روزہ

حوالہ جاتی اصول کی عدم رعایت
غیر معتبر مآخذ سے کاپی شدہ
غیر سلیس
غیر جامع
تلخیص کے محتاج
wikishia سے
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاعخلعمباراتعقد نکاح
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

روزہ خدا کی اطاعت کی خاطر صبح کی اذان سے مغرب کی اذان تک مبطلات روزہ سے پرہیز کرنے کا نام ہے۔ روزہ اسلام کے فروعی احکام، برترین عبادات اور ارکان پنجگانہ میں سے ہے۔ روزہ اسلام سے پہلے کے ادیان میں بھی موجود تھا۔

دینی منابع میں روزہ کے متعدد اخلاقی اور معنوی آثار ذکر ہوئے ہیں جن میں کسب تقوی، آتش جہنم کے مقابلہ میں سپر، گناہوں کا کفارہ، بدن کی زکات اور شیطان سے دوری قابل ذکر ہیں۔

روزہ فقہی اعتبار سے چار قسموں میں تقسیم ہوتا ہے: واجب، مستحب، حرام اور مکروہ۔ ماہ مبارک رمضان کے روزوں کا شمار واجب روزوں میں ہوتا ہے۔ عاقل و بالغ ہونا، بے ہوش، بیمار و مسافر نہ ہونا روزہ واجب ہونے کے شرائط میں سے ہیں۔

کھانا پینا، جماع، خدا و رسول و اماموں کی طرف چھوٹی نسبت دینا، غبار غلیظ حلق تک پہچانا، صبح کی اذان تک جنابت پر باقی رہنا، حیض و نفاس، استمناء، پانی میں سر ڈبونا اور جان بوجھ کر قی کرنا مبطلات روزہ میں سے ہیں۔ ماہ مبارک رمضان جان بوچھ کر مبطلات روزہ میں سے کسی کا ارتکاب کرنے کی صورت میں قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہوتا ہے۔

روزہ رکھنے کے بہت سے جسمانی و نفسیاتی آثار ذکر ہوئے ہیں جن میں اضطراب و افسرگی میں کمی، عزت نفس میں اضافہ، دل اور اس سے مربوط بیماریوں سے محفوظ رہنا شامل ہیں۔ روزہ کے فوائد و آثار نیز اس کے فقہی احکام کے بارے میں متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔

لغوی اور اصطلاحی تعریف

روزہ جسے عربی میں صوم یا صیام کہا جاتا ہے۔ فقہی اعتبار سے "صوم" قصد قربت کے ساتھ صبح کی اذان سے مغرب کی اذان تک روزہ کو باطل کرنے والی تمام چیزوں سے پرہیز کرنے کو کہا جاتا ہے۔[1] علامہ حلی کی تعریف کے مطابق طلوع فجر صادق سے غروب تک بعض مخصوص چیزوں سے پرہیز کرنے کا نام روزہ ہے۔[2] بعض فقہاء کی تعریف کے مطابق روزہ نفس کو مبطلات روزہ سے پرہیز کے لئے آمادہ کرنا ہے۔[3]

لغت میں کلمہ صوم کے معنی کسی چیز کے ترک کرنے یا کسی چیز سے پرہیز کرنے کے ذکر ہوئے ہیں۔[4]

گذشتہ امتوں میں

تفصیلی مضمون: آیہ صوم

قرآن مجید کے سورہ بقرہ کی آیت 183 میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ روزہ اسلام سے پہلے کے ادیان میں بھی موجود تھا۔[5] توریت[6] و انجیل[7] میں سابقہ امتوں کے روزہ رکھنے کا تذکرہ موجود ہے۔ توریت کی تصریح کے مطابق، حضرت موسی (ع) نے الواح کے دریافت کرنے سے پہلے چالیس روز روزہ رکھا اور کچھ بھی کھانے پینے سے پرہیز کیا۔[8] قرآن کریم میں حضرت زکریا[9] اور حضرت مریم[10] کے روزہ رکھنے اور روایات[11] میں اسلام سے پہلے کے ادیان میں روزہ کے موجود ہونے کا ذکر ہوا ہے۔

نقل ہوا ہے کہ روزہ اسلام سے قبل دیگر اقوام جیسے قدیم مصریوں، یونانیوں، رومیوں اور ہندیوں میں بھی موجود تھا۔[12]

اسلامی منابع کے مطابق، رمضان المبارک کا روزہ تغییر قبلہ کے 13 دن بعد 2 شعبان[13] یا 28 شعبان سنہ 2 ہجری میں واجب ہوا۔[14] ماہ مبارک رمضان میں روزہ رکھنے کا حکم اور اس سے مربوط بعض احکام کا ذکر قرآن مجید میں ہوا ہے۔[15] اس حکم کے آنے کے بعد ابتداء میں روزہ داروں کے لئے افطار کے بعد فقط سونے سے پہلے تک کھانا پینا جائز تھا اور ماہ رمضان میں جماع مکمل طور پر حرام تھا۔ البتہ یہ دونوں حکم کچھ عرصہ کے بعد نسخ ہو گئے۔[16]

روزہ کا مرتبہ اور آثار

روزہ افضل ترین عبادات[17] اور اسلام کے پانچ ستون میں سے ہے،[18] جہاد کی ایک قسم ہے۔ اس کا ترک کرنا ایمان سے خارج ہونے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔[19] روزہ کے بہت سے اثرات ہیں۔ جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:

  1. کسب تقوی۔ [20]
  2. بعض گناہوں کا کفارہ۔ [21]
  3. غنی و فقیر کے درمیان مساوات کا عامل۔[22]
  4. وسیلہ امتحان و تثبیت اخلاص۔[23]
  5. بدن کی زکات۔[24]
  6. قیامت کی بھوک اور پیاس کی یاد۔[25]
  7. قیامت کی بھوک و پیاس کے درد سے رہائی۔[26]
  8. جہنم کی آگ کے مقابلے میں ڈھال۔[27]
  9. قیامت کے دن خوشی کا سبب۔[28]
  10. دنیا و آخرت کے غم و اندوہ سے نجات کا سبب۔[29]
  11. دعا مستجات ہونے کا سبب[30] خاص طور پر افطار کے وقت۔[31]
  12. بدن کی تندرستی کا سبب۔[32]
  13. تقویت حافظہ۔[33]
  14. دنیوی آفات کے مقابلے میں ڈھال۔[34]
  15. دلوں کو آرام پہنچانے والا۔[35]
  16. شیطان سے دوری کا سبب۔[36]
  17. خدا کی خصوصی جزا (یا یہ کہ خود خدا روزہ کی کوئی خاص جزا دیتا ہے۔)[[37]
  18. بہشت کی رمضان المبارک میں روزہ رکھنے والوں کی طرف رغبت۔[38]

بعض کے مطابق، روزہ گناہوں اور مشکلات زندگی سے مقابلہ کے لئے فرد و معاشرہ میں نظم، قناعت اور صبر کے جزبے کو تقویت عطا کرتا ہے۔[حوالہ درکار] ذرائع ابلاغ کے اعداد و شمار کے مطابق، ماہ مبارک رمضان میں سماجی خلاف ورزیوں میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔[39] اسی طرح سے طبی تحقیقات کے مطابق، روزہ جسم و روح کی صحت و سلامتی کے لئے مفید ہے۔[40] نظام جسمانی میں مثبت اثرات، اضطراب و افسردگی میں کمی، نفسیاتی سلامتی، عزت نفس میں اضافہ، قلب اور اس سے مربوط امراض سے حفاظت کو روزہ کے آثار اور جسم و روح کی سلامتی میں شمار کیا جاتا ہے۔[41]

احکام روزہ

روزہ کے بہت سے احکام ہیں۔ ان میں سے یہاں بعض تذکرہ فقہ امامیہ شیعہ کے مطابق کیا جا رہا ہے:

اقسام روزہ

فقہی یا شرعی احکام کے اعتبار سے روزہ کی چار قسمیں ہیں:

واجب روزے
  • رمضان المبارک کا روزہ
  • قضا روزے
  • باپ کے قضا روزے (اور ماں کے قضا روزے بھی)
  • اعتکاف میں تیسرے دن کا روزہ
  • حج میں قربانی کے بدلے میں رکھنے والے روزے۔[42]
  • نذر اور قسم کا کفارہ
  • جان بوجھ کر واجب روزہ توڑنے کا کفارہ
حرام روزے
  • عید فطر اور عید قربان کا روزہ
  • یوم الشک کا روزہ (جس دن کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ شعبان کی آخری تاریخ ہے یا رمضان کی پہلی تاریخ) اور اس دن ماہ رمضان کے روزے کی نیت کرے۔
  • ایسے شخص کا روزہ جسے یقین یا گمان ہو کہ روزہ اس کے لئے مضر ہے۔
  • سکوت کا روزہ یعنی دوسرے مفطرات روزہ سے پرہیز کرنے کے ساتھ ساتھ بات کرنے سے بھی پرہیز کی نیت کرے۔
  • وصال کا روزہ یعنی عمدا دو دن کے روزوں کو بغیر افطار کے ملا دے۔
  • ایام تشریق کا روزہ ان لوگوں کیلئے جو منا میں ہوں۔
  • مسافر کا روزہ۔
  • شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا مستحب روزہ۔
مکروہ روزے[نوٹ 1]
  • عاشورا کے دن کا روزہ
  • عرفہ کے دن کا روزہ، اس شخص کے لئے جسے ضعف اور کمزوری کا خوف ہو۔
  • اس دن کا روزہ جس دن انسان کو شک ہو کہ عرفہ کا دن ہے یا عید قربان کا
  • مہمان کا روزہ میزبان کی رضایت کے بغیر
  • سفر میں مستحب روزہ
  • ‌ والد کی اجازت کے بغیر اولاد کا روزہ۔
مستحب روزے

پورے سال میں روزہ رکھنا مستحب ہے سوائے مندرجہ بالا ایام کے۔ البتہ بعض ایام میں روزہ رکھنے کی زیادہ تاکید ہوئی ہے جیسے: روز عید غدیر یوم مبعث، پیغمبر اکرمؐ کی ولادت کے دن، روز دحو الارض، روز عرفہ بشرطیکہ ضعف کا باعث نہ بنے، روز مباہلہ، ہر جمعرات اور جمعہ۔[43]

  • مسلمانوں میں یہ معمول ہے کہ نوجوانوں اور نابالغ بچوں کو کامل روزہ کی تمرین کی خاطر دن کے وقت سحری سے دوپہر کے کھانے تک یا دوپہر کے کھانے سے شام کے کھانے تک انہیں کوئی چیز نہیں کھلاتے اس طرح انہیں روزہ رکھنے کی طرف مائل کیا جاتا ہے۔[44]

شرایط روزہ

شرایط روزہ کی دو قسمیں ہیں: 1۔ شرایط صحت روزہ 2۔ شرایط وجوب روزہ

شرایط صحت روزہ:

  • اسلام و ایمان (اس شرط کی بنیاد پر غیر مسلم و غیر مومن کا روزہ صحیح نہیں ہے)
  • عقل (دیوانہ کا روزہ صحیح نہیں ہے)
  • جنابت، حیض و نفاس پر صبح تک باقی رہنا۔
  • حیض و نفاس سے دن بھر پاک ہونا۔
  • مسافر نہ ہو۔
  • بیمار نہ ہو۔ (ایسا بیمار کہ روزہ اس کے لئے مضر ہو)[45]

شرایط وجوب روزہ

  • بالغ ہو۔ نابالغ پر روزہ واجب نہیں ہے۔
  • عقل۔ دیوانہ پر روزہ واجب نہیں ہے۔
  • بیہوش نہ ہو۔
  • بیمار نہ ہو۔ (ایسا بیمار جس کے کئے روزہ مضر ہو)
  • حیض و نفاس سے پاک ہو۔ حیض و نفاس والی خاتون پر روزہ واجب نہیں ہے۔
  • وطن میں ہو۔ (سفر میں نہ ہو)[46]

جن افراد پر روزہ رکھنا واجب نہیں

دہلی جامع مسجد میں روزہ افطار کا ایک منظر

ماہ مبارک رمضان کا روزہ ہر مسلمان پر جس میں شرایط وجوب روزہ پائے جاتے ہوں، واجب ہے۔ مگر مندرجہ ذیل افراد پر روزہ واجب نہیں ہے:

  1. بوڑھے افراد جو روزہ نہیں رکھ سکتے یا جن کے لئے روزہ رکھنا سخت ہو ان پر روزہ واجب نہیں ہے۔ البتہ جن کے لئے روزہ سخت ہے انہیں ہر دن کے بدلے میں ایک مد گندم یا جَو کسی فقیر کو دینا ہوگا۔
  2. ایسے مریض افراد جنہیں پیاس زیادہ لگتی ہو اور جو پیاس کو برداشت نہیں کر سکتے ہوں یا پیاس کو برداشت کرنا ان کے لئے سخت ہو، ان کے لئے روزہ واجب نہیں ہے۔ البتہ جن کے لئے سخت ہے انہیں روزانہ ایک مد طعام فقیر کو دینا ہوگا۔
  3. حاملہ عورتیں اگر روزہ خود ان کیلئے یا ان کے بچوں کیلئے مضر ہو تو روزہ رکھنا ان پر واجب نہیں ہے؛ البتہ روزانہ ایک مد طعام فقیر کو دینا ہوگا اور بعد میں روزہ قضا کرنا ضروری ہے۔
  4. دودھ پلانے والی عورتیں جن کا دودھ کم ہو، اگر روزہ خود ان کیلئے یا ان کے بچوں کیلئے مضر ہو تو واجب نہیں ہے؛ البتہ انہیں روزانہ ایک مد طعام فقیر کو دینا ہوگا اور بعد میں روزہ قضا کرنا ضروری ہے۔[47]

شیعہ امامیہ فقہاء کے فتاوی کے مطابق، جس کے لئے جسمانی کمزوری کی وجہ سے روزہ رکھنا ناقابل برداشت ہو یا اس کے لئے مضر ہو تو وہ روزہ کھول سکتا ہے۔ البتہ اس روزہ کی قضا اس پر واجب ہے اور اگر وہ اگلے رمضان تک اس کی قضا نہیں کر پاتا تو اسے ہر روزہ کے بدلے ایک مد طعام فقیر کو دینا ہوگا۔[48]

نیت روزہ

روزے کی نیت کو زبان پر جاری کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ اگر دل قصد قربت کی نیت کے ساتھ روزے کی نوعیت کو معین کرے تو کافی ہے۔ روزہ قصد قربت کی نیت سے ہونا چاہئے؛ روزہ کی نیت زبان پر جاری کرنا ضروری نہیں ہے۔ روزہ دار کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اللہ کا حکم بجا لانے کی غرض سے اذان صبح سے اذان مغرب تک مبطلات روزہ میں سے کوئی کام انجام نہ دے۔[49]

نیت کا وقت روزے کی نیت کا وقت اس طرح ہے:

  • رمضان المبارک کا روزہ:: اول شب سے صبح کی اذان سے پہلے تک یا مہینے کی پہلی تاریخ کو پورے مہینے کی نیت کرے۔[50]
  • قضا روزہ:: اگر ظہر کی اذان تک کوئی ایسا کام انجام نہ دیا ہو جو روزے کو باطل کر دیتا ہے، تو قضا روزے کی نیت کر سکتا ہے۔
  • مستحب روزہ:: اگر سورج غروب ہونے تک کوئی ایسا کام انجام نہ دیا ہو جو روزے کو باطل کر دیتا ہے، تو مستحب روزے کی نیت کر سکتا ہے۔[51]

مُبطِلات روزہ

تفصیلی مضمون: مبطلات روزہ

مندرجہ ذیل 9 چیزوں کو جان بوچھ کر انجام دینے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے:

  1. کھانا اور پینا
  2. جماع
  3. خدا، پیغمبر(ص) اور اماموں کی طرف جھوٹ کی نسبت دینا۔
  4. غلیظ غبار (جیسے سگریٹ کا دھواں) حلق تک پہنچانا۔
  5. صبح کی اذان تک جنابت، حیض یا نفاس کی حالت میں باقی رہنا۔
  6. استمنا۔
  7. مایعات کے ساتھ امالہ کرنا۔
  8. پورا سر پانی میں ڈبونا (نوٹ ۳)۔
  9. عمداً قے کرنا۔[52]

ناقابل برداشت حالت میں پانی پینا جائز

بعض فقہاء کے فتاوی کے مطابق، اگر روزہ دار نہایت شدید و غیر قابل تحمل پیاس کا احساس کرے تو وہ بقدر ضرورت، اپنی پیاس بچھانے کے لئے پانی پی سکتا ہے۔[53] البتہ اس بارے میں کہ اس کا روزہ باطل ہوا یا نہیں، اختلاف نظر ہے۔ بعض اس کے روزہ کو صحیح کہتے ہیں اس صورت میں قضا واجب نہیں ہے۔[54] فقہاء کا ایک گروہ پانی پینے کو جائز مانتا ہے مگر اس سے روزہ باطل ہو جائے گا اور اس کی قضا ضروری ہوگی۔[55]

مکروہات روزہ

فقہاء نے بعض امور کو روزہ دار کے لئے مکروہ شمار کیا ہے: جیسے بیوی کے ساتھ لمس، بوسہ و ملاعبہ، سرمہ لگانا، ہر وہ کام جو کمزوری کا سبب بنے، پھول سونگھنا، لباس کو تر کرنا، ہر وہ کام جس سے دہن خون آلود ہو جائے جیسے دانت نکلوانا، بغیر کسی وجہ کے کلی کرنا۔[56]

افطار یا روزہ کھولنا

مشہد حرم امام رضا (ع) میں افطار کا ایک منظر
تفصیلی مضمون: افطار

روزہ کھولنے یا توڑنے کو افطار کہتے ہیں۔[57] شیعہ امامیہ فقہ میں مشہور نظریات کے مطابق، روزہ دار کو مغرب کی اذان تک صبر کرنا چاہئے۔[58] روایات کے مطابق، افطار کے وقت دعا پڑھنا، سورہ قدر کی تلاوت کرنا،[59] پانی، دودھ یا خرمہ سے افطار کرنا مستحب ہے۔[60]

روایات کے مطابق، روزہ دار کو افطار کرانا فضیلت رکھتا ہے۔[61] خطبہ شعبانیہ میں پیغمبر اکرم (ص) سے نقل ہونے والے اقوال کے مطابق، ماہ مبارک رمضان میں کسی مومن کو افطار کرانے کا ثواب ایک غلام کو آزاد کرنے کے برابر ہے۔ اسی طرح سے افطار کرانا گناہوں کی بخشش کا سبب بھی بنتا ہے۔[62]

قضا و کفارہ

تفصیلی مضمون: کفارہ

جس مسلمان میں وجوب روزہ کے شرایط پائے جاتے ہوں اگر وہ روزہ واجب معین جیسے ماہ مبارک رمضان، کا روزہ نہ رکھے تو اس کے لئے اس کی قضا ضروری ہے۔[63] ماہ رمضان کے روزہ کے قضا واجب فوری نہیں ہے۔ البتہ اگلے رمضان سے پہلے اس کا بجا لانا ضروری ہے۔[64] لیکن اگر بیماری کی وجہ سے ماہ رمضان میں روزہ نہ رکھ سکے اور اگلے سال رمضان تک اس کی قضا نہ کر سکے تو اس کے لئے ان دنوں کی قضا واجب نہیں ہے۔ البتہ اسے ہر روز کے بدلے ایک مد طعام (750 گرام) کفارہ کے عنوان سے فقیر کو دینا ہوگا۔[65]

اگر کوئی شخص کسی شرعی غذر کے بغیر جان بوجھ کر روزہ ماہ رمضان یا روزہ نذر معین[66] کو ترک کرے تو قضا کے ساتھ ساتھ اس کے اوپر کفارہ بھی واجب ہے۔[67] کفارہ کے طور پر ہر دن کے بدلے میں 60 فقیر کو کھانا کھلائے یا 60 دن روزہ رکھے جس میں 31 دن روزے پے در پے رکھنا واجب ہے۔[68] اور اگر اگلے سال رمضان تک قضا کو بغیر کسی عذر کے بجا نہ لائے تو کفارہ تاخیر (ہر روزہ کے بدلے ایک مد طعام) بھی ادا کرنا پڑے گا۔[69] اور اگر ماہ رمضان کا روزہ کسی حرام کام (جیسے شراب یا زنا) کے ذریعے باطل کیا ہو تو کفارہ جمع دینا واجب ہے۔ کفارہ جمع سے مراد یہ ہے کہ 60 فقیروں کو کھانا بھی کھلائے اور 60 دن روزہ بھی رکھا جائے اسی ترتیب کے مطابق جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔[70] البتہ بعض مراجع تقلید کفارہ جمع کو احتیاط مستحب[71] اور بعض احتیاط واجب مانتے ہیں۔[72]

روزہ رکھنے کا فلسفہ

روزہ رکھنے کے فلسفہ کے بارے میں قرآن کریم، اسلامی روایات اور علماء کے فرامین میں بیانات موجود ہیں:

  • قرآن کریم روزہ کا حکم بیان کرتے ہوئے تقوا اور پرہیزگاری کو روزہ رکھنے کا فلسفہ بتاتا ہے: يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ(بقرہ، 183):
  • ارادے اور اخلاص کی تقویت اسی طرح عباتوں کے ساتھ لگاؤ پیدا ہونا بھی روزہ رکھنے کے اہم ترین فلسفوں میں سے ہے۔
  • روزہ رکھنے سے انسان بھوک اور پیاس کا احساس کرنے لگتا ہے جو باعث بنتا ہے کہ انسان آخرت اور قیامت کی جاویدانہ زندگی کو یاد کرکے اس کیلئے تیاری کرے۔ بھوک اور پیاس کی وجہ سے انسان کا تکبر اور غرور ختم ہو جاتا ہے اور وہ دوسرے عبادات کی انجام دہی کیلئے آمادہ ہو جاتا ہے۔[73]
  • حدیث قدسی میں حکمت اور خدا کے بارے میں قلبی شناخت اور معرفت حاصل ہونے کو روزہ رکھنے کے فوائد میں شمار کیا ہے جس کا نتیجہ زندگی کی سختیوں میں روحانی طور پر سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔[74]
  • روزہ رکھنے سے روزہ داروں کے درمیان ایک قسم کی ایثار اور ہمدلی پیدا ہوتی ہے اور محروموں کے مدد اور ان کی خدمت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ روزہ رکھنے سے انسان کی زندگی میں نظم و ضبط آ جاتا ہے اور اسے قناعت پیشہ کرنے کا سلیقہ آتا ہے نیز انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں گناہوں اور گرفتاریوں کے مقابلے میں صبر کرنے کا مادہ بھی روزہ رکھنے کے ذریعے ہی پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک میں سماجی مفاسد میں قابل توجہ کمی دیکھنے میں آتی ہے۔[75]
  • روزہ رکھنے سے جو صبر اور حوصلہ انسان میں پیدا ہوتا ہے اس سے انسان اپنی زندگی کے مقاصد میں کئی گنا پایداری اور استقامت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

مراتب روزہ

عرفاء کے نزدیک روزہ کے تین مراتب ہیں: عوامانہ روزہ، خواص کا روزہ اور خاص الخواص کا روزہ یا دل کا روزہ۔[76]

  • عوامانہ روزہ یہ ہے کہ انسان ان چیزوں سے اجتاب کرے جو روزہ کو باطل کرتی ہیں اور روزہ کے ظاہری آداب کی رعایت کرے۔[77]
  • خواص کا روزہ یہ ہے کہ وہ آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں اور دوسرے اعضاء و جوارح کو بھی گناہوں سے محفوظ رکھیں۔[78]
  • خاص الخواص کا روزہ یہ ہے کہ انسان دنیوی پریشانیوں اور اہداف و مقاصد سے دوری اختیار کر لے سوائے اس دنیا سے جو دین کا مقدمہ ہو۔[79]

اسی طرح سے حدیث کے مطابق، حقیقی روزہ ان تمام چیزوں کو ترک کرنا ہے، جسے خداوند عالم پسند نہیں کرتا ہے۔[80] اور حقیقی روزہ وہ ہے جس میں انسان کے آنکھ، کان، بال، جلد بھی روزہ ہوں۔[81] اور دل کا روزہ، زبان کے روزہ سے بہتر اور زبان کا روزہ شکم کے روزہ کے بہتر شمار کیا گیا ہے۔[82]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۱۶۸؛ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی(محشی)، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۲۱؛ امام خمینی، تحرير الوسيلۃ‌، دارالعلم، ج۱، ص۲۷۸.
  2. علامہ حلی، تذکرۃ الفقہا، ۱۴۱۴ق، ج۶، ص۵.
  3. نگاہ کریں: سید مرتضی، جمل العلم و العمل، ۱۳۸۷ق، ص۸۹؛ شہید اول، الدروس الشرعیۃ، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۲۶۶۔
  4. فراہیدی، کتاب العین، ۱۴۱۹ق، ج، ص۱۷۱؛ ابن فارس، معجم مقاییس اللغۃ، ۱۴۰۴ق، ج۳، ص۳۲۳؛ راغب اصفہانی، مفردات، ۱۴۱۲ق، ص۵۰۰.
  5. نگاہ کریں: طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۲، ص۷ و ۸.
  6. نگاہ کریں: سفر خروج، فصل ۳۴، آیہ ۲۸؛ کتاب دوم سموئیل، فصل ۱۲، آیہ ۱۶؛ کتاب دوم تواریخ، فصل ۲۰، آیہ ۳.
  7. انجیل لوقا، فصل۲،‌ آیہ ۳۷، فصل ۴، آیہ ۲ و فصل ۵، آیہ ۳۴.
  8. سفر تثینہ، فصل ۹، آیہ ۹.
  9. نگاہ کریں: طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۲، ص۷.
  10. سورہ مریم، آیہ ۲۶.
  11. بہ عنوان نمونہ نگاہ کریں: مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۳، ص۴۲۷ و ج۱۷، ص۲۹۲.
  12. نگاہ کریں: طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۲، ص۷.
  13. قمی، وقایع الایام، ۱۳۸۹ش، ص۴۹۵.
  14. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳، ج۱۸، ص۱۹۴؛ یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۴۲.
  15. سورہ بقرہ آیات ۱۸۳-۱۸۵و۱۸۷.
  16. طبرسی، جوامع الجامع، جامعہ مدرسین، ج۱، ص۱۰۶؛ حرّ عاملی، وسائل الشیعۃ، ۱۴۰۹ق، ج۷، ص۸۱.
  17. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۱۶، ص۱۸۱.
  18. نگاہ کریں: کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ش، ج۲، ص۱۸-۲۴ و ج۴، ص۶۲.
  19. صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۱۸، ح۱۸۹۲.
  20. سورہ بقرہ، آیہ ۱۸۳.
  21. سورہ نسا، آیہ ۹۲؛ سورہ مائدہ، آیہ ۸۹ و ۹۵؛ سورہ مجادلہ، آیہ ۴.
  22. من لا یحضرہ الفقیہ ج۲ ص۷۳، ح ۱۷۶۶.
  23. نہج البلاغہ (صبحی صالح) ص۵۱۲، ح ۲۵۲
  24. من لا یحضرہ الفقیہ ج۲، ص۷۵، ح ۱۷۷۴.
  25. وسایل الشیعہ ج۱۰، ص۹، ح ۱۲۷۰۱.
  26. حر عاملی، ہدایۃ الامۃ، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۲۶۸، ح۹.
  27. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۶۲، ح۱؛ ابن شعبہ، تحف العقول، ۱۳۶۳ق، ص۲۵۸.
  28. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۶۵.
  29. تفسیر قمی ج۱، ص۴۶ - تفسیر عیاشی ج۱، ص۴۴، ح ۴۱.
  30. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۵۱۰؛ محمدی ری‌ شہری، میزان الحکمہ، ۱۴۱۶ق، ج۲، ص۱۶۸۶؛ راوندی، الدعوات، ۱۳۶۶ش، ج۱، ص۲۷.
  31. راوندی، الدعوات، ۱۳۶۶ش، ج۱، ص۲۷؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۹۳، ص۲۵۵، ح۳۳.
  32. پایندہ، نہج الفصاحہ ص۵۴۷، ح ۱۸۵۴.
  33. طبرسی، مکارم الاخلاق ص۵۱.
  34. جعفر بن محمد(ع)، مصباح الشریعۃ، ۱۴۰۰ق، ص۱۳۵.
  35. امالی (طوسی) ص۲۹۶، ح ۵۸۲.
  36. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۶۲.
  37. صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ ج۲، ص۷۵، ح ۱۷۷۳.
  38. نوری، مستدرک الوسائل، ۱۴۰۸ق، ج۷،‌ ص۴۰۰.
  39. «کاہش ۵ تا ۳۳ درصدی جرایم در ماہ رمضان»، پایگاہ خبری آفتاب.
  40. رضایی،‌ «روزہ‌داری و سلامت از نگاہ پزشکی»، پایگاہ اطلاع رسانی حوزہ.
  41. رضایی،‌ «روزہ‌داری و سلامت از نگاہ پزشکی»، پایگاہ اطلاع رسانی حوزہ.
  42. سورہ بقرہ، آیہ ۱۹۶.
  43. ملاحظہ کریں: علامہ حلی، تذکرۃ الفقہا، ۱۴۱۴ق، ج۶، ص۵و۶؛ نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۱۶، ص۳۵۲ و ج۱۷، ص۸۹-۱۳۲؛ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۲۱ و ۶۵۷-۶۶۳.
  44. «روزہ کلہ گنجشکی چگونہ گرفتہ می‌شود»، وبگاہ باشگاہ خبرنگاران جوان.
  45. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۶۱۱-۶۱۵.
  46. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۶۲۰-.
  47. امام خمینی، توضیح المسائل (محشی)، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۹۵۵-۹۵۸.
  48. امام خمینی، استفتائات، ج۱، ص۳۳۳، س۸۸؛ «نظر مراجع عظام تقلید پیرامون روزہ ‌داری با ضعف جسمانی»، خبرگزاری رسمی حوزہ..
  49. امام خمینی، توضیح المسائل (محشی)، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۸۸۰.
  50. امام خمینی، توضیح المسائل(محشی)، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۸۸۱.
  51. امام خمینی، توضیح المسائل(محشی)، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۸۸۱.
  52. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی(محشی)، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۴۱- ۵۷۷؛ امام خمینی، توضیح المسائل(محشی)، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۸۹۱.
  53. حکیم، مستمسک العروۃ الوثقی، ۱۳۷۴ش، ج۸، ص۳۲۴؛ آملی، مصباح الہدی، ۱۳۸۰ق، ج۸، ص۱۴۰؛ امام خمینی، استفتائات، دفتر نشر اسلامی، ج۱، ص۳۲۱.
  54. علامہ حلی، منتہی المطلب، ‌۱۴۱۲ق، ج۹، ص۱۳۹؛ شہید اول، الدروس الشرعیہ، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۲۷۳ و ۲۷۶؛ اردبیلی، مجمع الفائدہ، ۱۴۰۳ق، ج۵، ص۳۲۵-۳۲۶؛ حکیم، مصباح المنہاج، کتاب الصوم، ۱۴۲۵ق، ص۱۶۱.
  55. نگاہ کریں: آملی، مصباح الہدی، ۱۳۸۰ق، ج۸، ص۱۴۰؛ حکیم، مستمسک العروۃ الوثقی،‌۱۳۷۴ش، ج۸، ص۳۲۴؛ سبزواری، مہذب الاحکام، ‌۱۴۱۳ق، ج۱۰، ص۱۳۲.
  56. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ فارسی، ۱۳۸۵ش، ج۴، ص۱۷۱و۱۷۲.
  57. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ فارسی، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۶۲۴.
  58. «Fasting», Encyclopedia Iranica.
  59. حر عاملی، وسائل الشیعۃ، ۱۴۰۹ق، ج۱۰، ص۱۴۷-۱۵۱.
  60. حرعاملی، وسائل الشیعۃ، ۱۴۰۹ق، ج۱۰، ص۱۵۶-۱۶۱.
  61. نگاہ کریں: کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۶۸ و ۶۹؛ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۳۴و۱۳۵.
  62. صدوق، عیون أخبار الرضا(ع)، ۱۳۷۸ق، ج۱، ص۲۹۶.
  63. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۶۳۵-۶۳۷؛ امام خمینی، تحرير الوسيلۃ‌، دار العلم، ج۱، ص۲۹۸.
  64. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۶۳۹؛ امام خمینی، تحرير الوسيلۃ‌، دار العلم، ج۱، ص۲۹۸.
  65. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۶۴۰و۶۴۱؛ امام خمینی، تحرير الوسيلۃ‌، دار العلم، ج۱، ص۲۹۹.
  66. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ فارسی، ۱۳۸۵ش، ج۴، ص۱۶۹.
  67. امام خمینی، توضیح المسائل (محشی)، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۹۲۶.
  68. امام خمینی، توضیح المسائل (محشی)، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۹۲۸و۹۲۹؛ امام خمینی، تحرير الوسيلۃ‌، دارالعلم، ج۱، ص۲۸۹.
  69. امام خمینی، تحرير الوسيلۃ‌، دار العلم، ج۱، ص۲۹۸.
  70. بہجت، جامع المسائل، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۲۹.
  71. سیستانی، توضیح المسائل، ۱۳۹۳ش، ص۲۹۸-۲۹۹.‌
  72. امام خمینی، توضیح المسائل، ۱۴۲۶ق، ص۳۴۴.
  73. بحار الانوار، ج۵۵، ص۳۴۱؛ بحار الانوار ج۹۳، ص۳۷۰.
  74. قَالَ یا رَبِّ وَ مَا مِیرَاثُ الصَّوْمِ قَالَ الصَّوْمُ یورِثُ الحِکمَۃَ وَ الحِکمَۃُ تُورِثُ الْمَعْرِفَۃَ وَ الْمَعْرِفَۃُ تُورِثُ الْیقِینَ فَإِذَا اسْتَیقَنَ الْعَبْدُ لَا یبَالِی کیفَ أَصْبَحَ بِعُسْرٍ أَمْ بِیسْر پیغمبر اکرم (ص) نے خداوند عالم سے سوال کیا: پروردگارا روزہ کا نتیجہ کیا ہے؟ خداوند عالم نے فرمایا: روزہ کا نتیجہ حکمت ہے اور حکمت کا نتیجہ معرفت، اور معرفت کا نتیجہ یقین ہے۔ پس جب یھی بندہ یقین کی منزل پر پہنچتا ہے تو اس کے لئے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دنیا اس پر سخت گذرتی ہے یا آسان۔ بحار الانوار ج۷۴ ص۲۷.
  75. بقرہ:۱۹۶ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ إِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیسَرَ مِنَ الْہَدْی فَمَنْ لَمْ یجِدْ فَصِیامُ ثَلاثَۃِ أَیامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَۃٍ إِذا رَجَعْتُمْ تِلْک عَشَرَۃٌ کامِلَۃٌ ذلِک لِمَنْ لَمْ یکنْ أَہْلُہُ حاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرام پس جس کے پاس قربانی نہ ہو وہ تین حج کے دوران تین دن اور جب حج سے واپس آئے تو سات دن روزہ رکھے یہ دس دن کامل ہے۔
  76. انصاریان، عرفان اسلامی، ۱۳۸۶ش، ج۶، ص۲۷۲.
  77. انصاریان، عرفان اسلامی، ۱۳۸۶ش، ج۶، ص۲۷۲.
  78. انصاریان، عرفان اسلامی، ۱۳۸۶ش، ج۶، ص۲۷۲.
  79. انصاریان، عرفان اسلامی، ۱۳۸۶ش، ج۶، ص۲۷۲.
  80. ابن ابی‌ الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۴۰۴ق، ج۲۰، ص۲۹۹، ح۴۱۷.
  81. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۸۷.
  82. تمیمی آمدی، غررالحکم و دررالکلم، ۱۴۱۰ق، ص۴۲۳، ح۸۰.
  1. یہاں پر مکروہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ثواب کم ملے گا۔(طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی(محشی)، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۲۱).

ماخذ

  • آملی، محمد تقی، مصباح الہدی، تہران، نشر مؤلف، ۱۳۸۰ق.
  • ابن ابی‌ الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ المرعشی النجفی، چاپ اول، ۱۴۰۴ق.
  • ابن شعبہ، حسن بن علی، تحف العقول، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۱۳۶۳ش.
  • ابن فارس، احمد بن فارس، معجم مقاییس اللغۃ، قم، مكتب الاعلام الاسلامی، چاپ اول، ۱۴۰۴ق.
  • اردبیلی، احمد بن محمد، مجمع الفائدۃ و البرہان، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۰۳ق.
  • امام خمینی، سید روح‌ اللہ، استفتائات، قم، دفتر نشر اسلامی، بی‌تا.
  • امام خمینی، سید روح‌اللہ، تحرير الوسيلۃ‌، قم، دارالعلم، چاپ اول، بی‌تا.

‌* امام خمینی، سید روح اللہ، توضیح المسائل(محشی)، تحقیق و تصحیح سید محمد حسین بنی‌ ہاشمی خمینى‌، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ ہشتم، ۱۴۲۴ق.

  • انصاریان، حسین، عرفان اسلامی، قم، دارالعرفان، ۱۳۸۶ش.
  • پایندہ ابوالقاسم، نہج الفصاحہ، قم، دارالعلم، ۱۳۸۷ش.
  • تمیمی آمدی، عبدالواحد بن محمد، غرر الحکم و درر الکلم، تصحیح سید مہدی رجائی، قم، دارالکتاب الاسلامی، چاپ دوم، ۱۴۱۰ق.
  • جعفر بن محمد، امام صادق(ع) (منسوب)، مصباح الشریعۃ، بیروت، اعلمی، چاپ اول، ۱۴۰۰ق.
  • حر عاملی، محمد بن حسن‏، وسائل الشیعہ، قم، مؤسسۃ آل البیت علیہم‌السلام‏، ۱۴۰۹ق.
  • حر عاملی، محمد بن حسن‏، ہدایۃ الامۃ الی احکام الائمۃ، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی آستان قدس رضوی، ۱۴۱۲ق.
  • حکیم، سید محسن، مستمسک العروۃ الوثقی، قم، مؤسسۃ دارالتفسیر، ۱۳۷۴ش.
  • حکیم، سید محمد سعید، مصباح المنہاج کتاب الصوم، قم، دارالہلال، ۱۴۲۵ق.

‌* راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن، بیروت - دمشق، دارالقلم - الدار الشامیۃ، چاپ اول، ۱۴۱۲ق.

  • راوندی، قطب ‌الدین، الدعوات، مدرسۃ الامام المہدی(عج)، ۱۳۶۶ش.
  • رضایی،‌ علی، «روزہ ‌داری و سلامت از نگاہ پزشکی»، پایگاہ اطلاع رسانی حوزہ، تاریخ بازدید:‌ ۱۶ اردیبہشت ۱۳۹۹ش.
  • «روزہ کلہ گنجشکی چگونہ گرفتہ می‌ شود»، وبگاہ باشگاہ خبرنگاران جوان، تاریخ درج مطلب: ۶ اردیبہشت ۱۳۹۹ش، تاریخ بازدید:‌ ۱۶اردیبہشت ۱۳۹۹ش.
  • سبزواری، سید عبدالاعلی، مہذب الاحکام، قم، مؤسسۃ المنار، ۱۴۱۳ق.
  • سید مرتضی، علی بن حسین، جمل العلم و العمل، نجف، مطبعۃ الآداب‌، چاپ اول، ۱۳۸۷ق.
  • شہید اول، محمد بن مکی، الدروس الشرعیۃ فی فقہ الامامیۃ، قم، دفتر انتشارات اسلامی،‌ چاپ دوم، ۱۴۱۷ق.
  • صدوق، محمد بن علی، عیون أخبار الرضا(ع)، تحقیق مہدی لاجوردی، تہران، نشر جہان، چاپ اول، ۱۳۷۸ق.
  • صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، تحقیق علی‌اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ دوم، ۱۴۱۳ق.
  • طباطبایی یزدی، سید محمد کاظم، العروۃ الوثقی(محشی)، قم، دفتر انتشارات اسلامی،‌ چاپ اول، ۱۴۱۹ق.
  • طباطبائی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر نشر اسلامی.
  • طبرسی، حسن بن فضل، جوامع الجامع، تحقیق مؤسسہ نشر اسلامی، قم، جامعہ مدرسین.
  • طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الاخلاق، قم، انتشارات شریف رضی، چاپ چہارم، ۱۴۱۲ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، دار الثقافہ، چاپ اول، ۱۴۱۴ق.
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف بن مطہر، تذکرۃ الفقہا، قم، مؤسسۃ آل البیت(ع)، چاپ اول، ۱۴۱۴ق.
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف بن مطہر، منتہی المطلب فی تحقیق المذہب، مشہد، مجمع البحوث الاسلامیہ، چاپ اول، ‌۱۴۱۲ق.
  • عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر عیاشی، تصحیح سیدہاشم رسولی محلاتی، تہران، المکتبۃ العلمیۃ، چاپ اول، ۱۳۸۰ق.
  • فراہیدی، خلیل بن احمد، کتاب العین، قم، ہجرت،‌ چاپ دوم، ۱۴۱۹ق.
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر قمی، تصحیح طیب موسوى جزائرى، قم، دارالکتاب، چاپ سوم، ۱۴۰۴ق.

‌* «کاہش ۵ تا ۳۳ در صدی جرایم در ماہ رمضان»، پایگاہ خبری آفتاب،‌ تاریخ درج مطلب: ۲۶ تیر ۱۳۹۲ش، تاریخ بازدید: ۱۶ اردیبہشت ۱۳۹۹ش.

  • کلینی، محمد بن یعقوب‏، الکافی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ق.
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء ‌التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ق.
  • محقق حلی، جعفر بن حسن، شرایع الاسلام فی مسائل الحلال و الحرام، قم، اسماعیلیان، چاپ دوم، ۱۴۰۸ق.
  • محمدی ری ‌شہری، محمد، میزان الحکمہ، دارالحدیث، ۱۴۱۶ق.
  • مؤسسۃ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مکتب اہل بیت علیہم‌ السلام، قم، مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، چاپ دوم، ۱۳۸۵ش.
  • نجفی، محمد حسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، بیروت، دار احیاء‌التراث العربی، چاپ ہفتم، ۱۴۰۴ق.
  • «نظر مراجع عظام تقلید پیرامون روزہ‌داری با ضعف جسمانی»، خبرگزاری رسمی حوزہ، تاریخ درج مطلب: ۱۶ تیر ۱۳۹۳ش، تاریخ بازدید: ۱۶ اردیبہشت ۱۳۹۹ش.
  • نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل، قم، مؤسسہ آل‌البیت(ع)، چاپ اول، ۱۴۰۸ق.
  • یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ یعقوبی، بیروت، دار صادر، بی‌تا.
  • «Fasting», Encyclopedia Iranica، تاریخ بازدید: ۱۶ اردیبہشت ۱۳۹۹ش.