آیت رضاع

ویکی شیعہ سے
آیت رضاع
آیت کی خصوصیات
آیت کا نامآیت رضاع
سورہسورہ بقرہ
آیت نمبر233
محل نزولمدینہ
موضوعفقہی
مضمونبچے کو دودھ پلانے کے احکام


آیت رضاع سورہ بقرہ کی آیت 233 ہے جس میں بچے کو دودھ پلانے اور اس کی تربیت و نفقہ کے بارے میں شرعی احکام بیان ہوئے ہیں۔ مفسرین نے اس آیت سے استنباط کرتے ہوئے بچے کو دودھ پلانا واجب قرار دیا ہے۔ مفسرین مزید کہتے ہیں کہ دودھ پلانے میں ماں دوسروں پر ترجیح رکھتی ہے اگرچہ عورت نے اپنے شوہر(بچے کے باپ) سے طلاق لی ہو۔

مفسرین کے مطابق اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کی عمر کے دو سال تک اس کی ماں کو حق حضانت حاصل ہے لہذا اگر ماں اپنی رض او رغبت سے بچے کی حفاظت اور اس کی تربیت کرنا چاہے تو باپ کو ماں اور بچے کے درمیان جدائی ڈالنے کا حق نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، دودھ پلانے کی مدت کے دوران ماں اور بچے کے اخراجات کی ذمہ داری بچے کے باپ ہے یا اس کی ارث سے پورے کیے جائیں گے۔

آیت رضاع کے دوسرے بعض احکام یہ ہیں: والدین کے درمیان اختلافات کی وجہ سے بچے کو نقصان پہنچانا یا بچے کو ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کا سبب قرار دیے جانے کی ممانعت ہے۔ والدین کو بچے کے دودھ چھڑانے کے وقت کے بارے میں باہمی مشورے سے کام لینا چاہیے۔

آیت کے کلی نکات

سورہ بقرہ کی آیت233 کو آیت رضاع سے تعبیر کرتے ہیں۔[1]اس آیت کا شمار آیات الاحکام میں ہوتا ہے۔[2] تفسیر مواہب الرحمان کے مولف سید عبد الاعلی سبزواری لکھتے ہیں کہ آیت رضاع انسانی فطرت سے متعلق ایک چیز کو بیان کرتی ہے جس کا نتیجہ نظام تخلیق میں نسل انسانی کو تحفظ فراہم کرن ہے۔[3]

مفسرین کے مطابق اس آیت سے قبل آیات میں طلاق سے متعلق فقہی احکام بیان ہوئے ہیں اور اس آیت میں بچے کو دودھ پلانے اور اس کی پرورش کرنے سے متعلق مختصر اور کم عبارت میں مکمل احکام بیان کیے گئے ہیں[4]اس آیت کے ماں کو اگرچہ طلاق بھی دی جائے تب بھی دودھ پلانے کے سلسلے میں ماں دوسروں پر ترجیح رکھتی ہے۔ [5]اس کے علاوہ آیت رضاع میں بیان شدہ حکم کے مطابق دودھ پلانے کے دوران ماں کی زندگی کے اخراجات پورا کرنا عرف اور استطاعت کے مطابق باپ کی ذمہ داری ہے۔ اگر چہ ماں کو طلاق دی جاچکی ہو۔ اگر باپ کا انتقال ہو گیا ہو تو باپ کے ورثاء کو یہ اخراجات پورے کرنا ہوں گے [6]

آیت کا متن اور ترجمہ

وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَہُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَۃَ ۚ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَہُ رِزْقُہُنَّ وَكِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَہَا ۚ لَا تُضَارَّ وَالِدَۃٌ بِوَلَدِہَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّہُ بِوَلَدِہِ ۚ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَٰلِكَ ۗ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَن تَرَاضٍ مِّنْہُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْہِمَا ۗ وَإِنْ أَرَدتُّمْ أَن تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُم مَّا آتَيْتُم بِالْمَعْرُوفِ ۗ وَاتَّقُوا اللَّـہَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـہَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ


اور مائیں اپنی اولاد کو دو برس کامل دودھ پلائیں گی جو رضاعت کو پورا کرنا چاہے گا اس درمیان صاحب اولاد کا فرض ہے کہ ماؤں کی روٹی اور کپڑے کا مناسب طریقہ سے انتظام کرے۔ کسی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاسکتی. نہ ماں کو اس کی اولاد کے ذریعہ تکلیف دینے کا حق ہے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کے ذریعہ، اور وارث کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اسی طرح اجرت کا انتظام کرے پھر اگر دونوں باہمی رضامندی اور مشورہ سے دودھ چھڑانا چاہیں تو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر تم اپنی اولاد کے لئے دودھ پلانے والی تلاش کرنا چاہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ متعارف طریقہ کی اجرت ادا کردو اور اللہ سے ڈرو اور یہ سمجھو کہ وہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔



(سورہ بقرہ، آیت 233)


بچے کو دودھ پلانا واجب یا سنت

سورہ بقرہ کی آیت 233 کے جملہ: «یُرْضِعْنَ أَوْلادَہُنَّ» کی رو سے بچے کے اخراجات کو پورا کرنا اور اسے دودھ پلانا واجب قرار دیا گیا ہے۔[7]طَبْرسی اپنی تفسیر مجمع‌البیان میں لکھتے ہیں کہ اس آیت میں جملہ اگرچہ خبری صورت میں آیا ہے لیکن بچے کو دودھ پلانا واجب ہے۔ البتہ ان کے نزدیک یہ ماں پر واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے؛ یعنی مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے حوالے سے دوسروں سے زیادہ مستحق ہیں اور اگر یہ ان کے لیے مشکل ہو یا وہ کسی اور وجہ سے اپنے بچے کو دودھ پلانے سے معذور ہوں تو بچے کو دوسرے طریقے سے دودھ پلانا واجب ہے۔[8] صاحب تفسیر "الکاشف" محمد جواد مغنیہ نے بھی یہی استنباط کیا ہے ماؤں پر دودھ پلانا مستحب ہے یعنی اس سلسلے میں مائیں دوسروں پر ترجیح رکھتی ہیں۔[9] مقدس اردبیلی اپنی کتاب "زبدۃ البیان فی براہین احکام القرآن" میں لکھتے ہیں: اگر بچہ ماں کے دودھ کے بغیر زندہ نہ رہ سکے یا اس کے لیے آیا(دایہ) نہ مل سکے یا باپ بچے کے لیے آیا تلاش نہ کر سکے تو ان صورتوں میں واجب ہے ماں اپنے بچے کو دودھ پلائے۔[10]

بچے کی سرپرستی کا حق

مفسرین نے اس آیت کی رو سے کہا ہے کہ بچے کی سرپرستی (حضانت) کا حق اس کے دو سال تک اس کی ماں پر واجب ہے۔[11]علامہ طباطبایی کے مطابق اس آیت میں جملہ: «لِمَنْ أَرادَ أَنْ یُتِمَّ الرَّضاعَۃَ» سےمعلوم ہوتا ہے کہ طلاق شدہ ماں کے بچے کو دو سال تک بچے کی سرپرستی کا حق حاصل ہے، اس دوران شوہر اپنے بچے کو ماں سے جدا نہیں کرسکتا؛ کیونکہ بچے کو ماں سے جدا کرنا ماں کو نقصان پہنچانے کا ایک مصداق ہے جس کی آیت میں ممانعت کی گئی ہے۔ البتہ بچے کے ماں باپ آپس میں مشورے سے یا ماں اپنے حق سے دستبردار ہونے کی صورت میں حق حضانت اس سے سلب ہوسکتا ہے۔[12] اسی طرح شیعہ مفسر قرآن مکارم شیرازی آیت کے اس فراز سے استنباط کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بچے کے دو سال تک اس کی تربیتاور حفاظت کرنا اور اسے دودھ پلانا ماں کی ذمہ داری ہے جسے شریعت میں حق حضانت سے تعبیر کرتے ہیں البتہ بنیادی طور پر بچوں کی سرپرستی کرنا باپ کی ذمہ داری ہے۔[13] آیت اللہ مکارم مزید لکھتے ہیں: چونکہ اس مدت میں بچے کے جسم اور روح کی پرورش کا ماں کے دودھ اور عواطف سے گہرا تعلق ہے اس لیے یہ حق ماں کو دیا گیا ہے۔ علاوہ بر ایں ماں کے احساسات کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔ پس ماں کے لیے بچے کی تربیت و حفاظت اور اسے دودھ پلانے کا حق ماں اور بچے کے مابین ایک قسم کا دو طرفہ حق ہے۔[14]

دودھ پلانے والی ماں کے اخراجات

مفسرین نے اس آیت کی رو سے کہا ہے کہ بچے کو دودھ پلانے والی ماں کے اخراجات فراہم کرنا باپ کی ذمہ دارہے یا اس کے ورثاء ان اخراجات کو پورا کریں گے۔[15] بعض مفسرین اس آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ بچے کو دودھ پلانے کے دوران ماں کے اخراجات (خوراک اور لباس وغیرہ) کا معیار عرف عام ہے اور باپ کی مالی استطاعت کے مطابق اخراجات اس کی ذمہ داری ہے۔[16] محمد جواد مغنیہ کے مطابق اخراجات پورے کرنے کے سلسلے میں ماؤں کی سماجی منزلت و مرتبے کا خیال رکھنا بھی شرط ہے، جس میں خوراک اور لباس کے علاوہ دیگر چیزیں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔[17]

اس آیت کی رو سے کہا گیا ہے کہ دودھ پلانے کے دوران اخراجات کی ذمہ داری بچے کے باپ یا اس کے ورثا پر اس صورت میں ہے جب ماں کو طلاق دی گئی ہو کیونکہ جو عورتیں مطلقہ نہیں ہیں ان کے اخراجات کو پورا کرنا ان کے شوہروں پر واجب ہے چاہے بچے کو دودھ پلاتی ہو یا نہ۔[18] مکارم شیرازی کے مطابق دودھ پلانے کے دوران اخراجات کی ذمہ داری باپ پر عائد ہونے کی وجہ یہ کہ اس عمل سے ماں اپنے بچے کو ذہنی سکون کے ساتھ دودھ پلا سکتی ہے اور دوسری طرف باپ اس سلسلے میں اپنے جذبات اور احساسات کو متحرک رکھتا ہے۔[19]

بچے اور ماں باپ کو نقصان پہنچانے کی ممانعت

کہتے ہیں کہ آیت رضاع سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حق حضانت کے سلسلے میں ماں باپ کے مابین اختلاف کے بموجب ایک دوسرے کو نقصان پہنچائے یا بچے کو اس سلسلے میں نقصان پہنچانے کی ممانعت کی گئی ہے۔[20] علامہ طباطبائی کے مطابق، چونکہ بچے کی حفاظت اور اسے دودھ پلانے کا حق ماں کو حاصل ہے، اس لیے باپ زبردستی ماں اور بچے کو الگ نہیں کر سکتا یا ماں کو بچے کو دیکھنے سے روک نہیں سکتا ہے۔ کیونکہ یہ عمل بچے کے ماں باپ کو نقصان پہنچانے کے واضح مصادیق میں سے ہے۔[21] بعض دیگر مفسرین جیسے طَبْرسی اور مکارم شیرازی کے مطابق ماں باپ آپس میں اختلاف کی وجہ سے کہیں بچے کو «وجہ‌المصالحہ» اور اسے دونوں کے غصے کا نشانہ نہ بنائے؛ مثلا آہس کے اختلاف کی وجہ سے ماں بچے کو دودھ پلانے سے انکار نہ کرے یا باپ غصے میں آکر اسے ماں سے جد انہ کرے۔[22]

مکارم شیرازی آیت رضاع کے آخری فراز کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آیت کے اس فراز میں میاں بیوی کو خبردار کرتا ہے کہ وہ بچے کے معاملے میں تقوی کی رعایت کرتے ہوئے ایک دوسرے سے انتقام مت لیں اور بچے کی زندگی کو خطرے میں نہ ڈالیں، کیونکہ اللہ ان کے اعمال پر نظر رکھا ہوا ہے۔[23]

دودھ پلانے کی مدت کے بارے میں ماں باپ کا باہمی مشورہ

بچے کو دودھ چھڑانے کی مدت کے بارے میں والدین کو آپس میں مشورہ کرنے کی ضرورت کے حوالے سے بھی آیت رضاع میں بحث کی گئی ہے۔ [24]مفسرین نے اس جملے: «فَإِنْ أَرادا فِصالًا عَنْ تَراضٍ مِنْہُما وَ تَشاوُرٍ» سے استفادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچے کو دودھ چھڑانے کی شرط یہ ہے کہ والدین آپس میں مشورہ کرنے کے بعد اتفاق کر لیں کی دودھ چھڑانے کی ضرورت ہے یا نہیں، یہان تک کہ آپس کے مشورے سے یہ بھی طے کیا جاسکتا ہے کہ دو سال کی مدت سے پہلے ہی دودھ چھڑنا جانا چاہیے۔ کیونکہ ان کی مشاورت اور اتفاق رائے کے بغیر بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔[25]

محمد جواد مغنیہ کے مطابق اس آیت میں بچے کے فائدہ کی خاطر اس کے ماں باپ کو باہمی مشورہ کرنا ضروری ہے۔ [26]علامہ طباطبائی کے مطابق اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس حکم کی تشریع اس وجہ سے ہوئی ہے کہ عورتوں کے حقوق پامال نہ ہوں اور دونوں فریق(ماں باپ) بچے کے معاملے میں کچھ کرنے پر مجبور نہ ہوں۔ کیونکہ مشاورت کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ باپ اپنے بچے کو دودھ پلانے کے لیے کسی اور کے سپرد کر دے۔ کیونکہ اس کی بیوی یا تو دودھ پلانے پر آمادہ نہیں ہے یا دودھ پلانے سے قاصر ہے۔[27]

حمل کی کم از کم مدت

شیخ مفید نے کتاب الارشاد میں امام علیؑ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ آپؑ نے سورہ بقرہ کی دو آیات اور سورہ احقاف کی آیت 15 (جس میں دودھ پلانے اور حمل کی مجموعی مدت 30 شمار کیا گیا ہے) کا حوالہ دیتے ہوئے حمل کا مختصر ترین مدت 6 مہینے قرار دی ہے[28] محمد علی بار نے کتاب "خلق الانسان بین الطب والقرآن" میں بھی کہا ہے کہ طب کی روشنی میں میں حمل کی کم از کم مدت چھے ماہ ہے، اور ڈاکٹروں کے نقطہ نظر سے چھے مہینے سے کم بچے کے زندہ رہنے کا امکان صفر کے قریب ہے۔[29]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. خراسانی، «آیات نام‌دار»، ص384.
  2. مقدس اردبیلی، زبدۃ البیان، المکتبۃ المرتضویۃ، ص556-561.
  3. سبزواری، مواہب الرحمان، 1428ھ، ج4، ص56.
  4. طبرسی، مجمع البیان، 1372ہجری شمسی، ج2، ص586؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ہجری شمسی، ج2، ص185-186.
  5. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ہجری شمسی، ج2، ص186؛ قرائتی، تفسیر نور، 1383ہجریش شمسی، ج1، ص365.
  6. قرائتی، تفسیر نور، 1383ہجری شمسی، ج1، ص365.
  7. طبرسی، مجمع البیان، 1371ہجری شمسی، ج2، ص587.
  8. طبرسی، مجمع البیان، 1371ہجری شمسی، ج2، ص586.
  9. مغنیہ، الکاشف، 1424ھ، ج1، ص356.
  10. مقدس اردبیلی، زبدۃ البیان، المکتبۃ المرتضویۃ، ص556.
  11. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ح2، ص240؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ہجری شمسی، ج1، ص186.
  12. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ح2، ص240.
  13. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ہجری شمسی، ج1، ص186.
  14. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ہجری شمسی، ج1، ص186.
  15. مقدس اردبیلی، زبدۃ البیان، المکتبۃ المرتضویۃ، ص556؛ طبرسی، مجمع البیان، 1371ہجری شمسی، ج2، ص587؛ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج2، ص240.
  16. طبرسی، مجمع البیان، 1371ہجری شمسی، ج2، ص587؛ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج2، ص240؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ہجری شمسی، ج2، ص187.
  17. مغنیہ، الکاشف، 1424ھ، ج1، ص358.
  18. طبرسی، مجمع البیان، 1371ہجری شمسی، ج2، ص587.
  19. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ہجری شمسی، ج2، ص187-188.
  20. مغنیہ، الکاشف، 1424ھ، ج1، ص359.
  21. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج2، ص241.
  22. طبرسی، مجمع البیان، 1371ہجری شمسی، ج2، ص587؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ہجری شمسی، ج2، ص188-189.
  23. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ہجری شمسی، ج2، ص190-191.
  24. مقدس اردبیلی، زبدۃ البیان، المکتبۃ المرتضویۃ، ص560.
  25. طبرسی، مجمع البیان، 1371ش، ج2، ص588؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ہجری شمسی، ج2، ص189.
  26. مغنیہ، الکاشف، 1424ھ، ج1، ص360.
  27. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج2، ص241.
  28. مفید، الإرشاد، 1413ھ، ج1، ص206.
  29. بار، خلق الانسان بین الطب و القرآن، 1412ھ، ص451.

مآخذ

  • بار، محمدعلی، خلق الانسان بين الطب والقرآن، جدہ، الدارالسعودیہ، 1412ھ.
  • خراسانی، رضا، «آیات نامدار»، در دائرۃ المعارف قرآن کریم، قم، بوستان کتاب، 1383ہجری شمسی.
  • سبزواری، سید عبدالاعلی، مواہب الرحمان فی تفسیر القرآن، قم، دارالتفسیر، 1428ھ.
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، 1390ھ.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصرخسرو، 1371ہجری شمسی.
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مرکز درس‌ہای قرآن، 1383ہجری شمسی.
  • مغنیہ، محمدجواد، الکاشف فی تفسیر القرآن، تہران، دارالکتاب الاسلامی، 1424ھ.
  • مقدس اربیلی، احمد بن محمد، زبدۃ البیان فی احکام القرآن، تہران، المكتبۃ المرتضويۃ لإحياء الآثار الجعفريۃ، بی‌تا.
  • مفید، محمد بن محمد، الارشاد في معرفۃ حجج اللہ على العباد، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413ھ.
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، 1371ہجری شمسی.