آیت انذار

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

آیت انذار، سورہ شعراء کی دوسوچودہویں آیت ہے جو بعث کے تین سال بعد رسول اللہ(ص) پر نازل ہوئی۔ آپ(ص) کو اس آیت کے تحت حکم ہوا کہ اپنے قریبی خاندان والوں کو ڈرادیں اور خبردار کریں۔ چنانچہ رسول اللہ(ص) نے ان سب کو دعوت دی اور انہیں اسلام کی دعوت دینے کے بعد حضرت علی بن ابیطالب(ع) کو اپنے جانشین اور خلیفہ کو طور پر متعارف کرایا۔


آیت کا متن

"وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ" ﴿۲۱۴﴾

اور اپنے قریبی خاندان والوں کواندیشہ عذاب سے خبردار کیجئے۔

اس آیت کے مطابق رسول اللہ(ص) کو حکم ملا کہ اپنے قرابت داروں کو اسلام کی دعوت دیں اور انہيں ڈرا دیں اور متنبہ کریں۔

اقارب کو دعوت اسلام اور امیرالمؤمنین(ع)کی جانشینی کا اعلان

شیعہ اور اہل سنت کی تفاسیر کے مطابق، اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد رسول اللہ(ص) نے اپنے چالیس قریبی رشتہ داروں کو دعوت دی اور ان سے کہا:

اے اولاد عبدالمطلب! میں نہيں سمجھتا کہ عرب میں کوئی اپنی قوم کے لئے اس سے بہتر کوئی چیز لایا ہو جو میں تمہارے لئے لایا ہوں۔۔۔ اور میں تمہیں دو کلموں کی طرف بلاتا ہوں اور تم ان ہی دو کلموں کے ذریعے جنت میں داخل ہوگے اور ان ہی دو کلموں کے ذریعے دوزخ سے نجات پاؤگے: کہہ دو "لااله الا الله" اور میری رسالت پر گواہی دو اور اس کی تصدیق کرو۔

اس کے بعد فرمایا: "تم میں سے کون ہے جو اس مسئلے میں میری مدد کرے تاکہ وہ تمہارے درمیان میرا وصی اور جانشین ہو؟"، سب خاموش ہوگئے اور علی(ع) نے کہا:

"اے رسول خدا(ص)! میں آپ کی مدد و معاونت کروں گا"۔

رسول اللہ(ص) نے خاندان والوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: "یہ تمہارے درمیان میرے وصی اور جانشین اور خلیفہ ہیں، ان کی بات سنو اور اطاعت کرو۔

آپ کے ان الفاظ کے بعد خاندان کے بعض افراد نے [[ابوطالب علیہ السلام سے مخاطب ہوکر کہا:

اے ابا طالب! اپنے بیٹے کی اطاعت کرو کیونکہ وہ اس کے بعد تمہارے امیر ہوچکے ہیں۔[1]

متعلقہ مضامین

حدیث یوم الدار

حوالہ جات

  1. بحرانی، ج4، ص189-186؛ فرات کوفی، ص300؛ ابن کثیر، ج6، ص153-151؛ سیوطی، ج5، ص97؛ حسکانی، ج1، ص543-542؛ طبرسی، ج 7، ص 322 و 323؛ ابن ہشام، ج 1، ص 262.


مآخذ

  • قرآن کریم
  • ابن ہشام، السیرةالنبویہ، مصطفى السقاء و دیگران کی کوشش، بیروت: المکتبۃ العلمیۃ، [بى‏ تا].
  • طبرسى، فضل بن‏ حسن، مجمع ‏البیان فى تفسیر القرآن، بیروت: دارالمعرفۃ و افست، تہران، ناصر خسرو، 1406 ق.
  • ابن کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمرو، تفسیرالقرآن العظیم، بیروت: دارالکتب العلمیہ منشورات محمد علی بیضون، 1419ق.
  • بحرانی، سیدہاشم، البرہان فی تفسیر القرآن، تہران: بنیاد بعثت، 1416ق.
  • فرات کوفی، ابوالقاسم فرات بن ابراہیم، تفسیر فرات کوفی، تہران: سازمان چاپ و انتشارات وزارت ارشاد اسلامی، 1410ق.
  • سیوطی، جلال الدین، الدر المنثور، قم: کتابخانہ آیت الله مرعشی نجفی، 1404ق.
  • حسکانی، عبیدالله بن احمد، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، تہران: سازمان چاپ و انتشارات وزارت ارشاد اسلامی،1411ق.