آیت وضو

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آیت وضو
آیت کی خصوصیات
آیت کا نام: آیت وضو
سورہ: مائدہ
آیت نمبر: 6
پارہ: 6
صفحہ نمبر: 108
محل نزول: مدینہ
موضوع: فقہ
مضمون: وضو کی کیفیت


آیۂ وضو سورہ مائدہ کی چھٹی آیت ہے جس میں وضو کرنے کا طریقہ بیان ہوا ہے۔ وضو،غسل اور تیمم طہارت کے وہ مخصوص طریقے ہیں جنہیں حکم خدا کی بنا پر چند عبادات سے پہلے انجام دینا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ شیعہ اور اہل سنت حضرات کے درمیان اس آیت کے متعلق اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ سورۂ مائدہ کی اس آیت کے علاوہ قرآن پاک کی کسی آیت میں وضو کا طریقہ بیان نہیں ہوا ہے لیکن شیعہ کتب احادیث میں 560 کے قریب روایات میں وضو سے متعلق احکام اور جزئیات بیان ہوئے ہیں۔

آیت اور ترجمہ

آیۂ وضو

یا أَیهَا الَّذینَ آمَنُوا إِذا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَکُمْ وَ أَیدِیکُمْ إِلَی الْمَرافِقِ وَ امْسَحُوا بِرُؤُسِکُمْ وَ أَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَین وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُواْ وَإِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاء أَحَدٌ مَّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاء فَلَمْ تَجِدُواْ مَاء فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُواْ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ مَا يُرِيدُ اللّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَكِن

يُرِيدُ لِيُطَهَّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿۶،مائدہ﴾
اے ایمان والو! جب نماز کے لیے کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہروں اور کہنیوں سمیت اپنے ہاتھوں کو دھوؤ۔ اور سروں کے بعض حصہ کا اور ٹخنوں تک پاؤں کا مسح کرو۔ اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو پھر غسل کرو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آیا ہو۔ یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو۔ اور پھر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں پر اس سے مسح کر لو (مَل لو) اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی سختی کرے۔ وہ تو چاہتا ہے کہ تمہیں پاک صاف رکھے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔

آیت کا درج ذیل حصہ وضو کے بیان میں ہے:

یا أَیهَا الَّذینَ آمَنُوا إِذا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَکُمْ وَ أَیدِیکُمْ إِلَی الْمَرافِقِ وَ امْسَحُوا بِرُؤُسِکُمْ وَ أَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَین اے ایمان والو! جب نماز کے لیے کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہروں کو اور ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوؤ؛ اور سروں کے بعض حصے کا اور ٹخنوں تک پاؤں کا مسح کرو۔

قرآن پاک کی آیت کا مذکورہ حصہ طہارت کے احکام میں سے وضو کرنے کی کیفیت اور اسکے احکام بیان کر رہی ہے نیز اجمالی طور غسل کا حکم بھی مذکور ہے ۔ ابن عربی کے بقول اس آیت کے مدنی ہونے میں کسی نے اختلاف نہیں کیا ہے نیز بعض علماء کے نزدیک اس آیت میں ایک ہزار کے قریب مسائل بیان ہوئے ہیں جن میں سے صرف آٹھ سو تک بیان ہو سکے ہیں [1]

بیان آیت

چہرے اور ہاتھوں کا دھونا

...فَاغْسِلُوا وُجُوهَکُمْ وَ أَیدِیکُمْ إِلَی الْمَرافِقِ (اے ایمان والو! جب نماز کے لیے کھڑے ہونے لگو تو) اپنے چہروں اور کہنیوں سمیت اپنے ہاتھوں کو دھوؤ۔

وجہ:ہر چیز کے سامنے والے حصے کو کہتے ہیں۔ وجہ کی جمع وجوہ آتی ہے نیز چہرے کو بھی وجہ کہا جاتا ہے [2]ید: کندھے سے لے کر انگلیوں کے سرے تک کو ید کہتے ہیں ۔[3]۔ید انسان اور غیر انسان کیلئے استعمال ہوتا ہے پھر اسے استعارے کے طور پر منت اور احسان کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں: لہ الید،اسکی جمع اَیادِی اور یدیّ آتی ہے ۔ ید بمعنائے قوت، اسکی جمع ایدی آتی ہے ۔[4]۔ ید : کف ہتھیلی کو کہتے ہیں [5]۔ید کا معنی عضواور قوت ہے.مرافق:مرفق کی جمع مرافق آتی ہے۔ مصباح کے بقول :رفقت بہ انا رفیق ، رفیق عُنف یعنی سختی کا مخالف اور اسی طرح اَخرُق کی ضد ہے ۔کہا جاتا ہے رَفَقتُ فی السیر یعنی میں نے سیر میں ہمراہی کی۔[6]۔رفق کے معنی طرف کا نرم ہونا ہے ۔[7] ر ف ق کی صرف ایک اصل ہے جو کسی سختی کے بغیر موافقت اور نزدیکی کے معنی کو بیان کرتی ہے ۔....پھر ہر اس چیز کیلئے اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں جس میں راحت، نرمی اور موافقت کا معنی پایا جاتا ہے ۔جب کوئی شخص کُہنی کے سہارے بیٹھے تو کہا جاتا ہے ارتفق الرجل۔[8] چونکہ اس سے سہارے کا کام لیا جاتا ہے اسی مناسبت سے کہنی کو مرفق کہا جاتا ہے ۔
شیعہ فقہا قائل ہیں کہ وضو کیلئے ہاتھوں کو اوپر سے نیچے کی طرف انگلیوں کے سروں تک دھونا واجب ہے۔ اس کی دلیل میں رسول خداؐ سے روایات نقل کرتے ہیں [9] نیز آئمہ طاہرین سے بھی اس سلسلے میں روایات منقول ہیں۔[10] لیکن اہل سنت اس پر متفق ہیں کہ انسان کو اختیار ہے کہ وہ اوپر سے نیچے کی طرف یا نیچے سے اوپر کی طرف دھوئے لیکن نیچے سے اوپر کی طرف دھونا مستحب ہے ۔[11] ۔اس اختلاف کی وجہ روایات کے علاوہ لفط "الی" کے معنا کی طرف بھی لوٹتا ہے کہ جو اس آیت میں استعمال ہوا ہے ۔
اِلیٰ کا معنی
شیعہ نظریے کے مطابق اس آیت میں لفظ "اِلیٰ" دھونے کی سمت (کہنیوں سے انگلیوں کے سرے تک دھونے کو) معین کرنے کیلئے نہیں آیا بلکہ ہاتھ دھونے کی نہائی حد بیان کر رہا ہے کیونکہ عربی زبان میں درج ذیل ید تین معانی میں استعمال ہوتا ہے:
  1. انگلیوں کے سرے سے لے کر کلائی تک؛
  2. انگلیوں کے سرے سے لے کر کہنیوں تک؛
  3. انگلیوں کے سرے سے لے کر کندھے کے جوڑ تک۔
ان استعمالات کے پیش نظر لفظ ید تین معانی کے درمیان مشترک ہے اور مشترک لفظ کا استعمال قرینے کے بغیر صحیح نہیں لہذا خداوند کریم نے "اِلیٰ" کے ذریعے اس ہاتھ کی حد معین کی ہے ۔پس "اِلیٰ" کے ذریعے ہاتھوں کے دھونے کی مقدار معین کی گئی ہے کہ آپ کو کس جگہ تک دھونا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ رنگ کرنے والے کو کہیں کہ اس دیوار کو اس حصے تک فلان رنگ کرنا ہے تو یہاں آپ نے "حصے تک" کے ذریعے رنگ کرنے کا نقطہ نہائی مقرر کیا ھے اس میں یہ شامل نہیں ہے کہ اسے اوپر سے نیچے کی جانب رنگ کرے یا نیچے سے اوپر کی جانب رنگ کرے۔ خاص طور پر اس آیت میں لفظ "مِنْ"استعمال نہیں ہوا کہ جس کی بنا پر کہا جائے کہ دھونے کی ابتدا یہاں سے اور انتہا وہاں کرنی ہے ۔ پس "مِنْ" کے نہ آنے سے بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ "اِلیٰ" اس مقام پر صرف حد بندی کیلئے آیا ہے ۔اہل بیتؑ کے توسط سے رسول خدا کی منقول روایات اس بات پر عمدہ شاہد ہیں۔[نوٹ 1]

سر اور پاؤں کا مسح کرنا

وَ امْسَحُوا بِرُؤُسِکُمْ وَ أَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَین اور سروں کے بعض حصے کا اور ٹخنوں تک پاؤں کا مسح کرو۔
راس:راس معروف جسمانی عضو کا نام ہے۔ یہ مذکر ہے اور اس کی جمع ارؤس و رءوس آتی ہے ۔مہینے کے اول کو راس الشہر اور راس المال اصلِ مال کو کہتے ہیں۔[13]۔ ہر چیز کے بلند حصے کو بھی کہا جاتا ہے جمع قلت میں اَرْؤُس اور آرَاسٗ اور جمع کثرت میں رؤوس آتی ہے ۔[14] ر ء س کی اصل اکٹھے ہونے اور بلند کے معنی کے بیان کیلئے استعمال ہوتی ہے ۔اسی سے راس الانسان کہتے ہیں۔[15] کعب:کعب کے معنی میں اختلاف ہے بعض نے کہا ہے پاؤں کی طرف سے اس ہڈی کو کعب کہتے ہیں جو پنڈلی سے ملتی ہے ۔اس لحاظ سے ہر قدم میں دو کعب ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ پاؤں اور پنڈلی کے درمیان والے جوڑ کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع کُعُوب،اَکعُب ...کہتے ہیں۔ شیعہ پاؤں کے ظاہری حصے کو کہتے ہیں لیکن اصمعی وغیرہ نے اس کا انکار کیا ہے ۔[16]راغب اصفہانی کے نزدیک قدم اور پنڈلی کے ملنے والی جگہ کی ہڈی ہے ۔[17] کعب ٹخنے اور پنڈلی کے جوڑ کی ہڈی کو کہتے ہیں ۔[18] ک ع ب بلندی اور چیز کی اونچائی پر دلالت کرتی ہے، اسی سے کعب الرجل ہے اور یہ وہ پنڈلی کی دو ہڈیاں ہیں جو پاؤں اور پنڈلی کے شروع ہونے کی جگہ پر ہوتی ہیں۔ رجل:رِجل پاؤں اس کی جمع اَرجُل ہے [19] پاؤں رکھنے والے جانداروں کے ایک عضو ہے ۔ پاؤں سے لے کر قدم تک کے حصے کو رِجل کہتے ہیں ۔[20]
اہل تشیع آیت اور روایات کی وجہ سے وضو میں پاؤں کے مسح کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وضو میں سر کے اگلے 1/4 حصے کا اور دونوں پاؤں کا مسح کریں اور پاؤں کے مسح میں پہلے دایاں پاؤں کے مسح سے ابتدا کریں۔[21]
حضرت امام باقر علیہ السلام نے سورہ مائدہ کی چھٹی آیت سے استناد کرتے ہوئے کہا : پاؤں کا مسح کرنا واجب ہے ۔[22] جبکہ اہل سنت پاؤں کے دھونے کے وجوب کے قائل ہیں ۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ پاؤں کے مسح یا دھونے کے اختلاف کا سبب آیت کے لفظ "ارجلکم " کی وجہ سے ہے۔

کلمہ "ارجلَِ" زبر اور زیر کے ساتھ دو طرح پڑھا گیا ہے ۔

قرائت مشہور

آیت میں لفظ "ارجلکم "کو نافع ،ابن عامر،یعقوب،کسائی،حفص،اعشی اور ابو بکر نے عاصم کی روایت کے مطابق لام کو فتحہ یعنی زبر کے ساتھ "ارجلَکم" پڑھا ہے اور باقیوں نے اسے کسرہ یعنی زیر کے ساتھ ارجلِکم پڑھا ہے۔ [23]

مشہور قرات کے مطابق ارجل کی لام کو زبر پڑھا گیا ہے اور عربی قواعد کی رو سے اس کے دو سبب ہو سکتے ہیں :

  • اَرجُلَکُم کا بِرُؤوسِکُم کے محل پر عطف ہو تو اس صورت میں یہ اِمسَحُوا کا مفعول ہو گا ۔اس صورت میں پاؤں کا مسح کرنا ضروری ہو گا ۔رُؤوسِکم اگرچہ مجرور(کسرے کے ساتھ) ہے لیکن مجموعی طور پر حرف باءاور رُؤوسِکُم مل کر اِمسَحُوا کا مفعول ہے اور مفعول کی جگہ پر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے لہذا کلمهاَرجُلَکُم مفعول کے مقام پر عطف ہونے کی وجہ سے سر کی مانند پاؤں کا بھی مسح کرنا واجب ہے ۔
  • اَرجُلَکُم کا عطف وُجوهَکُم پر ہو اور یہ اغسِلوا کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہو تو اس صورت میں پاؤں بھی منہ کی طرح دھونا واجب ہو گا ۔

شیعہ حضرات روایات کے علاوہ پہلے احتمال کی تائید کرتے ہیں ۔قواعد عربی کے لحاظ سے دوسرا احتمال قرآنی فصاحت کے ساتھ سازگار نہیں ہے کیونکہ فاغسلوا کا جملہ مکمل ہو چکا ہے اور امسحوا کے ساتھ ایک نیا کلام شروع ہوا ہے ۔ اب ارجلکم کا عطف نزدیک والے کو چھوڑ کر دور والی جگہ پر عطف کرنا غیر مانوس اور غیر فصیح ہے نیز سر کے کچھ حصے کا مسح کرنے کی وجہ سے رُؤوسِکم کے ساتھ "بَ" مذکور ہوئی ہے ۔ پس اس لئے سر اور پاؤں کا مسح ہی کرنا چاہئے۔

اہل سنت کا بیان

اہل سنت حضرات پاؤں دھونے کی دو وجوہات بیان کرتے ہیں :

  • بعض اہل سنت علماء اس بات کے قائل ہیں کہ دھونا مسح اور دھونے دونوں کو شامل ہے یعنی جب دھویا جاتا ہے تو اس میں مسح بھی ہوتا ہے لیکن جب مسح کیا جاتا ہے تو اس میں دھونا شامل نہیں ہے ۔پس اگر کسی نے دھونے کا عمل انجام دیا ہے تو اس نے یقینی طور پر مسح کو بھی انجام دیا ہے کیونکہ اگر فرض کریں کہ مسح واجب ہے تو اس صورت میں جو پاؤں دھوتا ہے تو اسنے یقینا مسح کو بھی انجام دیا ہے لیکن اگر واقعی طور پر دھونا واجب ہو تو جو شخص مسح کرتا ہے اس کا وضو صحیح نہیں ہے کیونکہ اس نے صرف مسح کیا ہے جبکہ دھونا واجب تھا ۔ [24]

اس کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ دھونا اور مسح کرنا حقیقت اور ماہیت کے لحاظ سے دو الگ الگ فعل ہیں ان میں کوئی ایک بھی دوسرے پر صدق نہیں کرتا ہے یعنی نہ تو دھونے کو مسح کہا جاتا ہے اور نہ ہی مسح کرنے کو دھونا کہا جاتا ہے ۔اگر ایسا کہنا صحیح ہو تو سر کا مسح کرنے کی بجائے اگر اسے دھو لیا جائے تو کیا ایسے شخص کا وضو صحیح ہو گا جبکہ اہل سنت بھی اس کے قائل نہیں ہیں ۔[25] ۔

  • رشید رضا کہتا ہے کہ عقلی لحاظ سے دھونا مسح کی نسبت زیادہ مناسب تر ہے کیونکہ اس میں نظافت کا پہلو زیادہ پایا جاتا ہے اور یہ رب الارباب کے حضور کھڑے ہونے کیلئے زیادہ مناسب تر ہے۔[26]

لیکن وضو توقیفی عبادات میں سے ہے یعنی اسے اسی طرح انجام دیا جانا چاہئے جیسے خدا اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے لہذا ہم انہیں اپنے سلیقے کے مطابق انجام نہیں دے سکتے ہیں نہ تو اس میں کسی قسم کی کمی اور نہ ہی کسی قسم کی زیادتی کر سکتے ہیں۔اگر ہمارے پاؤں گندے ہیں تو انہیں وضو سے پہلے دھو لیا جائے نہ یہ کہ ہم آئیں اور آ کر وضو کی کیفیت تبدیل کر دیں۔[27]

قرائت غیر مشہور

غیر مشہور قرات میں ارجلکم کی لام کسرے یعنی زیر کے ساتھ پڑھی گئی ہے۔اس صورت میں عربی قواعد کے مطابق صرف ایک احتمال موجود ہے کہ اس لفظ کا عطف رُؤوسِکُم پر ہو گا پس اس صورت میں صرف مسح کرنے کا حکم ہی ہو گا۔ اس صورت میں کچھ علمائے اہل سنت کہتے ہیں: پاؤں کے دھونے کا ہی حکم ہے لیکن چونکہ پاؤں دھونے میں پانی کے زیادہ اسراف (ضائع ہونا) ہونے کا اندیشہ تھا اس کے پیش نظر اس بات پر تنبیہ کرنے کیلئے اس پر عطف کیا ہے۔[28]

کعبَین کا معنی

کعبین لفط کعب کا تثنیہ[29] ہے اور یہ تین معانی کے بیان کیلئے آتا ہے :

  • پاؤں کے اوپر کی ابھری ہوئی ہڈی۔
  • پنڈلی اور پاؤں کا مقام مفصل (جوڑ)۔
  • ٹخنے کے دونوں جانب کی ابھری ہوئی ہڈیاں ۔[30]

اس آیت میں کعبین کی تعبیر اور اس کے سبب کے بیان کرنے میں علمائے اہل سنت اور شیعہ کے درمیان اختلاف ہے ۔

علمائے اہل سنت کے نزدیک کعبین تیسرے معنی کے بیان کیلئے آیا ہے ۔یعنی ٹخنوں کے دونوں جانب کی ابھری ہوئی ہڈی۔لہذا اسی وجہ سے کعب تثنیہ کی صورت میں آیا ہے اور ایک وضو کرنے والے شخص کا ایک پاؤں مراد ہے ۔لیکن مرافق یعنی کہنیاں تمام وضو کرنے والوں کی نسبت جمع کی صورت میں آیا ہے ۔[31]

مذکورہ معنی کو رد کرتے ہوئے علمائے شیعہ میں سے کچھ علماء نے پہلا معنی انتخاب کیا اور کچھ نے دوسرا معنی انتخاب کیا ہے اور کعب کے تثنیہ آنے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ چونکہ دو پاؤں میں دو کعب ہوتے ہیں اسلئے کعبین کہا گیا ہے ۔[32]

  • اسی سے ملتا جلتا معنی قاموس قرآن میں اس طرح مذکور ہے:" کعبین تثنیہ کی صورت میں ذکر کر کے یہ سمجھایا گیا ہے کہ ہر پاؤں میں ایک کعب ہوتی ہے اور مرافق یعنی کہنیاں، کے متعلق روشن ہے کہ عام لوگوں کی نسبت کہا گیا ورنہ سب کو معلوم ہے کہ ہر شخص کی دو مرفق ہیں ۔ اگر "الی الکعاب " کہا جاتا تو ہر پاؤں کے دو ٹخنوں کے مراد لئے جانے کا زیادہ احتمال تھا" ۔[33]
  • سید امیر ابو الفتح حسینی کہتا ہے :"کعبین کہنا دلیل ہے کہ ٹخنوں کی ہڈیاں مراد نہیں جیسا کہ اہل سنت کہتے ہیں بلکہ پہلا یا دوسرا معنی مراد ہے کیونکہ اگر ٹخنوں کی ہڈیاں مراد ہوتی تو "کعبین" تثنیہ کی بجائے جمع کے ساتھ "کعاب" کہنا چاہئے تھا چونکہ ہر شخص کے ایک پاؤں میں ٹخنے کے اطراف کی دو ہڈیاں اور مجموعی طور ٹخنوں کے اطراف کی چار ہڈیاں ہیں جبکہ مرافق کو جمع کی حالت میں ذکر کرنے میں کوئی اور احتمال موجود نہیں تھا کیونکہ ہر شخص کی دو کہنیان ہیں ایک کہنی (مرفق) دائیں بازو میں اور ایک کہنی (مرفق) بائیں بازو میں ہے پس اس لحاظ سے جمع کی صورت میں مرافق کو تمام افراد پر حمل کرنا چاہئے تا کہ اس کا مصداق متحقق ہو جائے لیکن اگر کعب میں جمع کے ساتھ کعاب کہا جاتا تو اسے تمام افراد پر حمل کرنے ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ ہر شخص میں چار ہڈیاں پائی جاتی ہیں جو خود جمع کا معنی ہے۔پس کعب کو تثنیہ کی حالت میں ذکر کرنے کی دلیل یہ ہے کہ ہر شخص کی دو کعب ہیں ایک دائیں پاؤں میں اور دوسری کعب بائیں پاؤں میں ہے ۔[34]

اعتراض

اہل سنت کے نظرئے کے مطابق ہر انسان کی چار کعب ہیں اسلئے آیت میں جمع کے ساتھ ذکر کرنا صرف اشکال نہیں رکھتا بلکہ یہ معنی کے ساتھ سازگار بھی ہے نیز آیت کے سیاق اور اس سے پہلے آنے والے لفظ مرافق کے مطابق ہے اگرچہ قرآن نے اس تعبیر سے استفادہ نہیں کیا ہے۔ [35][36]

  • اگر آیت سے صرف ایک پاؤں مراد ہوتا تو اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا تھا کہ وضو میں صرف ایک پاؤں کا مسح کرنا کافی ہے جبکہ اہل سنت کے فتاوی کے مطابق دونوں پاؤں کو دھونا واجب اور ضروری ہے ۔
  • اس صورت میں ایک اور مشکل موجود ہے کہ اس صورت میں مسح کا انتہائی مقام مبہم رہ جاتا ہے۔[37]

نوٹ

  1. کلینی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں :کیا ہم تمہارے لئے رسول خدا ؐ وضو کا طریقہ بیان نہ کر دیں؟ عرض کیا :کیوں نہیں، بیان فرمایئے۔ امام نے برتن میں پانی لانے کا دستور دیا اسے اپنے سامنے رکھا اور اپنی آستینیں کہنیوں تک بلند کی اور فرمایا : جب آپ کے ہاتھ پاک ہوں تو ایسے کریں:- دائیں ہاتھ کے چلو میں میں پانی لے کر اپنی پیشانی پر ڈالا اور فرمایا "بسم اللہ "۔ اپنے ہاتھ کو پیشانی اور چہرے پر پھیرا۔ پھر بائیں ہاتھ کے چلو کو پانی سے پُر کیا اور اپنے داہنے ہاتھ کی کہنی پر بہایا اور اپنے ہاتھ کو کہنی سے نیچے کی جانب کھینچا تو پانی کو ہاتھ کے ذریعے انگلیوں کے سرے اور اطراف تک پہنچایا۔ ۔پھر اسی طرح دائیں ہاتھ کے چلو کو پانی سے پُر کے بائیں کہنی پر پانی ڈالا اور اپنے ہاتھ کے ذریعے پانی کو انگلیوں کے اطراف اور سروں طرف پہنچایا۔پھر باقی بچی ہوئی تری سے اپنے سر کے اگلے حصے کا اور اپنے دونوں پاؤں کا مسح کیا ۔زرارہ کہتا ہے : امام باقر ؑ نے فرمایا :جب ایک شخص نے امیر المؤمنین سے ایک شخص نے رسول خدا ؐ کے وضو کے بارے میں سوال کیا تو امام نے بالکل اسی طرح اس کیلئے نقل فرمایا ۔ [12]

حوالہ جات

  1. ابن عربی،احکام القرآن 2/46۔
  2. خلیل فراہیدی، کتاب العین ج ص ۔ابن منظور ،لسان العرب 13 ص 555۔
  3. فیومی،المصباح المنیرج2 ص 680۔
  4. ابن فارس، مقاییس اللغہ ج6 ص116۔
  5. ابن منظور،لسان العرب ج5 ص419
  6. فیومی، المصباح المنیر1/233
  7. خلیل فراہیدی،العین،5/149۔
  8. ابن فارس،مقاییس اللغۃذیل ر ف ق۔
  9. رجوع کریں:وسائل‌الشیعہ ج ۱، ص۳۸۷، ابواب الوضوء، باب ۱۵، بَابُ کَیفِیۃ الْوُضُوءِ وَ جُمْلَۃ مِنْ أَحْکَامِہ.
  10. وسائل الشیعۃ، ج۱، ابواب الوضوء، باب ۱۹ / ح ۱.
  11. الفقة علی المذاهب الخمسة، ص۸۰؛ الفقہ علی المذاہب الاربعہ، ج ۱، ص۶۵، بحث بیان عدد السنن و غیرها
  12. کلینی، کافی، ج ۳ ص، ۲۵، حدیث ۴،
  13. فیومی،المصباح المنیر،1/245،رءس۔
  14. ابن منظور،لسان العرب مادۂ رءس۔
  15. ابن فارس،مقاییس اللغۃ ر ء س۔
  16. فیومی،المصباح المنیر،کعب۔
  17. راغب اصفہانی، المفردات فی غریب القرآن کعب
  18. راغب اصفہانی مفردات القرآن ک ع ب
  19. راغب اصفہانی مفردات القرآن ر ج ل
  20. فیومی ،المصباح المیر، مادہ رج ل
  21. حر عاملی ،وسائل الشیعہ، ج۱،ص ۴۱۸،
  22. ترجمہ تفسیر المیزان، موسوی ہمدانی،، ج ۵، ص۳۷۸،
  23. طبرسی ،مجمع البیان،ج3 ص281۔بغوی ،تفسیر البغوی ج2 ص 16
  24. مفاتیح الغیب، ج ۱۱، ص۳۰۶، ؛ تفسیر المنار، ص۲۳۳،
  25. نگاہ کریں: ترجمہ تفسیر المیزان ، موسوی ہمدانی، ج ‌۵، ص۳۶۳،
  26. تفسیر القران الحکیم معروف بنام تفسیر المنار، ج ۸، ص۳۳۱٫
  27. طوسی، تہذیب‌ الأحکام، ج ۱، ص۶۲، ح ۲۰؛ نیز رسالہ شیخ مفید، المسح علی الرجلین، ص۲۵ کا مطالعہ کریں
  28. زمخشری، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، ج ‌۱، ص۶۱۱،
  29. عربی زبان میں تثنیہ دو کیلئے اور جمع میں کم سے کم تین مراد لئے جاتے ہیں
  30. .ناصر مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج۴، ص۲۸۸، دار الکتب الإسلامیہ، تہران، چاپ اول، ۱۳۷۴ ش؛ رجوع کریں:: فرہنگ ابجدی عربی- فارسی، ص۷۳۰،
  31. رجوع کریں : فتح القدیر، ج ۲، ص۲۲، المقنعہ، ص۴۴ - ۴۵،
  32. . غنیۃ النزوع إلی علمی الأصول و الفروع، ص۵۸.
  33. دیکھیں: قاموس قرآن، ج ۶، ص۱۱۳،
  34. تفسیر شاہی، ج ‌۱، ص۳۱،
  35. تفسیر تسنیم، ج ۲۲، ص۹۶،
  36. الانتصار فی انفرادات الإمامیہ، ص۱۱۶
  37. تفسیر تسنیم، ج ۲۲، ص۹۶.


کتابیات

  • قرآن کریم
  • الفقہ علی المذاہب الاربعہ، عبدالرحمان جزیری، دارالثقلین، بیروت
  • الفقہ علی المذاہب الخمسہ، محمد جواد مغنیہ، دار التیار الجدید، بیروت
  • چرا چرا، علی عطایی اصفہانی، امیر العلم
  • وسائل الشیعہ، شیخ حر عاملی، محمد بن حسن‏، مؤسسۃ آل البیت علیہم السلام‏، قم، ۱۴۰۹ق
  • سید محمد حسین؛ المیزان فی تفسیر القرآن، موسسہ النشر الاسلامی
  • کلینی، محمد بن یعقوب‏، کافی، دار الکتب الإسلامیۃ، ۱۴۰۷ق
  • مفاتیح الغیب، رازی، فخر الدین محمد بن عمر، دار احیاء التراث العربی، چاپ سوم، بیروت، ۱۴۲۰ ق
  • تفسیر المنار، رشید رضا، محمد، دار المعرفه، چاپ دوم، بیروت
  • الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، زمخشری، محمود، دار الکتاب العربی، چاپ سوم، بیروت، ۱۴۰۷ق
  • تفسیر نمونہ، مکارم شیرازی، ناصر، دار الکتب الإسلامیہ، تہران، چاپ اول، ۱۳۷۴ ش
  • فرہنگ ابجدی، بستانی، فؤاد افرام، مہیار، رضا، فرہنگ ابجدی عربی- فارسی، اسلامی، تہران، چاپ دوم، ۱۳۷۵ش
  • فتح القدیر، شوکانی، محمد بن علی، دار ابن کثیر، دار الکلم الطیب، دمشق، بیروت، چاپ اول، ۱۴۱۴ق
  • المقنعہ، شیخ مفید، محمّد بن محمد بن نعمان، المقنعہ، کنگره جہانی ہزاره شیخ مفید، قم، چاپ اول، ۱۴۱۳ق
  • غنیۃ النزوع إلی علمی الأصول و الفروع، ابن زہرہ حلبی، حمزة بن علی، مؤسسہ امام صادق(ع)، قم، چاپ اول، ۱۴۱۷ق
  • قاموس قرآن، سید علی اکبر قرشی، دار الکتب الإسلامیۃ، تہران، ۱۳۷۱ش
  • تفسیر شاہی، جرجانی، سید امیر ابو الفتح حسینی، نوید، تہران، چاپ اول، ۱۴۰۴ق
  • تفسیر تسنیم، جوادی آملی، عبدالله، اسراء، قم
  • الانتصار فی انفرادات الإمامیۃ، سید مرتضی، علی بن حسین، دفتر انتشارات اسلامی، قم، چاپ اول، ۱۴۱۵ق