نہم ربیع الاول

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

نُہُم رَبیع‌ُالاول، امام زمان(عج) کی امامت کے آغاز کا دن ہے۔ ایک نقل کے مطابق ۹ ربیع‌الاول امام حسین(ع) کے قاتلوں میں سے ایک عمر بن سعد کے قتل ہونے کا دن ہے۔ اس روز عید زہرا اور فرحۃُ الزہراء کے نام سے خوشی کی محافل برپا ہوتی ہیں جنہیں خلیفہ دوم عمر بن خطاب کے قتل ہونے کے روز کی مناسبت سے منایا جاتا ہے حالانکہ تاریخی روایات کے مطابق وہ ۲۷ ذی‌ الحجہ کو ابو لؤلؤ کے ہاتھوں زخمی ہوئے اور اس کے تین بعد دار فانی سے کوچ کر گئے۔ مراجع اور شیعہ علما اس عنوان سے محافل کے انعقاد کو جائز نہیں سمجھتے کہ جن میں اہل سنت مذہب کے بزرگوں اور مقدسات کی توہین کی جاتی ہو۔

آغاز امامت امام زمان(عج)

۸ ربیع الاول کے دن امام حسن عسکری(ع) عباسی خلیفہ معتمد کے ذریعے شہید ہوئے اور ان کے فرزند حضرت مہدی(ع) امامت پر فائز ہوئے۔[1] نہم ربیع‌الاول شیعوں کیلئے آغاز امامت امام مہدی(عج) کی مناسبت سے عید جانا گیا ہے نیز اس روز اس مناسبت سے جشن اور خوشی کی محافل کا انعقاد ہوتا ہے۔[2]

قتل عمر بن سعد

اصل مضمون: عمر بن سعد

پیغمبر کے اصحاب میں سے سعد بن ابی وقاص کے بیٹے کا نام عمر بن سعد ہے۔ وہ عبیداللہ بن زیاد کی طرف سے کوفہ کی سپاہ کا سپہ سالار مقرر ہوا جسے امام حسین(ع) سے مقابلہ کے ذمہ داری سونپی گئی اور اس لشکر نے دہم محرم کو امام حسین(ع) اور انکے ساتھ انکے بہتّر(72)اصحاب و اہل بیت کے اصحاب کو شہید کیا۔ علامہ مجلسی نے زاد المعاد میں کہا ہے کہ ایک قول کی بنا پر عمر بن سعد نہم ربیع‌الاول کے دن مختار بن ابوعبیدہ ثقفی کے ہاتھوں مارا گیا۔[3]

قتل خلیفہ دوم

نہم ربیع‌ الاول کا دن خلیفہ دوم عمر بن خطاب کے روز قتل سے منسوب ہوا ہے۔ اس انتساب کی دلیل وہ حدیث ہے جو «رفع القلم» کے نام سے مشہور ہے۔[نوٹ 1]اس انتساب کا تاریخی سفر چھٹی صدی ہجری کی طرف لوٹتا ہے ۔ پھر کچھ عرصہ کے سکوت کے بعد صفویہ کی حکومت کے دوران تشیع کے پھیلاؤ کے بعد شیعی ثقافت کے عنوان سے رائج اور معروف ہوا۔ اس انتساب کے موافق اور مخالف موجود ہیں:

موافق

عبدالجلیل قزوینی (متوفا چھٹی ہجری) نے کسی مستند کے بغیر نہم ربیع الاول کی طرف حضرت عمر کے قتل کے دن کا اشارہ کیا ہے۔[4] لیکن اسی زمانے کے دیگر عالم ہاشم بن محمد نے اس انتساب کی دلیل احمد بن اسحاق کی مشہور حدیث رفع قلم کو سمجھتا ہے۔[5] صفویہ دور کے علامہ مجلسی نے اس دن محافل جشن کے انعقاد کا ذکر کیا اور وہ اس دن کا مستند مشہور حدیث رفع القلم کو سمجھتے ہیں۔ [6]

مخالف

اس کے مقابل علما کی زیادہ تعداد معتقد ہے کہ حضرت عمر اواخر ذی الحجہ کو فوت ہوئے۔ ان کے دلائل درج ذیل ہیں:

نہم ربیع الاول کا وفات عمر سے منسوب ہونا

صادقی کاشانی احتمال دیتا ہے کہ آل‌بویہ کے دور حکومت میں نو ربیع الاول کا دن حضرت عمر کی وفات کے دن سے منسوب ہوا۔اس زمانے کے دوران فرقوں کے درمیان مختلف ایام منانے کی نزاع موجود رہی تھی جیسے ابوبکر کا پیامبر (ص) کے ساتھ غار کا دن، متعصب حنابلہ کی طرف سے مصعب بن زبیر کی وفات کے عزا کا دن، شیعوں کی طرف سے عید غدیر اور عاشورا منانے کا دن وغیرہ۔نو ربیع الاول کو شیعوں سے جھگڑا ہونا اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا اور ذی الحجہ کے آخری کی یہ خوشی کی محافل ایام محرم اور ایام عزاداری امام حسین سے مصادف ہونے کی وجہ سے محرم و صفر کے بعد یعنی ربیع الاول میں برگزار ہونا شروع ہوئے پھر آہستہ آہستہ نو ربیع الاول کا دن حضرت عمر کی وفات کے دن سے منسوب ہو گیا۔ [10]

عید زہرا

ایران و عراق میں ربیع الاول کی نو تاریخ کو خلیفۂ دوم کے قتل کے روز کی مناسبت سے خوشی کی محفلیں برپا کی جاتیں جو یہاں عید زہراء، اور فرحۃ زہراء کے نام سے معروف ہیں۔

جعفریان کے مطابق تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسی محفلوں کا انعقاد آل‌ بویہ کے دور میں ہوتا جس کے نتیجے میں مذاہب کے درمیان نزاع و کشیدگی پائی جاتی۔ پھر چھٹی صدی ہجری کے بعد سے صفویوں تک یہ خوشی کی محفلوں کا انعقاد کم رنگ ہوا اگرچہ کاشان میں یہ محفلیں برقرا ہوتی رہیں۔[11] سید بن طاووس (متوفا ۶۶۴ق) نے نو ربیع الاول کے دن بعض دشمنان اہل بیت کی فوتگی کے دن کے اعتقاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض ایرانی اس دن کی فضیلت و اہمیت کے قائل ہیں۔[12]ان کے اس بیان سے یوں ظاہر ہوتا ہے گویا وہ خود اس کا اعتقاد نہیں رکھتے تھے۔[13] صفویہ حکومت کے قیام اور وسیع پیمانے پر تشیع کے پھیلنے کے بعد نو ربیع الاول کا دن حضرت عمر کی وفات کا قطعی دن سمجھا جانے لگا اور اس دن مراسم کا انعقاد ہونے لگا۔[14] قاضی نوراللہ شوشتری نے اپنی کتاب میں صفویہ کے دور کے سنی عالم دین کے اعتراض کے جواب میں کہا: اس کام کی شیعہ علما نے تائید نہیں کی اور اب تو یہ متروک ہو چکا ہے۔[15]

انقلاب اسلامی کا دور

ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی اور امام خمینی کی رہبری کے زمانے میں خلیفۂ دوم کے قتل کی خوشی میں خوشی کی محفلوں کا انعقاد ممنوع ہو گیا اور اس زمانے کا وزیر محتشمی‌ پور ایسی محفلوں کے خلاف سخت اقدام کرتا تھا۔

ایسی محفلوں کی ممنوعت کی ایک وجہ فرقوں کے درمیان تشنج، سنی اور شیعہ کے درمیان مذہبی منافرت کی ایجاد کہی گئی۔ غیر روایتی اور بعض اوقات قبیح اور غیراخلاقی ادب کا استعمال اور ایسے ڈرامے پیش کرنا کہ جو معاشرے کی عام روایات کے خلاف ہیں، اس پر پابندی کے اسباب میں سے ہے۔ ایسی محفلوں کی ممنوعیت کے اعلان کے بعد کاشان میں موجود ابو لؤلؤ کے مزار کو پولیس انتظامیہ کی طرف سے بند کر دیا گیا۔[16]

مراجع تقلید

حضرت عمر بن خطاب کے قتل کی خوشی میں جشنوں کے انعقاد کی بہت سے مراجع تقلید نے مخالف کی ہے۔ نجف کے مراجع میں سے محمد حسین کاشف‌الغطاء ایسی محفلوں کی ممنوعیت کا اعلان کیا۔[17] آیت اللہ خامنہ ای نے حضرت فاطمہ ع کو خوش کرنے کی غرض سے بعض کاموں کے انجام دینے کو حضرت فاطمہ کے دشمنوں کے خوشی کا باعث اور اہداف انقلاب اسلامی ایران کے مخالف بیان کیا ہے۔ [18]

آیت اللہ سیستانی نے توصیہ کیا ہے: شیعوں کو چاہئے کہ اپنی توجہات کو مشترک نقات پر مرکوز کریں اور تصریح کی کہ اختلافی مسائل کو ہوا دینے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ آیت اللہ سیستانی کے نزدیک ایسی محفلوں میں شرکت جائز نہیں ہے نیز ان کے نزدیک تشنج آمیز ادبیات سے پرہیز لازم ہے۔[19]

آیت اللہ محمد تقی بہجت نے بھی حضرت زہرا(س) کے حوالے سے خوشی کی برقراری کی محفلوں میں توصیہ کیا: ایسے مواقع پر فضائل اہل بیت(ع) اور خاص طور پر حضرت زہرا(س) کے فضائل اور حدیث ثقلین بیان کی جائے۔ ان کے بقول آیت اللہ بروجردی کی بھی یہی روش رہی تھی۔ آیت اللہ بہجت نے اسی طرح عید زہرا کے نام سے منائی جانے والی محفلوں کے بارے میں کہا: چہ بسا کئی مرتبہ ایسے کام ان شیعوں کیلے اذیت و آزار کا موجب بنیں جو دوسرے ممالک میں اقیلتی تعداد میں زندگی گزار رہے ہیں اور اگر ایسے کاموں کی وجہ سے شیعوں کا قتل و کشتار ہوا تو ہم اس جرم میں برابر کے شریک ہونگے۔ [20] نیز آیت اللہ میرزا جواد تبریزی اور آیت اللہ صافی گلپایگانی نے اظہار کیا کہ جو کام سال کے دیگر ایام میں انجام دینا گناہ اور حرام ہے انہیں نو ربیع الاول کو انجام دینا بھی گناہ اور حرام ہے۔ نو ربیع الاول اور سال کے دیگر ایام میں اس لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے۔[21]

حدیث رفع القلم

اصل مضمون: حدیث رفع قلم

عید زہرا کی مناسبت سے برقرار ہونے والی محفلوں میں ایک روایت بیان کی جاتی ہے جو رفع القلم کے نام سے معروف ہو گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں آج کے دن سے حساب و کتاب اٹھا لیا گیا ہے اور اس دن کے گناہوں کا روز قیامت حساب نہیں لیا جائے گا اور ان پروگراموں میں ہر کام کرنا جائز ہے اور کوئی گناہ نہیں ہے۔

حدیث رفع قلم کا تنقیدی جائزہ

موجودہ بعض مراجع جیسے مکارم شیرازی، صافی گلپائگانی اور تبریزی اس حدیث کی سند اور اس کے مضمون کو درج ذیل دلائل کی بنا پر مورد تنقید قرار دیتے ہیں:

  • رفع قلم کے نام سے حدیث معتبر مصادر میں موجود نہیں ہے اس لئے یہ غیر معتبر ہے۔
  • یہ روایت کتاب خدا اور سنّت کے مخالف ہے اس لئے اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر یہ حدیث آیت و من یعمل مثقال ذرة شراً یره[22] اور روایت لا تنال ولایتنا الا بالعمل و الورع[23] کے مخالف ہے۔[24] اسی بنا پر حرام کام کو کسی بھی دن انجام دینا گناہ اور حرام ہے۔ نو ربیع الاول یا کسی اور دن کے درمیان کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ہے۔ صرف نابالغ، دیوانے اور سوئے ہوئے شخص سے حکم شرعی کی ادائیگی یا ترک کرنے کا حکم اٹھایا گیا ہے۔
  • حدیث رفع قلم کے معتبر ہونے کی صورت میں اس کا معنا یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بھول کر کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو خدا اسے بخش دے گا لیکن جان بوجھ کر گناہ کیا جائے تو وہ نہیں بخشا جائے گا۔[25]

نوٹ

  1. اس حدیث کے ابتدائی حصے میں آیا ہے: محمد بن ابی‌العلاء ہمدانی اور یحیی بن محمد جریح بغدادی کہتے ہیں: ہم ایک دن قتل عمر ابن خطاب کے متعلق نزاع کر رہے تھے۔ پھر ہم اصحاب امام ہادی(ع) میں سے احمد بن اسحاق قمی کے پاس گئے تو ہم نے اسے عید کے اعمال کرتے ہوئے پایا جبکہ نہم ربیع الاول کا دن تھا۔ ہم نے کہا: سبحان‌ اللہ! مؤمنوں کی چار عیدیں عید فطر، ضحی، غدیر اور جمعہ ہیں. اس نے امام ہادی سے نقل کیا کہ وہ اس روز اپنے جد کے پاس گئے تو انہوں نے اپنے جد کو اعمال عید میں مشغول پایا پھر مفصل طور پر اس دن کی فضیلت بیان فرمائی یہانتک کہ فرمایا: فرشتے اس روز سے لے کر تین دن تک انسان کے برے اعمال نہیں لکھتے ہیں۔
  2. اہم ترین مصادر جنہوں نے حضرت عمر کی وفات ذی الحجہ کے آخری ایام ذکر کئے ہیں: تاریخ مدینہ، ابن شَبہ نمیری(متوفا ۲۶۲)، ج۳، ص۸۹۵ و ۹۴۳؛ تاریخ خلیفہ بن خیاط، خلیفہ بن خیاط عصفری (متوفا ۲۴۰ق)، ص۱۰۹؛ أخبار الطوال، ابوحنیفہ دینوری (متوفا ۲۸۲ق)، ص۱۳۹؛ تاریخ کبیر، بخاری (متوفا ۲۵۶ق)، ج۶، ص۱۳۸؛ المصنف، ابن أبی‌شیبہ کوفی (متوفا ۲۳۵ق)، ج۸، ص۴۱؛ تاریخ طبری، طبری (متوفا ۳۱۰ق)، ج۳، ص۲۶۵؛ المعارف، ابن قُتَیبہ دینَوری (متوفا ۲۷۶ق)، ص۱۸۳؛ فتوح، أحمد بن أعثم کوفی (متوفا ۳۱۴ق)، ج۲، ص۲۳۲۹؛ موطأ، مالک بن انس (متوفا ۱۷۹ق)، ج۲، ص۸۲۴؛ الآحاد والمثانی، ضحاک (متوفا ۲۸۷ق)، ج۱، ص۱۰۲؛ المصنف، عبدالرزاق صنعانی (متوفا ۲۱۱ق)، ج۱۱، ص۳۱۵؛ مسند احمد، احمد بن حنبل (متوفا ۲۴۱ق)، ج۱، ص۵۵؛ طبقات الکبری، محمد بن سعد (متوفا ۲۳۰ق)، ج۳، ص۳۶۴؛ أنساب الأشراف، بلاذری (متوفا ۲۷۹ق)، ج۱۰، ص۴۳۹؛ المحبر، محمد بن حبیب ہاشمی بغدادی (متوفا ۲۴۵ق)، ص۱۴؛ الثقات، ابن‌حبان (متوفا ۳۵۴ق)، ج۲، ص۲۳۸؛ مسند ابن‌جعد، علی بن جعد بن عبید (متوفا ۲۳۰ق)، ص۱۹۵؛ التنبیہ والإشراف، علی بن حسین مسعودی (متوفا ۳۴۵ق)، ص۲۵۰؛ استیعاب، ابن عبدالبِرّ (متوفا ۴۶۳ق)، ج۳، ص۱۱۵۲؛ بالمعجم الکبیر، طبرانی (متوفا ۳۶۰ق)، ج۱، ص۷۰؛ مستدرک، حاکم نیشاپوری (متوفا ۴۰۵ق)، ج۳، ص۹۲؛ التعدیل والتجریح، سلیمان بن خلف باجی (متوفا ۴۷۴ق)، ج۳، ص۱۰۵۴؛ سنن کبری، بیہقی (متوفا ۴۵۸ق)، ج۸، ص۱۵۰؛ البدء و التاریخ، مطہر بن طاہر مقدسی (متوفا ۵۰۷ق)، ج۵، ص۱۹۱؛ تاریخ مدینۀ دمشق، ابن عساکر (متوفا ۵۷۱ق)، ج۴۴، ص۱۴؛ صفوہ الصفوہ، ابن جوزی (متوفا ۵۹۷ق)، ج۱، ص۲۹۱؛ الإنباء، ابن‌عمرانی (متوفا ۵۸۰ق)، ص۴۸؛ اُسدالغابہ، ابن‌اثیر (متوفا ۶۳۰ق)،ج۴، ص۷۷ ؛ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، (متوفا ۶۵۶ق)، ج۱۲، ص۱۸.

حوالہ جات

  1. مفید، الارشاد، ۱۴۱۴ق، ص۵۱۰.
  2. صادقی کاشانی، «نہم ربیع، روز امامت و مہدویت»
  3. مجلسی، زاد المعاد، ۱۴۲۳ق، ص۲۵۸.
  4. رازی قزوینی، بعض مثالب النواصب فی نقض بعض فضائح الروافض، ۱۳۵۸ش، ص۳۵۳.
  5. حلی، المحتضر، ۱۳۷۰ق، ص۴۴.
  6. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۳۱، ص۱۱۹ و ۱۲۰.
  7. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، تحقیق: عبدالقادر عطا، ۱۴۱۸ق، ج۳، ص۲۷۸؛ مسعودی، مروج الذہب، تحقیق: اسعد داغر، ۱۴۰۹ق، ج۴، ص۳۰۲؛ یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، دارصادر، ج۲، ص۱۵۹؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراہیم، ۱۳۸۷ق، ج۴، ص۱۹۴. مفید، مسارالشریعہ، ۱۴۱۴ق، ص۴۲؛ ابن‌ادریس، السرائر، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۴۱۹.
  8. طبری، تاریخ الامم و الملوک، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراہیم، ۱۳۸۷ق، ج۴، ص۱۹۴؛ یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، دارصادر، ج۲، ص۱۶۲.
  9. افندی اصفہانی، میرزا عبداللہ، تحفہ فیروزیہ (گزارشی از کتاب)،کوشش رسول جعفریان، قم، بی‌جا، ۱۳۷۸ش، ص۸۲.
  10. صادقی کاشانی، نہم ربیع؛ روز امامت و مہدویت، مشرق موعود، ۱۳۹۱ش، ص۴۴ و ۴۵.
  11. جعفریان، تاریخ تشیع در ایران، قم، انصاریان، ۱۳۸۳ش، ج۳، ص۱۰۳۷-۱۰۳۹؛صادقی کاشانی، «نہم ربیع، روز امامت و مہدویت»، تابستان ۱۳۹۱ش، ص۴۳.
  12. ابن‌طاووس، الاقبال بالاعمال، ۱۴۱۵ق، ج۳، ص۱۱۳.
  13. جعفریان، تاریخ تشیع در ایران از آغاز تا طلوع دولت صفوی، ۱۳۹۰ش، ص۸۳۵.
  14. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۳۱، ص۱۱۹ و ۱۲۰.
  15. شوشتری، مصائب النواصب، تصحیح: قیس العطار، ۱۳۸۴ش، ج۲، ۲۴۲.
  16. لطفی،نہم ربیع‌الاول و جشن ممنوع عمرکشان، پایگاہ اینترنتی جامعہ‌شناسی تشیع، تاریخ بازدید: ۲۱-۰۹-۱۳۹۵.
  17. نظر كاشف الغطاء در مورد روز 9 ربيع الاول، کنگرہ بین‌المللی علامہ محمد حسین کاشف الغطا، تاریخ بازدید: ۲۱-۰۹-۱۳۹۵.
  18. خبرگزاری فارس.
  19. نہم ربیع، جہالت‌ہا و خسارت‌ہا، ص ۱۰۳ - ۱۱۹
  20. خبرگزاری ابنا.
  21. صافی، جامع الأحکام صافی، قم، دفتر تنظیم و نشر آثار آیت اللہ لطف اللہ صافی گلپایگانی، ۱۳۸۵ش، ج۲، ص ۱۲۸؛آیت اللہ العظمی تبریزی، استفتائات جدید، قم، سرور، ۱۳۸۵ش، ج۲، ص۵۱۶.
  22. سورہ زلزال، آیہ ۸
  23. وسائل الشیعہ، ۱۴۱۴ق، ج۱۵، ص۲۴۷.
  24. مسائلی، نہم ربیع، جہالت‌ہا و خسارت‌ہا، ۱۳۸۷ش، ص۳۵.
  25. مسائلی، نہم ربیع، جہالت‌ ہا و خسارت‌ ہا، ۱۳۸۷ش، ص۳۵، ۱۰۳ و ۱۱۹.

مآخذ

  • ابن طاووس، علی بن موسی بن طاووس، تصحیح جواد قیومی، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، ۱۴۱۴ق.
  • ابن‌ادریس، محمدبن منصور، السرائر، قم، انتشارات جامعہ مدرسین، ۱۴۱۰ق.
  • ابن‌سعد، محمد، الطبقات الکبری، تحقیق: عبدالقادر عطا، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۸ق.
  • ابن‌طاووس، رضی‌الدین علی، الاقبال بالاعمال، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، ۱۴۱۵ق.
  • افندی اصفہانی، میرزا عبداللہ، تحفہ فیروزیہ (گزارشی از کتاب)،کوشش رسول جعفریان، قم، بی‌جا، ۱۳۷۸ش، ص۸۲.
  • تبریزی، میرزا جواد، استفتائات جدید، قم، سرور، ۱۳۸۵ش.
  • جعفریان، تاریخ تشیع در ایران، قم، انصاریان، ۱۳۸۳ش.
  • جعفریان، رسول، تاریخ تشیع در ایران از آغاز تا طلوع دولت صفوی، نشرعلم، تہران، ۱۳۹۰ش.
  • جعفریان، رسول، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، قم، نشر انصاریان، چاپ ششم، ۱۳۸۱.
  • حر عاملی، وسائل الشیعہ، قم، انتشارات آل البیت(ع) لإحیاء التراث، چاپ دوم، ۱۴۱۴ق.
  • حلی، حسن بن سلیمان، المحتضر، نجف، حیدریہ، ۱۳۷۰ق.
  • رازی قزوینی، عبدالجلیل، بعض مثالب النواصب فی نقض بعض فضائح الروافض، تہران، انجمن آثار ملی، ۱۳۵۸ش.
  • شوشتری، قاضی نوراللہ، مصائب النواصب، تصحیح قیس العطار، قم، دلیل ما، ۱۳۸۴ش.
  • صادقی کاشانی، مصطفی، «نہم ربیع، روز امامت و مہدویت»، مشرق موعود، س۶، ش۲۲، تابستان ۱۳۹۱ش.
  • صافی، لطف اللہ، جامع الأحکام صافی، قم، دفتر تنظیم و نشر آثار آیت اللہ لطف اللہ صافی گلپایگانی، ۱۳۸۵ش.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، ۱۳۸۷ق.
  • عصفری، خلیفہ بن خیاط، تاریخ خلیفہ بن خیاط، دارالفکر، بیروت.
  • لطفی، فاطمہ، نہم ربیع‌الاول و جشن ممنوع عمرکشان، پایگاہ اینترنتی جامعہ شناسی تشیع، تاریخ بازدید: ۲۱-۰۹-۱۳۹۵.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، دارالرضا، ۱۴۰۳ق.
  • مجلسی، محمدباقر، زاد المعاد، بیروت، مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۴۲۳ق/ ۲۰۰۳م.
  • مسائلی، مہدی، نہم ربیع، خسارت‌ہا و جہالت‌ہا، نشر وثوق، چاپ دوم، ۱۳۸۷ش.
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب، تحقیق: اسعد داغر، قم، دارالہجرہ، ۱۴۰۹ق.
  • مفید، محمد بن محمد نعمان، مسارالشریعہ، بیروت، دارالمفید، ۱۴۱۴ق.
  • یعقوبی، احمد بن واضح، تاریخ الیعقوبی، بیروت، دارصادر، بی‌تا.
  • نظر كاشف الغطاء در مورد روز 9 ربيع الاول، کنگرہ بین‌المللی علامہ محمد حسین کاشف الغطا، تاریخ بازدید: ۲۱-۰۹-۱۳۹۵.