مدینہ منورہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مدینہ منورہ میں گنبد خضراء کا دلکش منظر

مدینہ جزیرہ نمائے عرب کے اصلی اور مذہبی شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر ہجرت نبیؐ سے قبل "یثرب" کہلاتا تھا۔ مدینہ منطقۂ حجاز میں واقع مقدس شہر مکہ کے شمال مشرق میں واقع ہے اور مکہ سے اس کا فاصلہ 450 کلومیٹر ہے۔ مدینہ اسلامی حکومت کا پہلا دارالحکومت ہے اور رسول اللہؐ کا مرقد شریف، (یا حرم رسول اللہؐمسجد النبیؐ اور قبرستان بقیع وغیرہ اسی شہر میں واقع ہیں۔ مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ رسول خداؐ کی جنگ، واقعۂ حرہ (اور یزید کا اس شہر پر حملہ) اور عباسی سلطنت کے خلاف نفس زکیہ کا قیام، اس شہر میں رونما ہونے والے اہم تاریخی اور سیاسی واقعات میں سے ہیں۔

جغرافیائی محل وقوع

سعودی عرب کے نقشے میں مدینہ منورہ کا محل وقوع

مدینہ ہجرت نبیؐ سے قبل "یثرب" کہلاتا تھا۔ مدینہ منطقۂ حجاز میں واقع مقدس شہر مکہ کے شمال مشرق میں واقع ہے اور مکہ سے اس کا فاصلہ 450 کلومیٹر ہے۔[1]

یہ شہر کھارے اور پتھریلے میدانوں کے بیچ واقع ہے۔[2]

مدینہ کے داخلی جغرافئے کا اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ شہر دو اطراف سے حرہ کے دو سلسلوں کے بیچ میں واقع ہوا ہے (لفظ حرہ جس کا اطلاق معمول کے مطابق سیاہ پتھروں پر ہوتا ہے جنہوں نے سطح زمین کو ڈھانک لیا ہوتا ہے اور اس میں پستی اور بلندی چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کی صورت میں ہوتی ہے اور اس میں کوئی پہاڑ نہیں ہوتا) مشرق والا حرہ "حرۂ واقم" کہلاتا ہے اور دوسرا حرہ مغرب میں واقع ہے جس کو "حرہ و برہ" کہا جاتا ہے۔[3] مدینہ منورہ کا آشکار ترین پہاڑ، كوہ اُحد ہے۔

مدینہ کے باشندے قبل از اسلام

قبل از اسلام یثرب دو جماعتوں یعنی "عرب" اور "یہودیوں" کا مسکن تھا۔ یہودی قبائل بنى قَيْنُقاع، بنى نَضير اور بنى قُرَيْظہ جو اس شہر کے جنوب اور جنوب مشرق میں رہائش پذیر تھے۔[4]

عرب قبیلہ اوس و خزرج پر مشتمل تھے اور خزرج کی آبادی اوس کی نسبت تین گنا بڑی تھی اور خزرجی عام طور پر شہر کے مرکز میں رہتے تھے۔

یثرب میں عرب کی آبادی یہودیوں سے کہیں زیادہ تھی۔ اوس و خزرج کے درمیان بہت سے تنازعات اور جھگڑے رہتے تھے اور یہ جھگڑے یہودی قبائل تک بھی سرایت کرگئی تھے۔

مدینہ کی معیشت

مدینہ منورہ کا ایک منظر

معاشی لحاظ سے مدینہ کی صورت حال مکہ سے مختلف تھی۔ اگرچہ یہاں بھی تجارت ہوتی تھی لیکن یہ تجارت مکہ کی مانند نہ تھی جہاں جو سرما اور گرما کے تجارتی کاروان تشکیل دیئے جاتے تھے۔ مدینہ کی معیشت کا دار و مدار زراعت اور اس شہر کے نواح ـ منجملہ قبا اور کوہ احد کے اطراف میں واقع ـ نخلستانوں پر تھا۔[5] مدینہ کی اہم پیداوار کھجور اور انگور پر مشتمل تھی؛ تا ہم کھجور ان کی معاشی حیات کا اصل سرچشمہ تھی کہ اس کے پھل کو بعنوان غذا اور اسکی لکڑی کو مکان بنانے میں استعمال کرتے تھے۔ .[6]

اس کے باوجود اہلیان مدینہ کی غالب اکثریت کی معاشی حالت مناسب نہ تھی۔[7]

آب وہوا

مدینہ کا موسم اچھا اور خوشگوار[8] تھا؛ مدینہ کے باشندوں کی ضرورت کے مطابق پانی بارشوں اور کنؤوں سے حاصل ہوتا ہے۔ مدینہ میں پانی سطح زمین کے قریب تھا اور کنواں کھود کر سہولت سے حاصل ہوتا ہے اور کنؤوں سے پینے اور زمینوں اور باغات کی سیرابی کے لئے پانی حاصل کیا جاتا تھا۔[9]۔[10]

مدینہ منورہ کا ایک منظر

قرآن اور حدیث میں مدینہ کے نام

مدینہ کے پرانے اور نئے نام قرآن مجید میں ذکر ہوئے ہیں:

  • مدینہ:
"يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ"۔
ترجمہ: کہتے ہیں کہ ہم لوگ مدینہ واپس ہوئے تو جو ہم میں غلبہ وعزت والا ہے، وہ ذلت وعاجزی والے کو نکال باہر کرے گا حالانکہ عزت اللہ کے لئے ہے اور اس کے پیغمبر کے لئے اور ایمان والوں کے لئے مگر منافق لوگ جانتے نہیں۔[11]۔
"وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى النِّفَاقِ لاَ تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ"۔
ترجمہ: اور تمہارے ارد گرد جو صحرائی عرب ہیں، ان میں سے کچھ منافق ہیں اور اس شہر (مدینہ) کے باشندوں میں سے بھی۔ وہ نفاق پر سرکشی کے ساتھ قائم ہیں آپ انہیں نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں اور ہم انہیں دو دفعہ سزا دیں گے، پھر وہ بڑے عذاب کی طرف پلٹائے جائیں گے۔
  • يثرب:
"وَإِذْ قَالَت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِّنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَاراً"۔
اور تمہارے ارد گرد جو صحرائی عرب ہیں، ان میں سے کچھ منافق ہیں اور اس شہر (مدینہ) کے باشندوں میں سے بھی۔ وہ نفاق پر سرکشی کے ساتھ قائم ہیں آپ انہیں نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں اور ہم انہیں دو دفعہ سزا دیں گے، پھر وہ بڑے عذاب کی طرف پلٹائے جائیں گے۔[12]۔[13] کا کہنا ہے کہ یثرب کا نام در حقیقت اس کے بانی"يثرب بن قانية بن مہلائيل بن ارم بن عبيل بن عوص بن ارم بن سام بن نوح کا نام ہے۔ کہتے ہیں کہ چونکہ نوح کے ایک پڑپوتے نے اپنے خاندان کے ہمراہ اس مقام پر سکونت اختیار کی اس کے بعد اس سرزمین کا نام "يثرب" پڑ گیا۔[14]
  • دار:

مدینہ کو قرآن میں دار بھی کہا گیا ہے جہاں ارشاد ہوتا ہے:

"وَالَّذِينَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ"۔
ترجمہ: اور جب ایک گروہ نے ان میں سے کہا کہ اے مدینہ کے رہنے والو! تمہارے ٹھہرنے کا موقع نہیں ہے تو واپس چلو اور کچھ لوگ ان میں کے پیغمبر سے اجازت مانگ رہے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالاں کہ وہ غیر محفوظ نہیں ہیں۔ نہیں چاہ رہے ہیں وہ مگر بھاگنا۔[15]
  • طیبہ اور طابہ:
رسول اکرمؐ نے شہر مدینہ کو "طیبہ" اور "طابہ" جیسے ناموں سے نوازا ہے۔
  • دیگر نام:
تورات نے مدینہ کے لئے 10 نام ذکر کئے ہیں: "طیبہ"، "طابہ"، "مرحومہ"، "مسکینہ"، "عذراء"، "جابرہ"، "مجبورہ"، "قاصمہ" اور "محبوبہ".۔[16]۔[17] جبکہ یاقوت حموی نے مدینہ کے 29 نام نقل کئے ہیں۔[18]

ہجرت پیغمبر

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے بعثت کے تیرہ سال بعد ربیع الاول مہینہ کے شروع میں یثرب کی طرف ہجرت کی۔ یہ ہجرت دو بیعتوں پیمان عقبہ ( عقبہ اول و دوم) کے یثرب کے لوگوں کے ساتھ ہونے کے بعد انجام پائی۔ حضرت چند روز قبا،میں قیام کے بعد مدینہ تشریف لے گئے.اور اپنی عمر کے آخری 10 سال مدینہ میں گزارے اور یہ شہر اسلام کی ترقی کا مرکز بن گیا۔[19]

رسول خداؐ کے اقدامات

تعمیر مسجد

مدینہ میں رسول خداؐ نے سب سے پہلے مسجد تعمیر کی؛ وہ مرکز و محور جو عبادی منزلت کے علاوہ تعلیم و ثقافت، سیاست و انتظام اور بندوبست کے لحاظ سے بھی مرکزیت رکھتا ہے؛ وہ مرکز جو مسلمانوں کی انتہائی اہم اور اصلی تکیہ گاہوں میں شمار ہوتا رہا ہے۔[20]

میثاق مدینہ

رسول خداؐ کا دوسرا اہم اقدام مدینہ کے مسلمانوں کے درمیان ایک عمومی میثاق کا انعقاد تھا۔ یہ وہ معاہدہ ہے جس کے نفاذ کے لئے مسلمانوں نے بیعت کی۔ جس کے تحت حاکمیت اللہ اور اس کے رسولؐ کے لئے قرار دی گئی ہے، اور بعض اسلامی قوانین کو قانون کے طور پر تسلیم کیا گیا۔[21]

مؤاخات

تیسرا اہم اقدام یہ تھا کہ رسول اللہؐ نے مسلمانوں کے درمیان عقد اخوت کا اہتمام کیا تاکہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہوں اور ایک دوسرے سے قریبی رشتہ اور رابطہ رکھیں۔[22]

مساجد

مسجد النبى ؐ

رسول اللہؐ نے سب سے پہلے مدینہ میں مسجد تعمیر کی۔ مسجد الحرام کے بعد شریف ترین مسجدمسجد النبی ہے جو مدینہ میں واقع ہوئی ہے۔

رسول خداؐ نے اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب بیان کرتے ہوئے فرمایا:

"صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا تَعْدِلُ عِنْدَاللَّهِ عَشَرَةَ آلافِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَإِنَّ الصَّلَاةَ فِيهِ تَعْدِلُ مِائَةَ أَلْفِ صَلَاةٍ[23]

ترجمہ: میری اس مسجد میں ایک نماز خدا کے نزدیک دس ہزار نمازوں کے برابر ہے مگر مسجد الحرام میں ایک نماز ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔

مسجد قبا

مفصل مضمون: مسجد قبا

مسجد قبا کا ایک جلوہ

مسجد قبا مسجد النبیؐ سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہوئی ہے اور یہ علاقہ مدینہ کے خوشگوار نواحی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ بہت سی حدیث کے مطابق یہ مسجد سورہ توبہ کی آیت 198 کا مصداق ہے جہاں ارشاد ہوا ہے:

"لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُواْ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ"۔
ترجمہ: بے شک وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے پرہیز گاری پر رکھی گئی ہے، اس کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں، اس میں ایسے اشخاص ہیں جن کی خواہش ہے کہ وہ پاک رہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

مسجد قبا سب سے پہلی مسجد ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے تعمیر فرمائی ہے۔[24]۔[25]

رسول اکرمؐ نے فرمایا:

"مَنْ تَطَهَّر في بَيْتِهِ ثُمَّ أَتی مَسْجِدَ قُبا فَصَلی فيه رَكعتْين كانَ كأَجْرِ عُمْرَةٍ"۔
ترجمہ: جو شخص اپنے گھر میں صفائی اور طہارت کرکے مسجد قبا میں حاضر ہوجائے اور یہاں نماز پڑھے خداوند متعال اس کو عمرہ کا ثواب عطا فرمائے گا۔[26][27][28]

مسجد علیؑ

مسجد علیؑ مسجد فتح کے جنوب میں واقع ہے اور وادی بطحان کے اوپر واقع ہے۔ روایت ہے کہ جنگ احزاب کے ایام میں مدینہ کے محاصرے کے دوران امام علی علیہ السلام اس مسجد میں نماز ادا کیا کرتے تھے۔[29]۔[30] یاد رہے کہ آبار "بئر" (کنویں) کی جمع ہے اور اس علاقے میں امام علیؑ نے چند کنویں کھود دیئے تھے جنہیں آبار علی (علیؑ کے کنویں) کہا جاتا ہے اور ان کنؤوں سے آج بھی پانی حاصل ہوتا ہے۔[31]

مسجد شجرہ

مدینہ میں مسجد شجرہ

یہ مسجد، جو آج کل "شجرہ"؛ «ذوالحُلَيفہ" اور "اَبيار علىؑ" کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مدینہ کے نواح میں بہت اہم مسجد ہے اور "مواقیت" اور مساجد احرام میں سے ایک ہے اور اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔

مسجد جمعہ

رسول اللہؐ نے قبا سے یثرب جاتے ہوئے قبیلۂ بنی سالم کے یہاں پہنچ کر پہلی نماز جمعہ کا انعقاد کیا اور اور [بعد میں] رسول اللہؐ کی نماز جمعہ کے مقام پر ایک مسجد قائم کی گئی جس کو مسجد جمعہ کا نام دیا گیا۔ یہ مسجد آج بھی مسجد جمعہ کہلاتی ہے اور شارع قبا اور شارع عبدالحمید کے چوراہے پر واقع ہے۔

مسجد العمرہ

ایک مسجد مسجد العرفات یا مسجد العمرہ کے نام سے مسجد قبا کے قبلہ کی سمت واقع تھی۔ مروی ہے کہ اس مسجد کو اس لئے مسجد العرفات کہا گیا ہے کہ کسی وقت رسول خداؐ روز عرفہ یہاں کھڑے تھے کہ زمین اس طرح سے ہموار ہوگئی کہ آپؐ نے عرفات میں کھڑے ہوئے لوگوں کا مشاہدہ کیا۔[32]

مسجد عتبان بن مالک

مسجد عتبان بن مالک بھی منطقۂ قبا کی مساجد میں سے ایک ہے۔ ابن عتبان، جو انصار کے نقیبوں میں سے تھے؛ انھوں نے رسول خداؐ کو اپنے گھر میں آنے کی دعوت دی تاکہ وہ آپؐ کی نماز کے لئے ایک مقام تعمیر کریں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کبھی سیلاب ان کے گھر اور مقامی مسجد کے درمیان حائل ہوجاتا تھا۔ رسول خداؐ ان کے گھر میں حاضر ہوئے اور ان کے گھر کے ایک گوشے میں نماز ادا پڑھی اور وہی مقام مسجد کے عنوان سے پہچانا گیا۔[33]

مسجد فَضِيخ

کہا گیا ہے کہ فضیخ کھجور کے ایک درخت کا نام تھا اور اشارہ ہے ایک قسم کی شراب کی جانب جو کھجور سے حاصل ہوتی تھی۔ ایک مشہور واقعے کے مطابق یہ مقام مسجد میں بدل جانے سے قبل فضیخ کہلاتا تھا۔ غزوہ بنی نضیر کے موقع پر رسول خداؐ نے اس مقام پر ایک خیمہ نصب کیا تھا اور اس زمین کو رسول اللہؐ کے وجود سے جو برکت ملی اسی بنا پر یہاں ایک مسجد فضیخ ہی کے نام پر تعمیر ہوئی۔

ائمہؑ سے منقولہ چند حدیثوں میں اس کو ایسی مسجد کے عنوان سے متعارف کرایا گیا ہے جو قابل دید ہے۔[34]

مساجد سبعہ

مدینہ کے شمال مغرب میں کوہ سلع کے دامن میں سات مساجد واقع ہیں جو مساجد سبعہ کے نام سے مشہور ہیں۔ جن کے نام حسب ذیل ہیں:

مسجد علی، مسجد سلمان، مسجد فاطمہ، مسجد ابوذر، مسجد ذو قبلتين، مسجد ابوبکر اور مسجد عمر.[35]۔[36]

مدینہ میں بعض دیگر مساجد بھی ہیں جن میں سے بعض کے نام حسب ذیل ہیں:

مسجد غمامہ کا بیرونی منظر

مقامات

جنۃ البقیع

مفصل مضمون: جنۃ البقیع

جنت البقیع کا ایک منظر

بقیع (جنۃ البقیع / بقیع الغَرقَد)، مدینہ کا سب سے پہلا اور قدیم اسلامی قبرستان ہے جو مدینہ کے مشرق میں واقع ہے۔

جنۃ البقیع میں ائمۂ معصومینؑ میں سے چار امام [یعنی] "امام حسن مجتبی"، "امام علی بن حسینامام باقر" اور "امام صادق" عليہم السلام، نیز "فاطمہ بنت بنت اسد" مدفون ہیں اور ایک قول کے مطابق حضرت زہراؑ کا مرقد بھی اسی قبرستان میں ہے۔ علاوہ ازیں حضرت رسولؐ اور امیرالمؤمنینؑ کے چچا "عباس امام علیؑ کی زوجہ مکرمہ ام البنین اور رسول خداؐ کے فرزند ابراہیم اور دو بیٹیاں "رقيہ" اور "ام کلثوم" اور آپؐ کی زوجات "صفیہ اور عاتکہ" اور عثمان بن مظعون سمیت بہت سے اکابرین صحابہ و تابعین، صالحین، اخیار، زہاد اور عُباد اور شہدائے اسلام اس قبرستان میں مدفون ہیں۔

رسول خداؐ اس قبرستان میں مدفون افراد کے لئے احترام کے قائل تھے اور آپؐ نے فرمایا: مجھے حکم ہوا ہے کہ بقیع میں مدفون افراد کے لئے مغفرت طلب کروں۔

روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اس قبرستان سے گذرتے ہوئے یہاں مدفون افراد سے مخاطب ہوکر فرمایا کرتے تھے:

"السَّلامُ عَلَيْكُمْ مِنْ دِيَارِ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ"۔[39]۔[40]

کوہ اُحد

مفصل مضمون: کوہ احد

احد کی پہاڑی کا منظر

کوہ احد مدینہ کے مشہور اور اہم پہاڑوں میں سے ایک ہے جو شہر کے شمال مشرق میں [مسجد النبیؐ]] سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔[41] چونکہ یہ پہاڑ واحد پہاڑ ہے جو مدینہ کے دوسرے پہاڑوں سے جدا ہے اسی وجہ سے اس کو "اُحُد" کہا جاتا ہے۔[42]۔[43] یہ پہاڑ مشرق سے مغرب کی جانب سات کلومیٹر طویل ہونے کے ناطے جزیرہ نمائے عرب کا طویل ترین پہاڑ (یا پہاڑی سلسلہ) ہے اور اس کی چوڑائی ایک سے تین کلومیٹر تک ہے۔[44]

منطقۂ احد کی پہاڑیوں نے صدر اول میں حق و باطل کا ایک ناقابل فراموش معرکہ قریب سے دیکھا ہے؛ جو غزوہ احد یا جنگ احد کہلاتا ہے۔ یہ غزوہ روز شنبہ سات شوال المکرم سنہ تین ہجری کو واقع ہوا۔ اس پہاڑ کے دامن میں شہدائے احد مدفون ہیں۔[45]۔[46]۔[47]

حضرت فاطمہؑ کا گھر

مفصل مضمون: فاطمہؑ کا گھر

حضرت زہراؑ ہجرت کے بعد اپنے والد ماجد رسول اللہؐ کے ساتھ ابو ایوب انصاری کے گھر میں تھیں۔ آپؐ نے اپنی زوجہ "سودہ" کے لئے گھر کا انتظام کیا تو حضرت فاطمہؑ وہیں منتقل ہوئیں اور جب آپؐ نے ام سلمہ کے ساتھ شادی کی اپنی بیٹی کو بھی وہیں لے گئے۔ امام علیؑ نے ام سلمہ کے گھر میں آپؑ کا رشتہ مانگا اور اس کے بعد امام علیؑ نے مشترکہ زندگی کے لئے مستقل گھر کا انتظام کیا۔

یہ گھر مسجد النبیؐ کے مشرق میں رسول خداؐ کے حجروں کے درمیان واقع تھا۔ اور مؤرخین اور مدینہ شناسوں کے بقول امر مسلم ہے کہ فاطمہؑ کا گھر رسول اللہؐ کی قبر اور ستون تہجد کے درمیان واقع تھا۔

ابن سعد نے طبقات الکبری میں نقل کیا ہے:

علیؑ نے فاطمہؑ سے شادی کی اور اپنے لئے ایک گھر تیار کیا جو رسول خداؐ کے گھر سے دور تھا۔ کچھ دن بعد رسول اللہؐ بیٹی کے پاس آئے اور فرمایا: بہت جلد تمہیں اپنے قریب لاؤں گا چنانچہ آپؐ نے علیؑ اور فاطمہؑ کو اپنے قریب واقع حارثہ بن نعمان کے ایک گھر میں منتقل کیا جو آپؐ کے گھر کے بالکل قریب تھا اور وہ دونوں وہیں تھے حتی کہ مسجد کے ساتھ ایک گھر بنایا گیا اور رسول خداؐ نے وہ علیؑ اور فاطمہؑ کے حوالے کیا اور وہ دونوں بظاہر آخر عمر تک اسی گھر میں سکونت پذیر تھے۔

كلثوم بن ہدم اور سعد بن خيثمہ کے گھر

قبا کے علاقے میں بعض مقامات تھے جن کااس وقت کوئی وجود باقی نہیں رہ گیا ہے۔ ان ہی مقامات میں سے دو گھر کلثوم بن ہدم اور سعد بن خیثمہ کے تھے؛ اور رسول اللہؐ مکہ سے [[ہجرت]ٍ] کرکے مدینہ پہنچنے سے پہلے علاقۂ قبا اور ان دو گھروں میں اترے تھے اور مہاجرین اور انصار میں سے بعض افراد بھی ان دو گھروں میں رہائش پذیر رہے تھے۔ یہ دونوں گھر در حقیقت دو مسجدوں میں تبدیل ہوئے تھے اور کہا جاتا ہے کہ نئی تعمیرات میں مسجد کا حصہ بن چکے ہیں۔[48]

کلثوم بن ہدم

كلثوم بن ہدم قبیلہ عمرو بن عوف کے سربراہ تھے اور بظاہر عقبہ کی دوسری بیعت میں شامل تھے۔ رسول اللہؐ نے ابن ہدم سمیت 12 افراد کو انصار کے درمیان اپنے نمائندوں کے عنوان سے مقرر کیا۔ اور جب آپؐ ہجرت کرکے قبا پہنچے تو ان کے گھر میں مہمان ہوئے اور جب امام علیؑ آپؐ کے اہل خاندان کو لے کر قبا پہنچے تو مل کر مدینہ آئے۔ لوگ تبرک کے عنوان سے اس گھر کی زیارت کے لئے آتے تھے۔[49] طبرسى نے اپنی کتاب اعلام الورى میں ابن شہاب زہری کے حوالے سے لکھا ہے بعض مہاجرین بھی اس قبیلے کے گھروں میں سکونت پذیر ہوئے تھے ... جب رسول خداؐ قبا پہنچے تو ایک بوڑھے مرد صالح کے گھر میں قیام پذیر ہوئے جن کا نام کلثوم بن ہدم تھا۔[50]

سعد بن خیثمہ

سعد رسول اللہؐ کے صحابی، دوسری بیعت عقبہ میں شامل تھے اور مدینہ میں آپؐ کے بارہ نقباء میں سے ایک تھے۔ ان کا گھر بھی وجود نبویؐ سے متبرک ہوا۔ وہ جنگ بدر میں لڑے اور (جنگ خندق میں علیؑ ہاتھوں ہلاک ہونے والے) عمرو بن عبد ود اور بروایتے "طعیمہ بن عدی" کے ہاتھوں شہید ہوکر جنگ بدر کے 14 شہداء کے زمرے میں قرار پائے۔[51]

اریس کا کنواں

اہل شام کی لغت میں اریس کے معنی "فلاح" کے ہیں۔ مذکورہ کنواں بئر اریس‏، بئر خاتم‏ اور "بئر النبىؐ" بھی کہلاتا ہے۔ اسلامی مصادر میں اس کنویں کا ذکر دسوں بار آیا ہے۔ اس کنویں کی طرف اہم ترین تاریخی اشارے کا تعلق عثمان کے دور میں رسول اللہؐ کی انگشتری کے اس میں گرنے کے واقعے سے ہے۔ یہ انگشتری [[عثمان بن عفان|عثمان کے ہاتھ سے گری تھی۔[52]۔[53]

محمد صاحب نفس زکیہ کی قبر

محمد بن عبداللہ بن الحسن بن الحسن عليہ السلام کی قبر شہر کے مغرب اور شمال کے درمیان کوہ سلع کے قریب واقع ہے۔[54]

مدینہ حضرات معصومینؑ کا مولد و مدفن

ائمۂ شیعہ میں سے اکثر کی جاے پیدائش مدینہ ہے:

  1. امام حسنؑ،[55]
  2. امام حسینؑ،[56]
  3. امام سجادؑ،[57]
  4. امام باقرؑ،[58]
  5. امام صادقؑ،[59]
  6. امام کاظمؑ،[60]
  7. امام رضاؑ،[61]
  8. امام جوادؑ،[62]
  9. امام ہادیؑ[63]
  10. امام عسکریؑ[64]

نیز یہ شہر چار ائمۂ شیعہ کا مدفن بھی ہے:

  1. امام حسنؑ،[65]
  2. امام سجادؑ،[66]
  3. امام باقرؑ،[67]
  4. امام صادقؑ۔[68]

اسلامی حکومت کا مرکز

مدینہ مختلف ادوار میں اسلامی حکومت کا مرکز رہا ہے۔ اس مرکزیت کا آغاز رسول اللہؐ کی حکومت کے ابتدائی ایام سے ہوا اور امیرالمؤمنینؑ کی حکومت کے تین برسوں کے سوا، یہ شہر سنہ 41ہجری میں امام حسن مجتبیؑ کے حکومت کے آخر تک اسلامی حکومت کا دارالحکومت رہا۔

سنہ 145 ہجری میں کچھ مدت کے لئے نفس زکیہ کی حکومت کے دوران بھی مدینہ ہی اسلامی حکومت کا دارالحکومت تھا۔

مدینہ کے تاریخی وقائع

مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ رسول خداؐ کی جنگیں

بنو قینقاع کے ساتھ جنگ

مفصل مضمون: غزوہ بنی قینقاع

یہودیوں کے اس گروہ نے جنگ بدر کے بعد رسول اللہؐ کے ساتھ اپنا معاہدہ توڑ دیا۔ آپؐ نے بنو قینقاع کو نصیحت کی اور فرمایا کہ جنگ بدر میں قریش کے انجام سے عبرت لیں لیکن وہ اپنی ریشہ دوانیوں سے باز نہ آئے اور ایک دن بازار میں ایک یہودی نے ایک مسلمان عورت کی حرمت شکنی کی اور ایک مسلمان مرد نے غضب ناک ہوکر اس شخص کو ہلاک کرڈالا۔ بنو قینقاع کے یہودیوں نے اس شخص کو قتل کیا اور ساتھ ہی مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کیا اور اپنے قلعے کے اندر مورچہ بند ہوئے۔ رسول خداؐ نے کا محاصرہ کیا اور کچھ دن بعد ان کو اجازت دی کہ جتنا مال و متاع وہ اپنے اونٹوں پر لاد لیں اور شہر چھوڑ کر چلے جائیں اور یوں انہیں نکال باہر کیا گیا۔[69]۔[70]۔[71]۔[72]

بنو نضیر کےیہودیوں کے ساتھ جنگ

مفصل مضمون: غزوہ بنی نضیر

ایک دن رسول خداؐ بنو نضیر کی جانب گئے تو یہودیوں نے آپؐ کو قتل کرنے کی سازش کی اور کچھ افراد چھت پر چڑھ گئے تاکہ وہاں سے بھاری پتھر آپؐ پر پھینک دیں۔ رسول خداؐ بذریعۂ وحی یہودیوں کی سازش سے آگاہ ہوئے اور فوری طور پر قلعے سے باہر چلے گئے۔ اور بنو نضیر کو حکم دیا کہ "اب جب کہ تم اپنا عہد توڑ چکے ہو فوری طور پر مدینہ چھوڑ کر چلے جاؤ۔[73]۔[74]۔[75]۔[76]۔[77]

بنو قریظہ کےیہودیوں کے ساتھ جنگ

مفصل مضمون: غزوہ بنی قریظہ

بنی قریظہ کے یہودیوں نے بنو نضیر کے نکالے جانے کے بعد رسول خداؐ کے ساتھ اپنا معاہدہ توڑ دیا اور مشرکین قریش اور دوسرے کفار کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف جنگ احزاب (غزوہ خندق) کا آغاز کیا۔ اور ایک بار مسلمانوں پر شبخون مارا۔[78]

تاہم ایک نومسلم کے مسلمانوں کے ساتھ خفیہ تعاون کی وجہ سے باقی کفار کے ساتھ ان کا تعاون مخدوش ہوا اور یوں وہ عرب جماعتوں کے ساتھ مزید تعاون کرنے سے پسپائی اختیار کرگئے۔[79]۔[80]۔[81]۔[82]۔[83] تاہم کفار کے ساتھ اختلاف کا مطلب یہ نہ تھا کہ وہ اسلام کے ہم نوا بن گئے تھے!

جنگ احزاب اختتام پذیر ہوئی تو رسول خداؐ نے بنو قریظہ کی خبر لینے کا فیصلہ کیا اور ان کا محاصرہ کرلیا۔ بنو قریظہ نے تقریبا ایک مہینے تک مزاحمت کی لیکن آخر کار انہیں سرتسلیم خم کرنا پڑا،[84]۔[85] اور حکم ہوا کہ ان کے مردوں کو موت کی سزا دی جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قید کرلیا گیا۔

واقعۂ حر

مفصل مضمون: واقعۂ حرہ

واقعۂ حرہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد امویوں کے بڑے جرائم میں سے ایک ہے۔ اس واقعے کا تعلق 26 یا 27 ذوالحجہ سنہ 63 ہجری کو اموی حکومت کے خلاف مدینہ کے عوام کے قیام سے تعلق رکھتا ہے جب سپاہ شام نے اس عوامی تحریک اور قیام کو ایک خونی جارحیت کے ذریعے کچل دیا۔

اس شورش کے لئے تین وجوہات بیان کی گئی ہیں:

  1. لوگوں کی اکثریت کی عبداللہ بن زبیر کے ساتھ بیعت؛
  2. عوامی ثروت اور اموال کی حکومت شام کے مرکز دمشق منتقلی سے ممانعت؛
  3. اکابرین مدینہ کی یزید کی حقیقی شخصیت سے آگہی اور یزید کے کردار کا طشت از بام ہوجانا۔

مدینہ میں قیام کرنے والوں نے امویوں کا مروان بن حکم کے گھر میں محاصرہ کرلیا اور ان (امویوں) کی تعداد 1000 کے لگ بھگ تھی؛ اور پھر ان افراد کو شدت آمیز انداز سے اس شہر سے نکال باہر کیا؛

یزید نے مسلم بن عقبہ کی سرکردگی میں 5000 افراد کا لشکر مدینہ روانہ کیا۔ اس لشکر نے عوامی تحریک کو کچل دیا اور اور امویوں کی اس کامیابی کے بعد ہزاروں مدنی مارے گئے اور بہت سے اسیر ہوئے۔

لوگوں کے اموال کو تین روز تک، اور لوگوں کی چادر و چاردیواری کو بھی اسی مدت تک لشکر یزید کے لئے مباح قرار دیا گیا اور انھوں نے کسی بھی جرم و بےحیائی سے دریغ نہیں کیا۔[86]۔[87]

نفس زکیہ کا قیام

محمد نفس زکیہ نے سنہ 145 ہجری کو منصور عباسی کے دور میں، مدینہ میں قیام کیا۔

مدینہ کے عوام، بالخصوص مالک بن انس سمیت شہر کے محدثین نے ان کی حمایت کی اور منصور کی بیعت کو جبر اور زبردستی کی بنا پر غیر معتبر گردانا۔

دو لشکروں کے درمیان جنگ ہوئی اور نفس زکیہ کے لشکر کو شکست ہوئی اور انہیں قتل کیا گیا اور ان کا جسد خاکی بقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔[88]

مدینہ کے بارے میں لکھی گئی کتابیں

مسلمانوں کے ہاں مدینہ کی اہمیت کے پیش نظر ہجرت کی ابتدائی صدیوں سے ہی اس شہر کی معرفی اور فضیلت کے بارے میں کتابیں لکھی گئیں جن میں سے بعض اب بھی موجود ہیں جبکہ بعض کا کوئی اثر باقی نہیں ہے۔ اسی طرح موجودہ دور میں بھی بعض کتابیں مختلف زبانوں میں لکھی گئی ہیں۔

قدیمی کتابیں

  • مدینہ کے بارے میں لکھی جانے والی قدیم کتابیں آج کے دور میں دستیاب نہیں ہیں، ابن زَبالہ کی کتاب اخبار المدینہ (متوفی؛ تقریبا۲۰۰ھ)[89] دوسری کتاب اخبار المدینہ کے نام سے زبیر بن بکار (متوفی ۱۷۲-۲۵۶ھ) سے منسوب ہے۔[90]اگرچہ ان دونوں کتابوں کا ابھی وجود نہیں ہے؛ لیکن بعد کی کتابوں میں ان سے مختلف باتیں نقل کر کے انہیں محفوظ کیا ہے۔
  • مدینہ کے بارے میں سب سے اہم اور جامع کتاب نورالدین علی بن احمد سمہودی (متوفی ۹۱۱) کی لکھی ہوئی وفاء الوفا بأخبار‌ دار المصطفی نامی کتاب ہے جو چار جلدوں پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب انسائیکلوپیڈیا کی طرز پہ تحریر ہوئی ہے، جس میں اس شہر کے بارے میں قدیمی کتابوں کے حوالے اور جدید تحقیقات کو جمع کیا ہے۔ سمہودی نے اس کو لکھنے میں بہت ساری ایسی کتابوں سے مدد لی ہے جو آج کل دستیاب نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ہر ہر لمحے خود انہوں نے بھی شہر کی شناسائی کی ہے۔ اس کتاب کا ایک خلاصہ «اخبار مدینہ» کے نام سے 300 سال پہلے فارسی میں لکھا گیا ہے۔[91]

معاصر کتابیں

معاصر دور میں بھی مدینہ کی معرفی کے بارے میں بہت ساری کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:

  • فصول من تاریخ المدینۃ المنورہ تالیف: علی حافظ، زبان: عربی: اس کتاب کا مؤلف ایک ماہر محقق ہے جس نے آخری کی دہائیوں میں مدینہ کی تاریخ نیز تاریخی اور دینی آثار کے بارے میں سیر حاصل تحقیق کو اس کتاب میں جمع کیا ہے۔[92]
  • مدینہ شناسی اس کو کتاب کو فارسی زبان میں محمد باقر نجفی نے لکھا ہے۔ جس کی پہلی جلد مدینہ کی مساجد اور آثار قدیمہ کے بارے میں ہے اور دوسری جلد مدینہ کا جغرافیا اور رسول اللہ کے غزوات کے بارے میں لکھا ہے۔ یہ کتاب جرمنی میں چھپ گئی ہے جس میں مختلف تصاویر اور نقشے ہیں۔[93]
  • معالم المدینۃ المنورۃ بین العمارۃ و التاریخ اس کتاب کو عربی زبان میں عبد العزیز کعکی نے مدینہ کی تاریخ کے بارے میں لکھا ہے۔[94]

ان کتابوں کے علاوہ بعض دوسری کتابیں جیسے المساجد الاثریۃ فی المدینۃ المنوّرۃ(بقلم محمد الیاس عبد الغنی) بھی مدینہ کے بارے میں لکھی گئی ہیں۔ اور بعض زبانوں میں ان کا ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔[95]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. حجة التفاسير و بلاغ الإكسير، جلد دوم، مقدمہ، ص: 1064۔
  2. اماکن و آثار اسلامی، ص 175۔
  3. آثار البلاد واخبار العباد، ص157۔
  4. الانصارى، آثار المدينة المنورہ، ص 210۔
  5. المفصل فی تاریخ ...، پیشین، ص132.۔
  6. الندوی، سید علی حسنی؛ السیرة النبویہ، دمشق، دار ابن کثیر، چاپ دوازدہم، 1425ق، ص266۔
  7. محمد بن احمد شمس‌الدین المقدسی، احسن التقاسیم، ص34۔
  8. ابن فقیہ، ابو عبداللہ احمد بن محمد؛ البلدان، ص81۔
  9. بلاذری، انساب الاشراف، ج5، ص487۔
  10. حموی، معجم البلدان، ج3، ص104۔
  11. سورہ منافقون، آيہ 8 / قاموس قرآن، ج 6، ص: 244
  12. سورہ توبہ، آيہ 102۔
  13. | أبو القاسم عبد الرحمن الزجاجي۔
  14. یاقوت حموی، معجم البلدان ج5 ص430۔
  15. سورہ احزاب، آيہ 13۔
  16. صالحی دمشقی، محمد بن یوسف؛ سبل الہدی والرشاد فی سیرة خیر العباد، ج3، ص295۔
  17. سمہودی، نورالدین، وفاء الوفاء، ج1، ص26۔
  18. حموی، معجم البلدان، ج5، ص83۔
  19. مكہ و مدینہ، كردی، عبیداللہ محمدامین، ص 212۔
  20. عبيداللہ محمد امين، مكہ و مدينہ، كردي، ص 212۔
  21. عبيداللہ محمدامين، مكہ و مدينہ، كردي، ص 212۔
  22. عبيداللہ محمدامين، مكہ و مدينہ، كردي، ص212۔
  23. کلینی، الکافی، ج4 ص526۔
  24. ابوالفتح رازی، روح الجنان و روح الجنان،ج6،ص111۔
  25. طباطبایی، المیزان،ص618۔سید قطب، في ظلال القرآن، ص305۔
  26. ابن کثیر،البداية والنہاية، ج3 ص210۔
  27. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج1، ص189۔
  28. عمر بن شبہ، تاريخ المدينة المنورة،ج1، ص41۔
  29. خلاصة الوفاء بأخبار دار المصطفی؛ الدّر الثمين، ص233۔
  30. المساجد و الأماکن الأثرية، ص24۔
  31. گذری در شہر یاد‌ہا و نشانہ‌ہا/ آبار علی ؑ ہمچنان در مدینہ می‌جوشد۔
  32. تاريخ المعالم المدينة المنورہ، صص125،126۔
  33. تاريخ المعالم المدينة المنورہ، ص155۔
  34. بحار الانوار، ج63، ص487، ج81، ص82، ج96، ص335، ج97، ص213،214،216،224۔
  35. خلاصة الوفاء بأخبار دار المصطفي; الدّر الثمين، ص 233۔
  36. المساجد والأماکن الأثرية، ص24۔
  37. مدينہ ميں امام رضاؑ کي والدہ ماجدہ کا گھر۔ مشربۂ ام ابراہیم۔
  38. مکہ و مدينہ: مولف مرکز تحقیقات حج، ص 28۔
  39. الشيخ الكليني، الكافي، ج3 ص229۔
  40. حدثنا القعنبي عن مالك عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة أن رسول اللهؐ خرج إلى المقبرة فقال السلام عليكم دار قوم مؤمنين...
  41. آثار اسلامي مكہ و مدينہ، ص354۔
  42. فتح الباري، ج7، ص289-290۔
  43. وفاء الوفاء، ج3، ص108۔
  44. تاريخ و آثار اسلامي مكہ، ص307۔
  45. واقدی، مغازی،ص145۔
  46. المساجد و الأماکن الأثرية...، ص 31۔
  47. تاريخ المدينة المنورة، ج 1، ص 130۔
  48. التحفة اللطيفة، ص 70۔
  49. شيخى، فرہنگ اعلام جغرافيايى-تاريخی، ذیل عنوان «خانہ کلثوم بن ہدم»(ص151)۔
  50. حسين على عربى، تاريخ تحقيقى اسلام، ج2 ص190۔
  51. طبقات ابن سعد ج4 ص405 و ج2 ص15۔
  52. جعفریان، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، ص253۔
  53. اصغر قائدان، تاریخ و آثار اسلامی مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ، ص385۔
  54. حجة التفاسير و بلاغ الإكسير، ج2، مقدمہ، ص1071۔
  55. مفید،الارشاد، ص309۔
  56. مفید،الارشاد، ص331۔
  57. مفید،الارشاد، ص435۔
  58. مفید،الارشاد، ص452۔
  59. مفید،الارشاد، وہی صفحہ۔
  60. مفید،الارشاد، ص497۔
  61. مفید،الارشاد، ص525۔
  62. مفید،الارشاد۔ وہی صفحہ
  63. مفید،الارشاد، ص569۔
  64. مفید،الارشاد، ص585۔
  65. شیخ مفید،الارشاد، ص322۔
  66. مفید،الارشاد، ص435۔
  67. مفید،الارشاد، ص452۔
  68. مفید، الارشاد، ص467۔
  69. مغازی واقدی، ص128-127۔
  70. سیرہ ابن ہشام، ص315-314۔
  71. تاریخ طبری، ج3، ص997۔
  72. الکامل ابن اثیر، ج3، ص971-970۔
  73. المغازی، ص270-269۔
  74. طبقات ابن سعد، ج2، ص56-55۔
  75. سیرہ ابن ہشام، ص355-354۔
  76. کامل ابن اثیر ج3، ص1011-1010۔
  77. طبری، ج3، ص1056-1054۔
  78. واقدی، مغازی، ص346-345۔
  79. سیرہ ابن ہشام، ص374-371۔
  80. طبقات ابن سعد، ج2، ص67۔
  81. مغازی، ص363-361۔
  82. طبری، ج3، 1079-1078۔
  83. کامل ابن اثیر، ج3، ص1022۔
  84. طبری، ج3، ص1084۔
  85. یعقوبی، ج1، ص411۔
  86. مسعودی، مروج الذہب، ج2، ص73 تا75۔
  87. تفصیل کے لئے رجوع کریں:واقعہ حرہ، یزید بن معاویہ کا تاریخی جرم۔
  88. مسعودی،مروج الذہب،ج2،صص298و299۔
  89. اس کتاب کے بارے میں مزید معلومات کے لئے مراجعہ کریں: پژوہشکدہ حج و زیارت.
  90. اس کتاب کے بارے میں مزید معلومات کے لئے مراجعہ کریں: پژوہشکدہ حج و زیارت.
  91. جعفریان، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، ص۲۳.
  92. جعفریان، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، ص۲۳.
  93. جعفریان، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، ص۲۵.
  94. جعفریان، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، ص۲۵.
  95. جعفریان، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، ص۲۶.

مآخذ

  • قرآن کریم۔
  • ابن سعد، الطبقات الکبری.
  • حميدرضا شيخى؛ فرہنگ اعلام جغرافيايى-تاريخى در حديث و سيرہ نبوى، ط مشعر، تہران، 1383 ش۔
  • ابن شبہ عمر بن شبہ النميري البصري، تاريخ المدينۃ المنورۃ، دار الفكر، تحقيق فہيم محمد شلتوت، تاريخ الطبع: 1410 ق۔
  • ابن فقیہ، ابو عبداللہ احمد بن محمد؛ البلدان، تحقیق یوسف الہادی، بیروت، عالم الکتب، چاپ اول، 1996،
  • ابن کثیر، ابوفداسماعیل بن عمر، البدایہ و النہایہ ،بیروت،دارالفکر، 1407ق۔
  • أبو جعفر محمد بن يعقوب الكليني الرازي، الكافي،چاپخانہ حيدري، ناشر: تہران - دار الكتب الاسلاميہ، 1367ہجری شمسی۔
  • ابوعبداللہ یاقوت حموی «الرومی البغدادی» متولد ۵۷۴ہ ق، "مُعجَم اَلبُلدان"۔
  • الشيخ الكليني، الاصول من الكافي، الطبعۃ الثالثۃ 1388ہ‌، دار الكتب الاسلاميۃ مرتضى آخوندي تہران - بازار سلطاني۔
  • المساجد و الأماکن الأثريۃ،
  • الندوی، سید علی حسنی؛ السیرۃ النبویہ، دمشق، دار ابن کثیر، چاپ دوازدہم، 1425ق،
  • جعفریان، رسول، آثاراسلامی مکہ و مدینہ، مشعر، اول، 1381
  • جواد علی؛المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام، بیروت، دارالعلم للملایین و مکتبۃ النہضۃ بغداد، چاپ اول، 1970،
  • حسين على عربى، تاريخ تحقيقى اسلام؛ مؤسسہ امام خمينى، قم، 1383 ش، چاپ چہارم۔
  • رازی، ابوالفتح، روح الجنان و روح الجنان، تہران، کتابفروشی اسلامیہ، بی تا
  • سمہودی، نورالدین علی؛ وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفی، دارالکتب العلمیہ، بیروت، چاپ اول، 2006.
  • سید قطب، فی ظلال القرآن، بیروت، داراحیاء التراث العربی، الطبعہ الخامسہ، 1384ق
  • شیخ مفید، الارشاد، ترجمہ حسن موسوی مجاب،قم، انتشارات سرور، 1388ش
  • صالحی دمشقی، محمد بن یوسف؛ سبل الہدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد، بیروت، دارالکتب العلمیہ، چاپ اول، 1414.
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان، محمدباقر موسوی ہمدانی، بنیاد علمی و فکر علامہ طباطبایی، 1363
  • قائدان، اصغر، تاریخ و آثار اسلامی مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ، مشعر، دوم، 1374ش
  • محمد بن احمد شمس‌الدین المقدسی، احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم عنوان کتابی است از ، دار صادر، بيروت۔
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب و معادن الجوہر،ترجمہ ابولقاسم پایندہ،تہران،انتشارات علمی فرہنگی،1387ش
  • واقدی، محمد بن عمر، مغازی، ترجمہ محمود مہدوی دامغانی،تہران،مرکز نشر دانشگاہی، دوم، 1388ش