عصمت ائمہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیعہ عقائد
‌خداشناسی
توحید توحید ذاتی • توحید صفاتی • توحید افعالی • توحید عبادی • صفات ذات و صفات فعل
فروع توسل • شفاعت • تبرک
عدل (افعال الہی)
حُسن و قُبح • بداء • امر بین الامرین
نبوت
خاتمیتپیامبر اسلام  • اعجاز • عدم تحریف قرآن
امامت
اعتقادات عصمت • ولایت تكوینی • علم غیب • خلیفۃ اللہ • غیبتمہدویتانتظار فرجظہور • رجعت
ائمہ معصومینؑ
معاد
برزخ • معاد جسمانی • حشر • صراط • تطایر کتب • میزان
اہم موضوعات
اہل بیت • چودہ معصومین • تقیہ • مرجعیت

عصمت ائمہ، شیعہ ائمہ کی کسی بھی گناہ کبیرہ، گناہ صغیرہ، جان بوجھ کر یا نادانستہ غلطی اور فراموشی سے پاکیزگی کا نام ہے۔ عصمت ائمہ شیعہ اثنا عشری کے مخصوص عقائد میں سے ایک ہے۔ شیعہ اثنا عشری کے ساتھ ساتھ اسماعیلی شیعوں کے نقطہ نظر سے، عصمت، امامت کی شرائط اور ائمہ کی صفات میں سے ایک ہے۔ عبداللہ جوادی آملی کی رائے ہے کہ ائمہ (ع) جس طرح اپنے کردار میں معصوم اور بے عیب ہیں اسی طرح ان کا علم، درست اور غلطی سے پاک ہے۔

علمائے شیعہ نے متعدد آیات جیسے آیہ اولی الامر، آیہ تطہیر، آیہ ابتلائے ابراہیم، آیہ صادقین، آیہ مودت اور آیہ صلوات سے ائمہ کی عصمت کو بطور استدلال پیش کیا ہے۔ روائی مآخذ میں اس موضوع سے مربوط بہت زیادہ روایات وارد ہوئی ہیں۔ حدیث ثقلین، حدیث امان اور حدیث سفینہ جیسی روایات ہیں جو عصمت ائمہ کو ثابت کرنے کے لئے بطور استدلال پیش کی جاتی ہیں۔ ائمہ معصومین کی عصمت پر متعدد دلائل کے باوجود، وہابیوں اور سلفیوں کے رہنما ابن تیمیہ حرانی نے اس کی تردید کی ہے اور اس پر اعتراض کیا ہے۔ جس کے رد عمل میں شیعہ علماء نے تمام اعتراضات کے جواب دئے ہیں۔

عصمت امام و ائمہ کے سلسلہ میں متعدد کتابیں لکھی گئی ہیں جیسے جعفر سبحانی کی پژوہشی در شناخت و عصمت امام، محمد حسین فاریاب کی عصمت امام در تاریخ تفکر امامیہ تا پایان قرن پنجم ہجری اور ابراہیم صفر زادہ کی عصمت امامان از دیدگاہ عقل و وحی۔

اہمیت اور مقام

عصمت امام اور اس پر دلائل کو قرآنی اور کلامی میں اہم موضوعات کے طور پر سمجھا گیا ہے۔[1] اثنا عشری شیعوں کے نقطہ نظر سے عصمت، امامت کی شرائط اور صفات میں سے ایک ہے اور شیعہ اماموں کی عصمت ان کے بنیادی عقائد میں سے ایک ہے۔[2] علامہ مجلسی کے مطابق شیعہ اس بات پر متفق ہیں کہ ائمہ تمام گناہان کبیرہ و صغیرہ چاہے جان بوجھ کر یا نادانستہ یا کسی بھی طرح کی غلطی سے معصوم ہیں۔[3] کہا جاتا ہے کہ اسماعیلیہ بھی عصمت کو امامت کی شرائط میں شمار کرتے ہیں۔ [4] جس کے مقابلہ میں اہلسنت حضرات عصمت ائمہ کو شرائط امامت میں شمار نہیں کرتے۔[5] کیونکہ اہلسنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ تینوں خلفا امام تو تھے پر معصوم نہیں تھے۔[6] وہ لوگ عصمت کے بجائے عدالت کو شرط مانتے ہیں۔[7] اس کے باوجود ساتویں صدی کے سنی عالم سبط ابن جوزی ‌ نے عصمت امام کو قبول کیا ہے۔[8] وہابی بھی عصمت امام اور شیعہ ائمہ کو قبول نہیں کرتے اور عصمت کو انبیاء سے مخصوص سمجھتے ہیں۔[9]

آیت اللہ سبحانی کے مطابق اس اختلاف کا فرق شیعہ اور سنی دو گروہوں کے مابین امامت اور خلافت پیغمبر اکرمؐ کے بارے میں عقائد سے پیدا ہوتا ہے۔ شیعوں کے نقطہ نظر سے، امامت، نبوت کی طرح ایک الہی مقام ہے اور ضروری ہے کہ خدا اس کا نگہبان مقرر کرے۔[10] لیکن اہلسنت کے مطابق امامت ایک عرفی منصب[11] ہے اور لوگوں کا منتخب کردہ امام کہ جس کا علم و عدالت عوام کی سطح کے برابر ہوتا ہے جو خدا کی طرف سے مقرر نہیں ہوتا۔[12]

عصمت امام و ائمہ کا تذکرہ قرآن میں صراحت کے ساتھ نہیں آیا لیکن علمائے شیعہ نے بعض آیات جیسے آیہ اولی الامر،[13] آیہ تطہیر،[14] آیہ ابتلائے ابراہیم[15] کو عصمت امام و ائمہ سے تفسیر کیا ہے لیکن روائی مآخذ میں عصمت ائمہ کے سلسلہ میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں۔[16]

مفہوم‌ شناسی

عصمت ائمہ کا مطلب ہے ان حضرات کا ہر طرح کی خطا و لغزش سے محفوظ ہونا۔[17]

کلام اسلامی اور فلسفہ اسلامی کے نزدیک عصمت کے اصطلاحی معنی میں ہی لغوی معنی محفوظ ہیں؛[18] لیکن ان کے اصولوں کی بنیاد پر عصمت کی مختلف تعریفیں ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں:

  • تعریف متکلمین: متکلمین عدلیہ امامیہ [19] اور معتزلہ [20]) نے عصمت کو قاعدہ لطف کی بنیاد پر تعریف کی ہے۔[21] اس اعتبار سے عصمت وہ فضل ہے جو خدا اپنے بندے کو عطا کرتا ہے جس کے ذریعے وہ برے کام یا گناہ انجام نہیں دیتا۔[22]

وہ اپنے بندے کو عطا کرتا ہے اور اس کے ذریعے وہ کوئی برے کام یا گناہ کو انجام نہیں دیتا۔[23]

اشاعرہ نے عصمت کی تعریف میں کہا ہے کہ پروردگار کی جانب سے معصوم انسان کے اندر گناہ کا پیدا نہ ہونا۔[24]

  • تعریف فلاسفہ: حکمائے اسلامی نے عصمت کو ملکہ نفسانی[نوٹ 1] سے تعبیر کیا ہے کہ جس کے بعد صاحب عصمت گناہ انجام نہیں دیتا۔[25] کہا جاتا ہے اس تعریف کی بنیاد، حکما کے اصول و مبانی ہیں جو باب توحید افعالی میں ہیں کہ مختار انسان کے ذریعہ اس کے افعال کی نسبت خداوند کی طرف دیتے ہیں۔[26]

صرفی ساختار کے اعتبار سے عصمت کلمہ «عصم» سے اسم مصدر ہے[27] جس کے لغت میں معنی روکنے اور پکڑنے کے ہیں۔[28] قرآن میں عصمت کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے۔ لیکن اس کے مشتقات 13 بار قرآن میں اور لفظی معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔[29]

دائرہ عصمت

امامی علماء کا خیال ہے کہ ائمہؑ کی طرح ہی انبیا کسی بھی گناہ کبیرہ و صغیرہ اور چاہے جان بوجھ کر یا غلطی سے اور بھولنے سے، ہر طرح کی غلطی اور خطا سے معصوم و محفوظ ہیں۔[30] ان کے نزدیک ائمہ (ع) امامت سے پہلے اور بعد میں اپنی پوری زندگی میں معصوم ہیں۔[31] فیاض لاہیجی نے اس بات کا بھی اضافہ کیا ہے کہ خطا و گناہ سے پاک ہونا، عیوب جسمانی، روانی، عقلانی اور نَسَبی سے پاک ہونا بھی امام کے لئے شرط ہے نیز وہ کہتے ہیں کہ امام کو کسی بھی جسمانی بیماری جیسے کوڑھ و جزام یا سفید داغ جو دوسروں کو متنفر کرتی ہیں سے بھی پاک ہونا چاہئے نیز عیوب نفسانی جیسے بخل، سخت مزاجی یا عیوب عقلانی جیسے پاگلپن، نادانی، فراموشی اور عیوب نَسَبی میں مبتلا نہ ہو۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ سب عیوب نفرت اور لوگوں کا امام سے عدم رغبتی کا سبب بنتے ہیں جو مفترض الطاعہ (جس کی اطاعت واجب ہوتی ہے) سے سازگاری نہیں رکھتے۔[32]

شیخ مفید نے عقلی طور پر بطور سہوا امام سے ترک مستحب کو جائز سمجھا ہے۔ لیکن ان کا ماننا ہے کہ ائمہ نے اپنی زندگی میں کوئی مستحب نہیں چھوڑا۔[33]

عبداللہ جوادی آملی نے عصمت کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے عملی و علمی اور ائمہ (ع) کو دونوں اقسام میں جامع سمجھا ہے۔ ان کے بقول جس طرح ائمہ کا طرز عمل حق کے مطابق ہے اسی طرح ان کا علم حق ہے اور ایسے ذریعہ سے پیدا ہوتا ہے جس میں کوئی غلطی یا بھول نہ ہو۔[34] ان کے نظریہ کے مطابق جو بھی عصمت علمی کے مرحلہ پر فائز ہوتا ہے وہ شیطان کے فتنوں سے پاک ہوتا ہے اور شیطان اس کے خیالات میں مداخلت نہیں کر سکتا۔[35]

علی ربانی گلپایگانی، ایک معاصر عالم دین نے عصمت عملی کو گناہ سے پاک اور عصمت علمی کو مندرجہ ذیل درجات کے ساتھ جانا ہے:

  1. احکام الہی کو جاننے میں عصمت؛
  2. احکام الٰہی کے مضامین کو جاننے میں عصمت؛
  3. معاشرہ کی نمائندگی سے متعلقہ معاملات کے مفادات اور فسادات کو پہچاننے میں عصمت؛
  4. انفرادی اور سماجی مسائل سمیت عام زندگی سے متعلق معاملات میں عصمت۔[36]

ربانی گلپایگانی کی نظر کے مطابق ائمہ ان تمام مراتب پر فائز ہوتے ہیں۔[37]

اثبات عصمت کے لئے عقلی دلائل

شیعہ علماء کی جانب سے امام کی عصمت کو ثابت کرنے کے لئے متعدد عقلی دلائل پیش کئے گئے ہیں جیسے: برہان امتناع تسلسل، امام کی طرف سے برہان حفظ و تبیین شریعت، برہان وجوب اطاعت امام، برہان نقض غرض، گناہ کی صورت میں برہان انحطاط و سقوط امام۔[38] دلائل عقلی، اصل عصمت امام کے مصادیق کو بغیر توجہ اور اشارہ کے ثابت کرتے ہیں۔

جعفر سبحانی کے مطابق تمام عقلی دلائل جو عصمت انبیا کے لئے پیش کئے گئے ہیں جیسے قیامت کے اہداف کا تحقھ، لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا، وہی مصادیق عصمت ائمہ کے سلسلہ میں بھی پیش کئے گئے ہیں۔ ان کے نزدیک امام کی معصومیت ایک مکتب تشیع کا خاصہ ہے جو امامت کے منصب کو پیغمبر (ص) کے مشن اور نبوت کے فرائض کا تسلسل سمجھتا ہے۔ اس طرح کے فرائض کو جاری رکھنا ائمہ کی عصمت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔[39]

اطاعت امام کی دلیل: آیہ اولی الامر کی بنیاد پر امام کی اطاعت واجب ہے۔[40] بعض لوگوں نے ائمہ کی اطاعت کو تمام مسلمانوں کی جانب سے مورد اجماع جانا ہے۔[41]اب اگر امام معصوم نہیں ہے اور گناہ یا لغزش میں مبتلا ہے تو اس کی اطاعت حرام ہے اور اس کو منکرات سے روکنا دلیل امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی بنا پر واجب ہے۔ واجب پر مبنی ہے۔ امام کی مخالفت اس کے وجوب اطاعت کے ساتھ ٹکرا رہی ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ امام معصوم ہو۔[42]

آیات قرآنی سے استدلال

وہ آیات کہ جن سے اثبات عصمت ائمہ کے سلسلہ میں استدلال کیا جاتا ہے وہ درج ذیل ہیں:

آیہ ابتلای ابراہیم

وَ إِذِ ابْتَلی إِبراهیمَ رَبُّه بِکلماتٍ فَأتَمَّهُنَّ قالَ إِنّی جاعِلُک لِلنّاسِ إِماماً قالَ وَمِنْ ذُرّیتی قالَ لاینالُ عَهدی الظّالِمینَ؛ اور اس وقت کو یاد کرو جب خدانے چند کلمات کے ذریعے ابراہیم کا امتحان لیا اور انہوں نے پورا کردیا تو اس نے کہا کہ ہم تم کو لوگوں کا امام اور قائد بنا رہے ہیں۔ انہوں نے عرض کی کہ میری ذریت؟ ارشاد ہوا کہ یہ عہدہ امامت ظالمین تک نہیں جائے گا۔[43]

آیت ابتلای ابراہیم سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ «لاینالُ عَہدی الظّالِمینَ» کی عمومیت کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو کسی بھی طرح سے ظالم تھا، امامت اس کے شامل حال نہیں ہو سکتی۔ لہذا آیہ عصمت امام، امامت کے دوران اور اس سے پہلے امام کی عصمت پر دلالت کرتی ہے۔[44] فاضل مقداد نے آیت کے استدلال کو اس طرح بیان کیا ہے: غیر معصوم ظالم ہوتا ہے اور ظالم کے اندر امامت کی صلاحیت نہیں ہوتی نیز غیر معصوم امامت کی شائستگی نہیں رکھتا لہذا امام کا معصوم ہونا ضروری ہے۔[45]

علمائے شیعہ «عہدی» سے مراد امامت کو سمجھتے ہیں۔[46]

آیہ اولی الامر

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ ... ؛ ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں۔[47]

علمائے شیعہ آیہ اولی الامر سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس آیت میں بغیر کسی قید و شرط کے اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اس طرح کا حکم اولی الامر کی عصمت پر دلالت کرتا ہے، اس لئے کہ اگر اولی الامر معصوم نہ ہوں تو گناہ و لغزش میں مبتلا ہو جائیں گے تو ایسی صورت میں حکمت و عدالت الہی کا تقاضا یہ ہے کہ بطور مطلق ان لوگوں کی اطاعت کا حکم نہ دیا جائے۔[48] علمائے شیعہ، روایات کی بنیاد پر[49] معتقد ہیں کہ اولی الامر سے مراد شیعہ ائمہ ہیں۔[50]

آیہ تطہیر

إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیتِ وَ یُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیراً؛ بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہلبیت کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے[51]

اس آیت سے بھی عصمت ائمہؑ کا استدلال کیا گیا ہے۔[52] بعض لوگوں نے اس آیت سے اس طرح استدلال کیا ہے:

الف. آیہ تطہیر میں اہلبیتؑ سے مراد پنج تن آل عبا ہیں۔ ب. اس آیت میں ارادہ الہی کے ذریعہ اہلبیتؑ سے ہر قسم کے رجس و پلیدگی کو دور کرنے کی خبر دی گئی ہے۔ ج. پروردگار عالم نے رجس کو دور کرنے کے ارادہ کے علاوہ اس فعل کو محقق بھی کیا اس لئے کہ یہ آیت اہلبیتؑ کی مدح و منقبت کو بیان کر رہی ہے۔ (ارادہ تکوینی خدا) خداوند افزون بر ارادہ از بین بردن رجس، تحقق این فعل را نیز در نظر داشت؛‌ زیرا آیہ در مقام مدح و منقبت اہل بیت(ع)‌ است. (ارادہ تکوینی خدا) د. اہلبیتؑ سے رجس و پلیدی کو دور کرنے کا مطلب ان کی عصمت ہی ہے۔[53]

شیعوں سے منقول زیادہ تر روایات کی بنا پر[54] اور اہلسنت کے مطابق[55] آیہ تطہیر اصحاب کساء کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ لذا اس اعتبار سے آیہ میں اہلبیتؑ سے مراد پنج تن ہیں۔[56]

آیہ صادقین،[57] آیہ مودت[58] اور آیہ صلوات[59] یہ دوسری آیات ہیں جن سے عصمت امام کے سلسلہ میں استدلال کیا گیا ہے۔

روایات سے استدلال

تفصیلی مضمون: حدیث ثقلین

صحابہ اور ائمہؑ کے ذریعہ عصمت ائمہؑ کے سلسلہ میں بہت زیادہ احادیث وارد ہوئی ہیں۔[60] بعض احادیث نبوی کے ذریعہ شیعوں نے اس طرح سے استدلال کیا ہے:

حدیث ثقلین

یہ حدیث، لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّي يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْض کی عبارت کے ذریعہ قرآن و اہل بیتؑ کے درمیان عدم جدائی کو کھلے طور پر ثابت کر رہی ہے نیز اہلبیتؑ کی عصمت پر دلالت بھی کر رہی ہے اس لئے کہ کسی بھی گناہ کا ارتکاب یا خطا کا انجام دینا اہلبیتؑ کے لئے قرآن سے جدائی کا سبب بن سکتا ہے۔[61] اسی طرح پیغمبر اکرمؑ نے بھی اس حدیث میں وضاحت کر دی ہے کہ جو بھی قرآن و اہلبیتؑ سے متمسک رہے گا کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا۔ یہ عبارت بھی اہلبیتؑ کی عصمت پر دلالت کر رہی ہے اس لئے کہ اگر وہ معصوم نہ ہوں گے تو ان کی پیروی و اتباع گمراہی کا سبب بن جائے گی۔[62] دوسری عبارت کی بنا پر یہ حدیث اہلبیتؑ کی اطاعت کے واجب ہونے پر دلالت کر ہی ہے اور ان کی اطاعت کا واجب ہونا ان کی عصمت پر دلالت کر رہا ہے۔[63]

شیعوں کی روایات کے مطابق حدیث ثقلین میں اہلبیتؑ کو ائمہ شیعہ سے تفسیر کیا گیا ہے۔[64] بعض اہلسنت،[65] اہلبیتؑ سے مراد اصحاب کساء کو اور بعض[66] امام علیؑ کو سب سے واضح مصادق سمجھتے ہیں۔

بعض متکلمین شیعہ، حدیث ثقلین کو متواتر شمار کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ اس کی صحت میں کوئی شک نہیں ہے۔[67] بعض نے اسے متواتر معنوی شمار کیا ہے۔[68]

حدیث امان

حدیث امان، پیغمبر اکرمؑ کی مشہور حدیث ہے جو شیعوں کے ذریعہ[69] اور اہلسنت[70] سے نقل ہوئی ہے کہ جس میں بہت مختصر سا اختلاف ہے: النُّجُومُ أَمَانٌ لِأَہلِ السَّمَاءِ وَ أَہلُ بَيْتِی أَمَانٌ لِأُمَّتِی؛ ستارے اہل آسمان کے لئے امان ہیں اور میرے اہلبیت میری امت کے لئے امان ہیں۔

اس حدیث کے استدلال میں کہا گیا ہے کہ رسول خدا (ص) نے اپنے اہل بیت کو ستاروں سے تشبیہ دی اور انہیں امت یا زمین والوں کی سلامتی کا سبب قرار دیا ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) کا یہ بیان اہل بیت کی عصمت کی نشاندہی کرتا ہے کہ اہل بیت نجوم ہدایت ہیں اور وہی امت کی گمراہی اور اختلاف کے سلسلہ میں سبب امن و امان ہیں کیونکہ اس طرح کی کوئی چیز عصمت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔[71]


نقل شدہ روایت، کتاب «کفایۃ الاثر» میں اہلبیتؑ کو ائمہؑ سے تفسیر کرتے ہوئے ان کے معصوم ہونے کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔[72]

چوتھی صدی ہجری کے اہلسنت محدث حاکم نیشابوری نے حدیث امان کو صحیح السند حدیث قرار دیا ہے۔[73]

حدیث سفینہ

حدیث مشہور سفینہ شیعوں کے متعدد مآخذ[74] اور اہلسنت[75] کے یہاں بہت مختصر فرق کے ساتھ اس طرح نقل ہوئی ہے: إِنَّمَا مَثَلُ أَہلِ بَیتِی فِیکُمْ کَمَثَلِ سَفِینَۃ نُوحٍ مَنْ رَکِبَہا نَجَی وَ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْہا غَرِقَ، بے شک میرے اہلبیت کی مثال تمہارے درمیان کشتئ نوح جیسی ہے، جو بھی اس پر سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا اور جو چھوٹ گیا وہ غرق ہو گیا۔» بعض نے اس حدیث کو متواتر جانا ہے۔[76] حاکم نیشاپوری نے بھی اسے صحیح شمار کیا ہے۔[77]

میر حامد حسین ہندی نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کشتئ اہلبیتؑ لوگوں کو نجات دیتی ہے اور اس سے مخالفت سبب گمراہی ہے تو ضروری ہے کہ خود اہلبیتؑ ہر گمراہی سے محفوظ ہوں۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو ان کی پیروی اور ان کی کشتی پر سوار ہونے کا غیر مشروط حکم گمراہی کا باعث بن جائے گا اور خدا اور رسول خدا (ص) کے لئے ایسا حکم دینا ناممکن ہے جو لوگوں کو گمراہ کرے۔[78]

حدیث سفینہ میں اہلبیتؑ سے مراد بارہ امام ہیں۔[79] دسویں اور گیارہویں صدی ہجری قمری کے شافعی مذہب کے ایک عالم دین عبدالرؤوف مناوی، اہلبیتؑ سے مراد ائمہؑ اور حضرت زہراؑ کو سمجھتے ہیں۔[80]

عقیدہ عصمت کی بنیاد

عصمت ائمہ معصومین علیہم السلام کے بعض مخالفین کا خیال ہے کہ ایسا عقیدہ اسلام کے آغاز میں موجود نہیں تھا اور بعد میں وجود میں آیا۔ مثال کے طور پر ابن تیمیہ کا ماننا ہے کہ عصمت امام کا یقین عبداللہ ابن سبا سے شروع ہوا اور یہ اسی کی بدعت تھی۔[81] ناصر القفاری کی نظر کے مطابق بھی سب سے پہلی بار یہ نظریہ ہشام بن حکم نے پیش کیا تھا۔[82] ایک شیعہ اور ایرانی علوم اسلامی کے محقق سید حسین مدرسی طباطبائی کی کتاب مکتب در فرآیند تکامل کے مطابق عقیدہ عصمت کی بنیاد بھی ہشام بن حکم ہی ہیں۔[83] ناصر القفاری ایک معاصر وہابی، شیعوں کی مخالفت اور ضد کے باوجود، عقیدہ عصمت کو تاریخی طور پر نادرست خیال کرتے ہوئے عبد اللہ ابن سبا سے منسوب کیا اور کہا: "مجھے اپنی تحقیق میں اس سے ایسی کوئی گفتگو نہیں ملی۔"[84] ائمہ معصومین کی عصمت اور لفظ عصمت کی ابتداء ہشام ابن حکام نے نہیں کی کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ (ع) کی متعدد روایات میں ائمہ (ع) کی عصمت بیان کی گئی ہے۔[85] مثلا امام علیؑ نے ایک روایت میں عصمت کو امام کی علامت قرار دیا ہے۔[86] امام سجادؑ نے امام حسینؑ سے ایک روایت نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے ائمہؑ کو صاحب عصمت پہچنوایا ہے۔[87] مآخذ اہل سنت میں بھی عبداللہ بن عباس نے پیغمبر اکرمؐ سے روایت نقل کی ہے کہ میں، علی، حسن، حسین اور حسین کے نو فرزند سب کے سب پاک اور معصوم ہیں۔[88]

عصمت ائمہ اور غلو

معاصر وہابی ناصر القفاری نے عصمت ائمہؑ کے عقیدہ کو صفات خدا سے تشبیہ دیتے ہوئے اسے غلو میں شمار کیا ہے۔[89] معاصر مصری مصنف احمد امین بھی اس عقیدہ کو غلو سمجھتا ہے۔[90]

غلو کے بارے میں جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی گئی ہے کہ بندہ خدا، خدا یا صفات و افعال خدائی کا حامل سمجھا جائے، لیکن جب بھی خدا اپنے بندے پر مہربان ہوتا ہے اور اسے لوگوں کی رہنمائی کے لئے کچھ کرنے کا اختیار دیتا ہے تو اس وقت کچھ بھی اس کی طاقت اور الوہیت سے کم نہیں ہوتا اور مورد لطف بندہ بھی مقام عبودیت سے آگے نہیں بڑھتا۔[91] عصمت بھی دوسرے صفات کمالی کی طرح ذات خدا سے مخصوص ہے لیکن کسی مصلحت کی بنا پر اپنے بعض بندوں کو بشریت کی ہدایت کرنے کے لئے عصمت نامی طاقت سے مسلح کرتا ہے۔ لہٰذا اب جب کہ خدا سے عصمت مخصوص ہے تو بندوں کے کسی گروہ کے لئے یہ صفت رکھنے میں کوئی عیب و رکاوٹ نہیں ہے۔ جیسا کہ تمام مسلمان پیغمبر اکرمؑ کو معصوم سمجھتے ہیں۔[92]

رفتار و کردار ائمہؑ اور عصمت

بعض نے کہا ہے کہ شیعہ ائمہؑ کے الفاظ ان کی عصمت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان میں امام علی (ع) کے وہ الفاظ ہیں جو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو مخاطب ہوکر فرمایا: فَلَا تَکُفُّوا عَنِّی مَقَالَۃ بِحَقٍّ أَوْ مَشُورَۃ بِعَدْلٍ فَإِنِّی لَسْتُ فِی نَفْسِـی بِفَوْقِ مَا أَنْ أُخْطِئَ وَ لَا آمَنُ ذَلِکَ مِنْ فِعْلِی إِلَّا أَنْ یَکْفِیَ اللَّہ مِنْ نَفْسِی...؛ سچ کہنے اور منصفانہ مشاورت سے گریز نہ کریں۔ در حقیقت نہ میں ایسا ہوں کہ خطا نہ کروں اور نہ ہی میں اپنے کام میں غلطی سے محفوظ ہوں جب تک کہ خدا میری حفاظت نہ کرے...»۔ [93] بعض علمائے اہلسنت جیسے شافعی مذہب کے فقیہ اور مفسر قرآن شہاب الدین آلوسی، احمد امین مصری، ہندوستان کے سلفی عالم عبدالعزیز دہلوی اور قفاری نے اس روایت کو عصمت امام علیؑ اور ائمہؑ کے ساتھ ناسازگار بتاتے ہوئے انکار عصمت ائمہؑ کی ایک دلیل شمار کیا ہے۔[94]


علامہ مجلسی[95] اور ملا صالح مازندرانی،[96] امام کی اس عبارت کو ان کی عاجزی سے تعبیر کیا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو سچائی کو قبول کرنے میں نرم ہونے کی ترغیب دلا رہے ہیں اور اس بات کا اقرار کیا ہے کہ عصمت الطاف الہی میں سے ہے۔وَ ما أُبَرِّئُ نَفْسی إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَۃ بِالسُّوءِ إِلاَّ ما رَحِمَ رَبِّی؛ اور میں اپنے نفس کو بھی بری نہیں قرار دیتا کہ نفس بہرحال برائیوں کا حکم دینے والا ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے»۔[97]

‌محمدحسین فاریاب کی کتاب عصمت امام در تاریخ تفکر امامیہ تا پایان قرن پنجم ہجری.

ناصر مکارم شیرازی کے مطابق جملہ «فَإِنِّی لَسْتُ فِی نَفْسِـی بِفَوْقِ مَا أَنْ أُخْطِئَ» کہ جسے مخالفین عصمت نے بہانہ بنایا ہے، در اصل عبارت «إِلَّا أَنْ یَکْفِیَ اللَّہ مِنْ نَفْسِی» کے ساتھ تفسیر کیا جائے تو سمجھ میں آئے گا کہ پہلے جملے میں امام فرماتے ہیں: بحیثیت انسان، میں غلطی سے محفوظ نہیں ہوں۔ لیکن دوسرے جملے کے ساتھ وہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے محفوظ ہیں اور ایک عام انسان نہیں ہے۔ اس کے علاوہ امام اپنے اصحاب کے ساتھ تعلیم و تربیت کی منزل میں ہیں اور انہیں سکھا رہے ہیں کہ کسی بھی وقت غلطی کا امکان ہے اور امامؑ اپنے آپ کو بطور تواضع اپنے اصحاب کی طرح سمجھتے ہیں۔[98]

عصمت، اعتراف گناہ اور استغفار ائمہؑ

مخالفین عصمت، ائمہؑ کو اپنے گناہوں کا اقرار کرنے اور استغفار کو ان کی عصمت کے مطابق نہیں سمجھتے۔[99] پیغمبر اکرمؐ سے بھی استغفار و توبہ نقل ہوا ہے اور روایات کے مطابق پیغمبرؐ دن بھی میں ستّر مرتبہ استغفار فرماتے تھے۔[100]

اس کے علاوہ بعض علما[101] ائمہؑ کے استغفار کو راویوں اور لوگوں کے لئے درس و عبرت شمار کرتے ہیں نہ یہ کہ یہ استغفار ارتکاب بناہ کی وجہ سے ہے جیسا کہ بعض اہلسنے علما[102] نے پیغمبر اکرمؐ کے استغفار کی وجہ بھی یہی بتائی ہے۔ بعض نے ائمہؑ کے اعتراف گناہ و استغفار کو بطور «حَسَنَاتُ الْأَبْرَارِ سَيِّئَاتُ الْمُقَرَّبِينَ؛ نیک لوگوں کے اچھے کام مقربین الہی کے لئے بُرے شمار ہوتے ہیں» سمجھا گیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ائمہؑ اپنے بلند و بالا مقام کی خاطر جب بھی لوگوں کی مصلحت کی وجہ سے ان مقامات سے نیچے آتے ہیں تو خود کو گنھگار شمار کرتے ہیں اور استغفار کرتے ہیں۔[103]

علامہ مجلسی کے بقول کیونکہ معصومین کی معرفت خدا کی نسبت اپنے اعلی درجہ پر ہے اور وہ ذات خدا میں ڈوبے ہوئے ہیں جب وہ اپنے اعمال کو دیکھتے ہیں تو وہ اپنے کو خدائی عظمت کے سامنے بہت چھوٹا اور گنہگار سمجھتے ہیں اور خدا سے توبہ اور استغفار کرتے ہیں۔[104]

کتاب‌ شناسی

عصمت امام و ائمہ کے سلسلہ میں بہت سی کتابیں اور مقالات منتشر ہوئے ہیں کہ بعض کا تذکرہ یہاں کیا جا رہا ہے:

  • جعفر سبحانی کی پژوہشی در شناخت و عصمت امام، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی آستان قدس رضوی، چاپ اول، 1389 ہجری شمسی۔
  • محمد حسین فاریاب کی کتاب عصمت امام در تاریخ تفکر امامیہ تا پایان قرن پنجم ہجری، قم، مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی، چاپ اول 1390 ہجری شمسی۔
  • ابراہیم صفرزادہ کی کتاب عصمت امامان از دیدگاہ عقل و وحی، قم، زائر آستانہ مقدسہ، چاپ اول، ‌1392 ہجری شمسی۔
  • حجت منگنہ‌چی کی کتاب دلایل عصمت امام از دیدگاہ عقل و نقل، تہران، نشر مشعر، چاپ اول،‌ 1391 ہجری شمسی۔
  • رضا کاردان کی کتاب امامت و عصمت امامان در قرآن، مجمع جہانی اہل بیت(ع)، چاپ اول، ‌1385 ہجری شمسی۔
  • علیرضا عظیمی‌فر کی کتاب قرآن و عصمت اہل بیت(ع)، قم، مہر امیرالمؤمنین(ع)، چاپ اول، ‌1389 ہجری شمسی۔

حوالہ جات

  1. سبحانی، منشور جاوید، ۱۳۸۳ش، ج۴، ص۲۳۹۔
  2. برای نمونہ نگاہ کنید بہ طوسی، الاقتصاد فیما یتعلق بالاعتقاد، ۱۴۹۶ھ، ص۳۰۵؛ علامہ حلی، کشف المراد، ۱۳۸۲ش، ص۱۸۴؛ فیاض لاہیجی، سرمایہ ایمان، ۱۳۷۲ش، ص۱۱۴، سبحانی، الالہیات، ۱۴۱۲ھ، ج۴، ص۱۱۶۔
  3. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۲۵، ص۲۰۹، ۳۵۰ و۳۵۱۔
  4. علامہ حلی، کشف المراد، ۱۳۸۲ش، ص۱۸۴؛ جرجانی، شرح المواقف، ۱۳۲۵ھ، ج۸، ص۳۵۱۔
  5. قاضی عبدالجبار، المغنی، ۱۹۶۲-۱۹۶۵م، ج۱۵، ص۲۵۱، ۲۵۵ و ۲۵۶ و ج۲۰، بخش اول، ص۲۶، ۸۴، ۹۵، ۹۸، ۲۱۵ و ۳۲۳؛ جرجانی، شرح المواقف، ۱۳۲۵ھ، ج۸، ص۳۵۱؛ تفتازانی، شرح المقاصد، ۱۴۰۹ھ، ج۵، ص۲۴۹۔
  6. جرجانی، شرح المواقف، ۱۳۲۵ھ، ج۸، ص۳۵۱؛ تفتازانی، شرح المقاصد، ۱۴۰۹ھ، ج۵، ص۲۴۹۔
  7. قاضی عبدالجبار، المغنی، ۱۹۶۲-۱۹۶۵م، ج۲۰، بخش اول، ص۲۰۱؛ جرجانی، شرح المواقف، ۱۳۲۵ھ، ج۸، ص۳۵۰؛ تفتازانی، شرح المقاصد، ۱۴۰۹ھ، ج۵، ص۲۴۳-۲۴۶۔
  8. سبط بن جوزی، تذکرۃ‌الخواص، ج۲،‌ ص۵۱۹۔
  9. نگاہ کنید بہ ابن تیمیہ، منہاج السنۃ النبویۃ، ۱۴۰۶ھ، ج۲، ص۴۲۹ و ج۳، ص۳۸۱؛ ابن عبدالوہاب، رسالۃ فی الرد علی الرافضۃ، ریاض، ص۲۸؛‌ قفاری، اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ، ۱۴۳۱ھ، ج۲، ص۷۷۵۔
  10. سبحانی، منشور جاوید، ۱۳۸۳ش، ج۴، ص۲۴۴ و۲۴۵؛ نیز نگاہ کنید بہ باذلی، «الہی بودن منصب امامت»، ص۹-۴۵۔
  11. سبحانی، منشور جاوید، ۱۳۸۳ش، ج۴، ص۲۳۹۔
  12. سبحانی، منشور جاوید، ۱۳۸۳ش، ج۴، ص۲۳۹-۲۴۲۔
  13. دیکھئے طوسی، التبیان، دار احیاء‌ التراث العربی، ج۳،‌ص۲۳۶؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۳، ص۱۰۰؛ بحرانی، منار الہدی، ۱۴۰۵ھ، ص۱۱۳ و ۱۱۴؛ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ھ، ج۴،‌ ص۳۹۱۔
  14. سید مرتضی، الشافی فی الامامۃ، ۱۴۱۰ھ، ج۳، ص۱۳۴؛ بحرانی، منار الہدی، ۱۴۰۵ھ، ص۶۴۶؛ سبحانی، الالہیات، ۱۴۱۲ھ، ج۴، ص۱۲۵۔
  15. دیکھئے سید مرتضی، الشافی فی الامامۃ، ۱۴۱۰ھ، ج۳، ص۱۳۹؛ طوسی، التبیان، دار احیاء‌التراث العربی، ج۱، ص۴۴۹؛‌ فاضل مقداد، اللوامع الالہیہ، ۱۴۲۲ھ، ص۳۳۲ و ۳۳۳؛ مظفر، دلائل الصدھ، ۱۴۲۲ھ، ج۴، ص۲۲۰۔
  16. نمونہ کے طور پر دیکھئے صدوھ، معانی الاخبار، ۱۴۰۳ھ، ص۱۳۲ و ۱۳۳؛ خزاز قمی، کفایۃ الاثر، ۱۴۰۱ھ، ص۱۶-۱۹، ۲۹، ۳۶-۳۸، ۴۵، ۷۶، ۹۹ و ۱۰۰-۱۰۴؛‌ ابن عقدہ کوفی، فضائل امیرالمؤمنین(ع)، ۱۴۲۴ھ، ص۱۵۴ و ۱۵۵؛ بحرانی، منار الہدی، ۱۴۰۵ھ، ص۶۶۵-۶۷۵۔
  17. نگاہ کنید بہ سبحانی، منشور جاوید، ۱۳۸۳ش، ج۴، ص۲۴۹۔
  18. ربانی گلپایگانی، امامت در بینش اسلامی، ۱۳۸۷ش، ص۲۱۴۔
  19. مفید، تصحیح اعتقادات الامامیہ، ۱۴۱۴ھ، ص۱۲۸؛ سید مرتضی، رسائل الشریف المرتضی، ۱۴۰۵ھ، ج۳،‌ ص۳۲۶؛ علامہ حلی، باب الحادی عشر، ۱۳۶۵ش، ص۹۔
  20. قاضی عبدالجبار، شرح الاصول الخمسۃ، ۱۴۲۲ھ، ص۵۲۹؛ تفتازانی، شرح المقاصد، ۱۴۰۹ھ، ج۴، ص۳۱۲ و ۳۱۳۔
  21. فاضل مقداد، اللوامع الالہیہ، ۱۴۲۲ھ، ص۲۴۲؛ ربانی گلپایگانی، امامت در بینش اسلامی، ۱۳۸۷ش، ص۲۱۵۔
  22. سید مرتضی، رسائل الشریف المرتضی، ۱۴۰۵ھ، ج۳،‌ ص۳۲۶؛ علامہ حلی، باب الحادی عشر، ۱۳۶۵ش، ص۹؛ فاضل مقداد، اللوامع الالہیہ، ۱۴۲۲ھ، ص۲۴۳۔
  23. سید مرتضی، رسائل الشریف المرتضی، ۱۴۰۵ھ، ج۳،‌ ص۳۲۶؛ علامہ حلی، باب الحادی عشر، ۱۳۶۵ش، ص۹؛ فاضل مقداد، اللوامع الالہیہ، ۱۴۲۲ھ، ص۲۴۳۔
  24. جرجانی، شرح المواقف، ۱۳۲۵ھ، ج۸، ص۲۸۰؛ تفتازانی، شرح المقاصد، ۱۴۰۹ھ، ج۴، ص۳۱۲ و ۳۱۳۔
  25. طوسی، تلخیص المحصل، ۱۴۰۵ھ، ص۳۶۹؛ جرجانی، شرح المواقف، ۱۳۲۵ھ، ج۸، ص۲۸۱؛ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ھ، ج۱۱، ص۱۶۲؛ جوادی آملی، وحی و نبوت در قرآن، ۱۳۸۵ش، ص۱۹۷؛ مصباح یزدی، راہ و راہنماشناسی، ۱۳۹۵ش، ص۲۸۵ و ۲۸۶۔
  26. ربانی گلپایگانی، امامت در بینش اسلامی، ۱۳۸۷ش، ص۲۱۶۔
  27. مصطفوی، التحقیق فی کلمات القرآن، ۱۴۰۲ھ، ج۸، ص۱۵۴۔
  28. برای نمونہ نگاہ کنید بہ ابن فارس، معجم مقاییس اللغۃ، مکتب الاعلام الاسلامی، ج۴، ص۳۳۱؛ راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن، دار قلم، ص۵۶۹؛ جوہری،‌ الصحاح، ۱۴۰۷ھ، ج۵، ص۱۹۸۶؛‌ ابن منظور، لسان العرب، دار صادر، ج۱۲، ص۴۰۳ و ۴۰۴۔
  29. سبحانی،‌ منشور جاوید، ۱۳۸۳ش، ج۴، ص۳۔
  30. برای نمونہ نگاہ کنید بہ مفید، تصحیح اعتقادات الامامیہ، ۱۴۱۴ھ، ص۱۲۹؛ علامہ حلی، نہج الحق و کشف الصدھ، ۱۹۸۲م، ص۱۶۴؛ فیاض لاہیجی، سرمایہ ایمان، ۱۳۷۲ش، ص۱۱۵؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۲۵،‌ص۲۰۹، ۳۵۰ و ۳۵۱۔
  31. علامہ حلی، نہج الحق و کشف الصدھ، ۱۹۸۲م، ص۱۶۴؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۲۵،‌ص۲۰۹، ۳۵۰ و ۳۵۱۔
  32. فیاض لاہیجی، گوہر مراد، ۱۳۸۳ش، ص۴۶۸ و ۴۶۹؛ فیاض لاہیجی، سرمایہ ایمان، ۱۳۷۲ش، ص۱۱۵۔
  33. مفید، تصحیح اعتقادات الامامیہ، ۱۴۱۴ھ، ص۱۲۹ و۱۳۰۔
  34. جوادی آملی، وحی و نبوت در قرآن، ۱۳۸۵ش، ص۱۹۸ و ۱۹۹۔
  35. جوادی آملی، وحی و نبوت در قرآن، ۱۳۸۵ش، ص۲۰۰۔
  36. ربانی گلپایگانی، امامت در بینش اسلامی، ۱۳۸۷ش، ص۲۲۰۔
  37. ربانی گلپایگانی، امامت در بینش اسلامی، ۱۳۸۷ش، ص۲۲۰۔
  38. دیکھئے ربانی گلپایگانی، «عصمت امام از نگاہ خرد»، ص۴۵-۶۴۔
  39. سبحانی، منشور جاوید، ۱۳۸۳ش، ج۴،‌ ص۲۵۱۔
  40. دیکھئے طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ھ، ج۴،‌ ص۳۹۱۔
  41. ربانی گلپایگانی، «عصمت امام از نگاہ خرد»، ص۵۸۔
  42. علامہ حلی، کشف المراد، ۱۳۸۲ش، ص۱۸۵؛ مظفر، دلائل الصدھ، ۱۴۲۲ھ، ج۴، ص۲۱۹۔
  43. سورہ بقرہ،‌ آیہ ۱۲۴۔
  44. مظفر، دلائل الصدھ، ۱۴۲۲ھ، ج۴، ص۲۲۰۔
  45. فاضل مقداد،‌ اللوامع الالہیہ، ۱۴۲۲ھ، ص۳۳۲۔
  46. برای نمونہ نگاہ کنید بہ سید مرتضی، الشافی فی الامامۃ، ۱۴۱۰ھ، ج۳، ص۱۳۹؛ طوسی، التبیان فی تفسیر القرآن، دار احیاء‌التراث العربی، ج۱، ص۴۴۹؛ فاضل مقداد،‌ اللوامع الالہیہ، ۱۴۲۲ھ، ص۳۳۲؛ مظفر، دلائل الصدھ، ۱۴۲۲ھ، ج۴، ص۲۲۰۔
  47. سورہ نساء، آیہ ۵۹۔
  48. دیکھئے طوسی،‌ التبیان فی تفسیر القرآن، دار احیاء‌التراث العربی، ج۳،‌ص۲۳۶؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۳،‌ ص۱۰۰؛ بحرانی، منار الہدی، ۱۴۰۵ھ، ص۱۱۳ و ۱۱۴؛ مظفر،‌ دلائل الصدھ، ۱۴۲۲ھ، ج۴، ص۲۲۱۔
  49. نمونہ کے طور پر دیکھئے کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۱، ص۲۷۶، ح۱؛ صدوھ، کمال الدین و تمام النعمۃ، ۱۳۹۵ھ، ج۱،‌ ص۲۵۳؛ خزاز قمی، کفایۃ الاثر، ۱۴۰۱ھ، ص۵۳ و ۵۴؛ بحرانی، غایۃ‌ المرام، ۱۴۲۲ھ، ج۳، ص۱۰۹-۱۱۵۔
  50. برای نمونہ نگاہ کنید بہ طوسی،‌ التبیان فی تفسیر القرآن، دار احیاء‌التراث العربی، ج۳،‌ ص۲۳۶؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۳،‌ ص۱۰۰؛ بحرانی، غایۃ‌ المرام، ۱۴۲۲ھ، ج۳، ص۱۰۹۔
  51. سورہ احزاب، آیہ ۳۳۔
  52. سید مرتضی، الشافی فی الامامۃ، ۱۴۱۰ھ، ج۳، ص۱۳۴ و۱۳۵؛ بحرانی، منار الہدی، ۱۴۰۵ھ، ص۶۴۶ و۶۴۷؛ سبحانی، الالہیات، ۱۴۱۲ھ، ج۴، ص۱۲۵؛ حمود، الفوائد البہیۃ، ۱۴۲۱ھ، ج۲،‌ص۹۲ و ۹۳۔
  53. فاریاب، عصمت امام در تاریخ تفکر امامیہ، ۱۳۹۰ش، ص۳۳۵ و ۳۳۶۔
  54. نمونہ کے طور پر دیکھئے بحرانی، غایۃ‌ المرام، ۱۴۲۲ھ، ج۳، ص۱۹۳-۲۱۱۔ اس مآخذ میں شیعوں سے ۳۴ روایات نقل ہوئی ہیں۔
  55. نمونہ کے طور پر دیکھئے مسلم نیشابوری، صحیح مسلم، دار احیاء‌التراث العربی، ج۴، ص۱۸۸۳، ح۶۱؛‌ ترمذی، سنن تزمذی، ۱۳۹۵ھ، ج۵، ص۳۵۱، ح۳۲۰۵ و ص۳۵۲، ح۳۲۰۶ و ص۶۶۳، ح۳۷۸۷. سید ہاشم بحرانی نے کتاب غایۃ المرام میں ۴۱ روایت اہل‌سنت سے اس سلسلہ میں نقل کی ہیں۔بحرانی، غایۃ‌المرام، ۱۴۲۲ھ، ج۳، ص۱۷۳-۱۹۲۔
  56. بحرانی، غایۃ‌المرام، ۱۴۲۲ھ، ج۳، ص۱۹۳؛ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ھ، ج۱۶، ص۳۱۱ و ۳۱۲؛ سبحانی، منشور جاوید،‌ ۱۳۸۳ش، ج۴، ص۳۸۷-۳۹۲۔
  57. دیکھئے علامہ حلی، کشف المراد، ۱۳۸۲ش، ص۱۹۶؛ ربانی گلپایگانی، امامت در بینش اسلامی، ۱۳۸۷ش، ص۲۷۴-۲۸۰۔
  58. بحرانی، منار الہدی، ۱۴۰۵ھ، ص۶۶۴ و ۶۶۵۔
  59. ربانی گلپایگانی، «افضلیت و عصمت اہل بیت(ع) در آیہ و روایات صلوات»، ص۹-۲۶۔
  60. برای نمونہ نگاہ کنید بہ خزاز قمی، کفایۃ الاثر، ۱۴۰۱ھ، ص۱۶-۱۹، ۲۹، ۳۶-۳۸، ۴۵، ۷۶، ۹۹ و ۱۰۰-۱۰۴؛‌ ابن عقدہ کوفی، فضائل امیرالمؤمنین(ع)، ۱۴۲۴ھ، ص۱۵۴ و ۱۵۵؛ بحرانی، منار الہدی، ۱۴۰۵ھ، ص۶۶۵-۶۷۳۔
  61. دیکھئے مفید،‌ المسائل الجارودیہ، ۱۴۱۳ھ، ص۴۲؛ ابن عطیہ، ابہی المداد، ۱۴۲۳ھ، ج۱، ص۱۳۱؛‌ بحرانی، منار الہدی، ۱۴۰۵ھ، ص۶۷۱؛ حمود، الفوائد البہیۃ، ۱۴۲۱ھ، ج۲،‌ ص۹۵۔
  62. ابن عطیہ، ابہی المداد، ۱۴۲۳ھ، ج۱، ص۱۳۱؛‌ بحرانی، منار الہدی، ۱۴۰۵ھ، ص۶۷۱؛ حمود، الفوائد البہیۃ، ۱۴۲۱ھ، ج۲،‌ ص۹۵۔
  63. حلبی، الکافی فی الفقہ، ۱۴۰۳ھ، ص۹۷۔
  64. دیکھئے خزاز قمی، کفایۃ الاثر، ۱۴۰۱ھ، ص۸۷، ۹۲، ۱۲۹ و ۱۳۷؛‌ صدوھ، عیون اخبار الرضا(ع)، ۱۳۷۸ھ، ج۱، ص۵۷۔
  65. مناوی، فیض القدیر، ۱۳۵۶ھ، ج۳، ص۱۴۔
  66. ابن حجر ہیتمی، الصواعق المحرقۃ، ۱۴۱۷ھ، ج۲،‌ ص۴۴۲ و ۴۴۳۔
  67. ابن عطیہ، ابہی المداد، ۱۴۲۳ھ، ج۱، ص۱۳۰؛‌ بحرانی، منار الہدی، ۱۴۰۵ھ، ص۶۷۰۔
  68. بحرانی، الحدائق الناضرۃ، دفتر نشر اسلامی، ج۹،‌ ص۳۶۰؛ مازندرانی، شرح الکافی، ۱۳۸۲ھ، ج۶، ص۱۲۴۔
  69. برای نمونہ نگاہ کنید بہ التفسیر المنسوب الی الامام الحسن العسکری، ۱۴۰۹ھ، ص۵۴۶؛ صدوھ، عیون اخبار الرضا(ع)، ۱۳۷۸ھ، ج۲،‌ ص۲۷؛ طوسی،‌ الامالی، ۱۴۱۴ھ، ص۲۵۹ و ۳۷۹۔
  70. بطور نمونہ دیکھئے ابن حنبل، فضائل الصحابہ،‌ ۱۴۰۳ھ، ج۲،‌ ص۶۷۱؛ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ۱۴۱۱ھ، ج۲، ص۴۸۶ و ج۳، ص۵۱۷؛ طبرانی، المعجم الکبیر، نشر مکتبۃ ابن‌تیمیۃ، ج۷،‌ ص۲۲؛‌ ابن عساکر، تاریخ دمشھ، ۱۴۱۵ھ، ج۴۰، ص۲۰۔
  71. نگاہ کنید بہ ربانی گلپایگانی و فاطمی‌نژاد، «حدیث امان و امامت اہل بیت(ع)»، ص۳۱۔
  72. خزاز قمی، کفایۃ الاثر، ۱۴۰۱ھ، ص۲۹۔
  73. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ۱۴۱۱ھ، ج۲، ص۴۸۶۔
  74. بطور نمونہ دیکھئے صدوھ، عیون اخبار الرضا(ع)، ۱۳۷۸ھ، ج۲،‌ ص۲۷؛ صفار، بصائر الدرجات، ص۲۹۷؛ خزاز قمی، کفایۃ الاثر، ۱۴۰۱ھ، ص۳۴؛ طوسی،‌ الامالی، ۱۴۱۴ھ، ص۶۰، ۲۴۹، ۴۵۹، ۴۸۲، ۵۱۳ و ۷۳۳؛ ۔بحرانی، غایۃ‌المرام، ۱۴۲۲ھ، ج۳، ص۱۳-۲۴۔
  75. بطور نمونہ دیکھئے ابن حنبل، فضائل الصحابہ،‌ ۱۴۰۳ھ، ج۲،‌ ص۷۸۵؛ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ۱۴۱۱ھ، ج۲، ص۳۷۳ و ج۳، ص۱۶۳؛ طبرانی، المعجم الکبیر، نشر مکتبۃ ابن‌تیمیۃ، ج۳،‌ ص۴۵؛‌ مناوی، فیض القدیر، ۱۳۵۶ھ، ج۲، ص۵۱۹ و ج۵، ص۵۱۷۔
  76. موسوی شفتی، الامامۃ، ۱۴۱۱ھ، ص۲۰۹۔
  77. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ۱۴۱۱ھ، ج۳، ص۱۶۳۔
  78. میرحامد حسین، عبقات الانوار، ج۲۳، ص۶۵۵ و ۶۵۶۔
  79. خزاز قمی، کفایۃ الاثر، ۱۴۰۱ھ، ص۳۴، ۲۱۰ و ۲۱۱؛ حلبی، الکافی فی الفقہ، ۱۴۰۳ھ، ص۹۷۔
  80. مناوی، فیض القدیر، ۱۳۵۶ھ، ج۲، ص۵۱۹۔
  81. ابن تیمیہ،‌ منہاج السنۃ النبویۃ، ۱۴۰۶ھ، ج۷،‌ ص۲۲۰۔
  82. قفاری، اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ، ۱۴۳۱ھ، ج۲، ص۷۷۷-۷۷۹۔
  83. مدرسی طباطبایی، مکتب در فرآیند تکامل، ص۳۹، بہ نقل از: قربانی مبین و محمدرضایی، «پژوہشی در عصمت امامان»، ص۱۵۳۔
  84. قفاری، اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ، ۱۴۳۱ھ، ج۲، ص۷۷۷۔
  85. قربانی مبین و محمدرضایی، «پژوہشی در عصمت امامان»، ص۱۵۸۔
  86. نگاہ کریں: صدوق، الخصال، ۱۳۶۲ش، ص۱۲۹؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۲۵، ص۱۶۴۔
  87. ابن عقدہ، فضائل امیرالمؤمنین(ع)، ۱۴۲۴ھ، ص۱۵۴؛ خزاز قمی، کفایۃ الاثر، ۱۴۰۱ھ، ص۳۰۲ و ۳۰۳۔
  88. برای نمونہ نگاہ کریں: حمویی، فرائد السمطین، مؤسسہ المحمودی، ج۲،‌ ص۱۳۳ و۳۱۳۔
  89. قفاری، اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ، ۱۴۳۱ھ، ج۲، ص۷۷۶۔
  90. امین، ضحی الاسلام، مؤسسہ ہنداوی، ج۳، ص۸۶۴۔
  91. دیکھئے سبحانی، راہنمای حقیقت، ۱۳۸۷ش، ص۱۱۴ و ۱۱۵۔
  92. دیکھئے سبحانی، راہنمای حقیقت، ۱۳۸۷ش، ص۳۶۵۔
  93. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۸، ص۳۵۶؛ نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، خطبہ ۲۱۶، ص۳۳۵۔
  94. دیکھئے آلوسی، روح المعانی، ۱۴۱۵ھ، ج۱۱، ص۱۹۸؛ امین، ضحی الاسلام، مؤسسہ ہنداوی، ج۳، ص۸۶۱؛ دہلوی، تحفہ اثنی عشری، مکتبۃ الحقیقۃ، ص۳۷۳ و ۴۶۳؛ قفاری، اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ، ۱۴۳۱ھ، ج۲،‌ ص۷۹۳۔
  95. مجلسی، مرآۃ العقول، ۱۴۰۴ھ، ج۲۶، ص۵۲۷ و ۵۲۸۔
  96. مازندرنی، شرح الکافی، ج۱۲، ۱۳۸۲ھ، ص۴۸۵ و ۴۸۶۔
  97. سورہ یوسف، آیہ ۵۳۔
  98. مکارم شیرازی، پیام امام امیرالمؤمنین(ع)، ۱۳۸۶ش، ج۸، ص۲۶۹۔
  99. نگاہ کنید بہ قفاری، اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ، ۱۴۳۱ھ، ج۲، ص۷۹۴-۷۹۶؛ دہلوی، تحفہ اثنی عشری، مکتبۃ الحقیقۃ، ص۴۶۳۔
  100. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۲، ص۴۳۸، ۴۵۰ و ۵۰۵۔
  101. مجلسی، لوامع صاحبقرانی، ۱۴۱۴ھ، ج۴، ص۱۸۵۔
  102. آلوسی، روح المعانی،‌ ۱۴۱۵ھ، ج۱۱، ص۱۹۸۔
  103. مجلسی، لوامع صاحبقرانی، ۱۴۱۴ھ، ج۴، ص۱۸۵؛ اربلی، کشف الغمۃ فی معرفۃ‌الائمہ، ۱۳۸۱ھ، ج۲، ص۲۵۳ و ۲۵۴؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۲۵، ص۲۱۰۔
  104. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۲۵، ص۲۱۰۔
  1. ملکہ نفسانی، ایک ایسی حواس کی مقررہ و ثابت حالت ہے جو انسانی روح میں داخل ہوتی ہے اور آسانی سے ختم نہیں ہوتی۔(جرجانی، التعریفات، ۱۴۱۲ھ، ص۱۰۱)

مآخذ

  • آلوسی، محمود بن عبداللہ، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم و السبع المثانی، تحقیق علی عبدالباری عطیہ، بیروت، دار الکتب العلمیہ - منشورات محمد علی بیضون، چاپ اول، ۱۴۱۵ھ۔
  • ابن تیمیہ، احمد بن عبدالحلیم، منہاج السنۃ النبویۃ فی نقض کلام الشیعۃ القدریۃ، تحقیق محمد رشاد سالم، ریاض، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ، چاپ اول، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶ء۔
  • ابن حجر ہیتمی، احمد بن محمد، الصواعق المحرقۃ علی اہل الرفض و الضلال والزندقۃ، تحقیق عبدالرحمن بن عبداللہ الترکی و کامل محمد الخراط، بیروت، مؤسسہ الرسالۃ، چاپ اول، ۱۴۱۷ق-۱۹۹۷ء۔
  • ابن حنبل، احمد بن محمد بن حنبل، فضائل الصحابہ،‌ تحقیق وصی‌اللہ محمد عباس، بیروت، مؤسسہ الرسالۃ، چاپ اول، ۱۴۰۳ق-۱۹۸۳ء۔
  • ابن عبدالوہاب، محمد بن عبدالوہاب بن سلیمان، رسالۃ فی الرد علی الرافضۃ، تحقیق ناصر بن سعد الرشید، ریاض، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ، بی‌تا۔ (این رسالہ در جلد دوازدہم از مؤلفات محمد بن عبدالوہاب، بہ چاپ رسیدہ است)
  • ابن عساکر، علی بن حسن، تاریخ دمشھ، تحقیق عمرو بن غرامۃ العمروی، بیروت، دارالفکر، ۱۴۱۵ق-۱۹۹۵ء۔
  • ابن عطیہ، مقاتل، اَبہی المداد فی شرح مؤتمر علماء بغداد، شرح و تحقیق محمد جمیل حمود، بیروت، مؤسسہ الاعلمی، چاپ اول، ۱۴۲۳ھ۔
  • ابن عقدہ کوفی، احمد بن محمد، فضائل امیرالمؤمنین(ع)، تحقیق و تصحیح عبدالرزاق محمد حسین حرزالدین، قم، دلیل ما، چاپ اول، ۱۴۲۴ھ۔
  • ‌ابن فارس، احمد، معجم مقاییس اللغۃ، تحقیق عبدالسلام محمد ہارون، قم، مکتب الاعلام الاسلامی، چاپ اول، بے‌تا۔
  • ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت، دار صادر، چاپ سوم، بے‌تا۔
  • اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمۃ فی معرفۃ‌الائمہ (طبع قدیم)، تحقیق و تصحیح سید ہاشم رسولی محلاتی، تبریز، بنی‌ ہاشم، چاپ اول، ۱۳۸۱ھ۔
  • امین، احمد، ضحی الاسلام، قاہرہ، مؤسسہ ہنداوی، بے‌تا۔
  • باذلی، رضا، «الہی بودن منصب امامت»، در موسوعہ رد شبہات(۱۶)؛ امامت (۱)، تہران، انتشارات مشعر، چاپ اول، ۱۳۹۸ ہجری شمسی۔
  • بحرانی، سید ہاشم، غایۃ المرام و حجۃ الخصام فی تعیین الامام، تحقیق سید علی عاشور، بیروت،‌ مؤسسہ تاریخ اسلامی، چاپ اول، ۱۴۲۲ھ۔
  • بحرانی، شیخ علی، منار الہدی فی النص علی امامۃ الائمۃ الاثنی عشر، تحقیق عبدالزہرا خطیب، بیروت، دار المنتظر، ۱۴۰۵ھ۔
  • بحرانی، یوسف، الحدائق الناضرۃ فی احکام العترۃ الطاہرۃ، قم، دفتر نشر اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ، بے‌تا۔
  • ‌ ترمذی، محمد بن عیسی، سنن تزمذی، تحقیق و تعلیق احمد محمد شاکر، محمد فؤاد عبدالباقی و ابراہیم عطوہ، مصر، شرکۃ مکتبۃ و مطبعۃ مصطفى البابی الحلبی، چاپ دوم، ۱۳۹۵ق-۱۹۷۵ء۔
  • تفتازانی، سعدالدین، شرح المقاصد، تحقیق و تعلیقہ عبدالرحمن عمیرہ، قم، شریف رضی، چاپ اول، ۱۴۰۹ھ۔
  • التفسیر المنسوب الی الامام الحسن العسکری، تحقیق محمد باقر موحد ابطحی، قم، مدرسہ امام مہدی(ع)، چاپ اول، ۱۴۰۹ھ۔
  • جرجانی، میر سید شریف، التعریفات، تہران، ناصر خسرو، چاپ چہارم، ۱۴۱۲ھ۔
  • جرجانی، میر سید شریف، شرح المواقف، تحقیق بدرالدین نعسانی، قم، شریف رضی، چاپ اول، ۱۳۲۵ھ۔
  • جوادی آملی، عبداللہ، وحی و نبوت در قرآن (تفسیر موضوعی قرآن کریم،‌ ج۳)، تحقیق و تنظیم علی زمانی قمشہ‌ای، قم، نشر اسراء، چاپ سوم، ۱۳۸۵ ہجری شمسی۔
  • جوہری،‌ اسماعیل بن حماد، الصحاح تاج اللغۃ و صحاح العربیۃ، تحقیق احمد عبدالغفور عطار، بیروت، دار العلم، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ھ۔
  • حاکم نیشابوری، محمد بن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، تحقیق مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، چاپ اول، ۱۴۱۱ق-۱۹۹۰ء۔
  • حلبی، ابوالصلاح، الکافی فی الفقہ، تحقیق رضا استادی، اصفہان، مکتبۃ امیرالمؤمنین،‌ چاپ اول، ۱۴۰۳ھ۔
  • حمود، محمد جمیل، الفوائد البہیۃ فی شرح عقائد الامامیۃ، بیروت، مؤسسہ الاعلمی،‌ چاپ دوم، ۱۴۲۱ھ۔
  • ‌ حمویی، ابراہیم بن محمد، فرائد السمطین، تحقیق محمد باقر محمودی، بیروت، مؤسسہ المحمودی، بےتا۔
  • خزاز قمی، علی بن محمد، کفایۃ الاثر فی النص علی الائمۃ الاثنی عشر، تحقیق و تصحیح عبدالطیف حسینی کوہ‌کمری، قم، بیدار، ۱۴۰۱ھ۔
  • دہلوی، عبدالعزیز، تحفہ اثنی عشری، استانبول، مکتبۃ الحقیقۃ، بے‌تا۔
  • ‌ راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات الفاظ القرآن، بیروت، دار قلم، چاپ اول، بے‌تا۔
  • ربانی گلپایگانی، علی، امامت در بینش اسلامی، قم، بوستان کتاب، چاپ دوم، ۱۳۸۷ ہجری شمسی۔
  • ربانی گلپایگانی، علی، «افضلیت و عصمت اہل بیت(ع) در آیہ و روایات صلوات»، فصلنامہ کلام اسلامی، شمارہ ۹۹، پاییز ۱۳۹۵ ہجری شمسی۔
  • ربانی گلپایگانی، علی و علی رضا فاطمی‌ نژاد، «حدیث امان و امامت اہل بیت(ع)»،‌ فصلنامہ کلام اسلامی، شمارہ ۱۰۰، زمستان ۱۳۹۵ ہجری شمسی۔
  • ربانی گلپایگانی، علی، «عصمت امام از نگاہ خرد»، فصلنامہ قبسات، شمارہ ۴۵، پاییز ۱۳۸۶ ہجری شمسی۔
  • سبحانی، جعفر، الالہیات علی ہدی الکتاب و السنۃ و العقل، قم، المرکز العالمی للدراسات الاسلامیۃ، چاپ اول، ۱۴۱۲ھ۔
  • سبحانی، جعفر، منشور جاوید، قم، مؤسسہ امام صادق(ع)، چاپ اول، ۱۳۸۳ ہجری شمسی۔
  • سید مرتضی، علی بن حسین، الشافی فی الامامۃ، تحقیق و تعلیق سید عبدالزہرا حسینی، تہران، مؤسسہ الصادق(ع)، چاپ دوم، ۱۴۱۰ھ۔
  • صدوق، محمد بن علی بن بابویہ، الخصال، تحقیق و تصحیح علی اکبر غفاری، قم، جامعہ مدرسین، چاپ اول، ۱۳۶۲ ہجری شمسی۔
  • صدوق،‌ محمد بن علی بن بابویہ، عیون اخبار الرضا(ع)، تحقیق مہدی لاجوردی، تہران،‌ نشر جہان، چاپ اول، ۱۳۷۸ھ۔
  • صدوق، محمد بن علی بن بابویہ، کمال الدین و تمام النعمۃ، تحقیق علی اکبر غفاری، تہران،‌ اسلامیہ، چاپ دوم، ۱۳۹۵ھ۔
  • طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، مکتبۃ النشر الاسلامی، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ھ۔
  • طبرانی، سلیمان بن احمد، المعجم الکبیر، تحقیق حمدی بن عبدالمجید السفلی، قاہرہ،‌ نشر مکتبۃ ابن‌ تیمیۃ، چاپ دوم، بی‌تا۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران،‌ ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ہجری شمسی۔
  • طوسی،‌ محمد بن حسن، الامالی، قم،‌ دار الثقافۃ، چاپ اول، ۱۴۱۴ھ۔
  • طوسی، خواجہ نصیر الدین، تلخیص المحصل المعروف بنقد المحصل، بیروت، دارالضواء، چاپ دوم، ۱۴۰۵ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، الاقتصاد فیما یتعلق بالاعتقاد، بیروت، دار الاضواء، چاپ دوم، ۱۴۰۶ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار احیاء‌التراث العربی، چاپ اول، بے‌تا۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، الباب الحادی عشر، تہران، مؤسسہ مطالعات اسلامی، ۱۳۶۵ ہجری شمسی۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد قسم الالہیات، بہ کوشش جعفر سبحانی، قم، مؤسسہ امام صادق(ع)، چاپ دوم، ۱۳۸۲ ہجری شمسی۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، نہج الحق و کشف الصدق، بیروت، دار الکتاب اللبنانی، چاپ اول، ۱۹۸۲ء۔
  • ‌فاریاب، محمد حسین، عصمت امام در تاریخ تفکر امامیہ تا پایان قرن پنجم ہجری، قم، مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی، چاپ اول، ۱۳۹۰ ہجری شمسی۔
  • ‌ فاضل مقداد،‌ مقداد بن عبداللہ، اللوامع الالہیہ فی المباحث الکلامیۃ، تحقیق و تعلیق شہید قاضی طباطبایی، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، چاپ دوم، ۱۴۲۲ھ۔
  • فیاض لاہیجی، عبدالرزاق، سرمایہ ایمان در اصول اعتقادات، تصحیح صادق لاریجانی، تہران، انتشارات الزہراء، چاپ سوم، ۱۳۷۲ ہجری شمسی۔
  • فیاض لاہیجی، عبدالرزاق، گوہر مراد، تہران، نشر سایہ، چاپ اول، ۱۳۸۳ ہجری شمسی۔
  • قاضی عبدالجبار، عبدالجبار بن احمد، المغنی فی ابواب التوحید و العدل، تحقیق جورج قنواتی، قاہرہ، الدار المصریہ، ۱۹۶۲-۱۹۶۵ء۔
  • قربانی مبین، حمیدرضا و محمد محمدرضایی، «پژوہشی در عصمت امامان»، فصلنامہ انجمن معارف اسلامی، شمارہ ۲۳، تابستان ۱۳۸۹ ہجری شمسی۔
  • قفاری، ناصر عبداللہ علی، اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ: عرض و نقد، جیزہ، دار الرضا، چاپ چہارم، ۱۴۳۱ق-۲۰۱۰ء۔
  • مازندرانی، محمد صالح بن احمد، شرح الکافی (الاصول و الروضۃ)، تصحیح ابوالحسن شعرانی، تہران، المکتبۃ الاسلامیہ، چاپ اول، ۱۳۸۲ھ۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء‌التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ھ۔
  • مجلسی، محمد باقر، مرآۃ العقول فی شرح اخبار آل الرسول، تحقیق و تصحیح سید ہاشم رسولی محلاتی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ دوم، ۱۴۰۴ھ۔
  • مجلسی، محمد تقی، لوامع صاحبقرانی مشہور بہ شرح فقیہ، قم، مؤسسہ اسماعیلیان، چاپ دوم، ۱۴۱۴ھ۔
  • مسلم نیشابوری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، تحقیق محمد فؤاد عبدالباقی، بیروت، دار احیاء‌التراث العربی،‌ بے‌تا۔
  • مصباح یزدی، محمد تقی، راہ و راہنمایی شناسی، قم، انتشارات موسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی(رہ)، ۱۳۹۵ ہجری شمسی۔
  • مصطفوی، حسن، التحقیق فی کلمات القرآن، تہران، مرکز الکتاب للترجمہ و النشر، چاپ اول، ۱۴۰۲ھ۔
  • ‌ مظفر، محمد حسین، دلائل الصدق، قم، مؤسسہ آل البیت (ع)، چاپ اول، ۱۴۲۲ھ۔
  • مفید، محمد بن نعمان، تصحیح اعتقادات الامامیہ، قم، کنگرہ شیخ مفید، چاپ دوم، ۱۴۱۴ھ۔
  • مفید،‌ محمد بن محمد، المسائل الجارودیہ، قم، المؤتمر العالمی للشیخ المفید، چاپ اول، ۱۴۱۳ھ۔
  • ‌ مکارم شیرازی، ناصر، پیام امام امیرالمؤمنین(ع)، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ اول، ۱۳۸۶ ہجری شمسی۔
  • مناوی، عبدالرؤوف بن تاج العارفین، فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، مصر، المکتبۃ التجاریۃ الکبری، چاپ اول، ۱۳۵۶ھ۔
  • ‌ موسوی شفتی، سید اسداللہ، الامامۃ، تحقیق سید مہدی رجائی، اصفہان، مکتبۃ حجۃ الاسلام الشفتی، چاپ اول، ۱۴۱۱ھ۔
  • نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، قم، ہجرت، چاپ اول، ۱۴۱۴ھ۔

بیرونی روابط