آسیہ زوجہ فرعون

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

آسیہ زوجہ فرعون بنت مزاحم بن عبید، دریائے نیل سے حضرت موسی (ع) کو نجات دینے میں ان کا کردار ذکر ہوا ہے۔ قرآن و روایات میں ان کا تذکرہ نیکی کے ساتھ کیا گیا ہے اور بعض روایات میں جنت میں انہیں حضرت خدیجہ کا ہم نشین کہا گیا ہے۔

آسیہ حضرت موسی (ع) پر ایمان لائیں لیکن انہوں نے فرعون سے اپنا ایمان مخفی رکھا۔ جب فرعون ان کے ایمان لانے سے آگاہ ہوا تو اس نے انہیں سزا دیتے اذیت و آزار کے بعد قتل کر دیا۔

نسب و خاندان

آسیہ بنت مزاحم بن عبید، فرعون کی بیوی تھیں۔[1] بعض منابع نے ایک قول نقل کیا ہے جس کے مطابق ان کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا[2] اور حتی بعض نے کہا ہے کہ وہ حضرت موسی (ع) کی پھوپھی تھیں۔[3]

قرآن

آسیہ کا نام قرآن میں نہیں آیا ہے۔ لیکن مفسرین نے امراۃ فرعون سے جو قرآن میں سورہ تحریم کی آیت نمبر 11 کے ساتھ دو بار ذکر ہوا ہے، مراد آسیہ کو لیا ہے۔ سورہ قصص کی نویں آیت کے مطابق، جس وقت حضرت موسی کو دریا سے نکالا گیا آسیہ وہاں موجود تھیں اور انہوں نے فرعون کو رغبت دلائی کہ وہ حضرت موسی کو زندہ رکھے۔[4] اسی طرح سے سورہ تحریم کی 11 ویں آیت میں آسیہ کو ان خواتین کے مقابل میں جن میں حضرت نوح و حضرت لوط کی بیگمات شامل ہیں جو نوح و لوط جیسے نبیوں کی بیویاں اور ان کی صحبت میں ہونے کے باوجود کفر کی مرتکب ہوئیں، آسیہ کو نیکی کے ساتھ مَثَل کے عنوان سے یاد کیا ہے۔[5] اس آیت میں آیا ہے کہ آسیہ نے خدا سے دعا کی کہ وہ ان کے لئے بہشت میں ایک گھر قرار دے اور انہیں فرعون اور ظالم قوم سے نجات عطا کرے۔ « إِذْ قالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهِ وَ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ‏[ تحریم–۱۱]»"

ایمان

قرآن کریم کی بعض آیات کے مطابق، آسیہ فرعون کے دربار میں زندگی بسر کرنے کے باوجود خدا پر ایمان رکھتی تھیں۔ آسیہ نے جس وقت حضرت موسی کے عصا کے معجزہ کو دیکھا ان پر ایمان لے آئیں۔ انہوں نے اپنے ایمان کو فرعون سے مخفی رکھا۔ جس وقت فرعون ان کے ایمان سے آگاہ ہوا، ان سے چاہا کہ وہ خدا کی پرستش چھوڑ دیں لیکن آسیہ نے قبول نہیں کیا تو فرعون نے انہیں سزا دی۔[6] اس نے حکم دیا کہ ان کے پیروں میں کیلیں ٹھوک کر انہیں زیر آفتاب رکھا گیا اور ایک بڑا پتھر ان کے اوپر گرایا گیا ان اذیتوں کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔[7]

شیعہ، آسیہ کے مخفی ایمان اور عبادت کو تقیہ کے لئے دلیل کے عنوان سے پیش کرتے ہیں۔

بعض دیگر روایات میں ان کا شمار حضرت علی بن ابی طالب، مومن آل یاسین کی صف میں، اس عنوان سے کیا گیا ہے کہ انہوں نے اسلام لانے سے پہلے بھی کبھی کفر کا ارتکاب نہیں کیا۔[8]

روایات

بعض روایات میں آسیہ کو مریم، خدیجہ، فاطمہ کے ساتھ خواتین عالم کی افضل ترین اور سیدہ نساء العالمین شمار کیا گیا ہے۔[9] البتہ بعض دیگر روایات میں سیدہ نساء العالمین فقط حضرت زہرا کو کہا گیا ہے۔ علامہ طباطبایی کا ماننا ہے کہ ان چاروں حضرات کے سید نساء العالمین ہونے میں کوئی منافات نہیں ہے۔ اس کے باوجود کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے سے افضل و برتر ہو۔[10] بعض روایات میں حضرت زہرا کے سب سے افضل و برتر ہونے کی طرف اشارہ ہوا ہے۔[11] اسی طرح سے ان روایات سے جو حضرت زہرا کے دور کی خواتین کو دیگر ادوار سے زیادہ متمدن اور مکمل ذکر کرتی ہیں، انہیں ان کی برتری کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔[12] بعض اہل سنت علماء جیسے آلوسی نے حضرت فاطمہ کے دیگر حضرات سے برتر ہونے کے سلسلہ میں پیغمبر اکرم (ص) کی حدیث سے استناد کیا ہے جس میں آپ نے فرمایا: فاطمۃ بضعۃ منی (فاطمہ میری پارہ تن ہے)۔ اس روایت کے مطابق، فاطمہ وجود پیغمبر (ص) کا حصہ ہیں اور چونکہ ختمی مرتبت (ص) افضل کائنات ہیں لہذا فاطمہ بھی برترین مخلوقات ہیں۔[13]

امام جعفر صادق (ع) کی اس روایت کی بنیاد پر جو بعض شیعہ منابع میں ذکر ہوئی ہیں، حضرت فاطمہ زہرا (ع) کی ولادت کے موقع پر زنان قریش نے حضرت خدیجہ (س) کو تنہا چھوڑ دیا تو خدا وند عالم نے بعض خواتین کو ان کے پاس بھیجا جن میں حضرت مریم و حضرت آسیہ شامل تھیں۔ اس روایت میں حضرت آسیہ کو بہشت میں حضرت خدیجہ کا ہم نشین قرار دیا گیا ہے۔[14] اسی طرح سے ایک دوسری روایت کے مطابق، جب حضرت خدیجہ کی وفات ہوئی اور حضرت زہرا نے ماں کو یاد کیا تو رسول خدا (ص) نے انہیں بہشت میں حضرت خدیجہ کے مقام کا مشاہدہ کرایا جہاں حضرت مریم و حضرت آسیہ ان کی ہم نشین تھیں۔[15]

حوالہ جات

  1. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۳۶۵ق، ج۱، ص۱۶۹.
  2. ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۲۳۹.
  3. کاشانی، خلاصہ المنہج، ۱۳۷۳ق، ج۴، ص۱۵۲.
  4. قمی، تفسیر قمی، ۱۴۰۴ق، ج۲، ص۱۳۵.
  5. طباطبائی، المیزان، ۱۳۷۴ش، ج۱۹، ص۳۴۴.
  6. ابن جوزی، المنتظم، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۴۶.
  7. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۷۳۹.
  8. حسکانی، شواہد التنزیل، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۳۰۴؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۸۹، ص۲۹۶.
  9. سیوطی، الدر المنثور، ۱۴۰۴ق، ج۳، ص۲۳.
  10. طباطبائی، المیزان، ۱۳۷۲ش، ج۳، ص۲۱۵.
  11. سیوطی، الدر المنثور، ۱۴۰۴ق، ج۳، ص۲۳؛ آلوسی، روح المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۱۴۹؛ ابن شہر آشوب، مناقب، ۱۳۷۶ق، ج۳، ص۱۰۴.
  12. موسوی ہمدانی، ترجمہ المیزان، ۱۳۷۴ش، ج۳، ص۳۳۷.
  13. آلوسی، روح المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۱۴۹-۱۵۰.
  14. صدوق، امالی، ۱۳۷۶ش، ص۵۹۳-۵۹۴؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۶، ص۸۰-۸۱.
  15. طوسی، الامالی، ۱۴۱۴ق، ص۱۷۵.


مآخذ

  • ابن اثیر الجزری، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر، ۱۳۸۵ق.
  • ابن جوزی، عبد الرحمن بن علی‏، المنتظم،‏ محقق محمد عبد القادر عطا و مصطفی عبد القادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیہ، الطبعہ الاولی، ۱۴۱۲ق.
  • ابن شہر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، تحقیق لجنة من اساتذة النجف الاشرف، نجف، مطبعہ الحیدریہ، ۱۳۷۶ق-۱۹۵۶ ع
  • ابن کثیر دمشقی‏، اسماعیل بن عمر، البدایہ و النهایہ، بیروت، دار الفکر، ۱۴۰۷ق.
  • حسکانی، عبیدالله بن عبدالله، شواہدالتنزیل لقواعد التنزیل، تصحیح محمد باقر محمودی، تہران، مجمع احیاء الثقافہ الاسلامی، ۱۴۱۱ق
  • سیوطی، جلال الدین، الدر المنثور، قم، کتابخانہ آیة الله مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ق.
  • صدوق، محمد بن علی، الامالی، تہران، کتابچی، ۱۳۷۶ش.
  • طباطبائی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ترجمہ سید محمد باقر موسوی ہمدانی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۳۷۴ش.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ محمد جواد بلاغی، تہران، ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ش.
  • طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، دار الثقافہ، ۱۴۱۴ق.
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، تصحیح طیب موسوی جزایری، قم، دار الکتاب، ۱۴۰۴ق.
  • کاشانی، ملا فتح الله، خلاصة المنہج، تحقیق ابو الحسن شعرانی، تہران، انتشارات اسلامیہ، ۱۳۷۳ق.
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیا التراث العربی، ۱۴۰۳ق.
  • آلوسى، سيد محمود، روح المعانى فى تفسير القرآن العظيم، تحقیق على عبد البارى عطيہ، بیروت، دار الكتب العلمیہ، ۱۴۱۵ق.