عید فطر

ویکی شیعہ سے
کینڈا میں عید فطر اور عید قربان کی مناسبت سے چھپوایا گیا ڈاک ٹکٹ

عید فطر شوال کی پہلی تاریخ اور مسلمانوں کی سب سے بڑی عیدوں میں سے ہے۔ شیعہ ائمہؑ سے منقول روایات کے مطابق عید فطر ان لوگوں کے لئے عید ہے جن کے روزے اور عبادتیں قبول ہوئی ہیں۔ اس دن کو اس لئے عید قرار دیا گیا ہے کہ مسلمان جمع ہو کر اللہ کی حمد و ثنا کریں۔ عید فطر کے دن روزہ رکھنا حرام ہے اور فطرہ دینا ہر مسلمان پر واجب ہے۔

عید فطر کی رات اور دن کے مختلف آداب اور احکام بیان ہوئے ہیں؛ من جملہ ان میں مستحب نمازیں اور دعائیں پڑھنا، قرآن کی تلاوت کرنا، غسل، زیارت امام حسین(ع)، شب بیداری اور خاص تکبریں کہنا شامل ہیں۔ اسلامی ممالک میں اس دن عام تعطیل ہوتی ہے۔ اس دن مسلمان عید فطر کی باجماعت نماز پڑھتے ہیں اور اپنے آداب و رسوم کے ساتھ جشن مناتے ہیں۔

اہمیت اور عظمت

عید الفطر شوال کا پہلا دن ہے اور اسلامی روایات میں اسے اللہ کی طرف سے انعام،[1] نیک اعمال کے بدلے[2] اور گناہوں کی بخشش کے دن[3] کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ امام علیؑ سے منقول ایک روایت کے مطابق عید الفطر، اس شخص کی عید ہے جس کے روزے اور عبادت کو خدا نے قبول کیا ہو۔[4] امام رضاؑ سے منقول ایک اور روایت میں ہے کہ عید الفطر کا دن اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ مسلمان اس دن جمع ہوں اور خدا کی نعمتوں پر اس کی حمد و ثنا کریں اور اسی لیے عید الفطر کی نماز میں باقی دنوں کی نسبت زیادہ تکبیر قرار دیا ہے۔[5]

نام

"فِطر" کا لفظ فَطر سے مأخوذ ہے، جس کے معنی کسی چیز کے کھلنے، ابتداء اور ایجاد کے ہیں۔[6] کہا گیا ہے کہ عید فطر بھی اسی لفظ سے ہے؛ کیونکہ روزہ دار عیدالفطر کے دن کھانے پینے کے لیے اپنا منہ کھولتا ہے۔[7]

احکام

تہران مصلا امام خمینی میں آیت‌اللہ خامنہ‌ای کی امامت میں عید کی نماز (سنہ 1437ھ) [8]

نیز مراجع تقلید کے فتویٰ کے مطابق زکوٰۃ الفطر کی ادائیگی کا وقت عید الفطر کے دن دوپہر تک ہے؛[10] البتہ ان میں سے آیت اللہ سید موسیٰ شبیری زنجانی نے پورے دن کو فطرہ کی ادائیگی کا وقت قرار دیا ہے۔[11] البتہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی عید الفطر کی نماز پڑھتا ہے تو نماز سے پہلے اپنی زکوٰۃ ادا کرے یا بعض فتاویٰ کے مطابق اسے اپنے مال سے الگ کر دے۔[12]

  • نماز عید: عصر غیبت میں نماز عید پڑھنا مستحب ہے اور امامؑ کے حضور اور ان کی حکومت میں واجب ہے۔[13]
  • روزہ گرفتن: عید فطر کے دن روزہ رکھنا حرام ہے۔[14]

اعمال اور آداب

عید کی رات

دعا کی کتابوں میں عید فطر کی رات کے لئے کچھ اعمال اور آداب ذکر ہوئے ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  • نماز، تلاوت قرآن اور دعا۔[15]
  • رؤیت ہلال کے دوران چاند دیکھنے کی دعا پڑھنا۔[16]
  • زیارت امام حسینؑ.[17]
  • غسل کرنا: عید فطر کی رات غسل کرنے کا وقت مغرب کے ابتدا سے صبح کی اذان تک ہے۔[18]
  • نماز مغرب اور اس کے نافلہ کے بعد اس دعا کو پڑھنا: «یَا ذَا الْمَنِّ وَالطَّوْلِ، یَا ذَا الْجُودِ، یَا مُصْطَفِیَ مُحَمَّدٍ وَ ناصِرَہُ صَلِّ عَلَیٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ لِی کُلَّ ذَنْبٍ أَحْصَیْتَہُ وَ ہُوَ عِنْدَکَ فِی کِتابٍ مُبِینٍ؛ اے فضل و احسان والے، اے عطا کرنے والے، اے حضرت محمدؐ کو منتخب کرنے والے اور ان کے حامی، محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما اور میرے تمام گناہ بخش دے جو تیرے ہاں شمار ہوچکے ہوں کہ وہ اس کھلی کتاب میں درج ہیں جو تیرے پاس ہے۔» اس کے بعد سجدے میں جائے اور سو مرتبہ سجدے میں کہے: «أَتُوبُ إِلَی اللّٰہِ» اور اس کے بعد جو بھی حاجت ہے اللہ سے مانگے۔[19]
  • نماز کے بعد تکبیر: عید فطر کی رات نماز مغرب اور عشاء کے بعد اس تکبیر کا پڑھنا مستحب ہے: «اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر، وللہ الحمد، الحمدللہ علی ما ہدانا، ولہ الشکر علی ما اولانا.[20][یادداشت 1]
  • شب بیداری امام کاظمؑ فرماتے ہیں کہ حضرت علیؑ نے فرمایا کہ: مجھے خوشی ہوتی ہے اس چیز سے کہ ہر شخص سال میں چار راتیں عبادت کیلئے اپنے آپ کو فارع رکھیں اور وہ چار راتیں: عید فطر کی رات، عید قربان کی رات، 15 شعبان کی رات، اور ماہ رجب کی پہلی رات ہے۔[21] اسی طرح امام باقرؑ سے منقول ہے کہ امام سجادؑ عید فطر کی رات مسجد میں صبح کی نماز تک بیٹھتے تھے شب بیداری میں گزارتے اور فرماتے تھے کہ یہ رات شب قدر سے کم نہیں ہے۔[22]
  • اس رات امام حسین علیہ السلام کی زیارت مستحب ہے۔[23]

عید کا دن

  • غسل: عید فطر کے دن غسل کرنا مستحب ہے۔ غسل کے وقت کی ابتداء طلوع فجر ہے لیکن اس کی انتہاء کے بارے میں کہ یہ نماز کیلئے باہر جانے تک ہے یا زوال (نماز ظہر) کے وقت تک یا مغرب تک اس میں اختلاف ہے۔[24]
  • عصر غیبت میں عید کی نماز مستحب ہے لیکن عصر حضور اور امام کی حکومت کے دوران واجب ہے۔[25]
  • افطار: مستحب ہے کہ نماز عید سے پہلے کچھ نہ کچھ کھایا جائے بطور خاص خرما۔[26]
  • تکبیر پڑھنا: «اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر، وللہ الحمد، الحمدللہ علی ما ہدانا، ولہ الشکر علی ما اولانا.» کی تکبیر کو عید کے دن نماز صبح، نماز عید[27] اور نماز ظہر اور نماز عصر[28] کے بعد پڑھنا مستحب ہے۔
  • نماز عید فطر پڑھنا۔
  • دعائے ندبہ پڑھنا[29]

آداب و رسوم

عید فطر مسلمانوں کی اہم عیدوں میں سے ہے جسے خاص آداب کے ساتھ منایی جاتی ہے۔ عید کے دن چند دن تعطیل ہوتی ہے۔[30] عید فطر کے دن مسلمان نماز عید پڑھتے ہیں، مٹھائیاں کھلاتے ہیں اور محلوں میں جشن منعقد ہوتا ہے اور ایک دوسرے سے عید ملنے جاتے ہیں۔[31]

ملک سعودی عرب قطر سوریہ مصر امارات عمان کویت ملیشیا اردن سوڈان انڈونیشیا بحرین افغانستان پاکستان ترکی عراق ایران
تعطیلات 4 دن 11 دن 3دن 6 دن 5 دن 4 دن 3 دن 3 دن 3 دن 3 دن 3 دن 3 دن 3 دن 3 دن 3 دن 3 دن 2 دن[32]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. کلینی، الکافی، 1429ھ، ج7، ص650۔
  2. شیخ صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج2، ص174۔
  3. نوری، مستدرک الوسائل، 1408ھ، ج6، ص154۔
  4. نہج‌البلاغہ، حکمت 428۔
  5. شیخ صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج1، ص522۔
  6. ابن‌منظور، لسان العرب، لفظ «فطر» کے ذیل میں۔
  7. ابن‌منظور، لسان العرب، لفظ «فطر» کے ذیل میں۔
  8. «اقامہ نماز عید سعید فطر بہ امامت رہبر معظم انقلاب اسلامی»، پایگاہ اطلاع‌رسانی دفتر مقام معظم رہبری۔
  9. ملاحظہ کریں: طباطبایی یزدی، عروة الوثقی (المحشی)، 1419ھ، ج4، ص222۔
  10. بنی‌ہاشمی خمینی، توضیح‌المسائل مراجع، 1381شمسی، ج2، ص180۔
  11. شبیری زنجانی، رسالہ توضیح‌المسائل، 1388شمسی، ص418۔
  12. بنی ہاشمی خمینی، توضیح‌المسائل مراجع، 1381، ج2، ص180۔
  13. نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج 11، ص332-333۔
  14. نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، جواہر الکلام، ج16، ص324۔
  15. طوسی، مصباح المتہجد، 1418ھ، ص590-589۔
  16. مفید، مسار الشیعہ، 1413ھ، ص29۔
  17. سید ابن‌طاووس، اقبال الاعمال، 1376شمسی، ج1، ص464۔
  18. بنی‌ہاشمی خمینی، توضیح‌المسائل (مراجع)، دفتر انتشارات اسلامی، ج1، ص359۔
  19. قمی، مفاتیح الجنان، اعمال شب عید فطر۔
  20. سید ابن‌طاووس، الاقبال بالأعمال الحسنة، 1376شمسی، ج1، ص459؛ بنی‌ہاشمی خمینی، توضیح المسائل (مراجع)، دفتر انتشارات اسلامی، ج1، ص827۔
  21. حمیری، قرب الإسناد، 1413ھ، ص54۔
  22. سید ابن‌طاووس، اقبال الاعمال، 1376شمسی، ج1، ص465۔
  23. اقبال الاعمال، ص577
  24. آملی، مصباح الہدی، 1310ھ، ج7، ص86۔
  25. جواہر الکلام، ج 11، ص332 ـ 333
  26. نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج11، ص377۔
  27. نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج11، ص378 و 382۔
  28. بنی ہاشمی خمینی، توضیح المسائل (مراجع)، دفتر انتشارات اسلامی، ج1، ص827۔
  29. سید ابن طاووس، اقبال الاعمال، 1376شمسی، ج1، ص504۔
  30. «آداب و رسوم عید فطر در کشورہای مختلف»، خبرگزاری تسنیم۔
  31. «آداب و رسوم عید فطر در ایران»، پایگاہ اطلاع‌رسانی حوزہ؛ «آداب و رسوم عید فطر در کشورہای مختلف»، خبرگزاری تسنیم۔
  32. «متى موعد عيد الفطر 2023/1444؟ وكم عدد أيام الإجازة في مختلف الدول العربية والإسلامية؟»، سایت الجزیرہ؛ «عطلة عيد الفطر المبارك لعام 1444ھ الموافق لسنۃ 2023»، سایت بورس بحرین؛ «قانون افزايش تعطيلي عيد سعيد فطر»، سایت سامانہ ملی قوانین۔

نوٹ

  1. خدا بزرگ تر ہے خدا بزرگ تر ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں خدا بزرگتر ہے خدا بزرگتر ہے اور خدا کے لئے حمد ہے حمد ہے خدا کے لئے اس پر کہ ہمیں ہدایت دی اور اس کا شکر ہے اس پر جو کچھ اس نے ہمیں بخشا۔

مآخذ

  • قرآن کریم.
  • نہج‌البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، قم، ہجرت، 1414ھ۔
  • «آداب و رسوم عید فطر در ایران»، پایگاہ اطلاع‌رسانی حوزہ، تاریخ اشاعت: 14 خرداد 1398شمسی، مشاہدہ: 26 فروردین 1402ہجری شمسی۔
  • «آداب و رسوم عید فطر در کشورہای مختلف»، خبرگزاری تسنیم، درج اشاعت: 12 خرداد 1398شمسی، مشاہدہ 26 فروردین 1402ہجری شمسی۔
  • آملی، محمدتقی، مصباح الہدی فی شرح عروة الوثقی، تہران، بی‌نا، 1310ھ۔
  • ابن‌منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت،‌ دار صادر، چاپ سوم، 1414ھ۔
  • «اقامہ نماز عید سعید فطر بہ امامت رہبر معظم انقلاب اسلامی»، پایگاہ اطلاع‌رسانی دفتر مقام معظم رہبری، درج اشاعت: 15 تیر 1395شمسی، مشاہدہ: 26 فروردین 1402ہجری شمسی۔
  • بنی‌ہاشمی خمینی، محمدحسن، توضیح المسائل (مراجع)، قم، دفتر انتشارات اسلامی، بی‌تا.
  • سید ابن‌طاووس، علی بن موسی، الاقبال بالأعمال الحسنہ، تحقیق جواد قیومی اصفہانی، قم، مرکز النشر التابع لمکتب الاعلام الاسلامی، 1376ہجری شمسی۔
  • شبیری زنجانی، موسی، رسالہ توضیح‌المسائل، قم، سلسبیل، 1388ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، کتاب من لایحضرہ الفقیہ، تصحیح علی اکبر غفاری، قم، انتشارات جامعہ مدرسین، 1413ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتہجد وسلاح المتعبد، بیروت، موسسة الاعلمی، 1418ھ۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، مسارالشیعہ، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413ھ۔
  • طباطبایی یزدی، سید کاظم، العروة الوثقی فیما تعم بہ البلوی (محشی)، قم، انتشارات جامعہ مدرسین، 1419ھ۔
  • «عطلة عيد الفطر المبارك لعام 1444ھ الموافق لسنة 2023»، سایت بورس بحرین، تاریخ اشاعت: 19 اپریل 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 6 اردیبہشت 1402ھ۔
  • «قانون افزايش تعطيلی عيد سعيد فطر»، سایت سامانہ ملی قوانین، تاریخ مشاہدہ: 6 اردیبہشت 1402ہجری شمسی۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، قم، دارالحدیث، 1429ھ۔
  • «متى موعد عيد الفطر 2023/1444؟ وكم عدد أيام الإجازۃ في مختلف الدول العربيۃ والإسلاميۃ؟»، سایت الجزیرہ، تاریخ اشاعت مطلب: 5 آوریل 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 6 اردیبہشت 1402ہجری شمسی۔
  • نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، بیروت،‌ دار احیاء الثراث العربی، 1404ھ۔
  • نوری، حسین بن محمد تقی، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، قم، مؤسسہ آل البیت علیہم السلام، 1408ھ۔