اولو الامر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آیہ اولی الامر؛ سورہ نساء آیت نمبر 59

اوُلو الْاَمْر، قرآنی اصطلاح میں ان شخصیات کو کہا جاتا ہے جن کی اطاعت کرنا واجب ہے۔ یہ لفظ سورہ نساء کی آیت نمبر 59 میں آیا ہے جو آیہ اولو الامر کے نام سے مشہور ہے۔ اولو الامر کے مصادیق کون ہیں اور ان کی کیا خصوصیات ہیں؟ آیا ان کا معصوم ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ اس حوالے سے مسلمانوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اور عموما کلامی اور تفسیری کتابوں میں ان موضوعات سے بحث کی جاتی ہے۔ شیعوں کے مطابق آیہ اولو الامر، اولو الامر کے معصوم ہونے پر دلالت کرتی ہے اور ان کے مطابق اولو الامر سے مراد شیعوں کے بارہ امام ہیں۔ اہل سنت کے اکثر علماء اس بات کے قائل ہیں کہ مذکورہ آیت سے اولو الامر کا معصوم ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ اہل سنت کے نزدیک خلفاء راشدین، ہر دور کے صاحبان اقتدار خواہ عادل ہوں یا ظالم اور اجماع اولوالامر کے مصادیق میں سے ہیں۔

آیہ اولو الامر

اصل مضمون: آیت اولو الامر

"اولو الامر" کا لفظ جس کے معنی صاحبان امر کے ہیں، سورہ نساء کی آیت نمبر 59 سے ماخوذ ہے جس میں ارشاد رب العزت ہو رہا ہے: "یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُواْ أَطِیعُواْ اللّهَ وَأَطِیعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِی الأَمْرِ مِنکمْ(ترجمہ: اے ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں۔) شیعہ متکلمین اس آیت سے "اولو الامر" کی عصمت ثابت کرتے ہیں۔[1] اس کے علاوہ اولو الامر کے مصادیق کو معین کرنے کے سلسلے میں وارد ہونے والی احادیث جن میں ائمہ معصومین کو اولو الامر کا مصداق قرار دیا گیا ہے، بھی اس مطلب پر دلالت کرتی ہیں۔[2]

عصمت اولو الامر

شیعہ اولو الامر کی عصمت پر آیہ اولو الامر کے ذریعے استدلال کرتے ہیں جس کا مبناء یہ ہے کہ مذکورہ آیت میں خدا وند عالم نے بغیر کسی قید و شرط کے اولو الامر کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔[3] اپنے مدعا پر ان کی دلیل ایک تو مذکورہ آیت کا اطلاق ہے یعنی اس آیت میں اطاعت کرنے کا حکم دینے کے بعد کوئی استثناء وغیرہ نہیں آیا اور دوسری طرف سے اطاعت کا یہ حکم بھی پیغمبر اکرمؐ کی اطاعت کے حکم کے ساتھ آیا ہے۔ ان دو باتوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس طرح پیغمبر اکرمؐ کی بغیر کسی قید و شرط کے اطاعت کرنی چاہئے اسی طرح اولو الامر کی اطاعت بھی بغیر کسی قید و شرط کے واجب ہے۔[4]
پس مذکورہ مبنا اور استدلال کے مطابق اس آیت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اولو الامر کی اطاعت بغیر کسی قید و شرط کے واجب ہے۔ اب اگر اولو الامر معصوم نہ ہو اور وہ کسی حرام کے مرتکب ہونے کا حکم دے تو اس صورت میں تعارض پیش آتا ہے ایک طرف بحکم خدا اولو الامر کی اطاعت واجب پس اس کام کا انجام دینا واجب جبکہ دوسری طرف یہ کام حرام ہے اور حرام سے بچنا بھی واجب ہے۔ پس اولو الامر کا معصوم ہونا ضروری ہے۔[5]
اہل سنت عالم دین فخر رازی بھی اسی نظریے کے قائل ہیں؛[6] لیکن اہل سنت کے دوسرے علماء کا نظریہ کچھ اور ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مذکورہ آیت کے ذیل میں اختلاف نظر پیدا ہونے کی صورت میں خدا اور پیغمبرؐ کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اولو الامر کی اطاعت مطلقا اور بغیر کسی قید و شرط کے واجب نہیں بلکہ ان کی اطاعت صرف اس صورت میں واجب ہے کہ ان کا حکم شریعت کے مسلمہ احکام کا مخالف نہ ہو پس اگر کسی مورد میں وہ کسی فعل حرام کے مرتکب ہونے کا حکم دے تو ان کی اطاعت واجب نہیں ہے۔ جب ایسا ہے تو یہ آیت، اولو الامر کی عصمت پر دلیل واقع نہیں ہو سکتی ہے۔[7]
اس کے مقابلے میں شیعوں کا عقیدہ ہے کہ مذکورہ آیت میں اولو الامر کی اطاعت کا جو حکم آیا ہے وہ استثناء پذیر نہیں اور عرفا اس آیت سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ ان کی اطاعت مطلقا اور بغیر کسی قید و شرط کے واجب ہے جس کا لازمہ اولو الامر کا معصوم ہونا ہے ورنہ تعارض پیش آتا ہے۔[8]

مصداق اولو الامر

اولو الامر کے مصادیق کے بارے میں شیعہ سنی تفاسیر میں بحث ہوئی ہے۔[9] اس حوالے سے شیعہ اور اہل سنت کے درمیان اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ حدیث جابر جو کہ شیعہ حدیثی منابع من جملہ کفایۃ الاثر[10] اور کمال الدین[11] میں آئی ہے، کے مطابق اولو الامر سے مراد ائمہ معصومین ہیں۔ شیعہ اپنے مدعا کو ثابت کرنے کیلئے اس کے علاوہ بھی مختلف احادیث جیسے حدیث سفینہ اور حدیث ثَقَلَین سے بھی استناد کرتے ہیں۔[12] علامہ حلی فرماتے ہیں کہ اس مطلب پر شیعہ اور اہل سنت راویوں سے متواتر احادیث نقل ہوئی ہیں۔[13]
اہل سنت علماء اس نظریے کو قبول نہیں کرتے اور اس حوالے سے ان کے درمیان مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اولو الامر سے مراد خلفاء راشدین ہیں، بعض اس سے مراد علماء دین لیتے ہیں تو بعض کے نزدیک اس سے مراد جنگوں کے سپہ سالار ہیں۔[14] زمخشری لکھتے ہیں اولو الامر سے مراد ہر عادل حکمران ہے جو شریعت کے مطابق حکومت کرتا ہے جیسے خلفاء راشدین اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے حکمران۔[15]
فخرالدین چونکہ اس حوالے سے اہل سنت کے خلاف شیعوں کی طرح اولو الامر کے معصوم ہونے کا قائل ہے، اجماع کو اولو الامر کا مصداق قرار دیتے ہیں۔ اپنے مدعا پر وہ یوں استدلال کرتے ہیں: یا تمام امت معصوم ہیں یا امت میں سے بعض افراد، اور چونکہ معصوم کو پہچاننا ممکن نہیں ہے لذا بعض افراد کو معصوم قرار نہیں دے سکتے پس پوری امت کو معصوم قرار دینا چاہئے پس جہاں جہاں بھی امت کسی مسئلے میں اجماع کریں تو امت کا یہ اجماع معصوم ہوگا۔[16] اجماع سے ان کی مراد اہل حل و عقد، یعنی مسلمان علماء کا اجماع ہے۔[17]

حوالہ جات

  1. علامہ حلی، کشف المراد، ۱۴۱۷ق، ص۴۹۳.
  2. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲، ج۳، ص۱۰۰، ۱۰۱؛‌ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۴، ص۳۱۹.
  3. علامہ حلی، کشف المراد، ۱۴۱۷ق، ص۴۹۳؛‌ مصباح یزدی، راہ و راہنماشناسی، ۱۳۷۶ش، ص۲۰۶.
  4. مصباح یزدی، راہ و راہنماشناسی، ۱۳۷۶ش، ص۲۰۶.
  5. علامہ حلی، کشف المراد، ۱۴۱۷ق، ص۴۹۳؛ مصباح یزدی، راہ و راہنماشناسی، ۱۳۷۶ش، ص۲۰۶.
  6. فخر الدین رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق، ج۱۰، ص۱۱۳.
  7. تفتازانی، شرح المقاصد، ۱۴۰۹ق، ج۵، ص۲۵۰.
  8. مصباح یزدی، راہ و راہنماشناسی، ۱۳۷۶ش، ص۲۰۷.
  9. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۴، ص۳۹۲-۴۰۱؛ فخر الدین رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق، ج۱۰، ص۱۱۲-۱۱۴؛
  10. خزاز رازی، کفایہ الاثر، ۱۴۰۱ق، ص۵۴-۵۵.
  11. صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۱‌، ص۲۵۳-۲۵۴.
  12. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۴، ص۳۹۹.
  13. علامہ حلی، کشف المراد، ۱۴۱۷ق، ص۵۳۹.
  14. فخر الدین رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق، ج۱۰، ص۱۱۳، ۱۱۴.
  15. زمخشری، تفسیر کشاف، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۵۲۴.
  16. فخر الدین رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق، ج۱۰، ص۱۱۳.
  17. فخر الدین رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق، ج۱۰، ص۱۱۳.


مآخذ

  • تفتازانی، سعدالدین مسعود بن عمر، شرح المقاصد، تحقیق عبدالرحمن عمیرہ‌، قم، الشریف الرضی، چاپ اول، ۱۴۰۹ق۔
  • خزاز رازی، علی بن محمد، کفایۃ الاثر فی النص علی الائمۃ الاثنی عشر، تصحیح عبداللطیف حسینی کوہکمری، قم، بیدار، چاپ دوم، ۱۴۰۱ق۔
  • زمخشری، محمود، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، بیروت،‌ دار الکتاب العربی، چاپ سوم، ۱۴۰۷ق۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمۃ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۹۵ق۔
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیرالقرآن، قم، انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ق۔
  • طبرسى، فضل بن حسن، مجمع البيان فى تفسیر القرآن، تہران، ناصرخسرو، ۱۳۷۲ش۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، تحقیق حسن حسن‌زادہ آملی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ ہفتم، ۱۴۱۷ق۔
  • فخرالدین رازی، ابوعبداللہ محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت،‌ دار احیاء التراث العربی، چاپ سوم، ۱۴۲۰ق،
  • مصباح یزدی، محمدتقی، راہ و راہنماشناسی، قم، انتشارات مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی، چاپ اول، ۱۳۷۶ش۔