نرجس

ویکی شیعہ سے
(نرجس خاتون سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مرقد نرجس خاتون

نرجس خاتون مشہور قول کی بنا پر شیعہ مکتب فکر کے گیارہویں پیشوا حضرت امام حسن عسکری کی کنیز اور بارہویں پیشوا حضرت امام زمانہ(عج) کی والدہ ماجدہ ہیں۔ آپ کے بعض دیگر نام جیسے سوسن، صَقیل یا صِیقَل، حدیثہ، ملیکہ اور ریحانہ بھی ذکر ہوئے ہیں ۔ نرجس خاتون کے متعلق کوئی زیادہ اطلاعات موجود نہیں ہیں ۔زیادہ تر جن منابع میں انکی قوم اور ذاتی شخصیت کے متعلق لکھا گیا ہے اس میں بھی بہت زیادہ اختلاف مذکور ہے۔ بعض منابع میں مذکور ہے کہ وہ امام حسن عسکری کی پھوپھی حکیمہ خاتون کی تربیت یافتہ تھیں جبکہ بعض میں آیا ہے کہ وہ حبشی نسل سے یا اہل نوبہ کی کنیز تھیں ۔یہ حدیث بھی موجود ہے کہ امام زمانہ کی والدہ روم کے بادشاہ کی نواسی ملیکہ(ملیکا) ہیں کہ جو مسلمانوں کی اسارت میں آئیں۔ اس روایت کے راویوں میں ضعیف اور مجہول راویوں کی بنا پر بعض علما اسے قابل اعتبار نہیں سمجھتے ہیں۔ نیز امام زمان کی والدہ کی شخصیت اور قومیت کے واضح نہ ہونے کے دلائل میں سے ایک دلیل امام زمانہ کی ولادت کے مخفی ہونے کو قرار دیتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ امام زمانہ کی والدہ امام حسن عسکری کی شہادت سے پہلے فوت ہو گئیں جبکہ بعض کتب میں امام حسن کی شہادت کے وقت انکے پاس موجود تھیں۔ نرجس خاتون کی قبر سامرا میں عسکریین کے حرم میں امام ہادی اور امام عسکری کی قبر کے پاس ہے۔

نام

امام زمان(ع) کی والدہ کے درج ذیل اسما ذکر ہوئے ہیں : نرجس،[1] سوسن،[2] صَقِیل یا صیقل،[3] ریحانہ،[4] حدیثہ، حکیمہ، ملیکہ و خَمط.[5] اسی طرح شہید ثانی مریم بنت زید العلویہ کو ضعیف سمجھتے ہیں۔[6] ان اسما میں سے معروف ترین نام نرجس ہے کہ جسے قدیمی‌ ترین کتاب اثبات الوصیہ[7] میں مسعودی نے امام زمان کی والدہ کا نام بیان کیا ہے [8] اسی طرح امام زمانہ کی والدہ کے نام کے بارے میں مشہور ترین[9] روایت حکمیہ خاتون کی ہے کہ جس میں ان کا نام نرجس ذکر ہوا ہے ۔[10] کہا گیا ہے کہ ناموں کے تعدد کی وجہ یہ ہے کہ اس عربی ماشرے میں کنیزوں کے لئے زیادہ نام ذکر رائج تھے اور ان میں سے اکثر ناموں میں پھولوں کے ناموں کو استعمال کیا گیا ہے ۔[11] بعض نے یہ احتمال دیا ہے کہ یہ نام القاب ہیں کہ جو انے بطن سے امام زمانہ کی ولادے کی مناسبت سے دئے گئے ہیں ؛ مثلا صیقل یا صقیل ایسا وصفی ہے جو امام مہدی(ع) کے نور کی وجہ سے یا والدہ کے چہرے کی درخشندگی کی وجہ سے انہیں دیا گیا ۔خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag نیز یہ بھی احتمال ہے کے امام حسن عسکری کی کنیزوں کے تعدد کی وجہ سے ایسا ہوا ہو ۔[12]

شخصیت اور قومیت

روایات اور اکثر متون جنہوں نے امام زمانہ کی والدہ کا ذکر کیا ہے وہ تقریبا متفق ہیں کہ انکی والدہ کنیز تھیں ۔[13] حضرت امام مہدی کے متعلق صفاتی جملےابن خیرة الإماء بہترین کنیز کا بیٹا[14] یا ابن سیدة الإماء یعنی سیدہ کنیز کا بیٹا[15] بھی انکی والدہ کے کنیز ہونے پر دلالت کرتے ہیں ۔[16] اسیطرح روایات میں آیا ہے کہ امام صادق(ع) نے محمد بن عبدالله حسن کے قائم کے ادعا کو جھٹلاتے ہوئے یوں استدلال کیا کہ قائم کنیز کا بیٹا ہے جبکہ یہ جھوٹا مدعی محمد بن عبدالله حسن آزاد خاتون کا فرزند ہے [17] کنیز کی مخالف صرف شہید ثانی کی وہ روایت ہے جسے انہوں ضعیف قول کہہ کر ذکر کیا ہے۔ اسکے مطابق امام زمانہ کی والدہ مریم بنت زید علوی ہے [18] محدث بحرانی کے بقول علامه مجلسی بھی اسے ضعیف روایت ہی مانتے ہیں ۔[19]

جو روایات امام زمانہ کی والدہ کو کنیز کہتی ہیں ان میں سے بعض انہیں امام حسن عسکری کی پھوپھی کی کنیز سمجھتی ہیں۔[20] اور بعض کے مطابق وہ کنیز تو لیکن اسکی تربیت حکیمہ خاتون کے ذمے تھی۔[21] بعض روایات کے مطابق وہ حبشی نسل سے تھیں۔امام زمانہ میں حضرت یوسف کی سنت ہے۔ جسطرح حضرت یوسف ایک سیاہ پوست کنیز کے بیٹے تھے۔[22] اسی طرح منقول ہوا ہے کہ وہ شمال سوڈان کے علاقے نوبہ سے تھیں۔[23]

رومی شہزادہ

شیعہ کے قدیمی مآخذ میں ایک مفصل داستان موجود ہے کہ جس کے مطابق قیصر روم کی نواسی ملیکہ بنت یشوع امام زمان کی والدہ ہیں اور اسکا نسب ماں کی جانب سے حضرت عیسی کے حواریوں میں سے ایک حواری شمعون تک پہنچتا ہے ۔اس داستان میں آیا ہے کہ ملیکہ اپنے جد کے محل میں تھی، حضرت مریم(ع) اور حضرت فاطمہ(س) کو عالم خواب میں دیکھتی ہے کہ وہ اسے قائل کرتی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کی اسارت میں لے آئے ۔ پھر ملیکہ مسلمانوں کی رومیوں سے جنگ کے دوران مسلمانوں کی اسیر ہو جاتی ہے ۔ادھر امام ہادی(ع) کسی شخص کو معین کرتے ہیں کہ ملیکہ کو غلاموں کے خریدوفروخت کے بازار سے خرید لائے اور اسے امام حسن عسکری سے اسکا عقد کر دے ۔[24]

اس داستان کو شیخ صدوق نے پہلی مرتبہ نے اپنی کتاب کمال الدین میں ذکر کیا اور محمد بن جریر طبری نے دلائل الإمامہ[25] میں ایک مختلف سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔[26] اسی طرح شیخ طوسی نے کتاب الغیبت میں اسی طبری کی سند ہی کو ایک واسطے کے اضافے کے ساتھ ذکر کیا ہے۔[27]

اس روایت میں ہونے والے بعض اعتراض درج ذیل ہیں :

  • پہلے راوی محمد بن بحر (راوی اول) کے علاوہ اس حدیث کی سند سند کے تمام راوی مجہول یا مہمل ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف شمار ہو گی ۔
  • پہلا راوی محمد بن بحر غلو سے متہم ہے۔
  • بشر بن سلیمان کہ جو مستقیم داستان کا راوی ہے وہ مجہول اور غیر معلوم ہے ۔
  • حدیث کے بیان کا طریقہ اور اسکے بیان میں دوسرے حدیثی متون کے ساتھ ہماہنگی نہ ہونا اس حدیث کے متن پر اعتماد کو کم کرتا ہے۔[28]

وفات اور مزار

حرم امامین عسکریین و مقام دفن نرجس خاتون

منقول ہوا ہے کہ امام زمان(ع) کی والدہ امام عسکری(ع) (۲۶۰ق) کی شہادت سے فوت ہو گئی تھیں۔[29] لیکن دوسری منقول روایات کے مطابق وہ امام حسن عسکری کی شہادت کے بعد زندہ تھیں۔ جیسا کہ آیا ہے کہ وہ امام کی شہادت کے موقع پر انکے سرہانے موجود تھیں۔[30]

اسی طرح نجّاشی لکھتا ہے کہ امام عسکری کی شہادت کے بعد انکی والدہ با قید حیات اور محمد بن علی بن حمزه کے گھر تھیں۔[31]

نرجس خاتون کی قبر سامرا میں حرم عسکریین میں امام ہادی اور امام حسن عسکری (ع) کی قبر پس ہے ۔[32] ابن مشہدی نے انکے لئے زیارتنامہ نقل کیا ہے البتہ یہ زیارتنامہ امام کی طرف سے نہیں ہے۔[33]

حوالہ جات

  1. ر.ک: شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۳۵۹ق، ج۲، ص۴۳۲؛ خصیبی، الہدایۃ الکبری، ۱۴۱۱ق، ص۲۴۸؛ شیخ طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۲۱۳،
  2. شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۳۵۹ق، ج۲، ص۴۳۲؛ ابن ابی الثلج، «تاریخ الائمہ»، ۱۳۹۶ق، ص۲۶؛ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ۱۴۰۵ق، ج۱۳، ص۱۲۱.
  3. شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۳۵۹ق، ج۲، ص۴۳۲؛ ابن حزم، جمہره انساب العرب، ۱۹۸۲م، ص۶۱؛ شیخ طوسی، الغیبت، ۱۴۱۱ق، ص۲۷۲؛ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ۱۴۰۵ق، ج۱۳، ص۱۲۱.
  4. شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۳۵۹ق، ج۲، ص۴۳۲
  5. خدامراد سلیمیان، فرہنگ‌نامہ مہدویت، ص۳۷۱.
  6. مجلسی، بحارالانوار، ۱۳۶۳ش، ج۵۱، ص۲۸
  7. ر.ک: مسعودی، إثبات الوصیہ، ۱۴۲۶ق‏، ص۲۵۸.
  8. جاسم، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۱۴.
  9. سلیمیان، درسنامہ مہدویت (۱)، ص۱۸۲.
  10. ر.ک: مجلسی، بحار الانوار، ۱۳۶۳ش، ج۵۱، ص۲
  11. صدر، موسوعۃ الامام المہدی، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۲۴۲.
  12. پاکتچی، «حسن عسکری،‌امام»، ص۶۱۸.
  13. محمدی ری‌ شہری، دانشنامہ امام مہدی، ۱۳۹۳ش، ج۲، ص۱۹۷.
  14. کلینی، الکافی، ۱۳۸۹ق، ج۱، ص۳۲۲، ح۱۴. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۷۵؛ طبرسی، إعلام الوری، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۹۲.
  15. صدوق، کمال الدین، ۱۳۵۹ق، ص۳۴۵، ۳۶۹ و ۳۷۲؛ اربلی، کشف الغمہ، ۱۴۰۱ق، ج۳، ص۳۱۴.
  16. محمدی ری‌شہری، دانشنامہ امام مہدی، ۱۳۹۳ش، ج۲، ص۱۹۷.
  17. ر.ک: نعمانی، الغیبه، ص۲۳۰.
  18. محمدی ری‌شہری، دانشنامہ امام مہدی، ۱۳۹۳ش، ج۲، ص۱۹۷.
  19. بحرانی، الحدائق الناضره، ۱۳۷۷ق، ج۱۷، ص۴۴۰.
  20. صدوق، کمال الدین، ۱۳۵۹ق، ص۴۲۶، ح۲؛ فتال نیشابوری، روضۃ الواعظین، ص۲۸۲.
  21. طبری امامی، دلائل الامامہ، ۱۴۱۳ق، ص۴۹۹، ح۴۹۰. طوسی، الغیبت، ۱۴۱۱ق، ص۲۳۹، ح۲۰۷.
  22. خدامراد سلیمیان، فرہنگ‌نامہ مہدویت، ص ۳۷۴. نعمانی، الغیبت، ۱۳۹۷ق، ص ۱۶۳؛ شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۳۵۹ق، ج ۱، ص ۳۲۹.
  23. کلینی، اصول کافی، ج۲، ص۱۰۷، ح۱۴.
  24. رک: شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۳۵۹ق، ج۲، ص۴۱۷، باب ۴۱. اسی طرح امام مہدی کے دانشنامہ میں بھی مذکور ہے: محمدی ری‌شہری، دانشنامہ امام مهدی (عج)، ج۲، ص۱۷۹.
  25. طبری، دلائل الإمامہ، ص ۲۶۲.
  26. سلیمیان، فرہنگ‌نامہ مہدویت، ۱۳۸۸ش، ص۳۷۲.
  27. شیخ طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۴۱۷، ح۱۷۸.
  28. محمدی ری‌ شہری، دانشنامہ امام مہدی(ع)، ۱۳۹۳ش، ج۲، ص۱۹۹-۲۰۱.
  29. شیخ صدوق، كمال الدین، ۱۳۵۹، ص۴۳۱.
  30. شیخ صدوق، كمال الدین، ۱۳۵۹، ص۴۷۴.
  31. نجاشی، رجال نجاشی، مؤسسة النشر الاسلامی، ص۲۶۸.
  32. مقدس، راہنمای اماکن زیارتی و سیاحتی در عراق، ص۳۰۹.
  33. ر.ک: ابن مشہدی، المزار الکبیر، ص۶۶۰.


مآخذ

  • صدوق، کمال الدین وتمام النعمہ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۵۹ق.
  • طبری، محمد بن جریر بن رستم، دلائل الامامہ، قم، بعثت، ۱۴۱۳ق.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوك، تاریخ طبری، تحقیق، محمد ابو الفضل ابراہیم‏، بیروت، روائع التراث العربی‏، ۱۳۸۷ق‏.
  • طوسی،الغیبہ، قم، دارالمعارف الإسلامیہ، ۱۴۱۱ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الكشی (اختیار معرفہ الرجال)، مشہد، دانشگاه مشہد، ۱۳۴۸ش‏.
  • مجلسی، بحارالأنوار الجامعہ لدرر أخبار الأئمہ الأطہار، تہران‏، اسلامیہ، ۱۳۶۳ش.
  • مسعودی، علی بن حسین، إثبات الوصیہ للإمام علی بن أبی طالب‏، قم‏، انصاریان‏، ۱۴۲۶ق‏.
  • مفید، الإرشاد فی معرفہ حجج الله علی العباد، قم، كنگره شیخ مفید، ۱۴۱۳ق. (نرم افزار).
  • مقدس، احسان، راہنمای اماکن زیارتی و سیاحتی در عراق، تہران، مشعر، ۱۳۸۸ش.