النص والاجتہاد (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
النص والاجتہاد (کتاب)  
کتاب النص والاجتہاد.jpg
مؤلف سید شرف الدین موسوی عاملی
مترجم علامہ سید ذیشان حیدر جوادی (اردو)
زبان عربی
موضوع اثبات حقانیت شیعہ
ناشر دار القاری، دارالتعارف، انتشارات اسوه، طلیعہ نور، مکتبہ نرجس، ناشر فارسی: دفتر انتشارات اسلامی

اَلنّصُّ وَ الْاِجْتِهاد یا اَلْاِجْتِهادُ فی مُقابِلِ النَّص، امامت کے موضوع پر تحریر کی گئی کتاب ہے جس کے مولف لبنانی عالم دین سید عبد الحسین شرف الدین موسوی عاملی ہیں۔ یہ کتاب امام امیر المومنین علی علیہ السلام کی حقانیت و برتری کے اثبات اور خلفاء و بعض صحابہ کے تقریبا 100 کے قریب قرآن اور رسول خدا (ص) کے واضح اقوال (نص صریح) کی مخالفت کو بیان کرتی ہے۔ مصنف نے ان مخالفتوں کے پشت پردہ پائے جانے والے قصد و ارادہ کو ذکر کئے بغیر فقط انہیں اہل سنت کے بنیادی منابع سے تحریر کرنے پر اکتفا کیا ہے۔

کتاب کا مقدمہ نسبتا طولانی ہے جسے سید محمد تقی حکیم نے تحریر کیا ہے اور اس کا ترجمہ فارسی و انگریزی زبانوں میں شائع ہو چکا ہے۔ فارسی ترجمہ علی دوانی نے کیا ہے اور اس کا نام اجتہاد در مقابل نص رکھا ہے۔ اردو ترجمہ علامہ سید ذیشان حیدر جوادی نے نص و اجتہاد کے نام سے کیا ہے۔

مولف کا تعارف

سید عبد الحسین شرف الدین موسوی عاملی (1290۔1377 ق) لبنان کے شیعہ مجتہدین اور اتحاد بین السملمین کے علمبردار علماء میں تھے۔ انہوں نے شیعہ سنی اتحاد اور ان کے بنیادی اختلافات کو حل کرنے کے سلسلہ میں بہت کام کیا ہے۔ وہ لبنان کی تحریک آزادی کے رہبروں میں سے بھی تھے۔ انہوں نے یہ کتاب اس وقت تحریر کی جب ان عمر 85 برس تھی۔[1]

ان کی سب سے مشہور کتاب المراجعات ہے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد پہلے امام کے عنوان سے امام امیر المومنین علیہ السلام کی بلا واسطہ جانشینی کے اثبات کے سلسلہ میں ہے۔

عنوان کتاب کا مفہوم

نص یعنی ہر وہ صریح کلام جو واضح اور آشکار ہو۔ جس کے ایک معنی ہوں اور اسے تاویل و توضیح کی ضرورت نہ ہو۔[2] اجتہاد کے معنی لغت میں سعی و کوشش کے ہیں اور اصطلاح میں استنباط و استخراج حکم شرعی کو اجتہاد کہتے ہیں۔[3]

اس کتاب کے عنوان میں نص سے مراد خداوند عالم اور رسول اسلام (ص) کے صریح و واضح اقوال و فرامین ہیں اور اجتہاد سے مراد اپنے ذاتی نظریہ پر عمل اور حکم شرعی کا استنباط و استخراج ہے۔ نص کے مقابلہ میں اجتہاد کرنا، علم اصول فقہ میں ایک اصطلاح ہے جس کے معنی خداوند عالم و رسول اکرم (ص) کے صریح اور واضح حکم پر اپنی ذاتی رای کو ترجیح دینا ہیں۔[4]

کتاب کے مطالب

یہ کتاب آٹھ فصلوں پر مشتمل ہے جس میں 100 مقامات پر نص کے مقابلہ میں (رسول خدا کے واضح اقوال کے سامنے اپنی ذاتی رای کو مقدم کیا گیا ہے) اجتہاد کیا گیا ہے۔ جسے خلفاء، حکما اور ان کے بعض رشتہ داروں نے پیغمبر اسلام (ص) کے زمانہ میں یا ان کی رحلت کے بعد انجام دیا ہے اور فیصلہ قارئین کے اوپر چھوڑا ہے۔[5] سید شرف الدین نے پر مورد میں اپنے علمی و تحقیقی و تنقیدی نظریات کو بیان کیا ہے۔[6]

ان مخالفتوں کی دو قسمیں ہیں: بعض میں کسی بھی قاعدہ و اصول (حتی اہل سنت کے بنیادی اصولوں) کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے اور جبکہ بعض حکم شرعی سے واقف نہ ہونے کی بنیاد پر ہیں جن کی بعد میں حکم واقعی کو سمجھنے کے بعد تصحیح کی گئی ہے۔

ان اجتہادات (ذاتی اظہار نظر) میں سے یہاں بعض کا ذکر کیا جا رہا ہے:

خلیفہ اول کے اجتہادات

سید شرف الدین نے فصل اول میں، خلیفہ اول کے اجتہادات کو جو نص کے خلاف ہیں، اس طرح سے نقل کیا ہے:

  • سقیفہ کے واقعہ میں
  • زید بن حارثہ کو سالار بنانے کی مخالفت
  • لشکر اسامہ میں شامل ہونے کی مخالفت
  • مولفۃ قلوبھم کے حصہ کا خاتمہ
  • ذی القربی کے حصہ کا خاتمہ
  • غصب فدک
  • ذوالثدیۃ کے قتل میں دو بار حکم پیغمبر کی نا فرمانی
  • ایسے افراد سے جنگ جنہوں نے انہیں زکات دینے میں کوتاہی کی
  • خالد بن ولید کے حکم سے مالک بن نویرہ کا قتل اور خلیفہ اول کی بے اعتنائی
  • احادیث پیغمبر (ص) کی کتابت پر پابندی
  • ان مشرکین کی تصدیق کرنا جو اپنے مسلمان ہو چکے غلاموں کو واپس حاصل کرنا چاہتے تھے

خلیفہ دوم کے اجتہادات

سید شرف الدین نے دوسری فصل میں خلیفہ دوم کے اجتہادات کو جو نص کے خلاف تھے، اس طرح سے بیان کیا ہے:

  • رسول خدا (ص) کی شان میں گستاخی اور انہیں وصیت تحریر نہ کرنے دینا۔
  • صلح حدیبیہ پر اعتراض
  • پیغمبر (ص) کے اس قول پر اعتراض کہ خدا پرست افراد جنتی ہیں۔
  • حج تمتع سے نہی کرنا
  • متعہ سے نہی کرنا
  • اذان صبح میں بدعت ایجاد کرنا
  • اذان و اقامت میں بدعت ایجاد کرنا
  • طلاق سوم
  • نماز تراویح
  • نماز میت میں چار تکبیر
  • بعض واضح احکام سے واقف نہ ہونا
  • بھائی کے ہونے کے باوجود جد کی میراث
  • ماموں کا بھانجی سے میراث پانا
  • حاملہ خاتون کا عدہ شوہر کے انتقال کے باوجود
  • مفقود شوہر کی زوجہ سے شادی
  • بچہ دار کنیزوں کا بیچنا
  • پانی نہ ہونے کی صورت میں نماز ترک کرنا
  • نماز عصر کے بعد دو رکعت مستحب نماز ہڑھنے سے روکنا
  • مقام ابراہیم کی جگہ بدل دینا
  • میت پر گریہ سے منع کرنا
  • آغاز اسلام میں احکام روزہ پر عمل نہ کرنا
  • شراب خواری حتی شراب کے حرام ہونے کی آیات نازل ہونے کے بعد بھی،[7] جس پر پیغمبر (ص) ناراض ہوئے اور ان کے ہاتھ جو چیز تھی اس سے ضرب لگائی۔
  • رسول خدا (ص) کا جنگ بدر میں عباس اور بنی ہاشم کے قتل سے منع کرنا اور عمر کا اصرار کرنا۔
  • جنگ بدر کے اسیروں سے فدیہ لینا اور عمر کا مخالفت کرنا
  • جنگ حنین کے اسیروں کا قتل کرنا
  • جنگ سے فرار کرنا
  • مسلمانوں کے گھروں کی تلاشی لینا
  • عورتوں کے مہر مقرر کرنے کی بدعت ایجاد کرنا
  • چوری کی حد میں تبدیلی اور اس غلام پر جاری نہ کرنا جس نے چوری کی تھی۔
  • ثابت نہ ہونے والے زنا پر حد جاری کرنا۔
  • مغیرہ بن شعبہ پر زنا کی حد جاری نہ کرنا۔
  • قرآن کریم کی سخت آیات کے بارے میں سوال کرنے پر ضبیع تمیمی کو جلاوطن اور زد و کوب کرنا۔
  • نصر بن حجاج بلا وجہ جلاوطن کرنا۔
  • اپنے بیٹے پر حد شرعی جاری کرنے سے پرہیز کرنا۔
  • حدیبیہ کے درخت کو کاٹ دینا۔
  • ام ہانی کا ان کی شکایت کرنا۔
  • معاویہ کے ساتھ سہل انگاری کرنا۔
  • مخالف شرع احکام کا جاری کرنا اور غلظ ہونے کا پتہ چلنے کے بعد روکنا۔

خلیفہ سوم کے اجتہادات

سید شرف الدین نے کتاب کی تیسری فصل میں خلیفہ سوم کے نص مخالف اجتہادات کو یوں ذکر کیا ہے:

  • اپنے رشتہ داروں کو مال عطا کرنا۔
  • پیغمبر اکرم (ص) کے نکالے گئے افراد کی تکریم کرنا۔
  • سفر میں مکمل نماز پڑھنا۔

عائشہ کے اجتہادات

سید شرف الدین نے کتاب کی چوتھی فصل میں عائشہ کے نص مخالف اجتہادات کو یوں بیان کیا ہے:

  • سفر میں مکمل نماز پڑھنا۔
  • پیغمبر (ص) کے خلاف عایشہ و حفصہ کا سازش کرنا۔
  • عثمان کی برائی اور انہیں قتل کا حکم دینا۔
  • زوجہ پیغمبر (ص) ماریہ قبطیہ پر تہمت لگانا۔
  • عایشہ و حفصہ پر توبہ کے وجوب کا حکم
  • عایشہ سے رسول خدا (ص) کی احادیث۔
  • اسماء جونیہ سے رسول خدا (ص) کی شادی
  • پیغمبر (ص) پر اعتراض کرنا
  • علی (ع) کے خلاف بغاوت کرنا۔

خالد بن ولید کے اجتہادات

  • پیغمبر اکرم (ص) کے حکم سے سرپیچی کرنا۔
  • قبیلہ بنی خذیمہ کا قتل عام۔

معاویہ کے اجتہادات

  • زید بن ابیہ کو ابو سفیان سے منسوب کرنا۔
  • یزید کے لئے زبردستی بیعت لینا
  • یمن میں معاویہ کے مظالم
  • اللہ کے نیک بندوں کا قتل
  • معاویہ اور اس کے عمال کے کرتوت
  • معاویہ کی حضرت علی (ع) سے دشمنی
  • معاویہ کی حضرت علی سے جنگ
  • معاویہ کا حضرت علی کی مذمت میں حدیث جعل کرانا
  • معاویہ کا امام حسن (ع) سے خیانت کرنا

ساتویں فصل میں اہل سنت کے بعض کے علماء کے اجہتادات کا ذکر ہوا ہے جو انہوں نے قرآن کریم اور سنت نبوی کی نص صریح کے مقابلے میں انجام دیئے ہیں۔ اور آٹھویں فصل (خاتمہ) میں پیغمبر اکرم (س) کے بعد خلافت کے سلسلہ میں بلا فصل حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے موزون ہونے کے سلسلہ میں بحث کی گئی ہے۔

ترجمہ و نشر و اشاعت

یہ کتاب متعدد مرتبہ مختلف ناشروں کے ذریعہ کبھی النص والاجتہاد کے عنوان سے اور کبھی الاجتہاد فی مقابل النص کے عنوان طبع و نشر ہو چکی ہے۔[8] علی دوانی نے قارسی زبان میں اس کا ترجمہ کیا ہے۔ جو پہلی بار 1351 ھ ش میں دفتر انتشارات اسلامی کی طرف سے اجتہاد در مقابل نص کے عنوان سے شائع ہوئی ہے جو اب تک بارہا جدید طباعت کے ساتھ منظر عام پر آ چکی ہے۔ اس کا انگریزی ترجمہ عبد اللہ شاہین نے انجام دیا ہے جو سن 2004 عیسوی میں انصاریان پبلیکیشن کی طرف سے طبع ہو چکی ہے۔[9]

اس کتاب کا اردو ترجمہ علامہ سید ذیشان حیدر جوادی مرحوم نے نص و اجتہاد کے نام سے کیا ہے۔

متعلقہ تحقیقات

حوالہ جات

  1. مقدمه ترجمه کتاب از سید محمد تقی حکیم، ص۵۵
  2. دهخدا، لغت نامه، ذیل واژه نص.
  3. دهخدا، لغتنامه، ذیل واژه اجتهاد.
  4. شرف الدین، اجتهاد در مقابل نص، مقدمه مترجم در چاپ اول.
  5. شرف الدین، موسوعة الامام السید عبد الحسین شرف الدین، خطبه مؤلف.
  6. شرف الدین، النص و الاجتهاد، ص۱۳۲ـ۱۳۷
  7. بقره: ۲۱۹. نشاء: ۴۳.
  8. چاپ مکتبة نرجس
  9. کتاب قم


منابع

  • دهخدا، علی اکبر، لغت نامه، تهران، انتشارات دانشگاه تهران، چ۲، ۱۳۷۷ش
  • شرف الدین، عبد الحسین، اجتهاد در مقابل نص، ترجمه علی دوانی، دفتر انتشارات اسلامی
  • شرف الدین، عبد الحسین، موسوعة الامام السید عبد الحسین شرف الدین، ج۲: النص و الاجتهاد، بیروت: دار المورخ العربی، چ۲، ۱۴۳۱ق/۲۰۱۰م.