ام ابیہا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اُمّ اَبیہا عربی زبان کا ایک مرکب لفظ ہے جو حضرت فاطمہ کی کنیت ہے۔

معنا

ام ابیہا کا لفظی ترجمہ اپنے باپ کی ماں ہے۔ عربی زبان میں لفظ ام یا اب سے شروع ہونے والے الفاظ کو کنیت کہا جاتا ہے۔ جیسے رسول اکرم کی کنیت ابو القاسم،

مستند

امام صادقؑ نے اپنے والد ماجد امام باقرؑ کے حوالے سے فرمایا کہ "ام ابیہا حضرت زہراؑ کی کنیت ہے۔[1][نوٹ 1]

عبداللہ بن جعفر بن ابیطالب کی ایک بیٹی کا نام بھی "ام ابیہا" تھا۔[2] محمد بن جریر طبری کی روایت کے مطابق حضرت امام کاظمؑ نے بھی اپنی ایک بیٹی کا نام "ام ابیہا" رکھا تھا۔[3]

متعلقہ صفحات

نوٹ

  1. لفظی اعتبار سے ام سے شروع ہونے الے الفاظ کو کنیت کہا جاتا ہے لیکن معنا کے لحاظ سے اسے لقب بھی کہا جا سکتا ہے

حوالہ جات

  1. ابن أيوب الباجي المالكي، التعديل والتجريح، ج 3، ص 1498-1499؛ أبوالفرج الأصفہاني، مقاتل الطالبيين، ص 29؛ ابن المغازلي، مناقب علي بن أبي طالبؑ، ص 267؛ بحار الانوار، ج 43، ص 19.
  2. تاریخ یعقوبی، ترجمہ آیتی، ج 2، ص 292.
  3. تاریخ طبری، ترجمہ پایندہ، ج 14، ص 5986.


مآخذ

  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1403 ہجری۔
  • ابن أيوب الباجي المالكي، سليمان بن خلف بن سعد ، التعديل والتجريح، ج 3، تحقيق : الأستاذ أحمد البزار ناشر : وزارۃ الأوقاف والشؤون الإسلاميۃ - مراكش.
  • ابن المغازلي، مناقب علي بن أبي طالب ؑ، انتشارات سبط النبي (ص)، 1426/ 1384 ہجری شمسی۔
  • أبوالفرج الأصفہاني، مقاتل الطالبيين، تحقيق، تقديم وإشراف: كاظم المظفر، النجف الأشرف: منشورات المكتبۃ الحيدريۃ ومطبعتہا، 1385ق / 1965عیسوی۔
  • یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ترجمہ محمدابراہیم آیتی، تہران: بنگاہ ترجمہ و نشر کتاب، 2536پہلوی(نسخہ موجود در لوح فشردہ مکتبہ اہل بیتؑ نسخہ دوم)۔
  • الطبری، محمدبن جریر، تاریخ الطبری، ترجمہ ابوالقاسم پایندہ، ناشر: اساطیر، 1369ش (نسخہ موجود در لوح فشردہ مکتبہ اہل بیتؑ نسخہ دوم)۔