جعفر سبحانی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جعفر سبحانی تبریزی
آیت الله جعفر سبحانی.jpg
کوائف
مکمل نام جعفر سبحانی
لقب/کنیت آیت‌ اللہ • آیت‌ اللہ العظمی
تاریخ ولادت 1929 ء
آبائی شہر تبریز
رہائش قم
علمی معلومات
مادر علمی تبریز و قم
اساتذہ آیت‌ اللہ بروجردیسید محمد حجت کوہ‌ کمرہ‌ایامام خمینی
تالیفات الموجز فی علم الأصول • فروغ ابدیت • تفسیر موضوعی، المحاضرات۔
خدمات
سماجی مرجع تقلید شیعیان
ویب سائٹ http://www.tohid.ir

جعفر سبحانی (ولادت: 1929 ء) شیعہ مراجع تقلید اور حوزہ علمیہ قم کے اساتذہ میں سے ہیں۔ آپ فقہ، اصول، تفسیر اور علم کلام میں مہارت رکھتے ہیں۔ آیت اللہ سبحانی ایران کے اسلامی انقلاب سے پہلے دارالتبلیغ اسلامی کے مسئولین، مجلہ مکتب اسلام کے مصنفین میں سے تھے اور انقلاب کے بعد مجلس خبرگان میں مشرقی آذربایجان کا نمائندہ رہ چکے ہیں۔ اسی طرح آپ حوزہ علمیہ قم میں مرکز تخصصی کلام اسلامی کے بانی اور مختلف اسلامی علوم میں متعدد علمی آثار کے مالک ہیں۔ الموجز، فروغ ابدیت، منشور جاوید (تفسیر موضوعی قرآنآئین وہابیت، منشور عقاید امامیہ من جملہ آپ کے قلمی آثار میں سے ہیں۔ آپ کی بعض کتابیں دینی مدارس کے تعلیمی نصاب میں شامل ہیں۔

سوانح حیات اور تعلیم

آیت‌ اللہ بروجردی جعفر سبحانی 9 اپریل سنہ 1929ء کو تبریز میں متولد ہوئے۔ آپ کے والد آیت‌ اللہ محمد حسین سبحانی خیابانی ہیں۔ ابتدایی تعلیم کے بعد آپ نے گلستان، بوستان، تاریخ معجم، نصاب الصبیان اور ابواب الجنان جیسی کتابیں پڑھی۔ 14 سال کی عمر میں مدرسہ علمیہ طالبیہ تبریز میں داخلہ لیا۔ علوم ادبیات حسن نحوی اور علی‌ اکبر نحوی کے پاس، مُطول کا ایک حصہ، منطق منظومہ اور شرح لمعہ کے لئے محمد علی مدرس خیابانی کے دروس میں شرکت کی۔[1]

سنہ 1946ء میں پیشہ‌وری کی قیادت میں دمکرات نامی فرقہ کے ظہور اور آذربایجان میں خود مختار حکومت تشکیل دینے کے بعد آیت‌ اللہ سبحانی نے قم مہاجرت کی اور فرائد الاصول کی تعلیم کے لئے محمد مجاہدی تبریزی (1327-1379 ھ) اور میرزا احمد کافی (1318-1412 ھ) کے دروس میں جبکہ کفایۃ الاُصول کے لئے آیت‌ اللہ گلپایگانی کے درس میں شرکت کی۔[2]

آیت‌ اللہ سبحانی فقہ و اصول کے ساتھ فلسفہ، کلام اور تفسیر میں بھی مشغول ہوئے۔ تبریز میں شرح قواعد العقائد سید محمد بادکوبہ‌ای اور حوزہ علمیہ قم میں منطق، شرح منظومہ و اسفار اربعہ کے لئے علامہ طباطبائی کے دروس میں شرکت کی اور اسی دوران علامہ طباطبائی کے جمعرات و جمعہ میں تشکیل پانے والی کلاسوں میں بھی شرکت کرتے تھے۔ کتاب اصول فلسفہ و روش رئالیسم کے نشر ہونے کے بعد علامہ کی خواہش پر آپ نے اس کتاب کا عربی میں ترجمہ کیا اور اس کی پہلی جلد علامہ طباطبائی کے مقدمے کے ساتھ شایع ہوئی ہے۔[3]

علمی اور ثقافتی سرگرمیاں

آیت‌ اللہ سبحانی تعلیم و تربیت اور ثقافتی امور میں بھی بہت زیاده فعال ہیں۔ تدریس، درسی کتابوں کی تألیف اور موسسہ تخصصی کلام کی تأسیس اس سلسلے میں من جملہ آپ کی فعالیتوں میں سے ہیں۔

تدریس

آیت‌ اللہ سبحانی سنہ 1942ء سے حوزہ علمیہ کے مقدماتی دروس کی تدریس میں مشغول ہوئے اور 7 سال کے عرصے میں مطول، معالم، لمعتین، شیخ انصاری کی کتب فرائد الاصول، مکاسب، کفایہ اور شرح منظومہ جیسی کتابوں کو کئی بار پڑھا چکے ہیں۔ آپ سنہ 1975ء سے فقہ و اصول کے درس خارج دینے میں مشغول ہیں۔[4]

آپ اب تک 5 دفعہ اصول فقہ کے درس خارج کے دورے پڑھا چکے ہیں اور ہر دورہ 6 سال میں ختم کر چکے ہیں اور اس وقت اس کے چھٹے دورے میں مشغول ہیں۔ ان دروس کے تقریرات کا ایک مکمل دورہ 4 جلدوں میں "المحصول فی علم الأُصول" اور "ارشاد العقول الی علم الاصول" کے نام سے منظر عام پر آ چکا ہے۔ آپ نے فقہ کے درس خارج میں جن ابحاث پر درس دیئے ہیں ان میں: کتاب زکات، حدود، دیات، قضاء، مضاربہ (دو بار)، مکاسب محرمہ، خیارات، ارث، طلاق، نکاح اور خمس شامل ہیں۔ اسی طرح آپ اسفار اربعہ بھی پڑھا چکے ہیں۔ آیت‌ اللہ سبحانی عقاید، رجال، درایہ، تاریخ اسلام و تشیع، ملل و نحل، تفسیر اور ادبیات بھی پڑھانے کے ساتھ ساتھ ان علوم میں مختلف کتابیں بھی تصنیف کر چکے ہیں۔[5]

شاگرد

آیت‌ اللہ جعفر سبحانی کی تقریبا 70 سال کی تدریس کے دوران ہزاروں شاگردوں نےآپ سے کسب فیض کئے ہیں؛ من جملہ ان میں درج ذیل افراد کا نام لیا جا سکتا ہے:

  1. رضا استادی[6]
  2. مہدی شب‌ زندہ‌ دار[7]
  3. یوسف صانعی
  4. علی ربانی گلپایگانی
  5. عبدالحسین خسروپناہ
  6. مہدی ہادوی تہرانی

درسی کتابوں کی تألیف

ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد حوزہ علمیہ قم کی مینیجمنٹ کونسل نے بعض اسلامی علوم کے لئے درسی کتابوں کی تدوین کا فیصلہ کیا۔ اسی سلسلے میں آیت‌ اللہ سبحانی نے اسلامی علوم کے چار شعبوں رجال، عقاید اور فرق و مذاہب کے لئے درسی کتابیں تحریر کی۔ عقاید میں کتاب "المحاضرات فی‌ الالہیات" (على ربانى گلپایگانى کی کتاب "الالہیات على ہدى الكتاب و السنّۃ و العقل" کی چار جلدوں کا خلاصہ) اسلامی مذاہب کے شعبے میں "بحوث فی‌ الملل والنحل" آٹھ جلدوں میں تالیف کی، ان دو کتابوں کے خلاصے کے ساتھ دوسری دو کتابیں "کلیات فی‌ علم الرجال" اور "اصول الحدیث و أحکامہ" اس وقت حوزہ علمیہ کے درسی کتابوں میں شامل ہیں۔

امام صادق ہائر ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ

علم کلام میں تخصص کے لئے حوزہ علمیہ قم میں مرکز تخصصی علم کلام سنہ 1991ء میں آیت‌ اللہ سبحانی کے زیر نظر تأسیس ہوا جو اس وقت حوزہ علمیہ قم میں علم کلام کے تخصص کا اصلی مرکز ہے جس میں گریجویشن سے لے کر ڈاکٹریٹ تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اسی طرح مجلہ کلام اسلامی بھی اس مرکز کے توسط سے منتشر ہوتا ہے۔[8]

مکاتبات

سن 2007ء میں قرآن کے بارے میں "کلام محمد" کے عنوان سے میشل ہوبینک کے ساتھ عبدالکریم سروش کا انٹرویو شایع ہونے کے بعد آیت‌ اللہ جعفر سبحانی نے سروش کے نام ایک تنقدی خط بھیجا۔ سروش کی جانب سے آیت‌ اللہ سبحانی کے نام دو خطوط "بشر و بشیر" اور "طوطا اور مکھی" کے عنوان سے اور ان کے جواب میں آیت‌ اللہ سبحانی کی طرف سے سروش کے نام دو خطوط "ڈاکٹر سروش اسلام کے آغوش لوٹ آئیں" اور "آیت‌ اللہ سبحانی کا ڈاکٹر سروش کے نام دوسرا خط" کے عنوان سے شائع ہوئے ہیں۔ سنہ 2012ء میں یہ خطوط "مسئلہ وحی" نامی کتاب میں شایع ہوئے ہیں۔[9]

سیاسی اور سماجی سرگرمیاں

سنہ 1963ء میں 6 جون کے واقعے میں امام خمینی کی گرفتاری کے سلسلے میں آیت‌ اللہ سبحانی ان اشخاص میں سے تھے جنہوں نے اس واقعے کی مذمت میں حوزہ علیمہ قم کے فضلاء کی جانب سے حکومت وقت کو لکھے گئے خط پر دستخط کئے۔[10] اسی طرح آپ اس وقت کے وزیر اعظم حسن علی منصور کے نام لکھے گئے خط پر بھی دستخط کرنے والوں میں سے ہیں جس میں امام خمینی اور دیگر علماء کی گرفتاری کی مذمت کی گئی تھی۔[11] آیت اللہ جعفر سبحانی نے امام خمینی کو [[ترکی] سے نجف اشرف منتقل کئے جانے کے پر امام خمینی کی حمایت میں حوزہ علمیہ قم کے فضلاء کے ٹلگرام پر بھی دستخط کیے۔[12] آیت‌ اللہ سبحانی نے سید مصطفی خمینی کی وفات پر امام خمینی کو تعزیت پیش کی۔[13]

مجلہ مکتب اسلام کی اشاعت

آیت اللہ جعفر سبحانی آیت اللہ مکارم شیرازی، مصطفی زمانی، داوود الہامی، سید ہادی خسرو شاہی، علی حجتی کرمانی، رضا گل سرخی کاشانی اور حاج آقا مجتبی عراقی کے ساتھ دار التبلیغ اسلامی کے اصل بانیوں میں سے تھے۔ یہ مرکز سنہ 1965ء میں دینی مبلغین کی تربیت اور مذہب کے خلاف ہونے والی سازشوں سے مقابلہ کے لئے آیت‌ اللہ شریعت مداری کے توسط سے قم میں تأسیس ہوا تھا۔[14] آیت‌ اللہ سبحانی اس ادارے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اس میں تدریس اور تقاریر کرتے تھے۔[15]

آیت‌ اللہ جعفر سبحانی اور آیت‌ اللہ مکارم شیرازی، دار التبلیغ کے فعال اراکین

سنہ 1958 اور 1959ء کے دوران آیت اللہ سبحانی اور حوزہ علمیہ قم کے بعض فضلاء نے بعض مراجع کی زیر نگرانی مجلہ مکتب اسلام شایع کیا۔ آیت اللہ سبحانی اس مجلے کے دائمی اہل قلم میں سے تھے۔ یہ مجلہ اس وقت بھی آپ کی زیر نگرانی شایع ہوتا ہے۔[16]

مجلس خبرگان کی رکنیت

آیت‌ اللہ سبحانی نے حوزہ علمیہ قم کے مدرسین کی جانب سے پہلوی حکومت کے خلاف جاری کئے گئے اعلامیوں پر دستخط کئے ہیں۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد مجلس خبرگان کے الیکسن میں آپ صوبہ مشرقی آذربایجان کے نمائندے کی حیثیت سے مجلس خبرگان کے رکن متخب ہوئے۔[17]

مرجعیت

آیت‌ اللہ سبحانی نے آیت‌ اللہ شیخ جواد تبریزی کی وفات کے بعد 20 نومبر سنہ 2007ء کو صوبہ آذربایجان کے بعض مؤمنین کی درخواست پر اپنی توضیح المسائل شائع کی۔

آثار اور تالیفات

آیت‌ اللہ سبحانی اسلامی علوم منجملہ تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، کلام، تاریخ، فلسفہ، ملل ونحل، رجال، درایہ، علوم ادبی، تشیع کا دفاع، وہابیت پر تنقید اور دیگر موضوعات پر متعدد کتابوں کے مالک ہیں۔[18]

حوالہ جات

  1. زندگی ‌نامہ آیت‌ اللہ سبحانی، پایگاہ اطلاع ‌رسانی آیت‌ اللہ جعفر سبحانی۔
  2. زندگی‌ نامہ آیت‌ اللہ سبحانی، پایگاہ اطلاع‌ رسانی آیت‌ اللہ جعفر سبحانی۔
  3. زندگی ‌نامہ آیت‌ اللہ سبحانی، پایگاہ اطلاع‌ رسانی آیت‌ اللہ جعفر سبحانی۔
  4. زندگی‌ نامہ آیت‌ اللہ سبحانی، پایگاہ اطلاع ‌رسانی آیت‌ اللہ جعفر سبحانی۔
  5. زندگی ‌نامہ آیت‌ اللہ سبحانی، پایگاہ اطلاع‌ رسانی آیت‌ اللہ جعفر سبحانی۔
  6. صالح، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۳۸۵ش، ج۳، ص۴۰۔
  7. «شب‌زندہ‌دار کیست؟»، خبرگزاری فارس۔
  8. تخصصی کلام اسلامی معرفی مرکز تخصصی علم کلام
  9. کتاب "مسئلہ وحی" منتشر شد، خبرگزاری مہر۔ مسئلہ وحی: با نگاہی بہ مکاتبات آیت‌ اللہ سبحانی و دکتر سروش
  10. مہدی‌ پور و دیگران، گلشن ابرار، ج۵، ص۶۰۷۔
  11. مہدی پور و دیگران، گلشن ابرار، ج۵، ص۶۰۷۔
  12. مہدی پور و دیگران، گلشن ابرار، ج۵، ص۶۰۷۔
  13. مہدی پور و دیگران، گلشن ابرار، ج۵، ص۶۰۷۔
  14. جعفریان، جریان‌ہا و سازمان‌ہای مذہبی-سیاسی ایران (۱۳۲۰-۱۳۵۷)، ۱۳۷۸، ص۳۳۹۔
  15. جعفریان، جریان‌ہا و سازمان‌ہای مذہبی-سیاسی ایران (۱۳۲۰-۱۳۵۷)، ۱۳۷۸، ص۳۲۸۔
  16. جعفریان، جریان‌ہا و سازمان‌ہای مذہبی-سیاسی ایران (۱۳۲۰-۱۳۵۷)، ۱۳۷۸، ص۴۲۳۔
  17. اعضای مجلس خبرگان قانون اساسی، سایت دبیرخانہ مجلس خبرگان رہبری۔
  18. زندگی‌ نامہ آیت‌ اللہ سبحانی، پایگاہ اطلاع‌ رسانی آیت‌ اللہ جعفر سبحانی۔

مآخذ