ایام فاطمیہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہد میں ایام فاطمیہ کی عزاداری

ایام فاطمیہ، حضرت فاطمہؑ کی شہادت کے ایام کو کہا جاتا ہے جن میں اہل تشیع آپ کی شہادت کی مناسبت سے عزاداری کرتے ہیں۔

حضرت زہراءؑ کی تاریخ شہادت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اسی بنا پر ایران میں 13 جمادی اول اور 3 جمادی الثانی کو آپ کی شہادت مناتے ہیں جبکہ عراق خاص کر نجف اشرف میں مذکورہ دو تاریخوں کے علاوہ 8 ربیع الثانی کو بھی آپ کی شہادت کی مناسبت سے عزاداری کرتے ہیں۔ مذکورہ تاریخوں کے درمیانی ایام کو ایام فاطمیہ کا نام دیا جاتا ہے۔

مشہور قول کی بنا پر آپ کی شہادت تین جمادی الثانی کو واقع ہوئی ہے۔ اس دن ایران میں سرکاری طور پر چھٹی ہوتی ہے۔ قم میں ایام فاطمیہ کی مجالس کو دیگر شہروں کی نسبت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے یہاں تک کہ 3 جمادی الثانی کو باقاعدہ ماتمی دستہ جات نکالے جاتے ہیں جو حرم حضرت معصومہ میں اختتام پذیر ہوتے ہیں۔ ان ماتمی دستوں میں بعض مراجع بنفس نفیس ننگے پاوں شرکت کرکے حضرت ولی عصر(عج) کی خدمت میں ان کی مادر گرامی کا پرسہ دیتے ہیں۔

روایات میں اختلاف

حضرت زہراءؑ کی شہادت مختلف تاریخی اقوال اور ائمہ کی روایات کے مختلف ہونے کی وجہ سے مختلف ہیں۔ آپ کی شہادت کے دن کو بعض نے پیامبر اسلام(ص) کی رحلت کے چالیس دن، بعض نے 72 دن، کسی نے 75 دن، اور بعض نے 95 دن کے بعد جبکہ بعض نے تین مہینے حتی بعض نے چھ مہینے بعد از رحلت رسول گرامی اسلام ذکر کیا ہے۔[1]

فاطمیہ اول

مختلف تاریخی اقوال کے مطابق حضرت فاطمہ(س) کی شہادت پیامبر اسلامؐ کی شہادت کے 75 دن بعد یعنی 13 جمادی الاول کو واقع ہوئی ہے۔[2] اس لئے اہل تشیع اس دن اور اس دن سے کچھ پہلے اور بعد کو پہلا ایام فاطمیہ کہتے ہیں۔ بعض علاقوں میں، حضرت صدیقہ طاہرہؑ عزاداری پہلے فاطمیہ سے شروع ہو کر دوسری فاطمیہ تک جاری رہتی ہے۔

اہل تشیع مذکورہ ایام اور ان سے کچھ دن پہلے اور کچھ دن بعد مسجدوں، امام بارگاہوں، اور گھروں میں مجالس اور ذکر مصائب کا اہتمام کرتے ہیں۔

فاطمیہ دوم

ایام فاطمیہ میں شیعہ مراجع تقلید کے ننگے پاؤں پیدل چلنے کے مناظر

ابو بصیر نے امام صادق(ع) سے حدیث نقل کی ہے، کہ حضرت فاطمہ(س) کی شہادت 3 جمادی الثانی بروز منگل کو ہوئی تھی۔[3]

عزاداری عام طور پر ایام فاطمیہ دوم میں زیادہ اہتمام کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ آیت اللہ حاج شیخ عبد الکریم حائری کی زعامت میں قم میں حوزہ علمیہ کی بنیاد پڑنے کے بعد ان ایام میں عزاداری کو دوبارہ احیاء کیا گیا۔[4]

ایران میں سرکاری چھٹی

سنہ 1379ھ ش سے اسلامی جمہوریہ ایران میں، 3 جمادی الثانی کو حضرت فاطمہ زہراء(س) کی شہادت کے دن سرکاری طور پر چھٹی کا اعلان کیا گیا۔

اس چھٹی کی تجویز اہل تشیع کے مرجع تقلید، حضرت آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی نے وقت کے صدر مملکت جناب سید محمد خاتمی کو دی اور حکومت کی طرف سے یہ چھٹی منظور کی گئی۔[5]

اس چھٹی کے اعلان کے بعد ایران میں ایام فاطمیہ میں عزادری کو مزید زور و شور سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو اہل تشیع کے بعض بزرگ مراجع، عام لوگوں کے ساتھ ساتھ پیدل جلوس پر نکلتے ہیں اور بعض اوقات ننگے پاؤں ان کے آگے آگے چلتے ہیں۔ یہ جلوس مختلف راستوں سے ہوتا ہوا مشہد مقدس میں امام رضا(ع) کے حرم اور قم المقدسہ میں حضرت معصومہ(س) کے حرم پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔[6]

عزاداری کی مدت

اہل تشیع کی نظر میں عزاداری کے لئے کوئی خاص مدت مقرر نہیں ہے اور پہلا عشرہ یا دوسرا عشرہ جو محرم کی طرح منایا جاتا ہے اس بارے میں کوئی خاص روایت نہیں ملتی۔ لیکن حضرت فاطمہ(س) کا رسول خداؐ کی بیٹی ہونے کی وجہ سے آپ کو جو مقام اور عظمت نصیب ہوئی اور امیر المومنین علیؐ کی امامت اور ولایت کا دفاع کرنے کی وجہ سے جو مصائب آپ پر وارد ہوئی، شاید یہ چیزیں سبب ہو کہ آپ کی شہادت کے دن کو اس قدر اہتمام سے منایا جاتا ہے۔

مختلف شہروں میں ایام فاطمیہ کے دو عشروں کے درمیان اختلاف ہے، لیکن عام طور پر 75 دن کے قول کے مطابق، 10 جمادی الاول سے 20 جمادی الثانی تک فاطمیہ اول، اور 95 دن کے قول کے مطابق، یکم جمادی الثانی سے 10 جمادی الثانی تک کو فاطمیہ دوم کہا جاتا ہے۔[7]

اہل تشیع کے کچھ مراجع تقلید نے ہر فاطمیہ میں تین دن مجالس عزا کا انعقاد کرنے کی سفارش کرتے ہیس اس طرح 13،14،15 جمادی الاول کو فاطمیہ اول، اور 1،2،3 جمادی الثانی کوفاطمیہ دوم کے عنوان سے عزادری منایا جاتا ہے۔۔[8]

فاطمیہ دوسرے ملکوں میں

پاکستان میں ایام فاطمیہ کے حوالے سے عزاداری

عراق، پاکستان[9]، آذربایجان اور تاجیکستان،[10] استرالیا[11] وغیرہ میں بھی ایام فاطمیہ کے حوالے سے عزاداری منعقد ہوتی ہے۔ اسی طرح یورپ میں بھی ہامبرگ اسلامک سنٹر، [12]، انگلستان اسلامک سنٹر[13]، استکہلم امام علی اسلامک سنٹر[14] وغیرہ میں بہی ان ایام میں عزاداری منعقد ہوتی ہے۔ ان ملکوں میں ایام فاطمیہ کے حوالے سے تین دن سے پانچ دن تک عزاداری منعقد ہوتی ہے۔

حوالہ جات

  1. تنہا یادگار؛ نظری‌ منفرد، ص۴۲۷ - ۴۳۱
  2. اصول کافی کلینی، ج ۱، ص۲۴۱، ح ۵
  3. دلائل الامامہ، طبری، ص۱۳۴
  4. مجلہ حوزہ سال 21، نمبر 5،رضوی، ص۱۵۱- ۱۵۴
  5. فارس خبررساں ایجنسی
  6. ۔ابنا خبررساں ایجنسی
  7. سوال سیٹی
  8. ۔فردا خبررساں ایجنسی
  9. خبرگزاری جمہوری اسلامی
  10. 1
  11. خبرگزاری ابنا
  12. شیعہ نیوز
  13. باشگاہ خبرنگاران جوان
  14. شیکہ خبر


بیرونی لنک

ایام فاطمیہ میں مراجع تقلید کی جلوس میں شرکت

ایام فاطمیہ میں مراجع تقلید کی جلوس میں شرکت