اکیسویں رمضان کی رات

ویکی شیعہ سے

اکیسویں رمضان کی رات امام علیؑ کی شہادت اور شب قدر کی تینوں راتوں میں سے ایک ہے۔

تاریخ کے مطابق امام علیؑ ماہ رمضان کی انیسویں رات کو ابن ملجم مرادی کے ہاتھوں زخمی ہوئے اور اسی وجہ سے اکیسویں رات کو شہید ہوئے۔[1] اسی وجہ سے شیعہ اس رات میں عزاداری برپا کرتے ہیں۔[2] ایران کے بعض علاقوں میں اکیسویں رات کو قنبر اور حضرت علیؑ کی شبیہ خوانی کو اجرا کرتے ہیں۔[3]

شیعہ مصادر میں منقول روایت کے مطابق یہ رات، انیسویں رات اور تئیسویں رات کے ساتھ ان راتوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں شب قدر ہونے کا احتمال دیا گیا ہے۔[4] اسی لئے شیعہ اس رات کو گھروں، مساجد اور مذہبی مقامات پر شب بیداری کرتے ہیں اور شب قدر کے اعمال انجام دیتے ہیں۔[5] شیخ عباس قمی اپنی کتاب مفاتیح‌ الجنان میں لکھتے ہیں کہ ماہ رمضان کی اکیسویں رات کی فضیلت انیسویں رات سے زیادہ ہے۔ اس رات کے لئے منقول اعمال میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  1. شب بیداری
  2. شب قدر کا غسل
  3. نماز شب قدر
  4. سو رکعت نماز
  5. قرآن سر پر رکھنا
  6. چودہ معصومینؑ سے متوسل ہونا[6]

اس رات میں بعض شیعہ نذر، افطاری اور سحری کا اہتمام کرتے ہیں۔[7]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. مفید، الارشاد، 1413ھ، ج1، ص9.
  2. مجیدی خامنہ، «شب‌ہای قدر در ایران»، ص19.
  3. مجیدی خامنہ، «شب‌ہای قدر در ایران»، ص20.
  4. مجلسی، مرآة العقول، 1404ھ، ج16، ص381.
  5. مجیدی خامنہ، «شب‌ہای قدر در ایران»، ص20.
  6. قمی، مفاتیح الجنان، اعمال شب قدر، اعمال مخصوص شب بیست و یکم.
  7. مجیدی خامنہ، «شب‌ہای قدر در ایران»، ص21.

مآخذ

  • قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان، قم، اسوہ، بی‌تا.
  • مجلسی، محمدباقر بن محمدتقی، مرآۃ العقول فی شرح أخبار آل الرسول، دارالکتب الاسلامیہ، المطبعۃ مروی، 1404ھ۔
  • مجیدی خامنہ، فریدہ، «شبہای قدر در ایران»، در مجلہ گلستان قرآن، شمارہ 37، آذر 1379ہجری شمسی۔
  • مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج‌ اللہ علی العباد، تصحیح، مؤسسۃ آل البیت علیہم‌السلام، قم، کنگرہ شیخ مفید، چاپ اول، 1413ھ۔