سبیکہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سبیکہ حضرت امام محمد تقیؑ کی والدہ[1] اور ماریہ قبطیہ کی نسل سے کنیز تھی[2].

دُرّہ، خیزران، ریحانہ[3] اور سکینہ[4] کے ناموں سے یاد کیا گیا ہے [5].امام رضاؑ نے اس کیلئے خیزران نام انتخاب کیا تھا[6].شیخ صدوق کی ایک روایت کا وہ حصہ جو احتضار کے وقت جابر اور حضرت امام باقر کے درمیان ہونے والی گفتگو سے مربوط ہے اور صحیفۂ فاطمہ سے جو جابر نے دیکھا وہ یہ ہے کہ اس میں امام جواد کی والدہ کا نام خیزران منقول ہے[7] .سبیکہ کی کنیت "ام الحسن" تھی[8].انہیں مریسی(مریسہ رائے مشدد کے ساتھ مصر کا ایک گاؤں ہے)یا قبطی(سر زمین مصر) یا مرسی (ر کو ضمے کے ساتھ تشدید کے بغیر پڑھتے ہیں جو اندلس کا ایک سر سبز شہر ہے)سے سمجھتے ہیں.[9]

حضرت امام جواد کی ولادت کے وقت حضرت امام رضا ؑ نے اپنی بہن "حکیمہ" کو ان کے پاس بھیجا [10].رسول اللہ کی ایک حدیث میں انہیں ایسی پاکیزہ دہن والی کنیز شمار کیا ہے جسکے رحم کو اللہ نے ایک امام کی ولادت کیلئے انتخاب کیا[11]. مسعودی نے بھی "اثبات الوصیہ " میں انکی تعریف کی ہے[12] .

حوالہ جات

  1. بحارالانوار، ج ۵۰، ص 1
  2. اصول کافی، ج۲، ص۶۶۴
  3. بحارالانوار، ج ۵۰، ص ۷
  4. موسوعہ اہل البیت، ج ۱۶، ص ۱۴
  5. اعیان الشیعہ، ج۲، ص۳۲
  6. بحارالانوار، ج ۵۰، ص ۷؛ اعیان الشیعہ، ج۲، ص۳۲
  7. موسوعہ اہل البیت، ج ۱۶، ص ۱۴
  8. المناقب ابن شہر آشوب، ج۴، ص۳۷۹؛ دلائل الامامہ، ص۲۰۹
  9. بحارالانوار، ج ۵۰، ص ۷
  10. بحارالانوار، ج ۵۰، ص ۱۰
  11. الکافی، ج۱، ص۳۲۳، ح۱۴
  12. دیکھیں: اثبات الوصیہ للامام علی بن ابی طالب، ص۲۱۶



مآخذ

  • ابن شہرآشوب، محمد بن علی، المناقب، علامہ، قم.
  • امین، محسن، اعیان الشیعہ، تحقیق حسن امین، دارالتعارف للمطبوعات، بیروت.
  • طبری، محمد بن جریر، دلائل الامامہ، دارالذخایر، قم.
  • عاشور، علی، موسوعہ اہل البیت (علیہم السلام)، دار نظیر عبود، بیروت.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، اصول کافی، ترجمہ مہدی آیت‌اللہی، جہان آرا، تہران، ۱۳۸۷ ش.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح علی‌اکبر غفاری، دارالکتب الاسلامیہ، تہران.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار الجامعہ لدرر اخبار الائمہ الاطہار علیہم السلام، تصحیح جمعی از محققان، *دار احیاء التراث العربی، بیروت.
  • مسعودی، علی بن حسین، اثبات الوصیہ للامام علی بن ابی طالب (علیہ السلام)، انصاریان، قم، ۱۳۸۴ ش.