حمیدہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حمیدہ
معلومات
مکمل نام حمیدہ بنت صاعد بربر یا صالح
کنیت ام حمیدہ، ام احمد
لقب مصفا، بریریہ، اندلسیہ،...
وجہ شہرت زوجۂ امام صادق ؑ
مدفن مشربہ ام ابراہیم (نزدیک مدینہ)


حمیدہ، شیعوں کے چھٹے امام جعفر صادق ؑ کی زوجہ ہیں جو "حمیدہ المُصَفّا"، "حمیدہ اندلسیہ" کے القاب سے جانی جاتی ہیں۔آپ حضرت امام موسی کاظم ؑ کی والدہ ہیں۔ حضرت امام محمد باقر ؑ کی کنیز تھیں جنہیں امام محمد باقر نے امام جعفر صادق ؑ کو بخشش میں دیا تھا۔ یہ ایک نہایت پرہیزگار خاتون تھیں۔ حضرت امام جعفر صادق خواتین کے مخصوص مسائل کے جوابات کے لئے خواتین کو ان کی طرف بھیجتے تھے۔

تعارف

ان کے نسب میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے ان کے والد کا نام صاعد بربر اور ان کے بھائی کا نام صالح ذکر کیا ہے۔ بعض نے ان کے والد کا نام صالح کہا ہے۔ ان کی نسل کے بارے میں بھی اختلاف موجود ہے۔ بربر، اندلس، روم اور عجم ایسی نسلیں ہیں جن کی طرف آپ کو نسبت دی جاتی ہے۔[1]

نام اور القاب

آپ کا نام حَمِیدہ یا حُمَیدہ ذکر ہوا ہے۔ جب حضرت امام محمد باقر ؑ سے ان کے نام کے متعلق استفسار کیا گیا تو آپ نے حمیدہ بتایا[2] ۔آپ کے لئے بریریہ اور اندلسیہ کا لقب ذکر کیا جاتا ہے [3]۔آپ کے القاب میں سے مُصَفّا کا لقب حضرت امام جعفر صادق ؑ نے رکھا[4]۔

لؤلؤۃ، مہذبہ، سیدۃ الاماء، ام حمیدہ اور ام احمد بھی آپ کے القاب ہیں[5] ۔

مقام و منزلت

حضرت امام محمد باقر ؑ نے ایک روایت میں انہیں حميدة في الدنيا(یعنی ایسی خاتون جس کی دنیا میں ہمیشہ تعریف کی جاتی ہو) اور محمودة في الآخرة (ایسی خاتون جس کی آخرت میں تعریف کی گئی ہو) کہا[6]۔ حضرت امام صادق ؑ ان کے متعلق فرماتے ہیں: حمیدہ پلیدگیوں سے پاکیزہ اور خالص سونے کی مانند ہے۔ ملائکہ مسلسل اس کی محافظت کرتے تھے یہانتک کہ خدا کی جانب سے ان کے ذریعہ سے مجھے ایک کرامت اور میرے بعد حجت خدا نصیب ہوئی۔ [7]۔

وہ ایک فقیہ خاتون تھیں۔ امام جعفر صادق ؑ خواتین کو ان کے مخصوص مسائل سے آگاہی کیلئے ان کے پاس بھیجتے تھے [8]۔جب بھی امام اہل مدینہ میں کچھ تقسیم کرنا چاہتے تو اس کام کو ام فروہ اور حمیدہ کے سپرد کرتے تھے[9]۔شیعہ علما نے حضرت حمیدہ کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہیں ایک با عظمت اور بزرگ خاتون سے یاد کیا ہے [10]۔

ایک روایت کے مطابق حمیدہ نے جب نجمہ کو خریدا تو ایک سچے خواب میں انہیں رسول اللہ نے کہا کہ اسے موسی کاظم کو ہدیہ کر دو، اس سے عنقریب دنیا کا بہترین انسان پیدا ہو گا [11]۔ حمیدہ نے اپنے بیٹے امام موسی کاظم سے کہا: بیٹے! یہی تکتم (نجمہ) ہے کہ میں نے فضیلت کے لحاظ سے اس سے بہتر کسی کو نہیں پایا۔ مجھے کسی قسم کا شک نہیں ہے کہ اگر اس سے نسل ہوئی تو اللہ اسے واضح کرے گا۔ میں نے اسے تمہیں ہدیہ کیا اور اس کی نسبت تم سے خیر اور نیکی کی درخواست کرتی ہوں۔[12]

ہدیہ دینا

کتب احادیث میں مذکور ہے کہ امام محمد باقر ؑ نے حمیدہ کو اہل بربر کے غلاموں کی خرید و فروخت کرنے والے شخص سے خریدا اور اپنے بیٹے سے فرمایا : اے جعفر! اسے اپنے لئے قبول کرو[13] ۔

روایت حدیث

روائی کتب میں حضرت حمیدہ سے بچوں کے حج[14] اور حضرت امام جعفر صادق ؑ کی شہادت[15] کی دو روایتیں منقول ہیں۔

ولادت امام موسی کاظم

حضرت امام جعفر صادق ؑ کے ابواء نامی علاقے کے سفر میں حمیدہ کے ہاں حضرت امام موسی کاظم کی ولادت ہوئی۔ ابو بصیر کہتے ہیں :

جب حمیدہ میں آثار حمل واضح ہوئے تو امام ان کے خیمے کی طرف گئے۔ کچھ دیر کے بعد امام جعفر صادق ؑ متبسم چہرے کے ساتھ واپس آئے اور فرمایا: حمیدہ نے کہا: جب اس مولود نے اس دنیا میں قدم رکھا تو اس نے اپنے ہاتھ زمین پر رکھے اور اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا۔ میں نے حمیدہ سے کہا: یہ اللہ کے رسول اور اس کے بعد اسکے ولی کی علامت ہے۔[16]

اولاد

علامہ مجلسی کے بقول حمیدہ سے موسی بن جعفر، اسحاق، محمد اور فاطمہ نام کی اولادیں ہوئیں[17] ۔

مقام دفن

بعض اقوال کے مطابق حمیده کی قبر جنت البقیع کے مشرق کی جانب عوالی نامی علاقے میں مشربہ ام ابراہیم کے مقام پر موجود ہے نیز اس کے قریب امام رضا کی والدہ نجمہ کی قبر بھی موجود ہے۔[18]

حوالہ جات

  1. مامقانی، تنقیح المقال، ج۳، قسم ۲، ص۷۶. قرشی، حیاة الامام موسی بن جعفر(ع)، ج۱، ص۴۲ و ۴۳. امین عاملی، فی رحاب ائمہ اہل البیت، ج ۴، ص ۸۰.
  2. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین، ص ۴۱۳.
  3. مجلسی، بحارالانوار، ج ۵، ص ۲۶۱.
  4. کلینی، اصول کافی، ج ۱، ص ۴۷۷. مسعودی، اثبات الوصیہ، ص ۱۹۰. صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، ج۱، ص۲۴.
  5. طبری، دلائل الامامه، ص ۱۴۷. عوالم، بحرانی، ج۲۱، ص۱۰. مسعودی، اثبات الوصیہ، ص ۱۹۰. مامقانی، ایضا. غروی نائینی، محدثات شیعہ، ص ۱۵۲. طباطبائی یزدی، العروه الوثقی، ج ۱، ص ۳۶۴. حسون و مشکور، اعلام النساء المؤمنات، ص ۳۱۱.
  6. کلینی، ج ۱، ص ۴۷۷.
  7. کلینی، ج ۱، ص ۴۷۷. ابن شہر آشوب، مناقب، ج ۱، ص ۲۲۸.
  8. صدوق، امالی، ص ۵۲۵. طبرسی، اعلام الوری، ج ۲، ص ۶۲.
  9. مامقانی،ایضا
  10. قمی، منتہی الآمال، ج۲، ص ۳۷۷. قرشی، ایضا، ص ۴۰ و ۴۱
  11. اربلی، کشف الغمہ، ج ۲، ص ۸۰۳ و ۸۰۴.
  12. صدوق، عیون اخبار الرضا، ج ۲، ص ۲۴.
  13. کلینی، ج ۱، ص ۴۷۷.
  14. کلینی، ج ۴، ص ۳۰۱. عاملی، وسائل الشیعہ، ج ۸، ص ۲۰۷.
  15. مجلسی، ایضا، ج ۴۷، ص ۲. طباطبایی یزدی، ایضا.
  16. کلینی، ج ۱، ص ۳۸۵.
  17. مجلسی، ایضا، ج ۴۷، ص ۲۴۱.
  18. حسینی جلالی، فدک و العوالی، ص۵۵.

مآخذ

  • اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمہ، قم، الشریف الرضی، ۱۴۲۱ ه.
  • اصفہانی، ابوالفرج، مقاتل الطالبیین،بیروت، دارالمعرفہ، بی‌تا.
  • امین عاملی، سید محسن، فی رحاب ائمہ اہل البیت(ع)، بیروت، دارالتعارف، ۱۴۱۲ ه.
  • بحرانی، سید ہاشم، عوالم، تحقیق و نشر مؤسسہ الامام المہدی، قم، ۱۴۰۹ ه.
  • حسون، محمد و ام علی مشکور، اعلام النساء المؤمنات، بی‌جا، اسوه، ۱۴۱۱ ه.
  • صدوق، محمد، امالی، قم، مؤسسه البعثه، ۱۴۱۷ ه.
  • صدوق، محمد، عیون اخبار الرضا، تحقیق حسین اعلمی، بیروت، مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۴۰۴ ه.
  • طبری، محمد، دلائل الامامہ، بیروت، مؤسسہ الاعلمی، ۱۴۰۸ ه.
  • طباطبائی یزدی، محمد کاظم، العروه الوثقی، بی‌جا، بی‌نا، ۱۴۲۲ ه.
  • عاملی، شیخ حر، وسائل الشیعہ، تہران، مکتبہ الاسلامیہ، ۱۴۰۱ ه.
  • غروی نائینی، نہلا، محدثات شیعہ، تہران، دانشگاه تربیت مدرس، ۱۳۷۵ ش.
  • قرشی، باقر شریف، حیاه الامام موسی بن جعفر، بی‌جا، دارالبلاغہ، ۱۴۱۳ ه.
  • قمی، شیخ عباس، منتہی الآمال، قم، ہجرت، ۱۴۱۲ ه.
  • کلینی، محمد، الکافی، تحقیق علی اکبر غفاری، تہران،‌دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۶۳ ش.
  • مامقانی، عبدالله، تنقیح المقال، نجف، مطبعہ المرتضویہ، ۱۳۵۲ ه.
  • مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، بیروت، مؤسسہ الوفاء، ۱۴۰۳ ه.
  • مسعودی، علی بن حسین، اثبات الوصیہ، قم، انصاریان، ۱۴۱۷ ه.