افطار

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حرم امام رضا(ع) میں افطار کی ضیافت

افطار کھانے کے ساتھ روزہ کھولنا یا روزہ کھولنے کا وقت ہے اور جو غذا افطار کے وقت کھائی جائے اسے بھی افطاری کہتے ہیں۔

دینی منابع کے مطابق روزے داروں کو افطاری دینا بہت زیادہ ثواب ہے۔ ایران اور دوسرے اسلامی ممالک میں، مسلمان ماہ رمضان میں عمومی طور پر یا خاندان کو جمع کر کے روزے داروں کو افطاری دیتے ہیں۔

افطار کے پنجگانہ احکام

روزے کو آخر تک پہنچانے کی چند صورتیں ہیں:

  1. واجب: اگر کوئی شخص دن کو متوجہ ہو کہ روزہ اس کے لئے نقصان دہ ہے، یا روزہ دار ظہر سے پہلے سفر کرے، یہاں پر واجب ہے کہ روزہ افطار کرے، اگرچہ روزے کی نیت ختم کرنی پڑھے. [1]ایسی حاملہ عورت کا روزہ افطار کرنا واجب ہے جس کا وضع حمل نزدیک ہے یا وہ عورت جو بچے کو دودھ پلاتی ہے جب کہ روزہ اس کے لئے نقصان دہ ہے یا بچہ.[2]اگر کسی بوڑھے مرد یا عورت جو کہ پیاس کی بیماری میں مبتلا ہیں، اکثر فقہاء کی نگاہ میں ان کا روزہ افطار کرنا واجب ہے. [3]
  2. حرام:واجب روزہ کا افطار کرنا، جیسے ماہ رمضان کا روزہ یا نذر کا روزہ اور اسی طرح ماہ رمضان کے قضا روزے کو ظہر کے بعد افطار کرنا اور ماہ رمضان کا وہ روزہ جو سفر میں ہو جب کہ سفر کا آغا ظہر کے بعد کیا ہو اور اسی طرح اعتکاف کا روزہ اس کے واجب ہونے کے بعد باطل کرنا، حرام ہے اور کفارے کا موجب بنتا ہے.[4]
  3. مکروہ: مستحب روزے کو ظہر کے بعد افطار کرنا مکروہ ہے.[5]
  4. مستحب: جس نے مستحب روزہ رکھا ہو، اگر کسی مومن کا مہمان بنے، تو مستحب ہے کہ اس سے قبل کہ میزبان اس کے روزے سے متوجہ ہو، روزہ افطار کر دے.[6]
  5. مباح: قول مشہور، اگر کسی نے ماہ رمضان کا قضا روزہ رکھا ہو، ظہر سے پہلے افطار کر سکتا ہے، اس شرط کے ساتھ کہ دوسرے رمضان تک پہلے سال کے روزے کی قضا بجا لانے کا وقت ہو.[7]مستحب روزے کو ظہر سے پہلے افطار کرنا مباح ہے.[8]

افطار کی نیت

ہندوستان میں افطار کی ضیافت

افطار کی نیت دو طرح سے ہے:

  • نیت قطع یعنی روزے کی نیت ختم کرنا
  • نیت قاطع یعنی کسی ایک ایسے عمل کو انجام دینا جس سے روزہ ختم ہوتا ہے جیسے کھانا.

آیا یہ کہ روزہ فقط افطار کی نیت سے باطل ہوتا ہے یا نہیں، اس بارے میں تین نظریے موجود ہیں:

  1. افطار کی نیت ہر صورت میں روزے کو باطل کرتی ہے. (بطلان مطلق طور پر)
  2. افطار کی نیت کسی صورت میں بھی روزے کو باطل نہیں کرتی. (عدم بطلان مطلق طور پر)
  3. نیت قطع یا نیت قاطع میں فرق قائل ہونا، کیونکہ نیت قاطع میں جب تک کسی مفطر کا مبتلا نہ ہو اس وقت تک روزہ باطل نہیں ہوتا.[9]

مفطرات

جو چیزیں روزہ ختم ہونے کا باعث بنتی ہیں، فقہی اصطلاح میں مشہور مفطرات ہیں وہ درج ذیل ہیں:

  • کھانا اور پینا.
  • جماع
  • خدا، پیغمبر(ص) اور اماموں کی طرف جھوٹ کی نسبت دینا
  • مشہور فقہاء کے مطابق پورا سر پانی میں ڈبونا.
  • مشہور فقہاء کے فتوے کے مطابق غلیظ غبار کا حلق تک پہنچانا.
  • مشہور فقہاء کے بقول صبح کی اذان تک جنابت، حیض یا نفاس کی حالت میں باقی رہنا.
  • استمناء[10]
  • مایعات کے ساتھ امالہ کرنا، البتہ اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے.[11] *جامد اشیاء سے امالہ کرنا اکثر فقہاء کے نزدیک مکروہ ہے اور روزے کے باطل ہونے کا سبب بنتا ہے.[12]

افطار کے احکام

  1. سورج غروب ہونے سے پہلے اگر جان بوجھ کر روزہ افطار کیا جائے، تو یہ روزے کے باطل ہونے کا باعث بنتا ہے اور ماہ رمضان کے روزے کی صورت میں قضا بھی ضروری ہے. جان بوجھ کر واجب روزہ ظہر کے بعد افطار کرنا جیسے ماہ رمضان، نذر وغیرہ کا روزہ اس صورت میں کفارہ بھی واجب ہو گا.
  2. اگر کوئی شخص عمدی طور پر اور جانتے ہوئے ماہ رمضان کا روزہ افطار کرے، تو وہ پہلی اور دوسری بار سزا پانے کا حقدار ہے اور تیسری اور چوتھی بار (اقوال میں اختلاف پایا جاتا ہے) افطار کرنے والے کو قتل کیا جائے، اگرچہ شرط یہ ہے کہ پہلی اور دوسری بار سزا دی گئی ہو.[13]
  3. وہ روزے جو اس نے افطار کئے ہیں وہ واجب ہیں کہ بغیر فاصلے کے رکھے جائیں (یعنی ٦٠ دن روزے اور کفارہ) لیکن اگر کوئی شرعی عذر ہو، جیسے حیض، تو اس صورت میں عذر دفع ہونے کے بعد باقی روزے رکھے. لیکن اگر کوئی شرعی عذر نہ ہو تو بغیر فاصلے کے ٦٠ دن روزے رکھنے ہوں گے.[14]
  4. اگر روزہ دار افطار کرنے پر مجبور ہو جائے اور اس کا کوئی اختیار نہ رہے تو اس صورت میں اس کا روزہ باطل نہیں ہے، اور کفارہ بھی نہیں ہے، لیکن اگر اسے ڈرایا جائے اور دھمکی دی جائے اور وہ ڈر کی وجہ سے اپنے اختیار سے روزہ افطار کرے تو، اس کا روزہ باطل ہو گا، لیکن کفارہ نہیں ہے.[15]
  5. اگر روزہ دار تقیہ کی بناء پر روزہ افطار کرے، اس روزے کے صحیح اور باطل ہونے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے. وہ قول جس کے مطابق روزہ باطل ہے، اس میں روزے کی قضاء واجب ہے لیکن کفارہ نہیں ہے.[16]
  6. مسلمان کی طرف سے ماہ رمضان کا روزہ افطار کرنا اگر حلال ہو تو وہ اس کے مرتد ہونے کا سبب ہو گا.[17]

افطار کا وقت

افطار کرنے اور کھانا کھانے کے لئے ضروری ہے کہ کچھ امساک کریں، وقت کے لحاظ افطار کی دو قسمیں ہیں:

الف. روزے دار کا افطار کرنا: افطار کا وقت، سورج غروب ہونا ہے مشہور فقہاء کی نگاہ میں مشرق کی طرف کی جانب سے سرخی کا زائل ہونا ہے.[18] افطار کے لئے کچھ آداب ذکر ہوئے ہیں، جو درج ذیل ہیں:

  1. دعا پڑھنا، افطار کے وقت سورہ قدر کی تلاوت کرنا مستحب ہے.
  2. مستحب ہے کہ افطار مغرب کی نماز کے بعد ہو، مگر یہ کہ روزہ دار بہت پیاسا یا بھوکا ہو، اس حد تک کہ نماز میں اس کی توجہ نہ ہو یا یہ کہ دوسرے افراد افطار کے لئے اس کی انتظار میں ہوں.[19]
  3. پانی کے ساتھ افطار کرنا، بالخصوص نیم گرم پانی، دودھ اور مٹھائی، بالخصوص کجھور کے ساتھ مستحب ہے.[20]

ب. غیر روزہ دار کا افطار:مستحب ہے کہ عید فطر کے دن نماز عید سے پہلے اور عید قربان کے دن نماز عید کے بعد افطار کیا جائے.[21]

حوالہ جات

  1. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۷، ص۱۳۳ و ج۱۶، ص۳۴۷
  2. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۷، ص۱۵۴-۱۵۱
  3. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۷، ص۱۵۰
  4. نجفی، محمد حسن، جواهرالکلام، ج۱۶، ص۲۶۴ ۲۶۶ و ج۲۹، ص۵۰
  5. یزدی، سید کاظم طباطبایی، العروة الوثقی، ج۲، ص۲۴۲؛ نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ص۱۷، ص۱۱۵
  6. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۲۹، ص۵۰-۵۱؛ حر عاملی، وسائل الشیعة، ۱۰، ص۱۵۲
  7. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۷، ص۵۱-۵۳
  8. نجفی، محمد حسن، جواهرالکلام، ج۱۷، ص۱۱۵؛ یزدی، سید کاظم طباطبایی، العروة الوثقی، ج۲، ص۲۴۲
  9. مستند العروة (الصوم)، ج۱، ص۵۸ و ۸۳-۸۵
  10. نجفی، محمد حسن، جواهرالکلام، ج۱۶، ص۲۱۷-۲۵۳؛ یزدی، سید کاظم طباطبایی، العروة الوثقی، ج۲، ص۱۷۶-۱۹۳
  11. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۶، ص۲۷۴-۲۷۵
  12. نجفی، محمدحسن، جواهر الکلام، ج۱۶، ص۲۷۵
  13. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۶، ص۳۰۷-۳۰۸
  14. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۷، ص۷۱ ۷۷ و ج۳۳، ص۲۵۵-۲۵۶
  15. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۶، ص۲۵۸ ۲۶۷؛ یزدی، سید کاظم طباطبایی، العروة الوثقی، ج۲، ص۱۹۸
  16. امام خمینی، تحریر الوسیلة، ج۱، ص۲۸۷؛ خویی، ابوالقاسم، منهاج الصالحین، ج۱، ص۲۶۹
  17. نجفی، محمد حسن، جواهرالکلام، ج۱۶، ص۳۰۷
  18. نجفی، محمد حسن، جواهرالکلام، ج۱۶، ص۳۸۴
  19. حر عاملی، وسائل الشیعة، ج۱۰، ص۱۴۹-۱۵۱؛ نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۶، ص۳۸۴ ۳۸۵
  20. حر عاملی، وسائل الشیعة، ج۱۰، ص۱۵۶-۱۶۱
  21. نجفی، محمد حسن، جواهر الکلام، ج۱۱، ص۳۵۴؛ یزدی، سید کاظم طباطبایی، العروة الوثقی، ج۲، ص۱۰۲

مآخذ

  • منبع مقالہ: فرہنگ فقہ فارسی، ج۱، ص۶۲۶-۶۲۴.
  • حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، مؤسسۃ آل البیتِ لإحیاء التُّراثِ، بیروت، ۱۴۱۴ق.
  • امام خمینی، تحریر الوسیلہ (ترجمہ فارسی)، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، تہران، ۱۳۸۶ش.
  • خویی، ابوالقاسم، منہاج الصالحین، نشر مدینہ العلم، قم، ۱۴۱۰ق.
  • نجفی، محمد حسن، جواہر الکلام فی شرح شرایع الاسلام،‌ دار احیاءالثراث العربی، بیروت، ۱۴۰۴ق.
  • یزدی، سید کاظم طباطبایی، العروہ الوثقی فیما تعم بہ البلوی (محشی)، جامعہ مدرسین، ۱۴۱۹ق.