خطبہ فدکیہ

ویکی شیعہ سے
(خطبۂ فدکیہ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
خطبہ فدکیہ سے اقتباس

فَلَمَّا اِختارَ اللَّـهُ لِنَبِیهِ‌دار اَنْبِیائِهِ وَ مَأْوی اَصْفِیائِهِ، ظَهَرَ فیكُمْ حَسْكَةُ النِّفاقِ، وَ سَمَلَ جِلْبابُ الدّینِ، وَ نَطَقَ كاظِمُ الْغاوینَ، وَ نَبَغَ خامِلُ الْاَقَلّینَ، وَ هَدَرَ فَنیقُ الْمُبْطِلینَ، فَخَطَرَ فی عَرَصاتِكُمْ، وَ اَطْلَعَ الشَّیطانُ رَأْسَهُ مِنْ مَغْرَزِهِ، هاتِفاً بِكُمْ، فَأَلْفاكُمْ لِدَعْوَتِهِ مُسْتَجیبینَ، وَ لِلْغِرَّةِ فیهِ مُلاحِظینَ، ثُمَّ اسْتَنْهَضَكُمْ فَوَجَدَكُمْ خِفافاً، وَ اَحْمَشَكُمْ فَاَلْفاكُمْ غِضاباً، فَوَسَمْتُمْ غَیرَ اِبِلِكُمْ، وَ وَرَدْتُمْ غَیرَ مَشْرَبِكُمْ.
هذا، وَ الْعَهْدُ قَریبٌ، وَالْكَلْمُ رَحیبٌ، وَ الْجُرْحُ لَمَّا ینْدَمِلُ، وَ الرَّسُولُ لَمَّا یقْبَرُ، اِبْتِداراً زَعَمْتُمْ خَوْفَ الْفِتْنَةِ، اَلا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوا، وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحیطَةٌ بِالْكافِرینَ.
(ترجمہ: پھر جب اللہ نے اپنے پیغمبر کیلئے انبیاء کاگھر اور اوصیاء کی آرام گاہ منتخب کرلی، تو تم میں نفاق کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو گئیں، اور دین کالباس کہنہ نظر آنے لگا، اور گمراہوں کی خاموشیاں ٹوٹ گئیں، کمینے لوگ عزت دار بنے اور اہل باطل کا نازوں پلا اونٹ تمہارے دروازں تک پہنچ گیا، اور شیطان نے کمین گاہ سے اپنا سر باہر نکال کر تمہیں دعوت دی جب اس نے دیکھا کہ اس کی دعوت پر مثبت جواب دینے والے ہو، اور دھوکہ کھانے کیلئے آمادہ ہو تو اس وقت اس نے آپ سے چاہا کہ قیام کرو، ور جب دیکھا کہ آپ آسانی سے یہ کام انجام دینگے، تو آپ کو غصے میں لے آیا، اور جب دیکھا کہ آپ غضبناک ہیں تو آپ نے غیروں کے اونٹوں پر پلان لگائے اور ایسے پانی میں داخل ہوئے جو آپ کا حصہ نہ تھا۔
یہ سب کچھ ماضی قریب کی باتیں ہیں، اور ابھی تک زخموں کے نشان واضح تھے اور زخم بھرے نہیں تھے اورپیغمبر اسلام(ص) دفن نہیں ہوئے تھے، تم نے بہانہ کیا کہ فتنہ سے ڈرتے ہو، آگاہ رہو کہ اب فتنہ میں پڑے ہو، حقیقت ہے کہ جہنم نے کافروں کا احاطہ کر رکھا ہے۔
)

شہیدی، زندگانی فاطمہ زہرا، ۱۳۶۲ش، ص۱۳۱-۱۳۲.

خطبۂ فدکیہ حضرت فاطمہؑ کے اس خطبے کو کہا جاتا ہے جو آپ نے ابو بکر سے فدک واپس لینے کیلئے رسول اللہ کے وصال کے بعد مسجد نبی میں ارشاد فرمایا۔ حضرت فاطمہؑ نے اس خطبے کے ذریعے حاضرین مجلس کو آگاہ کیا کہ حضرت ابو بکر نے فدک کی زمینوں پر قبضہ کر کے میرا حق غصب کیا ہے۔اس خطبے میں حضرت فاطمہؑ نے قرانی آیات سے استدلال کیا کہ قرآن کی رو سے بھی فاطمہؑ رسول اللہ کے بعد اس کی شرعی وارث ہے لہذا حضرت ابو بکر کا فدک کی زمینوں میں سے ہمارے عمال کو نکال کر اسے قبضے میں لینا درست نہیں اور احکام خداوندی کی کھلی مخالفت ہے۔اس خطبے کا متن شیعہ اور سنی مآخذوں میں موجود ہے۔

تاریخچہ

پیغمبر اکرمؐ کی زندگی کے دوران خیبر کے نزدیک فدک کے نام سے ایک گاؤں آباد تھا۔ مسلمانوں کی طرف سے خیبر کے قلعہ کی فتح کے بعد،اسی گاؤں کے لوگوں نے خیبر کا انجام دیکھا تو پیغمبر کے ساتھ صلح کی کہ آدھا گاؤں رسول کے لئے ہوگا جبکہ وہ اپنی زمینوں پر باقی رہے گے[1] چونکہ اسلامی فوج کا گاؤں کے حصول میں کوئی کردار نہیں تھا اس لئے فدک قرآنی حکم کے مطابق پیغمبر کیلئے مخصوص قرار پایا۔ رسول خدا اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بنی ہاشم کے غریبوں کو دے دیتے تھے۔ اس کے بعد قرآن کے حکم پر اسے اپنی بیٹی فاطمہؑ کو دے دیا۔[2] بعض مفسرین خاص طور پر شیخ طوسی[3] طبرسی[4] حسکانی [5]سیوطی[6] نے اس آیت وَآتِ ذَا الْقُرْ‌بَیٰ حَقَّهُ : ترجمہ (اور تم اپنے رشتے داروں کو ان کا حق دو۔) کے ذیل میں ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ نے اس کے نازل ہونے کے بعد فدک حضرت فاطمہؑ کو بخش دیا۔

فدک کا غصب

اصلی مضمون:فدک

رسول اللہ کے وصال کے بعد ابو بکر نے قدرت حاصل کرنے کیلئے رسول خدا کے ترکے پر قبضہ کرنے کا حکم دیا۔ رسول اللہ کی بیٹی حضرت فاطمہؑ نے ادعا کیا کہ میں رسول خدا کی بیٹی ہوں اور جس طرح دوسروں کی اولاد اپنے باپ سے میراث پاتی ہے اسی طرح مجھے بھی میراث ملنی چاہئے ۔اس کے جواب میں ابوبکر نے کہا کہ میں نے رسول اللہ سے سنا تھا کہ ہم انبیا کوئی ارث نہیں چھوڑتے ہیں جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ فاطمہؑ اس حدیث کے سننے سے بہت حیران ہوئیں کہ کیسے ممکن ہے کہ میں وارث پیغمبر ہوں تو رسول اللہ مجھے اس سے آگاہ نہ کریں یا علی بھی اس سے با خبر نہ ہوں جبکہ وہ سب سے زیادہ رسول اللہ کے نزدیک تھے۔ یہ وجہ تھی کہ حضرت فاطمہؑ ؑ نے بڑی سختی سے ابوبکر کے سامنے مقاومت کی اور مہاجرین اور انصار کی موجودگی میں ایک خطبہ بیان کیا جس میں آیات قرآنی کے ذریعے اولاد کو وراثت ملنے کے حکم کو بیان کیا اور ابو بکر کے بیان کئے گئے حکم کو شدت سے محکوم کیا۔

جیسا کہ صحیح بخاری[7] میں آیا ہے کہ ابوبکر نے جب حضرت فاطمہؑ سے رسول خدا کا یہ فرمان نقل کیا: پیغمبران میراث نہیں رکھتے اور جو کچھ باقی رہ جاتا ہے وہ صدقہ ہوتا ہے، تو حضرت فاطمہؑ شدید ناراض ہو گئیں اور انکی ناراضگی کا یہ سلسلہ انکی شہادت تک جاری رہا.[8] فاطمہؑ کا غصہ اور ناراضگی اس نظر سے بہت اہم ہے کہ صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ خود اہل سنت بھی پیغمبر(ص) سے یہ روایت نقل کرتے ہیں :فاطمہؑ میرے بدن کا حصہ ہے اور اگر کوئی اسے ناراض کرے تو اس نے مجھے ناراض کیا ہے۔[حوالہ درکار] اس کے علاوہ یہاں غاصبان فدک کو ایک اور مشکل کا سامنا بھی ہے کہ انہوں نے حضرت فاطمہؑ کے دعوے کو جھٹلایا اور تکذیب کی ہے جبکہ قرآن کی آیۂ تطہیر حضرت فاطمہؑ سے ہر قسم کی پلیدگی اور برائی کے دور ہونے کو بیان کرتی ہے۔

مسجد میں شکایت

رسول اللہ اور اسلام کے ابتدائی دور میں مسجد کو مرکزیت حاصل تھی اور اسے لوگوں کی شکایات سننے کا مرکز سمجھا جاتا تھا ۔جسے بھی صاحب قدرت سے شکایت ہوتی یا کسی نے کسی کی حق تلفی یا کسی کو سنت رسول سے دور پاتا تو وہ مسجد میں مسلمانوں کے سامنے اپنی شکایت پیش کرتا ۔اس کے مقابل مسجد میں موجود حاضرین ممکنہ حد تک اسکی شکایت کو دور کرنے کی کوشش کرتے ۔یہاں بھی رسول خدا کی بیٹی کا بھی حق چھین کر رسول اللہ کی سنت کی مخالفت کی گئی تھی نیز رسول کی بیٹی دیکھ رہی تھی کہ اسلامی حکومت میں رنگ و نسل کا امتیاز رنگ پکڑ رہا ہے ۔مہاجرین میں سے قریش نے اسی رنگ و نسل کے امتیا کی بنا پر انصار کو حکومتی مشنری سے دور کر دیا ۔اس کے مقابلے میں انصار نے اپنے لئے خصوصیات کا انتخاب کر لیا ہے اور وہ بھی خود ساختہ خصوصیات کی بنا پر اپنے آپکو حکومت کا اہل سمجھنے لگے ہیں۔ جب کہ اسلام نے آکر اس رنگ و نسل کے امتیاز کو ختم کیا تھا اور اسلام میں علم ،تقوے اور عدالت جیسی خصوصیات کو انسان کی بزرگی اور برتری کا میزان قرار دیا تھا ۔[9]

ان حالات کے پیش نظر رسول کی بیٹی نے مسجد کی عمومی فضا میں مسلمانوں کے درمیان اپنی شکایت کو پیش کیا اور خطبہ دیا تا کہ اس کے ذریعے لوگوں کو جھنجھوڑا جائے اور وہ راہ راست کو اختیار کریں۔ حضرت فاطمہؑ قریش کی خواتین کے حلقہ میں مسجد کی طرف روانہ ہوئیں ۔لکھتے ہیں کہ حضرت فاطمہؑ مسجد کی طرف جاتے ہوئے قدم بہ قدم اپنے باپ کی طرح جارہی تھیں ۔ابوبکر مہاجرین و انصار کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد میں موجود تھا ۔فاطمہؑ اور مردوں کے درمیان ایک چادر لٹکا دی گئی۔

رسول کی دختر نے گریہ کیا اس گریے نے اہل مجلس کے دل ہلا کر رکھ دیے اس کے بعد آپ نے خطبہ دینا شروع کیا۔اسی خطبے کو خطبۂ فدکیہ کہا جاتا ہے۔

خطبے کی خصوصیات

حضرت فاطمہؑ کا یہ بلیغ خطبہ تاریخی، گلہ آمیز اور دلوں کو گرمانے والا ہے۔اس خطبے کی قدیمی ترین سند کا سلسلہ ابن طیفور کی کتاب بلاغات النساء ہے۔ اس نے اس خطبے کو دو روایتوں اور دو صورتوں میں ذکر کیا ہے ۔لیکن بعد کی اسناد میں دونوں خطبے کے فقرات مل جل گئے ہیں اور ایک خطبے کی صورت میں اسے ذکر کیا گیا ہے۔[10]

اہل سنت کے علما میں سے احمد بن طاہر مروزی اس خطبے کے آخر میں نقل کرتا ہے جب حضرت ابو بکر نے انبیا کے اموال کے صدقہ ہونے کا ذکر کیا تو حضرت فاطمہؑ نے جواب دیا میں اسے تسلیم کرتی ہوں [11]۔ یہ حصہ بہت سے دیگر منابع اور ماخذوں میں موجود نہیں ہے جبکہ اس خطبے کے 16 کے قریب مصادر و مآخذ ذکر ہوئے ہیں ۔[12]

مضمون

خطبہ حمد الہی سے شروع ہوتا ہے۔پھر اس میں بعثت پیغمبر اور حضرت علی کی بے مثال دلیری، شجاعت اور نبی اکرمؐ سے دفاع کا ذکر ہے۔ اصحاب رسول نے بعد از پیغمبر کو چھوڑ دیا، پیروئے شیطان ہوگئے اور ان میں نفاق ظاہر ہوا۔ اسی طرح اس میں ابوبکر کے ارث نہ دینے پر تکذیب کی کہ اس نے کیوں مجھے میرے باپ کی میراث سے محروم کیا ؟ کیا قرآنی حکم ارث کے بارے میں موجود نہیں ہے ؟ پھر اس مسئلے کو قیامت کے روز خدا کے سپرد کیا اور کہا کہ کیوں صحابہ پیغمبر اس ستم پر خاموش بیٹھے رہے ۔واضح طور پر کہا کہ جو ابوبکر اور اسکے ساتھیوں نے کیا وہ خدا سے اپنے ایمان کے عہد کو توڑنے کے مترادف ہے۔ آخر میں انہیں اس کام کی وجہ سے دوزخ کی وعید سنائی۔[13]

حوالہ جات

  1. شہیدی، زندگانی فاطمہ زہراؑ، ص۹۷_۹۶
  2. شہیدی، زندگانی فاطمہؑ زہرا، ص۹۷
  3. طوسی، التبیان فی تفسیر القرآن، ج۶، ص۴۶۸
  4. طبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج۶، ص۶۳۳-۶۳۴.
  5. حسکانی، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، ج‌۱، ص۴۳۸-۴۳۹
  6. سیوطی، الدر المنثور، ج۴، ص۱۷۷
  7. صحیح البخاری، ج۴، ص۴۲
  8. صحیح البخاری، ج۴، ص۲۱۰
  9. شہیدی، زندگانی فاطمہ زہرا، ص۱۲۱-۱۲۲
  10. شہیدی، زندگانی فاطمہ زہرا علیہاالسلام، ص۱۲۲
  11. بلاغات النساء، ص۲۳
  12. سایت حوزه
  13. شہیدی، زندگانی فاطمہؑ زہرا علیہاالسلام، صص ۱۲۶-۱۳۵


مآخذ

  • ابوالفضل احمد بن ابی طاہر، بلاغات النساء، چاپ افست، قم: مکتبہ بصیرتی، بی‌تا.
  • ابوبکر الرفیعی، بذرہای اختلاف، ترجمہ: محمد فاروقی، تہران، صبوری، ۱۳۷۸.
  • صحیح البخاری، ج۴، دارالفکر للطباعہ والنشر و التوزیع، ۱۴۰۱ق/۱۹۸۱م.
  • شہیدی، سیدجعفر، زندگانی فاطمہؑ زہرا علیہاالسلام، تہران: دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ۱۳۶۲.
  • سیوطی، جلال الدین، الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، ج۴، بیروت:‌دار المعرفہ للطباع والنشر، بی‌تا.
  • حسكانی، عبید اللہ بن احمد، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، تحقیق: محمد باقر محمودی، تہران: سازمان چاپ وانتشارات وزارت ارشاد اسلامی، ۱۴۱۱ق.
  • الطبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران: ناصرخسرو، ۱۳۷۲ش.
  • الطوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا.
  • مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، مشہد، دارالکتب علمیہ، ۱۳۵۴.
  • مجلسی، محمّدباقر، بحارالانوار، چاپ کمپانی.
  • منتظری، حسینعلی، خطبہ حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام و ماجرای فدک، تہران: مؤسسہ فرہنگی خرد آوا، ۱۳۸۷.