سورہ احقاف

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جاثیہ سورۂ احقاف محمد
سوره احقاف.jpg
ترتیب کتابت: 46
پارہ : 26
نزول
ترتیب نزول: 66
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 35
الفاظ: 648
حروف: 2668

سورہ احقاف قرآن کی 46ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے اور 26ویں پارے میں واقع ہے۔ "احقاف" ریگستان کے معنی میں ہے اور اس سورت میں اس سے حضرت ہود کی قوم یعنی قوم عاد کی سرزمین مراد ہے۔ سورہ احقاف قیامت، اس کی اہمیت، اس دن مؤمنین اور کافرین کی حالت اور کائنات کے خلقت کا بیہودہ اور بے مقصد نہ ہونے کے کے بارے میں ہے۔ اس سورت میں قیامت کے دن مردوں کے زندہ کرنے پر خدا کی قدرت کے متعلق بھی گفتگو ہوئی ہے۔ اسی طرح اس سورت میں ماں باپ پر نیکی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ احادیث میں آیا ہے کہ اس کی 15ویں آیت امام حسینؑ کی شأن میں نازل ہوئی ہے۔ اس کی فضیلت اور تلاوت کے بارے میں نقل ہوئی ہے کہ جو شخص ہر رات یا ہر جمعے کو اس سورت کی تلاوت کرے، خدا دنیا کی وحشت کو اس شخص سے دور کرے گا اور قیامت کی وحشت سے بھی اسے محفوظ رکھے گا۔

تعارف

  • نام

"احقاف" ریگستان کے معنی میں ہے اور اس سورت کو حضرت ہود کی قوم یعنی قوم عاد کی سرزمین کے ذکر کی وجہ سے اس نام سے یاد کیا گیا ہے۔[1] قوم عاد کی سرزمین ایک ریگستانی علاقہ تھا اسی وجہ سے اسے احقاف کہا گیا ہے۔[2] یہ لفظ اس سورت کی 21ویں آیت میں آبا ہے۔

  • محل اور ترتیب نزول

سورہ احقاف مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے یہ سورت قرآن کی 66ویں جبکہ مُصحَف کی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے یہ 46ویں سورت ہے[3] اور قرآن کے 26ویں پارے میں واقع ہے۔

  • آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ احقاف 35 آیآت، 648 کلمات اور 2668 حروف پر مشتمل ہے۔ حجم کے اعتبار سے اس کا شمار سور مَثانی میں ہوتا ہے اور قرآن کے ایک حزب کے برابر اس کا حجم ہے۔[4]

مضامین

سورہ احقاف کے بعض مباحث اور موضوعات یہ ہیں: معاد اور اس کی اہمیت، قیامت کے دن مؤمنین اور کافروں کی حالت، والدین کی ساتھ نیکی کی سفارش، آسامان اور زمین کی خلقت کا بیہودہ اور بے مقصد نہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کی خلقت پر خدا کے قادر ہونے کا بیان اور آخر میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ خدا مردوں کی زندہ کرنے نیز ان میں دوبارہ روح پھونکنے پر بھی قادر ہے۔[5] علامہ طباطبایی تفسیر المیزان میں فرماتے ہیں کہ یہ سورت ان مشرکین کو ڈرانے اور دھمکانے کیلئے نازل ہوئی ہے، جو دین اسلام کے ساتھ مقابلہ کرنے کیلئے اس کے انکار کے ساتھ ساتھ اسلام، پیغمبر اکرمؐ اور قرآن کا مزاق بھی اڑاتے تھے۔[6]

سورہ احقاف کے مضامین[7]
 
 
 
 
 
 
قرآنی تذکرات اور مشرکوں کی بےتوجہی
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا گفتار؛ آیہ ۳۳-۳۵
قیامت اور کافروں کی سزا کا حتمی‌ ہونا
 
تیسرا گفتار؛ آیہ ۱۵-۳۲
دلسوز تذکرات سے مقابلے کے چند نمونے
 
دوسرا گفتار؛ آیہ ۷-۱۴
قرآنی تذکرات کی مخالفت پر مشرکوں کے بہانے
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۶
دلایل بی‌توجہی مشرکان بہ ہشدارہای قرآن
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۳۳
قیامت بپا کرنے اور مردوں کو زندہ کرنے میں اللہ کی قدرت کااثبات
 
نمونہ اول؛ آیہ ۱۵-۱۶
والدین کی نصیحتوں کو ادب سے ماننا
 
پہلا بہانہ؛ آیہ ۷
قرآن سحر ہے
 
مقدمہ؛ آیہ ۱-۲
قرآنی تعلیمات کا اللہ کی طرف سے نازل ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۳۴
دوزخ دیکھ کر مشرکوں کا قیامت کی حقانیت کا اعتراف
 
دوسرا نمونہ؛ آیہ ۱۷-۲۰
نصیحت کرنے والوں کی توہین اور ان کی نصیحت نہ ماننا
 
بہانہ دوم؛ آیہ ۸-۱۰
قرآن پیغمبر کا کلام ہے
 
پہلی دلیل؛ آیہ ۳
وجہ تخلیق سے غفلت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۳۵
کافروں پر عذاب کا دن بہت جلدی آنے والا ہے
 
نمونہ سوم؛ آیہ ۲۱-۲۸
انبیاء کی تذکرات کے باوجود قوم عاد کی ناشایستہ حرکتیں
 
تیسرا بہانہ؛ آیہ ۱۱-۱۴
قرآن ماضی کے افسانوں میں سے ایک
 
دوسری دلیل؛ آیہ ۴
خلق میں اللہ کے شریک کا تخیل
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا نمونہ؛ آیہ ۲۹-۳۲
پیغمبر اسلام کے تذکر پر بعض جنات کے گروہ کی شایستہ حرکت
 
 
 
 
 
تیسری دلیل؛ آیہ ۵-۶
آخرت میں بتوں کا مشرکوں کی حمایت کا گمان


15ویں آیت امام حسین کی شان میں

امام صادقؑ سے منقول ایک حدیث میں آبا ہے کہ سورہ احقاف کی 15ویں آیت امام حسینؑ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ اس حدیث میں آیا ہے کہ جب امام حسینؑ حضرت فاطمہ(س) کے شکم مبارک میں تھے تو اس وقت پیغمبر اکرمؐ نے اپنی امت کے ہاتھوں آپ کے اس بیٹے کی شہادت کی خبر سنائی یہ حمل اور اس کا وضع حمل حضرت فاطمہ(س) کیلئے نہایت ناگوار گزری۔ اسی طرح امام حسینؑ کی حمل اور دودھ دینے کی مدت تیس مہینے تھی جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔[8]

فضیلت اور خواص

امام صادقؑ سے اس سورت کی فضیلت اور تلاوت کے بارے میں نقل ہوئی ہے کہ جو شخص ہر رات یا ہر جمعے کو اس سورت کی تلاوت کرے، خدا دنیا کی وحشت کو اس شخص سے دور کرے گا اور قیامت کی وحشت سے بھی اسے محفوظ رکھے گا۔[9] اسی طرح پیغمبر اکرمؐ سے بھی نقل ہوئی ہے کہ جو شخص "سورہ احقاف" کی تلاوت کرے، دینا میں موجود ریت کے ذرات کے دس گنا اسے حسنہ دیا جائے گا اور ہر ذرے کے مقابلے میں اس کے دس گناہ معاف کئے جائیں گے اور ہر ذرے کے مقابلے میں اس کے درجات میں دس درجہ اضافہ کیا جائے گا۔[10]

اس سورت کے بعض خواص بھی احادیث میں آیا ہے من جملہ یہ کہ: اگر کوئی اسے لکھ کر آب زمزم کے ساتھ دھو کر اس کا پانی پئے تو یہ چیز اس شخص کی نیک نامی، آبرومندی، محبوبیت اور قدرت حافظہ کا سبب بنے گا۔[11] اسی طرح جو شخص اس سورت کو لکھ کر اپنے یا کسی بچے کی گردن میں آویزان کرے یا اسے دھو کر اس کا پانی پئے تو یہ شخص قوی اور صحت مند جسم کا مالک ہو گا اور مذکورہ بچہ اسے لاحق خطرات اور مصیبتوں سے محفوظ رہے گا اور دودھ پینے والا بچہ گہوارے میں تیز بین آنکھوں کا مالک بنے گا۔[12]

تارخی واقعات اور داستانیں

  • بعض اجنہ کا قرآن سن کر اپنی قوم کو قرآن اور اسلام کی طرف دعوت دینا (آیت نمبر 29-32)۔


متن اور ترجمہ

سورہ احقاف
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

حم ﴿1﴾ تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ﴿2﴾ مَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى وَالَّذِينَ كَفَرُوا عَمَّا أُنذِرُوا مُعْرِضُونَ ﴿3﴾ قُلْ أَرَأَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمَاوَاتِ اِئْتُونِي بِكِتَابٍ مِّن قَبْلِ هَذَا أَوْ أَثَارَةٍ مِّنْ عِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿4﴾ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَومِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ ﴿5﴾ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاء وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ ﴿6﴾ وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءهُمْ هَذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ ﴿7﴾ أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَلَا تَمْلِكُونَ لِي مِنَ اللَّهِ شَيْئًا هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِ كَفَى بِهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴿8﴾ قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنْ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ ﴿9﴾ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ اللَّهِ وَكَفَرْتُم بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴿10﴾ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُونَا إِلَيْهِ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا بِهِ فَسَيَقُولُونَ هَذَا إِفْكٌ قَدِيمٌ ﴿11﴾ وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَى إِمَامًا وَرَحْمَةً وَهَذَا كِتَابٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا لِّيُنذِرَ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَبُشْرَى لِلْمُحْسِنِينَ ﴿12﴾ إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿13﴾ أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاء بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿14﴾ وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿15﴾ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ ﴿16﴾ وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَّكُمَا أَتَعِدَانِنِي أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتْ الْقُرُونُ مِن قَبْلِي وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ اللَّهَ وَيْلَكَ آمِنْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَيَقُولُ مَا هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ﴿17﴾ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِينَ ﴿18﴾ وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُوا وَلِيُوَفِّيَهُمْ أَعْمَالَهُمْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ﴿19﴾ وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَ ﴿20﴾ وَاذْكُرْ أَخَا عَادٍ إِذْ أَنذَرَ قَوْمَهُ بِالْأَحْقَافِ وَقَدْ خَلَتْ النُّذُرُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ﴿21﴾ قَالُوا أَجِئْتَنَا لِتَأْفِكَنَا عَنْ آلِهَتِنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ﴿22﴾ قَالَ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللَّهِ وَأُبَلِّغُكُم مَّا أُرْسِلْتُ بِهِ وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ ﴿23﴾ فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿24﴾ تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ رَبِّهَا فَأَصْبَحُوا لَا يُرَى إِلَّا مَسَاكِنُهُمْ كَذَلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ ﴿25﴾ وَلَقَدْ مَكَّنَّاهُمْ فِيمَا إِن مَّكَّنَّاكُمْ فِيهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَأَبْصَارًا وَأَفْئِدَةً فَمَا أَغْنَى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَا أَبْصَارُهُمْ وَلَا أَفْئِدَتُهُم مِّن شَيْءٍ إِذْ كَانُوا يَجْحَدُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُون ﴿26﴾ وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَى وَصَرَّفْنَا الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴿27﴾ فَلَوْلَا نَصَرَهُمُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّهِ قُرْبَانًا آلِهَةً بَلْ ضَلُّوا عَنْهُمْ وَذَلِكَ إِفْكُهُمْ وَمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ ﴿28﴾ وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنصِتُوا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَى قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ ﴿29﴾ قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَى مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَى طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿30﴾ يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ وَآمِنُوا بِهِ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿31﴾ وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللَّهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُ مِن دُونِهِ أَولِيَاء أُوْلَئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿32﴾ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿33﴾ وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَلَيْسَ هَذَا بِالْحَقِّ قَالُوا بَلَى وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ ﴿34﴾ فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِل لَّهُمْ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِّن نَّهَارٍ بَلَاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ ﴿35﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

حا۔ میم۔ (1) (یہ) کتابِ عزیز و حکیم (غالب اور بڑے حکمت والے خدا) کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ (2) ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کو پیدا نہیں کیا مگر حق و حکمت کے ساتھ اور ایک مقررہ مدت تک اور جو کافر لوگ ہیں وہ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں وہ اس سے رُوگردانی کرتے ہیں۔ (3) آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں سے کیا پیدا کیا ہے؟ یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کی کچھ شرکت ہے؟ میرے پاس پہلے کی کوئی کتاب لاؤ! یا کوئی عِلمی روایت(اور علمی ثبوت) لاؤ اگر تم سچے ہو۔ (4) اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اس کو جواب نہیں دے سکتے بلکہ وہ ان کی دعا و پکار سے غافل ہیں۔ (5) اور جب سب لوگ جمع کئے جائیں گے تو وہ (معبود) ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔ (6) اور جب ان کو ہماری واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو (یہ) کافر لوگ حق کے بارے میں کہتے ہیں جبکہ ان کے پاس آگیا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ (7) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس (رسول(ص)) نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟ آپ(ص) کہیے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو تم لوگ اللہ کے مقابلہ میں میرے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتے (ذرا بھی مجھے نہیں بچا سکتے) (قرآن کے متعلق) تم جن باتوں میں مشغول ہو وہ (اللہ) ان کو خوب جانتا ہے اور وہی میرے اور تمہارے درمیان بطور گواہ کافی ہے اور بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (8) آپ کہہ دیجئے کہ رسولوں(ع) میں سے میں کوئی انوکھا نہیں ہوں اور میں (از خود) نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیاجائے گا؟ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا اور میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جس کی مجھے وحی کی جاتی ہے اور میں نہیں ہوں مگر کھلا ہوا ڈرانے والا۔ (9) آپ کہیے کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ اگر وہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کیا درآنحالیکہ تم بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اس جیسی (کتاب پر) گواہی دے چکا اور ایمان بھی لا چکا مگر تم نے تکبر کیا؟ بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (10) اور کافر لوگ ایمان لانے والوں کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ (قرآن و اسلام) کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم پر سبقت نہلے جاتے اب چونکہ انہوں نے اس (قرآن) سے ہدایت نہیں پائی تو وہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے۔ (11) حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ(ع) کی کتاب (توراۃ) بھی راہنماورحمت تھی اور یہ کتاب (قرآن) تو اس کی تصدیق کرنے والی ہے (اور) عربی زبان میں ہے تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکوکاروں کے لئے خوشخبری ہے۔ (12) بےشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر اس (اقرار) پر ثابت و برقرار رہے تو انہیں کوئی خوف نہیں ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ (13) یہی لوگ بہشتی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ صِلہ ہے ان کے ان اعمال کا جو وہ (دنیا میں) کیا کرتے تھے۔ (14) اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اس کی ماں نے زحمت کے ساتھ اسے پیٹ میں رکھا اور زحمت کے ساتھ اسے جنم دیا اور اس کا حمل اور دودھ چھڑانا تیس مہینوں میں ہوا۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا (جوان ہوا) اور پورے چالیس سال کا ہوگیا تو اس نے کہا اے میرے پروردگار! تو مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیرے اس احسان کاشکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور یہ کہ میں ایسا نیک عمل کروں جسے تو پسند کرتا ہے اور میرے لئے میری اولاد میں بھی صالحیت پیدا فرما میں تیری بارگاہ میں توبہ (رجوع) کرتا ہوں اور میں مسلمانوں(فرمانبرداروں) میں سے ہوں۔ (15) یہی وہ لوگ ہیں جن کے بہترین اعمال کو ہم قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کرتے ہیں یہ بہشتیوں میں ہوں گے اس سچے وعدہ کی بناء پر جو برابر ان سے کیا جاتا رہا ہے۔ (16) اور جس نے اپنے والدین سے کہا تُف ہے تم پر کیا تم دونوں مجھ سے وعدہ کرتے ہو کہ میں (دوبارہ قبر سے) نکالا جاؤں گا۔ حالانکہ مجھ سے پہلے کئی نسلیں گزر چکی ہیں (اور کوئی ایک بھی زندہ نہ ہوا) اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے ہیں (اور کہتے ہیں) وائے ہو تجھ پر ایمانلے آ۔ بےشک اللہ کا وعدہ سچاہے(مگر) وہ کہتا ہے کہ یہ سب اگلے لوگوں کی (پرانی) کہانیاں ہیں۔ (17) یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کے قول (عذاب) کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔ ان گروہوں کے ساتھ جو جنوں اور انسانوں میں سے پہلے گزر چکے ہیں۔یقیناً وہ لوگ گھاٹے میں تھے۔ (18) اور ہر ایک کیلئے ان کے اعمال کے مطابق درجے ہوں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ مل جائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (19) اور جس دن کافروں کو دوزخ کے سامنے لایا جائے گا (تو ان سے کہا جائے گا کہ) تم اپنے حصے کی نعمتیں دنیاوی زندگی میںلے چکے اور ان سے فائدہ اٹھا چکے آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا بوجہ اس کے کہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے اور نافرمانیاں کرتے تھے۔ (20) (اے رسول(ص)) قومِ عاد کے بھائی (جنابِ ہود(ع)) کاذکر کیجئے جبکہ انہوں نے اپنی قوم کو مقامِ احقاف (ریت کے ٹیلوں والی بستی) میں ڈرایا تھا جبکہ بہت سے ڈرانے والے ان سے پہلے بھی گزر چکے اوران کے بعد بھی (جنابِ ہود(ع) نے کہا کہ) اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو (ورنہ) مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے (ہولناک) دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ (21) ان قوم والوں نے کہا کہ کیا تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ ہمیں اپنے معبودوں سے منحرف کردو۔ لاؤ ہمارے پاس وہ (عذاب) جس کی دھمکی تم ہمیں دیتے ہواگر تم سچے ہو۔ (22) جنابِ ہود(ع) نے کہا اس (نزولِ عذاب) کا علم تو بس اللہ کے پاس ہے میں تو صرف تم تک وہ (پیغام) پہنچا رہا ہوں جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں۔ لیکن میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم بالکل جاہل قوم ہو۔ (23) پس جب انہوں نے (عذاب) کو ایک بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ بادل تو ہم پر برسنے والا ہے بلکہ یہ وہ (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے (یہ تند و تیز) ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ (24) وہ اپنے پروردگار کے حکم سے ہر چیز کو تباہ و برباد کر دے گی۔ چنانچہ وہ ایسے ہو گئے کہ ان کے مکانوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہیں آتا تھا ہم مجرم قوم کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔ (25) ہم نے ان لوگوں کو ان کاموں کی قدرت دی تھی جو تمہیں بھی نہیں دی اور ہم نے ان کو کان، آنکھیں اور دل دیئے تھے مگر ان کے کانوں اور آنکھوں اور دلوں نے کچھ بھی فائدہ نہ پہنچایا کیونکہ وہ آیاتِ الہیہ کا انکار کیا کرتے تھے اور ان کو اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ (26) اور ہم نے تمہارے اردگرد کی کئی بستیوں کو ہلاک و برباد کر دیا اور ہم نے اپنی (قدرت کی) نشانیاں پھیر پھیر کر(مختلف انداز سے) پیش کیں تاکہ وہ باز آجائیں۔ (27) تو انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی جن کو انہوں نے خدا کے تقرب کیلئے معبود بنا رکھا تھا بلکہ وہ تو ان سے غائب ہو گئے، یہ تھا ان کا جھوٹ اور ان کا بہتان جو وہ باندھتے تھے۔ (28) اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے جنات کے کچھ افراد کو آپ(ص) کی طرف متوجہ کیا تاکہ وہ غور سے قرآن سنیں۔ پس وہ اس جگہ پہنچے (جہاں قرآن پڑھا جا رہاتھا) تو (آپس میں کہنے لگے) خاموش ہو کر سنو پس جب (قرآن) پڑھا جا چکا تو وہ اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر لوٹے۔ (29) انہوں نے کہا اے ہماری قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسٰی (ع)ٰ کے بعد نازل کی گئی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے (اور جو) حق اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ (30) اے ہماری قوم! اللہ کیطرف بلانے والے کی دعوت پر لبیک کہو اور اس پر ایمانلے آؤ۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے پناہ دے گا۔ (31) اور جو کوئی اللہ کی طرف بلانے والے کی آواز پر لبیک نہیں کہے گا تو وہ زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکتا (اس کے قابو سے باہر نہیں نکل سکتا) اور نہ اللہ کے سوا اس کے لئے کوئی مددگار و سازگار ہے ایسے لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔ (32) کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں ہے وہ اس پر قادر ہے کہ مُردوں کو زندہ کرے۔ ہاں بےشک وہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے۔ (33) اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے پیش کئے جائیں گے (ان سے کہا جائے گا) کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟ وہ کہیں گے کہ ہاں ہمیں قَسم ہے اپنے پروردگار کی! ارشاد ہوگا اپنے کفر و انکارکی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو۔ (34) (اے رسول(ص)) آپ(ص) اسی طرح صبر کریں جس طرح اولوالعزم رسولوں(ع) نے صبر کیا ہے اور ان کیلئے جلدی نہ کریں جس دن وہ دیکھیں گے (وہ عذاب) جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو وہ محسوس کریں گے کہ وہ (دنیا میں) دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ بس یہ پیغام پہنچا دینا ہے۔ انجامِ کار ہلاک و برباد وہی ہوں گے جو فاسق و فاجر ہیں۔ (35)

پچھلی سورت: سورہ جاثیہ سورہ احقاف اگلی سورت:سورہ محمد

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۱ـ۱۲۵۰۔
  2. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۱، ص۲۹۵-۲۹۶۔
  3. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۶۔
  4. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۱ـ۱۲۵۰۔
  5. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۱ـ۱۲۵۰۔
  6. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج‌۱۸، ص‌۱۸۵۔
  7. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  8. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۴۶۴۔
  9. بابایی، برگزیدہ تفسیر نمونہ، ۱۳۸۲ش، ج۴، ص۴۲۲
  10. طبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ۱۳۷۲ش، ج۹، ص۱۳۶
  11. نوری، مستدرک الوسائل، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۳۱۳
  12. بحرانی، البرہان فی تفسیر القرآن، ۱۴۱۶ق، ج۵، ص۳۵


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • بابایی، احمدعلی، برگزیدہ تفسیر نمونہ، تہران،‌دار الکتب الاسلامیہ، چاپ سیزدہم، ۱۳۸۲ش۔
  • بحرانی، سید ہاشم، البرہان فی تفسیر القرآن، تحقیق قسم الدراسات الاسلامیۃ موسسۃ البعثۃ، تہران، بنیاد بعثت، چاپ اول، ۱۴۱۶ق۔
  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، تہران: دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی جامعۀ مدرسین حوزہ علمیہ قم، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ق
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، با مقدمہ محمد جواد بلاغی، تہران، انتشارات ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ش
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، ۱۴۰۷ق۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چ۱، ۱۳۷۱ش۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران،‌ دار الکتب الاسلامیہ، چاپ اول، ۱۳۷۴ش۔
  • نوری، حسین بن محمد تقی، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، تحقیق مؤسسۃ آل البیت علیہم السلام، قم، مؤسسہ آل البیت علیہم السلام، چاپ اول، ۱۴۰۸ق۔

بیرونی روابط