آیات تحدی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آیات تحدی
آیت کی خصوصیات
آیت کا نام: آیات تحدی
سورہ: طورقصصاسراءہودیونس، بقرہ
آیت نمبر: 34، 49، 88، 13، 38، 23
پارہ: 27، 20، 15، 12، 11، 1
صفحہ نمبر: 525، 391، 291، 223، 213، 4
موضوع: اعجاز قرآن
مضمون: تحدی


آیات تَحَدی قرآن مجید کی 6 آیتیں ایسی ہیں جن میں پیغمبر اکرمؐ کے منکروں کو تحدی (قرآن مجید کی مانند یا اس کا بعض حصہ جیسا لانے کا کہا ہو) کی دعوت ہوئی ہے۔ بعض آیات تحدی میں پورے قرآن اور اور بعض میں دس سورتیں اور بعض میں ایک سورت لانے کی تحدی ہوئی ہے۔ بعض مفسروں کا کہنا ہے کہ قرآن کی تحدی سلسلہ وار سخت سے آسانی کی طرف لایا گیا ہے؛ یعنی پورے قرآن کی تحدی سے شروع کیا ہے اور ایک سورت کی تحدی پر ختم کیا ہے؛ لیکن بعض کا کہنا ہے کہ قرآنی آیات کے نزول کی ترتیب ان مرحلوں کے برخلاف ہے۔

تحدی کا معنی

تفصیلی مضمون: تحدی

تَحَدّی‌ کا معنی رقیب کی کمزوری ظاہر ہونے کے لیے اسی چیز جیسا لانے کا مطالبہ کرنا اور مبارزہ طلب کرنا ہے۔[1]تحدی علوم قرآن [2] اور کلام اسلامی[3]کی ایک اصطلاح ہے جو معجزہ کی شرائط میں سے ہے[4]جس کے ذریعے پیغمبر اکرمؐ اپنے مخالفوں کو مقابلے کے لیے بلاتے ہیں کہ اگر وہ آپؐ کی پیغمبری کا انکار کرتے ہیں تو آپؐ کے معجزات کی طرح کے معجزے لے آئیں؛ کیونکہ یہ کام اگر خدا کی طرف سے نہ ہو تو دوسرے بھی اسی طرح کے کام پیش کرسکتے ہیں۔[5]

قرآن کے ذریعے تحدی

قرآن کے ذریعے تحدی کا مطلب یہ ہے کہ عرب کے فصیح اور بلیغ افراد کو قرآنی آیات کی مانند بعض آیات لانے کی دعوت دیں۔[6]قرآن جیسا متن لانے میں ناتوانی قرآن کی اعجاز کی دلیل ہے۔[7]

قرآن اور پیغمبر اکرمؐ کی نبوت معجزہ ہونے کو ثابت کرنے کے لیے قرآن میں منکروں کو مبارزہ اور مقابلے کی دعوت دی گئی ہے جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر قرآن اللہ تعالی کی طرف سے نہیں ہے تو اس جیسا متن لے آئیں۔[8]

قرآن میں تحدی کی اقسام

قرآن کی 6 آیتوں میں تحدی کی دعوت دی گئی ہے جنہیں آیات تحدی کہا جاتا ہے۔[9] ان آیات کی تین قسمیں ہیں: تین آیتوں میں پورے قرآن کی تحدی، ایک میں دس سورتوں کی اور دو آیتوں میں ایک سورت کی تحدی ہوئی ہے:

پورے قرآن کی تحدی

تین آیات میں کل قرآن کی تحدی کی دعوت ہوئی ہے:

  • سورہ طور آیت 34: فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِثْلِهِ إِنْ كَانُوا صَادِقِينَ(ترجمہ: اگر وہ سچے ہیں تو پھر ایسا کلام لے آئیں۔)[10]
  • سوره قصص آیت 49: قُلْ فَأْتُوا بِكِتَابٍ مِّنْ عِندِ اللَّهِ هُوَ أَهْدَىٰ مِنْهُمَا أَتَّبِعْهُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ(ترجمہ: آپ کہیے! کہ تم سچے ہو تو اللہ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لاؤ جو ان دونوں (توراۃ، قرآن) سے زیادہ ہدایت کرنے والی ہو تو میں اسی کی پیروی کروں گا۔)[11]
  • سوره اسراء آیت 88؛ قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلی أَنْ یأْتُوا بِمِثْلِ هذَا الْقُرْآنِ لا یأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَ لَوْ کانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهیراً(ترجمہ: کہہ دیجئے کہ اگر سارے انسان اور جن اکٹھے ہو جائیں (اور چاہیں) اس جیسا قرآن لے آئیں تو جب بھی اس جیسا نہیں لا سکیں گے۔ اگرچہ ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔)[12]

دس سورتوں کی تحدَّی

سورہ ہودکی 13ویں آیت میں کافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ قرآن جیسی دس سورتیں لے آئیں: أَمْ یقُولُونَ افْتَراهُ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَیاتٍ وَ ادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ کُنْتُمْ صادِقینَ(ترجمہ: یا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص (آپ) نے یہ (قرآن) خود گھڑ لیا ہے؟ آپ فرمائیے اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو تو تم بھی اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں لے آؤ۔ اور بے شک اللہ کے سوا جس کو (اپنی مدد کیلئے) بلانا چاہتے ہو بلا لو۔)[13]

ایک سورت کی تحدی

قرآن مجید کی دو آیتوں میں قرآن کی دو آیتوں کی تحدی ہوگیی ہے:

  • سورہ یونس کی 38ویں آیت: أَمْ یقُولُونَ افْتَراهُ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِهِ وَ ادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ کُنْتُمْ صادِقینَ(ترجمہ: کیا یہ (کافر) لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص (پیغمبرِ اسلامؐ) نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟ آپ کہیے! اگر تم اپنے اس الزام میں سچے ہو تو تم اللہ کے سوا اپنی مدد کے لئے جس جس کو بلا سکتے ہو بلا لو اور پھر قرآن کی مانند ایک ہی سورہ لے آؤ۔).[14]
  • سورہ بقرہ کی 23 ویں آیت: وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ(ترجمہ: اور جو کچھ (قرآن) ہم نے اپنے بندہ (خاص) پر نازل کیا ہے اگر تمہیں اس (کے کلام اللہ ہونے) میں شک ہے تو تم اس کے مانند ایک ہی سورہ لے آؤ۔ اور اگر تم سچے ہو تو ایک اللہ کو چھوڑ کر اپنے سب حمایتیوں و ہم نواؤں کو بھی بلا لو۔)[15]

آیات تحدی کے نزول کی ترتیب

بعض مفسروں کا کہنا ہے کہ آیات تحدی کا نزول ایک منظم طریقے سے ہوا ہے اور قرآن کی مانند کچھ لانے کا مطالبہ سخت سے آسانی کی طرف ہوا ہے؛[16]اس طرح سے کہ شروع میں اللہ تعالی نے قرآن کے منکروں سے قرآن کی مانند لانے کا کہا؛ جب وہ نہ لاسکے تو قرآن کی دس سورتوں کے مانند کوئی چیز لانے کا کہا؛ جب یہ بھی نہ لاسکے تو تیسرے مرحلے میں قرآن کی ایک سورت کے مانند کوئی سورت لانے کا کہا۔[17]

اس نظرئے کے مقابلے میں بعض محققین کا کہنا ہے: قرآن کے نزول کی ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ آیات تحدی کے نزول میں کوئی خاص منظم ترتیب نہیں ہے بلکہ مختلف صورتوں میں تحدی ہوئی ہے۔[18]

حوالہ جات

  1. شرح المصطلحات الکلامیہ، ۱۴۱۵ق، ص۶۴.
  2. جواهری، «واکاوی ملاک تحدی در قرآن و نقد منطق تنزّلی»، ص۱۱۲.
  3. شرح المصطلحات الکلامیہ، ۱۴۱۵ق، ص۶۴.
  4. باقلانی، اعجاز القرآن، ۱۴۲۱ق، ص۱۶۱
  5. مؤدب، اعجاز قرآن در نظر اهل بیت، ۱۳۷۹ش، ص۱۷.
  6. محقق سبزواری، اسرار الحکم، ۱۳۸۳ش، ص۴۷۲.
  7. محقق سبزواری، اسرار الحکم، ۱۳۸۳ش، ص۴۷۳؛ باقلانی، اعجاز القرآن، ۱۴۲۱ق، ص۱۶۱-۱۶۲.
  8. خرم شاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن‌ پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۱، ص۴۸۱.
  9. خرم شاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن‌ پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۱، ص۴۸۱.
  10. سوره طور، آیہ۳۴.
  11. سوره قصص، آیہ۴۹.
  12. سوره اسرا، آیہ۸۸.
  13. سورہ ہود، آیہ13.
  14. سورہ یونس، آیہ۳۸.
  15. سورہ بقرہ، آیہ۲۳.
  16. زمخشری، الکشاف، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۳۸۳.
  17. جصاص، احکام‌القرآن، ۱۴۰۵ق، ج۱، ص۳۴.
  18. بہجت‌ پور، «بررسی سیر تنزیلی آیات تحدی»، ص۷۷.


مآخذ

  • قرآن کریم،
  • باقلانی، ابوبکر، اعجاز القرآن، تعلیق ابوعبدالرحمن عویضہ، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۲۱ھ۔
  • بہجت‌پور، عبدالکریم و زہرا بہجت‌پور، «بررسی سیر تنزیلی آیات تحدی»، در نشریہ قبسات، ش۷۷، پاییز ۱۳۹۴.
  • جصاص، احمد بن علی، احکام‌القرآن، تحقیق محمدصادق قمحاوی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۵ھ۔
  • جمعی از نویسندگان، شرح المصطلحات الکلامیہ، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۴۱۵ھ۔
  • جواہری، سیدمحمدحسن، «واکاوی ملاک تحدی در قرآن و نقد منطق تنزّلی»، پژوہش‌ہای قرآنی، ش۲، ۱۳۹۵شمسی ہجری۔
  • خرمشاہی، بہاءالدین، دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، تہران، نشر ناہید-دوستان، ۱۳۷۷شمسی ہجری۔
  • محقق سبزواری، محمدباقر، اسرارالحکم، تحقیق کریم فیضی، قم، مطبوعات دینی، ۱۳۸۳شمسی ہجری۔
  • مؤدب، سیدرضا، اعجاز قرآن در نظر اہل بیت عصمت و بیست نفر از علمای بزرگ اسلام، قم، احسن الحدیث، ۱۳۷۹شمسی ہجری۔
  • زمخشری، محمود، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، بیروت، دار الکتاب العربی، ۱۴۰۷ھ۔