حدیث سلسلۃ الذہب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حدیث سِلسِلَۃ الذَّهَب حدیث قدسی میں سے توحید خداوندی اور اس کے شرائط کی باب میں امام رضا(ع) سے منسوب اس حدیث کو کہا جاتا ہے جسے آپ(ع) نے مامون رشید کے حکم پر مدینہ سے مرو جاتے ہوئے نیشابور کے مقام پر بیان فرمایا۔ امام(ع) نے اس حدیث میں خود (امامت) کو توحید کی شرط قرار دی۔

چونکہ اس حدیث کے تمام راوی پیغمبر(ص) تک امام معصوم‌ ہیں اور آخرکار اس کا سلسلہ خداوند عالم تک پہنچتا ہے اسے "حدیث سلسلۃ الذهب" یعنی "زرّین سلسلہ" کہا جاتا ہے۔

حدیث کا متن اور ترجمہ

شیخ صدوق نے کتاب التوحید میں اس یوں نقل کیا ہے کہ اسحاق بن راہویہ کہتا ہے: جب امام رضا(ع) خراسان جاتے ہوئے نیشابور کے مقام پر پہنچے اور وہاں سے مأمون کی طرف کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو نیشابور کے مُحدِّثین جمع ہوئے اور عرض کیا:‌یا بن رسول اللہ صلّی اللَّه علیہ و آلہ و سلّم ہمارے شہر سے تشریف لے جاتے ہو کیا ہمیں کوئی حدیث بیان نہیں فرمائیں گے؟ محدثین کی اس فرمائش پر امام رضا(ع) نے اپنا سر اونٹ کے کجاوے سے باہر نکالا اور فرمایا:

میں اپنے والد گرامی، موسی بن جعفر(ع) سے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنے والد گرامی، جعفر بن محمّد(ع) سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد گرامی، محمّد بن علی(ع) سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد گرامی، علی بن الحسین علیہما السّلام سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد گرامی، حسین بن علی(ع) سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد گرامی، امیرالمؤمنین علی بن أبی طالب(ع)سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول خدا(ص) سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ میں نے جبرئیل سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے پروردگار عزّ و جلّ سے سنا کہ خداوند عالم فرماتے ہیں: ترجمہ:...خداوند حل جلالہ نے فرمایا: کلمہ "لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ" میرا مظبوط قلعہ ہے، پس جو بھی میرے اس قلعہ میں داخل ہوگا وہ میری عذاب سے محفوظ رہے گا۔ جب آپ کی سواری چلنے لگی تو امام رضا(ع) نے فرمایا البتہ کچھ شرائط کی ساتھ اور میں ان شرائط میں سے ہوں۔[1] [2]

علت نامگذاری

یہ حدیث، "حدیث سلسلۃ الذّہب" [یعنی زرّین سلسلہ] سے معروف ہے۔ یہ نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس حدیث کی سند کے اندر موجود تمام راوی معصوم ہیں یعنی امام رضا(ع) نے امام موسی کاظم(ع) سے انہوں نے امام جعفر صادق(ع) سے یہاں تک کہ یہ سلسلہ ہمارے پہلے امام، امام علی(ع) تک پہنچتا ہے اور حضرت علی(ع) نے اس حدیث کو پیغمبر اکرم(ص) سے اور پیغمبر اکرم(ص) نے اسے جبرئیل کے توسط سے خود خداوند عالم سے نقل کیا ہے۔ اسی لئے یہ حدیث، احادیث قدسی میں بھی شمار ہوتا ہے۔ [3]

شرح

شیخ صدوق امام رضا(ع) کے کلام کو اپنی کتاب توحید میں نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں: امام(ع) کے کلام کے معنی یہ ہے کہ کلمہ "لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ‏" کی قبولیت کی شرط میری امامت پر اقرار کرنا ہے اور یہ اقرار کرنا کہ میں خدا کی جانب سے منصوب امام ہوں جس کی اطاعت اور فرمانبرداری واجب ہے۔ [4]

کتابت

امام رضا(ع) کے نیشابور پہنچنے کے بعد ابو زرعہ رازى اور محمد بن اسلم طوسى سمیت محدثین اور راویوں کی بے شمار تعداد امام(ع) کے ہاں آتے ہیں اور آپ(ع) سے درخواست کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) سے کوئی حدیث نقل کریں۔ اس وقت امام(ع) نے مذکورہ حدیث کا متن ان کیلئے بیان فرمایا۔ بعض تاریخی منابع کے مطابق جنہوں نے اس موقع پر اس حدیث کو لکھا ان کی تعداد 20 ہزار سے بھی زیادہ تھی۔ ایک اور قول کی بنا پر یہ تعداد 24 ہزار تک پہنچتی ہے۔ [5]

اہل سنت مآخذ

اہل سنت منابع میں بھی یہ حدیث موجود ہے اور ان میں سے اکثر منابع میں " وانا من شروطها" کا جملہ بھی موجود ہے [6][7] حتی اہل سنت کے بعض منابع میں میں آیا ہے کہ اس حدیث کو اگر کسی مجنون پر پڑھی جائے تو اسے جنون سے افاقہ ملے گا۔ [8] ابن صباغ مالکی ضمن اس حدیث کو بیان کرنے کے ضمن میں اس کی عظمت اور بزرگی کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔[9]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. ابن بابویہ، کتاب التوحید، ص۴۹.
  2. صدوق، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، ص۲۱-۲۲.
  3. صدوق، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، ص۲۲.
  4. صدوق، التوحید، ص۲۵.
  5. أعيان الشيعۃ، محسن الأمين ،ج‏2،ص:18
  6. ینابیع المودہ، ص 364
  7. فيض القدير، ص 489،490
  8. الصواعق المحرقۃ،اص 205
  9. الفصول المہمّۃ ص253 و 254


مآخذ

  • ابن حجر ہیتمی مکی، احمد(۹۷۴ق)، صواعق المحرقہ، شرکه الطباعہ الفنیہ المتحدہ فی مصر، قاهرہ، چاپ دوم، ۱۳۸۵ق.
  • ابن صباغ مالکی، علی بن محمد بن احمد(۸۵۵ق)، الفصول المہمہ فی معرفہ احوال الائمہ علیہم السلام، موسسہ اعلمی، تہران، چاپ دوم.
  • امین، سید محسن، أعیان الشیعۃ، دارالتعارف، بیروت، ۱۴۰۳ق.
  • صدوق، محمد بن علی، التوحید، محقق: ہاشم حسینی، قم، جامعہ مدرسین، ۱۳۹۸ق.
  • صدوق، محمد بن علی، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، ترجمہ علی‌اکبر غفاری، چ۱، تہران: صدوق، [بی‌تا].
  • قندوزی حنقی، سلیمان بن إبراہیم، ینابیع المودّۃ،‌دار العراقیۃ ـ الکاظمیۃ، و انتشارات محمّدی، قم، چاپ ہشتم، ۱۳۸۵ق.
  • مناوی، عبدالرئوف، فیض القدیر فی شرح جامع الصغیر، دارالفکر، بیروت، ۱۳۹۱ق، چاپ دوم.