حضرت علی اور حضرت فاطمہ کی شادی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہؑ کی شادی ہجرت کے دوسرے سال ذی الحج کی پہلی تاریخ کو ہوئی جبکہ آپ دونوں کے درمیان نکاح کے صیغے پیغمبر اکرمؐ نے پہلے ہی جاری کر دیے تھے۔ بعض محققین کے مطابق عقد کے دس مہینے بعد رخصتی ہوئی تھی۔ حدیثی کتابوں کے مطابق حضرت علیؑ سے پہلے مہاجرین اور انصار میں سے کئی شخصیات نے پیغمبر اکرمؐ سے حضرت فاطمہؑ کا رشتہ مانگا تھا لیکن پیغمبر اکرمؐ نے ان رشتوں کی مخالفت فرمائی۔

حضرت زہراؑ کے مہریے کے بارے میں مختلف اعداد و شمار منقول ہیں۔ 400 سے 500 درہم کے درمیان آپ کا مہریہ تھا جو شیعوں کے ہاں مہر السنہ کے نام سے معروف ہے۔ احادیث کے مطابق امام علیؑ نے اپنی زرہ بیچ کر حضرت زہراؑ کا مہریہ ادا کیا۔ آپ دونوں کی شادی کی مناسبت سے پغمبر خداؐ نے مدینہ کے لوگوں کو ولیمہ دیا۔

رخصتی کے وقت پیغمبر اکرمؐ نے حضرت فاطمہؑ کا ہاتھ امام علیؑ کے ہاتھوں میں دیتے ہوئے دعا فرمائی: خدایا ان کے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کی نزدیک اور ان کی نسل کو مبارک قرار دے۔

خواستگار

شیعہ اور سنی کے مصادر میں حضرت فاطمہؑ کا رشتہ مانگنے کے بارے میں مختلف قول نقل ہوئے ہیں. کہا گیا ہے کہ مدینہ میں کچھ صحابہ جیسے ابوبکر، عمربن خطاب اور عبدالرحمن بن عوف حضرت فاطمہؑ کا ہاتھ مانگنے کے لئے آئے لیکن پیغمبرؐ نے جواب میں فرمایا: آپؑ کی شادی کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے؛ اور فرمایا: میں خود اس بارے میں حکم خدا کا منتظر ہوں.[1] بعض مہاجرین نے حضرت علیؑ سے کہا: کہ آپ حضرت فاطمہؑ کا رشتہ کیوں نہیں مانگتے؟ آپؑ نے جواب دیا: ۔خدا کی قسم! میرے پاس کچھ نہیں ہے. تو مہاجرین نے کہا کہ پیغمبرؐ آپ سے کچھ نہیں مانگیں گے. آخر کار علیؑ رسول خداؐ کے پاس گئے لیکن شرم کی وجہ سے اس بارے میں کوئی درخواست نہ کی. تیسری بار آخر آپؑ نے اس بارے میں حضرت پیغمبرؐ سے بات کی. پیغمبرؐ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ علیؑ نے فرمایا: یا رسول اللہؐ! ایک زرہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے. حضرت پیغمبرؐ نے حضرت فاطمہؑ کا ساڑھے بارہ اوقیہ سونا حق مہر رکھنے کے بعد حضرت علیؑ کے ساتھ شادی کر دی اور زرہ بھی حضرت علیؑ کو واپس لوٹا دی.[2] کہا گیا ہے کہ بعض مہاجرین نے اس بات پر شکوہ کیا تو حضرت پیغمبرؐ نے فرمایا: فاطمہ کا ہاتھ علی کے ہاتھ میں، میں نے نہیں دیا بلکہ خدا نے دیا ہے. [3]

خطبہ نکاح

ابن شہر آشوب نے مناقب آل ابی طالب میں لکھا ہے کہ حضرت فاطمہؑ کی شادی کے وقت حضرت منبر پر گئے اور یہ خطبہ ارشاد فرمایا:

خداوند نے مجھے حکم دیا ہے کہ فاطمہؑ کا نکاح علیؑ کے ساتھ کروں اور اگر علی راضی ہو تو چار سو مثقال چاندی حق مہر کے طور پر میں فاطمہ ؑ کا نکاح علیؑ کے ساتھ کر دوں. علیؑ نے فرمایا میں اس کام پر راضی ہوں. [4]

بعض روایات کے مطابق حضرت فاطمہ کی موجودگی میں خدا نے حضرت علی کیلئے دوسری شادی حرام قرار دی تھی اسی لئے حضرت فاطمہ کی زندگی میں آپ نے دوسری شادی نہیں کی۔[5]

شادی کی تاریخ

  • کلینی نے کافی میں امام سجادؑ سے قول نقل کیا ہے کہ ہجرت مدینہ کے ایک سال بعد رسول اللہؐ نے حضرت فاطمہؑ کی شادی حضرت علیؑ کے ساتھ کر دی.[6] یہ قول امام باقرؑ کے اس قول کے موافق ہے جسے طبرئ نے نقل کیا ہے۔ اس میں مذکور ہے کہ ہجری کے دوسرے سال صفر کا مہینہ شروع ہونے میں کچھ دن باقی تھے تو اس وقت علیؑ نے حضرت فاطمہؑ سے شادی کی.[7]
ابوالفرج اصفہانی نے مقاتل الطالبیین میں طبری کا یہی قول لکھا اور اس کے بعد کہا کہ: .. جنگ بدر سے واپسی پر علیؑ نے فاطمہؑ سے شادی کی. [8]

حق مہر اور جہیز

تاریخی مآخذوں کے مطابق حضرت زہراءؑ کا حق مہر ٤٠٠ سے ٥٠٠ درہم کے درمیان تھا.[15] امام رضاؑ کی حدیث کے مطابق حق مہر کی سنت، کہ جو مہرالسنہ سے مشہور ہے، وہ ٥٠٠ درہم معین ہوا تھا. [16] ٥٠٠ درہم تقریباً ١٢٥٠ [17] سے ١٥٠٠ گرام [18]چاندی ہے اور اس زمانے میں ہر دس درہم چاندی ایک دینار سونے کے برابر تھی، اور مہرالسنہ(حق مہر) تقریباً ١٧٠تا٢٢٣ گرام سونا بنتا ہے. [19] یہ مقداربھی درہم اور دینار کے وزن مختلف ہونے کی وجہ سے، مختلف ہے. [20] امام علیؑ نے حق مہر کی ادائیگی کے لئے زرہ، بھیڑ کا چمڑا، یمنی کرتا یا اونٹ ان میں سے کوئی ایک چیز فروخت کی تھی. جب رقم پیغمبرؐ کو دی تو آپؐ نے اس رقم کو گنے بغیر کچھ رقم بلال کو دی اور فرمایا: اس رقم سے میری بیٹی کے لئے اچھی خوشبو خرید کر لے آؤ! اور باقی بچی رقم ابوبکر کو دی اور فرمایا: اس سے کچھ گھر کی اشیاء جن کی ضرورت میری بیٹی کو ہو گی وہ تیار کرو. پیغمبرؐ نے عمار یاسر اور کچھ اور صحابہ کو بھی ابوبکر کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ حضرت زہراءؑ کے جہیز کے لئے کچھ اشیاء تیار کریں.

جہیز

شیخ طوسی نے جہیز کی فہرست یوں لکھی ہے:

  • ایک قمیض جس کی قیمت ٧ درہم تھی
  • برقعہ ٤ درہم میں
  • خیبر کی تیار کردہ عبا
  • کجھور کے پتوں سے بنی چارپائی
  • دو بچھونے جن کی بیرونی کپڑا موٹی کتان کا تھا ایک کجھور کی اون سے اور دوسرا بھیڑ کی اون سے بھرا ہوا تھا
  • طائف کے تیار کردہ چمڑے کے چار تکیے جنہیں اذخر (مکی گھاس، بوریا (چٹائی) کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے، اس کے پتے باریک ہیں جو طبی خصوصیات کی حامل ہے) سے پر کیا گیا تھا.
  • اون کا ایک پردہ
  • ہجر میں بنی ایک چٹائی (گویا ہجر سے مراد بحرین کا مرکز ہے نیز ہجر مدینہ کے قریب ایک گاؤں کا نام بھی تھا)
  • ایک دستی چکی
  • تانیے کا طشت
  • چمڑے کا مشکیزہ
  • لکڑی کا بنا ڈونگا
  • دودھ دوہنے کے لئے گہرا برتن
  • پانی کے لئے ایک مشک
  • ایک مطہرہ (لوٹا یا صراحی جسے طہارت وضو کے لئے استعمال کیا جاتا ہے) جس پر گوند چڑھایا گیا تھا
  • مٹی کے کئی مٹکے یا جام.

کہا گیا ہے کہ شادی کے بعد ایک حاجت مند عورت نے جب حضرت فاطمہؑ سے سوال کیا تو آپؑ نے اپنا شادی کا جوڑا اسے دے دیا. [21]

ولیمہ

پیغمبر اکرمؐ نے بلال حبشی کو بلایا اور فرمایا: میری بیٹی کی شادی میرے چچا کے بیٹے سے ہو رہی ہے، میں چاہتا ہوں کہ میری امت کے لئے شادی کے دن کھانا دینا ایک سنت ہو۔ اس لئے جاؤ اور ایک بھیڑ اور پانچ مد جو مہیا کرو تا کہ مہاجرین اور انصار کو دعوت دوں۔ بلال نے یہ سب تیار کیا اور رسول اللہؐ کے پاس لے آیا۔ آپؐ نے یہ کھانا اپنے آگے رکھا. لوگ پیغمبرؐ کے حکم پر گروہ در گروہ مسجد میں داخل ہوئے اور سب نے کھانا کھایا۔ جب سب نے کھا لیا تو کچھ مقدار میں جو بچ گیا تھا اسے آپؐ نے متبرک کیا اور بلال سے فرمایا: اس کھانے کو عورتوں کے پاس لے جاؤ اور کہو: یہ کھانا خود بھی کھائیں اور کوئی بھی اگر ان کے پاس آئے تو اسے بھی اس کھانے سے دیں [22]

پیغمبرؐ کی دعا

شادی کے ولیمے کے بعد رسول خداؐ علیؑ کے ہمراہ گھر میں داخل ہوئے اور فاطمہؑ کو آواز دی. جب فاطمہؑ نزدیک آئیں، تو دیکھا کہ رسول اللہؐ کے ساتھ حضرت علیؑ بھی ہیں. رسول اللہؐ نے فرمایا: نزدیک آ جاؤ. فاطمہؑ اپنے بابا کے نزدیک آئیں. رسول اللہؐ نے حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہؑ کے ہاتھ کو پکڑا اور جب فاطمہؑ کا ہاتھ علیؑ کے ہاتھ میں دیا تو فرمایا: خدا کی قسم میں نے تمہارے حق میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور تمہاری عزت کی اور اپنے خاندان کے بہترین فرد کو تمہارے لئے انتخاب کیا خدا کی قسم تمہاری شادی ایسے فرد سے کر رہا ہوں جو دنیا اور آخرت میں سید و آقا اور صالحین سے ہے... اپنے گھر کی طرف جائیں. خداوند یہ شادی آپکے لئے مبارک فرمائے اور آپکے کاموں کی اصلاح فرمائے. [23] رسول خداؐ نے اسماء بنت عمیس سے فرمایا: ایک برتن میں میرے لئے پانی لے آؤ اسماء فوراً گئیں اور ایک برتن پانی کا بھر کر لے آئیں. آپؐ نے پانی کا ایک چلو بھرا اور اسے حضرت فاطمہؑ کے سر پر ڈالا اور پھر ایک چلو بھرا اور آپؑ کے ہاتھوں پر ڈالا اور کچھ پانی آپؑ کی گردن اور بدن پر ڈالا. پھر فرمایا: خدایا فاطمہ مجھ سے ہے اور میں فاطمہ سے ہوں. پس جس طرح ہر پلیدی کو مجھ سے دور کیا اور مجھے پاک وپاکیزہ کیا ہے اسی طرح اس کو بھی پاک و طاہر کر دے۔ اس کے بعد فاطمہؑ سے فرمایا: یہ پانی پئیں اور اس سے اپنے منہ کو دھوئیں اور ناک میں ڈالیں اور کلی کریں. پھر پانی کا ایک اور برتن طلب کیا اور علیؑ کو بلایا اور یہی عمل دہرایا اور آپؑ کے لئے بھی اسی طرح دعا فرمائی اور پھر فرمایا:خداوند آپ دونوں کے دلوں کو ایک دوسرے کے لئے نزدیک اور مہربان کرے اور آپکی نسل کو مبارک اور آپکے کاموں کی اصلاح فرمائے. [24]

پیغمبرؐ کی ہمسائیگی

شادی کے کچھ دن گزرنے کے بعد پیغمبرؐ کے لئے فاطمہؑ سے دوری مشکل ہو گئی اس لئے سوچا کہ بیٹی اور داماد کو اپنے گھر میں ہی جگہ دی جائے. حارث بن نعمان جو کہ آپؐ کا صحابی تھا جب وہ اس خبر سے آگاہ ہوا تو پیغمبرؐ کے پاس آیا اور کہا: میرے سب گھر آپ کے نزدیک ہیں. میرے پاس جو کچھ بھی ہے سب آپ کا ہی ہے. خدا کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ میرا مال آپ لے لیں یہ اس سے بہتر ہے کہ یہ میرے پاس ہو. پیغمبرؐ نے اس کے جواب میں فرمایا: خدا تمہیں اس کا اجر دے. اس طرح سے حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہؑ رسول خداؐ کے ہمسائے بن گئے. [25]

حوالہ جات

  1. ابن سعد، طبقات، ح۸، ص۱۱؛ قزوینی، فاطمۃ الزہراء از ولادت تا شہادت، ص۱۹۱.
  2. اعلام الوری، ج۱، ص۱۶۱؛ تاریخ تحقیقی اسلام، محمد ہادی یوسفی غروی، ج۲، ص۲۵۱.
  3. تاريخ يعقوبي، ج۲، ص۴۱.
  4. مناقب آل ابی طالب، ج۳، ص۳۵۰
  5. شیخ طوسی، الأمالی، ۱۳۸۸ش، ج۱، ص۱۰۱؛ علامه مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۴۳، ص۱۵۳، ح۱۱.
  6. روضہ کافی، ص۱۸۰.
  7. تاریخ طبری، ابو جعفر محمد بن جریر طبری، ج۲، ص۴۱۰
  8. مقاتل الطالبین، ابوالفرج علی بن الحسین الاصفہانی، تحقیق سید احمد صقر، بیروت، دارالمعرفہ، بی‌تا، ص۳۰، میں مذکور ہے کہ فاطمہ زہرا ؑ کا اس وقت سن اٹھارہ سال تھا۔
  9. بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج۴۳، ص۹۲.
  10. یوسفی غروی، محمد ہادی؛ تاریخ تحقیقی اسلام، ج۲، ص۲۵۰.
  11. سید ابن طاوس ،الاقبال،2/584
  12. شیخ طوسی، الأمالی، ص 43، دار الثقافہ، قم، 1414ق.
  13. شیخ طوسی، الأمالی، ص 43، دار الثقافہ، قم، 1414ق.
  14. اربلی،کشف الغمہ،1/374، دار الأضواء - بيروت - لبنان
  15. ابن شہر آشوب، مناقب، ج۳، ص۳۵۰، ۳۵۱، و متقی ہندی، فاضل، کنزالعمال، ج۱۳، ص۶۸۰.
  16. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج۹۳، ص۱۷۰، روایت ۱۰
  17. [1]
  18. در میزان دقیق وزن درہم اختلاف نظر وجود دارد.
  19. [2]
  20. نجفی، جواہر الکلام، ج۱۵، ص۱۷۴-۱۷۹. توضیح المسائل مراجع، ج۲، ص۱۲۹
  21. شوشتری، احقاق الحق، ج۱۰، ص۴۰۱
  22. یوسفی غروی، محمد ہادی، موسوعۃ التاریخ الاسلام، ج۲، ص۲۱۴.
  23. یوسفی غروی، محمد ہادی؛ موسوعۃ التاریخ الاسلام، ج۲، ص۲۱۴.
  24. یوسفی غروی، محمد ہادی؛ موسوعۃ التاریخ الاسلام، ج۲، ص۲۱۵
  25. شہیدی، زندگانی فاطمہ زہرا، صص ۷۳-۷۲؛ نیز ر.ک: ابن سعد، طبقات، ج ۸، صص ۲۲-۲۳.