آیات حجاب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آیات حجاب
آیت کی خصوصیات
آیت کا نام: آیات حجاب
سورہ: سورہ نور 31 و سورہ احزاب53و 59
آیت نمبر: 31 اور 53، 59
پارہ: 18 و 21
صفحہ نمبر: 353، 425 و426
محل نزول: مدینہ
موضوع: حجاب
مضمون: حجاب کا وجوب


آیات حجاب قرآن کریم میں سورہ نور اور سورہ احزاب کی وہ آیات ہیں جو حجاب (پردے) کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ فقہاء نے سورۂ نور کی 31 ویں آیت :وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ اور دوسری آیات و روایات کے مد نظر عورت کے لئے پردے کے واجب ہونے کا فتوی دیا ہے۔

آیات حجاب

قرآن کریم کی درج ذیل تین آیات آیات حجاب کہلاتی ہیں۔ ان میں سے سورہ نور کی آیت نمبر ٣١ زیادہ مشہور ہے۔

سورہ احزاب کی آیت ٥٩

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴿٥٩﴾

اے نبی(ص)! آپ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور (عام) اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ (باہر نکلتے وقت) اپنے اوپر چادر (بطور گھونگھٹ) لٹکا لیا کریں یہ طریقہ قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں اور اللہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

اس آیت کے نازل ہونے سے پیغمبر(ص) کی بیویوں، بیٹیوں اور مومن عورتوں کو حکم دیا گیا کہ اپنے آپ کو (جلباب) سے ڈھانپیں یُدْنینَ عَلَیہِنَّ مِن جَلابیبِہِنَّ تا کہ پہچانی نہ جائیں اور انہیں اذیت نہ پہنچائی جائے۔ اہل لغت اور مفسرین نے جلباب کے لئے مختلف معانی ذکر کئے ہیں جو درج ذیل ہیں: چادر کی طرح ایک کپڑا جو سر سے پاؤں تک ڈھانپ دے، کھلا لباس جو عورتیں کپڑوں کے اوپر سے پہنتی ہیں جس سے سارا بدن چھپ جاتا ہے، ملحفہ، مقنعہ یا شال جو کہ عورت کے سر اور منہ کو چھپا دے۔[1] آیت میں مذکور حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ جلباب سے مراد (چادر یا ملحفہ) ہوگا۔[2]

سورہ احزاب کی آیت ٥٣

....وَ إِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَ‌اءِ حِجَابٍ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَ قُلُوبِهِنَّ...﴿٥٣﴾

اور جب تم ان (ازواجِ نبیؐ) سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ یہ (طریقۂ کار) تمہارے اور ان کے دلوں کیلئے پاکیزگی کا زیادہ باعث ہے۔

اس آیت میں بھی چونکہ حجاب کا لفظ ذکر ہوا ہے اس لئے یہ آیت حجاب سے مشہور ہے اور اس میں حجاب کا حکم پیغبروں کی بیویوں کے لئے مخصوص ہے اور دوسری مسلمان عورتوں کو شامل نہیں ہوتا لیکن بعض اہل سنت فقہاء اس آیت کو عام سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حجاب کا حکم تمام مسلمان عورتوں کے لئے ہے. [3]

سورہ نور کی آیت ٣١

وَ قُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ یغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِ‌هِنَّ وَ یحْفَظْنَ فُرُ‌وجَهُنَّ وَ لَایبْدِینَ زِینَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیضْرِبْنَ بِخُمُرِ‌هِنَّ عَلَیٰ جُیوبِهِنَّ وَ لَایبْدِینَ زِینَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ﴾﴿وَ لَایضْرِ‌بْنَ بِأَرْ‌جُلِهِنَّ لِیعْلَمَ مَا یخْفِینَ مِن زِینَتِهِنَّ وَ تُوبُوا إِلَی اللهِ جَمِیعًا أَیهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴿۳۱﴾

اور ایمان والی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے، اور اپنے ڈوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں، اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ۔اور اپنے پاؤں کو زمین پر زور سے نہ ماریں کہ انکا مخفی زیور معلوم ہو جائے، اور اے مومنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تا کہ تم نجات پاؤ۔

خمر، خمار کی جمع ہے، جس کے معنی عورتوں کا مقنعہ یا شال ہے۔[4] حدیثی اشارات اور مفسرین کی گزارشات کے مطابق، اس آیت کے نزول سے پہلے عورتیں اپنی شال کو کانوں کے پیچھے سے گزار کر اپنی پشت پر ڈالتی تھیں، جیسے کہ کان اور گردن نظر آتا تھا۔ اس آیت میں ان کو حکم دیا گیا کہ اپنے ڈوپٹوں کو ایسے طریقے سے کرو کہ تمہارے سینے اور گردن ڈھانپی جائے، یعنی دائیں اور بائیں دونوں طرف سے ڈوپٹے کو آگے لائیں تا کہ ساری جگہ ڈھانپی جائے۔[5] فی الواقع عورتیں اپنے سر کے بالوں کو ڈھانپتی تھیں اور اس آیت میں اس کے علاوہ انکو گردن اور سینے کو ڈھانپنے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور چہرے کو چھپانے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔[6]

حجاب کا واجب ہونا

وسائل الشیعہ کی بیسویں جلد، نکاح کے باب میں، سو سے زیادہ روایات حجاب کے وجوب کے بارے میں نقل ہوئی ہیں۔[7] اہل تشیع اور اہل سنت کے علماء و فقہاء نے آیات (بالخصوص سورہ نور کی آیت ٣١) کو مدنظر رکھتے ہوئے حجاب کے واجب ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔[8]

حوالہ جات

  1. ابن منظور، لسان العرب، ذیل واژہ؛ محمد بن احمد قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ذیل آیہ، بیروت ۱۴۰۵/۱۹۸۵؛ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ذیل آیہ، بیروت، ۱۴۱۲.
  2. علی‌ اکبر سیفی‌ مازندرانی، دلیل تحریرالوسیلہ، ج۶، ص۲۹-۳۰، (تہران): مؤسسہ تنظیم و نشر آثار الامام الخمینی، (بی‌ تا)؛ محمد تقی بن مقصود علی مجلسی، روضة المتقین فی شرح مَن لا یحضُرُہ الفقیہ، ج۸، ص۳۵۳، چاپ حسین موسوی کرمانی و علی پناہ اشتہاردی، قم، ۱۴۰۶-۱۴۱۳ق.
  3. محمد بن احمد اسماعیل مقدم، ادلة الحجاب، ج۱، ص۲۵۱-۲۶۹، اسکندریہ ۱۴۲۵/۲۰۰۵.
  4. طبرسی، تفسیر مجمع البیان، ذیل آیہ؛ ابن منظور، لسان العرب، ذیل «خمر».
  5. محمد حسین طباطبائی، المیزان، ذیل آیہ؛ محمد بن احمد قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ذیل آیہ، بیروت ۱۴۰۵/۱۹۸۵؛ طبری، جامع، ذیل آیہ.
  6. ابن حزم، المُحلّی، ج۳، ص۲۱۶، چاپ احمد محمد شاکر، بیروت: دار الآفاق الجدیدة، (بی‌ تا)؛ محسن حکیم، مستمسک العروة الوثقی، ج۵، ص۲۴۳، چاپ افست قم، ۱۴۰۴ق؛ محسن حکیم، مستمسک العروة الوثقی، ج۱۴، ص۲۸، چاپ افست قم، ۱۴۰۴ق.
  7. حرّ عاملی، وسائل‌ الشیعہ، چاپ آل البیت، ج۲۰، ص۱۹۹ و ۲۰۵ و ۲۰۶ و ۲۲۳-۲۲۵ و ۲۲۹
  8. مرتضی بن محمد امین انصاری، کتاب النّکاح، ج۱، ص۳۸-۴۳، قم ۱۴۱۵ق؛ محمد تقی خوئی، المبانی فی شرح العروة الوثقی: النکاح، ج۳۲، ص۲۱-۲۲، تقریرات درس آیةاللّہ خوئی، در موسوعة الامام خوئی، ج۳۲، قم: مؤسسة احیاء آثار الامام الخوئی، ۱۴۲۶/۲۰۰۵؛ علی بن محمدعلی طباطبائی، ریاض‌ المسائل فی بیان الاحکام بالدلائل، ج۱۰، ص۶۹-۷۰، قم، ۱۴۱۲-۱۴۲۰؛ احمد بن محمد مہدی نراقی، مستند الشیعہ فی احکام الشریعہ، ج۱۶، ص۴۹، ج۱۶، قم، ۱۴۱۹ق.


مآخذ

  • ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت، دار الفکر للطباعت و النشر و التوزیع، ۱۴۱۰ق.
  • شیخ انصاری، مرتضی، کتاب النکاح، محقق مجمع الفکر الاسلامی و کمیتہ تحقیق تراث شیخ اعظم، قم، کنگره جہانی بزرگداشت شیخ اعظم انصاری، ۱۴۱۵ق.
  • حر عاملی، محمد بن الحسن، وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعہ، محقق محمد رضا حسینی جلالی، قم، مؤسسہ آل البیت لاحیاء التراث، ۱۴۱۶ق.
  • خوئی، سید ابو القاسم، المبانی فی شرح العروة الوثقی: النکاح (تقریرات درس آیة الله خوئی)، قم، مؤسسہ احیاء آثار الامام الخوئی، ۱۴۲۶ق.
  • سیفی‌ مازندرانی، علی اکبر، دلیل تحریرالوسیلہ، تہران، مؤسسہ نشر و تنظیم آثار امام خمینی، ۱۳۷۵ش.
  • طباطبائی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۳ق.
  • فاضل، محمد هادی، «بررسی لزوم و حدود حجاب در فقہ اهل تسنن»، مجلہ مطالعات راهبردی زنان، ش۳۷، پاییز ۱۳۸۶ش.
  • قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لاحکام القرآن، تہران، ناصر خسرو، ۱۳۶۴ش.
  • مجلسی، محمد تقی، روضة المتقین فی شرح من لا یحضره الفقیہ، محقق سید حسینی موسوی کرمانی و علی پناه اشتهاردی، قم، موسسہ فرهنگی اسلامی پور، چاپ دوم، ۱۴۰۶ق.
  • مقدم، محمد بن احمد اسماعیل، ادلة الحجاب، اسکندریہ، بی نا، ۱۴۲۵ق.
  • نراقی، سید احمد بن محمد مہدی، مستند الشیعہ فی احکام الشریعہ، قم، مؤسسہ آل البیت (علیهم السلام) لاحیاء التراث، ۱۴۲۹ق.