واقعہ فدک

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
فدک کے باغات کا ایک منظر

واقعہ فدک، پیغمبر اکرمؐ کی وصال کے بعد پیش آنے والے واقعات میں سے ایک ہے جس میں خلیفہ اول کے حکم پر فدک کو حضرت فاطمہؑ سے چھین کر بیت المال میں شامل کیا گیا۔ حضرت ابوبکر، پیغمبر اکرمؐ سے منسوب ایک حدیث(جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسے ابوبکر کے علاوہ کسی اور نے نہیں سنا) سے استدلال کرتے ہوئے مدعی ہوا کہ انبیا کسی چیز کو بطور ارث نہیں چھوڑا کرتے۔ جس پر حضرت فاطمہؑ نے فرمایا کہ اسے پیغمبر اکرمؐ نے اپنی وصال سے پہلے مجھے بخش دی تھی۔ حضرت زہراؑ نے اپنے اس مدعا کو ثابت کرنے کیلئے امام علیؑ اور ام ایمن کو گواہ کے طور پر پیش کیا۔ شیعہ اور بعض اہل سنت علماء کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے فدک حضرت زہراؑ کیلئے اس وقت بخش دی تھی جب "آیت ذوی القربی" نازل ہوئی اور پیغمبر اکرمؐ کو یہ حکم دیا گیا کہ حقدار کو اس کا حق دیا جائے۔

بعض منابع کے مطابق حضرت زہراؑ کی گفتگو سننے کے بعد حضرت ابوبکر نے فدک پر حضرت زہراؑ کی ملکیت کو تسلیم کرتے ہوئے ایک سند تحریر کیا۔ لیکن حضرت عمر نے اس سند کو حضرت فاطمہؑ سے چھین کر پھاڑ دیا۔ ایک اور نقل کے مطابق ابوبکر نے حضرت زہراؑ کے گواہوں کو رد کیا اور فدک واپس کرنے سے انکار کیا تو اس موقع پر جب حضرت فاطمہؑ نے مسجد نبوی کا رخ کیا اور وہاں پر ایک مفصل خطبہ دیا جو خطبہ فدکیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس خطبہ میں آپؑ نے خلافت کو غصب کئے جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے انبیاء کے ارث نہ چھوڑنے پر مبنی ابوبکر کی بات کو سراسر قرآنی آیات کی خلاف ورزی قرار دیا اور اس مقدمے کو قیامت کے دن خدا کی عدالت پر موکول کیا۔ اس واقعے کے بعد حضرت زہراؑ ابوبکر اور عمر سے ناراض ہوئیں اور اسی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔

فدک کا علاقہ، جنگ خیبر میں یہودیوں کے ساتھ مصالحت کے نتیجے میں پیغمبر اکرمؐ کی ملکیت میں آگیا تھا جسے آپ نے اپنی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمہؑ کو بخش دی تھی۔ لیکن آپؐ کی رحلت کے بعد ابوبکر نے اسے آپ سے چھین لیا اور اس کے بعد بنی امیہ اور بنی عباس کے خلقاء کے درمیان یکے بعد دیگری منتقل ہوتا رہا۔ اس درمیان عمر بن عبدالعزیز اور مأمون عباسی نے فدک یا اس کی درآمد کو حضرت فاطمہؑ کی اولاد کو دے دیا۔

فدک تاریخ کے آئینے میں

اصل مضمون: فدک
فدک تاریخ کے آئینے میں
شعبان سنہ 6ھ امام علیؑ کا فدک پر حملہ[1]
صفر سنہ 7ھ فتح خیبر[2]
صفر یا ربیع‌الاول سنہ 7ھ یہودیوں کی طرف سے فدک کا پیغمبر اکرمؐ کو دے دینا
سنہ 7ھ فدک کا حضرت فاطمہ زہراؑ کو بخش دینا
ربیع الاول سنہ11ق ابوبکر کے حکم سے فدک پر قبضہ
تقریبا 30ھ عثمان کی طرف سے فدک کو مروان کو دے دینا [3]
سنہ 35ھ امام علیؑ کے دور خلافت میں مروان کی ملکیت سے خارج ہونا
سنہ 40ھ معاویہ کی طرف سے مروان، عمرو بن عثمان اور یزید میں تقسیم کرنا[4]
تقریبا 100ھ عمر بن عبدالعزیز کے توسط سے حضرت فاطمہ کی اولاد کی ملکیت میں آنا
سنہ 101ھ یزید بن عبدالملک کے توسط سے دوبارہ غصب ہونا
تقریبا سنہ ۱۳۲ سے ۱۳۶ تک سفاح کے توسط سے دوباہ لوٹایا جانا[5]
تقریبا سنہ 140 ھ منصور عباسی کے توسط سے دوبارہ غصب ہونا[6]
تقریبا 160ھ مہدی عباسی کے حکم سے دوبارہ واپس لوٹایا جانا[7]
تقریبا 170 ھ ہادی عباسی کے توسط سے دوبارہ غصب ہونا
سنہ 210ھ مامون عباسی کے توسط سے دوبارہ لوٹایا جانا [8]
(۲۳۲-۲۴۷) متوکل عباسی کے توسط سے دوبارہ غصب ہونا[9]
سنہ 248ھ منتصر عباسی کے توسط سے دوبارہ لوٹایا جانا[10]

فدک سعودی عرب کے شہر حجاز میں خیبر کے نزدیک[11] مدینہ سے 160 کیلومیٹر[12] کے فاصلے پر واقع ایک وسیع سر سبز اور باغات پر مشتمل علاقہ ہے۔ یہاں یہودی زندگی بسر کرتے تھے اور اس علاقے کی جغرافیایی اہمیت کے پیش نظر انہوں نے اس علاقے کے گردا گرد فوجی قلعے بنائے ہوئے تھے۔[13] جنگ خیبر میں جب مسلمانوں کے ہاتھوں خیبر کا علاقہ اور اس سے ملحقہ قلعہ‌ جات فتح ہوئے تو یہاں کے رہنے والے یہودیوں نے پیغمبر اکرمؐ کے پاس اپنا وفد بھیج کر جنگ بندی اور مصالحت کی تجویز پیش کی جسے رسول اکرم(ص) نے قبول فرمایا۔ یوں یہودیوں کے ساتھ یہ طے پایا کہ وہ اس علاقے کی آدھی زمین بطور مصالحت مسلمانوں کے حوالے کر دیں گے[14] اور پیغمبر اکرمؐ جب چاہے ان کو فدک کی سرزمین سے نکال سکتا ہے۔ یوں فدک بغیر کسی جنگ کے مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔[15]

فدک سرسبز و شادات باغات اور نخلستان پر مشتمل تھا۔[16] ابن‌ابی‌الحدید (اہل سنت کا مشہور عالم دین) اس کے کھجوروں کی مالیت کے بارے میں ایک شیعہ بزرگ عالم دین سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: "فدک کے کھجوروں کا نخلستان شہر کوفہ کے نخلستان کے برابر تھی۔ [17]

فدک پیغمبر اکرمؐ کی ملکیت میں

محدثین اور مورخین [18] اس بات پر اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ فدک پیغمبر اکرمؐ کی ذاتی املاک میں سے تھا کیونکہ فدک جنگ کے بغیر مسلمانوں کے قبضے میں آیا تھا۔[19] اور سورہ حشر کی آیت نمبر 6 اور 7 [نوٹ 1] کے مطابق وہ اموال جو بغیر جنگ کے مسلمانوں کے قبضے میں آجائے انہیں فَیء کہا جاتا ہے جس کا اختیار پیغمبر اکرمؐ کو ہے کہ جس کو چاہے یہ اموال دے سکتا ہے۔[20]

آیت ذوی القربی اور فدک کا حضرت فاطمہؑ کو بخش دینا

شیعہ تمام مفسرین اور اہل سنت کے بعض محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جب آیت "وَآتِ ذَا الْقُرْ‌بَیٰ حَقَّه(:ترجمہ اور دیکھو قرابتداروں کو اس کا حق دے دو)[21] نازل ہوئی تو پیغمبر اکرمؐ نے فدک حضرت فاطمہؑ کو بخش دی۔[22] اہل سنت علماء میں سے جلال‌الدین سیوطی نے اپنی تفسیر الدر المنثور،[23] متقی ہندی نے اپنی کتاب کنز العُمال،[24] ثعلبی نے تفسیر الکشف و البیان، حاکم حسکانی نے شواہد التنزیل[25]، قُندوزی نے ینابیع المودۃ[26] اور بہت سی دوسری کتابوں میں اس حدیث کو نقل کئے ہیں۔ [27] جب عباسی خلیفہ مأمون نے فدک کو حضرت فاطمہؑ کی اولاد کو واپس دینے کا حکم صادر کیا تو اس نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ اسے حضرت فاطمہ کیلئے بخش دی گئی تھی اور یہ رسول اکرمؐ کے زمانے میں ایک واضح اور آشکار مسئلہ تھا۔[28]

فدک اور اس سے ملحقہ باغات کی ضبطی

فدک، پیغمبرؐ کی وصال تک حضرت فاطمہؑ کی ملکیت میں تھی اور آپؑ کی طرف سے مختلف افراد اس زمین پر وکیل یا مزدور کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔[29] واقعہ سقیفہ بنی ساعدہ کے بعد جب ابوبکر خلافت کے منصب پر پہنچا تو اس نے اعلان کیا کہ فدک کسی کی ذاتی ملکیت نہیں۔ بنابراین اس نے اسے حکومت کے قبضے میں لانے کا حکم صادر کیا۔[30] اسی طرح عمر[31] اور عثمان[32] کے دور خلافت میں بھی فدک اہل بیت پیغمبرؐ کی ملکیت میں نہیں آئی۔

کہا جاتا ہے کہ خلیفہ اول نے فدک کے علاوہ دوسرے 7 باغ (الحوائط السبعۃ) کو بھی حضرت فاطمہؑ سے واپس لے لیا۔ یہ باغات ایک یہودی کے تھے جس نے اسلام قبول کرنے کے بعد وصیت کی تھی کہ اگر وہ جنگ میں مارا جائے تو یہ باغات پیغمبر اکرمؐ کی ذاتی ملکیت ہو گی۔[33] وہ شخص جنگ احد میں شہید ہو گیا۔ پیغمبر اکرمؐ نے ان باغوں کو بھی فدک کے ساتھ حضرت زہراؑ کو بخش دی تھیں۔[34]

حضرت فاطمہؑ اور فدک کی ملکیت کا دعوی

فدک پر حکومت کی طرف سے غاصبانہ قبضہ کے بعد حضرت فاطمہؑ ابوبکر کے پاس تشریف لے گئیں اور ان سے فدک کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ یہ گفتگو تاریخی اور حدیثی منابع میں مختصر تفاوت کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب حضرت فاطمہؑ نے فدک کا مطالبہ کیا تو ابوبکر نے کہا:إِنّی سَمعتُ رسول الله یَقول: إنا (نحن) مَعاشرَ الأَنبیاء لا نُوَّرِثُ ما ترکناه صدقة(:ترجمہ میں نے پیغمبر اکرمؐ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا، ہم انبیاء کوئی ترکہ نہیں چھوڑتے بلکہ ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے۔) [35] حضرت فاطمہؑ نے جواب دیا: "میرے والد گرامی نے یہ زمین مجھے بخش دی تھی"۔ ابوبکر نے حضرت فاطمہؑ سے اس بات پر گواہ طلب کیا۔ اس موقع پر حضرت فاطمہؑ نے حضرت علیؑ اور ام ایمن کو بطور گواہ پیش کیا۔ بعض دوسرے اقوال میں امام حسنؑ، امام حسین ؑ ، ام کلثوم[36] اور پیغمبر اکرمؐ کے ایک غلام کو بھی بطور گواہ پیش کرنے کے بارے میں کہا گیا ہے۔ [37] بہر حال ابوبکر نے حضرت زہراؑ کی بات کو قبول کیا اور ایک کاغذ پر بطور سند لکھا تاکہ بعد میں کوئی اور اس پر قبضہ نہ کر سکے۔ حضرت فاطمہؑ ابوبکر کے لکھے ہوئے سند کو لے کر مجلس سے باہر تشریف لے جارے تھے راستے میں عمر بن خطاب نے اس کاغذ کو آپ کے ہاتھ سے چھین کر پھاڑ دیا۔ [38] اہل سنت کے بعض منابع کے مطابق ابوبکر نے حضرت فاطمہ کے گواہوں کو قبول نہیں کیا اور گواہ کے طور پر دو مردوں کو پیش کرنے کا کہا۔[39] ابن ابی الحدید کہتے ہیں: "ابن فارقی جو کہ بغداد کا ایک معروف استاد تھا سے سوال کیا کہ آیا حضرت فاطمہؑ فدک کے حوالے سے سچ کہ رہی تھی یا نہیں؟ تو فاروقی نے جواب دیا آپؑ اس حوالے سے سچ کہ رہی تھیں۔ میں نے پوچھا پس ابوبکر نے کیوں آپ کی بات کو قبول نہیں کیا؟ اس نے کہا اگر ایسا کرتا تو کل خلافت سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا کیونکہ کل کو فاطمہؑ خلافت پر اپنے شوہر کی حقانیت کا دعوا کرتیں اس وقت ابوبکر اس کی بات کو نہیں ٹھکرا سکتا تھا کیونکہ فدک کے متعلق آپؑ کی بات بغیر شاہد کے قبول کر چکا تھا"۔ ابن ابی الحدید آگے کہتا ہے: "اگرچہ ابن فاروقی یہ بات مذاق مذاق میں کہ رہا تھا لیکن اس کی بات بالکل صحیح تھی"[40]

اگرچہ تاریخی منابع میں محسن بن علیؑ کے سقط ہونے کے واقعے کو حضرت زہراؑ کے دروازے کو جلائے جانے کے واقعے سے مربوط قرار دی جاتی ہے لیکن شیخ مفید کی کتاب الاختصاص کی طرف نسبت دی گئی ہے کہ عمر نے آپؑ سے وہ کاغذ مانگا تو آپ نے نہیں دیا اس پر عمر نے حضرت فاطمہؑ پر لات مارا؛ اس وقت حضرت فاطمہؑ حاملہ تھیں اور عمر کے اس ظلم کی وجہ سے آپؑ کے پیٹ میں موجود بچے (محسن) کا سقط جنین ہوا۔ اس کے بعد عمر نے حضرت فاطمہؑ کو تھپڑ مارا اور اس کاغذ کو چھین کر پھاڑ دیا۔[41]

حضرت علیؑ اور فدک کی ملکیت کا دعوی

منقول ہے کہ خلیفہ کی طرف سے فدک پر قبضہ کرنے کے بعد امام علیؑ نے مسجد میں آکر مہاجرین اور انصار کے سامنے ابوبکر پر اعتراض کرتے ہوئے فرمایا کہ کیوں فاطمہؑ کو اس چیز سے منع کرتے ہو جسے پیغمبر اکرمؐ نے انہیں بخش دی تھی۔ اس پر ابوبکر نے عادل گواہ طلب کیا تو امام علیؑ نے فرمایا جو چیز کسی کے قبضے میں ہو اس سے گواہ طلب نہیں کیا جاتا بلکہ گواہ پیش کرنا اس شخص کی ذمہ داری ہے جو اس چیز پر اپنی ملکیت کا دعوا کرتا ہے جبکہ یہ چیز اس کے قبضے میں نہیں ہے۔[42]

امام علیؑ نے اس مقام پر آیۂ تطہیر کی تلاوت فرمائی اور ابوبکر سے اقرار لیا کہ یہ آیت امامؑ اور اس کے خاندان کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ اس کے بعد امام نے پوچھا اگر دو شخص کہے کہ فاطمہؑ گناہ کا مرتکب ہوئی ہے، تو کیا کرو گے؟ اس پر ابوبکر نے کہا اگر ایسا ہوا تو میں فاطمہؑ پر حد جاری کروں گا۔ امام علیؑ نے فرمایا اگر ایسا کیا تو تم نے خدا کی گواہی پر مخلوق کی گواہی کو ترجیح دیا اور ایسا کرنے والا کافر ہے۔ اس وقت لوگوں نے فریاد بلند کئے اور وہاں سے پراکندہ ہوگئے۔[43] اسی طرح یہ بھی منقول ہے کہ امام علیؑ نے ابوبکر کے نام ایک خط لکھا اور تہدید آمیز لہجے میں خلافت اور فدک کے غصب کے بارے میں اس کی سرزنش کی۔[44]

ابوبکر کا انبیا کے ارث نہ چھوڑنے پر استدلال

کہا جاتا ہے کہ جب حضرت فاطمہؑ فدک پر اپنی ملکیت کا دعوی کیا تو ابوبکر نے کہا: "میں نے پیغمبر اکرمؐ سے سنا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ہم انبیاء کسی چیز کو ارث کے طور پر نہیں چھوڑتے اور جو کچھ ہم چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہے۔ [45] اس موقعے پر حضرت زہراؑ نے ایک خطبہ دیا جس میں آپ نے قرآن کی کئی آیتوں (سورہ نمل، آیت ۶، سورہ مریم، آیت ۵ اور ۶، سورہ انفال، آیت ۷۵؛ سورہ نساء، آیت ۱۱؛ سورہ بقرہ، آیت ۱۸۰) کی طرف اشارہ فرمایا جن میں انبیاء کے ارث چھوڑنے کا تذکرہ ملتا ہے اس طرح آپ نے ابوبکر کی بات کو قرآن کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔[46] شیعہ علماء ابوبکر کی مذکورہ بات کو سورہ مریم کی آیت نمبر 5 اور 6 [47] کی خلاف ورزی قرار دینے کے ساتھ ساتھ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو ابوبکر کے علاوہ کسی نے بھی پیغمبر اکرمؐ سے نقل نہیں کیا ہے۔[48] ابن ابی الحدید کا بھی یہی نظریہ ہے۔[49]

کہا جاتا ہے کہ جب عثمان، خلافت پر پہنچے تو عایشہ اور حفصہ اس کے پاس گئیں اور خلیفہ اول کے زمانے سے انہیں ملنے والے حقوق کا مطالبہ کرنے لگیں۔ اس پر عثمان نے کہا خدا کی قسم ایسی کوئی چیز تمہیں نہیں دوں گا۔ آیا تم دونوں وہی نہیں ہو جنہوں نے اپنے والد کے ہاں یہ گواہی دی تھی کہ انبیاء کسی چیز کو ارث نہیں چھوڑتے۔ ایک دن میراث نہ چھوڑنے کی گواہی دیتے ہو اور ایک دن پیغمبرؐ کی میراث مانگتے ہو؟[50]

خطبہ فدکیہ

اصل مضمون: خطبہ فدکیہ

جب حضرت فاطمہؑ کو فدک پر اپنی مالیکت ثابت کرنے کیلئے چلائے جانے والے مقدمے میں ابوبکر کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا تو آپ نے مسجد نبوی میں جاکر صورتحال کو واضح کرنے اور فدک کی ضبطی کے بارے میں صحابہ کے بھرے مجمع سے مخاطب ہو کر ایک خطبہ دیا جو خطبہ فدکیہ کے نام سے مشہور ہے۔[51] اس خطبے میں آپ نے ابوبکر کی جانب سے خلافت کو غصب کرنے کا ذکر فرمایا اور پیغمبر اکرمؐ کا ارث نہ چھوڑنے کے حوالے سے ابوبکر کی بات کو جھٹلاتے ہوئے کہا: تم کس قانون کے تحت مجھے اپنے بابا کی ارث سے محروم کرتے ہو؟! آیا قرآن کی کسی آیت میں ایسا کہا گیا ہے؟! اس کے بعد ابوبکر کو قیامت کے دن خدا کی عدالت پر موکول کرتے ہوئے اصحاب سے سوال کیا کہ کیوں اس قدر مظالم کے باوجود سکوت اختیار کرتے ہو؟ حضرت فاطمہؑ نے واضح طور پر فرمایا کہ جو کچھ ابوبکر اور ان کے حامیوں نے انجام دیا ہے وہ سراسر عہد و پیمان کی خلاف ورزی (نکثوا ایمانہم) ہے۔ خطبہ کے آخر میں اس برے کام کی پستی اور ذلت کو ابدی اور اس کے انجام کو دوزخ قرار دیا۔[52]

ابوبکر اور عمر سے فاطمہ کی ناراضگی

شیعہ منابع[53] کے علاوہ اہل سنت منابع میں بھی واقعہ فدک کے بعد ابوبکر اور عمر سے حضرت زہراؑ کی ناراضگی کا ذکر ملتا ہے: "فاطمہ، رسول خدا کی بیٹی ناراض ہو گئیں اور ابوبکر سے منہ پھیر لیا اور اپنی زندگی کی آخری لمحات تک غضبناک رہیں۔"[54] اس طرح کی دوسری احادیث بھی اہل سنت منابع میں نقل ہوئی ہیں۔[55]

کہا جاتا ہے کہ ابوبکر اور عمر نے حضرت فاطمہؑ کو راضی کرنے کیلئے ان سے ملنے کا اردہ کیا لیکن حضرت فاطمہ نے ان سے ملنے سے انکار کیا۔ آخر کار انہوں نے امام علیؑ کو واسطہ قرار دے کر حضرت فاطمہؑ سے ملاقات کیا۔ اس ملاقات میں حضرت زہراؑ نے پیغمبر اکرمؐ کی اس حدیث کی طرف اشارہ کیا: "فاطمہ کی خشنودی میری خشنودی ہے اور فاطمہ کی نارضایتی میری نارضایتی ہے، میری بیٹی کو دوست رکھنے والے گویا مجھے دوست رکھتا ہے اور جس نے بھی فاطمہ کو خشنود کیا گویا اس نے مجھے خشنود کیا اور جس نے بھی فاطمہ کو ناراض کیا گویا اس نے مجھے ناراض کیا ہے۔[56] خلاصہ یہ کہ حضرت فاطمہؑان سے راضی نہیں ہوئیں۔ [57]

فدک سے متعلق امام علیؑ کا موقف

اگرچہ امام علیؑ فدک پر حضرت فاطمہ کی مالکیت کو ایک مسلمہ حقیقت قرار سمجھتے تھے اور خلفاء کی طرف سے اسے بیت المال میں شامل کرنے کو ایک غاصبانہ اقدام قرار دیتے ہوئے اسے دوبارہ حضرت زہرا کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن جب خلفاء نے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا تو آپ نے اس مقدمے کو قیامت میں خدا کی عدالت پر موکول کر دیا۔[58] اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امام علیؑ نے اپنے دور حکومت میں فدک کو واپس لینے کیلئے کیوں کوئی اقدام نہیں کیا؟ اس حوالے سے امام علیؑ خود ایک خطبے [59] میں فرماتے ہیں کہ اگر میں فدک کی ملکیت فاطمہؑ کو لوٹا دینے کا حکم دے دیتا تو خدا کی قسم لوگ مجھ سے دور ہو جاتے۔[60] اسی طرح ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ امام صادقؑ نے فرمایا: امام علیؑ نے اس مسئلے میں پیغمبر اکرمؐ کی پیروی کی ہے۔ کیونکہ پیغمبر اکرمؐ نے فتح مکہ کے موقع پر ایک ایسے گھر کو جو اس سے پہلے آپ سے زبردستی ظالمانہ طریقے سے چھینا گیا تھا، کو واپس نہیں لیا تھا۔[61]

عثمان بن حنیف کو لکھے گئے ایک خط میں امام علیؑ فدک کے بارے میں فرماتے ہیں: "اس نیلے آسمان کے نیچے صرف فدک ہمارے قبضے میں تھا۔ بعض نے اس پر بخل کیا جبکہ ایک گروہ نے سخاوتمندانہ طریقے سے اس سے ہاتھ اٹھایا۔ بہترین فیصلہ کرنے والا خدا ہی ہے ہمیں فدک اور امثال فدک سے کیا سروکار جبکہ کل کو سب نے قبر میں ہی جانا ہے۔"[62]

بعض ادوار میں فدک کا اولاد حضرت فاطمہؑ کی ملکیت میں واپس آنا

بنی امیہ اور بنی عباس کے دور خلافت میں بھی فدک اہل بیت کے دشمنوں کے قبضے میں رہا منتہی صرف عمر بن عبدالعزیز،[63] ابوالعباس سفاح، مہدی عباسی [64] اور مأمون[65] کے دور خلافت میں فدک اولاد فاطمہؑ کو لوٹا دیا گیا تھا[نوٹ 2]۔ مأمون کے بعد متوکل عباسی نے دوبارہ فدک پر قبضہ کرنے کا حکم صادر کیا۔[66] اکثر تاریخی منابع میں متوکل عباسی کے بعد فدک کے واقعے کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے۔[67]

فدک کے مسئلے پر بعض شیعہ علماء کا تجزیہ و تحلیل

سیدجعفر شہیدی معتقد ہیں کہ فدک کے مطالبے سے حضرت زہراؑ کا ہدف صرف کھجور کے چند درخت کو اپنی ملکیت میں لے لینا نہیں تھا، بلکہ آپؑ پیغمبر اکرمؐ کی سنت کو زندہ رکھنا اور عدالت برقرار رکھنا چاہتی تھیں اور زمانہ جاہلیت کے بعض رسم و رواج جیسے اقرباء پروری وغیرہ جو اسلامی معاشرے کیلئے ایک خطرناک بیماری کی شکل میں سر اٹھا رہی تھی، سے احساس نگرانی کر رہی تھیں۔[68] سید محمد باقر صدر معتقد ہیں کہ فدک کا مطالبہ ایک شخصی اور مادی نزاع نہیں تھا بلکہ ایک لحاظ سے یہ کام حاکم وقت کی مخالفت اور سقیفۂ بنی ساعدہ میں ابوبکر، عمر اور ابوعبیدہ جراح وغیرہ کے ذریعے وجود میں آنے والی حکومت اور خلافت کی بنیاد کو نامشروع قرار دینا تھا۔[69] آپ فدک کے مطالبہ کو حکومت کے خلاف اور امامت کے دفاع کے حوالے سے حضرت زہراؑ کی تحریک کا آغاز قرار دیتے ہیں۔[70]

حوالہ جات

  1. طبری، تاريخ الأمم و الملوك، [بی‌تا]، ج۲، ص۶۴۲
  2. ابن ہشام، السيرۃ النبويۃ، ج‏۲، ص۳۴۱
  3. مقريزي، إمتاع الأسماع، ج۱۳، ص۱۴۹
  4. ابن ابی الحدید، ج۱۶، ص۲۱۶
  5. علامہ حلی، نہج الحق و کشف الصدق، ص۳۵۷.
  6. محسن امين، أعيان الشيعۃ، ج۱، ص۳۱۸
  7. علامہ حلی، نہج الحق و کشف الصدق، ص۳۵۷.
  8. بلاذری، فتوح البلدان، ج۱، ص۳۷
  9. بلاذری، فتوح البلدان، ج۱، ص۳۸
  10. ابن اثير، الكامل في التاريخ، ج۷، ص۱۱۶
  11. یاقوت حموی، معجم البلدان، ۱۹۹۵م، ذیل مادہ فدک، ص۲۳۸.
  12. یاقوت حموی، معجم البلدان، ۱۹۹۵م، ج۴، ص۲۳۸؛ابن‌منظور، لسان‌العرب، ۱۴۱۰ھ، ج۱۰، ص۴۷۳.
  13. بلادی، معجم معالم الحجاز، ۱۴۳۱ق، ج۲، ص۲۰۶ و ۲۰۵ و ج۷، ص۲۳. سبحانی، «حوادث سال ہفتم ہجرت: سرگذشت فدک»، ص۱۴.
  14. مقریزى‏، إمتاع الأسماع، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۳۲۵.
  15. طبری، تاریخ الامم و الملوک، [بی‌تا]، ج۳، ص۱۵.
  16. یاقوت حموی، معجم البلدان، ۱۹۹۵ق، ج۴، ص۲۳۸؛ ابن منظور، لسان‌العرب، ۱۴۱۰ق، ج۱۰، ص۴۳۷.
  17. ابن ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۳۸۷ق، ج۱۶، ص۲۳۶.
  18. مثال کے طور پر اہل سنت علماء میں: یاقوت حموی، معجم البلدان، [بی‌تا]، ج۴، ص۳۸. طبری، تاریخ الامم و الملوک، [بی‌تا]، ج۳، ص۲۵۶، ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۲۲.
  19. سبحانی، فروغ ولایت، ۱۳۸۰ش، ص۲۱۸.
  20. فخر رازی، مفاتیح الغیب،‌ ۱۴۲۰ق، ج۲۹، ص۵۰۶؛طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۹، ص۲۰۳.
  21. سورہ اسراء: آیت ۲۶.
  22. سبحانی، فروغ ولایت، ۱۳۸۰ش، ص۲۱۹. از میان مفسران شیعہ: عیاشی، تفسیر عیاشی، مکتبۃ العلمیۃ، ج۲، ص۲۸۷؛ کوفی، تفسیر فرات، ۱۴۱۰ق، ص۲۳۹، ح۳۲۲؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۴۷۸؛ قمی، تفسیر قمی، ۱۴۰۴ق، ج۲، ص۱۸. محمدباقر حسینی جلالی در کتاب فدک و العوالی، صفحہ ۱۴۱ نے تمام تفاسیر کی بررسی کی ہے
  23. سیوطی، الدر المنثور، بیروت، ج۲، ص۱۵۸ و ج۵، ص۲۷۳.
  24. متقی ہندی، کنز العُمال، [بی‌تا]، ج۲، ص۱۵۸ و ج۳، ص۷۶۷.
  25. حاکم حسکانی، شواہد التنزیل، مؤسسۃ الطبع و النشر، ج۱، ص۴۳۹ و ۴۴۱.
  26. قندوزی، ینابیع المودۃ، ۱۴۲۲ق، ج۱، ص۱۳۸ و ۳۵۹.
  27. حسینی جلالی، کتاب فدک و العوالی، ۱۴۲۶ق، ص۱۴۶ـ۱۴۹.
  28. شہیدی، زندگانی فاطمہ زہرا، ۱۳۶۲ش، ص۱۱۷.
  29. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۶، ص۲۱۱.
  30. کلینی، اصول کافی، ۱۳۶۹ش، ج۱، ص۵۴۳؛ شیخ مفید، المقنعۃ، ۱۴۱۰ق، ص۲۸۹ و ۲۹۰.
  31. بلاذری، فتوح البلدان، ۱۹۵۶م، ج۱، ص۳۶.
  32. ابن قتیبہ، المعارف، ص۸۴؛ تاریخ ابو الفدا، ج۱، ص۱۶۸؛ سنن بیہقی، ج۶، ص۳۰۱؛ العقد الفرید، ج۵، ص۳۳؛ شرح نہج البلاغہ، ج۱، ص۱۹۸؛ الغدیر، ج۸، ص۲۳۸-۲۳۶، بہ نقل از: شہیدی، زندگانی فاطمہ زہرا، ۱۳۶۲ش، ص۱۱۶.
  33. حسینی جلالی اپنی کتاب فدک و العوالی، صفحہ ۶۱ میں لکھتے ہیں کہ یہ وصیت این آثار میں نقل ہوئی ہیں: فتح الباری، ج۶، ص۱۴۰؛ الطبقات الکبری، ج۱، ص۵۰۱؛ تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۲۲۹؛ الاصابۃ، ج۶، ص۴۶؛ معجم البلدان، ج۵، ص۲۴۱؛ تاریخ طبری، ج۲، ص۲۰۹.
  34. حسینی جلالی، فدک و العوالی، ص۳۷ـ۷۴. وہ کتابیں جن میں ان باغات کے بخشے جانے کا ذکر ہے: شواہد التنزیل، ج۱، ص۴۴؛ بحار الانوار، ج۱۶، ص۱۰۹؛ دلائل الصدق، ج۳، ص۵۷۸؛ الطرائف، ج۱، ص۲۴۷؛ وسائل الشیعہ، ج۱۹، ص۱۹۹ و دیگر منابع.
  35. بلاذری، فتوح البلدان، ۱۹۵۶م، ص۴۰ و ۴۱.
  36. حلبی، السیرۃ الحلبیۃ، ۱۹۷۱م، ج۳، ص۵۱۲.
  37. فخر رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق، ج۸، ص۱۲۵.
  38. کلینی، اصول کافی، ۱۳۶۹ش، ج۱، ص۵۴۳. حلبی، السیرۃ الحلبیۃ، ۱۹۷۱م، ج۳، ص۵۱۲.
  39. بلاذری، فتوح البلدان، ۱۹۸۸م، ص۴۰.
  40. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۴۰۴ق، ج۱۶، ص۲۸۴.
  41. ...فلقیہا عمر، فقال: یا بنت محمد! ما ہذا الکتاب الذی معک؟ فقالت: کتاب کتب لی ابوبکر برد فدک، فقال ہلمیہ الی، فابت ان تدفعہ الیہ، فرفسہا برجلہ و کانت علیہماالسلام حاملہ یابن اسمہ المحسن. فاسقطت المحسن من بطنہا ثم لطمہا، فکانی انظر الی قرط فی اذنہا حین نقفت ثم اخذ الکتاب فخرقہ... (شیخ مفید، الاختصاص، تصحیح علی اکبر غفاری، ص۱۸۵).
  42. مجلسی، بحار الانوار، [بی‌تا]، ج۲۹، ص۱۲۴.
  43. مجلسی، بحار الانوار، [بی‌تا]، ج۲۹، ص۱۲۴.
  44. طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۹۵.
  45. إِنّی سَمعتُ رسول اللہ یَقول: إنا (نحن) مَعاشرَ الأَنبیاء لا نُوَّرِثُ ما ترکناہ صدقۃ (بخاری، صحیح، ج۵، ص۸۲؛ مسلم، صحیح، ج۵، ص۱۵۳، بہ نقل از: مجلسی کوپائی، فدک از غصب تا تخریب، ۱۳۸۸ش، ص۹۱).
  46. مجلسی کوپائی، فدک از غصب تا تخریب، ۱۳۸۸ش، ص۹۴.
  47. جس میں حضرت زکریا خداوندعالم سے درخواست کرتے ہیں کہ اس کا کوئی جانشین قرار دے جو زکریا اور آل یعقوب سے ارث لینے والا ہو
  48. سبحانی، فروغ ولایت، ۱۳۸۰ش، ص۲۴۲.
  49. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۴، ص۸۲ و ۸۵. بہ نقل از: سبحانی، فروغ ولایت، ۱۳۸۰ش، ص۲۴۲.
  50. طبری، المسترشد، ۱۴۱۵ق، ص۵۹۷؛ حلبی، تقریب المعارف، ۱۴۰۴ق، ص۲۸۶.
  51. اربلی، كشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۳۵۳-۳۶۴
  52. شہیدی، زندگانی فاطمہ زہرا علیہاالسلام، ۱۳۶۲ش، ص ۱۲۶-۱۳۵.
  53. خزاز رازى‏، كفايۃ الأثر في النصّ على الأئمۃ الإثني عشر، ۱۴۰۱، ص ۶۵.
  54. فَغَضِبَتْ فَاطِمَۃ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہ صَلَّى اللہ عَلَيْہ وَسَلَّمَ، فَہجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ، فَلَمْ تَزَلْ مُہاجِرَتَہ حَتَّى تُوُفِّيَتْ (بخاری، صحیح البخاری، ۱۴۲۲ق، ج۴، ص۷۹)
  55. مسلم، صحیح مسلم، ج ۳، ص ۱۳۸۰؛ جوہرى بصرى‏، السقيفۃ و فدک، ص ۱۰۲.
  56. رِضَا فَاطِمَۃ مِنْ رِضَايَ وَ سَخَطُ فَاطِمَۃ مِنْ سَخَطِي وَ مَنْ أَحَبَّ فَاطِمَۃ ابْنَتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي وَ مَنْ أَرْضَى فَاطِمَۃ فَقَدْ أَرْضَانِي وَ مَنْ أَسْخَطَ فَاطِمَۃ فَقَدْ أَسْخَطَنِي‏
  57. ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، ۱۳۸۲ق، ج۱، ص۳۱.
  58. استادی، «فدک»، ص۳۹۱-۳۹۲؛ابن ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۳۸۷ق، ج۱۶، ص۲۰۸.
  59. امام علیؑ نے اس حظبے میں گذشتہ خلفاء کی ۲۷ بدعتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر میں ان بدعتوں کو پیغمبر اکرم کی سنت میں بدل دوں تو تمام لوگ مجھ سے دور ہو جاتے۔ (مجلسی، فدک از غصب تا تخریب، ۱۳۸۸ش، ص۱۴۵)
  60. کلینی، الکافی، ۱۴۲۹ق، ج۱۵، ص۱۵۴.
  61. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۲۹، ص۳۹۶.
  62. ابن ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۳۸۷ق، ج۱۶، ص۲۰۸.
  63. ابن‌عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق،‌ ۱۴۱۵ق، ج۴۵، ص۱۷۸ و ۱۷۹؛ بلاذری، فتوح البلدان، ۱۹۵۶م، ص۴۱؛ کاتب بغدادی، الخراج و صناعۃ الکتابۃ، ۱۹۸۱م، ص۲۵۹ و ۲۶۰
  64. علامہ امینی، الغدیر، ج۷، ص۱۹۴ـ۱۹۷، بہ نقل از: مجلسی، فدک از غصب تا تخریب، ۱۳۸۸ش، ص۱۳۸.
  65. یاقوت حموی، معجم البلدان، ۱۹۹۵م، ج۴، ص۲۴۰؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۹۳۹م، ج۷، ص۱۵۶؛حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ۱۳۶۷ش، ص۷۷؛ بلاذری، فتوح البلدان، ۱۹۵۶م، ج۱، ص۳۷ و ۳۸.
  66. بلاذری، فتوح البلدان، ۱۹۵۶م، ج۱، ص۳۸.
  67. مجلسی کوپائی، فدک از غصب تا تخریب، ۱۳۸۸ش، ص۱۳۹.
  68. شہیدی، علی از زبان علی، ۱۳۷۷ش، ص۳۷.
  69. صدر، فدک‌ فی‌ التاریخ‌، [بی‌تا]، ص۶۳-۶۶
  70. صدر، فدک‌ فی‌ التاریخ‌، [بی‌تا]، ص۱۱۵-۱۱۷


نوٹ

  1. وَمَا أَفَاءَ اللَّـه عَلَىٰ رَ‌سُولِه مِنْهمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْه مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِ‌كَابٍ وَلَـٰكِنَّ اللَّـه يُسَلِّطُ رُ‌سُلَه عَلَىٰ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّـه عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ ﴿٦﴾ مَّا أَفَاءَ اللَّـه عَلَىٰ رَ‌سُولِه مِنْ أَهلِ الْقُرَ‌ىٰ فَلِلَّـه وَلِلرَّ‌سُولِ وَلِذِي الْقُرْ‌بَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّ‌سُولُ فَخُذُوه وَمَا نَهاكُمْ عَنْه فَانتَهوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّـه ۖ إِنَّ اللَّـه شَدِيدُ الْعِقَابِ(:ترجمہ اور خدا نے جو کچھ ان کی طرف سے مال غنیمت اپنے رسول کو دلوایا ہے جس کے لئے تم نے گھوڑے یا اونٹ کے ذریعہ کوئی دوڑ دھوپ نہیں کی ہے.... لیکن اللہ اپنے رسولوں کو غلبہ عنایت کرتا ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے (6) تو کچھ بھی اللہ نے اہل قریہ کی طرف سے اپنے رسول کو دلوایا ہے وہ سب اللہ, رسول اور رسول کے قرابتدار, ایتام, مساکین اور مسافران غربت زدہ کے لئے ہے تاکہ سارا مال صرف مالداروں کے درمیان گھوم پھر کر نہ رہ جائے اور جو کچھ بھی رسول تمہیں دیدے اسے لے لو اور جس چیز سے منع کردے اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو کہ اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے)
  2. بعض مورخین کے مطابق امام کاظمؑ نے مہدی عباسی سے فدک کا مطالبہ کیا لیکن مہدی عباسی نے اسے دینے سے انکار کیا۔ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۱۴۹)

منابع

  • ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق ابوالفضل ابراہیم، بیروت، دار احیاء الکتب العربیہ، [بی‌تا].
  • ابن اثير، الكامل في التاريخ‏، بیروت، دار الصادر، ۱۳۸۵ش
  • ابن طاووس، سیدعلی بن موسی، کشف المحجۃ لثمرۃ المہجۃ، نجف، المطبعۃ الحیدریۃ، ۱۳۷۰ق.
  • ابن عساکر، علی بن حسن، تاریخ مدینۃ دمشق،‌ بیروت، دارالفکر، چاپ اول، ۱۴۱۵ق.
  • ابن قتیبہ، المعارف، ثروت عکاشہ، دارالکتب، ۱۹۶۰م.
  • ابن کثیر، بیروت، تفسیر القرآن العظیم، دار المعرفۃ، ۷۷۴ق.
  • ابن‌منظور، محمد بن مکرم، لسان‌العرب، دارصادر، بیروت، چاپ اول ۱۴۱۰ق.
  • ابن ہشام، السيرۃ النبويۃ، بیروت، دار المعرفۃ، بی تا
  • اربلی، علی بن عیسی اربلی، كشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ، قم، رضی‏، چاپ اول ۱۴۲۱ق.
  • استادی، رضا، فدک، در دانشنامہ امام علی علیہ‌السلام زیر نظر: علی اکبر رشاد، تہران، مرکز نشر آثار پژوہشگاہ فرہنگ و اندیشہ اسلامی، ۱۳۸۰ش.
  • امين عاملی، سيد محسن، أعيان الشيعۃ، بیروت، دار التعارف‏، ۱۴۰۳ق.
  • بخاری، محمد بن اسماعیل، الجامع المسند الصحیح المختصر من أمور رسول اللہؑ و سننہ و أیامہ(صحیح بخاری)، محقق: الناصر، محمد زہیر بن ناصر، بیروت، دار طوق النجاۃ، چاپ اول، ۱۴۲۲ق.
  • بلادی، عاتق بن غیث، معجم معالم الحجاز، دارمکہ/مؤسسۃ الریان، ۱۴۳۱ق،
  • بلاذری، احمد بن یحیی بن جابر، فتوح البلدان، تحقیق: صلاح الدین المنجد، قاہرہ، مکتبۃ النہضۃ المصریۃ، ۱۹۵۶م.
  • جعفریان، رسول، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، تہران، مشعر، چاپ سوم، ۱۳۸۴ش.
  • جوہری بصری، ابوبکر احمدبن عبدالعزیز، السقیفۃ و فدک، تحقیق: محمد ہادی امینی، تہران، مکتبۃ النینوی الحدیثہ، ۱۴۰۱ق.
  • حاکم حسکانی، عبیداللہ بن احمد، شواہد التنزیل، ترجمہ احمد روحانی، قم، دار الہدی، ۱۳۸۰ش.
  • حسینی جلالی، محمدباقر، فدک و العوالی او الحوایط السبعہ فی الکتاب و السنۃ و التاریخ و الادب، مشہد، دبیرخانہ کنگرہ میراث علمی و معنوی حضرت زہراؑ، ۱۴۲۶ق.
  • حسین، جاسم، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ترجمہ دکتر سید محمد تقی آیتۃاللہی، تہران، امیرکبیر، ۱۳۶۷ش.
  • حلبی، ابوالصلاح تقی بن نجم، تقریب المعارف، بہ تحقیق و تصحیح فارس تبریزیان(الحسون)، قم، الہادی، چاپ اول، ۱۴۰۴ق
  • حلبی، علی بن ابراہیم، السیرۃ الحلبیہ، بہ تحقیق عبداللہ محمد خلیلی، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ۱۹۷۱م.
  • خزاز رازی، علی بن محمد، کفایۃ الاثر فی النصّ علی الأئمۃ الإثنی عشر، محقق و مصحح: حسینی کوہکمری، عبداللطیف،‏ قم، بیدار، 1401ق.
  • رہبر، محمد تقی، فدک نماد مظلومیت اہل بیت میقات حج، تہران، حوزہ نمایندگی ولی‌فقیہ در امور حج و زیارت، ش۳۴، زمستان ۱۳۷۹ش.
  • سبحانی، جعفر، «حوادث سال ہفتم ہجرت: سرگذشت فدک»، مکتب اسلام، سال نہم، شمارہ ۴، اسفند ۱۳۴۶ش.
  • سبحانی، جعفر، «فرازہایی حساس از زندگانی امیرمؤمنانؑ»، مکتب اسلام، سال ہفدہم، شمارہ ۴، فروردین ۱۳۵۵ش و شمارہ۵، اردیبہشت ۱۳۵۵ش.
  • سبحانی، جعفر، فروغ ولایت: تاریخ تحلیلی زندگانی امیر مؤمنان علیؑ، قم، موسسہ امام صادقؑ، چاپ ششم، ۱۳۸۰ش.
  • سیوطی، جلال الدین، الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، بیروت، ‌دار المعرفۃ للطباعۃ والنشر، بی‌تا.
  • سیوطی، جلال‌الدین، الدر المنثور، جدہ، چاپ اول، ۱۳۶۵ق.
  • شہیدی، سیدجعفر، زندگانی فاطمہ زہرا علیہاالسلام، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ۱۳۶۲ش.
  • شہیدی، سیدجعفر، علی از زبان علی، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ۱۳۷۷ش.
  • صدر، محمدباقر، فدک‌ فی‌ التاریخ‌، تحقیق: عبدالجبار شرارہ، مرکز الغدیر للدراسات الاسلامیہ، بی‌تا، بی‌جا.
  • صدوق، علل الشرایع، النجف الأشرف، منشورات المکتبۃ الحیدریۃ ومطبعتہا، ۱۳۸۵ق / ۱۹۶۶م.
  • طباطبایی، محمد حسین، المیزان، قم، انتشارات جامعہ مدرسین، ۱۴۱۷ق.
  • طبرسی، احمد بن علی، الأحتجاج علی أہل اللجاج، بہ تحقیق محمدباقر خرسان، مشہد، نشر مرتضی، چاپ اول، ۱۴۰۳ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصرخسرو، ۱۳۷۲ش.
  • طبری، محمد بن جریر بن رستم، المسترشد فی إمامۃ علی بن أبی‌طالب علیہ السلام، بہ تحقیق و تصحیح احمد محمودی، قم، کوشانپور، چاپ اول، ۱۴۱۵ق.
  • طبری، تاریخ الامم و الملوک، بہ تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، [بی‌نا]، [بی‌تا].
  • طبری، تاریخ الامم و الملوک، قاہرہ، مطبعۃ الاستقامۃ، ۱۹۳۹م.
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت:‌ دار احیاء التراث العربی، بی‌تا.
  • طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، تصحیح: حسن موسوی خرسان، دارالکتب الاسلامیہ، تہران، ۱۴۰۷ق.
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، نہج الحق و کشف الصدق، مقدمہ از رضا صدر، حاشیہ از فرج‌اللہ حسینی، بیروت، دارالکتاب اللبنانی، ۱۹۸۲م.
  • عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر العیاشی، بہ تحقیق سیدہاشم رسولی محلاتی، تہران، مکتبۃ العلمیۃ الاسلامیۃ، [بی‌تا].
  • فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، ‌داراحیاء التراث العربی، سوم، بیروت، ۱۴۲۰ق.
  • قطب راوندی، سعید بن ہبۃ اللہ، الخرائج و الجرائح، قم، مؤسسۃ الامام المہدی (عج)، ۱۴۰۹ق.
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، قم، موسسہ دار الکتاب، ۱۴۰۴ق.
  • قندوزی، سلیمان بن ابراہیم، ینابیع المودہ، قم، دار الاسوۃ، ۱۴۲۲ق.
  • کاتب بغدادی، قدامہ بن جعفر، الخراج و صناعۃ الکتابۃ، بغداد، ‌دارالرشید للنشر، چاپ اول، ۱۹۸۱م.
  • کحالہ، عمر رضا، اعلام النساء، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، ۱۴۰۴ق.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، اصول کافی، ترجمہ جواد مصطفوی، تہران، کتابفروشی علمیہ اسلامیہ، ۱۳۶۹ش.
  • کوفی، فرات بن ابراہیم، تفسیر فرات، تہران، موسسۃ الطبع و النشر، ۱۴۱۰ق.
  • متقی ہندی، کنز العمال، بیروت، موسسۃ الرسالۃ، [بی‌تا].
  • مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، تحقیق: شیخ عبدالزہرا علوی، بیروت، دارالرضا، بی‌تا.
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، دار أحیاء التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ق.
  • مجلسی کوپائی، غلامحسین، فدک از غصب تا تخریب، قم، دلیل ما، ۱۳۸۸ش.
  • مرجانی، عبد اللہ بن عبد الملک، بہجۃ النفوس و الأسرار فی تاریخ‌ دار ہجرۃ النبی المختار،‌ دار الغرب الاسلامی - بیروت، چاپ: اول، ۲۰۰۲م.
  • مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، مشہد، دارالکتب علمیہ، ۱۳۵۴.
  • شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان، المقنعۃ، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامی، چاپ دوم ۱۴۱۰ق.
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الاختصاص، بہ تصحیح علی اکبر غفاری، قم، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، [بی‌تا].
  • مقريزى‏، إمتاع الأسماع بما للنبي من الأحوال و الأموال و الحفدۃ و المتاع‏، بیروت، دارالكتب العلميۃ، چاپ اول ۱۴۲۰ق.
  • نہج البلاغہ، ترجمہ سیدجعفر شہیدی، تہران: علمی و فرہنگی، ۱۳۷۸ش.
  • یاقوت حموی، یاقوت بن عبداللہ، معجم البلدان، بیروت، دارصادر، چاپ دوم، ۱۹۹۵م.