ابو دجانہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو دجانہ انصاری
معلومات
مکمل نام سماک بن (اوس بن) خَرَشَـہ بن لَوذَان
کنیت ابو دجانہ
محل زندگی مدینہ
مہاجر/انصار انصار
جنگ جنگ بدر، جنگ احد، دیگر غزوات و جنگ یمامہ


ابو دجانہ (شہادت 12 ھ) پیغمبر کے اصحاب اور انصار میں سے ہیں۔ ان کا نام سماک بن (اوس بن) خَرَشَـہ بن لَوذَان تھا۔ انہوں نے جنگ بدر، جنگ احد اور دوسرے غزوات میں شرکت کی۔ ان کا شمار ان قلیل اصحاب میں سے ہوتا ہے جنہوں نے قریش کی پیشروی اور فتح کے باوجود خود کو آنحضرت سے جدا نہیں کیا۔ ابو دجانہ مسلیمہ کذاب کے ساتھ ہونے والی جنگ میں شہید ہوئے۔

صحابی

ابو دجانہ، پیغمبر اکرم (ص) کے انصار و اصحاب میں سے ہیں۔[1] ان کا تعلق قبیلہ بنی ساعدہ سے تھا۔[2] انہوں نے جنگ بدر، جنگ احد اور دیگر جنگوں میں شرکت کی۔[3]

جنگ احد میں پیغمبر اسلام (ص) نے انہیں ایک شمشیر عطا کی۔[4] ابو دجانہ نے اس جنگ میں نہایت رشادت اور استقامت کا مظاہرہ کیا اور وہ ان چند افراد میں سے تھے جنہوں نے قریش کی پیشروی اور کامیابی کے باوجود آنحضرت (ص) کا ساتھ نہیں چھوڑا[5] اور اسی سبب سے آپ (ص) نے ان کے حق میں دعا کی۔[6]

سن 4 ہجری میں بنی نضیر کے یہودیوں پر مسلمانوں کی فتح کے بعد حضور (ص) نے ان کے اموال کو مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا اور اس کے باوجود کہ انصار کو اس میں سے کوئی حصہ نہیں دیا گیا، آپ (ص) نے اس میں سے ابو دجانہ اور سہل بن حنیف کو غریب ہونے کی وجہ سے حصہ عطا فرمایا۔[7]

پیغمبر (ص) کے بعد

پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد سن 12 ہجری میں ابو دجانہ نے جنگ یمامہ میں شرکت کی۔ جس وقت مسیلمہ کذاب کے ماننے والوں نے ایک باغ میں مورچہ بنا لیا تو انہوں نے شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو ان سے جنگ کی دعوت دی۔ ان کی بہادری اور استقامت کی وجہ سے مسلمان باغ میں داخل ہونے میں کامیابی حاصل کر سکے۔[8] نقل ہوا ہے کہ انہوں نے مسیلمہ کو زخمی کر دیا اور جنگ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔[9] ایک قول کے مطابق انہیں مسیلمہ نے شہید کیا۔[10]

نام میں شباہت

صحابی پیغمبر (ص) ابو دجانہ کے نام کی شباہت سماک بن مخرمہ اسدی جو عثمانیوں میں سے تھا اور جس نے حضرت علی (ع) سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی[11] یا سماک بن خرشہ جعفی[12] کے ساتھ سبب بنی کہ بعض لوگ یہ گمان کریں کہ وہ جنگ صفین میں موجود تھے۔[13]

حوالہ جات

  1. ابن ہشام، ج۲، ص۳۵۳؛ بلاذری، فتوح، ج۱، ص۱۱۰؛ ابن اثیر، ج۲، ص۳۵۲.
  2. ابن اسحاق، ص۳۲۶؛ ابن ہشام، ج۲، ص۳۵۳
  3. واقدی، المغازی، ج۱، ص۷۶؛ ابن اثیر، ج۲، ص۳۵۲
  4. ابن ہشام، ج۳، ص۷۱؛ ابن اسعد، ج۳، ص۵۶۶ـ۵۵۷.
  5. ابن ہشام، ج۳، ص۸۷؛ واقدی، المغازی، ج۱، ص۲۴۰.
  6. واقدی، المغازی، ج۱، ص۲۴۶؛ بلاذری، انساب، ج۱، ص۳۲۰.
  7. واقدی، المغازی، ج۱، ص۳۷۹؛ بلاذری، فتوح، ج۱، ص۱۸ـ۱۹.
  8. واقدی، الردہ، ص۷۲، ۷۴.
  9. واقدی، الردہ، ص۷۴؛ ابن سعد، ج۳، ص۵۵۷؛ بلاذری، فتوح، ج۱، ص۱۱۰.
  10. یعقوبی، ج۲، ص۱۳۰.
  11. ثقفی، ج۱، ص۳۲۳، ج۲، ص۴۸۴؛ دارقطنی، ج۱، ص۳۱۳ـ۳۱۴.
  12. نصر بن مزاحم، ص۳۷۵.
  13. ابن عبد البر، ج۲، ص۶۱۵ـ۶۵۲؛ قس: ابن حجر، ج۲، ص۱۲۸؛ عسکری، ج۲، ص۱۹۵.


مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن محمد، اسد الغابہ، قاهره ۱۲۸۰ق
  • ابن اسحاق. محمد، السیر و المغازی، بہ کوشش سہیل زکار، بیروت، ۱۳۹۸ق/۱۹۷۸ ء
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، قاہره، ۱۳۲۷ق
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، بیروت، دار صادر
  • ابن عبد البر، یوسف بن عبدالله، الاستیعاب فی معرفہ الاصحاب. بہ کوشش علی محمد بجاوی، قاہره، ۱۳۸۰ق/۱۹۶۰ء
  • ابن ہشام، عبد الملک، السیرة النبویـہ، بہ کوشش مصطفی سقا و دیگران، قاہره، ۱۳۵۵ق/۱۹۳۶ء
  • ابو علی مسکویہ، احمد بن محمد، تجارب الامم. بہ کوشش ابو القاسم امامی، تہران، ۱۳۶۶ش
  • بلاذری، احمد ین یحیی، انساب الاشراف، بہ کوشش محمد حمید الله، قاہره، ۱۹۵۹ء
  • بلاذری، فتوح البلدان، بہ کوشش صلاح الدین منجد، قاہره، ۱۹۵۶ـ۱۹۶۰ء
  • ثقفی، ابراہیم بن محمد، الغارات، بہ کوشش جلال الدین محدث، تہران، ۱۳۵۵ش
  • دارقطنی، علی بن عمر، المؤتلف و المختلف، بہ کوشش موفق بن عبدالله، بیروت، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶ء
  • سہمی، حمزہ بن یوسف، تاریخ جرجان، حیدر آباد دکن، ۱۳۸۷ ق/۱۹۶۷ء
  • عسکری، مرتضی، خمسون و مائة صحابی مختلق، بیروت، ۱۳۹۴ق/۱۹۷۴ء
  • نصر بن مزاحم منقری. وقعـہ صفین، بہ کوشش عبد السلام محمد ہارون، قاہره، ۱۳۸۲ق
  • واقدی، محمد بن عمر، الردہ، به روایت ابن اعثم کوفی، بہ کوشش محمد حمیدالله، پاریس، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۹ء
  • واقدی، المغاری، به کوشش مارسدن جوئز، لندن، ۱۹۶۶ء
  • یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ، بیروت، ۱۳۷۹ق/۱۹۶۰ء