آیت متعہ

ویکی شیعہ سے
آیہ متعہ
آیت کی خصوصیات
آیت کا ناممتعہ
سورہنساء
آیت نمبر24
پارہ5
محل نزولمدینہ
موضوعفقہی
مضموناسلام میں وقتی شادی کا جواز


آیہ متعہ، سورہ نساء کی چوبیسویں آیت متعہ سے متعلق ہے۔ جس کے بارے میں شیعہ علما کا نظریہ ہے کہ اس آیت کا ایک حصہ اسلام میں ازدواج موقت (متعہ) کے جواز پر دلیل ہے۔ اہل سنت چونکہ متعہ کو جائز نہیں سمجھتے اس لئے ان کا دعوی ٰہے کہ یہ آیت سنت نبوی کے ذریعے نسخ ہوئی ہے۔ بعض شیعہ مفسرین اس دعوے کو درست نہیں مانتے اور ان کے مطابق نسخ کی روایات ضعیف ہیں اور ان کا مضمون بھی متقن نہیں ہے اور متعہ سے متعلق حرام کو خلیفہ دوم سے نسبت دی جاتی ہے۔

آیت اور ترجمہ

وَ الْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَ أُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَالِكُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم محُّصِنِينَ غَيرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنهُنَّ فَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللَّهَ كاَنَ عَلِيمًا حَكِيمًا(۲۴)


اور شوہر دار عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں، (یہ) تم پر اللہ کا فرض ہے اور ان کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال ہیں ان عورتوں کو تم مال خرچ کر کے اپنے عقد میں لا سکتے ہو بشرطیکہ (نکاح کا مقصد) عفت قائم رکھنا ہو بے عفتی نہ ہو، پھر جن عورتوں سے تم نے متعہ کیا ہے ان کا طے شدہ مہر بطور فرض ادا کرو البتہ طے کرنے کے بعد آپس کی رضا مندی سے (مہر میں کمی بیشی) کرو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، یقینا اللہ بڑا جاننے والا، حکمت والا ہے۔



سورہ نساء: آیت 24


متعہ قرآن کریم میں

سورہ نسا کی چوبیسویں آیت میں ازدواج موقت کے جائز ہونے کا ذکر ہے۔ اسی لئے اسے آیہ متعہ کہا جاتا ہے۔[1] اس آیت کے ایک حصے میں خداوند مسلمان سے فرماتا ہے کہ جب بھی آپ شادی کرنا چاہو یا اپنی بیویوں کے ساتھ تعلقات کرنا چاہو تو ان کے مہر کو ادا کرو۔[2] کہا جاتا ہے کہ اس حصے میں ازدواج موقت کو جائز قرار دیا گیا ہے اور اس طرح صرف مہر کو واجب اور اس کو ادا کرنے کو کہا گیا ہے۔[3] علامہ طباطبائی کے مطابق یہ آیت مدینے میں نازل ہوئی ہے اس زمانے میں ازدواج موقت کو متعہ کہا جاتا تھا جو مسلمانوں میں ایک مقبول سنت تھی اور اس پر عمل کا رواج تھا اور کلمہ (استمتعتم) سے اسی عنوان سے متعہ کا لفظ لیا گیا ہے۔[4]

فضل بن حسن طبرسی نے مجمع البیان میں ابن عباس اور دوسرے اصحاب سے نقل کیا ہے کہ کلمہ (استمتعتم) سے یہاں سے مراد وہ نکاح ہے جو مقررہ مدت کے لیے کیا جاتا ہے۔[5] بحرانی اپنی تفسیر تفسیر البرھان میں ائمہ طاہرین سے کچھ روایت کرتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس آیت کا شمار ان آیتوں میں ہوتا ہے جو متعہ کو جائز قرار دیتی ہیں۔[6]

اہل سنت کی نظر میں آیت کا منسوخ ہونا

بعض اہل سنت مفسرین اصحاب پیغمبر سے بعض روایات کی بنیاد پر اس آیت کو منسوخ سمجھتے ہیں۔ کچھ روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں: متعہ دو بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے زمانے میں مباح اور دو بار حرام کیا گیا ہے۔[7] نیز کہتے ہیں کہ متعہ خیبر (کے دن) سے پہلے حلال تھا اور خیبر کے دن حرام کیا گیا۔ پھر فتح مکہ کے دن رسول خدا کے توسط سے جائز قرار دیا گیا۔ پھر اس کے تین دن کے بعد آخری بار قیامت تک حرام قرار دیا گیا۔[8] اس بنیاد پر یہ آیت رسول اللہؐ کے ذریعے منسوخ کی گئی اور خلیفہ دوم نے صرف بعض مسلمانوں کو اس سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے عمومی طور سے اس کی حرمت کا اعلان کیا۔[9] ابن عاشور نے تفسیر التحریر و التنویر میں روایات کی تحلیل کی روشنی میں ازدواج موقت کے جائز ہونے پر صحابہ کے اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں مختلف مواقع پر متعہ کو حرام قرار دینا اور دوسرے بعض مواقع پر جائز سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ آیت نسخ نہیں ہوئی ہے، بلکہ اس کا جواز ضرورت کے وقت لئے بیان اور محدود کیا گیا ہے۔[10]

آین منسوخ ہونے کے ادعا کا جواب

بعض شیعہ مفسرینِ نے راویوں کے اجماع اور بعض شیعہ اور اہل سنت مفسرین نے پیغمبر اکرم حضرت محمدؐ کے زمانے میں متعہ کے جائز ہونے کی وجہ نسخ کے اس دعوی کو قبول نہیں کیا ہے کیونکہ ایک آیت کا نسخ کسی دوسری آیت کے ذریعے یا متواتر روایت سے ثابت ہوتا ہے اور جن روایات کی بنیاد پر نسخ کا دعویٰ کیا جارہا ہے، ان کے مضمون میں مشکل پائی جاتی ہے اور زیادہ تر خبر واحد ہیں اور یہ بات واضح ہے کہ خبر واحد کسی آیت کو نسخ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔[11] محمد جواد بلاغی نے اہل سنت اور شیعہ روایات کا جائزہ لینے کے بعد یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ متعہ کی حرمت پیغمبر اسلامؐ کے زمانے میں نہیں ہوئی اور خلیفہ دوم کا متعہ سے منع کرنا متعہ کے جواز کو نسخ نہیں کرسکتا ہے۔[12] صحیح مسلم میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت ہے کہ متعہ رسول اللہؐ اور ابو بکر کے زمانے اور عمر بن خطاب کی خلافت کے دور میں حلال تھا اور عمر نے اس سے منع کیا۔[13]

حوالہ جات

  1. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش،ج۳، ص۳۳۵۔
  2. طباطبائی، المیزان، ۱۴۱۷ھ، ج۴، ص۲۷۱۔
  3. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۳، ص۳۳۵۔
  4. طباطبائی، المیزان، ۱۴۱۷ھ، ج۴، ص۲۷۲۔
  5. طبرسی، مجمع‌ البیان، ۱۳۷۲ش، ج۳، ص۵۳۔
  6. بحرانی، البرهان، ۱۴۱۵ھ، ج۲، ص۵۸۔
  7. زمخشری، الکشاف، ۱۴۰۷ھ، ج۱، ص۴۹۸۔
  8. آلوسی، روح المعانی، ۱۴۱۵ھ، ج ۳، ص۷۔
  9. آلوسی، روح المعانی، ۱۴۱۵ھ، ج۳، ص۷۔
  10. ابن‌ عاشور، التحریر و التنویر، ۱۴۲۰ھ، ج۴،‌ ص۸۹۔
  11. مغنیہ، الکاشف، ۱۴۲۴ھ، ج۲، ص۲۹۷۔
  12. بلاغی، آلاء الرحمن، نشر وجدانی، ج۲، ص۷۵-۸۰۔
  13. مغنیہ، الکاشف، ۱۴۲۴ھ، ج۲، ص۲۹۶۔

مآخذ

  • ابن‌ عاشور، محمد طاہر، تفسیر التحریر و التنویر، بیروت، مؤسسۃ التاریخ العربی، ۱۴۲۰ھ۔
  • آلوسی، محمود بن عبداللہ، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم و السبع المثانی، بیروت،‌ دار الکتب العلمیہ، منشورات محمد علی بیضون، ۱۴۱۵ھ۔
  • بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرهان فی تفسیر القرآن، قم، مؤسسۃ البعثہ، ۱۴۱۵ھ۔
  • بلاغی،‌ محمد جواد، آلاء الرحمن فی تفسیر القرآن، قم،‌ نشر وجدانی، بی‌تا۔
  • زمخشری، محمود بن عمر، الکشاف عن حقائق التنزیل و عیون الأقاویل فی وجوه التأویل، بیروت، دار الکتاب العربی، ۱۴۰۷ھ۔
  • طباطبائی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ‌الأعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۰ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، ۱۳۷۲ہجری شمسی۔
  • مغنیہ، محمد جواد، التفسیر الکاشف، قم، دار الکتاب الاسلامی، ۱۴۲۴ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۱ہجری شمسی۔