آیت و ان یکاد

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آیت و ان یکاد
آیه و ان یکاد.jpg
آیت کی خصوصیات
آیت کا نام: نظربد
سورہ: قلم
آیت نمبر: 51، 52
پارہ: 29
صفحہ نمبر: 566
محل نزول: مکہ
موضوع: عقائد
مضمون: نظربد


آیت و ان یکاد سورۂ قلم کی 51 اور 52ویں آیت ہے ۔ تفاسیر میں آیا ہے کہ کفار مکہ قرآن سننے کے بعد اپنی نظروں سے رسول اللہ کو آسیب پہنچانا چاہتے تھے۔

آیت

وَإِن یکادُ الَّذِینَ کفَرُ‌وا لَیزْلِقُونَک بِأَبْصَارِ‌هِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکرَ‌ وَیقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ ﴿۵۱﴾ وَمَا هُوَ إِلَّا ذِکرٌ‌ لِّلْعَالَمِینَ ﴿۵۲﴾القلم
اور جب کافر ذکر (قرآن) سنتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی نظروں سے آپ(ص) کو (راہِ راست) سے پھسلا دیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ ضرور دیوانہ ہے۔ (51) حالانکہ وہ (قرآن) تو تمام جہانوں کیلئے نصیحت ہے۔ (52)

وضاحت

کلمۂ ان تشدید کے بغیر إنّ سے تخفیف شدہ ہے ۔ زلق زلل اور لغزش کے معنا میں ، ازلاق صرع یعنی پچھاڑنے کے معنا میں ہے اور قتل و ہلاک کرنے سے کنایہ ہے ۔

تفسیر میزان میں اس آیت کا معنا یوں بیان ہوا ہے:باتحقیق وہ کافر ہو گئے ہیں انہوں نے جب قرآن کو سنا تو نزدیک تھا کہ وہ اپنی آنکھوں کے ساتھ تمہیں (نبی اکرم) گرانا چاہتے ہیں یعنی وہ اپنی آنکھوں سے تمہیں ہلاک کر دیں ۔[1]

بعض مفسرین نے کہا ہے :جب وہ قرآن کو سنتے ہیں تو کینہ توز اور خشمگین آنکھوں سے اس طرح تمہیں (نبی اکرم) دیکھتے ہیں کہ ان نگاہوں سے تمہیں قتل کر ڈالیں۔جب وہ قرآن سنتے ہیں تو آنحضرت کی طرف دیوانگی کی نسبت دیتے ہیں، یہ اس بات پر دلیل ہے کہ وہ (کفار) اس سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ کہیں کہ قرآن شیطان اور جن کے القآت میں سے ہے اسی وجہ سے خدا وند کریم نے انہیں جواب دیتے ہوئے فرمایا :قرآن تو صرف عالمیان کیلئے ذکر کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ [2]

نظر بد

تفصیلی مضمون: نظر بد

یہ ایک طرح سے نفسانی تاثیرات میں سے ہے اور اس کی نفی پر کوئی عقلی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ بعض ایسے واقعات دیکھے گئے ہیں جن پر نظر بد مکمل طور پر منطبق ہے اور روایات بھی اس کے مطابق منقول ہوئی ہیں ۔پس کوئی ایسا سبب نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے اسے خرافاتی عقیدہ کہا جائے ۔

عام معاشرے میں مفہوم

نظر بد کا علاج

اس آیت کے شان نزول میں ذکر ہوا ہے کہ مخالفان کی ایک جماعت کی نظر بد سے رسول اللہ متاثر ہوئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔[3] بعض کتابوں میں ایسی روایات اور ادعیہ مذکور ہوئی ہیں کہ جن کے پڑھنے یا لکھنے کو حاسدوں اور بدخواہوں کی نظر بد سے محفوظ رہنے کیلئے مفید سمجھا گیا ہے ۔جیسے حسن بصری سے روایت مروی ہے:نظر بد کا علاج ان یکاد الذین کی آیت کا پڑھنا ہے ۔[4]

بہت سے افراد نظر بد سے بچاؤ کی خاطر اس آیت کو فریم میں لکھ کر گھر یا کام کی جگہ پر لٹکاتے ہیں ۔ شہید مطہری معتقد ہیں کہ ہمارے پاس کوئی مستند نہیں جو اس آیت کے نظر بد سے بچاؤ کو بیان کرتی ہو:

کیا وَ انْ یکادُ الَّذینَ کفَروا لَیزْلِقونَک بِابْصارِهِمْ کی آیت نظر بد سے بچاؤ کی خاصیت رکھتی ہے؟ ہمیں ابھی کوئی ایسی حدیث یا جملہ نہیں ملا جو اس بات پر دلالت کرتا ہو اور وہ کہے کہ اس آیت کو نظر بد سے بچاؤ کیلئے استعمال کریں ۔نظر بد ایک حقیقت ہے یا نہیں یہ ایک مسئلہ ہے. اگر فرض کریں کہ یہ ایک حقیقت ہے اگرچہ بعض افراد میں ہی ایسا ہوتا ہو۔ اس آیت کا نظر بد کیلئے ہونا ایک جدا مسئلہ ہے ۔جو چیز رسول اللہ و آئمہ طاہرین کی طرف سے ہم تک نہ پہنچی ہو ہمیں اپنے پاس سے اسے تراشنا نہیں چاہئے ۔انسانی روح اس بات کی آمادگی رکھتی ہے اس کے پیش نظر لوگوں نے اپنے پاس سے اسے تراش لیا ہے ۔

حوالہ جات

  1. ترجمہ تفسیر المیزان، ج۱۹، ص۶۴۸
  2. ترجمہ تفسیر المیزان، ج۱۹، ص۶۴۸
  3. موسوی آملی، ص۴۸، نقل از: الکافی،۴/۵۶۷
  4. "عَنِ اَلْفَرَّاءِ وَ اَلزَّجَّاجِ قَالَ اَلْحَسَنُ دَوَاءُ إِصَابَةِ اَلْعَینِ أَنْ یقْرَأَ اَلْإِنْسَانُ هَذِهِ اَلْآیةَ وَ إِنْ یکٰادُ اَلَّذِینَ کفَرُوا لَیزْلِقُونَک بِأَبْصٰارِهِمْ لَمّٰا سَمِعُوا اَلذِّکرَ وَ یقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ وَ مٰا هُوَ إِلاّٰ ذِکرٌ لِلْعٰالَمِینَ". جامع الاخبار/ ۱۵۷؛ موسوی آملی، ص۴۸


مآخذ

  • ترجمہ تفسیر المیزان، ج۱۹.
  • موسوی آملی، سید محسن، سردرنوشتہ ہای قرآن، بشارت، شماره ۶۵، خرداد و تیر ۱۳۸۷.
  • نرم افزار مجموعہ آثار شہید مطہری ( مرکز کامپیوتری نور).
  • شعیری، محمد بن محمد، جامع الأخبار، المطبعہ الحیدریہ، نجف، بی‌تا.