فضہ نوبیہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

فضہ نوبیہ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی کنیز ہیں اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں یہ نام دیا ہے۔ ان کا نام حسنین علیہما السلام کی ولادت، آیت اطعام کے نزول کے واقعہ اور حضرت زہرا (س) کی شہادت کے سلسلہ میں وارد ہونے والی روایات کے ضمن میں آتا ہے۔ فضہ نے جناب سیدہ (ع) کے بعد دو شادیاں کی ہیں۔ ان کی خصوصیات میں آیات قرآنی کے ذریعہ گفتگو کرنا اور علم کیمیا کا جاننا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ واقعہ کربلا میں بھی موجود تھیں۔

حسب و نسب

فضہ اصالتا نوبیہ کی رہنے والی تھیں،[1] نوبیہ ایک شہر ہے جو جنوب سوڈان[2] یا جنوب مصر و شرق نیل[3] میں واقع تھا۔ بعض نے انہیں ہندی[4] کہا ہے اور بعض دیگر نے حتی کہا ہے کہ وہ ہند کے بادشاہ کی بیٹی تھیں۔[5]

حضرت زہرا کے گھر میں

فضہ، حضرت زہرا (س) کی کنیز تھیں۔[6] آیہ کریمہ "قل لھما قول میسورا" کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت (ص) نے انہیں جناب سیدہ کے گھر بھیج دیا اور انہیں فضہ کا نام دیا۔[7]

جناب سیدہ نے خانہ داری کو اپنے اور فضہ کے درمیان تقسیم کیا؛ اس طرح سے کہ ایک دن آپ اور ایک دن فضہ گھر کے کاموں کو کیا کرتی تھیں۔[8]

فضہ حسنین (ع) کی بیماری کے واقعہ میں جس میں حضرت علی و فاطمہ (ع) نے نذر مانی تھی کہ ان دونوں کے صحت یاب ہونے کی صورت میں تین روزے رکھیں گے۔ فضہ نے بھی اس معاملہ میں ان کی ہمراہی کرتے ہوئے روزوں کی نذر مانی۔ سورہ دہر کی ساتویں و آٹھویں آیتیں اس واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔[9]

حضرت زہرا کی شہادت

حضرت علی علیہ السلام نے حضرت زہرا کی شہادت کے بعد ان کے جنازہ سے رخصت ہونے کے لئے جس وقت اپنے بچوں کو مخاطب کیا اسی طرح سے فضہ کو بھی آواز لگائی اور فرمایا: "یا أُمَّ كُلْثُومٍ یا زَینَبُ یا سُكَینَةُ یا فِضَّةُ یا حَسَنُ یا حُسَینُ هَلُمُّوا تَزَوَّدُوا مِنْ أُمِّكُم"۔[10] ترجمہ: اے ام کلثوم، اے زینب، اے سکینہ، اے فضہ، اے حسن، اے حسین آؤ اور اپنی ماں کو وداع کرو۔

حضرت زہرا (س) کی شہادت کے بعد فضہ حضرت علی (ع) کی کنیزی میں آ گئیں[11] اور اس کے بعد بیس سال زندہ رہیں۔ فضہ کو ایک نیک اور پرہیزگار خاتون کہا جاتا ہے۔[12]

شوہر اور اولاد

حضرت علی (ع) نے ابو ثعلبہ حبشی سے ان کی شادی کرائی۔ ان دونوں سے ایک بیٹا ہوا۔ ابو ثعلبہ کے مرنے کے بعد فضہ نے ابو ملیک غطفانی سے شادی کی اور اس شادی کے بعد ان کے بیٹے کا (سابق شوہر سے) انتقال ہو گیا۔[13] ابو ملیک سے شادی کے بعد فضہ کے کئی بچے ہوئے۔[14] شہرۃ بنت مسکۃ بنت فضہ، جن سے ایک کرامت بھی نقل ہوئی ہے، ان کی پوتی ہیں۔[15] بعض مآخذ میں ذکر ہوا ہے کہ ان کے دوسرے شوہر نے خلیفہ دوم کے پاس ان کی شکایت کی تو انہوں نے فضہ کے حق میں فیصلہ سنایا۔[16]

مالک بن دینار کہتے ہیں: جس وقت میں خانہ خدا کی زیارت اور حج کے سفر پر تھا، راستے میں ایک لاغر اندام خاتون کو دیکھا جو ایک کمزور حیوان پر سوار تھی، اور جانور راستہ میں رک گیا۔ میں نے اس کی سرزنش کی کہ کیوں ایسے کمزور جانور کے ساتھ سفر کا ارادہ کیا ہے اور وہ بھی اتنے طولانی سفر کا۔ اس خاتون نے سر کو آسمان کی طرف بلند کیا اور کہا: نہ مجھے اپنے گھر میں رہنے دیا اور نہ ہی اپنے گھر تک پہچایا۔ تیری عزت و جلال کی قسم اگر یہ تیرے علاوہ کسی نے کیا ہوتا تو میں اس کی شکایت تیری بارگاہ میں کرتی، اچانک ہم نے کیا دیکھا کہ بیابان میں سے ایک شخص ظاہر ہوا اور اس کے ہاتھوں میں ایک ناقہ کی نکیل تھی اور وہ اس خاتون کو منزل تک پہچانے کا عزم رکھتا تھا۔ میں نے اس ماجرا سے سمجھ لیا کہ یہ کوئی صاحب کرامت پرہیز گار خاتون ہیں جو اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ رکھتی ہیں۔ میں نے پوچھا آپ کون ہیں: انہوں نے کہا میں کنیز فاطمہ فضہ کی بیٹی مسکۃ کی بیٹی شہرۃ ہوں۔[17]

خصوصیات

فضہ نے تقریبا بیس سال تک قرآن کے ذریعہ گفتگو کی اور بات کرنے والوں کو قرآن کی آیات سے جواب دیتی تھیں۔[18] انہوں نے ایک طولانی روایت میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے حالات زندگی کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات سے لیکر حضرت زہرا کی شہادت تک بیان کیا ہے۔[19] حضرت علی علیہ السلام ان کے سلسلہ میں فرماتے ہیں: اللهم بارک لنا فی فضّتنا۔[20]

بعض کا کہنا ہے کہ وہ علم کیمیا جانتی تھیں[21] اور اس علم کو انہوں نے حضرت زہرا (س)سے سیکھا تھا۔[22] پیغمبر اکرم (ص) نے بھی انہیں مشکلات کے حل کی دعا اور اسی طرح سے دوسرے اذکار تعلیم فرمائے تھے۔[23] خلیفہ دوم نے بھی فضہ کے مقام علمی کا اعتراف کیا ہے۔[24]

شیر و فضہ

کربلا میں مقام شیر و فضہ

بعض مآخذ میں فضہ کے کربلا میں موجود ہونے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ [25] شیر اور فضہ کا واقعہ ان کے کربلا میں موجود ہونے کے پس منظر میں تحریر کیا جا رہا ہے۔ [26]

ادریس بن عبد اللہ اودی کہتے ہیں: جب امام حسین علیہ السلام شہید ہو گئے اور عمر سعد کے لشکر نے لاشہ کو پامال کرنا چاہا تو فضہ نے جناب زینب (س) سے کہا: بی بی ایک روز میں سمندر میں محو سفر تھی کہ میری کشتی ٹوٹ گئی اور میں ایک جزیرہ پر پہنچ گئی وہاں پر ایک شیر میرے سامنے آ گیا۔ میں نے اس سے کہا کہ اے ابا الحارث میں رسول خدا (ص) کی کنیز ہوں جب اس نے یہ سنا تو غراتے ہوئے آگے بڑھ گیا اور راستہ کی طرف میری رہنمائی کی۔ اس وقت وہ شیر ایک جگہ پر بیٹھا ہوا ہے، آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اس کے پاس جا کر اسے بتاؤں کہ کل یہ لوگ فرزند رسول کے ساتھ کیا کرنے والے ہیں۔ فضہ اس شیر کے پاس گئی اور کہا: اے ابا الحارث، شیر نے اپنا سر اٹھایا فضہ نے کہا: تمہیں معلوم ہے کل یہ لوگ امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کیا کرنے والے ہیں۔ ان کا لاشہ پامال کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سن کر شیر امام (ع) کے لاشہ پر آیا اور دونوں ہاتھوں سے جسم کو چھپا لیا۔ لشکر والے آئے تو شیر کو دیکھا، عمر سعد نے لشکر سے کہا: یہ فتنہ ہے، اسے جوش نہ دلانا واپس لوٹ جاؤ، سب واپس لوٹ گئے۔[27]

امام حسین علیہ السلام کی لاش کا گھوڑوں کے سموں سے پامال ہونے[28] کے قطعی دستاویز موجود ہونے کے سبب یہ داستان محل تردید ہے۔

وفات

شام میں دمشق کے قریب باب الصغیر نامی قبرستان میں ایک قبر فضہ کے نام سے منسوب موجود ہے۔ جو عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب سے منسوب قبر سے تھوڑا آگے کی طرف اور قبرستان کے مغربی حصہ کے آخر میں واقع ہے۔ قبر پر ایک حجرہ اور چھوٹا سا سبز گنبد موجود ہے اور اس کی دیواریں سنگ سیاہ سے تعمیر ہوئی ہیں۔[29]

شہر کربلا (عراق) میں ایک مقام شیر اور فضہ کے نام سے موجود ہے۔

حوالہ جات

  1. اعلام النساء المؤمنات، ص ۶۹۶؛ ابن حجر، الإصابۃ، ج ۸ ص ۲۸۱.
  2. الفیروزآبادی، القاموس المحیط: ج ۱ ص ۱۳۵؛ مجمع البحرین، ج ‏۲، ص ۱۷۸.
  3. ابن الوردی، ریاض السالكین: ج ۴ ص ۲۲۴.
  4. الحسین و بطلۃ كربلاء، مغنیۃ ،ص ۲۸۷.
  5. بحار الانوار، دار احیاء التراث، ج ۹، ص ۵۷۵؛البرسی، مشارق أنوار الیقین، ص ۱۲۱.
  6. اعلام النساء المؤمنات، ص ۶۹۶؛ ابن حجر، الإصابۃ، ج ۸، ص ۲۸۱.
  7. تفسیر نور الثقلین، ج ‏۳، ص ۱۵۷.
  8. الموسوعۃ الكبری عن فاطمۃ الزہراء، الأنصاری، ج‏ ۱۷، ص ۴۲۹.
  9. تفصیل کے لئے رجوع کریں: اعلام النساء المؤمنات، ص ۶۹۹-۷۰۰.
  10. بحار الأنوار، المجلسی، ج ‏۴۳، ص ۱۷۹.
  11. اعلام النساء المؤمنات، ص ۶۹۶.
  12. الحسین و بطلۃ كربلاء، مغنیۃ، ص ۲۸۷.
  13. اعلام النساء المؤمنات، ص ۶۹۷.
  14. الحسین و بطلۃ كربلاء، مغنیۃ، ص ۲۸۷.
  15. تسلیۃ المجالس، الكركی الحائری ،ج ‏۱،ص ۵۲۹.
  16. النعمان المغربی، شرح الأخبار، ج ۲، ص ۳۲۸؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل أبی طالب، ج ۳، ص ۱۸۳.
  17. بحار الأنوار، ۱۳۶۳، ج ‏۴۳، ص ۴۷.
  18. ریاحین الشریعہ، ج ۲، ص ۳۱۳ تا ۳۲۶.
  19. بحارالانوار، ج ۴۳، ص۱۷۴-۱۸۰.
  20. الثاقب فی المناقب، ص ۲۸۱.
  21. الموسوعۃ الكبری عن فاطمۃ الزہراء، الأنصاری، ج‏ ۱۷، ص ۴۲۸.
  22. الموسوعۃالكبری عن فاطمۃ الزہراء، الأنصاری، ج ‏۱۷، ص ۴۳۰.
  23. الموسوعۃ الكبری عن فاطمۃ الزہراء، الأنصاری ،ج‏ ۱۷، ص ۴۲۹.
  24. النعمان المغربی، شرح الأخبار: ج ۲، ص ۳۲۸، ابن شہر آشوب، مناقب آل أبی طالب، ج ۳، ص ۱۸۳.
  25. موسوعۃ عاشوراء ،ص۲۳۱.
  26. إثبات الہداة، الحر العاملی، ج ‏۴، ص ۳۷.
  27. كلینی، ج ‏۱، ص ۴۶۵.
  28. ارشاد، المفید، ج ۲، ص ۱۱۳.
  29. اصغر قائدان، اماکن سیاحتی و زیارتی دمشق، ص ۴۷.


مآخذ

  • ابن حجر، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ،دار الكتب العلمیۃ، بیروت، ۱۴۱۵ ق.
  • ابن حمزه طوسی، الثاقب فی المناقب، مؤسسۃ أنصاریان، الأولی، قم، ۱۴۱۲ ق.
  • ابن شہرآشوب، مناقب آل أبی طالب،المكتبۃ الحیدریۃ، النجف الأشرف.
  • احمدی بیرجندی، احمد، مناقب فاطمى در شعر فارسى‏، بنياد پژوہش‏ہاى اسلامى آستان قدس رضوى‏، مشہد، ۱۳۷۵ش، چاپ سوم‏.
  • برسی، مشارق أنوار الیقین فی أسرار أمیر المؤمنین، مؤسسۃ الأعلمی، الأولی، بیروت، ۱۴۱۹ ه‍ ـ ۱۹۹۹م.
  • حسون، محمد، مشکور، ام‌علی، اعلام النساء المؤمنات، اسوه، تہران، ۱۳۷۹ش.
  • مفید، الارشاد، قم: کنگره شیخ مفید، ۱۴۱۳ ق.
  • طریحی، فخرالدین بن محمد(۱۰۸۵ق)مجمع البحرین‏، مصحح حسینی اشکوری، مرتضوی، تہران، ۱۳۷۵ش.
  • قاضی نعمان، شرح الأخبار فی فضائل الأئمۃ الأطہار، مؤسسۃ النشر الإسلامی التابعۃ لجماعۃ المدرّسین، الثانیۃ، قم، ۱۴۱۴ ه‍.
  • كلینی، الكافی، اسلامیہ‏، چاپ دوم، تہران‏،۱۳۶۲ ش‏.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار الجامعۃ لدرر اخبار الائمہ الاطہار علیہم السلام، تصحیح جمعی از محققان،‌ دار احیاء التراث العربی، بیروت.
  • مجلسی‏، بحارالانوار، اسلامیہ، تہران، ۱۳۶۳ش، دوم.
  • محلاتی، ذبیح الله، ریاحین الشریعہ، دارالكتب الاسلامیہ، تہران.