حوالہ جاتی اصول کی عدم رعایت

ایام فاطمیہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہد میں ایام فاطمیہ کی عزاداری

ایام فاطمیہ حضرت فاطمہ زہراؑ کی شہادت کے ایام کو کہا جاتا ہے جن میں اہل تشیع آپ کی شہادت کی مناسبت سے عزاداری کرتے ہیں۔ حضرت زہراءؑ کی تاریخ شہادت کے بارے میں 13 جمادی‌ الاول و 3 جمادی‌ الثانی دو قول پائے جاتے ہیں جبکہ دوسرا قول زیادہ مشہور ہے۔ 11 جمادی الاول تا 13 جمادی الاول کو پہلا فاطمیہ اور تین سے پانچ جمادی الثانی کو فاطمہ دوم کہا جاتا ہے۔

بعض ممالک جیسے؛ ایران، عراق، پاکستان اور آذربایجان میں ایام فاطمیہ میں عزاداری برپا ہوتی ہے۔ ایران میں 3 جمادی الثانی کو سرکاری چھٹی ہوتی ہے اور بعض مراجع تقلید جلوس میں شرکت کرتے ہیں۔

ایام فاطمیہ کون سے دن ہیں؟

ایام فاطمیہ میں شیعہ مراجع تقلید کے ننگے پاؤں پیدل چلنے کے مناظر

ایام فاطمیہ وہ ایام ہیں جن میں جناب سیدہ فاطمہ زہراؑ کی شہادت کی مناسبت سے شیعہ عزاداری برپا کرتے ہیں۔[1] 11 جمادی الاول اور 3 جمادی ثانی کو آپؑ کی شہادت نقل ہونے کی وجہ سے ان تاریخوں کو فاطمیہ اول اور فاطمیہ دوم نام دیا جاتا ہے۔ 11، 12 اور 13 جماد الاول کو فاطمیہ اول اور 3، 4 اور 5 جمادی الثانی کو فاطمیہ دوم نام دیا گیا ہے۔[2] البتہ بعض دس سے بیس جمادی الاول تک فاطمیہ اول اور یکم سے دس جمادی الثانی تک فاطمیہ دوم کہتے ہیں۔[3]

حضرت فاطمہؑ کی تاریخ شہادت کے بارے میں اختلاف ہے۔ اسماعیل انصاری زنجانی (متوفی 1388ش) نے اپنی کتاب الموسوعة الکبری عن فاطمة الزهراءؑ میں آپ کی تاریخ شہادت کے بارے میں 21 قول نقل کیا ہے۔[4] دانشنامه فاطمی کے مؤلفین میں سے سید محمدجواد شبیری کہتے ہیں کہ شیعوں کے ہاں آپ کی تاریخ شہادت مشہور وہی 3 جمادی الثانی ہے۔[5] آپ نے اس قول کو امام صادقؑ کی ایک روایت سے مستند کیا ہے جو دلائل الامامہ[6] ذکر ہوئی ہے۔[7]

فاطمیہ اول

مختلف تاریخی اقوال میں سے ایک قول کی بنا پر حضرت فاطمہ(س) کی شہادت پیامبر اسلامؐ کی شہادت کے 75 دن بعد یعنی 13 جمادی الاول کو واقع ہوئی ہے۔[8] اس لئے اہل تشیع اس دن اور اس دن سے کچھ پہلے اور بعد کے ایام کو پہلا ایام فاطمیہ کہتے ہیں۔ بعض علاقوں میں، حضرت صدیقہ طاہرہؑ کی عزاداری پہلے فاطمیہ سے شروع ہو کر دوسری فاطمیہ تک جاری رہتی ہے۔[حوالہ درکار]

اہل تشیع مذکورہ ایام اور ان سے کچھ دن پہلے اور کچھ دن بعد مسجدوں، امام بارگاہوں اور گھروں میں مجالس اور ذکر مصائب کا اہتمام کرتے ہیں۔[حوالہ درکار]

فاطمیہ دوم

ابو بصیر نے امام صادق(ع) سے حدیث نقل کی ہے کہ حضرت فاطمہ(س) کی شہادت 3 جمادی الثانی بروز منگل کو ہوئی تھی۔[9]

عام طور پر ایام فاطمیہ دوم کی عزاداری زیادہ اہتمام کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ آیت اللہ حاج شیخ عبد الکریم حائری کی زعامت میں حوزہ علمیہ قم کی بنیاد پڑنے کے بعد ان ایام میں عزاداری کو دوبارہ احیاء کیا گیا۔ [10]

ایران میں سرکاری چھٹی

سنہ 1379ھ ش سے اسلامی جمہوریہ ایران میں 3 جمادی الثانی کو حضرت فاطمہ زہراء(س) کی شہادت کے دن سرکاری طور پر چھٹی کا اعلان کیا گیا۔اس چھٹی کی تجویز اہل تشیع کے مرجع تقلید حضرت آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی نے وقت کے صدر مملکت جناب سید محمد خاتمی کو دی اور حکومت کی طرف سے یہ چھٹی منظور کی گئی۔[11]

اس چھٹی کے اعلان کے بعد ایران میں ایام فاطمیہ میں عزادری کو مزید زور و شور سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو اہل تشیع کے بعض بزرگ مراجع عام لوگوں کے ساتھ پیدل جلوس پر نکلتے ہیں اور بعض اوقات ننگے پاؤں جلوس کے آگے آگے چلتے ہیں۔ یہ جلوس مختلف راستوں سے ہوتا ہوا مشہد مقدس میں امام رضا(ع) کے حرم اور قم المقدسہ میں حضرت معصومہ(س) کے حرم پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔[12]

عزاداری کی مدت

پاکستان میں ایام فاطمیہ کی عزاداری

اہل تشیع کی نظر میں عزاداری کے لئے کوئی خاص مدت مقرر نہیں ہے اور پہلا عشرہ یا دوسرا عشرہ جو محرم کی طرح منایا جاتا ہے اس بارے میں کوئی خاص روایت نہیں ملتی۔ لیکن حضرت فاطمہ(س) کا رسول خداؐ کی بیٹی ہونے کی وجہ سے آپ کو جو مقام اور عظمت نصیب ہوئی اور امیر المومنین علیؐ کی امامت اور ولایت کا دفاع کرنے کی وجہ سے جو مصائب آپ پر وارد ہوئے شاید یہ چیزیں سبب ہوں کہ آپ کی شہادت کے دن کو اس قدر اہتمام سے منایا جاتا ہے۔[حوالہ درکار]

مختلف شہروں میں ایام فاطمیہ کے دو عشروں کے درمیان اختلاف ہے لیکن عام طور پر 75 دن کے قول کے مطابق، 10 جمادی الاول سے 20 جمادی الثانی تک فاطمیہ اول، اور 95 دن کے قول کے مطابق، یکم جمادی الثانی سے 10 جمادی الثانی تک کو فاطمیہ دوم کہا جاتا ہے۔[13]

اہل تشیع کے کچھ مراجع تقلید دونوں ایام میں تین دن مجالس عزا کا انعقاد کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔ اس طرح 13،14،15 جمادی الاول کو فاطمیہ اول، اور 1،2،3 جمادی الثانی کوفاطمیہ دوم کے عنوان سے عزادری منایا جاتا ہے۔۔[14]

دیگر ممالک میں فاطمیہ

عراق، پاکستان[15]، آذربایجان، تاجکستان[16] اور اسٹریلیا[17] وغیرہ میں بھی ایام فاطمیہ کے حوالے سے عزاداری منعقد ہوتی ہے۔

اسی طرح یورپ میں ہامبرگ اسلامک سنٹر [18]، انگلستان اسلامک سنٹر[19]، استکہلم امام علی اسلامک سنٹر[20] وغیرہ میں بھی ان ایام میں عزاداری منعقد ہوتی ہے۔ ان ملکوں میں ایام فاطمیہ کے حوالے سے تین سے پانچ دن تک عزاداری منعقد ہوتی ہے۔

فوٹو گیلری

حوالہ جات

  1. مظاہری، فرہنگ سوگ شیعی، ویراست یکم، ص۳۶۵.
  2. مظاہری، فرہنگ سوگ شیعی، ویراست یکم، ص۳۶۶.
  3. ملاحظہ کریں: لطفی، «ایام فاطمیہ و مناسک شکل‌یافتہ پیرامون آن»، ص۲۵.
  4. انصاری زنجانی، الموسوعة الکبری عن فاطمة الزهراء(س)، دلیل ما، ج۱۵، ص۲۳.
  5. شبیری، «شہادت فاطمہ(س)»، ص۳۴۷.
  6. طبری امامی، دلائل الامامہ، ۱۴۱۳ق، ص۱۳۴.
  7. شبیری، «شہادت فاطمہ(س)»، ص۳۴۷.
  8. اصول کافی کلینی، ج ۱، ص۲۴۱، ح ۵
  9. دلائل الامامہ، طبری، ص۱۳۴
  10. مجلہ حوزہ سال 21، نمبر 5،رضوی، ص۱۵۱- ۱۵۴
  11. فارس خبررساں ایجنسی
  12. ۔ابنا خبررساں ایجنسی
  13. سوال سیٹی
  14. ۔فردا خبررساں ایجنسی
  15. خبرگزاری جمہوری اسلامی
  16. 1
  17. خبرگزاری ابنا
  18. شیعہ نیوز
  19. باشگاہ خبرنگاران جوان
  20. شیکہ خبر


بیرونی لنک

ایام فاطمیہ میں مراجع تقلید کی جلوس میں شرکت

ایام فاطمیہ میں مراجع تقلید کی جلوس میں شرکت