عبد اللہ بن رواحہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
انفرادی مشخصات
مکمل نام عبد اللہ بن رواحہ بن ثعلبہ
کنیت ابا محمد، ابو رواحہ و ابو عمرو
دینی مشخصات
جنگوں میں شرکت فتح مکہ کے چھوڑ کر تمام جنگوں میں۔
وجہ شہرت صحابی اور پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے رومیوں کے ساتھ ہوئی جنگ موتہ میں سپہ سالار منتخب ہونا۔


عبد اللہ بن رواحہ، پیغمبر اکرم (ص) کے ان انصار میں سے ہیں جو دوسری بیعت عقبہ کے موقع پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ اہل مدینہ ہیں اور ان کا تعلق قبیلہ خزرج سے ہے۔ آنحضرت (ص) نے انہیں قبیلہ خرزج کی شاخ قبیلہ بنی حارث کا سردار منتخب کیا تھا۔ عبد اللہ کا شمار انصار کے 12 نقباء میں ہوتا ہے۔ انہوں نے زیادہ تر جنگوں جیسے جنگ احد، جنگ خندق، صلح حدیبیہ، جنگ خیبر اور عمرۃ القضاء میں شرکت کی۔ جنگ بدر الموعد میں عبد اللہ مدینہ میں پیغمبر (ص) کے جانشین رہے۔ وہ جنگ موتہ میں شہید ہوئے۔

نسب

عبد اللہ بن روحہ بن ثعلبہ کا تعلق قبیلہ خزرج کے طایفہ بنی حارث اور مدینہ کے انصار میں سے تھا۔ ان کی والدہ کبشہ بنت واقد بن عمرو بن الاطابہ حارثی ہیں۔

ان کی کنیت ابو محمد، ابو رواحہ اور ابو عمرو ذکر ہوئی ہے۔[1] پیغمبر اکرم (ص) نے عبد اللہ اور مقداد بن اسود کے درمیان صیغہ اخوت جاری فرمایا تھا۔[2]

عبد اللہ، نعمان بن بشیر بن سعد کے ماموں ہیں اور تاریخی روایات کے مطابق بے اولاد تھے۔[3]

آنحضرت (ص) کی ہمراہی

عبد اللہ بن رواحہ بھی منجملہ ان مدینہ والوں میں سے تھے جنہوں نے بعثت کے تیرہویں سال میں موسم حج میں عقبی منی میں پیغمبر اکرم (ص) کے دست مبارک پر بیعت کی، جو تاریخ میں بیعت عقبی دوم کے نام سے مشہور ہے۔ اس بیعت کے بعد رسول خدا (ص) نے عبد اللہ کو انصار کے 12 نقباء میں شامل کیا اور انہیں ان کے قبیلہ بنی حارث جو خزرج کی شاخ تھی، میں اپنے نمائندہ کے طور پر منتخب کیا۔[4]

عبد اللہ بن رواحہ ان لوگوں میں سے تھے جو رسول خدا (ص) کے مدینہ میں وارد ہونے کے بعد ان کے استقبال کے لئے گئے اور انہیں اپنے گھر میں قیام کے لئے مدعو کیا۔[5]

انہوں نے اپنی حیات میں ہونے والی تمام اسلامی جنگوں بدر، احد، خندق، حدیبّیہ، خیبر، عمره القضاء اور موتہ میں شرکت کی اور وہ جنگ بدر الموعد میں مدینہ میں آنحضرت (ص) کے نایب رہے۔[6]

جنگ بدر میں پیغمبر اسلام (ص) نے انہیں مامور کیا کہ وہ مدینہ میں مسلمانوں کی جنگ میں فتح کی خبر سنائیں۔[7]

عمرۃ القضاء کے موقع پر جس وقت آنحضرت (ص) مکہ میں وارد ہو رہے تھے، آپ کے ناقہ کی لگام ان کے ہاتھوں میں تھی اور وہ حضرت کی ہمراہی کر رہے تھے اور آپ کی مدح میں اشعار کا نذرانہ پیش کر رہے تھے۔[8]

جنگ خیبر کی فتح کے بعد انہیں رسول خدا (ص) نے خراج کی وصولی کے لئے منتخب کیا اور وہ اپنی شہادت تک اس منصب پر فائز تھے۔ خیبر کی جنگ کے بعد وہ 30 سواروں کے ہمراہ جن میں عبد اللہ بن انیس بھی شامل تھے، بشر بن زرام یہودی کی طرف جو مدینہ میں شب خون کرنے کی فراق میں تھا، روانہ ہوئے اور اسے قتل کیا۔[9]

جنگ موتہ میں زید بن حارثہ اور جعفر بن ابی طالب کی شہادت کے بعد رسول خدا (ص) کی طرف سے عبد اللہ بن رواحہ کو اسلامی لشکر کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔[10]

خصوصیات

زمانہ جاہلیت میں عوام میں پڑھنے لکھنے کا رواج نہ ہونے کے باوجود عبد اللہ بن رواحہ کا شمار اس دور کے اہل قلم افراد میں ہوتا تھا اور وہ شعر و شاعری میں بھی مہارت رکھتے تھے۔[11]

رسول خدا (ص) کی اکثر جنگوں میں ان کی شرکت میدان جنگ میں ان کی شجاعت کی علامت ہے۔ کلی طور پر ان کے اوصاف کو اس طرح سے وصف کیا جا سکتا ہے:

شعر میں مہارت

سورہ شعراء کی اس ان آیات: وَالشُّعَرَاء یتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ*أَلَمْ‌تر أَنَّهُمْ فِی کلِّ وَادٍ یهِیمُونَ* وَأَنَّهُمْ یقُولُونَ مَا لَا یفْعَلُونَ[12] ترجمہ: شعراء کی پیروی وہی لوگ کرتے ہیں جو گمراہ ہوتے ہیں * کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ وہ ہر وادئی خیال میں چکر لگاتے رہتے ہیں * اور وہ کچھ کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں، کے نازل ہونے کے بعد عبد اللہ نے فیصلہ کیا کہ اب وہ شعر نہیں کہیں گے۔[13] یہاں تک کہ یہ آیہ کریمہ: إِلَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَکرُوا اللَّهَ کثِیرًا وَانتَصَرُوا مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا وَسَیعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا‌ای مُنقَلَبٍ ینقَلِبُونَ[14] ترجمہ: علاوہ ان شعراء کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے اور بہت سارا ذکر خدا کیا اور ظلم سہنے کے بعد اس کا انتقام لیا اور عنقریب ظالمین کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس جگہ پلٹا دیئے جائیں گے، نازل ہوئی اور اس نے عبد اللہ بن رواحہ، کعب بن مالک و حسان بن ثابت جیسے شعراء کو جنہوں نے پیغمبر اکرم (ص) کی مدح میں اشعار کہے تھے، دوسروں سے مستثنی کیا۔[15]

پیغمبر اکرم (ص) کی مدح میں عبد اللہ کے بعض اشعار:

أنت النبی ومن یحرم شفاعته یوم الحساب فقد أزری به القدر
فثبت الله ما آتاک من حسن تثبیت موسی ونصراً کالذی نصروا[16]


عبد اللہ بن رواحہ نے رسول خدا (ص) کی مدح میں اشعار نظم کئے ہیں[17] اور اسی طرح سے آنحضرت (ص) کے چچا حضرت حمزہ[18] کے سوگ میں اور نافع بن بدیل[19] کے سلسلہ میں شعر کہے ہیں۔

جنگ میں شجاعت

تاریخی منابع میں ذکر ہوا ہے کہ عبد اللہ پہلے انسان ہوتے تھے جو جنگ کے لئے آمادہ ہو کر گھر سے خارج ہوا کرتے تھے اور سب سے آخر میں میدان جنگ سے گھر واپس ہوا کرتے تھے۔[20]

آنحضرت کی خاص توجہ

تاریخی روایات کے مطابق، متعدد مقامات پر پیغمبر اکرم (ص) نے بطور خاص عبد اللہ بن رواحہ کے لئے دعا فرمائی۔ ان میں سے بعض موارد درج ذیل ہیں:

  • ایک روز عبد اللہ بن رواحہ مسجد کی طرف جا رہے تھے جب وہ قریب پہچے تو آنحضرت (ص) لوگوں کو بیٹھنے کا حکم دے رہے تھے تو وہ اسی مقام پر مسجد کے باہر ہی بیٹھ گئے۔ جب یہ بات حضرت (ص) کو معلوم ہوئی تو آپ نے ان کے اس عمل کی تعریف کی اور ان کے حق میں اس طرح سے دعا فرمائی: خداوند عالم، اللہ اور اس کے نبی کی اطاعت کے سلسلہ میں مزید تمہاری توفیقات میں اضافہ فرمائے۔[21]
  • عبد اللہ مریض ہوئے تو آنحضرت (ص) ان کی عیادت کے لئے گئے اور جب دیکھا کہ ان کی حالت خراب ہے تو فرمایا: پروردگارا، اگر ان کی موت کا وقت ہو چکا ہے تو اس میں آسانی فرما اور اگر موت کا وقت قریب نہیں ہے تو انہیں شفا عطا فرما۔ حضرت کی دعا کے اثر سے انہیں شفا نصیب ہوئی۔[22]
  • جنگ خیبر میں رسول خدا (ص) نے عبد اللہ سے خواہش کی کہ وہ لشکر میں جوش و جذبہ پیدا کرنے کے لئے اشعار پڑھیں اور جب انہوں نے اشعار پڑھے تو آپ (ص) نے فرمایا: پروردگارا، عبد اللہ پر رحمت نازل فرما۔[23]

وفات

اردن میں عبد اللہ کا مزار

رسول خدا (ص) نے سن 8 ہجری میں رومیوں کی سرکوبی کے لئے زید بن حارثہ کی قیادت میں تین ہزار کا ایک لشکر روانہ کیا۔ یہ طے ہوا ہے کہ زید بن حارث کے بعد جعفر بن ابی طالب اور اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو ان کی شہادت کے بعد عبد اللہ بن رواحہ فوج کے سردار ہوں گے۔[24] تاریخی مصادر کے مطابق، موتہ کی طرف حرکت کرنے سے پہلے عبد اللہ اشعار پڑھ رہے تھے، خداوند عالم سے شہادت طلب کر رہے تھے اور خوف خدا سے گریہ کر رہے تھے۔


زید بن حارثہ اور جعفر بن ابی طالب کی شہادت کے سپاہ اسلام کا پرچم عبد اللہ بن رواحہ کے سپرد ہوا۔ انہوں نے دشمن پر حملہ کیا اور شدید جنگ کے بعد جام شہادت نوش کیا۔ شہادت سے پہلے انہوں نے اپنے جسم سے نکلنے والے خون کو اپنے چہرہ پر ملا اور بلند آواز میں کہا: اے مسلمانوں! اپنے بھائیوں کی جان کی حفاظت کرو۔[25]


ان کا مقبرہ جنگ موتہ کے دیگر شہداء کے ساتھ ریاست اردن کے شہر کرک مزار نامی علاقہ میں واقع ہے۔[26]

حوالہ جات

  1. ابن‌ اثیر،اسد الغابہ، ج ۲، ص۵۹۲-۵۹۳.
  2. الاصابہ، ابن حجر، ج ۲، ص۲۹۸.
  3. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج ۳، ص۵۲۶.
  4. ابن‌ اثیر،اسد الغابہ، ج ۲، ص۵۹۳.
  5. ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج ۱، ص۱۶۰.
  6. قرطبی، الاستیعاب، ج ۳، ص۳۳-۳۴.
  7. واقدی، مغازی، ج۱، ص۱۱۴
  8. ابن ہشام، السیره النبویہ، ج۲، ص۳۷۱.
  9. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۵۲۶.
  10. واقدی، مغازی، ج ۲، ص۷۵۶.
  11. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج ۳، ص۵۲۶.
  12. شعرا،۲۲۶-۲۲۴.
  13. ابن سعد، الطبقات الکبری،ج ۳، ص۵۲۸.
  14. شعرا، ۲۲۷.
  15. طبرسی، مجمع ‌البیان، ج ۷، ص۳۶۰
  16. ابن‌ اثیر، اسد الغابہ، ج ۲، ص۵۹۳
  17. قرطبی، الاستیعاب، ج ۳، ص۳۴.
  18. ابن ہشام، السیره النبویہ، ج ۲، ص۱۶۲.
  19. واقدی، مغازی، ج ۱، ص۳۵۳.
  20. ابن ‌اثیر، اسد الغابہ، ج ۲، ص۵۹۳.
  21. بیہقی، دلائل النبوه، ج ۶، ص۲۵۷.
  22. ابن سعد، الطبقات الکبری،ج ۳، ص۵۲۹.
  23. واقدی، مغازی، ج ۲، ص۶۳۹.
  24. واقدی،مغازی، ج ۲، ص۷۵۶.
  25. ابن‌ اثیر،اسد الغابہ، ج ۲، ص۵۹۵-۵۹۴.
  26. ابن عنبہ، عمده الطالب، ص۳۶.


مآخذ

  • ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفت الصحابہ، دار المعرفہ، بیروت، ۱۴۲۲ق
  • ابن سعد، طبقات‌ الکبری، دار الصادر، بیروت، ۱۴۰۵ق، افست دار الفکر
  • ابن شہر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی‌ طالب، مطبعہ الحیدریہ، نجف، ‎۱۳۷۶ق
  • ابن عنبہ، احمد، عمدة الطالب، نجف، المطبعہ الحیدریہ، ۱۳۸۰ق
  • ابن ہشام، السیره النبویہ، دار الوفاق، بیروت
  • بیہقی، احمد بن حسین، دلائل النبوه و معرفت احوال صاحب الشریعہ، دار الکتب العلمیہ، بیروت،۱۴۰۵ق
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مؤسسة الأعلمی للمطبوعات، بیروت، ۱۴۱۵ق
  • عسقلانی، ابن حجر، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، دار الکتاب‎ العربی، بیروت
  • قرطبی، محمد بن عبد البر، الاستیعاب فی معرفت الاصحاب، دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۱۵ق
  • واقدی، محمد بن عمر، المغازی، بیروت، اعلمی، ۱۴۰۹ق