ترک اولی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ترک اولیٰکا معنی اچھے کام کو انجام دینا اور زیادہ اچھے کو ترک کرنا ہے۔ علمائے شیعہ ترک اولیٰ کو گناہ شمار نہیں کرتے اور آئمہؑ و انبیا کی جانب سے اس کے ارتکاب کو ممکن سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک پیغمبرؐ اور آئمہؑ سے منقول استغفار کا سبب ترک اولیٰ ہی ہے۔ قرآن کی بعض آیات میں پیغمبروںؑ کی طرف کچھ لغزشوں کی نسبت دی گئی ہے۔ ان کے بارے میں مفسرین کا عقیدہ ہے کہ پیغمبروںؑ کے معصوم ہونے کی وجہ سے یہ فقہی گناہ نہیں تھے بلکہ درحقیقت یہ ترک اولیٰ تھے؛ جو ان سے سرزد ہوئے۔

مفہوم

اولیٰ لغت میں ’’شائستہ تر اور برتر‘‘ کے معنوں میں ہے۔[1] پس ترک اولیٰ کا مطلب ہے کہ ایسی چیز کو انجام نہ دینا کہ جو شائستہ تر ہے۔ یہ اصطلاح علم کلام میں اور پیغمبروں کی عصمت سے متعلق بحث کے دوران استعمال ہوتی ہے۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ انسان دو کاموں میں سے کہ جس میں سے ایک خوب اور دوسرا خوب تر ہے؛ خوب کو انجام دے اور خوب تر کو چھوڑ دے۔[2] البتہ یہ لفظ قرآن اور معصومین کی روایات میں استعمال نہیں ہوا اور علمائے مسلمین کی وضع کردہ اصطلاحات میں سے ہے۔[3]

ترک اولیٰ اور گناہ میں فرق

گناہ اور ترک اولیٰ میں فرق کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گناہ وہ فعل ہے کہ جس کا ارتکاب ہر ایک کی نسبت سے نامطلوب ہو اور اس کا مرتکب شخص عقاب اور سزا کا مستحق ٹھہرے لیکن ترک اولیٰ میں فرد جو انجام دیتا ہے، وہ بذات خود غلط نہیں ہے تاہم فرد کے منصب اور مقام کو دیکھتے ہوئے اسے شائستہ عمل نہیں سمجھا جاتا۔ مثال کے طور پر ایک مزدور ہسپتال کی تعمیر کیلئے اپنی ایک دن کی تنخواہ ہدیہ کرتا ہے تو یہ اس نے نیک کام کیا لیکن اگر ایک دولت مند شخص ہسپتال کی تعمیر کیلئے اتنی ہی مدد کرے تو اس کی سرزنش کی جائے گی۔ اگرچہ اس شخص نے ایک مطلوب اور اچھا کام انجام دیا ہے مگر اس کی مالی حیثیت کے پیش نظر اس سے زیادہ کی توقع تھی۔ ایسے کام کو ترک اولیٰ کہا جائے گا۔[4]

پیغمبروں اور آئمہؑ کے ترک اولیٰ

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ پیغمبروںؑ سے منسوب خطائیں اور لغزشیں ترک اولیٰ ہیں اور گناہ شمار نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں بعض پیغمبروںؑ کی طرف بعض لغزشوں کی نسبت دی گئی ہے۔ جیسے سورہ بقرہ میں وارد ہوا ہے کہ شیطان نے حضرت آدمؑ کو لغزش سے دوچار کر دیا۔[5] علمائے شیعہ کے عقیدہ کی رو سے انبیاء اور آئمہؑ کی عصمت سے متعلق عقلی دلائل یہ حکم کرتے ہیں کہ یہ حضرات کوئی بھی گناہ؛ صغیرہ یا کبیرہ انجام نہیں دیتے۔[6] اس لیے ان کی طرف گناہ کی نسبت نہیں دی جا سکتی۔ لہٰذا مذکورہ بالا موارد کو ترک اولیٰ قرار دینا ضروری ہے۔[7] قرآن میں ایسے موارد بھی ہیں کہ جن میں پیغمبرؑ استغفار فرماتے تھے اور خدا سے طلب مغفرت کرتے تھے؛ جیسے سورہ قصص کی آیت 16 کہ جس میں حضرت موسیٰؑ اپنے نفس پر ظلم کرنے کی وجہ سے توبہ کرتے ہیں اور خدا انہیں بخش دیتا ہے۔ اس کے علاوہ پیغمبرؐ اور آئمہؑ سے منقول دعاؤں میں بھی ہم ان کے خدا سے استغفار اور طلبِ بخشش کے شاہد ہیں۔ مثال کے طور پر منقول ہے کہ پیغمبرؐ ایک دن رات میں سو مرتبہ استغفار فرماتے تھے۔[8] شیعہ علما ان موارد کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ پیغمبر اور آئمہؑ ارتکاب گناہ کے سبب توبہ نہیں کرتے تھے بلکہ ترک اولیٰ کی وجہ سے خدا سے مغفرت طلب کرتے تھے۔[9]

قرآن میں ترک اولیٰ کے نمونے

قرآن میں بعض پیغمبروں کے حوالے سے ’’عصیان‘‘ اور ’’ظلم‘‘ جیسے کلمات ذکر کیے گئے ہیں اور ان کے استغفار اور خدا کی بخشش کا ذکر ہے کہ جس کی مفسرین نے تفسیر ’’ترک اولیٰ‘‘ کیساتھ کی ہے۔ اس حوالے سے قرآن کی بعض آیات اور مفسرین کی تشریحات درج ذیل ہیں:

  • حضرت موسٰیؑ کے ہاتھوں مصری کا قتل

(موسی) نے کہا: خدایا! میں نے اپنے نفس پر ستم کیا، مجھے بخش دے پس خدا نے انہیں بخش دیا۔ (سورہ قصص، آیہ 16)۔ اس آیت میں حضرت موسیٰ ایک شخص کو مارنے کے سبب استغفار کرتے ہیں اور قرآن کی نقل کے مطابق خدا انہیں معاف فرما دیتا ہے۔ تفسیر نمونہ میں ہے کہ جو شخص موسیٰ کے ہاتھوں قتل ہوا تھا وہ ظالم اور فرعون کا ساتھی تھا اور قتل ہونے کا مستحق تھا۔ اس کتاب کے بقول وہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کے سامنے سینہ زوری کر رہا تھا اور حضرت موسیٰ نے اسے صرف ایک گھونسہ جڑا جبکہ اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔[10] اس لیے آپ نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ البتہ آپ کا یہ عمل ترک اولیٰ تھا کیونکہ ان حالات میں یہ کام خلاف احتیاط تھا اور اس کی وجہ سے آپ بلاوجہ پریشانی کا شکار ہوئے۔[11]

  • حضرت یونسؑ کا فريضہ رسالت کو چھوڑنا

’’ذا النون‘‘ یونس کو یاد کرو کہ جب وہ غصے میں آکر (اپنی قوم میں سے) چلے گئے اور یہ خیال کیا کہ ہم ان کو تنگی میں نہیں ڈالیں گے (مگر جب مچھلی نے نگل لیا) تو ان تاریکیوں میں جا کر فریاد بلند کی کہ پروردگار! تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک و بے نیاز ہے اور میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں سے تھا۔ (سورہ انبیاء، آیہ 87) یہ آیت حضرت یونسؑ کی داستان کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ جس میں حضرت یونسؑ نے اپنی نافرمان قوم کو چھوڑ دیا اور پھر اپنے اس فعل پر پشیمان ہو گئے، اپنے عمل کو ظلم قرار دیا اور توبہ کی۔[12] سید محمد حسین طباطبائی نے لکھا ہے کہ حضرت یونسؑ کا عمل درحقیقت ظلم و گناہ نہیں تھا اور خدا نے ان کو اس وجہ سے تنبیہہ کی تاکہ ان کی تربیت ہو اور وہ ظلم و گناہ کے مشابہہ اعمال کو بھی انجام نہ دیں۔[13] تفسیر نمونہ میں بھی حضرت یونسؑ کے عمل کو ترک اولیٰ قرار دیا گیا ہے۔[14]

  • حضرت آدمؑ کا ممنوعہ پھل کھانا

آدم نے اپنے پروردگار کا عصیان کیا اور (اپنے مطلوب سے) بے راہ ہو گئے۔ (سورہ طہ، آیہ 121) مجمع البیان نے مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: عصیان لغت میں خدا کی اطاعت سے ہر قسم کے خروج کے معنوں میں ہے۔ اس بنا پر صرف ترک واجبات کو ہی شامل نہیں ہے بلکہ مستحب امور کے ترک کو بھی شامل ہے۔ پس حضرت آدمؑ کا عصیان لازما گناہ کرنے کے معنی میں نہیں ہے۔[15] تفسیر نمونہ میں بھی کہا گیا ہے کہ امر و نہی بعض اوقات ارشادی جنبے کا حامل ہوتا ہے؛ جیسے جب معالج اپنے بیمار کو دوا کھانے کا حکم دیتا ہے۔ ایسے موارد میں اگر بیمار معالج کی نصیحت پر عمل نہ کرے تو صرف اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ خدا نے پھل کھانے سے جو منع کیا تو یہ ممانعت بھی گناہ کے معنوں میں نہیں تھی کیونکہ اس وقت ابھی خدا نے تکلیف کو وضع ہی نہیں کیا تھا۔ اس کا معنی یہ تھا کہ پھل کھانا موجب ہو سکتا تھا کہ آدم بہشت سے نکل جائیں اور زمین پر دکھ درد کا شکار ہوں۔[16]

حوالہ جات

  1. معجم الوسیط، ذیل «أولی»
  2. «معنای ترک اولای پیامبران»، سایت آیت اللہ مکارم، تاریخ بازدید: 12 مرداد 1396۔
  3. احتشامی‌نیا و خوش‌رفتار، «امام رضا علیہ‌السلام و ترک اولای انبیاء در قرآن»،ص26۔
  4. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج13، ص324۔
  5. قرآن، سورہ بقرہ، آیہ 36 و 36۔
  6. سید مرتضی، تنزیہ الأنبیاء، 1387شمسی، ص34۔
  7. نگاہ کنید بہ سبحانی، منشور جاوید، 1383شمسی، ج7، ص289؛ شریفی و یوسفیان، پژوہشی در عصمت معصومان، 1377شمسی، ص330۔
  8. صدوق، معانی الاخبار، 1403ھ، ص383، 384
  9. نگاہ کنید بہ سبحانی، منشور جاوید، 1383شمسی، ج7، ص288، 289؛ شریفی و یوسفیان، پژوہشی در عصمت معصومان، 1377شمسی، ص330۔
  10. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج16، ص42۔
  11. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج16، ص42، 43۔
  12. طباطبائی، المیزان،1417ھ، ج14، ص314، 315۔
  13. طباطبائی، المیزان،1417ھ، ج14، ص315۔
  14. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج13، ص485۔
  15. طبرسی، مجمع‌البیان، 1372، ج7، ص56۔
  16. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج13، ص323۔


منابع

  • صدوق، محمد بن علی، معانی الاخبار، تحقیق علی‌اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ اول، 1403ھ۔
  • احتشامی‌نیا، محسن و امین خوش‌رفتار، «امام رضا علیہ‌السلام و ترک اولای انبیاء در قرآن»، سفینہ، ش41، 1392شمسی۔
  • سبجانی، جعفر، منشور جاوید؛ نخستین تفسیر موضوعی بہ زبان فارسی، قم، مؤسسہ امام صادق، 1383شمسی۔
  • سید مرتضی علم الہدی، تنزیہ الأنبیاء و الأئمہ، تحقیق فارس حسون کریم، قم، بوستان کتاب، 1380ش/1422ھ۔
  • شریفی، احمدحسین و حسن یوسفیان، پژوہشی در عصمت معصومان، قم، پژوہشگاہ فرہنگ و اندیشہ اسلامی، چاپ اول، 1377شمسی۔
  • طباطبائی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیرالقرآن، قم، انتشارات اسلامی، 1417ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصرخسرو، 1372شمسی۔
  • «معنای ترک اولای پیامبران»، سائٹ آیت اللہ مکارم، تاریخ بازدید: 12 مرداد 1396۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران،‌دار الکتب الإسلامیۃ، چاپ اول، 1374شمسی۔