آیت اذن

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اخلاق
مکارم اخلاق.jpg


اخلاقی آیات
آیات افکآیت اخوتآیت استرجاعآیت اطعامآیت نبأ


اخلاقی احادیث
حدیث قرب نوافلحدیث مکارم اخلاقحدیث معراج


اخلاقی فضائل
تواضعقناعتسخاوتکظم غیظاخلاصحلممزید


اخلاقی رذائل
تکبرحرصحسددروغغیبتچغل خوریبخلعاق والدینحدیث نفسعجبسمعہریامزرید


اخلاقی اصطلاحات
جہاد نفسنفس لوامہنفس امارہنفس مطمئنہمحاسبہمراقبہمشارطہگناہدرس اخلاقمزید


علمائے اخلاق
ملامہدی نراقیملا احمد نراقیسید علی قاضیسید رضا بہاءالدینیدستغیبمحمدتقی بہجت


اخلاقی مصادر

قرآننہج البلاغہمصباح الشریعۃمکارم الاخلاقالمحجۃ البیضاءمجموعہ ورامجامع السعاداتمعراج السعادہالمراقباتمزید

آیت اُذُن سورہ توبہ کی ۶۱ویں آیت ہے جسے آیت تصدیق کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی جواپنی گفتگو سے پیغمبر اکرمؐ کو تکلیف پہنچاتے تھے اور آپؐ کو سادہ لوح کہتے تھے۔ یہ آیت رسول اللہ کے ہر کسی کی بات سننے کو معاشرے کے رہبر کے لئے ایک ایسی مثبت صفت سمجھتی ہے کہ جو سب کیلئے باعث خیر ہے کیونکہ اس کے ذریعے افراد کی آبرو اور حرمت محفوظ رہتی ہے۔اس آیت کو اصول فقہ میں خبر واحد کی حجیت کیلئے بھی ذکر کرتے ہیں۔

آیت اور ترجمہ

وَمِنْہُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ ہُوَ أُذُنٌ ۚ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ‌ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّـہِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَ‌حْمَہٌ لِّلَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ ۚ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَ‌سُولَ اللَّـہِ لَہُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٦١توبہ﴾

اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو نبی کو اذیت پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ تو بس کان ہیں (یعنی کان کے کچے ہیں) کہہ دیجیے! وہ تمہارے لئے بہتری کا کان ہیں (ان کے ایسا ہونے میں تمہارا ہی بھلا ہے) جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اہلِ ایمان پر اعتماد کرتے ہیں اور جو تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لئے سراپا رحمت ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ (61)

شأن نزول

آیت اُذُن ان منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی کہ جو اپنی گفتگو سے رسول اللہ کو اذیت پہنچاتے تھے۔جب منافقوں میں کچھ خوف کے مارے انہیں کہتے کہ رسول اللہ کو اس بات کی خبر پہنچے گی اور تمہیں اس کی سزا دی جائے گی تو ان میں جلاس بن سوید اور بعض روایات کی بنا پر نبتل بن حرث نے کہا ہم جو چاہیں محمد کے متعلق کہیں، پھر اس کے پاس جا کر قسم اٹھا لیں گے اور اس سے عذر خواہی کریں گے اور وہ ہمارا عذر قبوکر لیں گے کیونکہ وہ تو جلد یقین کر جاتے ہیں۔[1] دربارہ این آیت شأن نزول‌ہای دیگری نیز وارد شدہ است.[2]

مضمون آیت

سورہ توبہ کی آیت نمبر۶۱ آیت اُذن یا آیت تصدیق کے نام سے معروف ہے۔[3] کلمۂ اُذن (کان) اس آیت میں ایک ایسے شخص سے کنایہ ہے جو ہر کسی کی بات کو سنتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔[4] اس آیت کے مضمون کے مطابق منافقين نے رسول خدا(ص) کا نام کان رکھا ہے اور ان کی اس سے مراد یہ تھی وہ ہر کسی کی بات کو جلداعتماد کرنے والے اور عذر خواہی کو بھی قبول کر لیتے ہیں۔[5]
خداونداس آیت میں منافقین سے مخاطب ہو کر کہتا ہے:

« پیغمبر(ص) کا کان ہونا (ہر کسی کی بات کو سننا) تمہارے لئے خیر کا باعث ہے۔ کلمہ «اُذن» کی خیر کی طرف اضافت رسول اللہ کے زیادہ سننے کی صفت کو بیان کرتی ہے اور یہ صفت دو لحاظ سے معاشرے کے تمام افراد کیلئے مایہ خیر ہے۔ ایک لحاظ سے وحی خدا اور تمام مسلمانوں کو سنتا ہے کہ جس میں معاشرے کے تمام افراد کیلئے خیر و برکت ہے اور دوسری جانب اگر رسول اللہ تمہاری غیر مربوط باتیں سنتے ہیں تو وہ صرف مخاطب کے احترام اور حفظ آبرو کیلئے سنتا ہے۔[6]


تفسیر نمونہ میں رسول اکرم کی جملہ صفات میں سے کان ہونے کو معاشرے کے رہبروں کی مثبت صفت شمار کیا گیا ہے کہ جو معاشرے کے افراد کی نسبت نہایت لطف رحمت کی بیان گر ہے تا کہ اس کے ذریعے لوگوں کے اسرار فاش نہ ہوں اور معاشرے کی وحدت محفوظ رہے؛ اگرچہ منافقین اس نقطہ کو کو پیغمبر کی کمزوری کہتے تھے۔[7]
آیت کے آخری حصے میں اس نکتہ کی جانب اشارہ ہے:

اگرچہ منافقوں نے اپنی گفتگو کے ذریعے پیغمبر کو تکلیف پہنچائی جبکہ آپ نے وسعت قلبی کے ساتھ انہیں رسوا کرنے سے بچایا او با سعہ صدر از رسوا ساختن آنان خودداری کرد لیکن یہ اس معنا میں نہیں ہے کہ وہ اپنے اس ناشائستہ عمل کی سزا نہیں پائیں گے بلکہ آخرت کے روز وہ عذاب سے دوچار ہونگے۔[8]

اصول فقہ میں استعمال

اصول فقہ میں اس آیت کے ذریعے خبر واحد کی حجیت پر استدلال کیا گیا ہے۔[9]

کیفیت استدلال:
آیت کے اس حصے يُؤْمِنُ بِاللہِ وَ يُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ میں خداوند نے رسول اکرم ؐ کے وسیلے سے مؤمنین کی تصدیق کو اپنے ساتھ ذکر کیا اور اس عمل کی تعریف کی ہے؛اس بنا پر مؤمن کی تصدیق کا لازمہ خبر کا حجت ہونا بھی ہے اور اگر عادل شخص کسی انسان کیلئے خبر لائے تو اس کی تصدیق کرنی چاہئے۔ البتہ اس استدلال پر متعدد اعتراضات کئے گئے اور مجموعی طور پر کہا گیا کہ اس آیت سے خبر واحد کی حجیت کو نہیں سمجھا جا سکتا۔[10]

حوالہ جات

  1. واحدی، اسباب النزول، ۱۴۱۱ق، ص۲۵۴؛ حویزی، تفسیر نور الثقلین، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۲۳۶.
  2. قمی، تفسیر القمی، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۳۰۰؛ فخر رازی، تفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۱۶، ص۸۹-۹۰.
  3. آخوند خراسانی، کفایہ الاصول، ۱۴۰۹ق، ص۳۰۱.
  4. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۸، ص۱۵؛ شاہ‌عبدالعظيمى، تفسیر اثنی‌عشری، ۱۳۶۳ش، ج۵، ص۱۳۰.‏
  5. علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۹، ص۳۱۴.
  6. علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۹، ص۳۱۴.
  7. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۸، ص۱۵-۱۶.‏
  8. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۸، ص۱۷.‏
  9. آخوند خراسانی، کفایہ الاصول، ۱۴۰۹ق، ص۳۰۱.
  10. آخوند خراسانی، کفایہ الاصول، ۱۴۰۹ق، ص۳۰۱؛ شیخ انصاری، فرائد الاصول،۱۴۱۹ق، ج۱، ص۲۹۱-۲۹۲.ش


مآخذ

  • قرآن کریم.
  • آخوند خراسانی، محمدکاظم، کفایہ الاصول، قم، مؤسسہ آل البیت علیہم السلام لإحیاء التراث، ۱۴۰۹ق.
  • حویزى، عبدعلى بن جمعہ‏، تفسیر نورالثقلین، مصحح ہاشم‏ رسولى، قم، اسماعیلیان، ۱۴۱۵ق.
  • شاہ عبد العظیمی، حسین، تفسیر اثنی عشری، طہران، میقات، ۱۳۶۳ش.
  • شیخ انصاری، مرتضی، فرائد الاصول، قم، مجمع الفکر الاسلامی، ۱۴۱۹ق.
  • علامہ طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسہ الأعلمی للمطبوعات‏، ۱۳۹۰ق.
  • فخر رازی، محمد بن عمر، تفسیر الکبیر، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۲۰ق.
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، قم، دار الکتاب، ۱۳۶۳ش.
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۱ش.
  • واحدی، علی بن احمد، اسباب نزول القرآن‏، بیروت، دار الکتب العلمیہ، منشورات محمد علی بیضون‏، ۱۴۱۱ق.