آیت استرجاع

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آیت استرجاع
آیت کی خصوصیات
آیت کا نام: استرجاع
سورہ: بقرہ
آیت نمبر: 156
پارہ: 2
صفحہ نمبر: 24
محل نزول: مدینہ
موضوع: عقائد اور اخلاق
مضمون: تمام انسانوں کی بازگشت اللہ کی طرف
دیگر: مصیبتوں میں ایک دوسرے کو صبر کی تلقین
مربوط آیات: سورہ بقرہ کی آیت 155 اور 157


آیت اِسْتِرْجاع قران پاک کے سورۂ بقرہ کی ۱۵۶ویں آیت إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَیهِ رَ‌اجِعُونَ کو کہتے ہیں کہ جس میں تمام انسانوں کی خدا کی طرف بازگشت کا تذکرہ ہوا ہے۔ مسلم معاشروں میں تعزیت کے اظہار اور دوسروں کو صبر کی تلقین کی خاطر پڑھا جاتا ہے۔

آیت

سوره بقره کی ۱۵۶ویں آیت کا ایک حصہ ہے جس میں تمام انسانوں کے خدا کی طرف لوٹ جانے کا تذکرہ ہوا ہے اور یہی حصہ آیت استرجاع کے نام سے معروف ہے۔[1] یہ آیت اس سے پہلی اور بعد کی آیات خدا کی طرف سے دنیا میں انسان کے امتحان لئے جانے کی بیانگر ہیں اور ان امتحانات کو کامیابی سے سر کرنے کی صورت میں ان انسانوں کو صلوات اور رحمت پروردگار کی نوید دیتی ہیں:

وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَیءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَ‌اتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِ‌ینَ ﴿۱۵۵﴾ الَّذِینَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِیبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَیهِ رَ‌اجِعُونَ ﴿۱۵۶﴾ أُولَٰئِكَ عَلَیهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّ‌بِّهِمْ وَرَ‌حْمَةٌ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ ﴿۱۵۷﴾ ِ
اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے خوف و خطر، اور کچھ بھوک (و پیاس) اور کچھ مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ساتھ (یعنی ان میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ)۔ (اے رسول(ص)) خوشخبری دے دو ان صبر کرنے والوں کو۔ (155) کہ جب بھی ان پر کوئی مصیبت آپڑے تو وہ کہتے ہیں بے شک ہم صرف اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اور اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔ (156) یہی وہ (خوش نصیب) ہیں، جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے درود (خاص عنایتیں اور نوازشیں) ہیں اور رحمت و مہربانی ہے۔ اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (157)

شأن نزول

اس آیت کے شان نزول میں آیا ہے کہ جب حضرت امام علی (ع) نے حضرت حمزه کی شہادت کی خبر سنی اور ایک روایت کے مطابق جعفر نے اس جملے کو إنّا لِلّهِ و إنّا إلیهِ راجِعون اپنی زبان پر جاری کیا تو اسکے بعد خدا کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی۔[2]

شیعہ[3] اور اہل سنت[4] کی دسیوں روایات میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ جب بھی انسان کو کسی بھی چھوٹی سی مصیبت کا سامنا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اس آیت کی تلاوت کرے۔

تفسیر

اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ مالکیت حقیقی خدا کی ہی ہے۔ اگر انسان اس حقیقت سے واقف ہو جائے کہ مالک حقیقی خدا کی ذات ہے اور انسان کی مالکیت غیر حقیقی اور اعتباری ہے تو اس میں کسی چیز کے حصول پر خوشی اور غرور پیدا نہیں ہو گا اور کسی چیز کے ہاتھ سے چلے جانے پر کسی قسم کا افسوس اسے لاحق نہیں ہو گا۔

انسانی وجود کے تمام تابع موجودات چاہے وہ اسکے قوا میں سے ہوں یا اس کے افعال میں سے ہوں وہ تمام اس ذات خداوند کی ذات سے ہی قائم ہیں کہ جسے خدا نے پیدا کیا ہے، پس آدمی کی ذات کا قوام خدا سے ہے اور انسان ہر حال میں اس ذات کا محتاج ہے۔ انسان اپنے حدوث اور بقا میں مستقل نہیں ہے۔ پس جب اسطرح سے ہے تو اس کا رب اور اسکا مالک جو چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے انسان کو اپنی طرف سے کسی قسم کے تصرف کا حق اور اختیار حاصل نہیں ہے اور انسان خدا سے جدا کسی قسم کی مالکیت اور اختیار نہیں رکھتا ہے۔

اگر هم اسکی ہستی نیز قوا اور افعال کو خود انسان کی طرف نسبت دیتے ہیں مثلا کہتے ہیں فلان موجود ہے وغیرہ یا وہ آنکھ کان رکھتا ہے یا انسان کے افعال کی نسبت کہتے ہیں وہ جاتا ہے آتا ہے وغیرہ یہی نسبت دینا اس مالک حقیقی خدا کے اذن کی وجہ سے ہے اگر اس نے اجازت نہ دی ہوتی تو یہ سب جھوٹ ہے۔

پس یہیں سے معلوم ہوا کہ مِلک دو طرح کی ہے :

مِلک حقیقی، وہ صرف اور صرف خدائے سبحان کو ہی حاصل ہے اور کوئی انسان یا کوئی موجود دیگر اس ملکیت میں شریک نہیں ہے۔
مِلک اعتباری: یہ ملک ظاہری اور صوری ہے جیسے انسان کا اپنی نسبت اپنے بیٹوں اور اپنے مال یا دوسری چیزوں کا مالک ہونا، ان کا بھی حقیقی مالک خدا ہے اور خدا نے انسان کو یہ حق تملیک دیا ہے اور یہ تملیک ظاہری اور مجازی ہے۔

حوالہ جات

  1. الذریعۃ، ج۴، ص۳۲۴؛ نہج الحق، ص۲۰۹. بحوالہ دائرة‌المعارف قرآن كریم، ج۱، ص۳۶۹
  2. كنزالدقائق، ج۲، ص۲۰۱؛ تأویل الآیات الظاہرة، ص۸۸. بحوالۂ دائرة‌المعارف قرآن كریم، ج۱، ص۳۶۹
  3. الكافی، ج۲، ص۹۳؛ عیاشی، ج۱، ص۶۹؛ نورالثقلین، ج۱، ص۱۴۴. به نقل از دائرة‌المعارف قرآن كریم، جلد۱، ص۳۶۹
  4. جامع البیان، مج ۲، ج۲، ص۵۸؛ الدّرالمنثور، ج۱، ص۳۷۷ و ۳۷۸. بحوالۂ دائرة‌المعارف قرآن كریم، جلد۱، ص۳۶۹


منابع

  • قرآن کریم
  • علی خراسانی، دائرة‌المعارف قرآن كریم، ج۱، ص۳۶۹.
  • ترجمہ تفسیر المیزان