسرے فرقوں میں ناووس نامی شخص کے پیروکاروں کا فرقہ ناووسیہ اور اور آپ کے بھائی محمد بن جعفر دیباج کی امامت کا قائل فرقہ شامل ہیں۔

امام موسی کاظمؑ کی شہادت کے بعد بھی امام رضاؑ کی امامت پر اعتقاد نہ رکھنے والے افراد نے امام موسی کاظمؑ کی امامت پر توقف کیا اور آپ کو مہدی اور قائم قرار دیا اور واقفیہ کہلائے۔[48] مہدویت اور قائمیت کے تفکر کی جڑیں بنیادی شیعہ اصولوں میں پیوست ہیں اور اس کا سرچشمہ خاندان رسالت سے منقولہ احادیث کی ہیں جن کی بنا پر خاندان رسالت کا ایک فرد قائم اور مہدی کے عنوان سے قیام کر کے دنیا کو عدل و انصاف کا گہوارہ بنائے گا۔

غالیوں کی سرگرمیاں

امام کاظم کے دور امامت میں غالیوں نے بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ اس دور میں فرقہ بشیریہ بنا جو محمد بن بشیر سے منسوب تھا اور یہ شخص امام موسی بن جعفر کے اصحاب میں تھا۔ وہ امام کی زندگی میں امام پر جھوٹ و افترا پردازی کرتا تھا۔[49] امام کاظم محمد بن بشیر کو نجس سمجھتے اور اس پر لعنت کرتے تھے۔[50]

شیعہ تحریکیں

بنی عباس کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں میں سے ایک شہید فخ کے عنوان سے مشہور قیام حسین بن علی بن حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب کا قیام ہے جن کی تحریک ناکام ہوئی؛ گوکہ اس قیام کا حکم امامؑ نے نہيں دیا تھا لیکن آپ اس تحریک کی تشکیل سے باخبر تھے اور حسین بن علی کے ساتھ رابطے میں تھے۔ امامؑ کی طرف سے جہاد میں استقامت کی تلقین اور حسین بن علی کی شہادت کی خبر دینا، اس بات کی دلیل ہے کہ امامؑ اس قیام سے آگہی رکھتے تھے۔[51] دیگر علوی تحریکوں میں یحیی بن عبداللہ اور ادریس بن عبداللہ کی تحریکوں کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔[52]

علمی خدمات

امام کاظم سے روایات، مناظرات اور گفتگوئیں شیعہ کتب میں مذکور ہیں۔[53]

شیعہ منابع میں اکثر امام کاظم سے احادیث منقول ہوئی ہیں۔ جن میں سے اکثر تعداد کلامی جیسے توحید[54]، بدا[55] اور ایمان[56] نیز اخلاق کے عنوان سے منقول ہیں۔[57]اسی طرح جوشن صغیر جیسی مناجات اسی امام سے مذکور ہیں۔ ان سے منقول روایات کی اسناد میں الکاظم، ابی‌ الحسن، ابی‌ الحسن الاول، ابی‌ الحسن الماضی، العالم[58] و العبد الصالح سے امام کو یاد کیا گیا ہے۔ عزیز الله عطاردی نے ۳،۱۳۴ احادیث امام کاظم سے اکٹھی کی ہیں جنہیں مُسْنَدُ الامام الکاظم کے نام سے اکٹھا کیا گیا ہے [59] اہل سنت عالم دین ابو عمران مروزی نے مسند امام موسی کاظم کے عنوان سے بعض احادیث ذکر کی ہیں۔[60]

  • عقل کے بارے میں امام سے منسوب ایک رسالہ لکھا گیا جس میں ہشام بن حکم کو خطاب کیا گیا ہے۔[61]
  • فتح بن عبدالله کے سولات کے جواب میں ایک رسالہ توحید کے نام سے امام کے حوالے سے مذکور ہے۔[62]
  • علی بن یقطین نے بھی امام موسی بن جعفر سے مسائل دریافت کئے جو مسائل عن ابی الحسن موسی بن جعفر‌ کی صورت میں انہوں نے لکھے۔[63]

مناظرے اور مکالمے

امام کاظم کے مناظرات اور گفتگو مختلف کتب میں مذکور ہیں جن میں سے بعض خلفائے بنی عباس،[64] یہودی دانشمندوں،[65] مسیحیوں،[66] ابو حنیفہ[67] اور دیگران سے منقول ہیں۔ باقر شریف قرشی نے تقریبا آٹھ مناظرے اور گفتگو مناظرے کے عنوان کے تحت ذکر کی ہیں۔[68] امام کاظم ؑ نے مہدی عباسی کے ساتھ فدک اور قرآن میں حرمت خمر کے متعلق گفتگو کی۔[69] امام ؑ نے ہارون عباسی سے مناظرہ کیا۔ جب کہ وہ اپنے آپ کو پیامبرؐ سے منسوب کرکے اپنے آپ کو پیغمبر کا رشتہ دار سمجھتا تھا، امام کاظمؑ نے اس کے سامنے اس کی نسبت اپنی رشتہ داری کو رسول اکرم سے زیادہ نزدیک ہونے کو بیان کیا۔[70] موسی بن جعفر نے دیگر ادیان کے علما سے بھی مناظرے کئے جو عام طور پر سوال و جواب کی صورت میں تھے جن کے نتیجے میں وہ علما مسلمان ہوگئے۔[71]

ابو حنیفہ

روایت کے مطابق ابوحنیفہ نے کسی مسئلے کے استفسار کی خاطر امام صادقؑ سے ملاقات کی۔ لیکن امام صادقؑ سے پہلے اس کی نظر امام موسی کاظم پر پڑی جن کا سن 5 سال تھا تو اس نے ان سے سوال کیا: گناہ خدا سے صادر ہوتا ہے یا بندے سے؟ امام کاظمؑ نے جواب میں کہا: گناہ یا تو خدا کی طرف سے صادر ہوتا ہے اور اس میں بندے کی کسی قسم کی کوئی دخالت نہیں ہے پس اس صورت میں بندے کی جانب سے اس میں کسی قسم کی دخالت نہ ہونے کی بنا پر خدا اسے مجازات نہیں کرے گا۔ یا اس گناہ میں خدا اور بنده دونوں شریک ہیں۔ اس صورت میں خدا انسان کی نسبت قوی تر ہے اور قوی کی موجودگی میں قوی کو حق حاصل نہیں کہ صرف اپنے ضعیف شریک کو سزا دے۔ یا گناہ بندے کی جانب سے اور خدا کا اس میں کسی قسم کا دخل نہیں ہے۔ اس صورت میں اگر خدا چاہے تو اسے سزا دے یا اسے بخش دے۔ خدا وہ ذات ہے جس سے ہر حال میں مدد لی جاتی ہے۔ ابو حنیفہ نے یہ جواب سن کر کہا میرے لئے یہ جواب کافی ہے اور امام صادق کے گھر سے چلے گئے۔[72]

بریہہ

شیخ صدوق اور دیگر ہشام بن حکم سے منقول روایت کے مطابق مسیحی علما میں سے بریہہ ایک گروہ کے ہمراہ ہشام کے پاس آیا اور اس نے مناظرہ کیا۔ ہشام نے کامیابی حاصل کی۔ پھر وہ سب امام صادق سے ملاقات کرنے کیلئے عراق سے مدینہ آئے۔ امام صادق کے گھر داخل ہوتے ہوئے ان کی ملاقات امام موسی کاظم سے ہوئی۔ بعض روایات کے مطابق ہشام نے امام موسی کاظم سے واقعہ بیان کیا اور ان عیسائیوں کی امام سے گفتگو ہوئی کہ جس کے بعد بریہہ اور اس کی بیوی مسلمان ہو کر امام کے خدمت کار ہوگئے[73] ہشام نے ان کی بات چیت اور مسلمان ہونے کا واقعہ امام صادق کے سامنے بیان کیا تو امام صادق نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ذُرِّیَّهً بَعْضُها مِن بَعْضٍ وَاللهُ سَمیِعُ عَلیِمُترجمہ: جو ایک نسل ہے جن کے بعض بعض سے ہیں (یہ اولاد ہے ایک دوسرے کی) اور خدا بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔(34)۔[74]

ہارون عباسی

ہارون پیامبر کی قبر کے پاس آیا اور حاضرین کے سامنے رسول خدا ؐ سے اپنی رشتہ داری ظاہر کرنے کی خاطر میرے چچا کے بیٹے کہہ کر رسول اللہ کو خطاب کیا۔ امام کاظمؑ وہاں موجود تھے آپ نے میرے بابا کہہ کر رسول خدا کو خطاب کیا[75]۔ ایک روایت کی بنا پر ہارون نے امام سے کہا: لوگوں کو کیوں اس بات کی اجازت دیتے ہو کہ وہ تمہیں پیغمبر کی طرف نسبت دیں یا تم تو رسول اللہ کے بیٹوں میں سے نہیں بلکہ علی کے فرزندوں میں سے ہو؟ امام نے اسے جواب دیا: اے خلیفہ! اگر پیغمبر زندہ ہو جائیں اور تم سے تمہاری بیٹی کا رشتہ طلب کریں تو تم انہیں رشتہ دو گے؟ ہارون نے جواب دیا: کیوں نہیں بلکہ میں عرب پر اس بات کی وجہ سے فخر و مباہات کروں گا۔ امام کاظم نے جواب دیا: لیکن پیغمبر کسی بھی حالت میں مجھ سے میری بیٹی کا رشتہ نہیں مانگیں گے کیونکہ وہ میرے نانا ہیں۔[76]

سیرت

امام موسی کاظم کی خدا سے ارتباط، لوگوں اور حاکمان وقت کے روبرو ہونے کی روشیں مختلف تھیں۔ خدا سے ارتباط کی روش کو سیرت عبادی، حاکمان وقت اور لوگوں سے ارتباط کی روش کو سیاسی اور اخلاقی روش سے تعبیر کیا گیا ہے۔

عبادی سیرت

شیعہ و سنی منابع کے مطابق امام کاظم ؑبہت زیادہ اہل عبادت تھے۔ اسی وجہ سے ان کے لئے عبد صالح استعمال کیا جاتا ہے۔[77] بعض روایات کی بنا پر حضرت امام موسی کاظم اس قدر زیادہ عبادت کرتے تھے کہ زندانوں کے نگہبان بھی ان کے تحت تاثیر آ جاتے۔[78] شیخ مفید موسی بن جعفر کو اپنے زمانے کے عابد ترین افراد میں سے شمار کرتے ہیں۔ ان کے بقول گریہ کی کثرت کی وجہ سے آپ کی ریش تر ہو جاتی۔ وہ عَظُمَ الذَّنْبُ مِنْ عَبْدِكَ فَلْيَحْسُنِ الْعَفْوُ مِنْ عِنْدِكَ کی دعا بہت زیادہ تکرار کرتے تھے۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرَّاحَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ وَ الْعَفْوَ عِنْدَ الْحِسَابِ کی دعا سجدے میں تکرار کرتے۔[79] یہانتک کہ ہارون کے حکم سے جب زندان تبدیل کیا جاتا تو اس پر خدا کا شکر بجا لاتے کہ خدا کی عبادت کیلئے پہلے سے زیادہ فرصت مہیا کی ہے اور کہتے: خدایا! میں تجھ سے عبادت کی فرصت کی دعا کرتا تھا تو نے مجھے اس کی فرصت نصیب فرمائی پس میں تیرا شکر گزار ہوں۔[80]

اخلاقی سیرت

مختلف شیعہ اور سنی منابع میں امام موسی کاظم کی بردباری[81] اور سخاوت کا تذکرہ موجود ہے۔[82] شیخ مفید نے انہیں اپنے زمانے کے ان سخی ترین افراد میں سے شمار کیا ہے کہ جو فقیروں کیلئے خود خوراک لے کر جاتے تھے[83]. ابن عنبہ نے امام موسی کاظم کی سخاوت کے متعلق کہا ہے: وہ رات کو اپنے ہمراہ درہموں کا تھیلا گھر سے باہر لے جاتے ہر کسی کو اس میں سے بخشتے یا جو اس بات کے منتظر ہوتے انہیں بخشتے۔ اس بخشش کا سلسلہ یہانتک جاری رہا کہ زمانے میں ان کے درہموں کا تھیلا ایک ضرب المثل بن گیا تھا۔[84] اسی طرح کہا گیا ہے کہ موسی بن جعفر ان لوگوں کو بھی بخشش سے محروم نہیں رکھتے تھے جو انہیں اذیت دیتے تھے۔ جب انہیں خبر دی جاتی کہ فلاں انہیں تکلیف و آزار پہچانا چاہتا ہے تو اس کے لئے ہدیہ بھجواتے۔[85] اسی طرح شیخ مفید امام موسی کاظم کو اپنے گھر اور دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ صلۂ رحمی کی سب سے زیادہ سعی کرنے والا سمجھتے ہیں۔[86]

امام موسی کاظم کو کاظم کا لقب دینے کی وجہ یہ تھی کہ آپ اپنے غصے کو کنٹرول کرتے تھے۔[87] مختلف روایات میں آیا ہے کہ آپ دشمنوں اور اپنے ساتھ بدی کرنے والوں کے مقابلے میں اپنا غصہ پی جاتے تھے۔[88] کہا گیا ہے کہ عمر بن خطاب کی اولاد میں سے کسی نے آپ کے سامنے حضرت علی کی توہین کی تو آپ کے ساتھیوں نے اس پر حملہ کرنا چاہا لیکن امام نے انہیں اس سے روک دیا پھر اس کے کھیت میں اس کے پاس گئے۔ اس شخص نے آپ کو دیکھتے ہی شور مچانا شروع کر دیا کہ کہیں آپ اس کی فصل کو خراب نہ کر دیں۔ امام اس کے قریب ہوئے اور خوش خلقی سے پوچھا کہ اس کھیت میں تم نے کس قدر خرچ کیا ہے؟ شخص نے جواب دیا: 100 دینار۔ پھر پوچھا: اس سے کتنی مقدار فصل حاصل ہوگی؟ شخص نے جواب دیا: غیب نہیں جانتا ہوں۔ امام کاظم نے سوال کیا: کس قدر اندازے کی امید ہے؟ شخص نے جواب دیا: 200 دینار! امام نے اسے 300 دینار دیتے ہوئے کہا: 300 دینار تمہارے لئے ہے اور ابھی فصل تمہارے لئے باقی ہے۔ پھر مسجد گئے۔ اس شخص نے اپنے آپ کو امام سے پہلے مسجد پہنچایا اور امام کو آتے ہوئے دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا اور اس آیت کی بلند آواز میں تلاوت کی:اللَّه أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِ‌سَالَتَهُ خدا بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کہاں قرار دے۔[ انعام–۱۲۴][89]

بشر حافی نے مشائخ صوفیہ کا مرتبہ حاصل کرنے کے بعد آپ کے کلام اور اخلاق سے متاثر ہو کر توبہ کی۔[90]

سیاسی سیرت

بعض منابع کہتے ہیں کہ امام تعاون نہ کرنے اور مناظروں جیسے ذرائع کے ساتھ خلفائے بنی عباس کی حکومت کے ناجائز ہونے کو بیان کرتے اور اس حکومت کی نسبت لوگوں کے اعتماد کو کم کرنے کی کوشش کرتے۔[91]۔ درج ذیل مقامات کو نمونے کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے:

  • عباسی خلفا جب اپنی حکومت کو مشروعیت بخشنے کی خاطر اپنی نسبت اور نسب رسول خدا سے جوڑتے اور یہ ظاہر کرتے کہ بنی عباس رسول خدا کے نزدیکی رشتہ داروں میں سے ہیں جیسا کہ امام اور ہارون کے درمیان ہونے والی گفتگو میں ہوا، تو امام موسی کاظم آیت مباہلہ سمیت قرآنی آیات سے استناد کرتے ہوئے حضرت فاطمہ کے ذریعے اپنے نسب کو رسول خدا سے ملا کر ثابت کرتے ہیں۔[92]
  • جب مہدی عباسی رد مظالم کر رہا تھا تو آپ نے اس سے فدک کا مطالبہ کیا۔[93] مہدی نے آپ سے تقاضا کیا کہ آپ فدک کے حدود معین کریں تو امام نے اس کے ایسے حدود معین کیے کہ جو ان کی حکومت کے برابر تھے۔[94] ۔
  • ساتویں امام اپنے اصحاب کو عباسی حکومت سے تعاون نہ کرنے کی سفارش کرتے چنانچہ آپ نے صفوان جمال کو منع کیا کہ وہ اپنے اونٹ ہارون کو کرائے پر مت دے۔[95] اسی دوران ہارون الرشید کی حکومت میں وزارت پر فائز علی بن یقطین کو عباسی حکومت میں باقی رہنے کو کہا تا کہ وہ شیعوں کی خدمت کر سکیں۔[96]
  • اس کے باوجود تاریخی مستندان میں حضرت امام موسی کاظم کی طرف سے عباسی حکومت کی کھلم کھلا مخالفت کی کوئی خبر ذکر نہیں ہوئی ہے۔ آپ اہل تقیہ تھے اور اپنے شیعوں کو اسی کی وصیت کرتے جیسا کہ آپ نے مہدی عباسی کو اس کی ماں کی وفات پر تسلیت کا خط لکھا۔[97] روایت کے مطابق جب ہارون نے آپ کو طلب کیا تو آپ نے فرمایا: حاکم کے سامنے تقیہ واجب ہے لہذا میں اس کے سامنے جا رہا ہوں۔ اسی طرح آپ آل ابی طالب کی شادیوں اور نسل کو بچانے کی خاطر ہارون کے ہدایات قبول کرتے۔[98]۔ یہانتک کہ آپ نے علی بن یقطین کو خط لکھا کہ خطرے سے بچاؤ کی خاطر کچھ عرصہ کیلئے اہل سنت کے مطابق وضو کیا کرے۔[99]۔

علویوں کے قیام

حضرت موسی بن جعفر کے زمانے میں عباسیوں کی حکومت کے دوران علویوں نے متعدد قیام کئے۔ عباسیوں نے اہل بیت کی حمایت اور طرفداری کا نعرہ بلند کرکے قدرت حاصل کی تھی لیکن کچھ ہی مدت میں علویوں کے سخت دشمن بن گئے۔ لہذا اس بنا پر بہت سے علویوں کو قتل کیا اور بہت سوں کو قید کیا۔[100] عباسیوں کی اس سخت گیری کی وجہ سے بہت سے علویوں نے ان کے خلاف قیام کا اقدام کیا۔ قیام نفس زکیہ، ادریسیوں کی حکومت کی تشکیل اور شہید فخ کا قیام انہی قیاموں میں سے ہیں۔ قیام فخ سنہ 169 ہجری میں موسی بن جعفر کی امامت اور ہادی عباسی کی خلافت سے متصل ہے۔[101] امام ان قیاموں کا حصہ نہیں بنے اور نہ ہی امام کی جانب سے ان قیاموں کی واضح طور پر کہیں تائید نقل ہوئی ہے۔ یہانتک کہ یحیی بن عبدالله نے طبرستان میں قیام کے بعد امام کو ایک خط میں اس کی تائید نہ کرنے کا گلہ کیا۔[102] ۔

  • قیام فخ مدینہ میں رونما ہوا، اس کے متعلق دو نظریے پائے جاتے ہیں:
    • ایک جماعت اس بات کی قائل ہے کہ آپ اس قیام کے موافق تھے۔ اس نظریے کی تائید میں شہید فخ کے بارے میں امام کے اس خطاب کو دلیل کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے: اپنے کام میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرو کیونکہ لوگ ایمان کا اظہار کر رہے ہیں لیکن وہ اندرونی طور پر شرک کر رہے ہیں۔[103]
    • دوسرا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ یہ قیام امام کا مورد تائید نہیں تھا۔[104]

بہر حال جب امام نے شہید فخ کا سر دیکھا تو کلمہ استرجاع کی تلاوت کی اور ان کی تعریف کی۔[105] ہادی عباسی قیام فخ کو امام کے حکم سے سمجھتا تھا اسی وجہ سے ہادی نے امام کو قتل کرنے دھمکی بھی دی تھی۔[106]

وکیل اور اصحاب

امام موسی کاظم کے اصحاب کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے۔ ان کی تعداد میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے:

شیخ طوسی ان اصحاب کی تعداد 272 ذکر کی ہے۔[107]
برقی نے ان کی تعداد 160 افراد شمار کی ہے۔
قرشی برقی کی تعداد 160 کو درست نہیں سمجھتے ہیں اور انہوں نے خود[108] ۳ اصحاب کی تعداد 320 ذکر کی ہے۔

علی بن یقطین، ہشام بن حکم، ہشام بن سالم، محمد بن ابی عمیر، حماد بن عیسی، یونس بن عبد الرحمن، صفوان بن یحیی و صفوان جمال امام کاظم کے ان اصحاب میں سے ہیں کہ جنہیں بعض نے اصحاب اجماع میں شمار کیا ہے۔[109] امام کی شہادت کے بعد بعض اصحاب جیسے علی بن ابی حمزه بطائنی، زیاد بن مروان اور عثمان بن عیسی نے علی بن موسی الرضا ؑ کی امامت کو قبول نہیں کیا اور امام موسی کاظم کی امامت پر توقف کیا۔[110] یہ گروہ واقفیہ کے نام سے معروف ہوا۔ البتہ ان میں سے بعض نے دوبارہ امام علی بن موسی رضا کی امامت کو قبول کر لیا۔

وکالت

تفصیلی مضمون: شعبہ وکالت

امام کاظم نے اپنے زمانے میں شیعوں کے باہمی رابطے اور ان کی اقتصادی توان بڑھانے کی خاطر امام جعفر صادق کے زمانے میں قائم ہونے والے وکالت کے شعبے کو وسعت دی۔ امام موسی کاظم نے کچھ اصحاب کو مختلف جگہوں پر وکیل کے عنوان سے بھیجا۔ کہا گیا ہے کہ منابع میں 13 افراد کے نام وکیل کے طور پر ذکر ہوئے ہیں۔[111] بعض منابع کے مطابق کوفہ میں علی بن یقطین اور مفضل بن عمر، بغداد میں عبد الرحمان بن حجاج، قندھار میں زیاد بن مروان، مصر میں عثمان بن عیسی، نیشاپور میں ابراہیم بن سلام اور اہواز میں عبدالله بن جندب امام کی جانب سے وکیل تھے۔[112] مختلف روایات کے مطابق شیعہ حضرات اپنا خمس وکلا کے ذریعے امام موسی کاظم تک پہنچاتے یا خود امام کو دیتے۔ شیخ طوسی نے کچھ وکلا کے واقفی ہونے کا سبب ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لوگ اپنے پاس جمع شدہ مال کی محبت میں واقفی ہو گئے۔[113] علی بن اسماعیل بن جعفر نے ہارون عباسی کو ایک خبر دی جس کی وجہ سے امام موسی کاظم کو زندان جانا پڑا، اس خبر میں آیا ہے کہ اسے شرق و غرب سے بہت زیادہ مال بھجوایا گیا، وہ بیت المال اور خزانے کا صاحب تھا کہ جس میں مختلف حجم کے بہت زیادہ سکے پائے گئے۔[114]

شیعوں کے ساتھ ارتباط کی ایک روش خطوط کی تھی کہ جو انہیں فقہی، اعتقادی، وعظ، دعا اور وکلا سے مربوط مسائل کے سلسلے میں لکھے جاتے تھے۔ یہانتک نقل ہوا کہ آپ زندان سے اپنے اصحاب کو خطوط لکھتے[115] اور ان کے سوالوں کے جواب دیتے تھے۔[116]

اہل سنت کے نزدیک امام کی منزلت

اہل سنت شیعوں کے ساتویں امام کا ایک عالم دین کی حیثیت سے احترام کرتے ہیں۔ ان کے بعض جید علما نے ان کے علم و اخلاق کی تعریف کی۔[117] نیز انہوں نے ان کی بردباری، سخاوت، کثرت عبادت اور دیگر اخلاقی خصوصیات کی طرف اشارہ کیا ہے۔[118] اسی طرح ان کی بردباری اور عبادت کی روایات انہوں نے نقل کی ہیں۔[119] اہل سنت کے سمعانی جیسے جید علما آپ کی قبر کی زیارت کیلئے جاتے تھے [120] اور ان سے توسل کرتے تھے۔ علمائے اہل سنت میں سے ابو علی خلال نے کہا: جب بھی انہیں کوئی مشکل پیش آتی وہ آپ کی قبر کی زیارت کیلئے جاتے اور ان سے توسل کرتے یہانتک کہ اس کی مشکل برطرف ہو جاتی۔[121] شافعی نے امام کو شفا بخش دوا کہا ہے۔[122]

مقبرہ

تفصیلی مضمون: حرم کاظمین

بغداد کے پاس کاظمین میں امام کاظمؑ اور امام جوادؑ کے مقبرے حرم کاظمین کے نام سے مشہور ہیں۔ مسلمانوں اور خاص طور شیعوں کیلئے زیارت گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ امام رضاؑ سے منقول روایت کے مطابق امام موسی کاظم کی زیارت کا ثواب رسول اللہ، حضرت علیؑ اور امام حسینؑ کی زیارت کے برابر ہے۔[123]

کتاب شناسی

امام کاظم کے متعلق مختلف زبانوں میں کتابیں، تھیسس اور مقالے لکھے گئے۔ جن کی تعداد 770 کے قریب ہے۔[124]۔کتاب‌ ہای کتاب نامہ امام کاظم [125]، کتاب‌ شناسئ کاظمین[126] اور مقالۂ کتاب‌ شناسی امام کاظم[127] میں ان آثار کا تعارف کیا گیا ہے۔ اسی طرح فروری 2014 عیسوی میں امام کاظم کا زمانہ اور سیرت کے عنوان سے ایک کانفرنس ایران میں منعقد ہوئی جس کے مقالوں کا مجموعہ بعنوان مجموعہ مقالات ہمایش سیره امام کاظم شائع ہوا۔[128]

اسی طرح مسند الامام الکاظم، باب الحوائج الامام موسی الکاظم اور حیاة الامام موسی بن جعفر ان آثار میں سے ہیں جن میں امام کاظم علیہ السلام کی زندگی کے بارے میں لکھا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

بیرونی روابط

White diagonal cross over blue background
حرم کاظمین کی پانوراما تصویر

حوالہ جات

  1. ابن اثیر ۱۳۸۵ الکامل ج۶، ص۱۶۴، ابن جوزی ۱۴۱۸ق تذکرة الخواص ص۳۱۲
  2. بغدادی ۱۴۱۷ تاریخ بغداد ج۱۳، ص۲۹
  3. مفید ۱۴۱۳ق الارشاد ج۲، ص۲۳۶،۲۲۷، طبرسی۱۴۱۷اعلام الوری ص ج۲، ص۶، ابن شہر آشوب ۱۳۷۹ق المناقب ج۴، ص۳۲۳، قمی ۱۴۱۷ الانوار البہیہ ص۱۷۷
  4. مفید ۱۴۱۳ق الارشاد ج۲، ص۲۳۵
  5. صواعق محرقہ، ص 203۔
  6. سلطنت صرف اللہ کی ہے: مجلسی، بحار الانوار، ج48، صص10-11۔
  7. میرے لئے اللہ کی ذات ہی کافی ہے: صدوق، عیون اخبار الرضا، ج 1، ص 61.
  8. طوسی، اختیار معرفه الرجال، ج۲، ص ۵۲۵.
  9. جمعی از نویسندگان، مجموعه مقالات همایش سیره و زمانه امام کاظم، ج۲، ص۴۴۶-۴۵۱.
  10. مجلسی، بحارالانوار، ج۴۸، ص۱۳۴.
  11. کلینی، الكافى، ج۱، ص۳۶۷؛ جمعی از نویسندگان، مجموعه مقالات همایش سیره و زمانه امام کاظم، ج۲، ص۴۷۸۔
  12. ابن اثیر، الکامل، ج۶، ص۱۶۴؛ کلینی، الکافی، ج۴، ص۵۵۳۔
  13. نوبختی، فرق الشیعه، ص۸۴.
  14. صدوق، عیون اخبار الرضا (ع)، ج۱، ص۸۶.
  15. مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۳۹
  16. مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۴۲.
  17. مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۱۵.
  18. بغدادی، تاریخ بغداد 13/29
  19. بازپژوہی تاریخ ولادت و شہادت معصومان، ص 401
  20. سیره معصومان،ج۶،ص:۱۱۳
  21. مفید، الإرشاد، ج۲، ص۲۱۵؛ ترجمہ إثبات الوصیہ، متن،ص:۳۵۶
  22. دلائل الإمامہ، الطبری، ص:۳۰۳و الدر النظیم، الشامی،ص: ۶۴۹
  23. إعلام الوری، الطبرسی،ج۲،ص:۶
  24. مفید، الارشاد، ج 2، ص 215.
  25. سید محسن امین، اعیان الشیعہ، ج2، ص6۔
  26. مفید، الارشاد، ج 2، ص 231.
  27. کلینی۱۴۰۷ق ،الکافی ج۳، ص۲۹۷؛ ابن شعبہ حرانی۱۴۰۴ تحف العقول ۴۱۱-۴۱۲۔مجلسی۱۴۰۳ق بحار الانوار ج۱۰، ص۲۴۷}}
  28. کلینی۱۴۰۷ق ،الکافی ج۱، ص۲۲۷؛ مجلسی۱۴۰۳ق، بحار الانوار ج۱۰، ص۲۴۴-۲۴۵
  29. ابن شہر آشوب ۱۳۷۹ق المناقب ج۴، ص۳۱۱-۳۱۲
  30. ابن شہر آشوب ۱۳۷۹ق، المناقب ج۴، ص۳۱۲-۳۱۳
  31. محمد تقی شوشتری، رسالہ فی تواریخ النبی و الآل، ص 75.
  32. مفید، الارشاد، ج 2، ص 244.
  33. رسول جعفریان، حیات فکری و سیاسی آئمہ، ص 393.
  34. شیخ عباس قمی، الانوار البہیہ، ص 192 – 196.
  35. شیخ مفید، الارشاد، ج 2، ص 215.
  36. باقر شریف قرشی، وہی ماخذ، ج 2، ص 508 - 510.
  37. ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص 336.
  38. حمدالله مستوفی، تاریخ گزیده، ص 204.
  39. محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، ج 48 ص247، عیون المعجزات، ص 95، فارسی ترجمہ ارشاد مفید، ج2 ص234؛ روایت ہے کہ ہارون کی بادشابی کے پندرہویں برس میں امامؑ ہارون عباسی کے حکم پر دار المسيب نامی زندان میں سندی بن شاہک [یہودی] کے ہاتھوں زہر کھلوا کر شہید کئے گئے۔ دیکھئے: منتخب التواریخ، ص 518)۔
  40. کلینی، الکافی، ج 4، ص 583.
  41. خطیب بغدادی، تاریخ بغداد1/133۔الأمینی، الغدیر، ج5، ص279.
  42. مہدی پیشوائی، سیرہ پیشوایان، ص 414.
  43. اصول كافى جلد 2 ص 225 روايت 1 اسی روایت کے ضمن میں نومولود کی دیگر صفات و خصوصیات بیان کرتے ہوئے امام صادقؑ نے مزید فرمایا: فوالله هو صاحبكم (ترجمہ: خدا کی قسم یہی تمہارے صاحب اور امام ہیں۔ بصائر الدرجات: 129، ب 12، ح9۔ مجلسی، بحار الانوار، ج 48، ص 2.
  44. مجلسی، بحار، ج 75، ص 209.
  45. مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۲۰
  46. مفید، الاختصاص، ص211؛ منتخب الاثر باب ہشتم ص97؛ طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج2، ص182-181؛ عاملی، اثبات الہداة بالنصوص و المعجزات، ج2، ص 285۔ جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ سورہ نساء کی آیت 59 (اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم) نازل ہوئی تو رسول اللہؐ نے 12 ائمہ کے نام تفصیل سے بتائے جو اس آیت کے مطابق واجب الاطاعہ اور اولو الامر ہیں؛ بحار الأنوار ج 23 ص290؛ اثبات الہداة ج 3،‌ ص 123؛ المناقب ابن شہر آشوب، ج1، ص 283۔ سورہ علیؑ سے روایت ہے کہ ام سلمہ کے گھر میں سورہ احزاب کی آیت 33 انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا نازل ہوئی تو پیغمبر نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے کہ وہ اس آیت کا مصداق ہیں؛ بحار الأنوار ج36 ص337، کفایة الأثر ص 157۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ نعثل نامی یہودی نے رسول اللہؐ کے جانشینوں کے نام پوچھے تو آپؐ نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے۔ سلیمان قندوزی حنفی، مترجم سید مرتضی توسلیان، ینابیع المودة، ج 2، ص 387 – 392، باب 76۔
  47. پیشوائی، وہی ماخذ، ص 413.
  48. نوبختی، فِرَقُ الشّیعۃ، ص77. رسول جعفریان، حیات فکری و سیاسی ائمہ، ص 379-384۔
  49. عاملی، التحریر الطاوسی ص۵۲۴
  50. کشّی ۱۴۰۹ق رجال ص۴۸۲
  51. کلینی، الکافی، ج 1، ص 366۔
  52. علی اکبر تشیّد، قیام سادات علوی؛ مہدی پیشوائی، سیرہ پیشوایان، ص 426-429.
  53. طبرسی۱۴۰۳ق الاحتجاج ج۲، ص۳۸۵-۳۹۶؛ مجلسی۱۴۰۳ق بحار الانوار ج۱۰، ص۲۳۴-۲۴۹
  54. کلینی۱۴۰۷ق ،الکافی ج۱، ص۱۴۱
  55. کلینی ۱۴۰۷ق، الکافی ج۱، ص۱۴۸-۱۴۹
  56. کلینی،۱۴۰۷ق، الکافی ج۲، ص۳۸-۳۹
  57. قرشی۱۴۲۹ق، حیاة الامام موسی بن جعفر ج۲، ص۱۹۰-۲۷۸، ۲۹۷-۳۰۷
  58. کلینی ۱۴۰۷ق الکافی ج۱، ص۱۴۹
  59. عطاردی ۱۴۰۹ق ، مسند امام الکاظم ج‌۱، مقدمہ
  60. مروزی ۱۴۲۵ق، مسندالاامام موسی بن جعفر علیہ السلام ص۱۸۷-۲۳۲}}
  61. کلینی ۱۴۰۷ق، الکافی ج۱، ص۱۳-۲۰ ؛ احمدی میانجی|۱۴۲۶ق، مکاتیب الائمہ ج۴، ص۴۸۳-۵۰۱
  62. احمدی میانجی ۱۴۲۶ق، مکاتیب الائمہ ج۴، ص۳۵۷-۳۵۹؛ قرشی۱۴۲۹ق،حیاة الامام موسی بن جعفر ج۲، ص۲۳۸
  63. طوسی ۱۴۲۰ق ،الفہرست ص۲۷۱؛ احمدی میانجی ۱۴۲۶ق، مکاتیب الائمہ ج۴، ص۳۵۷-۳۵۹
  64. ابن شہر آشوب، المناقب، ج۴، ص۳۱۲-۳۱۳. صدوق، عيون أخبار الرضا، ج۱، ص۸۴-۸۵. کلینی، الکافی، ج۶، ص۴۰۶.
  65. مجلسی، بحار الانوار، ج۱۰، ص۲۴۴-۲۴۵.
  66. ابن شہر آشوب، المناقب، ج۴، ص۳۱۱-۳۱۲.
  67. کلینی، الکافی، ج۳، ص۲۹۷.
  68. قرشی، حیاة الامام موسی بن جعفر، ج۱، ص۲۷۸-۲۹۴.
  69. کلینی، الکافی، ج۶، ص۴۰۶. حر عاملی و ۱۴۰۹ق، وسائل الشیعہ۔
  70. صدوق، عيون أخبار الرضا، ج۱، ص۸۴-۸۵. شبراوی، الاتحاف بحب الاشراف، ص۲۹۵. مجلسی، بحار الانوار، ج۱۰، ص۲۴۱-۲۴۲.
  71. مجلسی، بحار الانوار، ج۱۰، ص۲۴۴-۲۴۵. ابن شہر آشوب، المناقب، ج۴، ص۳۱۱-۳۱۲. صدوق، توحید، ص۲۷۰-۲۷۵.
  72. ابن شعبہ حرانی، تحف العقول، ص۴۱۱-۴۱۲. مجلسی، بحار الانوار، ج۱۰، ص۲۴۷.
  73. صدوق، توحید، ص۲۷۰-۲۷۵. مجلسی، بحار الانوار، ج۲۶، ص۱۸۰، ۱۸۳-۱۸۴.
  74. کلینی، الکافی، ج۱، ص۲۲۷.
  75. ا بن اثیر، الکامل، ج۶، ص۱۶۴.
  76. صدوق، عيون أخبار الرضا، ج۱، ص۸۴-۸۵.
  77. بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۲۹. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص۴۱۴.
  78. بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۳۳-۳۲.
  79. مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۳۲-۲۳۱.
  80. مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۴۰.
  81. ابن اثیر، الکامل، ج۶، ص۱۶۴. ابن جوزی، تذکرة الخواص، ص۳۱۲.
  82. بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۳۰-۳۳. قرشی، حیاة الامام موسی بن جعفر، ج۲، ص۱۵۴-۱۶۷.
  83. مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۳۲-۲۳۱
  84. ابن عنبہ، عمده الطالب، ص۱۷۷..
  85. بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۲۹.
  86. مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۳۲.
  87. ابن اثیر، الکامل، ج۶، ص۱۶۴ ابن جوزی، تذکرة الخواص، ص۳۱۲.
  88. مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۳۳. قرشی، حیاة الامام موسی بن جعفر، ج۲، ص۱۶۲-۱۶۰.
  89. بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۳۰.
  90. حاج حسن، باب الحوائج، ص۲۸۱. حلی، منہاج الکرامہ، ص۵۹.
  91. جعفریان، حیات سیاسی و فکری امامان شیعہ، ص۴۰۶.
  92. صدوق، عيون أخبار الرضا، ج۱، ص۸۴-۸۵. شبراوی، الاتحاف بحب الاشراف، ص۲۹۵.
  93. طوسی، تہذیب الاحکام، ج۴، ص۱۴۹.
  94. قرشی، حیاة الامام موسی بن جعفر، ص۴۷۲
  95. کشّی، رجال، ص۴۴۱.
  96. کشّی، رجال، ص۴۳۳
  97. مجلسی، بحار الانوار، ج۴۸، ص۱۳۴.
  98. صدوق، عیون اخبار الرضا، ج۱، ص۷۷
  99. مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۲۷-۲۲۸
  100. اللہ اکبری، رابطہ علویان و عباسیان، ص۲۲-۲۳.
  101. جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ص۳۸۵-۳۸۴
  102. کلینی، الكافى، ج۱، ص۳۶۷
  103. کلینی، الکافی، ج۱، ص۳۶۶. مامقانی، تنقیح المقال، ج۲۲، ص۲۸۵
  104. جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ص۳۸۹.
  105. اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۳۸۰.
  106. قرشی، حیاة الامام موسی بن جعفر، ج۱، ص۴۹۴-۴۹۶
  107. طوسی، رجال، ص۳۲۹-۳۴۷
  108. قرشی، حیاة الامام موسی بن جعفر، ج۲، ص۲۳۱
  109. قرشی، حیاة الامام موسی بن جعفر، ج۲، ۲۳۱-۳۷۳.
  110. طوسی، الغیبہ، ص۶۵-۶۴.
  111. جباری، امام کاظم و سازمان وکالت، ص۱۶.
  112. جباری، سازمان وکالت، ص۴۲۳-۵۹۹.
  113. طوسی، الغیبہ، ص۶۵-۶۴.
  114. قرشی، حیاة الامام موسی بن جعفر، ج۲، ص۴۵۵
  115. کلینی، الكافی، ج۱، ص۳۱۳.
  116. امین، اعیان الشیعہ، ج۱، ص۱۰۰ جباری، امام کاظم و سازمان وکالت، ص۱۶
  117. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۵، ص۲۷۳
  118. ابن عنبہ و ۱۴۱۷ق. بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۲۹. ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ص۳۱۲. ابن اثیر، الکامل، ج۶، ص۱۶۴. شامی، الدر النظیم، ص۶۵۱-۶۵۳.
  119. بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۲۹-۳۳
  120. سمعانی، الانساب، ج۱۲، ص۴۷۹.
  121. بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱، ص۱۳۳
  122. کعبی، الامام موسی بن الکاظم علیہ السلام سیره و تاریخ، ص۲۱۶
  123. کلینی، الکافی، ج۴، ص۵۸۳.
  124. اباذری، کتاب‌ شناسی کاظمین، ص۱۴.
  125. انصاری قمی، کتاب نامہ امام کاظم
  126. اباذری، کتاب‌ شناسی کاظمین
  127. جمعی از نویسندگان و ۱۳۹۲ش، مجموعۂ مقالات ہمائش زمانہ و سیره امام کاظم
  128. جمعی از نویسندگان، مجموعہ مقالات ہمایش سیره و زمانہ امام کاظم، ج۱، ص۳۰-۳۱.


مآخذ

  • الامین، سید محسن، اعیان الشیعہ، بیروت، دار التعارف، بی تا.
  • ابن ابی الحدید، عبدالحمید. شرح نہج البلاغہ. قم: کتابخانہ عمومی حضرت آیت‌ اللہ العظمی مرعشی نجفی، بی‌تا.
  • ابن اثیر. الکامل فی التاریخ. بیروت: دارالصادر، ۱۳۸۵ق.
  • ابن جوزی، سبط. تذکرة الخواص. قم: منشورات شریف الرضی، ۱۴۱۸ق‏.
  • ابن شعبہ حرانی، حسن بن علی. تحف العقول. قم: جامعہ مدرسین، ۱۴۰۴ق.
  • ابن عنبہ حسنی. عمدة الطالب فی أنساب آل ابى‌طالب. قم: انصاریان، ۱۴۱۷ق‏.
  • احمدی میانجی، علی. مکاتیب الائمہ علیہم السلام. قم: دارالحدیث،۱۴۲۶ق.
  • اربلی، علی بن عیسی. کشف الغمہ فی معرفہ الائمہ. قم: رضی، ۱۴۲۱ق.
  • رابطہ علویان و عباسیان۔
  • انصاری قمی ،کتابنامہ امام کاظم علیہ السلام،ناشر: کنگره جہانی حضرت رضا علیہ السلام۔
  • امینی، عبدالحسین، الغدیر فی الکتاب و السنہ و الادب، قم: مرکز الغدیر للدراسات الاسلامیہ، 1416ق/1995. ترجمہ الغدیر، مترجم: گروه مترجمان، تہران: بعثت، 1391ہجری شمسی۔
  • بغدادی، خطیب. تاریخ بغداد. ج. ۱۳. بیروت: دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۷ق.
  • پیشوائی، مہدی. سیره پیشوایان. قم: مؤسسہ امام صادق، ۱۳۷۲ش.
  • جباری، محمدرضا.امام کاظم علیہ السلام و سازمان وکالت
  • جباری، محمدرضا. سازمان وکالت. قم: مؤسسہ امام خمینی، ۱۳۸۲ش.
  • جمعی از نویسندگان، انجمن تاریخ‌ پژوہان حوزه علمیہ قم. مجموعه مقالات ہمایش سیره و زمانہ امام کاظم علیہ السلام. قم: مرکز مدیریت حوزه‌ہای علمیہ، ۱۳۹۲ش.
  • حاج حسن، حسین. باب الحوائج الامام موسی الکاظم علیہ السلام. بیروت: دارالمرتضی، ۱۴۲۰ق.
  • حر عاملی، محمد بن حسن. وسائل الشیعہ. قم: مؤسسہ آل البیت لاحیاء التراث، ۱۴۰۹ق.
  • حمیری، عبدالله بن جعفر. قرب الاسناد. تہران: مکتبہ نینوی الحدیثه، بی‌تا.
  • خوئی، سید ابوالقاسم. معجم رجال الحدیث و تفصیل طبقات الروات. قم: مرکز نشر آثار الشیعہ، ۱۴۱۰ق.
  • شامی، یوسف بن حاتم. الدرالنظیم فی مناقب الائمہ الہامیم. قم: جامعہ مدرسین، ۱۴۲۰ق.
  • شبراوی، جمال الدین. الاتحاف بحب الاشراف. قم: دارالکتاب، ۱۴۲۳ق.
  • شوشتری، محمدتقی. رسالۃ فی تواریخ النبی و الآل. قم: جامعۃ مدرسین، ۱۴۲۳ق.
  • سمعانی، عبدالکریم بن محمد. الانساب. ۱۳۸۲ق: مجلس دائرة المعارف العثمانیہ، ۱۴۰۴ق.
  • صدوق، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا، بیروت، الاعلمی، 1404ہجری۔
  • صدوق، محمد بن علی. کمال الدین و تمام النعمہ. تہران: اسلامیه، ۱۳۹۵ق.
  • صدوق، محمد بن علی. التوحید. قم: جامعہ مدرسین، ۱۳۹۸ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن. الاحتجاج علی اہل اللجاج. مشہد: نشر مرتضی، ۱۴۰۳ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن. اعلام الوری باعلام الہدی. مشہد: آل البیت، ۱۴۱۷ق.
  • طبری، محمد بن جریر بن رستم. دلائل الامہمہ. قم: بعثت، ۱۴۰۳ق.
  • طوسی، محمد بن حسن. تہذیب الاحکام. قم: دارالکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ق.
  • طوسی، محمد بن حسن. رجال طوسی. قم: جامعہ مدرسین، ۱۴۱۵ق.
  • طوسی، محمد بن حسن. الغیبہ. قم: دارالمعارف الاسلامیہ، ۱۴۱۱ق.
  • طوسی، محمد بن حسن. اختیار معرفہ الرجال. مؤسسہ آل البیت لاحیاء التراث، بی‌تا.
  • طوسی، محمد بن حسن. فہرست کتب الشیعہ و اصولہم و اسماء المصنفین و اصحاب الاصول. قم: مکتبہ المحقق الطباطبایی، ۱۴۲۰ق.
  • عاملی، حسن بن زین الدین. التحریر الطاوسی. قم: کتابخانہ آیت الل مرعشی، ۱۴۱۱ق.
  • عطاردی، عزیزالله. مسندالامام الکاظم ابی الحسن موسی بن جعفر علیہماالسلام. مشہد: آستان قدس رضوی، ۱۴۰۹ق.
  • حلی، حسن بن یوسف. منہاج الکرامہ فی معرفہ الامامہ. مشہد: مؤسسہ عاشورا، ۱۳۷۹ش.
  • قرشی، باقر شریف. حیاة الإمام موسی بن جعفر علیہما السلام. مہر دلدار، ۱۴۲۹ق.

قمی، عباس. الانوار البہیہ. قم: جامعہ مدرسین، ۱۴۱۷ق.

  • کشّی، محمد بن عمر. رجال. مشہد: مؤسسہ نشر دانشگاه مشہد، ۱۴۰۹ق.
  • کعبی، علی موسی. رجال. مؤسسہ الرسالہ، ۱۴۳۰ق.
  • کلینی، محمد بن یعقوب. الکافی. تہران: دارالکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ق.
  • مامقانی، عبدالله. تنقیح المقال فی علم الرجال. قم: مؤسسہ آل البیت لاحیاء التراث، بی‌تا
  • مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، بیروت، دارالوفاء، 1403ہجری۔
  • مفید، محمد بن نعمان. الارشاد فی معرفہ حجج الله علی العباد. ج. دوم. قم: كنگره شیخ مفید، ۱۴۱۳ق.
  • مجلسی، محمدباقر. بحارالانوار. بیروت: داراحیاءالتراث العربی، ۱۴۰۳ق.
  • مروزی، موسی بن ابراہیم. مسند الامام موسی بن جعفر. علم حدیث (شماره ۱۵) (قم: دانشگاه قرآن و حدیث)، ۱۴۲۵ق.
  • مسعودی، علی بن حسین. اثبات الوصیہ. ج. دوم. ترجمہ محمدجواد نجفی. تہران: اسلامیہ، ۱۳۶۲ش.
  • مقدسی، یدالله. تاریخ ولادت و شہادت معصومان. قم: دفتر تبلیغات حوزه علمیہ قم، ۱۳۹۱ش.
  • نصر اصفہانی، اباذر. کتاب‌شناسی کاظمین. تہران: مشعر، ۱۳۹۳ش.
  • نوبختی، حسن بن موسی. فرق الشیعہ. بیروت: دارالاضواء، ۱۴۰۴ق.
  • یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب. تاریخ الیعقوبی. بیروت: دارصادر، بی‌تا.
چودہ معصومین علیہم السلام
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
بارہ امام
امام علی علیہ السلام امام سجّاد علیہ‌السلام امام موسی کاظم علیہ السلام امام علی نقی علیہ السلام
امام حسن مجتبی علیہ السلام امام محمد باقر علیہ السلام امام علی رضا علیہ السلام امام حسن عسکری علیہ السلام
امام حسین علیہ السلام امام جعفر صادق علیہ السلام امام محمد تقی علیہ السلام امام مہدی علیہ السلام