تسبیحات حضرت زہرا(س)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg


تسبیحات حضرت زہرا سلام اللہ علیہا ایک خاص ذکر ہے جو 34 مرتبہ اللہ اکبر، 33 مرتبہ الحمد للہ اور 33 مرتبہ سبحان اللہ پر مشتمل ہے۔ احادیث کے مطابق یہ ذکر رسول اللہ(ص) نے حضرت فاطمہ زہرا(س) کو سکھایا۔ مآخذ حدیث میں بہت سی روایات ـ پنجگانہ نمازوں کے بعد ـ اس ذکر کی اہمیت، میں وارد ہوئی ہیں۔

حضرت زہرا(س) کو تسبیحات کی تعلیم

شیعہ مآخذ میں امیرالمؤمنین(ع) کی زبان مبارک سے منقولہ ایک حدیث کے مطابق، اس ذکر کی تعلیم رسول اللہ(ص) نے حضرت زہرا(س) کو دی۔ اس روایت کے مطابق، حضرت فاطمہ زہرا سلام‌ اللہ علیہا نے روزمرہ کے کام کاج تھک جانے کی بنا پر اپنے والد ماجد سے گھر کے لئے ایک خادم مقرر کرنے کی درخواست کرنا چاہتی تھیں، لیکن آپ(ص) نے سیدہ(س) کی درخواست کے جواب میں یہ تسبیح آپ(س) کو سکھا دی اور اس کو ہر خادم سے افضل قرار دیا اور سیدہ(س) یہ تسبیح سیکھنے سے مسرور ہوئیں۔[1]

شرائط و احکام

تسبیحات حضرت زہرا(س) ہر واجب اور مستحب نماز کے بعد، مستحب ہے لیکن یہ نماز صبح کے بعد مستحبّ مؤکّد ہے۔[2] جیسا کہ شیعہ متون حدیث سے ظاہر ہوتا ہے، حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کچھ شرطوں سے مشروط ہے:

  1. اذکار کی ترتیب اور ہر ذکر کی تعداد کی رعایت کرنا؛ (اول: اللہ اکبر 34 مرتبہ، دوئم: الحمد للہ 33 مرتبہ اور سوئم: سبحان اللہ 33 مرتبہ)؛ ذکر سبحان اللہ کو ذکر الحمد للہ سے پہلے پڑھنا، جائز ہے لیکن بہتر ہے کہ الحمد للہ سبحان اللہ پر مقدم ہو۔
  2. تسبیح کے وقت حضور قلبی اور معنوی و روحانی توجہ؛
  3. تسبیح کا آغاز نماز کے [سلام کے] فورا بعد، اور نماز کی کیفیت سے نکلنے سے قبل ہی، ہونا چاہئے؛
  4. تسبیح کے اجزاء کے درمیان موالات اور تسلسل کی رعایت اور اذکار کے درمیان فاصلہ نہ ڈالنا اور کسی اور کام کے لئے اذکار کو منقطع نہ کرنا۔[3]

تسبیحات کی اہمیت روایات کی روشنی میں

حدیث کے مآخذ میں، تسبیحات حضرت زہراء(س) کی اہمیت کے بارے میں متعدد حدیثیں نقل ہوئی ہیں:

  1. ابو ہارون مکفوف کہتے ہیں: امام صادق(ع) نے مجھ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "ہم اپنے بچوں کو ـ جس طرح کہ نماز کا حکم دیتے ہیں ـ تسبیحات حضرت زہرا(س) کا حکم بھی دیتے ہیں۔ پس اس ذکر کو پابندی کے ساتھ جاری رکھو، کیونکہ جو بندہ اس ذکر پر مداومت کرے گا کبھی بھی بدبخت نہ ہوگا[4]
  2. امام باقر(ع) نے فرمایا:جو بھی تسبیح حضرت زہرا(س) انجام دے، اور اس کے بعد اللہ سے مغفرت طلب کرے [اور استغفار کرے]، خدا اس کو بخش دے گا۔ یہ تسبیح زبانی طور پر ایک سو مرتبہ ہے لیکن میزان اعمال میں، ایک ہزار تسبیح، شمار ہوتی ہے، یہ شیطان کو دور کردیتی ہے اور خدائے رحمان کو راضی و خوشنود کرتی ہے[5]
  3. امام محمد باقر(ع) نے فرمایا: "ذکر و حمد کے لحاظ سے، خداوند متعال کی عبادت، تسبیح حضرت زہراء سے بہتر، کسی ذکر سے نہیں ہوئی ہے۔ اگر اس سے بہتر کوئی عمل ہوتا، تو رسول اللہ(ص) سیدہ زہرا(س) کو عطا فرماتے[6]
  4. امام صادق(ع) نے فرمایا: "جو شخص نماز واجب کے بعد، تسبیح حضرت زہراء(س) کے ذریعے سو مرتبہ اللہ کی تسبیح کرے گا اور آخر میں ایک بار "لا الہ الا اللہ" کہے، وہ بخشا جائے گا۔"[7]
  5. ایک دوسری حدیث میں آپ(ع) سے مروی ہے: "ہر روز نماز واجب کے بعد، تسبیح فاطمۂ زہراء(س)، ہر روز ایک ہزار رکعت نماز سے، خداوند متعال کی بارگاہ میں زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے[8]
  6. امام صادق(ع) سے مروی ہے: "جو بھی نماز واجب کے بعد، دائیں پیر کو بائیں پیر سے اٹھانے (اور حالت نماز سے خارج ہونے) سے قبل)، تسبیح حضرت زہراء(س) کو بجا لائے، خداوند متعال اس کی مغفرت فرمائے گا[9]

حوالہ جات

  1. من لایحضرہ الفقیہ، ج1، ص 320۔
  2. اکبری، احکام و نکتہ ہایی دربارہ حضرت زہرا، ص 41۔
  3. شیوۂ صحیح "تسبیحات حضرت زہرا(س)»؛ اکبری، احکام و نکتہ ہایی دربارہ حضرت زہرا، ص 41۔
  4. شیخ صدوق، ثواب الاعمال وعقاب الاعمال، ص315۔
  5. شیخ صدوق، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ص 315۔
  6. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج4، ابواب تعقیب، باب 9، ص1024، ح1۔
  7. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج4، ابواب تعقیب، باب7، ص1021، ح3۔
  8. وسائل الشیعہ، ج4، ابواب تعقیب، باب 9، ص1024، ح2۔
  9. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج4، ابواب تعقیب، باب 7، ص1022، ح4۔


مآخذ

  • اکبری، محمود، احکام و نکتہ ہایی دربارہ حضرت زہرا، مجلہ مبلغان، شمارہ 44
  • الحر العاملي، وسائل الشيعۃ، تحقيق وتصحيح وتذييل : الشيخ عبد الرحيم الرباني الشيرازي، بیروت، دار إحياء التراث العربي، الطبعۃ الخامسۃ، 1403 – 1983ع‍
  • شیخ صدوق، ابوجعفر محمد بن علی بن حسین بن موسی بن بابویہ قمی (المعروف بہ شیخ صدوق و اِبنِ بابُوَیْہ)، من لا يحضرہ الفقيہ‏، محقق و مصحح: علی اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامى وابستہ بہ جامعہ مدرسين حوزہ علميہ قم‏، چاپ دوم، 1413ھ ق‏۔
  • شیخ صدوق، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ترجمہ انصارى محلاتى، محمد رضا، نشرنسیم کوثر، قم، چاپ اول، 1382ھ ش۔
  • سایت عقیق