روزہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکٰوۃحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
طہارت کے احکام
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاص
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

روزہ (عربی= صوم) اسلام کی اہم دینی عبادات میں سے ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ہر مکلف انسان خدا کی اطاعت کی خاطر صبح کی اذان سے مغرب کی اذان تک بعض چیزوں من جملہ کھانے اور پینے سے پرہیز کرے۔ روزہ اسلام کے فروع دین میں سے ہے جبکہ دیگر ادیان میں بھی روزہ مختلف صورتوں میں موجود تھا۔

اسلامی ثقافت میں، روزہ خدا سے تقرب حاصل کرنے، تقوا کے اعلی مراتب تک رسائی، معنوی اور روحانی امور کو کسب کرنے یا بعض گناہوں کے اثرات کو ختم کرنے نیز نیازمندوں اور محتاجوں سے شفقت اور مہربانی سے پیش آنے کا سبب بنتا ہے۔ روزہ فقہی اعتبار سے چار قسموں میں تقسیم ہوتا ہے: واجب، مستحب، حرام اور مکروہ۔ بعض روایات میں عرفانی اعتبار سے روزے کو عوامانہ روزہ، خواص کا روزہ اور خاص الخواص کا روزہ میں تقسیم کیا گیا ہے۔

رمضان المبارک کا روزہ اسلام کے ارکان میں سے ہے اور تمام مسلمانوں جو بالغ، عاقل، اور سالم ہوں، پر اس مہینے میں رزوہ رکھنا واجب ہے۔ رمضان المبارک کا روزہ ہجرت کے دوسرے سال شعبان المعظم کی 28 تاریخ کو سورہ بقرہ کی اس آیت: یا أَیهَا الَّذینَ آمَنُوا کتِبَ عَلَیکمُ الصِّیامُ کما کتِبَ عَلَی الَّذینَ مِنْ قَبْلِکمْ لَعَلَّکمْ تَتَّقُون کے نازل ہونے کے ساتھ ہر مسلمان پر واجب ہوا ہے اگرچہ بعد میں بعض دوسری آیات کے نازل ہونے کے ساتھ اس کے وجوب اور محرمات میں کم و بیش کچھ تبدیلیاں آئی ہیں۔

لغوی اور اصطلاحی معنا

لغت میں روزہ (صوم) سے مراد کسی کام سے پرہیز کرنے کو کہتے ہیں اور شریعت کی اصطلاح میں صبح کی اذان سے مغرب کی اذان تک روزہ کو باطل کرنے والی تمام چیزوں سے پرہیز کرنے کا نام روزہ کہلاتا ہے۔

گذشتہ امتوں میں

قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ یہ فریضہ دوسرے ادیان میں بھی موجود تھا۔[1] اس بنا پر اسلام اور دوسرے ادیان روزہ کے اصل وجوب میں یکساں ہیں لیکن خصوصیات میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اسلامی روایات کی روشنی میں پہلا شخص جس نے روزہ رکھا وہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں۔[2]

روزہ رکھنا یہودیوں کی عبادات میں سے ہے اور عہد قدیم میں اس کی طرف کئی بار اشارہ ہوا ہے۔ حضرت موسی نے خداوند عالم سے وحی دریافت کرنے سے پہلے چالیس دن تک دن رات کوہ سینا پر روزہ رکھا اور کھانے پینے کی چیزوں سے پرہیز کیا۔[3][4] [5]

یہودیت میں خدا سے نزدیک ہونے کا ایک متعارف کام روزہ رکھنا ہے۔ روزہ عِبری زبان، میں تعنیت؛ یعنی جسم کو تکلیف پہنچانے کے معنی میں ہے اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ دن بھر کھانے پینے کی چیزوں سے پرہیز کرنے کی وجہ سے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔عِبری کلینڈر میں ۶ دن واجب روزہ کے عنوان سے معین ہے۔ عہد جدید کے مطابق حضرت مریم روزہ رکھتی تھیں اور حضرت عیسی خود روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے شاگردوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے۔[6] (مزید تفصیل کیلئے رجوع فرمائیں)[7]

اسلام

رمضان المبارک کا روزہ تغییر کعبہ کے 13 دن بعد ہجرت کے دوسرے سال 28 شعبان کو واجب ہوا۔[8] [9] [10]اگرچہ اس سے پہلے بھی پیغمبر اکرم اور بعض دوسرے مسلمان روزہ رکھتے تھے۔

صدر اسلام میں روزہ داروں پر مذکورہ موارد کے علاوہ، اور دو چیزں کی رعایت ضروری تھی جن کا وجوب بعد میں نسخ ہوا:

  1. رمضان المبارک کی راتوں میں روزہ دار کو افطار کے بعد جب تک بیدار رہتے کھانے پینے کی اجازت تھی۔
  2. عورتوں سے ہم بستری رمضان المبارک کے دن اور رات دونوں کو حرام تھا۔

قرآن کی آیت[11] کے مطابق بعض صحابہ پیامبر اس مدت کے دوران ان موارد کے ارتکاب کے ذریعے خیانت کا مرتک ہوتے تھے۔[12]

پیغمبر اسلامؐ اس سوال کے جواب میں کہ کیوں اسلام میں روزہ 30 دن کا ہے؟ فرماتے ہیں کہ: جب حضرت آدم علیہ السلام نے ممنوعہ درخت سے پھل کھایا تو تو اس کا اثر 30 دن تک اس کے بدن میں موجود رہا۔ پس خداوند عالم نے فرزندان آدم پر 30 دن بھوک اور پیاس کو واجب کردیا ہے۔[13]

قرآن کی روشنی میں

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿١٨٣﴾ (ترجمہ: اے وہ لوگ جنہوں نے ایمان لایا ہے تمہارے اوپر روزہ واجب ہوا ہے جس طرح تم سے پہلے والے لوگوں پر واجب تھا تاکہ تم پرہیز گار بنو)

قرآن کی ۱۴ آیتوں میں روزہ کا تذکرہ آیا ہے۔ رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کا حکم اور اس سے مربوط دوسرے بہت سارے احکام کا تذکرہ سورہ بقرہ کی آیات ۱۸۳-۱۸۵، اور آیہ ۱۸۷ میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض دوسری آیات میں روزہ رکھنے کو بعض گناہوں کا کفارہ [14] یا حج کے بعض آداب آداب کا بدلہ قرار دیتی ہیں۔[15] ۔ «‌صائمون‌» اور «‌صائمات‌» (روزہ دار مرد اور روزہ دار عورت) قرآن کی سورہ احزاب آیہ نمبر ۳۵ میں انسان کے دو گروہ کے طور پر ذکر کیا ہے جنہیں خداوند عالم بخش دیتا ہے۔ سورہ مریم کی آیت نمبر 26 میں حضرت مریم نے خاموش رہنے کا عہد کیا جسے قرآن روزہ کے نام سے یاد کرتا ہے۔

روایات کی روشنی میں

روایات میں روزہ درج ذیل عناوین کے تحت آیا ہے:

  • اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے۔[16]
  • حکمت، معرفت قلبی اور یقین[17]
  • غنی اور فقیر کے درمیان مساوات کا عامل ہے۔[18]
  • وسیلہ امتحان و تثبیت اخلاص۔[19]
  • جہاد کی ایک قسم۔[20]
  • بدن کی زکات ۔[21]
  • قیامت کی بھوک اور پیاس کی یاد آوری۔[22]
  • قیامت کی بھوک اور پیاس کے درد سے رہائی [23]
  • جہنم کی آگ کے مقابلے میں ڈھال۔[24]
  • قیامت کے دن خوشی کا سبب[۔[25]
  • روزہ دار کے حق میں شفاعت کرنے والا۔[26]
  • دنیا اور آخرت کے غم و اندوہ سے نجات کا سبب۔[27]
  • افطار کے وقت دعا مستجات ہونے کا سبب۔[28]
  • بدن کی تندرستی کا سبب۔[29]
  • تقویت حافظہ۔[30]
  • دنیوی آفات کے مقابلے میں ڈھال۔[31]
  • دلوں کو آرام پہنچانے والا۔[32]
  • شیطان سے دوری کا سبب ہے۔[33]
  • خدا کا خصوصی جزا (یا یہ کہ خود خدا روزہ کا کوئی خاص جزا دیتا ہے۔)[[34]
  • بہشت کا رمضان المبارک میں روزہ رکھنے والوں کی طرف رغبت۔[35]
  • روزہ کا ترک کرنا بے ایمانی کی علامت۔[36]

روایات کی روشنی میں حقیقی روزہ یہ ہے کہ روزہ دار ان تمام چیزوں سے اجتناب کرے جن کو خدا پسند نہیں کرتا ہے۔[37] وہ روزہ جس میں انسان کے تمام اعضاء جیسے آنکھ، کان، ہاتھ اور پاؤں وغیرہ سب روزہ رکھے۔ [38] منہ کا روزہ پیٹ کے روزے سے بالاتر اور پیٹ کا روزہ دل کے روزے سے بالاتر معرفی ہوا ہے۔ [39]

مراتب روزہ

روزہ کے تین مراتب ہیں: عوامانہ روزہ، خواص کا روزہ اور خاص الخواص کا روزہ یا دل کا رزوہ۔

  • عوامانہ روزہ یہ ہے کہ انسان ان چیزوں سے اجتاب کرے جو روزہ کو باطل کرتی ہیں۔
  • خواص کا زوزہ یہ ہے کہ اس میں انسان مذکورہ موارد سے اجتناب کے علاوہ اس کے آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں اور دوسرے اعضاء و جوارح بہی روزہ رکھے۔ دن کو روزہ رکھے اور رات کو عبادت میں مشغول رہے اور لوگوں کی ایزا رسانی یا ان سے حسد کرنا وغیرہ کرنے سے پرہیز کرے۔ ذاتی دشمنیوں کو بالای طاق رکھے اور جس دن روزہ رکھتا ہے دوسرے ایام سے متفاوت اور مختلف ہو۔
  • خاص الخواص کا روزہ اس مرتبے میں مذکورہ بالا موارد کے ساتھ ساتھ انسان کا دل بھی روزہ رکھے یعنی اپنے دل کو غیر خدا کی طرف متوجہ ہونے سے پرہیز کرے اور اپنے نفس کو خواہشات اور غرایز سے دور رکھے یہاں تک کہ گناہ کا سوچ اور فکر بھی ذہن میں خطور نہ کرے۔

رمضان المبارک جو کہ روزہ رکھنے کا مہینہ ہے اخلاق اور رفتار پر بھی خاص توجہ دینا چاہئے امام صادق علیہ السلام سے منقول حدیث کے مطابق اس مہینے میں خوش اخلاقی انسان کا پل صراط پر ثابت قدم رہنے کا سبب بنتا ہے۔ [40]

روزہ رکھنے کا فلسفہ

روزہ رکھنے کے فلسفہ کے بارے میں قرآن کریم ، اسلامی روایات اور علماء کے فرامین میں بیانات موجود ہیں:

  • قرآن کریم روزہ کا حکم بیان کرتے ہوئے تقوا اور پرہیزگاری کو روزہ رکھنے کا فلسفہ بتاتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ(بقره، 183):
  • ارادے اور اخلاص کی تقویت اسی طرح عباتوں کے ساتھ لگاؤ پیدا ہونا بھی روزہ رکھنے کے اہم ترین فلسفوں میں سے ہے۔
  • روزہ رکھنے سے انسان بھوک اور پیاس کا احساس کرنے لگتا ہےجو باعث بنتا ہے کہ انسان آخرت اور قیامت کی جاودانہ زندگی کو یاد کرکے اس کیلئے تیاری کرے ۔ بھوک اور پیاس کی وجہ سے انسان کا تکبر اور غرور ختم ہوجاتاہے اور وہ دوسرے عبادات کی انجام دہی کیلئے آمادہ ہو جاتا ہے۔[41]
  • حدیث قدسی میں حکمت اور خدا کے بارے میں قلبی شناخت اور معرفت حاصل ہونے کو روزہ رکھنے کے فوائد میں شمار کیا ہےجس کا نتیجہ زندگی کی سختیوں میں روحانی طور پر سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔[42]
  • روزہ رکھنے سے روزہ داروں کے درمیان ایک قسم کی ایثار اور ہمدلی پیدا ہوتی ہے اور محروموں کے مدد اور ان کی خدمت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ روزہ رکھنے سے انسان کی زندگی میں نظم و ضبط آجاتی ہے اور اسے قناعت پیشہ کرنے کا سلیقہ آتا ہے نیز انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں گناہوں اور گرفتاریوں کے مقابلے میں صبر کرنے کا مادہ بھی روزہ رکھنے کے ذریعے ہی پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک میں سماجی مفاسد میں قابل توجہ کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ [43]
  • روزہ رکھنے سے جو صبر اور حوصلہ انسان میں پیدا ہوتا ہے اس سے انسان اپنی زندگی کے مقاصد میں کئی گنا پایداری اور استقامت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

اقسام روزہ

فقہی اعتبار سے روزہ کی چار قسمیں ہیں:

  1. واجب روزے۔
    1. رمضان المبارک کا روزہ۔
    2. قضا روزے۔
    3. باپ کے قضا روزے (اور ماں کے قضا روزے بھی)
    4. اعتکاف میں تیسرے دن کا روزہ
    5. حج میں قربانی کے بدلے میں رکھنے والے روزے۔42
    6. نذر اور قسم کا کفارہ
    7. عمدا واجب روزہ توڑنے کا کفارہ
  2. مستحب روزے:پورے سال میں روزہ رکھنا مستحب ہے سوائے ان دنوں کے جن میں روزہ رکھنا حرام ہے۔ البتہ بعض ایام میں روزہ رکھنے پر زیادہ تاکید کی گئی ہے جو درج ذیل ہیں:
    1. ہر قمری مہینے کے پہلی اور آخری جمعرات اور دسویں تاریخ کے بعد پہلا بدھ کا دن اسی طرح ہر مہینے کی 13 ، 14 اور 15 تاریخ۔
    2. رجب اور شعبان کا پورا مہینہ کہ جس کے ہر دن کی بہت فضیلت ہے۔
    3. شوال کی 4 تاریخ سے 9 تاریخ تک کا روزہ۔
    4. ذی قعدہ کی 25 ویں تاریخ (دحو الارض) اور اس مہینے کی 29 ویں تاریخ کا روزہ۔
    5. ذی الحجہ کی پہلی تاریخ سے 9ویں (عرفہ کا دن) تک کا روزہ لیکن اگر روزہ رکھنے کی وجہ سے دعائے عرفہ پڑھنے میں سستی آتی ہے تو اس دن کا #روزہ مکروہ ہے۔
    6. عید غدیر (18 ذی الحجہ ) کے دن کا رزوہ۔
    7. عید مباہلہ (24 ذی الحجہ) کے دن کا روزہ۔
    8. محرم الحرام کی پہلی، تیسری اور ساتھویں تاریخ کا روزہ۔
    9. پیغمبر اکرم(ص) کی ولادت (17 ربیع الاول) کے دن کا روزہ ۔
    10. جمادی الاول کی 15ویں تاریخ کا روزہ۔
    11. پیغمبر اکرم (ص) کی بعثت (27 رجب) کے دن کا روزہ۔
  3. مکروہ روزے۔
    1. عاشورا کے دن کا روزہ۔
    2. اس دن کا روزہ جس دن انسان کو شک ہو کہ عرفہ کا دن ہے یا عید قربان کا۔
    3. مہمان کا روزہ میزبان کی رضایت کے بغیر۔
  4. حرام روزے۔
    1. عید فطر اور عید قربان کا روزہ۔
    2. جس دن کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ شعبان کی آخری تاریخ ہے یا رمضان کی پہلی تاریخ اگر رمضان المبارک کی نیت سے روزہ رکھنا حرام ہے۔ لیکن اگر شعبان کی آخری تاریخ کی نیت سے روزہ رکھے تو صحیح ہے اور اگر بعد میں پتہ چلے کہ رمضان کی پہلی تاریخ تھی تو رمضان کا پہلا روزہ شمار ہوگا.
    3. جس شخص و یقین یا گمان ہو کہ روزہ میرے لئے مضر ہے اگر روزہ رکھے تو اس کا روزہ صحییح نہیں ہے۔
    4. سکوت کا روزہ یعنی دوسرے مطفرات روزہ سے پرہیز کرنے کے ساتھ ساتھ بات کرنے سے بھی پرہیز کی نیت کرے۔
    5. وصال کا روزہ یعنی عمدا دو دن کے روزوں کو بغیر افطار کے ملانا۔
    6. ایام تشریق کا روزہ ان لوگوں کیلئے جو منا میں ہوں۔
    7. مسافر کا روزہ۔[44]

اہم نکات:

  • جب تک انسان کے ذمہ کوئی واجب روزہ ہو وہ مستحب روزہ نہیں رکھ سکتا ہے۔
  • اگر کوئی مستحب روزہ رکھے تو ضروری نہیں ہے کہ اسے آخر تک پہنچائے بلکہ اگر کوئی مؤمن بھائی اسے دعوت دے تو ظہر سے پہلے ہو تو مستحب ہے کہ اس کی دعوت کو قبول کرے اور رزوہ افطار کرے۔
  • مسلمانوں میں یہ معمول ہے کہ نوجوانوں اور نابالغ بچوں کو کامل روزہ کی تمرین کی خاطر دن کے وقت سحری سے دوپہر کے کھانے تک یا دوپہر کے کھانے سے شام کے کھانے تک انہیں کوئی چیز نہیں کھلائے جاتے اس طرح انہیں روزہ رکھنے کی طرف مائل کیا جاتا ہے۔

جن افراد پر روزہ رکھنا واجب نہیں

  • بوڑھے افراد اور ایسے مریض جنہیں بیماری کے ٹھیک ہونے کی کوئی امید نہیں ہے اگر زوزہ رکھنا ان کے لئے مشکل ہو تو ان پر روزہ رکھنا واجب نہیں ہے۔ ان افراد پر روزہ کا قضا بھی واجب نہیں ہے لیکن ضروری ہے ک ہر دن کے بدلے میں ایک مد گندم یا جو کسی فقیر کو دے دیں.
  • حاملہ یا بچوں کو دودھ پلانے والی عورتیں اگر روزہ خود ان کیلئے یا ان کے بچوں کیلئے مضر ہو تو روزہ رکھنا ان پر واجب نہیں ہے لیکن بعد میں قضا کرنا ضروری ہے۔
  • ایسے افراد جنہیں مرض کے ٹھیک ہونے کی امید ہو یا وہ افراد جو بھوک اور پیاس کو برداشت نہیں کرسکتے روزہ توڑ سکتے ہیں اس شرط کے ساتھ کہ بعد میں قضا بجا لائے۔ اگر انسان کو جان کا اپنے بدن کے کسی عضو کے ناکارہ ہونے کا خطرہ ہو تو روزہ توڑنا واجب ہے۔
  • عورتوں پر حیض اور نفاس کی حالت میں روزہ رکھنا واجب نہیں ہے۔ لیکن بعد میں قضا کرنا ضروری ہے۔

نیت

روزے کی نیت کو زبان پر جاری کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ اگر دل قصد قربت کی نیت کے ساتھ روزے کی نوعیت کو معین کرے تو کافی ہے۔

نیت کا وقت

روزے کی نیت کا وقت اس طرح ہے:

  • رمضان المبارک کا روزہ::صبح کی اذان سے پہلے یا مہینے کی پہلی تاریخ کو پورے مہینے کی نیت کرے۔
  • قضا روزہ::اگر ظہر کی اذان سے تک کوئی ایسا کام انجام نہ دیا ہو جو روزے کو باطل کر دیتا ہے، تو قضا روزے کی نیت کرسکتا ہے۔
  • مستحب روزہ::اگر سورج غروب ہونے تک کوئی ایسا کام انجام نہ دیا ہو جو روزے کو باطل کر دیتا ہے، تو مستحب روزے کی نیت کرسکتا ہے۔

مُبطِلات روزه (روزہ کو باطل کرنے والی چیزیں)

9 چیزیں روزہ کو باطل کرتیں ہیں:

  1. کھانا اور پینا (طاقتی انجکشن وغیرہ میں مجتہدین کا اختلاف ہے)
  2. جماع
  3. خدا، پیغمبر(ص) اور اماموں کی طرف جھوٹ کی نسبت دینا۔
  4. مشہور فقہاء کے فتوے کے مطابق غلیظ غبار(جیسے سگریٹ کا دھواں) حلق تک پہنچانا۔
  5. صبح کی اذان تک جنابت، حیض یا نفاس کی حالت میں باقی رہنا۔
  6. استمنا۔
  7. مایعات کے ساتھ امالہ کرنا (بعض مجتہدین کے فتوے کی مطابق)۔
  8. عمداً قے کرنا۔
  9. پورا سر پانی میں ڈبونا (بعض مجتہدین کے فتوے کے مطابق)۔

کفارہ

رمضان المبارک میں کسی بیماری یا مسافرت کی وجہ سے اگر کوئی شخص روزہ افطار کرے یاروزہ نہ رکھے تو ماہ رمضان کے بعد اس کی قضا بجا لانا ضروری ہے۔ لیکن اگر دوسرے سال ماہ رمضان تک روزہ نہ رکھ سکے تو قضا کے علاوہ ہر روزہ کے بدلے ایک مد (750 گرام) آٹا، گندم، جو اور چاول وغیرہ کفارہ کے عنوان سے کسی فقیر کو دینا ضروری ہے۔

اگر کوئی شخص کسی شرعی غذر کے بغیر ماہ رمضان میں اپنا روزہ باطل کرے تو قضا کے علاوہ کفارہ کے طور پر ہر دن کے بدلے میں 60 مد کھانا (نہ اس کی قیمت) 60 مسکینوں کو کھلان، یا 60 دن روزہ جس میں 31 روزے پے در پے رکھنا واجب ہے، ضروری ہے(مشہور فقہاء کے فتوے کے مطابق)۔

اگر کسی حرام چیز کے ذریعے روزہ باطل کیا ہو تو کفارہ جمع دینا واجب ہے کفارہ جمع سے مراد یہ ہے کہ 60 فقیروں کو کھانا بھی کھلائے اور 60 دن روزہ بھی رکھا جائے اسی ترتیب کے مطابق جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔

اگر ماہ رمضان کے قضا روزے کو ظہر کی اذان کے بعد باطل کرے تو بہ عنوان کفارہ 10 فقیروں کو کھانا کھلانا ضروری ہے اگر یہ کام نہ کرسکے تو 3 دن روزہ رکھے۔

حوالہ جات

  1. سورہ بقرہ/ 183۔
  2. قال النبی(ص): إِنَّ آدَمَ ع لَمَّا أَکَلَ مِنَ الشَّجَرَةِ بَقِی فِی بَطْنِهِ ثَلَاثِینَ یوْماً فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَی ذُرِّیتِهِ ثَلَاثِینَ یوْماً الْجُوعَ وَ الْعَطَشَ جب حضرت آدم (ع) نے شجرہ ممنوعہ سے تناول کیا تو اس کا اثر 30 دن ان کے پیٹ میں باقی رہا اسے بعد خداوند عالم نے آدم اور اس کی اولاد پر 30 دن کی بھوک اور پیاس واجب کردی۔ من لایحضرہ الفقیہ ج۲ ص۷۴
  3. خروج ۳۴:۲۹
  4. داوود علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی بیماری کے دوران روزہ رکھا. دوم سموئیل ۱۲:۱۵
  5. یہوشافط نے یہودیہ کو موآبیوں اور عمونیوں پر فتح ملنے کے بعد چالیس دن روزہ رکھا۔ دوم تواریخ ۲۰:۳
  6. انجیل لوقا، ۵:۳۴
  7. http://www.hawzah.net/fa/magazine/view/3814/6939/83727
  8. بحارالانوارج۱۹، ص۱۳۹
  9. کافی ج۴ ص۳۷
  10. تاريخ‏ يعقوبى،ج‏2،ص42
  11. بقره:۱۸۷ أُحِلَّ لَکمْ لَیلَةَ الصِّیامِ الرَّفَثُ إِلی‏ نِسائِکمْ هُنَّ لِباسٌ لَکمْ وَ أَنْتُمْ لِباسٌ لَهُنَّ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّکمْ کنْتُمْ تَخْتانُونَ أَنْفُسَکم
  12. جوامع الجامع، ج۱، ص۱۰۶- وسائل الشیعہ، ج۷، ص۸۱
  13. من لایحضرہ الفقیهہ ج۲ ص۷۴.
  14. سورہ نسا آیہ ۹۲، سورہ مائدہ آیات ۸۹ و ۹۵، و سورہ مجادلہ آیہ ۴
  15. سورہ بقرہ آیہ ۱۹۶
  16. امام محمد باقر علیہ السلام: بُنِی الْإِسْلَامُ عَلَی خَمْسَةِ أَشْیاءَ عَلَی الصَّلَاةِ وَ الزَّکاةِ وَ الْحَجِّ وَ الصَّوْمِ وَ الْوَلَایة اسلام کی بنیاد پایچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ نماز، زکات، حج، روزہ اور ولایت۔(رہبری اسلامی). کافی (ط-الاسلامیہ) ج۴، ص۶۲.
  17. قَالَ النبی (ص): یا رَبِّ وَ مَا مِیرَاثُ الصَّوْمِ قَالَ الصَّوْمُ یورِثُ الحِکمَةَ وَ الحِکمَةُ تُورِثُ الْمَعْرِفَةَ وَ الْمَعْرِفَةُ تُورِثُ الْیقِینَ فَإِذَا اسْتَیقَنَ الْعَبْدُ لَا یبَالِی کیفَ أَصْبَحَ بِعُسْرٍ أَمْ بِیسْر پیامبر اکرم نے خدا سے سوال کیا: پروردگارا روزہ کا نتیجہ کیا ہے؟ خدانے فرمایا: روزہ کا نتیجہ حکمت ہے اور حکمت کا نتیجہ معرفت، اور معرفت کا نتیجہ یقین ہے. پس جب بھی کوئی شخص یقین کی منزل پر پہنچ جاتا ہے تو اسے فرق نہیں پڑھتا کہ دنیا اس پر سخت گزرے یا آسان۔ بحارالانوار ج۷۴ ص۲۷.
  18. امام صادق علیه‌السلام: إِنَّمَا فَرَضَ اللَّهُ (عَزَّ وَ جَلَّ) الصِّیامَ لِیسْتَوِی بِهِ الْغَنِی وَ الْفَقِیر خدا نے روزہ واجب کیا ہے تاکہ اس کے ذریعے غنی اور فقیر مساوی ہو جائے۔ من لا یحضرہ الفقیہ ج۲ ص۷۳، ح ۱۷۶۶.
  19. امام علی علیه‌السلام: فرض الله...َ الصِّیامُ ابْتِلَاءً لِإِخْلَاصِ الْخَلْق خدانے روزہ واجب کیا تاکہ اس کے ذریعے بندوں کی اخلاص کی آزمائش کیا جاسکے۔ نہج البلاغہ (صبحی صالح) ص۵۱۲، ح ۲۵۲ - تصنیف غررالحکم و دررالکلم ص۱۷۶، ح ۳۳۷۶؛ حضرت زہرا (س) روزہ کے بارے میں فرماتی ہیں: فَرَضَ اللّهُ الصِّیامَ تَثْبیتا لِلْأخْلاصِ خدا نے روزے کو اخلاص کی تثبیت کیلئے واجب کیا ہے۔ بحار، ج۹۳، ص۳۶۸.
  20. حضرت محمد صلی الله علیه و آله و سلم: الصَّوْمُ فِی الْحَرِّ جِهَاد گرمیوں میں روزہ رکھنا جہاد ہے۔ بحار الانوار (ط-بیروت) ج۹۳، ص۲۵۷، ح ۱۴.
  21. حضرت محمد صلی الله علیه و آله و سلم: لِکلِّ شَی‏ءٍ زَکاةٌ وَ زَکاةُ الْأَبْدَانِ الصِّیام ہر چیز کی ایک زکات ہوتی ہے اور بدن کی زکات روزہ ہے۔من لا یحضرہ الفقیہ ج۲، ص۷۵، ح ۱۷۷۴.
  22. امام رضا علیه‌السلام: إِنَّمَا أُمِرُوا بِالصَّوْمِ لِکی یعْرِفُوا أَلَمَ الْجُوعِ وَ الْعَطَشِ فَیسْتَدِلُّوا عَلَی فَقْرِ الْآخِرَة لوگوں پر روزہ واجب کی گئی ہے تاکہ بھوک اور پیاس کا احساس ہو جس کے ذریعے قیامت کی بیچارگی اور فقر یاد آجائے۔ وسایل الشیعہ ج۱۰، ص۹، ح ۱۲۷۰۱.
  23. حضرت محمد صلی الله علیه و آله و سلم: طُوبَی لِمَنْ ظَمَأَ، أَوْ جَاعَ لِلَّهِ، أُولَئِک الَّذِینَ یشْبَعُونَ یوْمَ الْقِیامَة- خوشخبری ہے اس شخص کیلئے جس نے خدا کی خاطر بھوک اور پیاس کو برداشت کیا یہ لوگ قیامت کے دن سیر اور سیراب ہونگے۔ ہدایۃ الامظ الی احکام الائمۃ ج۴، ص۲۶۸، ح ۹.
  24. حضرت محمد صلی الله علیه و آله و سلم: الصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّار روزہ جہنم کی آگ کے مقابلے میں ڈھال ہے۔ یعنی روزہ رکھنے کے ذریعے انسان جہنم کی آگ سے بچ سکتا ہے۔کافی (ط-الاسلامیہ) ج۴، ص۶۲، ح ۱ - تحف العقول ص۲۵۸؛ امام سجاد علیه‌السلام: وَ أَمَّا حَقُّ الصَّوْمِ فَأَنْ تَعْلَمَ أَنَّهُ حِجَابٌ ضَرَبَهُ اللَّهُ عَلَی لِسَانِک وَ سَمْعِک وَ بَصَرِک وَ فَرْجِک وَ بَطْنِک لِیسْتُرَک بِهِ مِنَ النَّار روزہ کا حق یہ ہے کہ جان لینا چاہئے کہ یہ ایک ایسا پردہ ہے جسے خدا نے آنکھ، کان، زبان اور دوسرے اعضاء و جوارح کے اوپر لٹکا دیا ہے تاکہ تمہیں جہنم کی آگ سے محفوظ رکھ سکے۔ تحف العقول ص۲۵۸.
  25. امام صادق علیه‌السلام: لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ وَ فَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّه روزہ دار کیلئے دو خوشی حاصل ہوتی ہے: 1- افطار کے وقت۔ 2- پروردگار عالم کے ساتھ ملاقات کے وقت (مرتے وقت اور قیامت کے دن) کافی (ط-الاسلامیہ) ج۴، ص۶۵.
  26. پیامبر اکرم(ص) نے فرمایا: الصیام و القرآن یشفعان للعبد یوم القیامة، یقول الصیام،‌ای ربّ منعته الطعام و الشهوة فشفعنی فیه و یقول القرآن منعته النوم باللیل فشفعنی فیه قال: فیشفعان روز اور قرآن قیامت کے دن انسان کی شفاعت کرتے ہیں، روزہ کہتا ہے: میرے معبود اس شخص کو کھانے پینے اور غرائز سی دور رکھا پس مجھے اس کیلئے شفیع قرار دیں۔ قرآن کہتا ہے اس شخص کو رات کی نیند سے منع کیا پس مجھے اجازت دی جئے کہ میں اس کی شفاعت کروں۔ اس وقت خدا ان دونوں کو شفاعت کی اجازت دے دیتا ہے اور یہ دونوں انسان کی شفاعت کرتے ہیں۔
  27. امام صادق علیه‌السلام: وَ اسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلاةِ قال الصبر الصوم‏ یہ جو خداوند عزو جل فرماتے ہیں کہ: صبر اور نماز سے مدد طلب کریں، صبر، سے مراد روزہ ہے۔ تفسیر قمی ج۱، ص۴۶ - تفسیر عیاشی ج۱، ص۴۴، ح ۴۱.
  28. امام موسی کاظم علیه‌السلام: دَعْوَةُ الصَّائِمِ تُسْتَجَابُ عِنْدَ إِفْطَارِه‏ روزہ دار شخص کی دعا افطار کے وقت مستجاب ہوتی ہے۔ بحار الانوار (ط-بیروت) ج۹۳، ص۲۵۵، ح ۳۳.
  29. حضرت محمد صلی الله علیه و آله و سلم: صوموا تَصِحّوا روزہ رکھو تاکہ تندرست رہ سکو۔ نہج الفصاحہ ص۵۴۷، ح ۱۸۵۴.
  30. عَنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ ع قَالَ: ثَلَاثٌ یذْهَبْنَ بِالْبَلْغَمِ وَ یزِدْنَ فِی الْحِفْظِ السِّوَاک‏ وَ الصَّوْمُ‏ وَ قِرَاءَةُ الْقُرْآن مکارم الاخلاق ص۵۱.
  31. امام صادق علیه‌السلام: اَلصَّومُ جُنَّةٌ مِن آفاتِ الدُّنیا وَ حِجابٌ مِن عَذابِ الآخِرَةِ روزہ دنیوی آفات کے مقابلے میں ڈھال ہےاور آخرت کے غذاب کے مقابلے میں پردہ ہے۔ مصباح الشریعہ ص۱۳۵ - مستدرک الوسائل و مستنبط المسایل ج۷، ص۳۶۹، ح۸۴۴۱.
  32. امام باقر علیه ‏السلام: اَلصّیامُ وَ الْحَجُّ تَسْکینُ الْقُلوبِ روزہ اور حج دلوں کو آرام بخشنے والا ہے۔ امالی (طوسی) ص۲۹۶، ح ۵۸۲.
  33. حضرت محمد صلی الله علیه و آله و سلم: اَلا اُخْبِرُکمْ بِشَی‏ءٍ اِنْ اَنـْتُمْ فَعَلْتُموهُ تَباعَدَ الشَّیطانُ مِنْـکمْ کما تَباعَدَ الْمَشْرِقُ مِنَ الْمَغْرِبِ؟ قالوا: بَلی، یا رسول اللّه قالَ: اَلصَّوْمُ یسَوِّدُ وَجْهَهُ وَ الصَّدَقَةُ تَـکسِرُ ظَهْرَهُ وَ الْحُبُّ فِی اللّه‏ِ وَ الْمُوازَرَةُ عَلَی الْعَمَلِ الصّالِحِ یقْطَع دابِرَهُ وَ الاْسْتِغْفارُ یقْطَعُ وَ تینَهُ و لکلّ شی‏ء زکاة و زکاة لأبدان الصّیام کیا تمہیں ایک ایسی چیز کی خبر نہ دوں؟ اگر اس پر عمل پیرا ہوں تو شیطان تم سے دور ہوجائے اس طرح کہ جس طرح مشرق سے مغرب کا فاصلہ ہے؟ عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ: فرمایا روزہ شیطان کے منہ کو کالا کردیتا ہے۔ صدقہ اس کی کمر توڑ دیتا ہے۔ خدا کی خاطر کسی سے دوستی کرنا اور اچھے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا اس کے جڑوں کو خشکا دیتا ہے اور خدا سے استغفار اس کے شہ رگ کو کاٹ دیتی ہے۔ اور ہر چیز کی کوئی زکات ہوتی ہے اور بدن کی زکات روزہ ہے۔ منہاج البراعہ ج۷، ص۴۲۶.
  34. حضرت محمد صلی الله علیه و آله و سلم: قَالَ اللَّهُ تَبَارَک وَ تَعَالَی الصَّوْمُ لِی وَ أَنَا أَجْزِی بِه خداوند تبارک و تعالی فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کا جزا دینے والا ہوں۔ من لا یحضرہ الفقیہ ج۲، ص۷۵، ح ۱۷۷۳.
  35. پیامبر صلی الله علیہ و آلہ فرماتے ہیں: انَّ الجنّةَ مُشتاقةٌ اِلی اَربعةِ نفرٍ: الی مُطعم الجیعانِ و حافِظِ الِلّسان و تالِی القرآنِ و صائِمِ شهرِ رمضان بهشت چار اشخاص کا مشتاق ہے، جو شخص کسی بھوکے کو سیر کرائے۔ وہ جو اپنی زبان کو کنٹرول کرے۔ وہ جو قرآن کی تلاوت کرے اور ایسا شخص جو رمضان المبارک میں زوزہ رکھے ۔
  36. امام صادق علیه‌السلام: مَنْ أَفْطَرَ یوْماً مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ خَرَجَ رُوحُ الْإِیمَانِ مِنْه‏ جو شخص رمضان المبارک میں (بغیر کسی غذر کے) ایک دن روزہ نہ رکھے تو ایمان کی روح اس سے جدا ہوجاتی ہے۔ من لا یحضره الفقیه ج۲، ص۱۱۸، ح ۱۸۹۲.
  37. امام علی علیه‌السلام: لیس الصوم الإمساک عن المأکل و المشرب الصوم الإمساک عن کل ما یکرهه الله سبحانه روزہ فقط کھانے اور پینے سے خوداری کرنا نہیں ہے بلکہ روزہ ان تمام چیزوں سے اجتناب کا نام ہے جسے خدا وندعالم پسند نہیں کرتا ہے۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) ج۲۰، ص۲۹۹، ح ۴۱۷
  38. امام صادق علیه‌السلام: اِذا صُمتَ فَلیصُم سَمعَک وَ بَصرَک وَ شَعرَک وَ جِلدَک جب بھی روزہ رکھو تو تمہارے آنکھ، کان، بال، اور کھال سب کے سب روزہ رکھے۔(یعنی گناہوں سے پرهیز کیا جائے) کافی (ط-الاسلامیہ) ج۴، ص۸۷
  39. حضرت علی علیه‌السلام: صَوْمُ الْقَلْبِ خَیرٌ مِنْ صِیامِ اللِّسَانِ وَ صِیامُ اللِّسَانِ خَیرٌ مِنْ صِیامِ الْبَطْن دل کا روزہ زبان کے روزے سے بهتر ہے اور زبان کا اور زبان کا روزہ پیٹ کے روزے سے بہتر ہے۔ تصنیف غررالحکم و دررالکلم ص۱۷۶، ح ۳۳۶۳
  40. شیخ صدوق (رَحمَة‌ُالله) به سند معتبر از پیامبر (صَلَی اللهُ عَلیه وَآله وسَلم) روایت می‌کند که فرمود: أَیهَا النَّاسُ مَن حَسَّنَ مِنکُم فِی هَذَا الشَِهرِ خُلُقَهُ کَانَ لَهُ جَوَازٌ عَلَی الصِّرَاطِ یومَ تَزِلُّ فِیهِ الأَقدَامُ وَ مَن خَفَّفَ فِی هَذَا الشَّهرِ عَمَّا مَلَکَت یمِینُهُ خَفَّفَ اللهُ عَلَیهِ حِسَابَهُ وَ مَن کَفَّ فِیهِ شَرَّهِ کَفَّ اللهُ عَنهُ غَضَبَهُ یومَ یلقَاهُ۔تم میں سے جو بھی اس مہینے (رمضان) میں اپنا اخلاق ٹھیک کرے تو جس دن پل صراط سے سب کے پاؤں پھسل جاتے ہیں اس دن پل صراط سے گذرنے کا اجازت نامہ ہے۔ اور تم میں سے جو بھی اپنے غلاموں اور کنیزوں سے نرمی سے پیش آئے تو خداوند عالم قیامت کے دن اس کے حساب میں بھی آسانی کر دیتا ہے۔ أمالی شیخ صدوق، ص۱۵۴؛ روضة الواعظین، ج۲، ص۳۴۶.
  41. بحارالانوار، ج۵۵، ص۳۴۱؛ بحارالانوار ج۹۳، ص۳۷۰.
  42. قَالَ یا رَبِّ وَ مَا مِیرَاثُ الصَّوْمِ قَالَ الصَّوْمُ یورِثُ الحِکمَةَ وَ الحِکمَةُ تُورِثُ الْمَعْرِفَةَ وَ الْمَعْرِفَةُ تُورِثُ الْیقِینَ فَإِذَا اسْتَیقَنَ الْعَبْدُ لَا یبَالِی کیفَ أَصْبَحَ بِعُسْرٍ أَمْ بِیسْر پیغمبر اکرم(ص) نے خداوند عالم سے سوال کیا: پروردگارا زوزہ کا نتیجہ کیا ہے؟ خداوند عالم نے فرمایا: روزہ کا نتیجہ حکمت ہے اور حکمت کا نتیجہ معرفت، اور معرفت کا نتیجہ یقین ہے۔ پس جب یھی بندہ یقین کی منزل پر پہنچتا ہے تو اس کے لئے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دنیا اس پر سخت گذرتی ہے یا آسان۔ بحارالانوار ج۷۴ ص۲۷.
  43. بقره:۱۹۶ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیسَرَ مِنَ الْهَدْی فَمَنْ لَمْ یجِدْ فَصِیامُ ثَلاثَةِ أَیامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ إِذا رَجَعْتُمْ تِلْک عَشَرَةٌ کامِلَةٌ ذلِک لِمَنْ لَمْ یکنْ أَهْلُهُ حاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرام پس جس کے پاس قربانی نہ ہو وہ تین حج کے دوران تین دن اور جب حج سے واپس آئے تو سات دن روزہ رکھے یہ دس دن کامل ہے۔
  44. طباطبایی، ج3، ص662