حضرت فاطمہ زہرا سلام‌ اللہ علیہا

ویکی شیعہ سے
(حضرت فاطمہ زہراء(س) سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
فاطمہ ؑ
بقیع1.jpg
کردار معصومہ، اصحاب کساء
نام فاطمہ ؑ
کنیت ام ابیہا، ام الائمہ، ام الحسن، ام الحسین اور ام المحسن
ولادت 20 جمادی الثانی، بعثت کے پانچویں سال
محل پیدائش مکہ
شہادت 3 جمادی الثانی، سنہ 11ہجری۔
مدفن نامعلوم
محل سکونت مکہ، مدینہ
القاب زہرا، صدیقہ، طاہره، راضیہ، مرضیہ، مبارکہ، بتول
والد ماجد پیغمبر اسلام ؐ
والدہ ماجدہ خدیجۂ کبری سلام اللہ علیہا
شریک حیات امام علیؑ
اولاد امام حسنؑ، امام حسینؑ، حضرت زینبؑ اور ام کلثومؑ
عمر از 18 تا 28 سال


حضرت فاطمہؑ رسول اللہؐ اور حضرت خدیجہؑ کی بیٹی، امام علیؑ کی شریک حیات، امام حسنؑ، امام حسینؑ اور جناب زینبؑ کی والدہ گرامی ہیں۔ اہل تشیع آپؑ کی عصمت کے قائل ہیں۔ زہرا، بَتول اور دیگر بہت سے القاب مذکور ہیں۔

مباہلہ کے دن رسول اکرمؐ خواتین میں سے صرف آپ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ سورہ کوثر، آیہ تطہیر، آیہ مودت، آیہ اطعام اور پیغمبر اکرمؐ کی مشہور احادیث جیسے حدیث بِضعہ اور حدیث لولاک آپ کی فضیلت میں وارد ہوئیں ہیں۔رسول اکرمؑ کی طرف سے آپ کو تعلیم کردہ ذکر، تسبیحات حضرت زہرا کے نام سے مشہور ہے۔

مصحف فاطمہؑ آپ کے الہامات کا مجموعہ ہے جسے امام علیؑ نے تحریر فرمایا۔

پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں خلیفہ اول کے انتخاب کی مخالفت، حضرت ابوبکر کی بیعت سے انکار نیز بعض صحابہ سے ناراضگی، باغ فدک کا غصب، امام علیؑ کی خلافت کے دفاع میں خطبۂ فدکیہ، آپ کے گھر پر بعض صحابہ کا حملہ جس کے نتیجے میں آپ کی شہادت ہونا اور مخفیانہ دفن ہونا رسول خدا کے بعد آپ کی زندگی کے اہم واقعات ہیں۔

اہل تشیع کے نزدیک آپکی سیرت نمونہ عمل ہے اور وہ ایام فاطمیہ کے نام سےانکی شہادت کے ایام مناتے ہیں۔ایران میں حکومتی سطح پر آپؑ کی ولادت کا دن یوم خواتین کا دن ہے نیز فاطمہ اور زہرا سب سے زیادہ رکھے جانے والے نام ہیں۔

نسب، کنیت، لقب

حضرت فاطمہؑ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت خدیجہ کبری سلام اللہ علیہا کی بیٹی ہیں۔ آپ کے القاب کی تعداد 30 تک بتائی گئی ہیں جن میں سے زہرا، صدیقہ، مُحَدَّثہ، بَتول، سیدة نساء العالمین، منصورہ، طاہرہ، مطہرہ، زَکیہ، مبارکہ، راضیہ، مرضیہ و غیرہ آپ کے مشہور القاب میں سے ہیں۔[1] محققین کا کہنا ہے کہ ان القاب میں سے ہر ایک آپ کی کسی ایک خصوصیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان القابات میں سے بعض القاب ہمیشہ آپ کے نام کے ہمراہ آتے ہیں جیسے "فاطمہ زہرا" (عربی میں "فاطمة الزہراء") یہاں تک کہ عرف عام میں اسی لقب کو ہی آپ کے نام کے طور پر بروئے کار لایا جاتا ہے۔ [2] آپؑ کی کئی کنیتیں ہیں جن میں سے مشہور ترین ام ابیہا، ام الائمة، ام الحسن، ام الحسین اور ام المحسن ہیں۔[3]

سوانح حیات

حضرت فاطمہؑ کی زندگی تاریخ کے آئینے میں

فاطمه الزهرا2.jpg

20 جمادی‌الثانی سن5 بعثت ولادت
10 رمضان سن 10 بعثت والدہ ماجده خدیجہ کی رحلت[4]
اواخر صفر سن 2 ہجری حضرت علی بن ابی طالب(ع) کے ساتھ نکاح [5]
1 ذی‌الحجہ سن 2 ہجری حضرت علی(ع) کے ساتھ شادی اور رخصتی [6]
15 رمضان سن 3 ہجری امام حسن(ع) کی ولادت [7]
7 شوال سن 3 قمری غزوہ احد میں پیغمبر(ص) کے زخموں کے مداوا کیلئے حاضر ہونا [8]
3 شعبان سن 4 قمری امام حسین(ع) کی ولادت [9]
5 جمادی‌الاول سن 5 یا 6 قمری ولادت حضرت زینب(س)[10]
سن 6 قمری ولادت ام‌کلثوم[11]
سن 7 ہجری پیغمبر(ص) کی جانب سے باغ فدک کا حضرت فاطمہ(س) کیلئے ہبہ کرنا[12]
24 ذی‌الحجہ سن 9 ہجری نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کیلئے حاضر ہونا[13]
28 صفر یا 12 ربیع‌الاول سن 11 قمری رحلت پیغمبر اکرم(ص)[14]
ربیع الاول 11 ہجری۔ ابوبکر کے حکم پر فدک کو آپ سے واپس لے لینا
ربیع الاول 11 ہجری. مسجد نبوی میں خطبہ فدکیہ ارشاد فرمانا
ربیع الاول 11 ہجری. والد بزرگوار کے فراق میں عزا کی خاطر حضرت فاطمہ(س) کیلئے امام علی(ع) کے ذریعہ بقیع میں بیت الاحزان کی تعمیر
ربیع الثانی 11 ہجری. حضرت فاطمہ(س) کے دروازے پر ہجوم اور محسن بن علی کی شہادت
13 جمادی‌الاول یا 3 جمادی‌الثانی 11 ہجری. شہادت[15]


حضرت فاطمہؑ، پیغمبر اکرمؐ کی اولاد میں چوتھے یا پانچویں نمبر پر ہیں اور آپؑ کی والدہ ماجدہ حضرت خدیجہ ہیں۔ تمام مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت فاطمہؑ مکہ مکرمہ میں حضرت خدیجہ کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ [16] شیعہ مصادر میں آپ کی تاریخ ولادت 20 جمادی‌الثانی ذکر ہوئی ہے۔[17]

بچپن کا دور

شیعوں کے یہاں مشہور قول کی بنا پر حضرت فاطمہؑ بعثت کے پانچویں سال - سنہ احقافیہ(سورہ احقاف کا سال نزول) - متولد ہوئیں۔ [18] صرف شیخ مفید اور کفعمی نے آپ کی ولادت کو بعثت کے دوسرے سال میں ذکر کیا ہے۔[19] لیکن اہل سنت کے مطابق آپ کی ولادت بعثت سے پانچ سال پہلے ہوئی ہے۔[20] آپ کی زندگی کے ابتدائی ایام کے بارے میں تاریخی حوالہ جات کی کمی کی وجہ سے، دقیق معلومات حاصل کرنا مشکل ہے۔[21] تاریخی اسناد کے مطابق، حضرت زہراء نے حضورؐ کی دعوت کے علنی ہونے کے بعد، مشرکین کی طرف سے اپنے بابا پر کئے جانے والے تشدد اور ناروا سلوک کو نزدیک سے دیکھا۔ اس کے علاوہ بچپن کے تین سال آپ نے شعب ابی طالب میں گزاریں، جس دوران مشرکین مکہ نے بنی ہاشم اور حضورؐ کے چاہنے والوں کے ساتھ سوشل بائیکاٹ کیا ہوا تھا۔[22] اسی طرح آپ بچپن میں ہی اپنی والدہ کی شفقت اور اپنے بابا رسول خدا کے چچااور اہم حامی حضرت ابوطالب کے سایے سے محروم ہوئیں۔ [23] اس کے علاوہ قریش کا حضورؐ کو قتل کرنے کا منصوبہ، [24] پیغمبرؐ کا رات کے وقت مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا اور آپ کا بنی ہاشم کی بعض دیگر خواتین سمیت حضرت علیؑ کے ہمراہ مدینہ ہجرت کرنا، حضرت فاطمہؑ کے بچپن کے کچھ واقعات ہیں۔ [25]

ازدواج

حضرت فاطمہؑ کا رشتہ مانگنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور بہت سے اکابرین اور صحابہ جیسے حضرت علیؑ ، عمر، ابوبکر اور عبدالرحمن بن عوف وغیرہ نے آپؑ کا رشتہ مانگا، لیکن رسول اللہؐ نے سوائے حضرت علیؑ کے باقی سب کا رشتہ یہ فرماتے ہوئے مسترد کیا کہ میری بیٹی فاطمہ کا رشتہ ایک الہی امر ہے لہذا اس حوالے سے میں وحی کا منتظر ہوں ۔[26] جبکہ بعض دفعہ حضرت فاطمہؑ کی نارضایتی کا بھی تذکرہ کیا ہے۔[27] لیکن جب علیؑ نے رشتہ مانگا تو آپؐ نے قبول کیا[28] اور حضرت فاطمہؑ سے مخاطب ہوکر فرمایا: زَوَّجْتُكِ أَقْدَمَ أُمَّتِي اسلاماً (ترجمہ: میں نے تمہیں اس امت کے اولین مسلمان کے ساتھ بیاہ دیا)۔[29]

امام علیؑ پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ خاندانی تعلق اور خود حضرت فاطمہؑ کی اخلاقی اور دینی خصوصیات کی وجہ سے اس رشتے کی دلی خواہش رکھتے تھے۔[30] لیکن مورخین کے بقول آپ میں یہ جرأت پیدا نہیں ہو رہی تھی کہ رسول اکرمؐ کی چہیتی بیٹی کا رشتہ مانگے۔[31] سعد بن معاذ نے اس مسئلے میں پیش قدمی کرتے ہوئے حضرت علیؑ کی درخواست کو پیغمبر اکرمؐ تک منتقل کیا۔ پیغمبر اکرمؐ نے اس رشتے کے ساتھ اپنی رضایت کا اظہار ہوئے [32] اس درخواست کو اپنی بیٹی حضرت فاطمہؑ کے سامنے رکھا اور انہیں حضرت علیؑ کی اخلاقی فضائل اور حسن کردار سے آگاہ فرمایا جس پر حضرت فاطمہ نے بھی اپنی رضایت کا اظہار فرمایا۔[33] ہجرت کے ابتدائی ایام میں دوسرے مہاجرین کی طرح حضرت علیؑ کی مالی اور اقتصادی حالت بھی کوئی مناسب نہیں تھی یوں مہر کی ادائیگی اور شادی کے اخراجات برداشت کرنا آپ کیلئے بہت سخت اور مشکل کام تھا۔[34] اس بنا پر آپؑ نے پیغمبر اکرمؐ کے کہنے پر اپنا زرہ بیچ کر یا اسے گروی رکھ کر حضرت فاطمہ کا مہر ادا کیا۔[35] یوں مسجد نبوی میں مسلمانوں کے بھرے محفل میں حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہؑ کا عقد پڑھا گیا۔[36] اس حوالے سے بھی مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہ عقد کس تاریخ کو پڑھا گیا۔ اکثر مصادر میں اس حوالے سے ہجرت کے دوسرے سال کا تذکره ملتا ہے۔[37] رخصتی جنگ بدر کے بعد یعنی شوال یا ذی‌الحجہ سن 2 ہجری قمری کو ہوئی۔[38]

ازدواجی زندگی

احادیث اور تاریخی مصادر میں آیا ہے کہ حضرت فاطمہؑ امام علیؑ کے ساتھ نہایت محبت آمیز رویہ اختیار کرتی تھیں اور آپؑ کو بہترین شوہر اور مددگار سمجھتی تھیں۔یہاں تک کہ پیغمبر اکرمؐ کے حضور میں بھی۔[39] اور حضرت علیؑ کا احترام کرنا آپؑ کی خصوصیات میں سے ایک شمار کیا گیا ہے۔ تاریخ میں آیا ہے کہ آپ گھر کے اندر حضرت علیؑ کے ساتھ ہمیشہ محبت‌آمیز کلمات کے ساتھ گفتگو فرماتی تھیں اور لوگوں کے سامنے حضرت علیؑ کو ان کی کنیت اباالحسن سے پکارتی تھیں۔[40] احادیث میں آیا ہے کہ حضرت فاطمہؑ اپنے آپ کو حضرت علیؑ کیلئے آراستہ کرتی اور مختلف زیور آلات جیسے گردن بند اور گوشوارہ وغیرہ کا استعمال کرتی تھیں۔[41] اور بعض موقعوں پر زیورات کو اللہ کی راہ میں دینے کے واقعے بھی نقل ہوئی ہیں۔

حضرت فاطمہؑ اور حضرت علیؑ کی زندگی کے ابتدائی ایام نہایت سخت اور دشوار اقتصادی حالات سے دوچار تھی۔[42] یہاں تک کہ بعض اوقات حسنینؑ کو پیٹ بھر کر کھانے کیلئے بھی کوئی چیز میسر نہیں ہوتی تھی۔[43] لیکن حضرت فاطمہؑ نے اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں کی اور چہ بسا گھریلو اخراجات پورا کرنے کی خاطر اپنے شوہر نامدار کی مدد کرنے کیلئے اون بھی کاتا کرتی تھیں۔[44]

گھر کے داخلی امور کو حضرت فاطمہؑ جبکہ بیرونی امور کو حضرت علیؑ انجام دیتے تھے۔[45] یہاں تک کہ جس وقت پیغمبر اکرمؐ نے فضہ کو بطور کنیز آپ کی خدمت کیلئے بھیجا تو اس وقت بھی آپ گھر کے تمام امور کو ان کے ذمہ نہیں لگاتی بلکہ آدھے امور کو خود انجام دیتی اور آدھے امور کو فضہ کے سپر کرتی تھیں۔[46] اس سلسلے میں تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ایک دن گھر کے امور کو فضہ انجام دیتی جبکہ دوسرے دن آپ خود ان امور کو انجام دیتی تھیں۔[47]

اولاد

شیعہ اور اہل‌ سنت دونوں مصادر کا اس بات پر اتفاق نظر ہے کہ امام حسنؑ[48]، امام حسینؑ[49]، حضرت زینبؑ[50] اور ام‌کلثوم، [51] حضرت فاطمہ اور امام علیؑ کی اولاد میں سے ہیں۔[52] شیعہ اور بعض اہل سنت مصادر میں ایک اور بیٹے کا نام بھی لیا گیا ہے جو پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد حضرت زہراؑ کے ساتھ پیش آنے والے حوادث میں سقط ہو گیا جس کا نام محسن رکھا گیا تھا۔[53]

زندگی کے آخری ایام

حضرت فاطمہؑ کی زندگی کے آخری مہینوں میں کچھ تلخ اور ناگوار واقعات رونما ہوئے جن کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اس مدت میں کسی نے بھی حضرت فاطمہ زہراؑ کے لبوں پر مسکراہٹ نہیں دیکھی۔[54] ان واقعات میں پیغمبر اکرمؐ کی رحلت،[55] سقیفہ کا واقعہ، ابوبکر اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے خلافت اور باغ فدک کا غصب اور صحابہ کرام کے بھرے مجمع میں خطبہ دینا [56] آپ کی زندگی کے آخری ایام میں پیش آنے والے تلخ اور ناگوار واقعات میں سے ہیں۔ اس عرصے میں حضرت فاطمہؑ حضرت علیؑ کے ساتھ ان کے مخالفین کے سامنے امامت و ولایت کی دفاع میں کھڑی تھیں؛[57] جس کی وجہ سے آپ مخالفین کے ظلم و جبر کا نشانہ قرار پائی اور آپ کے دروازے پر لکڑیاں جمع کر کے دروازے کو آگ لگا دینا اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔[58] حضرت علیؑ کا ابوبکر کی بیعت نہ کرنا اور ابوبکر کے مخالفین کا آپؑ کے گھر میں جمع ہو کر احتجاج کرنے کو بہانہ بنا کر خلیفہ اور ان کے حامیوں نے حضرت فاطمہؑ کے گھر کی طرف ہجوم لے آئے اور آخر کار اس گھر کے دروازے کو آگ لگائی گئی۔ اس حملے میں حضرت فاطمہؑ حضرت علیؑ کو زبردستی بیعت کیلئے مسجد لے جانے میں مانع بنے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنی[59] جس سے آپ کی پیٹ میں موجود بچہ سقط ہوا۔[60] اس واقعے کی بعد حضرت فاطمہؑ بیماری ہوئیں [61] جس کے مختصر عرصے میں آپ کی شہادت واقع ہوئی۔ [62]

آپ نے حضرت علیؑ کو وصیت کی کہ آپ کے مخالفین کو آپ کی نماز جنازہ اور دفن وغیرہ میں شرکت کرنے کی اجازت نہ دی جائے اور آپ کو رات کو ہی دفن کیا جائے۔[63] مشہور قول کی بنا پر حضرت فاطمہؑ نے 3 جمادی‌ الثانی سن 11 ہجری کو مدینہ میں شہادت پائیں۔[64]

سیاسی مؤقف

حضرت فاطمہؑ کی مختصر زندگی مختلف سماجی سرگرمیوں اور سیاسی موقف پر مشتمل تھی۔ ہجرت مدینہ، جنگ احد[65] اور جنگ خندق کے موقع پر زخمیوں کا مداوا اور مجاہدین تک جنگی سازو سامان کی ترسیل اور [66] فتح مکہ[67] کے موقع پر آپ کی حاضری پیغمبر اکرمؐ کی رحلت سے پہلے کی آپ کی سماجی سرگرمیوں میں سے ہیں۔ لیکن آپ کے سیاسی موقف کا اظہار پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس مختصر عرصے میں اسلامی حکومت کے سیاسی منظر نامے پر حضرت فاطمہؑ کا سیاسی موقف کچھ یوں دیکھنے میں آیا ہے: سقیفہ بنی ساعدہ کے واقعے میں پیغمبر اکرمؐ کے بعد ابوبکر کی بعنوان خلیفہ بیعت سے انکار، مہاجرین و انصار کے سرکردگان سے خلافت کیلئے امام علیؑ کی برتری کا اقرار لینا، باغ فدک کی دوبارہ مالکیت کے لئے سعی و تلاش، مسجد نبوی میں مہاجرین و انصار کے بھرے محفل سے خطاب اور دروازے پر مخالفین کے ہجوم کے وقت حضرت علیؑ کا دفاع۔ محققین کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد حضرت فاطمہؑ نے جس رد عمل کا اظہار فرمایا ہے وہ در حقیقت ابوبکر اور ان کے حامیوں کی جانب سے خلافت کے غصب کئے جانے پر اعتراض اور احتجاج تھا۔[68]

سقیفہ کی مخالفت

سقیفہ بنی ساعدہ میں خلیفہ کے انتخاب کے حوالے سے منعقد ہونے والے ہنگامی اجلاس میں وہاں موجود صحابہ کی جانب سے ابوبکر کی بعنوان خلیفہ بیعت کے بعد حضرت فاطمہؑ حضرت علیؑ اور بعض صحابہ مانند طلحہ اور زبیر کے ساتھ صحابہ کے اس اقدام کی مخالفت کی۔ [69] کیونکہ حجۃ الوداع کے موقع پر غدیر خم کے مقام پر پیغمبر اکرمؐ نے امام علیؑ کو اپنا جانشین معین فرمایا تھا۔[70] تاریخی شواہد بتاتی ہیں کہ حضرت فاطمہؑ حضرت علیؑ کے ہمراہ چیدہ چیدہ اصحاب کے گھروں میں جاتے اور ان سے مدد اور نصرت طلب کرتی تھیں۔ صحابہ آپ کے اس درخواست کے جواب میں کہتے اگر ابوبکر کی بیعت سے پہلے یہ مطالبہ کرتے تو ہم علیؑ کی حمایت کرتے لیکن اب ہم ابوبکر کی بیعت کر چکے ہیں۔ جب صحابہ حضرت علی کی حمایت سے انکار کرتے تو آپ انہیں خبردار کرتیں کہ ابوبکر کی بیعت خدا کی ناراضیتی اور عذاب کا باعث ہے۔ [71]

باغ فدک اور خطبۂ فدکیہ

اصل مضمون: خطبہ فدکیہ

حضرت فاطمہؑ نے ابوبکر کی جانب سے فدک کو آپؑ سے واپس لے کر حکومتی خزانے میں جمع کرنے کے اقدام کی سخت مخالف کی۔[72] اور فدک کو دوبارہ اپنی ملکیت میں واپس لانے کیلئے آپ نے ابوبکر کے ساتھ گفتگو کی ابوبکر نے جب دیکھا کہ آپؑ کے پاس کافی دلائل و شواہد ہیں جو ثابت کرتی ہے کہ یہ باغ آپؑ کی ملکیت ہے،[73] تو ابوبکر نے ایک سند تحریر کی جس میں لکھا کہ فدک حضرت فاطمہؑ کی ملکیت ہے۔ جب عمر بن خطاب اس واقعہ سے آگاہ ہوئے تو انہوں نے اس تحریر کو حضرت فاطمہؑ کے دست مبارک سے چھین کر اسے پھاڑ دیا۔[74] جب آپؑ نے دیکھا کہ فدک کو واپس لینے کی تمام تر کوشش رایگان جا رہی ہے، ایسے میں آپ نے مسجد نبوی کا رخ کیا اور وہاں پر موجود صحابہ کے بھرے محفل میں صحابہ سے مخاطب ہو کر ایک خطبہ دیا جو خطبہ فدکیہ سے معروف ہے، جس میں آپؑ نے ابوبکر کی جانب سے خلافت کو غصب کرنے اور فدک کو واپس لینے کی سخت الفاظ میں مخالفت کی اور خلیفہ کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اس خطبے میں آپ نے ابوبکر اور ان کے حامیوں کے اس اقدام کو دوزخ خریدنے کے مترادف قرار دے دیا۔ [75]

ابوبکر کے مخالفوں کی حمایت

بعض صحابہ کرام کی جانب سے ابوبکر کی بعنوان خلیفہ بیعت کرنے اور پیغمبر اکرمؐ کی جانب سے امام علیؑ کی خلافت اور جانشینی کے حوالے سے صادر ہونے والے احکامات کو نظر انداز کرنے کے بعد حضرت فاطمہؑ نے حضرت علیؑ، بنی‌ ہاشم اور بعض صحابہ کرام کے ساتھ ابوبکر کی بیعت سے انکار کیا۔ ابوبکر کی خلافت کے مخالفین آپؑ کے گھر جمع ہوئے اور پیغمبر اکرمؐ کی جانشینی اور خلافت کے حوالے سے حضرت علیؑ کے مسلمہ حق کی حمایت کی جن میں [76] عباس بن عبدالمطلب، سلمان فارسی، ابوذر غفاری، عمار بن یاسر، مقداد بن اَسود، اُبیّ بن کَعب اور بنی‌ ہاشم شامل تھے۔[77]

گھر پر حملہ

ابوبکر کے حامیوں کی جانب سے حضرت علیؑ کے گھر پر لانے والے ہجوم کے دوران حضرت فاطمہؑ دشمنوں کے مقابلے میں حضرت علیؑ کی حمایت میں اٹھ کھڑی ہوئیں اور آپؑ کو زبردستی ابوبکر کی بیعت کیلئے لے جانے کی اجازت نہیں دی۔ اہل سنت عالم دین ابن عبدربہ کے مطابق جب ابوبکر اس بات سے مطلع ہوا کہ ان کے مخالفین حضرت فاطمہؑ کے گھر جمع ہوئے ہیں، تو انہوں نے حکم دیا کہ ان پر حملہ کرکے انہیں متفرق کیا جائے اور مقاومت کی صورت میں ان کے ساتھ جنگ کیا جائے۔ عمر کچھ افراد کے ساتھ حضرت فاطمہ کے گھر کی طرف روانہ ہوا اور گھر میں موجود افراد سے باہر نکلنے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ ان کے حکم کی تعمیل نہ ہونے کی صورت میں اس گھر کو آگ لگا دی جائے گی۔[78] عمر اور ان کے ساتھی زبردستی گھر میں داخل ہوئے۔ اس موقع پر آپؑ گھر سے باہر آئیں اور دشمنوں سے کہا اگر گھر سے نکل نہ جائیں تو خدا کے حضور شکایت کروں گی۔[79] اس پر مخالفین گھر سے باہر چلے گئے اور امام علیؑ اور بنی‌ ہاشم کے علاوہ گھر میں موجود دیگر افراد کو ابوبکر کی بیعت کیلئے مسجد لے گئے۔[80]

حضرت فاطمہؑ کے گھر میں اجتجاج کرنے والوں سے زبردستی ابوبکر کی بیعت لینے کے بعد حضرت علیؑ اور بنی ہاشم سے بھی بیعت لینے کیلئے عمر اور ان کے ساتھیوں نے ایک بار پھر آپ کے گھر کا رخ کیا اور اس دفعہ حتی گھر کے دروازے کو آگ بھی لگا دی گئی۔ دروازے کو آگ لگانے کے بعد عمر اور ان کے ساتھی زبردستی دروازہ توڑ کر گھر میں داخل ہو گئے اس دوران در و دیوار کے بھیچ میں حضرت فاطمہؑ مجروح ہوئیں اور انہی جراحات کی وجہ سے آپ کے پیٹ میں موجود بچہ (محسن) سقط ہو گیا۔[81] بعض مورخین کے مطابق عمر نے حضرت فاطمہؑ کو در و دیوار کے درمیان رکھ کر [82] دروازے کو آپ پر دے مارا جس سے آپ کا پہلو زخمی ہوا۔[83] اسی طرح کہا جاتا ہے کہ عمر نے آپ کے شکم اطہر پر بھی وار کیا [84] اس واقعے کے بعد حضرت فاطمہ بیمار ہوئیں اور اسی بیماری میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔[85]

ابوبکر اور عمر سے ناراضگی

فدک اور ابوبکر کی بیعت سے مربوط واقعات میں ابوبکر اور عمر کا حضرت فاطمہؑ اور حضرت علیؑ کے ساتھ سختی سے پیش آنے کی وجہ سے آپؑ ان دونوں سے ناراض ہو گئیں۔ تاریخی شواہد بتاتی ہیں کہ دوسرا خلیفہ اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے حضرت فاطمہؑ کے دروازے پر حملہ کرنے اور اس سے پیدا ہونے والے ناخوشگوار واقعات کے بعد ابوبکر اور عمر نے آپؑ سے معافی مانگنے کا ارادہ کیا لیکن آپؑ نے انہیں اپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ آخر کار جب حضرت علیؑ کی وساطت سے ابوبکر اور عمر فاطمہؑ کے گھر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تو اس وقت بھی آپؑ نے ان دونوں سے منہ پھیر لیں اور ان کے سلام کا جواب بھی نہیں دیا اور انہیں بغیر کسی جواب کے واپس جانے پر مجبور فرمائی۔ حضرت فاطمہؑ نے پیغمبر اکرمؐ کی مشہور حدیث جس میں پیغمبر اکرمؐ نے اپنی خوشنودی کو حضرت فاطمہؑ کی خوشنودی قرار دی تھی، کا حوالہ دیتے ہوئے ان دونوں سے اپنی نارضایتی کا اعلان کیا۔ [86] بعض مورخین کے مطابق حضرت فاطمہؑ نے ہر نماز کے بعد ان دونوں سے اظہار برأت کی قسم کھائی۔[87]

شہادت اور وصیتیں

اصل مضمون: شہادت حضرت زہرا

پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات میں جسمانی اور روحانی دونوں اعتبار سے مجروح ہونے اور کچھ مدت تک بیمار رہنے کے بعد آخر کار حضرت فاطمہؑ سنہ 11 ہجری قمری کو اس دنیا سے رحلت کر گئیں۔[88] آپ کی تاریخ شہادت کے بارے میں بھی چند اقوال موجود ہیں۔ شیعوں کے یہاں مشہور قول کی بنا پر آپ 3 جمادی‌ الثانی 11 ہجری قمری کو اس دنیا سے رخصت کر گئیں۔[89] اس قول کی دلیل امام صادقؑ سے منقول ایک حدیث ہے۔[90] دوسرے اقوال میں 13 ربیع‌ الثانی[91]، 20 جمادی‌ الثانی[92] اور 3 رمضان[93] کو آپ کی یوم شہادت قرار دی گئی ہے۔

شہادت سے پہلے حضرت فاطمہؑ نے وصیت کرتے ہوئے فرمائیں، میں ہرگز راضی نہیں ہوں جنہوں نے میرے اوپر ظلم و ستم کی اور میری ناراضگی کا باعث بنے وہ میری جنازه میں شرکت کرے یا میری نماز جنازه پڑھائے اسی بنا پر آپ نے وصیت کی تھیں کہ آپ کو مخفیانہ طور پر تشییع اور دفن کیا جائے اور آپ کی جای دفن بھی مخفی رکھی جائے۔[94] مورخین کے مطابق حضرت علیؑ نے اسماء بنت عُمیس کے ساتھ مل کر آپؑ کو غسل دیا[95] اور آپؑ نے خود نماز جنازہ پڑھائی۔[96] امام علی کے علاوہ کچھ اور افراد نے بھی آپؑ کے جنازے میں شرکت کیں جنکی تعداد اور کے نام میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ تاریخی مصادر میں امام حسن، امام حسین، عباس بن عبدالمطلب، مقداد، سلمان، ابوذر، عمار، عقیل، زبیر، عبداللہ بن مسعود اور فضل بن عباس کو ان افراد میں سے شمار کیا ہے جنہوں نے آپ کی تشییع اور نمازه جنازہ میں شرکت کیں۔[97] شیعہ مصادر میں سلمان، ابوذر، مقداد اور عمار کے ان مراسم میں شریک ہونے پر اتفاق نظر پایا جاتا ہے۔

بعض محققین، حضرت فاطمہؑ کی طرف سے مخفیانہ دفن کرنے اور اپنی جاے دفن کو مخفی رکھنے کی وصیت کو حکام کے خلاف آپ کی آخری سیاسی اقدام قرار دیتے ہیں۔[98]

محل دفن

حضرت فاطمہؑ کی وصیت کے مطابق ان کا جنازہ تابوت میں اٹھایا گیا۔اسلام میں پہلی مرتبہ ایسا عمل انجام دیا گیا نیز انہیں رات کی تاریکی میں دفن کیا گیا۔[99] مخفیانہ طور پر دفن ہونے کی وجہ سے آپ کی قبر مطہر لوگوں پر مخفی رہی یوں کبھی بھی آپ کی قبر مشخص نہیں ہوئی۔ لیکن اس کے باوجود تاریخی اور حدیثی مصادر میں درج ذیل مقامات آپؑ کے مقام دفن کے طور پر ذکر ہوئے ہیں:

فضائل

شیعہ اور اہل سنت مصادر میں حضرت زہراؑ کے متعدد فضائل ذکر ہوئے ہیں۔ ان فضائل میں سے بعض کا منشاء قرآن کریم کی مختلف آیات جیسے آیۂ تطہیر اور آیۂ مباہلہ وغیرہ ہیں۔ اس قسم کے فضائل میں آیات کا شأن نزول تمام اہل‌ بیتؑ کو شامل کرتا ہے جن میں حضرت زہراؑ کو مرکزیت حاصل ہے۔ آپ کے بعض فضائل احادیث میں بھی نقل ہوئے ہیں جن میں بِضعۃ الرسول اور محدثہ ہونا وغیرہ ہیں۔

عصمت

اصل مضمون: عصمت اہل بیتؑ

شیعہ نقطہ نگاہ سے فاطمہؑ آیۂ تطہیر کے مصادیق میں سے ایک ہونے کی حیثیت سے عصمت کے مقام پر فائز ہیں۔[105] اس آیہ کے مطابق خداوندعالم نے اہل بیتؑ کو ہر قسم کی برائی اور نجاست سے پاک اور منزہ رکھنے کا ارادہ فرمایا ہے۔[106] شیعہ اور اہل‌ سنت دونوں طریق سے نقل ہونے والی متعدد احادیث کے مطابق حضرت فاطمہؑ اہل‌ بیتؑ میں سے ایک فرد ہیں۔[107] آپ کی عصمت کو مورد بحث قرار دینے کا پہلا مورد پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد پیش آنے والے ناگوار واقعات من جملہ فدک کا واقعہ ہے جس میں امام علیؑ نے آپ کے معصوم ہونے پر آیت تطہیر سے استناد کرتے ہوئے ابوبکر کے اس اقدام کو غلط اور فدک واپس لینے کے حوالے سے حضرت زہراؑ کی درخواست کو ان کا مسلمہ حق قرار دیا۔[108] شیعوں کے علاوہ اہل سنت کی حدیثی اور تاریخی مصادر میں بھی بعض احادیث نقل ہوئی ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ نے آیۂ تطہیر کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی اہل بیتؑ یعنی فاطمہؑ، علیؑ، حسنؑ اور حسینؑ کو ہر قسم کی گناہ سے مبرا قرار دیا ہے۔[109]

عبادت

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا

مَن اَصعَدَ اِلَی اللهِ خالِصَ عِبادَتِه اَهبَطَ اللهُ عَزَّ وَ جَلَّ اِلَیهِ اَفضَلَ مَصلَحَتِه (ترجمہ:جو اپنی خالص عبادت کو اللہ کی طرف بھیجے تو اللہ تعالی اپنی بہترین مصلحت اس کی طرف نازل کرے گا۔

عدة الداعی، ص ۲۳۳

حضرت فاطمہ زہراؑ اپنے والد گرامی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کی طرح خدا کی عبادت سے شدید لگاؤ رکھتی تھیں اسی بنا پر اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ نماز اور خدا کے ساتھ راز و نیاز میں بسر کرتی تھیں۔[110] آپ کے قریبی افراد اور آپ کے پاس آنے والے بہت سوں نے آپ کو کئی بار قرآن کی تلاوت میں مشغول پائے ہیں۔[111] بعض مصادر میں آیا ہے کہ بعض اوقات جب حضرت فاطمہؑ قرآن کی تلاوت میں مشغول ہوتی تھیں تو اس دوران آپ غیبی امداد سے بہرہ مند ہوتی تھیں۔ نمونے کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے کہ ایک دن سلمان فارسی نے دیکھا کہ حضرت زہراؑ ہاتھ کی چکی کے پاس قرآن کی تلاوت میں مصروف تھی اور چکی خودبخود چل رہی تھی، سلمان فارسی نے جب اس کام سے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کو پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں بیان کیا تو آپ نے فرمایا: "...خداوندعالم نے حضرت زہرا کیلئے چکی چلانے کے واسطے جبرئیل امین کو بھیجا تھا۔"[112] نمازوں کا طولانی ہونا اور رات بھر بیدار رہ کر عبادت میں گزارنا،[113] دنوں کو روزہ رکھنا، شہداء کے قبور کی زیارت کرنا حضرت فاطمہؑ کی رفتار میں نمایاں دکھائی دیتا ہے جس کے بارے میں اہل‌ بیتؑ، بعض صحابہ کرام اور تابعین نے تأکید کی ہے۔[114] اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ دعا و مناجات کی کتابوں میں بعض نمازوں، دعاوں اور تسبیحات وغیرہ کی نسبت حضرت فاطمہؑ کی طرف دی گئی ہے۔[115]

مقام و منزلت

شیعہ اور سنی دونوں فریق کے علماء اس بات کے معتقد ہیں کہ حضرت زہراؑ کے ساتھ دوستی اور محبت کو خدا نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے۔ علماء سورہ شوری کی آیہ نمبر 23 جو آیۂ مودت کے نام سے مشہور ہے سے استناد کرتے ہوئے حضرت فاطمہؑ کی دوستی اور محبت کو فرض اور ضروری سمجھتے ہیں۔ آیۂ مودت میں پیغمبر اکرمؐ کی رسالت اور نبوت کے اجرت کو آپ کی اہل‌ بیتؑ سے مودت اور محبت کرنے کو قرار دیا ہے۔ احادیث کی روشنی میں اس آیہ میں اہل‌ بیتؑ سے مراد فاطمہؑ، علیؑ اور حسنینؑ شریفین ہیں۔[116] آیۂ مودت کے علاوہ پیغمبر اکرمؐ سے کئی احادیث نقل ہوئی ہیں جن کے مطابق خداوند عالم فاطمہؐ کی ناراضگی سے ناراض اور آپ کی خشنودی سے خشنود ہوتا ہے۔[117] بعض حدیثی مصادر میں حضرت فاطمہؑ کی خلقت کو وجہ تخلیق آسمان قرار دیا گیا ہے، مثلا نمونے کے طور پر عرض کرتا چلوں، حدیث قدسی میں سے ایک مشہور حدیث جو حدیث لولاک کے نام سے معروف ہے، پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ افلاک کی خلقت پیغمبر اکرمؐ کی خلقت پر موقوف ہے آپؐ کی خلقت حضرت علیؑ کی خلقت پر موقوف ہے اور آپ دونوں کی خلقت حضرت فاطمہؑ کی خلقت پر موقوف ہے۔ [118] بعض علماء اگر چہ اس حدیث کی سند کو قابل خدشہ قرار دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس حدیث کے مضمون کو قابل دفاع مانتے ہیں۔[119]

پیغمبر اکرمؐ، سب سے زیادہ حضرت فاطمہؑ سے محبت رکھتے اور آپ کا احترام کرتے تھے۔ حدیث بضعہ نامی مشہور حدیث میں پیغمبر اکرمؐ نے فاطمہؑ کو اپنے جگر کا ٹکڑا قرار دیتے ہوئے فرمایا جس نے بھی اسے ستایا گویا اس نے مجھے ستایا ہے۔ اس حدیث کو پہلی صدی کے محدثین جیسے شیعہ علماء میں سے شیخ مفید اور اہل سنت علماء میں سے احمدبن حنبل نے مختلف طریقوں سے نقل کیا ہے۔[120]

عورتوں کی سردار

شیعہ سنی دونوں طریقوں سے منقول متعدد احادیث میں آیا ہے کہ حضرت فاطمہؑ سیدۃ نساء العالمین یعنی بہشت کے تمام عورتوں کی سردار ہیں۔[121]

مباہلہ میں شریک واحد خاتون

صدر اسلام کی مسلمان خواتین میں سے حضرت فاطمہؑ اکیلی خاتون ہیں جنہیں پیغمبر اکرمؐ نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کیلئے انتخاب فرمایا تھا۔ یہ واقعہ قرآن مجید کی آیۂ مباہلہ میں ذکر ہوا ہے۔ تفسیری، روایی اور تاریخی مصادر کی روشنی میں آیہ مباہلہ اہل‌ بیت پیغمبرؐ کی فضیلت میں نازل ہوئی ہے۔[122] کہا جاتا ہے کہ فاطمہؑ، امام علیؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ اس واقعے میں پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ مباہلے کیلئے گئے اور ان اشخاص کے علاوہ پیغمبر اکرمؐ نے کسی کو بھی اپنے ساتھ نہیں لے گیا۔[123]

پیغمبر اکرمؐ کے نسل کا تسلسل

پیغمبر اکرمؐ کی نسل کا تسلسل اور ائمہ معصومین کا تعین حضرت زہراؑ کی نسل سے ہونا آپ کی فضیلت میں شمار کیا گیا ہے۔[124] بعض مفسرین حضرت زہراؑ کے ذریعے پیغمبر اکرمؐ کی نسل کے تسلسل کو سورہ کوثر میں مذکور خیر کثیر کا مصداق قرار دیتے ہیں۔[125]

سخاوت

حضرت فاطمہؑ کی میں سخاوت کا پہلو ان کی سیرت اور کردار کی خصوصیات میں سے ایک شمار کیا گیا ہے۔ جس وقت آپؑ نے حضرت علیؑ کے ساتھ مشترک ازدواجی زندگی کا آغاز کیا تو اس وقت آپ لوگوں کی اقتصادی اور مالی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی لیکن اس وقت بھی آپ نے ایک سادہ زندگی گزاری لیکن اس حالت میں بھی آپ خدا کی راہ میں انفاق کرنے کے ذریعے سخاوت کے اعلی نمونے قائم کی ہیں۔[126] اپنی شادی کے کپڑوں کو اسی رات کسی محتاج کو دے دینا،[127] کسی فقیر کو اپنا گردن بند عطا کرنا[128] اور تین دن تک اپنا اور اپنے اہل و عیال کا کھنا مسکین، یتیم اور اسیر کو دے ینا آپ کی زندگی میں سخاوت کے اعلی نمونوں میں سے ہیں۔[129] حدیثی اور تفسیری مصادر میں موجود مطالب کی روشنی میں جب فاطمہؑ، علیؑ اور حسنینؑ نے تین دن پے در پے روزہ رکھا اور افطاری کے وقت پورا کھنا نیازمندوں کو دے دیا تو خدا کی طرف سے سورہ انسان آیت نمبر 5 سے 9 تک نازل ہوئی جو آیت اطعام کی نام سے مشہور ہیں۔[130]

مُحَدَّثہ

خدا کے مقرب فرشتوں کا حضرت فاطمہؑ کے ساتھ ہمکلام ہونا آپ کی خصوصیات میں سے ایک ہے۔ یہی خصوصیت آپ کو "مُحَدَّثہ" کہنے کی وجہ بنی۔ [131] آپ کا پیغمبر اکرمؐ کی حیات طیبہ میں فرشتوں کے ساتھ ہمکلام ہونا[132] اور حضورؐ کی رحلت کے بعد فرشتوں کا آپؑ کیلئے تسلیت دینا اور نسل پیغمبر اکرمؐ کا تسلسل آپ سے جاری رہنے کی خبر دینا اس بات کی واضح نشانیوں میں سے ہیں۔ آئندہ رونما ہونے والے واقعات جو فرشتہ الہی حضرت فاطمہؑ کیلئے بیان کرتے، امام علیؑ انہیں تحریر فرماتے تھے جو بعد میں مصحف فاطمہ کے نام سے معروف ہوئی۔[133]

معنوی میراث

حضرت فاطمہؑ کی عبادی، سیاسی اور اجتماعی زندگی اور ان امور میں آپؑ کی فرمائشات ایک گران بہا معنوی میراث کی طرح تمام مسلمان اپنی روزمرہ زندگی میں انہیں اپنے لئے نمونہ عمل قرار دیتے ہیں۔ مصحف فاطمہ، خطبہ فدکیہ، تسبیحات اور نماز حضرت زہرا اس معنوی میراث میں سے ہیں۔

  • آپؑ سے منقول احادیث اس معنوی میراث کی ایک اور پہلو ہیں۔ یہ احادیث اعتقادی، فقہی، اخلاقی اور اجتماعی‌ موضوعات پر مشتمل ہیں۔ ان احادیث میں سے بعض شیعہ اور اہل‌ سنت حدیثی مصادر میں مذکور ہیں جبکہ آپؑ کی اکثر احادیث "مسنَد فاطمہ" اور "اخبار فاطمہ" کے نام سے مستقل کتابوں کی شکل میں منتشر ہوئی ہیں۔ ان مسانید میں سے بعض گذر زمان کے ساتھ مفقود ہو گئے ہیں اور صرف علم رجال اور تراجُم کی کتابوں میں ان راویوں اور مصنفین کا صرف نام مذکور ہیں۔[134]
  • مصحف فاطمہ، ایسے مطالب پر مشتمل ہے جنہیں حضرت فاطمہؑ نے فرشتہ الہی سے سنا اور امام علیؑ نے اسے آپؑ کے کہنے کے مطابق تحریر کی شکل میں لے آئے۔[135] شیعوں کے مطابق مصحف فاطمہؑ ائمہ معصومین کے پاس محفوظ تھے اور ہر امام اپنی عمر کے آخر میں اسے اپنے بعد والے امام کے سپرد کرتے رہے[136] اور صرف ائمہ معصومینؑ کے علاوہ کسی اور شخص کو اس کتاب تک کوئی رسائی حاصل نہیں رہی ہے۔ یہ کتاب اس وقت امام زمانہ(عج) کے پاس موجود ہے۔[137]
  • خطبہ فدکیہ، حضرت فاطمہؑ کی مشہور خطبات میں سے ایک ہے جسے آپ نے واقعہ سقیفہ بنی‌ ساعدہ اور باغ فدک کے غصب کے بارے میں مسجد نبوی میں صحابہ کے بھرے مجمع میں ارشاد فرمایا۔ اس خطبے کے اب تک کئی شرح لکھی جا چکی ہے جن میں سے اکثر کا نام "حضرت زہراؑ کے خطبے کی شرح" یا "شرح خطبہ لُمَّہ" (خطبہ فدکیہ کا ایک اور نام) ہے۔[138]
  • تسبیحات حضرت زہراؑ سے مراد وہ مشہور ذکر ہے جسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ نے حضرت زہراؑ کو تعلیم دی تھی[139] جس سے حضرت فاطمہؑ بہت خوش ہوئی تھیں۔[140] شیعہ اور اہل‌ سنت مصادر میں حضرت زہراؑ کو رسول اکرمؐ کی طرف سے ان تسبیحات کی تعلیم دینے کے حوالے سے مختلف مطالب مذکور ہیں اور کہا جاتا ہے کہ امام علیؑ نے اس ذکر کے سننے کے بعد کسی بھی صورت میں اسے ترک نہیں فرمایا۔[141]
  • نماز حضرت زہرا سے مراد ایسی نمازیں جنہیں حضرت فاطمہؑ نے آنحضرتؐ یا جبرئیل سے دریافت فرمائی ہیں۔ بعض حدیثی مصادر اور دعاوں کی کتابوں میں ان نمازوں کی طرف اشارات ملتے ہیں۔[142]
  • حضرت فاطمہؑ سے منسوب اشعار تاریخی اور حدیثی مصادر میں بعض اشعار کو حضرت زہرا سے منسوب کیا گیا ہے۔ تاریخی حوالے سے یہ اشعار دو ادوار سے مربوط ہیں: پیغمبر اکرمؐ کی رحلت سے پہلے کا دور اور آپ کی رحلت کے بعد کا دور۔[143]

شیعی ثقافت میں تاثیر

شیعہ حضرت فاطمہؑ کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دیتے ہیں اور آپ کی سیرت شیعہ ثقافت اور شیعوں کی زندگی میں جاری و ساری ہیں۔ ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

  • مہر السنۃ: شیعہ فقہی اور حدیثی کتابوں میں بیٹیوں کیلئے مہر کی تعیین میں حضرت فاطمہؑ کے مہر کو نمونہ عمل اور اسوہ قرار دینے پر بہت تاکید کی گئی ہے اور اصطلاح میں اسے "مہر السنۃ" کہا جاتا ہے۔[144]
  • ایام فاطمیہ:حضرت فاطمہؑ کی شہادت کے ایام میں عزاداری برپا کرنا۔ ایران سمیت دنیا کے تمام ممالک میں شیعہ حضرات 3 جمادی‌ الثانی کو آپ کی شہادت کی مناسبت سے عزاداری کرتے ہیں اور بعض ممالک منجملہ ایران میں اس دن سرکاری طور پر چھٹی ہوتی ہے[145] اور شیعہ مراجع تقلید ننگے پاؤں عزاداری میں شرکت کرتے ہیں۔[146]
  • محلہ بنی‌ ہاشم کی علامتی تعمیر: ایام فاطمیہ کے ساتھ ساتھ محلہ بنی‎ہاشم، قبرستان بقیع اور حضرت فاطمہؑ کے گھر کی علامتی تعمیر شروع ہوتی ہے جسے دیکھنے کیلئے دور و دراز سے لوگ مقررہ مقامات کی طرف چلے آتے ہیں۔[147]
  • یوم مادر: یوں تو ہر معاشرے میں ماں کی عظمت کے پیش نظر ایک دن کو ان سے مختص کیا گیا ہے لیکن حضرت فاطمہ کو چونکہ پیغمبر اکرم نے ام ابیہا کا لقب دیا ہے تو اس حوالے سے تمام شیعہ آپ کی ولادت کو یوم مادر سے منانا چاہیے اور ایران میں حضرت فاطمہؑ کی ولادت کا دن یعنی 20 جمادی‌ الثانی کو یوم مادر یا یوم خواتین کے نام سے منایا جاتا ہے۔[148] اس دن لوگ اپنی ماوں کو تحفے تحائف دینے کے ذریعے ان کا خصوصی احترام اور ان کے زحمات کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔[149]
  • بیٹیوں کا نام رکھنا: دینا کا ہر متدین شیعہ اپنی بیٹیوں کا فاطمہ یا حضرت زہرا کے القابات میں سے کوئی لقب نام رکھتا ہے اور ایران میں حالیہ سالوں میں بیٹیوں کے نام رکھنے میں "فاطمہ" اور "زہرا" پہلے دس نمبر پر پہنچے ہوئے ہیں۔[150]
  • امامت اور رہبری کو فاطمہؑ کی اولاد سے مختص سمجھنا: شیعہ فرقوں میں زیدیہ فرقہ اس بات کے معتقد ہیں کہ امامت اور رہبری صرف اور صرف حضرت فاطمہؑ کی اولاد سے مختص ہیں۔ اس بنا پر زیدیہ صرف اس شخص کی بعنوان امام پیروی کرتے ہیں اور اس کی حکومت کو قبول کرتے ہیں جو آپ کی نسل سے ہو۔[151] اسی طرح ایک اور فرقہ جو فاطمیوں کے نام سے معروف ہے اور جب انہوں نے مصر میں اپنی حکومت قائم کی تو اس کا نام بھی آپؑ کے نام سے ہی موسوم کیا، وہ اپنے آپ کو حضرت فاطمہؑ سے منسوب مانتے ہیں۔[152]

کتابیات

حضرت زہرا سلام‌اللہ علیہا کے بارے میں لکھی گئی بعض کتابوں کی فہرست:

حضرت فاطمہؑ کے بارے میں تحریروں کا آغاز پہلی صدی ہجری سے ہی مسلمانوں خاص طور پر شیعوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اس سلسلے میں آپؑ کے بارے میں لکھی گئی کتابوں کو تین گروہ میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مُسنَد نگاری، مَنقَبَت‌ نگاری اور سیرت نگاری۔ [153]

اس سلسلے میں شیعہ علماء کی لکھی گئی مسانید میں

(اس سلسلے کی سب سے قدیمی مآخذ)[155] قابل ذکر ہیں۔ منقبت نگاری میں

  • "مناقب فاطمہ الزہراء و ولدہا" تالیف، طبری امامی،[156]
  • "شرح احقاق الحق و ازہاق الباطل" تالیف، سیدشہاب‌الدین مرعشی نجفی،
  • "فضائل فاطمۃ الزہراء از نگاہ دیگران" تالیف ناصر مکارم شیرازی اور
  • "فاطمہ زہرا از نظر روایات اہل‌ سنت" تالیف، محمد واصف[157] قابل ذکر ہیں۔

اس سلسلے میں اہل سنت علماء کی لکھی گئی مسانید میں

  • "السقیفہ و فدک" تالیف، جوہری بصری،
  • "من روی عن فاطمہ من اولادہا" تالیف، ابن‌عقدہ جارودی اور
  • "مسند فاطمہ" تالیف، دارقطنی شافعی

جبکہ منقبت نگاری میں

اور

  • "اتحاف السائل بما لفاطمۃ من المناقب و الفضائل" تالیف، محمد علی مناوی قابل ذکر ہیں۔[158]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. صدوق، الامالی، ۱۴۱۷ق، ص۷۴، ۱۸۷، ۶۸۸، ۶۹۱ و ۶۹۲؛ کلینی، الکافی، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۲۴۰؛ مسعودی، اسرارالفاطمیہ، ۱۴۲۰ق، ص۴۰۹.
  2. شہیدی، زندگانی فاطمہ زہرا، ص 33.
  3. صدوق، الامالی، ۱۴۱۷ق، ص۷۴، ۱۸۷، ۶۸۸، ۶۹۱ و ۶۹۲؛ کلینی، الکافی، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۲۴۰؛ مسعودی، اسرارالفاطمیه، ۱۴۲۰ق، ص۴۰۹ مجلسی، بحارالانوار، ج43، ص16؛ ابن شہرآشوب، مناقب، ج3، ص132؛ قمی، بیت الاحزان، ص12 و ۶۹۲.
  4. ابن سعد، الطبقات‏ الکبری، ۱۴۱۰ق، ج ۸ ، ص۱۴.
  5. طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۲، ص۴۱۰
  6. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۴ق، ج۴۳، ص۹۲.
  7. کلینی، الکافی، ۱۴۰۱ق، ج۱، ص۴۶۱.
  8. شہیدی، زندگانی فاطمہ زہرا، ۱۳۶۳ش، ص۷۸.
  9. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۴ق، ج۴۴، ص۲۰۱.
  10. محلاتی، ریاحین الشریعہ، دارالکتب الاسلامیہ، ج۳، ص۳۳.
  11. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ۱۴۱۳ق، ج۳، ص۵۰۰.
  12. متقی ہندی، کنز العُمال، موسسۃ الرسالۃ، ج۲، ص۱۵۸ و ج۳، ص۷۶۷.
  13. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۳۸۵ق، ج۲، ص۲۹۳.
  14. مفید، الإرشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۱۸۹.
  15. کلینی، ج۱، ص۲۴۱، ح۵، طبری امامی،‌ دلائل الامامۃ، ۱۴۱۳ق، ص۱۳۴.
  16. بتنونی، الرحلۃالرحلۃ الحجازیۃ، المکتبۃ الثقافیۃ الدینیہ، ص۱۲۸.
  17. مفید، مسارالشریعہ فی مختصر تواریخ الشریعۃ، ۱۴۱۴ق، ص۵۴؛ طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ص۷۹۳.
  18. کلینی، الکافی، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۴۵۸؛ طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ص۷۹۳؛ طبری امامی، دلائل الامامۃ، ۱۴۱۳ق، ج۷۹، ص۱۳۴؛ فتال نیشابوری، روضۃ الواعظین، قم، شریف الرضی، ص۱۴۳؛ طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۲۹۰؛ ابن‌شہر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ۱۳۷۶ق، ج۳، ص۱۳۲.
  19. مفید، مسارالشریعہ فی مختصر تواریخ الشریعۃ، ۱۴۱۴ق، ص۵۴؛ کفعمی، المصباح، ۱۴۰۳ق، ص۵۱۲.
  20. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، بیروت، ج۱، ص۱۳۳. ج۸، ص۱۹؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۴۰۳؛ ابن‌عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۸۹۹.
  21. کیا آج کی ایک مسلمان خاتون حضرت زہراءؑ کو نمونہ عمل بنا سکتی ہے؟، پایگاہ خبری تحلیلی مہرخانہ، تاریخ انتشار: ۱۱-۰۲-۱۳۹۲ش، تاریخ بازدید: ۱۷-۱۲-۱۳۹۵ش.
  22. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۱۶۳.
  23. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، بیروت، ج۲، ص۳۵.
  24. احمدبن حنبل، مسند احمدبن حنبل، بیروت، ج۱، ص۳۶۸؛ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، بیروت، ج۱، ص۱۶۳.
  25. محقق سبزواری، نمونہ بینات در شأن نزول آیات از نظر شیخ طوسی و سایر مفسرین خاصہ و عامہ، ۱۳۵۹ش، ص۱۷۳-۱۷۴.
  26. ابن سعد، طبقات، ح8، ص11.
  27. طوسی، محمدبن حسن، الامالی، ۱۴۱۴ق، ص۳۹.
  28. نسائی، سنن نسائی، ح6، ص62.
  29. شفیعی شاہرودی، سلسلہ موضوعات الغدیر علامہ امینی، ج8(صدّیقہ طاہره، فاطمہ زہرا )، ص60.
  30. صدوق، الامالی، ۱۴۱۷ق، ص۶۵۳؛ اربلی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمۃ، ۱۴۰۵ق، ج۱، ص۳۶۴.
  31. مفید، الاختصاص، ۱۴۱۴ق، ص۱۴۸.
  32. مفید، الاختصاص، ۱۴۱۴ق، ص۱۴۸.
  33. طوسی، محمدبن حسن، الامالی، ۱۴۱۴ق، ص۴۰.
  34. ابن‌اثیر جزری، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، انتشارات اسماعیلیان، ج۵، ص۵۱۷.
  35. اردبیلی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمۃ، ۱۴۰۵ق، ج۱، ص۳۵۸.
  36. طبری امامی، دلائل الإمامۃ، ۱۴۱۳ق، ص۸۸-۹۰؛ خوارزمی، المناقب، ۱۴۱۱ق، ص۳۳۵-۳۳۸.
  37. * ابن‌حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، ۱۴۰۴ق، ج۱۲، ص۳۹۱؛ مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۷۳؛ کلینی، الکافی، ۱۳۶۳ش، ج۸، ص۳۴۰.
  38. طوسی، الأمالی، ۱۴۱۴ق، ص۴۳؛ طبری، بشارۃ المصطفی لشیعۃ المرتضی، ۱۴۲۰ق، ص۴۱۰.
  39. ابن‌شہرآشوب، مناقب آل‌ابی‌طالب، ۱۳۷۶ق، ج۳، ص۱۳۱.
  40. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۴ق، ج۴۳، ص۱۹۲ و ۱۹۹؛ جوہری بصری، السقیفۃ و فدک، ۱۴۱۳ق، ص۶۴.
  41. صدوق، الأمالی، ۱۴۱۷ق، ص۵۵۲.
  42. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، بیروت، ج۸، ص۲۵.
  43. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۴ق، ج۴۳، ص۷۲.
  44. خوارزمی، المناقب، ۱۴۱۱ق، ص۲۶۸.
  45. حمیری قمی، قرب الإسناد، ۱۴۱۳ق، ص۵۲.
  46. طبری امامی، دلائل الامامۃ، ۱۴۱۳ق، ص۱۴۰-۱۴۲.
  47. الانصاری الزنجانی، الموسوعۃ الکبری عن فاطمۃ الزہراء، ۱۴۲۸ق، ج‏۱۷، ص۴۲۹.
  48. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۱۶۳،۱۷۳.
  49. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ۱۴۱۳ق، ج۳، ص۲۸۰.
  50. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، دارصادر، ج۸، ص۴۶۵.
  51. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۶۹، ص۱۷۶.
  52. مفید، الإرشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۵۵؛
  53. شہرستانی، الملل و النحل، ۱۴۲۲ق، ج۱، ص۵۷؛ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ۱۴۱۳ق، ج۱۵، ص۵۷۸؛ مسعودی، اثبات الوصیۃ للإمام علی‌بن ابی‌طالب، ۱۴۱۷ق، ص۱۵۴ و ۱۵۵؛ ہلالی عامری، کتاب سلیم بن قیس، ۱۴۲۰ق، ص۱۵۳.
  54. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، بیروت، ج۲، ص۲۳۸؛ کلینی، کافی، ۱۳۶۳ش، ج۳، ص۲۲۸.
  55. کلینی، الکافی، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۲۴۱.
  56. مفید، المقنعۃ، ۱۴۱۰ق، ص۲۸۹ و ۲۹۰؛ سیدمرتضی، الشافی فی‌الامامۃ، ۱۴۱۰ق، ج۴، ص۱۰۱؛ مجلسی، بحارالانوار، دارالرضا، ج۲۹، ص۱۲۴؛ اردبیلی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۳۵۳-۳۶۴.
  57. جوہری بصری، السقیفۃ و فدک، ۱۴۱۳ق، ص۶۳؛ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج‌البلاغۃ، ۱۳۷۸ق، ج۲، ص۴۷.
  58. ابن‌ابی‌شیبہ کوفی، المصنف فی الاحادیث و الآثار، ۱۴۰۹ق، ج۸، ص۵۷۲.
  59. جوہری بصری، السقیفۃ و فدک، ۱۴۱۳ق، ص۷۲ و ۷۳.
  60. طبرسی، الاحتجاج، ۱۳۸۶ق، ج۱، ص۱۰۹.
  61. طبری امامی، دلائل الامامۃ، ۱۴۱۳ق، ص۱۴۳.
  62. طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق. ص۷۹۳.
  63. ابن‌شہرآشوب، مناقب آل‌ابی‌طالب، ۱۳۷۶ق، ج۳، ص۱۳۷.
  64. طبری امامی، دلائل الامامۃ، ۱۴۱۳ق، ص۱۴۳.
  65. ابن‌کثیر، السیرہ النبویہ، ۱۳۹۶ق، ج۳، ص۵۸.
  66. طبرسی، مجمع البیان فی تفسیرالقرآن، ۱۴۱۵ق، ج۸، ص۱۲۵-۱۳۵.
  67. واقدی، المغازی، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۶۳۵.
  68. فرہمندپور، «سیرہ سیاسی فاطمہ»، ص۳۰۹-۳۱۶.
  69. بن‌ ابی‌الحدید، شرح نہج‌ البلاغۃ، ۱۳۷۸ق، ج۱، ص۱۲۳.
  70. امینی، الغدیر، ج۱، ص۳۳.
  71. ابن‌قتیبہ دینوری، الامامۃ و السیاسۃ، ۱۳۸۰ش، ص۲۸.
  72. جوہری بصری، السقیفۃ و فدک، ۱۴۱۳ق، ص۱۱۹.
  73. سیوطی، الدرالمنثور، ۱۴۰۴ق، ج۳، ص۲۹۰.
  74. مفید، الاختصاص، ۱۴۱۴ق، ص۱۸۴ و ۱۸۵؛ حلبی، السیرۃ الحلبیۃ، ۱۴۰۰ق، ج۳، ص۴۸۸.
  75. طبری امامی، دلائل الامامۃ، ۱۴۱۳ق، ص۱۱۱-۱۲۱.
  76. ابن‌کثیر، تاریخ ابن‌کثیر، ۱۳۵۱-۱۳۵۸ق، ج۵، ص۲۴۶؛ ابن‌ہشام، سیرۃ النبویہ لابن ہشام، ۱۳۷۵ق، ج۴، ص۳۳۸.
  77. عسکری، سقیفہ: بررسی نحوہ شکل‌گیری حکومت پس از پیامبر، ۱۳۸۷ش، ص۹۹.
  78. ابن عبدربہ اندلسی، العقد الفرید، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۶۴.
  79. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دارصادر، ج۲، ص۱۰۵.
  80. ابن‌ ابی‌الحدید، شرح نہج‌ البلاغہ، ۱۳۷۸ق، ج۲، ص۲۱.
  81. طبری امامی، دلائل الامامہ، ۱۴۱۳ق، ص۱۳۴.
  82. صدوق، معانی الاخبار، ۱۳۷۹ش، ص۲۰۶.
  83. عاملی، رنج‌ہای حضرت زہراؑ، ۱۳۸۲ش، ج۲، ص۳۵۰-۳۵۱.
  84. مفید، الاختصاص، ۱۴۱۴ق، ص۱۸۵.
  85. طبری امامی، دلائل الامامہ، ۱۴۱۳ق، ص۱۳۴.
  86. ابن‌قتیبہ دینوری، الامامۃ والسیاسۃ، ۱۴۱۳ق/۱۳۷۱ش، ج۱، ص۳۱.
  87. کحالہ، اعلام النساء فی عالمی العرب و الاسلام، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۱م، ج۴، ص۱۲۳-۱۲۴.
  88. طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ص۷۹۳.
  89. طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ص۷۹۳.
  90. طبری امامی، دلائل الامامۃ، ۱۴۱۳ق، ص۱۳۴.
  91. ابن‌شہر آشوب، مناقب آل‌ابی‌طالب، ۱۳۷۶ق، ج۳، ص۱۳۲.
  92. طبری امامی، دلائل الامامۃ، ۱۴۱۳ق، ص۱۳۶.
  93. اربلی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمۃ، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۱۲۵.
  94. صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ق، ج۱، ص۱۸۵؛ ابن‌شہر آشوب، مناقب آل‌ابی‌طالب، ۱۳۷۶ق، ج۳، ص۱۳۷.
  95. بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، ص۳۴؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۴۰۳ق، ج۲، ص۴۷۳-۴۷۴.
  96. اربلی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ، ۱۴۲۱ق، ج۲، ص۱۲۵.
  97. ہلالی عامری، کتاب سلیم بن قیس، ۱۴۲۰ق، ص۳۹۳؛ طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۳۰۰؛ صدوق، محمدبن علی، الخصال، ۱۴۰۳ق، ص۳۶۱؛ طوسی، اختیار معرفۃ الرجال، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۳۳ و ۳۴.
  98. فرہمندپور، «سیرہ سیاسی فاطمہ»، ۱۳۹۳ش، ج۲، ص۳۱۵.
  99. مغربی، دعائم الاسلام، ۱۳۸۳ق، ج۱، ص۲۳۲-۲۳۳؛ ابن‌سعد، الطبقات الکبری، بیروت، ج۸، ص۲۹.
  100. مفید، الاختصاص، ۱۴۱۴ق، ص۱۸۵؛ صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، ۱۴۰۴ق، ج۲، ص۵۷۲.
  101. طبری‌امامی، دلائل الامامۃ، ۱۴۱۳ق، ص۱۳۶؛ ابن‌شہر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ۱۳۷۶ق، ج۳، ص۱۳۹.
  102. صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، ۱۴۰۴ق، ج۲، ص۵۷۲.
  103. نمیری، تاریخ المدینۃ المنورہ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۱۰۵.
  104. سمہودی، وفاء الوفا، ۱۹۷۱م، ج۳، ص۹۲ و ۹۵.
  105. سیدمرتضی، الشافی فی الامامۃ، ۱۴۱۰ق، ج۴، ص۹۵؛ ابن‌شہر آشوب، مناقب آل‌ابی‌طالب، ۱۳۷۶ق، ج۳، ص۱۱۲.
  106. سورہ احزاب، آیہ ۳۳.
  107. طبرسی، الاحتجاج، ۱۳۸۶ق، ج۱، ص۲۱۵؛ سیوطی، الدرالمنثور، ۱۴۰۴ق، ج۵، ص۱۹۸.
  108. ر.ک: طبرسی، الاحتجاج، ۱۳۸۶ق، ج۱، ص۱۲۲ و ۱۲۳؛ صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ق، ج۱، ص۱۹۰-۱۹۲.
  109. ابن‌مردویہ اصفہانی، مناقب علی‌بی ابی‌طالب، ۱۴۲۴ق، ص۳۰۵؛ سیوطی، الدرالمنثور، ۱۴۰۴ق، ج۵، ص۱۹۹؛ ابن‌کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۳۱۶.
  110. طوسی، الأمالی، ۱۴۱۴ق، ص۵۲۸.
  111. طبری امامی، دلائل الامامۃ، ۱۴۱۳ق، ص۱۳۹.
  112. ابن‌شہر‌آشوب، مناقب آل‌ابی‌طالب، ۱۳۷۶ق، ج۳، ص۱۱۶ و ۱۱۷.
  113. صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ق، ج۱، ص۱۸۲.
  114. ابن‌شہر آشوب، مناقب آل‌ابی‌طالب، ۱۳۷۶ق، ج۳، ص۱۱۹.
  115. ر.ک: ابن‌طاووس، جمال الاسبوع، ۱۳۷۱ش، ص۹۳؛ کلینی، الکافی، ۱۳۶۳ش. ج۳، ص۳۴۳.
  116. ابوالفتوح رازی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، ۱۳۷۵ش، ج۱۷، ص۱۲۲؛ بحرانی، البرہان فی تفسیر القرآن، ۱۴۱۶ق، ج۴، ص۸۱۵؛ سیوطی، الدرالمنثور فی تفسیر بالمأثور، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۷؛ ابوالسعود، ارشادالعقل السلیم الی مزایا القرآن الکریم، داراحیاء التراث العربی، ج۸، ص۳۰.
  117. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، بیروت، ج۳، ص۱۵۴.
  118. میرجہانی، جنۃ العاصمۃ، ۱۳۹۸ق، ص۱۴۸.
  119. گفت‌وگو با آیت اللہ‌العظمی شبیری زنجانی، سایت جماران، تاریخ انتشار: ۱۳۹۳/۰۱/۱۴، تاریخ بازدید: ۱۳۹۵/۱۱/۲۹.
  120. مفید، الامالی، ۱۴۱۴ق، ص۲۶۰؛ طوسی، الامالی، ۱۴۱۴ق، ص۲۴؛ احمدبن حنبل، مسند احمدبن حنبل، بیروت، ج۴، ص۵.
  121. صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ق، ج۲، ص۱۸۲. طبری امامی، دلائل الامامۃ، ۱۴۱۳ق، ص۸۱؛ احمدبن حنبل، مسند احمدبن حنبل، بیروت، ج۳، ص۸۰؛ بخاری، محمدبن اسماعیل، صحیح البخاری، بیروت، ج۴، ص۱۸۳؛ مسلم نیشابوری، صحیح مسلم، بیروت، ج۷، ص۱۴۳ و ۱۴۴.
  122. ابن‌کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۷۹؛ بلاغی، حجۃالتفاسیر و بلاغ‌الاکسیر، ۱۳۸۶ق، ج۱، ص۲۶۸؛ ترمذی، سنن الترمذی، ۱۴۰۳ق، ج۴، ص۲۹۳ و ۲۹۴.
  123. برای نمونہ نک: ابن‌اثير، الکامل فی التاريخ، ۱۳۸۵ش، ج۲، ص۲۹۳
  124. طباطبایی، المیزان فی تفسیرالقرآن، ۱۴۱۷ق، ج۲۰، ص۳۷۰ و ۳۷۱.
  125. طباطبایی، المیزان فی تفسیر القرآن، ۱۴۱۷ق، ج۲۰، ص۳۷۰ و ۳۷۱؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۷، ص۳۷۱؛ فخر رازی، التفسیرالکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۳۲، ص۳۱۳؛ بیضاوی، انوار التنزیل و اسرار التأویل، ۱۴۱۸ق، ج۵، ص۳۴۲؛ نیشابوری، تفسیر غرائب القرآن، ۱۴۱۶ق، ج۶، ص۵۷۶.
  126. طبرسی، مکارم الاخلاق، ۱۳۹۲ق، ص۹۴ و ۹۵.
  127. مرعشی نجفی، شرح احقاق الحق، کتابخانہ مرعشی نجفی، ج۱۹، ص۱۱۴.
  128. طبری، بشارۃ المصطفی لشیعۃ المرتضی، ۱۴۲۰ق، ص۲۱۸ و ۲۱۹.
  129. اربلی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمۃ، ۱۴۰۵ق، ج۱، ص۱۶۹.
  130. ابن طاووس، الطرائف، مطبعۃ الخیام، ۱۳۹۹ق، ص۱۰۷-۱۰۹؛ طوسی، التبیان فی تفسیرالقرآن، ۱۴۰۹ق، ج۱۰، ص۲۱۱؛ زمخشری، الکشاف، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۶۷۰؛ فخررازی، التفسیرالکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۳۰، ص۷۴۶ و ۷۴۷.
  131. صدوق، علل الشرائع، ۱۳۸۵ق، ج۱، ص۱۸۲.
  132. ابن‌شہر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ۱۳۷۶ق، ج۳، ص۱۱۶.
  133. کلینی، الکافی، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۲۴۰ و ۲۴۱.
  134. معموری، «کتابشناسی فاطمہ»، ۱۳۹۳ش، ص۵۶۱ -۵۶۳.
  135. کلینی، الکافی، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۲۴۱.
  136. صفار، بصائرالدرجات الکبری، ۱۴۰۴ق، ص۱۷۳ و ۱۸۱.
  137. آقابزرگ تہرانی، الذریعۃ الی تصانیف الشیعہ، ۱۴۰۳ق، ج۲۱، ص۱۲۶.
  138. آقابزرگ تہرانی، الذریعۃ الی تصانیف الشیعہ، ۱۴۰۳ق، ج۸، ص۹۳؛ ج۱۳، ص۲۲۴.
  139. صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص ۳۲۰ و ۳۲۱؛ بخاری، صحیح بخاری، دارالفکر، ۱۴۰۱ق، ج۴، ص۴۸ و ۲۰۸.
  140. صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ق، ج۲، ص۳۶۶.
  141. احمدبن حنبل، مسند، بیروت، ج۱، ص۱۰۷.
  142. سیدبن طاووس، علی‌بن موسی، جمال الاسبوع، ۱۳۷۱ش، ص۷۰ و ۹۳.
  143. عالمی، اشعار فاطمہؑ، دانشنامہ فاطمیؑ، ۱۳۹۳ش، ج۳، ص۱۱۰ -۱۲۰.
  144. شہیدثانی، الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، ۱۴۱۰ق، ج۵، ص۳۴۴.
  145. «ماجرای تعطیل شدن روز شہادت حضرت زہراؑ». خبرگزاری فارس‌، تاریخ انتشار: ۰۵ -۰۲- ۱۳۹۱ش، تاریخ بازدید: ۰۲-۱۲-۱۳۹۵
  146. فاطمیہ درقم ؛ پیادہ روی دو تن از مراجع تقلید تا حرم، خبرگزاری صداو سیما، تاریخ انتشار: ۱۴-۰۱-۱۳۹۳ش، تاریخ بازدید: ۰۲-۱۲-۱۳۹۵ش.
  147. نمایشگاہ کوچہ‌ہای بنی ہاشم، خبرگزاری مشرق، تاریخ انتشار: ۲۷-۰۱-۱۳۹۱ تاریخ بازدید: ۰۲-۱۲-۱۳۹۵.
  148. آیین‌نامہ‌ہای مصوب شورای فرہنگ عمومی، ادارہ کل فرہنگ و ارشاد اسلامی کرمانشاہ، تاریخ بازدید: ۰۲-۱۲-۱۳۹۵.
  149. ۱۵ پیشنہاد برای ہدیہ روز مادر، پایگاہ اینترنتی بیتوتہ، تاریخ بازدید: ۰۲-۱۲-۱۳۹۵.
  150. دہ نام نخست برای دختران و پسران ایرانی، خبرگزاری فارس، تاریخ انتشار: ۱۵-۰۲-۱۳۹۲، تاریخ بازدید: ۰۲-۱۲-۱۳۹۵.
  151. رصاص، مصباح العلوم، ۱۹۹۹م، ص۲۳-۲۴.
  152. ربانی گلپایگانی، علی، فاطمیان و قرامطہ، پایگاہ اطلاع رسانی حوزہ، تاریخ انتشار :۴-۵-۱۳۸۵، تاریخ بازدید: ۰۶-۱۲-۱۳۹۵.
  153. معموری، «کتابشناسی فاطمہ»، ۱۳۹۳ش، ۵۶۱.
  154. معموری، کتابشناسی فاطمہ، ۱۳۹۳ش، ج۲، ص۵۶۴.
  155. معموری، کتابشناسی فاطمہ، ۱۳۹۳ش، ج۲، ص۵۶۳؛ مراجعہ کریں: طبری امامی، دلائل الامامۃ، ۱۴۱۳ق، ۶۵-۷۶.
  156. آقابزرگ تہرانی، الذریعۃ الی تصانیف الشیعہ، ۱۴۰۳ق، ج۲۲، ص۳۳۲.
  157. معموری، «کتابشناسی فاطمہ»، ۱۳۹۳ش، ص۵۶۷.
  158. معموری، «کتابشناسی فاطمہ»، ۱۳۹۳ش، ص۵۶۶.


مآخذ

  • ابن‌‌ابی‌الحدید، ابوحامد عبدالحمید، شرح نہج‌ البلاغہ، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، مصر، دار احیاء الکتب العربیۃ، چاپ اول، ۱۳۷۸ق.
  • ابن‌ابی‌الحدید، عزالدین، شرح نہج‌البلاغۃ، تحقیق محمدابوالفضل ابراہیم، داراحیاء الکتب العربیۃ، ۱۳۷۸ق.
  • ابن‌ابی‌شیبہ کوفی، عبداللہ بن محمد، المصنف فی الاحادیث و الآثار، تحقیق سعید لحام، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۹ق.
  • ابن‌اثیر جزری، علی‌بن محمد، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، تہران، انتشارات اسماعیلیان، بی‌تا.
  • ابن‌اثیر، الکامل فی التاریخ‏، بیروت، دارالصادر، ۱۳۸۵ق.
  • ابن‌حجر عسقلانی، احمدبن علی، تہذیب التہذیب، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۴ق.
  • ابن‌سعد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، چاپ اول، ۱۴۱۰ق.
  • ابن‌سعد، محمدبن سعد، الطبقات الکبری، بیروت، دارصادر، بی‌تا، بی‌جا.
  • ابن‌شہرآشوب، محمدبن علی، مناقب آل ابی‌طالب، گروہی از اساتید نجف اشرف، النجف الاشرف، المکتبۃ الحیدریۃ، ۱۳۷۶ق.
  • ابن‌طاووس، سیدعلی‌بن موسی، جمال الاسبوع، تحقیق جواد قیومی، مؤسسۃ الآفاق، ۱۳۷۱ش.
  • ابن‌عبدالبر، یوسف بن عبداللہ قرطبی، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، تحقیق علی‌محمد بجاوی، بیروت، دارالجیل، ۱۴۱۲ق.
  • ابن‌عبدربہ اندلسی، احمد بن محمد، العقد الفرید، تحقیق علی شیری، بیروت، داراحیاءالتراث العربی، چاپ اول، ۱۴۰۹ق.
  • ابن عساکر، علی بن حسن، تاریخ مدینہ دمشق، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالفکر، ۱۴۱۵ق.
  • ابن‌قتیبہ دینوری، ابومحمد عبداللہ بن مسلم، الامامۃ و السیاسۃ، ترجمہ سید ناصر طباطبایی، تہران، ققنوس، ۱۳۸۰ش.
  • ابن‌قتیبہ دینوری، ابومحمد عبداللہ بن مسلم، الامامۃ والسیاسۃ، تحقیق علی شیری، قم، شریف رضی، ۱۴۱۳ق/۱۳۷۱ش.
  • ابن‌کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ و النہایۃ، تحقیق علی شیری، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ۱۴۰۸ق.
  • ابن‌کثیر، اسماعیل بن عمر، تاریخ ابن‌کثیر، مصر، مطبعۃ السعادۃ، ۱۳۵۱-۱۳۵۸ق.
  • ابن‌کثیر، اسماعیل بن عمر، تفسیر القرآن العظیم، بیروت، دارالمعرفۃ، ۱۴۱۲ق.
  • ابن‌مردویہ اصفہانی، احمدبن‌ موسی، مناقب علی‌بی ابی‌طالب، تحقیق عبدالرزاق محمدحسین، قم، انتشارات دارالحدیث، ۱۴۲۴ق.
  • ابن‌ہشام، ابومحمد عبدالملک بن ہشام حمیری، سیرۃ النبویہ لابن ہشام، تحقیق مصطفی السقا، ابراہیم الابیاری، عبدالحفیظ الشبلی، مصر، تراث الاسلام، چاپ دوم، ۱۳۷۵ق.
  • ابن‌ہشام، عبدالملک حمیری، السیرہ النبویہ، تحقیق محمد عبدالحمید، قاہرہ، مکتبۃ محمد‌علی صبیح و اولادہ، ۱۳۸۳ق.
  • ابوالسعود، محمدبن محمد عمادی، ارشاد العقل السلیم الی مزایا القرآن الکریم، بیروت، داراحیاء التراث العربی، بی‌تا.
  • ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، تحقیق یاحقی/ ناصح، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۳۷۵ش.
  • «اجرای نمایشنامہ بانوی آب و آیینہ»، خبرگزاری ایکنا، تاریخ انتشار: ۱۸-۰۲-۱۳۹۱ش، تاریخ بازدید: ۰۲-۱۲-۱۳۹۵ش.
  • احمدبن حنبل، مسند احمدبن حنبل، بیروت، دارصادر، بی‌تا.
  • اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ، قم، رضی‏، چاپ اول، ۱۴۲۱ق.
  • اربلی، علی‌بن‌عیسی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمۃ، بیروت، دارالاضواء، ۱۴۰۵ق.
  • آقابزرگ تہرانی، محمدمحسن، الذریعۃ الی تصانیف الشیعہ، بیروت، دارالأضواء، ۱۴۰۳ق.
  • آیین‌نامہ‌ہای مصوب شورای فرہنگ عمومی، ادارہ کل فرہنگ و ارشاد اسلامی کرمانشاہ، تاریخ بازدید: ۰۲-۱۲-۱۳۹۵ش.
  • آیا زن مسلمان امروزی می تواند از حضرت زہراؑ الگو بگیرد؟، پایگاہ خبری تحلیلی مہرخانہ، تاریخ انتشار: ۱۱-۰۲-۱۳۹۲ش، تاریخ بازدید: ۱۷-۱۲-۱۳۹۵ش.
  • الانصاری الزنجانی الخوئینی، اسماعیل، الموسوعۃ الکبری عن فاطمۃ الزہراء، قم، انتشارات دلیل ما، چاپ اول، ۱۴۲۸ق.
  • بتنونی، محمد لبیب، الرحلۃ‌الرحلۃ الحجازیۃ، قاہرہ، المکتبۃ الثقافیۃ الدینیہ، بی‌تا.
  • بحرانی، سیدہاشم حسینی، البرہان فی تفسیر القرآن، تہران، بنیاد بعثت، ۱۴۱۶ق.
  • بحرانی، سیدہاشم حسینی، غایۃ المرام و حجۃ الخصام، تحقیق سید‌علی عاشور، قم، مؤسسۃ المعارف الاسلامیۃ، ۱۴۱۳ق.
  • بخاری، محمدبن اسماعیل، صحیح البخاری، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۱ق.
  • بخاری، محمدبن اسماعیل، صحیح البخاری، بیروت، دارصادر، بی‌تا.
  • بلاذری، احمدبن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق سہیل زکار/ ریاض زرکلی، بیروت ، دارالفکر، ۱۴۱۷ق.
  • بلاغی، سیدعبدالحجۃ، حجۃ التفاسیر و بلاغ الاکسیر، قم، انتشارات حکمت، ۱۳۸۶ق.
  • بیضاوی، عبداللہ بن عمر، انوار التنزیل و اسرار التأویل، تحقیق محمد عبدالرحمن مرعشلی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۱۸ق.
  • ۱۵ «پیشنہاد برای ہدیہ روز مادر»، پایگاہ اینترنتی بیتوتہ، تاریخ بازدید: ۰۲-۱۲-۱۳۹۵ش.
  • ترمذی، محمدبن عیسی، سنن الترمذی، تحقیق عبدالوہاب عبداللطیف، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۳ق.
  • تہرانی، مجتبی، بحثی کوتاہ پیرامون خطبہ حضرت زہراؑ، تہران، پیام آزادی، زمستان ۱۳۸۷ش.
  • جوہری بصری، احمد‌بن عبدالعزیز، السقیفۃ و فدک، تحقیق محمدہادی امینی، بیروت، شرکۃ الکتبی، ۱۴۱۳ق.
  • حاکم نیشابوری، محمدبن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، تحقیق، یوسف مرعشلی، بیروت دارالمعرفۃ، بی‌تا.
  • حلبی، علی‌بن برہان، السیرۃ الحلبیۃ، بیروت، دارالمعرفۃ، ۱۴۰۰ق.
  • حمیری قمی، عبداللہ بن جعفر، قرب الإسناد، قم، مؤسسۃ آل‌البیت لإحیاء التراث، ۱۴۱۳ق.
  • خوارزمی، موفق بن احمد، المناقب، تحقیق مالک محمودی، قم، نشر اسلامی، ۱۴۱۱ق.
  • دولابی، محمدبن احمد، الذریۃ الطاہرۃ النبویۃ، تحقیق سیدمحمدجواد حسینی، قم، نشراسلامی، ۱۴۰۷ق.
  • «دہ نام نخست برای دختران و پسران ایرانی»، خبرگزاری فارس، تاریخ انتشار: ۱۵-۰۲-۱۳۹۲ش، تاریخ بازدید: ۰۲-۱۲-۱۳۹۵ش.
  • ذہبی، محمدبن احمد، سیر اعلام النبلاء، تحقیق شعیب الأرنوؤط، بیروت، مؤسسہ الرسالۃ، ۱۴۱۳ق.
  • ربانی گلپایگانی، «علی، فاطمیان و قرامطہ»، پایگاہ اطلاع رسانی حوزہ، تاریخ انتشار : ۱۳۸۵/۵/۴، تاریخ بازدید: ۱۳۹۵/۱۲/۰۶.
  • رصاص، احمدبن حسن‌، مصباح العلوم، تحقیق مرتضی بن زید محطوری، مرکز البدر العلمی و الثقافی، صنعا، چاپ اول، ۱۹۹۹م.
  • زمخشری، محمودبن عمر، الکشاف، بیروت، دارالکتب العربی، ۱۴۰۷ق.
  • سہمی، حمزۃ بن یوسف، تاریخ جرجان، بیروت، عالم الکتب، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ق، ص۱۷۱.
  • سیدبن طاووس، علی‌بن موسی، جمال الاسبوع، تحقیق جواد قیومی، مؤسسۃ الآفاق، ۱۳۷۱ش.
  • سیدمرتضی، علی‌بن حسین، الشافی فی‌الامامۃ، تحقیق سیدعبدالزہرا حسینی، قم، انتشارات اسماعیلیان، ۱۴۱۰ق.
  • سیوطی، جلال‌الدین، الدرالمنثور فی تفسیر بالمأثور، قم، کتابخانہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ق.
  • «شاعر اہل بیت زکات طبعش را می‌دہد»، پایگاہ اینترنتی شہرستان ادب، تاریخ انتشار: ۲۴-۰۱-۱۳۹۲ش، تاریخ بازدید: ۰۲-۱۲-۱۳۹۵ش.
  • شہرستانی، محمدبن عبدالکریم، الملل و النحل، تحقیق محمد سیدگیلانی، بیروت، دارالمعرفۃ، ۱۴۲۲ق.
  • شہیدثانی، زین‌الدین بن علی عاملی، الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، تحقیق سیدمحمدکلانتر، قم، انتشارات داوری، ۱۴۱۰ق.
  • شہیدی، سید جعفر، زندگانی فاطمہ زہرا ؑ، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ۱۳۶۳ش.
  • صدوق، محمد بن علی بن بابویہ، معانی الاخبار، تصحیح و تعلیق: علی اکبر الغفاری، قم: مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۱۳۷۹ش.
  • صدوق، محمدبن علی بن‌بابویہ، علل الشرایع، تحقیق سیدمحمدصادق بحرالعلوم، النجف الاشرف، المکتبۃ الحیدریۃ، ۱۳۸۵ق.
  • صدوق، محمدبن علی، الامالی، قم مؤسسہ البعثۃ، ۱۴۱۷ق.
  • صدوق، محمدبن علی، الخصال، تحقیق علی‌اکبر غفاری، قم، نشر اسلامی، ۱۴۰۳ق.
  • صدوق، محمدبن علی، من لایحضرہ الفقیہ، تحقیق علی‌اکبر غفاری، قم، نشراسلامی، ۱۴۰۴ق.
  • صفار، محمدبن حسن، بصائرالدرجات الکبری، تحقیق میرزا محسن کوچہ باغی، تہران، مؤسسۃ الاعلمی، ۱۴۰۴ق.
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، نشر اسلامی، ۱۴۱۷ق.
  • طباطبایی، سیدمحمدکاظم، «ازدواج فاطمہ»، دانشنامہ فاطمیؑ، تہران، سازمان انتشارات پژوہشگاہ فرہنگ و اندیشہ اسلامی، ۱۳۹۳ش.
  • طبرسی، احمدبن علی، الاحتجاج، تحقیق محمدباقر خرسان، النجف الاشرف، دارالنعمان، ۱۳۸۶ق.
  • طبرسی، حسن‌بن فضل، مکارم الاخلاق، قم، الشریف الرضی، ۱۳۹۲ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری، قم، مؤسسۃ آل‌البیت لاحیاء التراث، ۱۴۱۷ق.
  • طبرسی، فضل‌بن حسن، مجمع البیان فی تفسیرالقرآن، تہران، انتشارات خسرو، ۱۳۷۲ش.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیرالقرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی، ۱۴۱۵ق.
  • طبری امامی، محمدبن جریر، دلائل الامامۃ، قم، مؤسسۃ البعثۃ، ۱۴۱۳ق.
  • طبری، ابو جعفر محمد بن جریر، تاریخ طبری، تحقیق مجد ابوالفضل ابراہیم، بیروت،‌ دارالتراث، چاپ دوم، ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷م.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، تحقیق گروہی از دانشمندان، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی، ۱۴۰۳ق.
  • طبری، محمدبن ابی‌القاسم، بشارۃ المصطفی لشیعۃ المرتضی، تحقیق جواد قیومی، قم، نشر اسلامی، ۱۴۲۰ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتہجد، بیروت، مؤسسہ فقہ‌الشیعہ، ۱۴۱۱ق.
  • طوسی، محمدبن حسن، اختیار معرفۃ الرجال، تحقیق سیدمہدی رجایی، قم، مؤسسۃ آل‌البیت لاحیاء التراث، ۱۴۰۴ق.
  • طوسی، محمدبن حسن، الامالی، تحقیق مؤسسۃ البعثۃ، قم، دارالثقافۃ، ۱۴۱۴ق.
  • طوسی، محمدبن حسن، التبیان فی تفسیرالقرآن، تحقیق احمد قصیر عاملی، مکتب الاعلام الاسلامی، ۱۴۰۹ق.
  • عالمی، سیدعلیرضا، اشعار فاطمہؑ، دانشنامہ فاطمیؑ، تہران، سازمان انتشارات پژوہشگاہ فرہنگ و اندیشہ اسلامی، ۱۳۹۳ش.
  • عاملی، سید جعفر مرتضی، رنج‌ہای حضرت زہرا ؑ، ترجمہ: محمد سپہری، قم، انتشارات تہذیب، ۱۳۸۲ش.
  • عسکری، مرتضی، سقیفہ: بررسی نحوہ شکل‌گیری حکومت پس از پیامبر، بہ کوشش مہدی دشتی، قم، دانشکدہ اصول دین، ۱۳۸۷ش.
  • «فاطمیہ در قم؛ پیادہ‌روی دو تن از مراجع تقلید تا حرم»، خبرگزاری صداو سیما، تاریخ انتشار: ۱۴-۰۱-۱۳۹۳ش، تاریخ بازدید: ۰۲-۱۲-۱۳۹۵ش.
  • فتال نیشابوری، محمدبن حسن، روضۃ الواعظین، قم، شریف الرضی.
  • فخر رازی، محمدبن عمر، التفسیرالکبیر، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ۱۴۲۰ق.
  • فرہمندپور، فہیمہ، سیرہ سیاسی فاطمہ، دانشنامہ فاطمی، تہران، پژوہشگاہ فرہنگ و اندیشہ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۹۳ش.
  • کحالہ، عمر رضا، اعلام النساء فی عالمی العرب و الاسلام، بیروت؛ مؤسسۃ الرسالۃ، چاپ دہم، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۱م.
  • کفعمی، ابراہیم بن علی، المصباح، بیروت، مؤسسہ الاعلمی، ۱۴۰۳ق.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، بیروت، ۱۴۰۱ق.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تحقیق علی‌اکبر غفاری، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۶۳ش.
  • «گفتگو با آیت اللہ‌العظمی شبیری زنجانی»، سایت جماران، تاریخ ثبت: ۱۴-۰۱-۱۳۹۳ش، تاریخ بازدید: ۲۹-۱۱-۱۳۹۵ش.
  • «ماجرای تعطیل شدن روز شہادت حضرت زہراؑ»، خبرگزاری فارس‌، تاریخ انتشار: ۰۵-۰۲-۱۳۹۱ش، تاریخ بازدید: ۰۲-۱۲-۱۳۹۵ش
  • متقی ہندی، علاءالدین علی بن حسام، کنز العمال، بیروت، موسسۃ الرسالۃ، بی‌تا.
  • مجلسی، بحار الانوار، تحقیق شیخ عبدالزہرا علوی، بیروت، دارالرضا، بی‌تا.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، مؤسسۃ الوفاء بیروت، لبنان، ۱۴۰۴ق.
  • محقق سبزواری، محمدباقر،‌ نمونہ بینات در شأن نزول آیات از نظر شیخ طوسی و سایر مفسرین خاصہ و عامہ، تہران، اسلامی، چاپ دوم، ۱۳۵۹ش.
  • محلاتی، ذبیح اللہ، ریاحین الشریعۃ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، بی‌تا.
  • مدیر شانہ‌چی، کاظم، علم‌الحدیث، مشہد، انتشارات دانشگاہ مشہد، ۱۳۴۴ش.
  • مرعشی نجفی، سیدشہاب‌الدین، شرح احقاق الحق، قم، کتابخانہ مرعشی نجفی، بی‌تا.
  • مسعودی، علی‌بن حسین، اثبات الوصیۃ للإمام علی‌بن ابی‌طالب، قم، انتشارات انصاریان، ۱۴۱۷ق.
  • مسعودی، محمدفاضل، اسرارالفاطمیہ، تحقیق: سیدعادل علوی، مؤسسۃ الزائر، ۱۴۲۰ق.
  • مسلم نیشابوری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، بیروت، دارالفکر، بی‌تا.
  • معموری، علی، کتابشناسی فاطمہ، دانشنامہ فاطمی، تہران، پژوہشگاہ فرہنگ و اندیشہ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۹۳ش.
  • مغربی، قاضی نعمان بن محمد تمیمی، دعائم الاسلام، تحقیق آصف فیضی، قاہرہ، دارالمعارف، ۱۳۸۳ق.
  • مغربی، قاضی نعمان بن محمد تمیمی، شرح الاخبار فی فضائل الائمۃ الأطہار، تحقیق سید محمد حسینی‌ جلالی، قم، نشر اسلامی، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۲۹.
  • مفید، محمد بن محمد بن نعمان، المقنعۃ، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامی، چاپ دوم، ۱۴۱۰ق.
  • مفید، محمدبن محمد، الاختصاص، تحقیق علی‌اکبر غفاری، قم، نشر اسلامی، ۱۴۱۴ق.
  • مفید، محمدبن محمد، الإرشاد فی معرفۃ حجج اللہ على العباد، قم، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۳ق.
  • مفید، محمد‌بن محمد، الامالی، تحقیق حسین استادولی، علی‌اکبر غفاری، بیروت، دارالمفید، ۱۴۱۴ق.
  • مفید، محمدبن‌محمد، مسارالشریعہ فی مختصر تواریخ الشریعۃ، تحقیق مہدی نجف، بیروت، دارالمفید، ۱۴۱۴ق.
  • مقریزی، احمدبن علی، امتاع الاسماع، تحقیق محمد نمیسی، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۲۰ق.
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۴ش.
  • میرجہانی، سید محمد حسن، جنۃ العاصمۃ، تہران، کتابخانہ صدر، ۱۳۹۸ق.
  • نسایی، احمدبن شعیب، السنن الکبری، تحقیق عبدالغفار سلیمان بنداری، سیدکسروی حسن، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۱ق.
  • «نمایش بانوی غریب‌نشین»، خبرگزاری ایکنا، تاریخ انتشار: ۲۷-۰۱-۱۳۹۳ش، تاریخ بازدید: ۰۲-۱۲-۱۳۹۵ش.
  • «نمایشگاہ کوچہ‌ہای بنی‌ہاشم»، خبرگزاری مشرق، تاریخ انتشار: ۲۷-۰۱-۱۳۹۱ش تاریخ بازدید: ۰۲-۱۲-۱۳۹۵ش.
  • نیشابوری، حسن بن محمد، تفسیر غرائب القرآن و رغائب الفرقان، تحقیق زکریا عمیرات، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۶ق.
  • واقدی، محمدبن عمر، المغازی، تحقیق مارزدن جونز، بیروت، اعلمی، ۱۴۰۹ق.
  • ہلالی عامری، سلیم بن قیس، کتاب سلیم بن قیس، تحقیق محمد باقر انصاری، قم، نشرالہادی، ۱۴۲۰ق.
  • یعقوبی، احمدبن اسحاق، تاریخ یعقوبی، دارصادر، بیروت، ‌بی‌تا.