عبادت

ویکی شیعہ سے
دعا و مناجات

عبادت، خدا کی خاضعانہ اطاعت اور فرمانبرداری کو عبادت کہتے ہیں۔ اس حالت میں بندہ اپنے آپ کو اپنے خالق کے سامنے محسوس کرتا ہے۔ کائنات کی تخلیق کا مقصد بھی عبادت یعنی خدا کو یاد کرنا ہے اور خدا کی طرف انسان کی نیاز مندی کو فلسفہ عبادت کہا جاتا ہے۔

عبادت کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں، ایک ضروری اور دوسری اختیاری۔ قرآن و حدیث میں گناہوں کی مغفرت، آرام و سکون، وسعت رزق، امامت، تقرب الٰہی اور دین میں ثابت قدمی کو عبادت کے آثار میں شمار کیا گیا ہے۔

اسی طرح خلوص، میانہ روی، صبر، علم، خشوع و خضوع اور طہارت کو عبادت کے آداب و شرائط میں ذکر کیا گیا ہے۔ عبادت صرف نماز روزہ جیسے اعمال میں منحصر نہیں بلکہ دعا، تدبر اور رزق حلال کے حاصل کرنے کو بھی عبادت کے مصداق کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

آیات و روایات میں تفاخر، تکبر، جہل، دنیا داری اور حرام خوری کو عبادت کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔

کتاب مقدس نے عبادت کو بنی اسرائیل کے ساتھ عہد و پیمان کے عنوان سے پیش کیا ہے۔

عبادت کا مفہوم

عبادت کو خاضعانہ اور خاشعانہ پیروی اور کہیں انتہائی خضوع و خاکساری کے معنی میں بیان کیا گیا ہے۔[1] اس معنی میں عبادت ایک خاص حالت ہے جو انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس ہستی کا نیاز مند[2] اور اس کے اختیار میں پاتا ہے جس نے اسے خلق کیا ہے۔[3] علامہ طباطبائی نے حقیقت عبادت کو اس بات میں جانا ہے کہ بندہ خود کو مقام ذلت و عبودیت میں قرار دے اور ہر دوسری چیز سے کٹ کر اپنے پروردگار کی یاد میں رہے اور اسی کا ذکر کرتا رہے۔[4] ایسے برتر وجود کی خدمت اور تقدیس بھی عبادت حقیقی کے طور پر بیان کی گئی ہے جو اس خدمت و تقدیس کا مستحق ہو۔[5]

قرآن کی اصطلاح میں عبادت کا ایک عام مفہوم ہے اور انسان کے بہت سے اعمال و کردار کو شامل ہوجاتی ہے اگرچہ وہ شیطان اور ہوائے نفس کی پیروی ہی کیوں نہ ہو۔ قرآن کی رو سے عبادت کا مفہوم دوسرے انسانوں کی عبادت،[6] ہوائے نفس کی عبادت،[7] شیطان کی عبادت،[8] بتوں کی عبادت[9] اور اللہ کی عبادت[10] کو شامل ہوتی ہے۔

علم فقہ میں عبادت کا مفہوم، قرآن کے عام استعمال سے ذرا الگ ہے اور فقہ میں عبادت سے مراد صرف وہ اعمال و مناسک ہیں جو قصد قربت کی شرط کے ساتھ انجام دئے جاتے ہیں اور ان کو احکام تعبدی کہا جاتا ہے۔[11]

عرف عام میں عبادت کا مفہوم اس کے بعض مصادیق جیسے نماز، روزہ، حج، دعا و تسبیح خدا کے ضمن میں سمجھا جاتا ہے اور یہ قرآنی اور فقہی مفہوم سے بہت محدود ہے۔[12]

فلسفہ عبادت

اللہ کی عبادت کے اسباب کے طور پر چند چیزیں بیان کی گئی ہیں۔ تخلیق کائنات کا مقصد، یاد و ذکر خدا، انسان کی عاجزی اور خدا سے نیاز مندی وغیرہ کو عبادت کی بنیاد بتایا گیا ہے۔

  • تخلیق کائنات کا مقصد: قرآن کی بعض آیات کی بنیاد پر[13] جن و انس کی تخلیق کا مقصد، اللہ کے عبادت ہے۔ اسی وجہ سے جب انسان اس مقصد سے منحرف ہوجاتا ہے تو خدا انبیاء کو مبعوث کرتا ہے تاکہ انسان کو طاغوت کی عبادت سے نجات دے کر اسے اپنے حقیقی مقصد کی طرف پلٹا دے۔[14] شہید مطہری نے عبادت و پرستش خدا کو ایسے امور میں شمار کیا ہے جو انسان کی فطرت میں موجود ہیں اور اس کی سرشت سے جڑے ہوئے ہیں؛ لیکن وہ کبھی کبھی اس ڈگر سے ہٹ جاتا ہے اور بت اور انسان جیسی چیزوں کی پرستش کرنے لگتا ہے۔[15] حضرت علی علیہ السلام نے انبیاء کی بعثت کا مقصد انسانوں کو بتوں کی پرستش سے نکال کر اللہ کی عبادت کی طرف لے جانا بیان کیا ہے۔[16]
  • یاد و ذکر خدا: اللہ کی یاد میں ہونے کو عبادت کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔[17] شہید مطہری کے بقول عبادات کی تشریع کا اصلی فلسفہ، یاد و ذکر خدا ہے جس کے نتیجہ میں اپنی فکر ہوتی ہے اور انسان اپنے آپ کو پا لیتا ہے اور ان دونوں کی وجہ سے روشنی اور ایک خاص طاقت حاصل ہوتی ہے۔[18] سورہ طہ کی 14 ویں آیت میں عبادت کی اصلی علامت یعنی نماز کی غرض و غایت کو ذکر و یاد خدا قرار دیا گیا ہے۔[19]
  • اپنی ناتوانی اور خدا سے نیاز مندی کا احساس : کہا گیا ہے کہ انسان کی فطرت ایسی ہے کہ جب اپنے آپ کو کسی کے سامنے وابستہ اور نیاز مند دیکھے تو اس کے سامنے خاضع ہوجاتا ہے۔ ہمارا وجود اللہ سے وابستہ ہے اور ہر چیز میں ہم اسی کے محتاج ہیں۔ یہ عاجزی اور نیاز مندی کا احساس ہمیں اس کی عبادت کرنے پر مائل کرتا ہے۔[20]

عبادت کی قسمیں

عبادت کی دو قسمیں کی گئی ہیں ایک تسخیری اور دوسرے اختیاری۔

عبادت تسخیری

عبادت غیر اختیاری اس عبادت کو کہا جاتا ہے جس میں عابد کو کوئی اختیار نہیں ہوتا ہے اور وہ صرف فرمانبردار ہوتا ہے۔ عبادت تسخیری، کائنات کے ہر اس وجود کے ذریعہ انجام پاتی ہے جو صاحب ارادہ نہیں ہے۔[21] قرآن کی کچھ آیات میں اس قسم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[22] علامہ طباطبائی نے اس عبادت کو عبادت عامہ کہا ہے۔[23]

عبادت اختیاری

عبادت اختیاری وہ عبادت ہے جسے جنات اور انسان کی طرح کی صاحب ارادہ مخلوق اپنے اختیار و انتخاب کے تحت انجام دیتی ہے۔[24] اس عبادت کو عبادت خاصہ بھی کہا گیا ہے۔[25] کچھ آیتوں میں اس عبادت کی طرف اشارہ ہوا ہے۔[26]

حضرت علی علیہ السلام کی ایک حدیث کی بنیاد پر عبادت کی ایک اور تقسیم بھی کی گئی ہے۔[27][یادداشت 1] اس حدیث کی رو سے عبادت کی تین قسمیں ہیں: تاجروں کی عبادت، غلاموں کی عبادت اور آزاد لوگوں کی عبادت۔ جب بھی خدا کی عبادت جنت حاصل کرنے اور اجر و ثواب کے لئے کی جائے تو یہ تاجروں کی عبادت ہوگی اور اگر عذاب کے خوف سے عبادت ہو تو یہ غلاموں کی عبادت ہے۔ جو لوگ اللہ کو شائستہ عبادت سمجھتے ہیں اور شکر کے لیے عبادت کرتے ہیں تو اسے آزاد لوگوں کی عبادت کہا جاتا ہے اور یہ سب سے افضل عبادت ہے۔

علامہ اقبال نے اپنے ایک شعر میں تاجرانہ عبادت نہ کرنے کی تلقین کی ہے :

سودا گری نہیں یہ عبادت خدا کی ہےاے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے [28]

آثار عبادت

قرآن اور روایات میں عبادت کے بہت سے آثار بیان کئے گئے ہیں۔ جیسے: گناہوں کی مغفرت،[29] سکون و اطمینان،[30] وسعت رزق،[31] دین میں ثابت قدمی،[32] امامت[33]، تقرب الہی،[34] تقوائے الہی،[35] اللہ کی رحمت اور رضامندی کا حصول،[36] شکر،[37] عزت،[38] طاقت،[39] گناہ سے حفاظت،[40] ہدایت الہی،[41] ابرار اور نیک لوگوں کی ہمنشینی [42] نیز یقین[43]

عبادت کے آداب اور شرائط

عبادت کے اعمال کو بہتر طریقے سے انجام دینے کے لیے کچھ آداب اور شرائط رکھے گئے ہیں جیسے خلوص، میانہ روی، عالمانہ طریقے سے عبادت کرنا، عبادت میں صبر کرنا، خشوع و خضوع، طہارت اور عبادت کا موقع محل۔

  • خلوص: عبادت کی قبولیت کو ایک عبادت کرنے والے کے اندر موجود خلوص کے درجے سے مربوط مانا گیا ہے۔ علامہ طباطبائی کی نظر میں خلوص کا مطلب یہ ہے کہ عبادت میں غیر خدا کو ذہن و دل میں نہ لائے اور اپنے عمل میں کسی کو شریک قرار نہ دے۔ آپ کی نظر میں عبادت اس وقت خالصانہ ہوگی جس وقت نہ تو دل میں کسی جزا کا لالچ ہو اور نہ کسی سزا کا خوف ہو۔[44] عبادت کے خالصانہ ہونے کا مسئلہ ایسا ہے کہ جس کا قرآن کی پچاس آیتوں میں تذکرہ ہوا ہے۔[45] جوامع روائی میں بھی خلوص کو عبادت کی شرط قرار دیا گیا ہے اور ایسے شخص سے دوری اختیار کرنے کے لیے کہا گیا ہے جو عبادت کے ذریعہ سے شہرت تک پہنچنا چاہتا ہو۔[46]
  • میانہ روی: عبادت کے انجام دینے کے آداب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس میں اعتدال اور میانہ روی کا خیال رکھا جانا چاہئے۔ مفسرین نے سورہ اسراء کی 110 ویں آیت «وَابْتَغِ بَینَ ذَٰلِک سَبِیلًا»[؟؟] سے استناد کیا ہے جس میں نماز کو جہر اور اخفات کے درمیان کی حالت میں پڑھنے کے لئے تاکید کی گئی ہے۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت ہمارے تمام اعمال کے لئے نمونہ ہے اور تمام مسائل میں میانہ روی سے کام لینا چاہیے خصوصاً عبادت میں۔[47] روایات میں بھی عبادت کے اندر میانہ روی پر تاکید کرنے کے لئے بہت سی داستانیں بیان کی گئی ہیں؛[48] ان روایات میں دین اسلام کو دین اعتدال و میانہ روی کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے جس کے مطابق ہر مسلمان کی پوری زندگی اسی پر استوار ہونا چاہئے، روایات کے مطابق عبادت میں میانہ روی کا ایک اثر یہ ہے کہ عبادت کا شوق ہوتا ہے اور اس سے خستگی نہیں ہوتی؛[49] سورہ نسا کی 142 ویں آیت میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ ایک روایت میں بندگان خدا کے اوپر ایسی عبادت تھوپنے سے روکتے ہیں جن کے لئے ان کا دل نہ چاہ رہا ہو۔ اور آپ نے اس کی مثال ایسے درماندہ سوار کی طرح بتائی ہے جس نے نہ کوئی سفر کیا ہے اور نہ ہی کوئی سواری چھوڑی ہے۔[50] حضرت علی علیہ السلام نے بھی نہج البلاغہ میں فرمایا ہے کہ اگر واجبات کو نقصان پہنچ رہا ہو تو مستحبات کو ترک کردینا چاہئے۔
  • عالمانہ طریقے سے عبادت کرنا: علم و آگاہی کے ساتھ اور تفکر کے ہمراہ عبادت کو انجام دینا عبادت کے کمال اور قبولیت کی شرط ہے۔[51] قرآن میں ایسی عبادت و نماز سے روکا گیا ہے جس میں انسان ہوشیاری اور آگاہی کی حالت نہ رکھتا ہو۔[52] روایات میں جاہل انسان کی عبادت کو کولھو کے بیل (حمار الطاحونۃ) سے تشبیہ دی گئی ہے اور عالم کی دو رکعت نماز کو جاہل کی ستر رکعت سے افضل بتایا گیا ہے؛[53] ان متون میں عبادت کے نتیجہ مثلا گناہوں کی مغفرت کو علم و تفکر کے ساتھ عبادت کرنے سے مشروط کیا گیا ہے۔[54]
  • عبادت میں صبر کرنا: عبادت انجام دینے کی ایک شرط یہ ہے کہ اس کو راہ اطاعت میں صبر و تحمل کے ساتھ انجام دیا جائے۔ سورہ مریم کی 65 ویں آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے مخاطب ہوکر عبادت میں صبر و تحمل سے کام لینے کی سفارش ہوئی ہے۔ روایات میں بھی صبر کی ایک قسم کو عبادت میں صبر قرار دیا گیا ہے۔[55]
  • خشوع و خضوع: عبادت کے آداب و شرائط میں سے ایک اور یہ ہے کہ عبادت انجام دیتے وقت، خضوع و خشوع کی باطنی حالت پیدا ہو۔ خشوع عبادت یعنی عظمت الہی کے سامنے انتہائی زیادہ گر جانا اور چھوٹا ہو جانا اور عبادت کی قدر و قیمت اس کے خاضعانہ اور خاشعانہ ہونے سے مربوط ہے۔[56] قرآن کریم نے مؤمنین کی صفت کو حالت خشوع میں نماز پڑھنا بیان کیا ہے۔[57]اور روایات کی رو سے بندہ کی عبادت اس وقت عبادت کہلانے کے قابل ہوسکتی ہے جب اس میں خشوع وخضوع پایا جاتا ہو۔[58] قرآن کریم کے اندر ذکر خدا کے مقابل میں قساوت قلب کو خشوع وخضوع کی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔[59]
  • طہارت: بہت سے عبادی اعمال کو انجام دینے کے لئے طہارت کی شرط رکھی گئی ہے۔ سورہ نساء کی 43 ویں آیت میں طہارت کی حالت میں نماز پڑھنے کو جائز شمار کیا گیا ہے اور دوسری آیتوں میں عبادت کے مقامات اور مسجد کی طہارت کو امور مذہبی کے منتظمین کا فرض بتایا گیا ہے۔[60]
  • عبادت کا موقع محل: بھی عبادت کی تاثیر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کی سیرت اور روایات میں آیا ہے کہ وہ اپنی عبادت کے لئے ایک خاص جگہ مہیا کرتے تھے اور دن رات میں سے ایک خاص وقت کو نماز و دعا کے لئے قرار دیتے تھے۔[61]

عبادت کا مظہر اور مصداق

دینی کتابوں میں عبادت و بندگی کے طریقوں کو صرف بعض خاص اعمال جیسے نماز، روزہ اور حج وغیرہ میں محدود نہیں سمجھا گیا ہے بلکہ آیات و روایات میں عبادت کے اور بھی مظاہر اور مصادیق بیان ہوئے ہیں۔ ان متون میں اعمال عبادی کے علاوہ دوسرے کام جیسے دعا، تفکر، انتظار فرج[62]اور حلال روزی کا حصول بھی اللہ کی عبادت کے طور پر ذکر ہوئے ہیں۔

  • اعمال عبادی: اعمال عبادت جیسے نماز، روزہ، حج وغیرہ کو اللہ کی عبادت کا مظہر شمار کیا گیا ہے۔ دینی متون میں خاص طور سے نماز کو ستون دین کے عنوان سے،[63] عبادت سے کا اہم ترین مصداق بتایا گیا ہے۔[64]
  • دعا: اللہ کے حضور دعا و مناجات، عبادت کے مظاہر میں سے ایک ہے۔ یہ حکم آیات[65] و روایات اور سیرہ اہل بیت علیہم السلام میں ایک خاص مقام رکھتا ہے، اس حد تک کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کی ایک روایت میں دعا کو عبادت کی بنیاد[66] اور حضرت علی علیہ السلام نے اس کو اللہ کے نزدیک محبوب ترین عمل[67] شمار کیا ہے۔
  • رزق حلال کا حصول: روایات میں حلال روزی حاصل کرنے اور گھر والوں کی ضرورتیں پوری کرنے کو عبادت کے با فضیلت اجزاء[68] کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔
  • تفکر: روایات میں قدرت و امر خدا کے سلسلہ میں تفکر یا ایک لمحہ کے تفکر و تعقل کو بالا ترین عبادت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے؛ کیونکہ اس طرح کا تفکر انسان کو نیکی، اچھائی اور ان پر عمل کرنے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔[69]

راہ عبادت کی رکاوٹیں

عبادی اعمال انجام دینے کی راہ میں کبھی کچھ رکاوٹیں بھی آجاتی ہیں۔ ان رکاوٹوں میں منجملہ تفاخر، تکبر، جہل، دنیا پرستی و حرام خوری کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔

سورہ نساء کی 26 ویں آیت میں تکبر و تفاخر کو عبادت سے روکنے والے دو عناصر بتایا گیا ہے دوسری آیتوں میں تکبر سے دوری کو عبادت خدا تک پہنچنے کی شرط قرار دیا گیا ہے۔[70] سورہ زمر کی 64 ویں آیت میں بھی جہالت اور نادانی کو غیر خدا کی عبادت کا سبب قرار دیا ہے۔

حضرت علیؑ کے ایک فرمان میں دنیا سے وابستگی اور اس میں زیادہ مشغول رہنے کو خدا کی عبادت کی اصلی رکاوٹ شمار کیا گیا ہے اور دنیا پرستی سے دوری کو انسان کے کمال تک پہنچنے کا وسیلہ قرار دیا گیا ہے۔[71] قرآن میں بھی مال و اولاد کی محبت میں یاد خدا سے غفلت کرنے سے مومنین کو خبردار کیا گیا ہے۔[72]

حرام خوری کو بھی عبادت کی راہ کے بڑے پتھر کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ نے مال حرام کے ساتھ عبادت کرنے کو ریت پر گھر بنانے کی طرح بیان فرمایا ہے۔[73]

عبادت گزار لوگ

قرآن، روایات اور کتب تاریخی میں کچھ شخصیتیں عبادت گزار کے عنوان سے مشہور و معروف ہوگئی ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام،[74] اسحاق علیہ السلام،[75] اصحاب کہف،[76] الیاس علیہ السلام،[77] ایوب علیہ السلام،[78] حبیب نجار،[79] زکریا علیہ السلام،[80] سلیمان علیہ السلام،[81] عیسی علیہ السلام،[82] اصحاب صفہ،[83] نوح علیہ السلام،[84] محمد صلی اللہ علیہ وآلہ،[85] مریم مقدس،[86] موسی و ہارون علیہ السلام،[87] یعقوب علیہ السلام[88] و یوسف علیہ السلام[89] ایسی شخصیتیں ہیں جنہیں قرآن نے عبادت گزار کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔

کتاب مقدس اور عہد عتیق میں عبادت کی اہمیت

وجود انسان کے اندر ایک فطری ضرورت کے عنوان سے عبادت کو انسانی فرائض میں سرفہرست قرار دےکر تمام ادیان اور تمام آسمانی کتابوں میں اہمیت دی گئی ہے[90] لفظ عبادت (worship) کتاب مقدس میں ان تمام اعمال و افعال کو شامل ہوتا ہے جو اللہ کی رضا مندی کے لئے انجام دیے جاتے ہیں[91] عہد عتیق میں عبادت کا تذکرہ، خدمت کے عنوان سے ہوا ہے اور اللہ کے سامنے ہمارے فرائض کی طرف اشارہ کرتا ہے۔[92] عہد عتیق کی اچھی خاصی آیتوں میں لفظ عبادت کا استعمال ہوا ہے۔ دس فرمانوں میں سے دوسرے فرمان میں اللہ نے اپنے بندوں کو اپنی عبادت اور پرستش کی دعوت دی ہے اور غیر خدا کی پرستش سے روکا ہے۔[93]

عہد عتیق میں عبادت کی بہت اہمیت ہے اس طرح سے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو اپنی نعمتوں سے نوازنے کے لئے عبادت کرنے کی شرط عائد کی ہے؛[94] یہ وہ مسئلہ ہے جس کی طرف قرآن میں بھی اشارہ کیا گیا ہے۔[95] عہد عتیق میں عبادت کچھ اعمال جیسے قربانی، صدقہ، روزہ وغیرہ میں محدود نہیں ہے بلکہ زندگی کے بہت سے شعبوں کو شامل ہوتی تھی اور ہر وہ کام جسے انسان اللہ کی رضا مندی کے لئے انجام دیتا تھا وہ عبادت ہوتی تھی جیسے جنگ، تفکر، دعا وغیرہ۔[96]

نوٹ

  1. َ قَالَ علیه السلام إِنَّ قَوْماً عَبَدُوا اللَّہ رَغْبَةً فَتِلْكَ عِبَادَةُ التُّجَّارِ وَ إِنَّ قَوْماً عَبَدُوا اللَّہ رَہبَةً فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْعَبِيدِ وَ إِنَّ قَوْماً عَبَدُوا اللَّہ شُكْراً فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْأَحْرَار: ایک گروہ نے ثواب حاصل کرنے کے لئے اللہ کی عبادت کی تو یہ تاجروں کی عبادت ہے۔ دوسرے گروہ نے خوف کی وجہ سے اس کی عبادت کی تو یہ غلاموں کی عبادت ہے۔ تیسرے گروہ نے شکر کے لئے اس کی عبادت کی تو یہ آزاد لوگوں کے عبادت ہے۔

حوالہ جات

  1. ابن منظور، لسان العرب، ۱۴۱۴ھ، لفظ عبد کے ذیل میں؛ راغب اصفہانی،‌ مفردات الفاظ قرآن، ۱۴۱۲ھ، لفظ عبد کے ذیل میں۔
  2. سورہ فاطر، آیہ ۳۵۔
  3. مطہری، مجموعہ آثار، ۱۳۹۰ش، ج۲۱، ص۱۹۵-۱۹۶۔
  4. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ھ، ج۱۸، ص۳۸۸۔
  5. مطہری، یادداشت‌ہای استاد مطہری، ۱۳۹۱ش، ج۶، ص۱۶۰۔
  6. سورہ توبہ، آیہ ۳۱؛ سورہ یونس، آیہ ۲۸-۲۹۔
  7. سورہ طہ، آیہ۴۳۔
  8. سورہ مریم، آیہ ۴۴۔
  9. سورہ عنکبوت، آیہ ۱۷ و ۲۵۔
  10. سورہ زمر، آیہ ۱۱؛ سورہ اسراء، آیہ۲۳؛ سورہ ہود، آیہ۲۔
  11. میرزای قمی، جامع الشتات، ۱۴۱۳ھ، ج۱، ص۱۷۶؛ مشکینی، مصطلحات الفقہ، قم، ص۲۰۔
  12. کورانی، فلسفۃ الصلاۃ، ۱۹۸۹م، ص۹۔
  13. سورہ ذاریات، آیہ ۵۶۔
  14. سورہ نحل، آیہ۳۶۔
  15. مطہری، آزادی معنوی، ۱۳۷۸ش، ص۱۰۹۔
  16. نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، خطبہ ۱۴۷، ص۲۰۴۔
  17. دیکھئے: مطہری، «فلسفہ عبادت»، ص۱۳-۱۷۔
  18. دیکھئے: مطہری، «فلسفہ عبادت»، ص۱۳۔
  19. دیکھئے: مطہری، «فلسفہ عبادت»، ص۱۴-۶۷۔
  20. قرائتی، پرتویی از اسرار نماز، ۱۳۸۶ش، ص۲۰۔
  21. راغب اصفہانی، مفردات الفاظ قرآن، ۱۴۱۲ھ، ۳۹۶-۳۹۷ و۵۴۲۔
  22. سورہ اسراء، آیہ ۴۴؛ سورہ نحل، آیہ ۴۹؛ سورہ جمعہ، آیہ ۱۔
  23. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ھ، ج۱، ص۴۱۵۔
  24. راغب اصفہانی، مفردات الفاظ قرآن، ۱۴۱۲ھ، ص۵۴۲۔
  25. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ھ، ج۱، ص۴۱۵۔
  26. سورہ بقرہ، آیہ ۲۱؛ سورہ نساء، آیہ ۳۶۔
  27. نہج‌البلاغہ، صبحی صالح، حکمت ۲۳۴، ص۵۱۰۔
  28. [ ریختہ سائٹ
  29. سورہ نوح، آیہ ۳-۴۔
  30. سورہ سجدہ، آیہ ۱۶-۱۷؛ سورہ رعد، آیہ ۲۸
  31. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۴، ص۲۵۲؛ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۶۸، ص۱۸۴۔
  32. سورہ بینہ، آیہ ۵۔
  33. سورہ انبیاء، آیہ۔۷۳
  34. سورہ زمر،‌ آیہ۲-۳؛ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۶۷، ص۱۶۔
  35. سورہ بقرہ، آیہ۲۱۔
  36. سورہ فتح، آیہ ۲۹۔
  37. سورہ بقرہ، آیہ ۱۷۲؛ سورہ نحل، آیہ ۱۱۴؛ سورہ زمر، آیہ۶۶؛ سورہ عنکبوت، آیہ۱۷۔
  38. سورہ مریم، آیہ۸۱-۸۱۔
  39. سورہ ہود، آیہ۵۰-۵۲؛ کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۲، ص۴۶۸۔
  40. سورہ یوسف، آیہ ۲۱؛ سورہ اسراء، آیہ۶۴-۶۵؛ سورہ عنکبوت، آیہ ۴۵؛ ابن اشعث، الجعفریات، تہران، ص۶۶۔
  41. سورہ نحل، آیہ۳۶؛ سورہ زخرف، آیہ۲۶-۲۷۔
  42. سورہ کہف، آیہ ۲۸۔
  43. سورہ حجر، آیہ۹۸-۹۹
  44. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ھ، ج۱، ص۲۶۔
  45. مرکز فرہنگ و معارف قرآن، برگزیدہ فرہنگ قرآن، ۱۳۸۸ش، ج۳، ص۲۵۶۔
  46. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۶۷، ۲۵۶۔
  47. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ھ، ج۱۳، ص۲۲۵؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۱۲، ص۳۲۹؛ سیوطی، الدرالمنثور، ۱۴۰۴ھ، ج۴، ص۲۰۶-۲۰۸؛ فخر رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰، ج۲۱، ص۴۱۹-۴۲۰۔
  48. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۲، ص۴۳۔
  49. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۶۸، ص۲۱۳۔
  50. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۲، ص۸۶۔
  51. فیض کاشانی، محجۃ البیضاء، ۱۳۸۳ھ، ج۱، ص۳۶۶۔
  52. سورہ نساء، آیہ ۴۳۔
  53. مفید، الاختصاص، ۱۴۱۳ھ، ۲۴۵۔
  54. کلینی،‌ الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۳، ص۲۶۶۔
  55. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۲، ص۹۱۔
  56. خمینی، آداب الصلاۃ، ۱۳۷۸ش، ص۱۷۔
  57. سورہ مؤمنون، آیہ ۲۔
  58. مجلسی،‌ بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۸۱، ص۲۳۰۔
  59. سورہ حدید، آیہ ۱۶۔
  60. سورہ بقرہ، آیہ ۱۲۵؛ سورہ حج، آیہ ۲۶۔
  61. برقی، محاسن، ۱۳۷۱ھ، ج۲، ص۶۱۲۔
  62. طوسی، الامالی، ۱۴۱۴ھ، ص۴۰۵۔
  63. برقی، المحاسن، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۴۴
  64. سورہ عنکبوت، آیہ ۴۵۔
  65. سورہ بقرہ، آیہ ۱۸۶؛ سورہ غافر، آیہ ۶۰۔
  66. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۹۳، ص۳۰۰۔
  67. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۲، ص۴۶۸۔
  68. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۵، ص۷۸۔
  69. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۲، ص۵۵۔
  70. سورہ اعراف، آیہ ۲۰۶؛ سورہ غافر، آیہ ۶؛ سورہ سجدہ، آیہ ۱۵۔
  71. نہج‌البلاغہ (صبحی صالح)، ۱۴۱۴ھ، حکمت۳۹۱، ص۵۴۵۔
  72. سورہ منافقون، آیہ۹۔
  73. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۸۱، ص۲۵۸۔
  74. سورہ ابراہیم، آیہ۳۵، ۴۰؛ سورہ صافات، آیہ ۱۰۹۔
  75. سورہ انبیاء، آیہ ۷۲-۷۳۔
  76. سورہ کہف، آیہ ۹، ۱۴۔
  77. سورہ صافات، آیہ۱۳۲۔
  78. سورہ انبیاء، آیہ ۸۳-۸۴۔
  79. سورہ یس، آیہ ۲۰-۲۱۔
  80. سورہ آل عمران، آیہ۳۸، ۴۱۔
  81. سورہ سبأ، آیہ۱۲-۱۳۔
  82. سورہ نساء،‌ آیہ۱۷۲۔
  83. سورہ انعام، آیہ۵۲۔
  84. سورہ صافات، آیہ۸۱۔
  85. سورہ فتح، آیہ ۲۹۔
  86. سورہ آل عمران، آیہ۴۳۔
  87. سورہ اعراف، ۱۴۲؛ سورہ صافات، آیہ ۱۲۲۔
  88. سورہ بقرہ، آیہ۱۲۳؛ سورہ انبیاء، آیہ۷۲۔
  89. سورہ یوسف، آیہ ۲۴۔
  90. شیاسی ارانی، جایگاہ عبادت در قرآن و عہد عتیق، ۱۳۹۱ش۔
  91. محمدیان، دائرۃ المعارف کتاب مقدس، ۱۳۸۳ش، ص۴۱۴۔
  92. ماسون، قرآن و کتاب مقدس، ۱۳۸۵ش، ج۲، ص۵۹۷۔
  93. (تثنیہ، ۵: ۷-۹)
  94. شیاسی ارانی، جایگاہ عبادت در قرآن و عہد عتیق، ۱۳۹۱ش۔
  95. سورہ بقرہ، آیہ ۸۳۔
  96. شیاسی ارانی، جایگاہ عبادت در قرآن و عہد عتیق، ص۳۰۔

مآخذ

  • قرآن کریم
  • نہج‌البلاغہ (صبحی صالح)، مصحح فیض الإسلام، قم، ہجرت، ۱۴۱۴ھ۔
  • ابن اشعث، محمد بن محمد، الجعفریات، تہران، مکتبۃ النینوی الحدیثۃ، بی‌تا۔
  • ابن منظور، ابوالفضل، لسان العرب، بیروت، دارالفکر -‌دار الصادر، ۱۴۱۴ھ۔
  • برقی، احمد بن محمد، المحاسن، مصحح جلال الدین محدث، قم،‌ دار الکتب الإسلامیۃ، ۱۳۷۱ش۔
  • دہخدا، علی‌اکبر، لغت نامہ، تہران، انتشارات دانشگاہ تہران، ۱۳۷۷ش۔
  • خمینی، روح‌اللہ، آداب الصلاۃ، تہران، موسسہ نشر تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ۱۳۷۸ش۔
  • راغب اصفہانی، حسین، مفردات فی الفاظ القران، بیروت - شام،‌ دار العلم- الدار الشامیۃ‌، ۱۴۱۲ھ۔
  • سیوطی، جلال الدین، الدر المنثور فی تفسیر المأثور، قم، کتابخانہ آیۃاللہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ھ۔
  • شیاسی ارانی، سکینہ، احمدرضا مفتاح، «جایگاہ عبادت در قرآن و عہد عتیق»، مجلہ معرفت ادیان، شمارہ ۱۳، ۱۳۹۱ش۔
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، ۱۳۹۰ھ۔
  • ابن أبی جمہور، محمد بن زین الدین، عوالی اللئالی العزیزیۃ فی الأحادیث الدینیۃ، مصحح مجتبی عراقی، قم،‌ دار سید الشہداء للنشر، ۱۴۰۵ھ۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت،‌دار احیاء التراث العربی، ۱۴۲۰ھ۔
  • فیض کاشانی، محسن، محجۃ البیضاء فی تہذیب الاحیاء، قم، جامعہ مدرسین، ۱۳۸۳ھ۔
  • قرائتی، محسن، پرتویی از اسرار نماز، تہران، مرکز فرہنگی درسہایی از نماز، چاپ ہفدہم، ۱۳۸۶ش۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران،‌دار الکتب الإسلامیۃ، ۱۴۰۷ھ۔
  • کورانی، علی، فلسفۃ الصلاۃ، بیروت،‌دار احیاء التراث العربی، ۱۹۸۹ء۔
  • ماسون، دنیز، قرآن و کتاب مقدس درون‌مایہ‌ہای مشترک، ترجمۃ فاطمہ سادات تہامی، تہران، دفتر پژوہش و نشر سہروردی، ۱۳۸۵ش۔
  • محمدیان، بہران، دائرۃ المعارف کتاب مقدس، تہران، سرخدار، ۱۳۸۱ش۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت،‌ دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ھ۔
  • مرکز فرہنگ و معارف قرآن، برگزیدہ فرہنگ قرآن، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۸ش۔
  • مشکینی، میرزا علی، مصطلحات الفقہ، قم، نشر الہادی، ۱۳۷۷ش۔
  • مطہری، مرتضی، «فلسفہ عبادت»، فصلنامہ تماشاگہ راز، شمارہ ۲، تابستان ۱۳۹۱ش۔
  • مطہری، مرتضی، مجموعہ آثار، تہران، صدرا، ۱۳۹۰ش۔
  • مطہری، مرتضی، یادداشت‌ہا، تہران، صدرا، ۱۳۹۱ش۔
  • مفید، محمد بن محمد، الاختصاص، مصحح علی اکبر غفاری و محمود محرمی زرندی، قم، الموتمر العالمی لالفیۃ الشیخ المفید، ۱۴۱۳ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران،‌ دار الکتب الإسلامیۃ، ۱۳۷۴ش۔
  • میرزای قمی، ابوالقاسم، جامع الشتات، تہران، موسسہ کیہان، ۱۴۱۳ھ۔