سورہ شعراء

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
فرقان سورۂ شعراء نمل
سوره شعرا.jpg
ترتیب کتابت: 26
پارہ : 19
نزول
ترتیب نزول: 47
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 227
الفاظ: 1223
حروف: 5630

سورہ شُعَراء قرآن مجید کی 26ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے۔ یہ سورت قرآن کے 19ویں پارے میں موجود ہے۔ اس سورت کی آیت نمبر 224 سے 226 تک میں شاعروں کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اسی مناسبت سے اس کا نام شعراء رکھا گیا ہے۔ سورہ شعراء میں حضرت نوح سے لے کر حضرت محمدؐ تک مختلف انبیاء کی نہضت نیز ان کے دشمنوں کے انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سورت میں غالبا اصول عقاید جیسے توحید، معاد، انبیاء کی دعوت اور قرآن کی اہمیت پر تأکید کی گئی ہے۔ سورہ شعراء کا اصل مقصد پیغمبر اکرمؐ کو دشمنوں کی طرف سے جھٹلائے جانے نیز ناروا تہمتیں لگانے پر آپ کی تسلی کے نازل کی گئی ہے۔

آیت انذار جس میں خدا نے پیغمبر اکرمؐ کو اپنے قریبی رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت دینے کا حکم دیا گیا ہے، اس سورت کی مشہور آیات میں میں ہے۔ اس سورت کی فضیلت اور تلاوت کے بارے میں آیا ہے کہ جو شخص سورہ شعراء کی تلاوت کرے اس کے لئے حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت شعیب، حضرت صالح، حضرت ابراہیم، حضرت عیسی اور حضرت محمد پر ایمان لانے اور انہیں تکذیب کرنے والوں کے دس برابر ثواب دیا جائے گا۔

تعارف

نام

اس سورت کی آیت نمبر 224 سے 226 تک میں شاعروں کے بارے میں بحث کی گئی ہے اسی مناسبت سے اس کا نام شعراء رکھا گیا ہے۔ اس سورت کا دوسرا نام طسم (پڑھا جاتا ہے طا سین میم) ہے؛ کیونکہ اس کی ابتداء حروف مُقطَّعہ طا سین اور میم سے ہوئی ہے۔[1] اسی طرح اس کا ایک اور نام سورہ جامعہ ہے؛ کیونکہ اس سورت میں مختلف مسائل پر بحث کے ساتھ ساتھ کئی انبیاء اور ان کی قوموں کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی ہے۔[2]

محل اور ترتیب نزول

سورہ شعراء مکی[نوٹ 1] اور ترتیب نزول کے اعتبار سے یہ 47ویں جبکہ مُصحَف کی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے 26ویں سورت ہے اور 19ویں پارے میں واقع ہے۔[3]

آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ شعراء 227 آیات، 1223 کلمات اور 5630 حروف پر مشتمل ہے اور حجم کے اعبتار سے سور مَثانی میں شمار ہوتا ہے اور نسبتا متوسط سورتوں میں سے ہے اور تقریبا قرآن کے ایک پارے کے نصف کے برابر ہے۔[4] سورہ شعراء حروف مقطعات سے شروع ہونے والے سورتوں میں 12ویں نمبر میں آتا ہے۔[5] اور "طسم" سے شروع ہونے کی بنا پر اس کا شمار سور طَواسین میں بھی ہوتا ہے۔[6]

سورہ شعراء سورہ بقرہ کے بعد سب سے زیادہ آیتوں پر مشتمل ہے؛ اگرچہ كلمات کی تعداد کے لحاظ سے ایسا نہیں ہے بلکہ دوسرے کئی سورتوں سے چھوٹا ہے۔[7]

مفاہیم

علامہ طباطبایی سورہ شعراء کا اصل مقصد دشمنوں کی طرف سے جھٹلائے جانے اور ناروا تہمتیں لگائے جانے کے مقابلے میں پیغمبر اکرمؐ کی تسلی قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ اس سورت میں گذشتہ انبیاء کی داستان بیان کرتے ہوئے ان کے دشمنوں کے انجام کی طرف اشارہ اور پیغمبر اکرمؐ کے دشمنوں کو خبردرا کیا گیا ہے۔[8] اس کے علاوہ خدا کی وحدانیت، آخرت سے خوف، حضرت محمدؐ پر ہونے والی وحی اور آپ کی عالمی رسالت کی تصدیق، تقوا کی طرف دعوت، نہضت انبیای الہی کے مخالفین کے برے انجام، استبداد کی منطق، ہر اصلاحی کام کو اپنے آپ سے شروع کرنے اور کامیابی اور سرفرازی کا مکمل پروگرام اس سورت کے دیگر اہداف میں سے ہیں۔[9]

اس سورت کے طرز گفتگو کو دوسرے مکی سورتوں کے ساتھ سازگارہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ اکثر طور پر اصول اعتقاد، جیسے توحید، معاد، انبیاء کی دعوت اور قرآن کی اہمیت پر تأکید کی گئی ہے۔[10]

تفسیر نمونہ میں سورہ شعراء کے مضامین کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

  • پہلا حصہ: قرآن کی عظمت، مشرکین کی ہٹ دھرمی کے مقابلے میں پیغمبر اکرمؐ کو تسلی، توحید کی نشانیوں اور صفات خدا کی طرف اشارہ؛
  • دوسرا حصہ: حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت لوط، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت شعیب اور خاص کر حضرت موسی کے داستان اور دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی طرف اشارہ گذشتہ انبیاء کے منکرین کے دلیلوں کا پیغمبر اکرمؐ کے منکرین کے دلیلوں کے ساتھ شباہت اور آخر میں منکرین انبیاء کے انجام کی طرف اشارہ؛
  • تیسرا حصہ: گذشتہ ابحاث کا نتیجہ‌، اسلام کی طرف دعوت دینے کے نیز مؤمنین کے ساتھ برتاؤ کے طریقہ کار کی ہدایت، پیغمبر اکرمؐ کی تسلی اور مؤمنین کو بشارت۔[11]
سورہ شعراء کے مضامین[12]
 
 
 
 
ضدی اور بےمنطق افراد قابلِ ہدایت نہیں ہیں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا گفتار: آیہ ۱۹۲ـ۲۲۷
قرآن کی حقانیت اور کافروں کی ضد غلط ہونے کی دلیلیں
 
دوسرا گفتار: آیہ ۱۰ـ۱۹۱
پیغمبر کے دشمنوں کے انجام سے کافروں کا عبرت نہ لینا
 
پہلا گفتار: آیہ ۱ـ۹
کافروں کی ضد پر پیغمبر کو حوصلہ دینا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلی دلیل: آیہ ۱۹۲ـ۱۹۵
صریح اور واضح زبان میں نزولِ قرآن
 
پہلا نمونہ: آیہ ۱۰ـ۶۸
فرعون کا انجام
 
پہلا مطلب: آیہ ۱ـ۴
کافروں کا ایمان نہ لانے پر پیغمبر مغموم ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسری دلیل: آیہ ۱۹۶ـ۲۰۹
گواہی کتاب‌ہای آسمانی پیشین بہ حقانیت قرآن
 
دوسرا نمونہ: آیہ ۶۹ـ ۱۰۴
حضرت ابراہیم کے دشمنوں کا انجام
 
دوسرا مطلب: آیہ ۵ـ۹
ضدی کافروں کا تمام الہی آیات سے انکار
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسری دلیل: آیہ ۲۱۰ـ۲۲۳
قرآن شیاطین کا کلام نہیں
 
تیسرا نمونہ: آیہ ۱۰۵ـ۱۲۲
حضرت نوح کے دشمنوں کا انجام
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھی دلیل: آیہ ۲۲۴ـ۲۲۷
قرآن شعر اور تخیلات نہیں
 
چوتھا نمونہ: آیہ ۱۲۳ـ۱۴۰
حضرت ہود سے قوم عاد کی دشمنی کا انجام
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچواں نمونہ: آیہ ۱۴۱ـ۱۵۹
حضرت صالح سے قوم ثمود کی دشمنی کا انجام
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چھٹا نمونہ: آیہ ۱۶۰ـ۱۷۵
حضرت لوط کی قوم کا انجام
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
ساتواں نمونہ: آیہ ۱۷۶ـ۱۹۱
حضرت شعیب کے دشمنوں کا انجام

تاریخی واقعات اور داستانیں

سورہ شعراء میں کئی انبیاء کی داستانوں اور توحید کی طرف دعوت دینے میں اپنی اقوام کے ساتھ ان کے طرز تقابل کی طرف اشارہ ہوا ہے۔

  • حضرت موسی کی نبوت، فرعون کے ساتھ گفتگو، ساحروں کے ساتھ مقابلہ، حضرت موسی کے ساتھ بنی‌ اسرائیل کی ہجرت اور دریا عبور کرنا، فرعونیوں کا غرق ہونا؛ (آیت ۱۰-۶۸)
  • حضرت ابراہیم کی آزر اور ان کی قوم کے ساتھ گفتگو، آزر کے لئے استغفار؛ (آیت ۶۹-۸۹)
  • حضرت نوح کی اپنے قوم کے ساتھ گفتگو، ان کی قوم کا غرق ہونا اور حضرت نوح اور ان کے ساتھیوں کا نجات پانا؛ (آیت ۱۰۵-۱۲۰)
  • قوم عاد کے ساتھ حضرت ہود کی گفتگو، عذاب قوم عاد؛ (آیت ۱۲۳-۱۴۰)
  • حضرت صالخ کی قوم ثمود کے ساتھ گفتگو، ناقہ صالح کا قتل، عذاب قوم ثمود؛ (آیت ۱۴۱-۱۵۸)
  • حضرت لوط کی اپنی قوم کے ساتھ گفتگو، عذاب قوم لوط؛ (آیت ۱۶۰-۱۷۶)
  • حضرت شعیب کی اصحاب ایکہ کے ساتھ گفتگو اور ان پر عذاب۔ (آیت ۱۷۶-۱۸۹)

بعض آیتوں کی شأن نزول

سورہ شعراء کی آیت نمبر 224 سے 227 تک کی شأن نزول کے بارے میں آیا ہے کہ رسول اللہؐ کے زمانے میں دو اشخاص شعر کے ذریعے ایک دوسرے پر حملہ کر رہے تھے اور بعض ناداں لوگ ان کی پیروی کر رہے تھے اتنے میں آیت وَ الشُّعَراءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغاوُونَ‏؛(ترجمہ: اور جو شعراء ہیں ان کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔) نازل ہوئی۔ اس آیت کے نزول کے ساتھ عبداللہ بن رواحہ، کعب بن مالک اور حسان بن ثابت پیغمبر اکرمؐ کے پاس آئے اور کہنے لگے خدا کو معلوم تھا کہ ہم شاعر ہیں اور اس آیت کا نزول ہماری ہلاکت کا باعث بنے گا۔ اس گفتگو کے بعد آیت نمبر 227 "إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ وَ ذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيراً؛(ترجمہ: سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا)" ۔[13]

مشہور آیتیں

سورہ شعراء کی بعض آیتیں من جملہ آیت انذار، وہ آیات جو حضرت ابراہیم کی دعاوں پر مشتمل ہیں(83 سے 89 تک) اور آیت 215 جس میں پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے مؤمنین کے ساتھ تواضع سے پیش آنے کا تذکرہ کیا گیا ہے، اس سورت کی مشہور آیات میں سے ہیں۔

حضرت ابراہیم کی دعائیں

رَ‌بِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ﴿٨٣﴾وَاجْعَل لِّي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِ‌ينَ﴿٨٤﴾وَاجْعَلْنِي مِن وَرَ‌ثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ﴿٨٥﴾وَاغْفِرْ‌ لِأَبِي إِنَّهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّينَ﴿٨٦﴾وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ﴿٨٧﴾يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ﴿٨٨﴾إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ﴿۸۹﴾
(ترجمہ: اے میرے پروردگار! مجھے (علم و حکمت) عطا فرما۔ اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔ (83)اور آئندہ آنے والوں میں میرا ذکرِ خیر جاری رکھ۔ (84) اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔ (85) اور میرے باپ (یعنی چچا) کی مغفرت فرما۔ بےشک وہ گمراہوں میں سے تھا۔ (86) اور جس دن لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے اس دن مجھے رسوا نہ کر۔ (87) جس دن نہ مال فائدہ دے گا اور نہ اولاد۔ (88) اور سوائے اس کے جو اللہ کی بارگاہ میں قلبِ سلیم کے ساتھ حاضر ہوگا۔ (89))

سورہ شعراء کی آیت نمبر 83 سے 89 تک میں ان قرآنی دعاؤں تذکرہ ہے جو حضرت ابراہیم کی زبان سے نقل ہوئی ہیں۔ پچھلی آیتوں میں ذکر ہونے والی نعمتوں نے حضرت ابراہیم کو مذکورہ دعائیں کے ذریعے اپنی حاجتوں کو خدا کی بارہ میں بیان کرنے پر مجبور کئے ہیں۔[14] اس طرح اپنی بت پرست قوم کو بتلا سکیں کہ جو کچھ دنیا اور آخرت میں مانگنا ہے اسے خدا سے طلب کرنی چاہئے اور یہ خدا کی ربوبیت مطلقہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔[15]

علم و دانش، صالحین سے ملحق ہونا، گذشتہ لوگوں کے ذہ­نوں میں باقی رہنا، عاقبت بخیری اور بہشت جاویدان، والدین کی گناہوں کی بخشش اور قیامت کے دن رسوا نہ ہونا من جملہ ان دعاؤں میں سے ہیں جنہیں حضرت ابراہیم نے خدا کی بار گاہ میں طلب کی ہیں۔[16]

سورہ شعراء کی آیت نمبر 88 اور 89 مسجد کوفہ میں حضرت علی کی مناجات میں بھی آیا ہے انہی دلائل کی بنا پر یہ آیتیں اس سورت کی مشہور آیایتوں کے ضمن میں آئی ہیں۔[17]

آیت انذار (214)

تفصیلی مضمون: آیت انذار

وأَنْذِرْ عَشیرَتَکَ الْأَقْرَبین﴿214﴾
(ترجمہ: اور (اے رسول) اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو (عذاب سے) ڈراؤ۔)

آیت انذار کے نزول کے بعد پیغمبر اسلامؐ اپنے رشتہ داروں کو اسلام کی طرف دعوت اور انہیں جہنم سے ڈرانے پر مأمور ہوئے۔ شیعہ اور بعض اہل سنت تفاسیر کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے اپنے رشتہ داروں میں سے 40 اشخاص کو مہمانی پر بلایا اور ان سے اسلام قبول کرنے کی درخواست کرتے ہوئے فرمایا: جو بھی ایمان لائے گا وہ میرا وصی اور جانشین ہو گا۔ اس محفل میں صرف حضرت علیؑ ایمان لے آئے۔[18] شیعہ اور اہل سنت کتابوں میں اس آیت سے مربوط وارد ہونے والی احادیث میں سے ایک حدیث یوم الدار ہے۔[19] شیعہ اس حدیث سے اپنے مذہب کی حقانیت کو ثابت کرتے ہیں۔[20]

علامہ طباطبایی کے مطابق پہلی آیت میں رسول خداؐ کو شرک سے نہی کرنے نیز اس آیت میں اپنے قرابت داروں کو اسلام کی طرف دعوت دینے کا حکم اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دین کی طرف دعوت دینے میں کسی قسم کی استثناء موجود نہیں ہے۔[21]

آیت خفض جناج (215)

وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿215﴾

اس آیت میں خدا نے اپنے رسول کو اپنی پیروی کرنے والے مؤمنین کے ساتھ تواضع اور فروتنی کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ہے۔ پرندوں کا اپنے بچوں کے لئے پروں کو پھیلانے کی طرح مؤمنین کے لئے پروں کو پھیلانے کا حکم حقیقت میں پیغمبر اکرمؐ کی جانب سے اپنے ماننے والوں کے ساتھ نہایت مہربانی اور عطوفت کی طرف اشارہ ہے جس سے کسی مذہب کے پیروکار مختلف احتمالی خطرات سے مصون رہتے ہوئے آپس میں انتشار سے بچتے ہیں۔[22]

اسی طرح اس طرح کے محبت آمیز تعبیر کا استعمال شاید توازن پیدا کرنے کی خاطر ہو چونکہ اس سے پہلی آیت میں بعض تربیتی مسائل کی بنا پر خوف اور خبرار کیا گیا تھا جس کے فورا بعد اس طرح کے محبت آمیز الفاظ کے ذریعے گفتار اور رفتار میں تعادل پیش کی گئی ہے تاکہ افراط و تفریط سے محفوظ رہ سکے۔[23]

فضیلت اور خواص

اس سورت کی فضیلت اور تلاوت کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ جو شخص سورہ شعرا کی تلاوت کرے اس کے لئے حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت شعیب، حضرت صالح، حضرت ابراہیم، حضرت عیسی اور حضرت محمد پر ایمان لانے اور انہیں تکذیب کرنے والوں کے دس برابر ثواب دیا جائے گا۔[24] سانچہ:همچنین ببینید

متن اور ترجمہ

سورہ شعراء
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

طسم ﴿1﴾ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿2﴾ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ ﴿3﴾ إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِم مِّن السَّمَاء آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ ﴿4﴾ وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمَنِ مُحْدَثٍ إِلَّا كَانُوا عَنْهُ مُعْرِضِينَ ﴿5﴾ فَقَدْ كَذَّبُوا فَسَيَأْتِيهِمْ أَنبَاء مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُون ﴿6﴾ أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الْأَرْضِ كَمْ أَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ ﴿7﴾ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿8﴾ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ﴿9﴾ وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴿10﴾ قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلَا يَتَّقُونَ ﴿11﴾ قَالَ رَبِّ إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ ﴿12﴾ وَيَضِيقُ صَدْرِي وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْسِلْ إِلَى هَارُونَ ﴿13﴾ وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ ﴿14﴾ قَالَ كَلَّا فَاذْهَبَا بِآيَاتِنَا إِنَّا مَعَكُم مُّسْتَمِعُونَ ﴿15﴾ فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولَا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿16﴾ أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ ﴿17﴾ قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ ﴿18﴾ وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِي فَعَلْتَ وَأَنتَ مِنَ الْكَافِرِينَ ﴿19﴾ قَالَ فَعَلْتُهَا إِذًا وَأَنَا مِنَ الضَّالِّينَ ﴿20﴾ فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِي رَبِّي حُكْمًا وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُرْسَلِينَ ﴿21﴾ وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ ﴿22﴾ قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ ﴿23﴾ قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إن كُنتُم مُّوقِنِينَ ﴿24﴾ قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ أَلَا تَسْتَمِعُونَ ﴿25﴾ قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ ﴿26﴾ قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ ﴿27﴾ قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ ﴿28﴾ قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ ﴿29﴾ قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَيْءٍ مُّبِينٍ ﴿30﴾ قَالَ فَأْتِ بِهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ﴿31﴾ فَأَلْقَى عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ ﴿32﴾ وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ بَيْضَاء لِلنَّاظِرِينَ ﴿33﴾ قَالَ لِلْمَلَإِ حَوْلَهُ إِنَّ هَذَا لَسَاحِرٌ عَلِيمٌ ﴿34﴾ يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ ﴿35﴾ قَالُوا أَرْجِهِ وَأَخَاهُ وَابْعَثْ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ ﴿36﴾ يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ ﴿37﴾ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ ﴿38﴾ وَقِيلَ لِلنَّاسِ هَلْ أَنتُم مُّجْتَمِعُونَ ﴿39﴾ لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِن كَانُوا هُمُ الْغَالِبِينَ ﴿40﴾ فَلَمَّا جَاء السَّحَرَةُ قَالُوا لِفِرْعَوْنَ أَئِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِن كُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِينَ ﴿41﴾ قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِينَ ﴿42﴾ قَالَ لَهُم مُّوسَى أَلْقُوا مَا أَنتُم مُّلْقُونَ ﴿43﴾ فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ ﴿44﴾ فَأَلْقَى مُوسَى عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ ﴿45﴾ فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ ﴿46﴾ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿47﴾ رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ ﴿48﴾ قَالَ آمَنتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ ﴿49﴾ قَالُوا لَا ضَيْرَ إِنَّا إِلَى رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ ﴿50﴾ إِنَّا نَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَايَانَا أَن كُنَّا أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿51﴾ وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ ﴿52﴾ فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ ﴿53﴾ إِنَّ هَؤُلَاء لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ ﴿54﴾ وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَائِظُونَ ﴿55﴾ وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَاذِرُونَ ﴿56﴾ فَأَخْرَجْنَاهُم مِّن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ﴿57﴾ وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ ﴿58﴾ كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ ﴿59﴾ فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ ﴿60﴾ فَلَمَّا تَرَاءى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ ﴿61﴾ قَالَ كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ ﴿62﴾ فَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنِ اضْرِب بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ ﴿63﴾ وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الْآخَرِينَ ﴿64﴾ وَأَنجَيْنَا مُوسَى وَمَن مَّعَهُ أَجْمَعِينَ ﴿65﴾ ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ ﴿66﴾ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿67﴾ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ﴿68﴾ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَاهِيمَ ﴿69﴾ إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ ﴿70﴾ قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ ﴿71﴾ قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ ﴿72﴾ أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ ﴿73﴾ قَالُوا بَلْ وَجَدْنَا آبَاءنَا كَذَلِكَ يَفْعَلُونَ ﴿74﴾ قَالَ أَفَرَأَيْتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ ﴿75﴾ أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ ﴿76﴾ فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ ﴿77﴾ الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ ﴿78﴾ وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ ﴿79﴾ وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ ﴿80﴾ وَالَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحْيِينِ ﴿81﴾ وَالَّذِي أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ ﴿82﴾ رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ ﴿83﴾ وَاجْعَل لِّي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ ﴿84﴾ وَاجْعَلْنِي مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ ﴿85﴾ وَاغْفِرْ لِأَبِي إِنَّهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّينَ ﴿86﴾ وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ ﴿87﴾ يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ﴿88﴾ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ﴿89﴾ وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ ﴿90﴾ وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ ﴿91﴾ وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ ﴿92﴾ مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ ﴿93﴾ فَكُبْكِبُوا فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ ﴿94﴾ وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ ﴿95﴾ قَالُوا وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ ﴿96﴾ تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿97﴾ إِذْ نُسَوِّيكُم بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿98﴾ وَمَا أَضَلَّنَا إِلَّا الْمُجْرِمُونَ ﴿99﴾ فَمَا لَنَا مِن شَافِعِينَ ﴿100﴾ وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ ﴿101﴾ فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿102﴾ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿103﴾ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ﴿104﴾ كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ ﴿105﴾ إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ نُوحٌ أَلَا تَتَّقُونَ ﴿106﴾ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ ﴿107﴾ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿108﴾ وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿109﴾ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿110﴾ قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ ﴿111﴾ قَالَ وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿112﴾ إِنْ حِسَابُهُمْ إِلَّا عَلَى رَبِّي لَوْ تَشْعُرُونَ ﴿113﴾ وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ ﴿114﴾ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ ﴿115﴾ قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ ﴿116﴾ قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوْمِي كَذَّبُونِ ﴿117﴾ فَافْتَحْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَنَجِّنِي وَمَن مَّعِي مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿118﴾ فَأَنجَيْنَاهُ وَمَن مَّعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ﴿119﴾ ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ ﴿120﴾ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿121﴾ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ﴿122﴾ كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ ﴿123﴾ إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ ﴿124﴾ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ ﴿125﴾ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿126﴾ وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿127﴾ أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿128﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿129﴾ وَإِذَا بَطَشْتُم بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ ﴿130﴾ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿131﴾ وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُم بِمَا تَعْلَمُونَ ﴿132﴾ أَمَدَّكُم بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ ﴿133﴾ وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ﴿134﴾ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ﴿135﴾ قَالُوا سَوَاء عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُن مِّنَ الْوَاعِظِينَ ﴿136﴾ إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ ﴿137﴾ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ ﴿138﴾ فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿139﴾ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ﴿140﴾ كَذَّبَتْ ثَمُودُ الْمُرْسَلِينَ ﴿141﴾ إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ صَالِحٌ أَلَا تَتَّقُونَ ﴿142﴾ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ ﴿143﴾ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿144﴾ وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿145﴾ أَتُتْرَكُونَ فِي مَا هَاهُنَا آمِنِينَ ﴿146﴾ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ﴿147﴾ وَزُرُوعٍ وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ ﴿148﴾ وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ ﴿149﴾ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿150﴾ وَلَا تُطِيعُوا أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ ﴿151﴾ الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ ﴿152﴾ قَالُوا إِنَّمَا أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ ﴿153﴾ مَا أَنتَ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا فَأْتِ بِآيَةٍ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ﴿154﴾ قَالَ هَذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ ﴿155﴾ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ ﴿156﴾ فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُوا نَادِمِينَ ﴿157﴾ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿158﴾ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ﴿159﴾ كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ الْمُرْسَلِينَ ﴿160﴾ إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ لُوطٌ أَلَا تَتَّقُونَ ﴿161﴾ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ ﴿162﴾ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿163﴾ وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿164﴾ أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ ﴿165﴾ وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُم بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ ﴿166﴾ قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَا لُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ ﴿167﴾ قَالَ إِنِّي لِعَمَلِكُم مِّنَ الْقَالِينَ ﴿168﴾ رَبِّ نَجِّنِي وَأَهْلِي مِمَّا يَعْمَلُونَ ﴿169﴾ فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ ﴿170﴾ إِلَّا عَجُوزًا فِي الْغَابِرِينَ ﴿171﴾ ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرِينَ ﴿172﴾ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَسَاء مَطَرُ الْمُنذَرِينَ ﴿173﴾ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿174﴾ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ﴿175﴾ كَذَّبَ أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ ﴿176﴾ إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلَا تَتَّقُونَ ﴿177﴾ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ ﴿178﴾ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿179﴾ وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿180﴾ أَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُخْسِرِينَ ﴿181﴾ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ﴿182﴾ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ﴿183﴾ وَاتَّقُوا الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الْأَوَّلِينَ ﴿184﴾ قَالُوا إِنَّمَا أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ ﴿185﴾ وَمَا أَنتَ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ ﴿186﴾ فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَاء إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ﴿187﴾ قَالَ رَبِّي أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿188﴾ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ﴿189﴾ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿190﴾ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ﴿191﴾ وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿192﴾ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ ﴿193﴾ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ ﴿194﴾ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ ﴿195﴾ وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ ﴿196﴾ أَوَلَمْ يَكُن لَّهُمْ آيَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاء بَنِي إِسْرَائِيلَ ﴿197﴾ وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَى بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ ﴿198﴾ فَقَرَأَهُ عَلَيْهِم مَّا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ ﴿199﴾ كَذَلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ ﴿200﴾ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ ﴿201﴾ فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ﴿202﴾ فَيَقُولُوا هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ ﴿203﴾ أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ ﴿204﴾ أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَاهُمْ سِنِينَ ﴿205﴾ ثُمَّ جَاءهُم مَّا كَانُوا يُوعَدُونَ ﴿206﴾ مَا أَغْنَى عَنْهُم مَّا كَانُوا يُمَتَّعُونَ ﴿207﴾ وَمَا أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنذِرُونَ ﴿208﴾ ذِكْرَى وَمَا كُنَّا ظَالِمِينَ ﴿209﴾ وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ ﴿210﴾ وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ ﴿211﴾ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ ﴿212﴾ فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ ﴿213﴾ وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ﴿214﴾ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿215﴾ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ ﴿216﴾ وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ ﴿217﴾ الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ ﴿218﴾ وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ ﴿219﴾ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿220﴾ هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ ﴿221﴾ تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿222﴾ يُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ ﴿223﴾ وَالشُّعَرَاء يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ ﴿224﴾ أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ ﴿225﴾ وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ﴿226﴾ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانتَصَرُوا مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ ﴿227﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

طا، سین، میم۔ (1) یہ ایک واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔ (2) شاید آپ (اس غم میں) جان دے دیں گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ (3) اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتاریں جس کے آگے ان کی گردنیں جھک جائیں۔ (4) اور جب بھی ان کے پاس خدائے رحمن کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ (5) بےشک یہ جھٹلا چکے ہیں تو عنقریب ان کے سامنے اس چیز کی خبریں آئیں گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ (6) کیا انہوں نے زمین کی طرف (غور سے) نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں کتنی کثرت سے عمدہ نباتات اگائی ہیں۔ (7) بےشک اس کے اندر ایک بڑی نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ (8) اور بےشک آپ کا پروردگار بڑا غالب، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (9) (اے رسول(ص)) وہ وقت یاد کرو جب آپ کے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا کہ ظالم قوم کے پاس جاؤ۔ (10) یعنی فرعون کی قوم کے پاس۔ کیا وہ نہیں ڈرتے؟ (11) موسیٰ نے کہا اے میرے پروردگار! میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے۔ (12) اور میرا سینہ تنگ ہوتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی سو ہارون کے پاس (وحی) بھیج (کہ وہ میرا ساتھ دے)۔ (13) اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک جرم بھی ہے اس لئے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ (14) ارشاد ہوا ہرگز نہیں! تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ (سب کچھ) سن رہے ہیں۔ (15) پس تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔ اور اس سے کہو کہ ہم تمام جہانوں کے پروردگار کے رسول ہیں۔ (16) کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ (17) فرعون نے کہا (اے موسیٰ) کیا تمہارے بچپن میں ہم نے تمہاری پرورش نہیں کی ہے؟ اور تو نے اپنی عمر کے کئی سال ہم میں گزارے ہیں۔ (18) اور تو نے اپنی وہ حرکت بھی کی تھی جو کی تھی اور تو ناشکروں میں سے ہے۔ (19) موسیٰ نے کہا: ہاں میں نے وہ کام اس وقت کیا تھا جب میں راستہ سے بھٹکا ہوا تھا۔ (20) تو جب میں تم سے ڈرا تو بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کے بعد میرے پروردگار نے مجھے علم و حکمت عطا کیا اور مجھے رسولوں میں سے قرار دے دیا۔ (21) اور یہی (پرورش وغیرہ کا) وہ احسان ہے جو تو مجھے جتا رہا ہے جب کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔ (22) فرعون نے کہا اور یہ رب العالمین کیا چیز ہے۔ (23) موسیٰ نے کہا وہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو۔ (24) فرعون نے اپنے اردگرد والوں سے کہا کیا تم سنتے نہیں ہو؟ (25) موسیٰ نے کہا وہ تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے اگلے آباء و اجداد کا بھی پروردگار۔ (26) فرعون نے کہا تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو بالکل دیوانہ ہے۔ (27) موسیٰ نے کہا کہ وہ مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے اگر تم عقل سے کام لو۔ (28) فرعون نے کہا کہ اگر تو نے میرے سوا کوئی معبود بنایا تو میں تمہیں قیدیوں میں شامل کر دوں گا۔ (29) موسیٰ نے کہا: اگرچہ میں تیرے پاس کوئی واضح نشانی بھی لے کر آؤں؟ (30) فرعون نے کہا: اچھا تو لے آ۔ اگر تو سچا ہے۔ (31) اس پر موسیٰ نے اپنا عصا پھینک دیا تو ایک دم وہ کھلا ہوا اژدھا بن گیا۔ (32) اس نے اپنا ہاتھ نکالا تو وہ ایک دم دیکھنے والوں کیلئے چمک رہا تھا۔ (33) فرعون نے اپنے اردگرد کے عمائدین سے کہا کہ یہ تو بڑا ماہر جادوگر ہے۔ (34) یہ اپنے جادو (کے زور) سے تمہیں اپنے ملک سے باہر نکالنا چاہتا ہے۔ اب تم کیا رائے دیتے ہو؟ (35) انہوں نے کہا اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجئے اور تمام شہروں میں جمع کرنے والے آدمی (ہرکارے) بھیجئے۔ (36) جو ہر بڑے جادوگر کو تمہارے پاس لے آئیں۔ (37) چنانچہ تمام جادوگر ایک خاص مقررہ وقت پر جمع کر لئے گئے۔ (38) اور عام لوگوں سے کہا گیا۔ کیا تم لوگ بھی (مقابلہ دیکھنے کیلئے) جمع ہوگے؟ (39) تاکہ اگر جادوگر غالب آجائیں تو ہم سب ان کی پیروی کریں۔ (40) تو جب جادوگر (میدان میں) آگئے تو انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم غالب آگئے تو ہمیں کچھ صلہ تو ملے گا۔ (41) فرعون نے کہا: ہاں ضرور! اور تم اس وقت مقرب بارگاہ ہو جاؤگے۔ (42) موسیٰ نے ان سے کہا کہ تم پھینکو جو کچھ تمہیں پھینکنا ہے۔ (43) چنانچہ انہوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں پھینک دیں اور کہا کہ فرعون کے جلال و اقبال کی قَسم ہم ہی غالب آئیں گے۔ (44) پھر موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ایک دم ان کے بنائے ہوئے جھوٹ کو نگلنے لگا۔ (45) (یہ معجزہ دیکھ کر) سب جادوگر سجدہ میں گر پڑے۔ (46) اور کہنے لگے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لائے۔ (47) جو موسیٰ و ہارون کا رب ہے فرعون نے کہا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں یقیناً یہ تمہارا بڑا (جادوگر) ہے۔ (48) جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے ابھی تمہیں (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا کہ میں تمہارے ہاتھ پاؤں کو مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا۔ اور تم سب کو سولی چڑھا دوں گا۔ (49) انہوں نے کہا کوئی جرم نہیں ہم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں لوٹ جائیں گے۔ (50) ہمیں امید ہے کہ وہ ہماری خطاؤں کو معاف کرے گا کیونکہ ہم سب سے پہلے ایمان لا رہے ہیں۔ (51) اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ کیونکہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔ (52) پس فرعون نے تمام شہروں میں (لشکر) جمع کرنے والے (ہرکارے) بھیجے۔ (53) (اور کہلا بھیجا کہ) یہ لوگ ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔ (54) اور انہوں نے ہمیں بہت غصہ دلایا ہے۔ (55) اور بےشک ہم پورے محتاط اور چوکنا ہیں۔ (56) پھر ہم نے انہیں (مصر کے) باغوں اور چشموں (57) اور خزانوں اور شاندر عمدہ مکانوں سے نکال باہر کیا۔ (58) ایسا ہی ہوا اور ہم نے ان چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنایا۔ (59) چنانچہ صبح تڑکے وہ لوگ (فرعونی) ان کے تعاقب میں نکلے۔ (60) پس جب دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں (آمنے سامنے ہوئیں) تو موسیٰ کے ساتھیوں نے (گھبرا کر) کہا کہ بس ہم تو پکڑے گئے۔ (61) موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں! یقیناً میرا پروردگار میرے ساتھ ہے جو ضرور میری راہنمائی کرے گا۔ (62) سو ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنا عصا دریا پر مارو۔ چنانچہ وہ دریا پھٹ گیا اور (پانی کا) ہر حصہ ایک بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا۔ (63) اور ہم وہاں دوسرے فریق کو بھی نزدیک لائے۔ (64) اور ہم نے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو نجات دی۔ (65) اور پھر ہم نے دوسرے فریق کو غرق کر دیا۔ (66) بےشک اس واقعہ میں ایک بڑی نشانی ہے مگر ان سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ (67) اور بےشک آپ کا پروردگار بڑا غالب آنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (68) اور آپ ان لوگوں کے سامنے ابراہیم (ع) کا قصہ بیان کیجئے۔ (69) جب انہوں نے اپنے باپ (یعنی چچا) اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس چیز کی پرستش کرتے ہو؟ (70) انہوں نے کہا کہ ہم تو بتوں کی پرستش کرتے ہیں اور اس پر قائم ہیں۔ (71) ابراہیم نے کہا کہ جب تم انہیں پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری آواز سنتے ہیں۔ (72) یا تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟ (73) انہوں نے کہا بلکہ ہم نے اپنے باپ داداؤں کو ایسے ہی کرتے پایا ہے۔ (74) ابراہیم نے کہا کیا تم نے ان چیزوں کی (اصل حقیقت) دیکھی ہے کہ جن کی تم (75) اور تمہارے باپ دادا پرستش کرتے رہے ہیں؟ (کہ وہ کیا ہے؟) (76) بہرکیف یہ سب میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے۔ (77) جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ پھر وہی میری راہنمائی کرتا ہے۔ (78) اور وہ جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا بھی۔ (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ مجھے شفا دیتا ہے۔ (80) اور جو مجھے موت دے گا اور پھر مجھے (دوبارہ) زندہ کرے گا۔ (81) اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ جزا و سزا کے دن میری خطا معاف کر دے گا۔ (82) اے میرے پروردگار! مجھے (علم و حکمت) عطا فرما۔ اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔ (83) اور آئندہ آنے والوں میں میرا ذکرِ خیر جاری رکھ۔ (84) اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔ (85) اور میرے باپ (یعنی چچا) کی مغفرت فرما۔ بےشک وہ گمراہوں میں سے تھا۔ (86) اور جس دن لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے اس دن مجھے رسوا نہ کر۔ (87) جس دن نہ مال فائدہ دے گا اور نہ اولاد۔ (88) اور سوائے اس کے جو اللہ کی بارگاہ میں قلبِ سلیم کے ساتھ حاضر ہوگا۔ (89) اور جنت پرہیزگاروں کے قریب کر دی جائے گی۔ (90) اور دوزخ گمراہوں کے سامنے ظاہر کر دی جائے گی۔ (91) اور ان سے کہا جائے گا کہ تمہارے وہ معبود کہاں ہیں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے؟ (92) کیا وہ (آج) تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں یا وہ اپنا ہی بچاؤ کر سکتے ہیں؟ (93) پھر وہ معبود اور (یہ) گمراہ لوگ۔ (94) اور ابلیس اور اس کے سارے لشکر اس (دوزخ) میں اندھے منہ ڈال دیئے جائیں گے۔ (95) اور وہ دوزخ میں باہم جھگڑتے ہوئے کہیں گے۔ (96) خدا کی قَسم ہم کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔ (97) جب تمہیں رب العالمین کے برابر قرار دیتے تھے۔ (98) اور ہم کو تو بس (بڑے) مجرموں نے گمراہ کیا تھا۔ (99) نہ اب ہمارا کوئی سفارشی ہے۔ (100) اور نہ کوئی مخلص دوست۔ (101) کاش! ہم دوبارہ (دنیا میں) بھیجے جاتے تو ضرور ہم اہلِ ایمان سے ہو جاتے۔ (102) بےشک اس میں بڑی نشانی ہے مگر ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ (103) اور یقیناً آپ کا پروردگار بڑا غالب اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (104) نوح(ع) کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ (105) جب کہ ان کے بھائی نوح نے ان سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ ۔ (106) بےشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ (107) سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (108) اور میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میری اجرت تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (109) پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (110) انہوں نے کہا ہم کس طرح تجھے مان لیں (اور اطاعت کریں) جبکہ رذیل لوگ تمہاری پیروی کر رہے ہیں۔ (111) آپ نے کہا مجھے اس کی کیا خبر (اور کیا غرض؟) جو وہ کرتے رہے ہیں؟ (112) ان کا حساب کتاب کرنا تو میرے پروردگار ہی کا کام ہے کاش تم شعور سے کام لیتے۔ (113) اور میں اہلِ ایمان کو دھتکارنے والا نہیں ہوں۔ (114) میں تو صرف ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ (115) ان لوگوں نے کہا اے نوح! اگر تم باز نہ آئے تو تم ضرور سنگسار کر دیئے جاؤگے۔ (116) آپ نے کہا اے میرے پروردگار! میری قوم نے تو مجھے جھٹلایا دیا ہے۔ (117) پس اب تو ہی میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما اور مجھے اور میرے ساتھ ایمان لانے والوں کو نجات دے۔ (118) پس ہم نے انہیں اور جو اس بھری ہوئی کشتی میں ان کے ساتھ تھے سب کو نجات دی۔ (119) پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا۔ (120) بےشک اس میں ایک بڑی نشانی ہے (مگر) ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لانے والے ہیں۔ (121) اور آپ کا پروردگار بڑا غالب ہے، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (122) (اسی طرح قوم) عاد نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔ (123) جبکہ ان کے بھائی ہود نے ان سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ (124) بےشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ (125) سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (126) اور میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میری اجرت تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (127) کیا تم ہر بلندی پر بے فائدہ ایک یادگار تعمیر کرتے ہو؟ (128) اور تم بڑے بڑے محل تعمیر کرتے ہو شاید کہ تم ہمیشہ زندہ رہوگے۔ (129) اور جب تم کسی پر حملہ کرتے ہو تو جبار و سرکش بن کر حملہ کرتے ہو؟ (130) پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (131) اور اس ذات سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہاری مدد کی ہے جنہیں تم جانتے ہو۔ (132) (یعنی) اس نے مویشیوں اور اولاد سے تمہاری مدد فرمائی۔ (133) اور باغات اور چشموں سے۔ (134) میں تمہارے متعلق ایک بہت بڑے (سخت) دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ (135) ان لوگوں نے کہا کہ تم نصیحت کرو یا نہ کرو۔ ہمارے لئے برابر ہے۔ (136) یہ (ڈراوا) تو بس اگلے لوگوں کی عادت ہے۔ (137) اور ہم کبھی عذاب میں مبتلا ہونے والے نہیں ہیں۔ (138) پس انہوں نے اس (ہود) کو جھٹلایا اور ہم نے انہیں ہلاک کر دیا بےشک اس میں ایک بڑی نشانی ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لائے نہیں تھے۔ (139) اور یقیناً آپ کا پروردگار بڑا غالب، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (140) قومِ ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔ (141) جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ (142) میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ (143) سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (144) اور میں تم سے اس (تبلیغ رسالت) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میری اجرت تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (145) کیا تمہیں ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن و اطمینان سے چھوڑ دیا جائے گا۔ (146) (یعنی) باغوں اور چشموں میں۔ (147) اور ان کھجوروں میں جن کے خوشے نرم اور خوب بھرے ہوئے ہیں۔ (148) اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر اتراتے ہوئے (یا مہارت سے) مکانات بناتے ہو۔ (149) پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (150) اور ان حد سے تجاوز کرنے والوں کے حکم کی اطاعت نہ کرو۔ (151) جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔ (152) ان لوگوں نے کہا: (اے صالح) تم ان لوگوں میں سے ہو جن پر سخت (یا بار بار) جادو کر دیا گیا ہے۔ (153) (اور) تم تو بس ہمارے جیسے ایک بندہ ہو۔ اگر تم سچے ہو تو کوئی معجزہ لاؤ۔ (154) صالح نے کہا یہ ایک اونٹنی ہے ایک دن اس کے پانی پینے کا ہوگا اور ایک مقررہ دن کا پانی تمہارے پینے کیلئے ہوگا۔ (155) اور خبردار اسے کوئی تکلیف نہ پہنچانا ورنہ تمہیں ایک بڑے دن کا عذاب آپکڑے گا۔ (156) پس انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں پھر پشیمان ہوئے۔ (157) پھر ان کو عذاب نے آپکڑا بےشک اس (واقعہ) میں ایک بڑی نشانی ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں تھے۔ (158) اور یقیناً آپ کا پروردگار بڑا غالب ہے، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (159) قومِ لوط نے رسولوں کو جھٹلایا۔ (160) جبکہ ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو۔ (161) میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ (162) پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (163) اور میں تم سے اس (تبلیغ رسالت) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا میری اجرت تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (164) کیا تم دنیا جہان والوں میں سے (بدفعلی کیلئے) مَردوں کے پاس ہی جاتے ہو۔ (165) اور تمہارے پروردگار نے تمہارے لئے جو بیویاں پیدا کی ہیں انہیں چھوڑ دیتے ہو۔ بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ (166) ان لوگوں نے کہا: اے لوط (ع)! (اگر تم ان باتوں سے) باز نہ آئے تو تمہیں ضرور باہر نکال دیا جائے گا۔ (167) آپ نے کہا میں تمہارے (اس) کردار سے سخت نفرت کرنے والوں میں سے ہوں۔ (168) اے میرے پروردگار! مجھے اور میرے گھر والوں کو اس عمل (کے وبال) سے جو یہ کرتے ہیں نجات عطا فرما۔ (169) چنانچہ ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو نجات عطا کی ہے۔ (170) سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔ (171) پھر ہم نے دوسرے سب لوگوں کو تباہ و برباد کر دیا۔ (172) اور ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش برسائی۔ سو کیا بڑی بارش تھی جو ڈرائے ہوؤوں پر برسی۔ (173) بےشک اس میں ایک بڑی نشانی ہے۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں تھے۔ (174) اور یقیناً آپ کا پروردگار بڑا غالب ہے، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (175) ایکہ والوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ (176) جبکہ ان کے بھائی شعیب (ع) نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ (177) بےشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ (178) سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (179) میں تم سے اس (تبلیغ رسالت) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میری اجرت تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (180) (دیکھو) پورا ناپا کرو (پیمانہ بھرا کرو) اور نقصان پہنچانے والوں میں سے نہ ہو۔ (181) اور صحیح ترازو سے تولا کرو (ڈنڈی سیدھی رکھا کرو)۔ (182) اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔ (183) اور اس (اللہ) سے ڈرو جس نے تمہیں اور پہلی مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ (184) ان لوگوں نے کہا کہ تم تو بس سخت سحر زدہ آدمی ہو۔ (185) اور تم ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو اور ہمیں تو جھوٹے بھی معلوم ہوتے ہو۔ (186) اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو۔ (187) آپ نے کہا میرا پروردگار بہتر جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ (188) پس ان لوگوں نے ان (شعیب (ع)) کو جھٹلایا تو سائبان والے دن کے عذاب نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا۔ بےشک وہ ایک بڑے سخت دن کا عذاب تھا۔ (189) بےشک اس میں ایک بڑی نشانی ہے۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں تھے۔ (190) اور بےشک آپ کا پروردگار بڑا غالب ہے، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (191) اور بےشک یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔ (192) جسے روح الامین (جبرائیل) نے آپ کے دل پر اتارا ہے۔ (193) تاکہ آپ (عذابِ الٰہی سے) ڈرانے والوں میں سے ہو جائیں۔ (194) یہ کھلی ہوئی عربی زبان میں ہے۔ (195) اور یہ پہلے لوگوں کی کتابوں میں (بھی) ہے۔ (196) کیا یہ نشانی اس (اہل مکہ) کیلئے کافی نہیں ہے کہ اس (قرآن) کو بنی اسرائیل کے علماء جانتے ہیں۔ (197) اور اگر ہم اسے کسی عجمی (غیر عرب) پر نازل کرتے۔ (198) پھر وہ اسے پڑھ کر ان کو سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔ (199) اسی طرح ہم نے اس (انکار) کو مجرموں کے دلوں میں داخل کر دیا ہے۔ (200) یہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک دردناک عذاب کو نہیں دیکھ لیں گے۔ (201) چنانچہ وہ (عذاب) اس طرح اچانک ان پر آجائے گا کہ انہیں احساس بھی نہ ہوگا۔ (202) تب وہ کہیں گے کیا ہمیں مہلت مل سکتی ہے؟ (203) کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کیلئے جلدی کر رہے ہیں۔ (204) کیا تم دیکھتے ہو کہ اگر ہم انہیں کئی سال تک فائدہ اٹھانے کا موقع دیں۔ (205) پھر ان پر وہ عذاب آجائے جس سے انہیں ڈرایا جاتا تھا۔ (206) تو وہ سب ساز و سامان جس سے وہ فائدہ اٹھاتے رہے تھے انہیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔ (207) اور ہم نے کبھی کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہیں کیا جب تک اس کے پاس عذاب الٰہی سے ڈرانے والے نہ آچکے ہوں۔ (208) نصیحت اور یاد دہانی کیلئے! اور ہم کبھی ظالم نہیں تھے۔ (209) اور اس (قرآن) کو شیطانوں نے نہیں اتارا۔ (210) اور نہ ہی یہ ان کیلئے مناسب ہے اور نہ ہی وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں۔ (211) وہ تو اس (وحی) کے سننے سے بھی معزول کئے جا چکے ہیں۔ (212) پس آپ اللہ کے ساتھ کسی اور الہ کو نہ پکاریں ورنہ آپ بھی سزا پانے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔ (213) اور (اے رسول) اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو (عذاب سے) ڈراؤ۔ (214) اور جو اہلِ ایمان آپ کی پیروی کریں ان کیلئے اپنا بازو جھکاؤ (ان کے ساتھ تواضع و فروتنی سے پیش آؤ)۔ (215) اور اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں اس سے بیزار ہوں جو کچھ تم کرتے ہو۔ (216) اور اس (پروردگار) پر بھروسہ کیجئے جو غالب ہے اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (217) جو آپ کو اس وقت دیکھتا ہے جب آپ کھڑے ہوتے ہیں۔ (218) اور جب آپ سجدہ کرنے والوں میں نشست و برخاست کرتے ہیں تب بھی دیکھتا ہے۔ (219) بےشک وہ بڑا سننے والا، بڑا علم والا ہے۔ (220) کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں۔ (221) وہ ہر جھوٹ گھڑنے والے گنہگار پر اترتے ہیں۔ (222) جو ان (شیاطین) کی طرف کان لگائے رہتے ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔ (223) اور جو شعراء ہیں ان کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ (224) کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ ہر وادی میں حیران و سرگرداں پھرا کرتے ہیں۔ (225) اور وہ کہتے ہیں ایسی باتیں جو کرتے نہیں ہیں۔ (226) سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا اور بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا انہوں نے بدلہ لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس جگہ لوٹ کر جا رہے ہیں؟ (227)

پچھلی سورت: سورہ فرقان سورہ شعراء اگلی سورت:سورہ نمل

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. خرمشاهی، «سوره شعراء»، ص۱۲۴۴.
  2. صفوی، «سوره شعراء»، ص۷۴۴.
  3. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۶.
  4. خرمشاہی، «سورہ شعراء»، ص۱۲۴۴.
  5. صفوی، «سورہ شعراء»، ص ۷۴۴.
  6. راميار، تاريخ قرآن، ۱۳۸۷ش، ص۵۹۷.
  7. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۵، ص۱۸۰.
  8. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۵، ص۲۴۹۔
  9. صفوی، «سورہ شعراء»، ص۷۴۴۔
  10. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۵، ص۱۸۰۔
  11. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۵، ص۱۷۹و۱۸۰۔
  12. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  13. عنایہ، أسباب النزول القرآنی، ۱۴۱۱ق، ص۲۹۷-۲۹۸.
  14. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۵، ص۲۸۵.
  15. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۵، ص۲۶۰.
  16. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۵، ص۲۶۰-۲۶۴.
  17. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۹۷، ص۴۱۹.
  18. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۵، ص۳۶۷؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۲۴، ص۵۳۶؛ مولایی‌نیا و مؤمنی، «تفسیر تطبیقی آیت انذار از نگاہ فریقین، ص۱۶۰و۱۶۱.
  19. ابن شہر آشوب، مناقب آل أبي طالب عليہم السلام‏، ۱۳۷۹ق، ج۲، ص۲۴؛ طبری، تاریخ الامم والملوک، دار قاموس الحدیث، ج۲، ص۲۷۹؛ سید بن طاووس، الطرائف، ۱۴۰۰ق، ج۱، ص۲۱؛ حسکانی، شواہد التنزیل، ۱۴۱۱ق، ج۱، ص۵۴۳.
  20. مولایی‌نیا و مؤمنی، «تفسیر تطبیقی آیت «انذار از نگاہ فریقین، ص۱۴۳.
  21. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۵، ص۳۲۸-۳۲۹.
  22. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۵، ص۳۲۹؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۵، ص۳۶۸.
  23. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۱۵، ص۳۶۸-۳۶۹.
  24. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۷، ص۲۸۶.
  1. کیونکہ سورہ شعراء کی آخری چار آیتوں کے علاوہ تمام آیتیں مکہ میں نازل ہوئی ہیں۔ (مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۵، ص۱۷۹.)

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، ۱۳۹۲ش
  • خرمشاہی، قوام‌الدین، «سورہ شعراء»، در دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • راميار، محمود، تاريخ قرآن،تہران، انتشارات امير کبير،۱۳۸۷ش۔
  • صدوق، محمد بن علی، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال‏، قم، دار الشریف رضی، ۱۴۰۶ھ۔
  • صفوی، سلمان، «سورہ شعراء»، در دانشنامہ معاصر قرآن کریم، قم، انتشارات سلمان آزادہ، ۱۳۹۶ش۔
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۰ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان، تحقیق محمد جواد بلاغی، تہران، ناصر خسرو، ۱۳۷۲ش۔
  • عنایہ، غازی حسین، أسباب النزول القرآنی، بیروت، دار الجیل‏، ۱۴۱۱ھ۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چ۱، ۱۳۷۱ش۔
  • مجلسی، محمدتقی، بحارالانوار، بیروت، داراحیا التراث العربی، ۱۴۰۳ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۱ش۔
  • مولایی‌نیا، عزت اللہ و محمدامین مؤمنی، «تفسیر تطبیقی آیہ انذار از نگاہ فریقین»، پژوہش‌ہای تفسیر تطبیقی، ش۱، ۱۳۹۴ش۔

بیرونی روابط