آیت مشورت

ویکی شیعہ سے
آیت مشورت
ایرانی قومی کونسل کے تیسرے دورے کے لیے آیت مشورت کی خطاطی، امیر الکتاب کے قلم سے
ایرانی قومی کونسل کے تیسرے دورے کے لیے آیت مشورت کی خطاطی،
امیر الکتاب کے قلم سے
آیت کی خصوصیات
آیت کا ناممشورت
سورہسورہ آل عمران
آیت نمبر159
پارہ4
شان نزولجنگ احد کے سلسلے میں پیغمبرؐ کی اصحاب کے ساتھ مشاورت کی تائید
محل نزولمدینہ
موضوعاخلاقی، عقیدتی
مضمونعمومی طور پر عفو و بخشہجری شمسی، عمومی معاملات اور حکومتی امور میں باہمی مشاورت کی ضرورت، اللہ تعالیٰ پر توکل
مربوط آیاتآیہ 38 سورہ شوری • آیہ233 سورہ بقرہ


آیه مشورت (سورہ آل عمران آیت: 159) میں مسلمانوں کو اپنی طرف جذب کرنے میں پیغمبر خداؐ کے اچھے اخلاق کا کردار بیان کرنے کے ساتھ آپؐ کو لوگوں سے مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جنگ احد کے سلسلے میں پیغمبر خداؐ کی اصحاب سے مشاورت کی تائید اس آیت کریمہ کی شان نزول ہے۔ مفسرین نے آیتِ مشورت کے تناظر میں باہمی مشاورت کے چند فوائد بیان کیے ہیں: لوگوں کی فکری سطح کو بلند کرنا، لوگوں کو معاشرتی معاملات کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا، امور کے لیے ایک بہترین اور اجتماعی رائے کا انتخاب کرنا، لوگوں کی اصلاح کرنا اور ان کی عزت و تکریم کی فضا قائم کرنا وغیرہ باہمی مشاورت کے فوائد میں شامل ہیں۔ قرآن کے مفسرین کا کہنا ہے کہ رسول خداؐ کی لوگوں سے مشاورت کا تعلق معاشرے کے عمومی، انتظامی امور اور احکام الٰہی کو نافذ کرنے کی حکمت عملیوں سے ہے؛ لہذا پیغمبر خداؐ شرعی حلال و حرام میں کسی سے مشاورت نہیں کرتے تھے کیونکہ احکام الٰہی کا منبع وحی الہی ہے اس لیے احکام الہی کو قرآن و سنت سے اخذ کیے جاتے ہیں۔

بعض اسلامی مفکرین کے نقطہ نظر سے قرآن کی مشاورتی تعلیمات کو اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے موزوں ترین طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

اجمالی تعارف، متن اور ترجمہ

سورہ آل عمران کی آيت نمبر 159 کو آیت مشورت سے موسوم کیا جاتا ہے۔[1] البتہ مفسرین قرآن نے اس آیت کے علاوہ،[2] سورہ شوری کی آیت نمبر38 کے ذیل میں بھی باہمی مشاورت اور اس کی اہمیت کے سلسلے میں گفتگو کی ہے۔[3] آیت مشورت میں پیغمبر خداؐ کے نیک اخلاق کے تذکرے کے ساتھ 3 قسم کے احکام ذکر ہوئے ہیں: عمومی عفو و بخشش کا حکم، مشاورت کا حکم اور اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرنے کا حکم.[4] اس آیت میں دیگر کچھ اخلاقی دستورات کے ساتھ باہمی مشاورت کی تاکید بھی کی گئی ہے۔ معاصر مفسر قرآن مکارم شیرازی کے مطابق آیت مشورت میں رسول اللہؐ کی نرم مزاجی کا ذکر بھی ملتا ہے جس نے مسلمانوں کو اپنی طرف جذب کیا، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ آپؐ کو حکم دیا ہے کہ جنگ احد میں خطا کا ارتکاب کرنے والوں کو معاف کیا جائے، جنگ میں مارے جانے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی جائے اور باقی اجتماعی امور میں مسلمانوں سے باہمی مشاورت کی جائے۔[5]

فَبِمَا رَ‌حْمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ‌ لَهُمْ وَشَاوِرْ‌هُمْ فِي الْأَمْرِ‌ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ


(اے) پیغمبر! یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے نرم ہو ورنہ اگر تم بدمزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے لہذا اب انہیں معاف کردو، ان کے لئے استغفار کرو اور ان سے امر جنگ میں مشورہ کرو اور جب ارادہ کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو کہ وہ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔



سوره آل‌عمران: آیت 159


شأن نزول

کہتے ہیں کہ سورہ آل عمران کی آیت نمبر 159 کا نزول جنگ احد میں مسلمانوں کی شکست سے متعلق ہے۔[6] تفسیر نمونہ میں بیان شدہ تفسیر کے مطابق جنگ احد چھڑ جانے سے پہلے دشمن کا مقابلہ کرنے کے بارے میں بعض مسلمانوں کے ساتھ رسول اللہؐ کی رائے یہ تھی کہ یہ جنگ مدینے میں ہی شروع کی جائے؛ لیکن اکثریت نے اسے نہیں مانا اور بیرون مدینہ جنگ کرنے کی رائے دی گئی، پیغمبر خداؐ نے اکثریتی رائے کا احترام کرتے ہوئے کفار سے جنگ کرنے کے لیے بیرون مدینہ کا انتخاب کیا۔ جن گمیں شکست کا سمانا کرنے کے بعد بعض لوگوں نے خیال کیا کہ پیغمبر خداؐ کی نافرمانی شکست کا سبب بنی اور اب پیغمبرؐ کو مسلمانوں سے مشورہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرز فکر کو ختم کرنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہؐ کو اجتماعی معاملات میں دوبارہ ان سے مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا۔[7]

پیغمبرخداؐ کی نرم مزاجی اسلام کی طرف ترغیب کا سبب

علامہ طباطبائی کے مطابق، اگرچہ آیت مشورت کا مخاطب رسول اللہؐ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ لوگوں کے ساتھ سلوک روا رکھنے میں رسول خداؐ کی نرم مزاجی اور خطا کرنے کی صورت میں انہیں معاف کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے رحمت ہے۔ کیونکہ آپؐ کو اللہ نے نرم مزاج اور خوش اخلاق قرار دیا ہے۔[8] فضل بن حسن طبرسی کے مطابق، رسول خداؐ کی نرم مزاجی کا نتیجہ یہ تھا کہ لوگ دین اسلام کی طرف راغب ہوئے؛ ساتھ ہی ساتھ پیغمبر خداؐ کو اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی کہ اگر آپؐ تند مزاج اور سخت دل ہوتے تو لوگ آپؐ کے ہاں سے بھاگ کھڑے ہوتے۔[9]

علامہ طباطبائی کہتے ہیں کہ سورہ آل عمران کی آیت نمبر 159 سیرت پیغمبر اسلام (ص) کی تائید ہے اور یہ کہ رسول خداؐ کے سارے اعمال خدا کے حکم پر مبنی تھے اور خدا کی رضایت شامل حال تھی۔[10]

مشاورت کی اہمیت

مفسرین نے آیاتِ مشاورت کے تحت اس کے چند فوائد بیان کیے ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں: لوگوں کی فکری سطح کا بلندہونا، احساس ذمہ داری کرنا، بہترین رائے کا انتخاب کرنا، معاشرے کے عمومی معاملات میں شرکت کی ترغیب دینا، لوگوں کی اصلاح کرنا، اخلاقی تربیت کرنا اور لوگوں کی عزت و تکریم کرنا۔[11]

قرآن نے باہمی مشاورت سے کام لینے کی تاکید اس لیے کی ہے کہ انسان جتنا زیادہ فکری طور پر مضبوط ہوتا ہے، پھر بھی وہ مختلف مسائل کے ایک یا زیادہ پہلوؤں کو مد نظر رکھتا ہے اور دوسرے پہلوؤں کو نظرانداز کردیتا ہے۔ باہمی مشاورت کی اہمیت سے متعلق آیات میں اس بات کی تاکید ملتی ہے کہ باہمی مشاورت کو ایک مستقل کام سمجھا جانا چاہیے؛ حتیٰ کہ پیغمبر خداؐ کو وحی الہی سے رابطہ رکھنے کے باوجود اجتماعی مسائل میں مسلمانوں سے مشاورت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کبھی تو لوگوں کی رائے کو اپنی رائے پر ترجیح دینے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔[12]

پیغمبرؐ کی مشاورت کا دائرہ

مفسرین نے پیغمبر خداؐ کی مشاورت کے دائرہ کار کو متعین کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے کے عوامی اور انتظامی امور،[13] معاشرے کے سرنوشت ساز معاملات، مفاد عامہ اسی طرح احکام الٰہی کو نافذ کرنے کے مختلف طریقے سے متعلق معاملات میں پیغمبر اکرمؐ کو مشاورت کرنے کا حکم دیا گیا ہے[14] اور خدا کے حلال و حرام[15] اور دینی معاملات میں مشاورت معنی نہیں رکھتی؛[16] کیونکہ احکام الہی وحی اور کتاب و سنت سے ماخوذ ہیں اور خدا کی ولایت تشریعی سے متعلق ہیں جن میں مخلوق کی مشاورت معنی نہیں رکھتی۔[17] بعض دیگر مفسرین جیسے صادقی تہرانی اور مکارم شیرازی خلافت کے معاملے میں مشاورت کو بے معنی سمجھتے ہیں؛ کیونکہ ان کے عقیدہ کے مطابق اس مسئلے سے متعلق خدا کی طرف سے خاص حکم نازل ہو چکا ہے اور وحی کے ذریعے پیغمبر اکرمؐ کے جانشین اور خلیفہ کا تعین ہوچکا ہے لہذا یہاں شوریٰ کے لیے مزید گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے۔[18] بعض اہل سنت مفسرین؛ جیسے زَمَخشَری نے عمر بن خطاب کے اس قول «اَلخِلافةُ شوریٰ» (خلافت کا مسئلہ ایک مشاورتی مسئلہ ہے)کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ خلافت کے مسئلے کو شوریٰ کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔[19]

مشاورت کے بعد آخری فیصلے میں پیغمبرؐ کی متابعت

بعض کا خیال ہے کہ پیغمبر خداؐ کو مسلمانوں کی شخصیت کے احترام میں ان سے مشاورت کرنے کا حکم دیا گیا ہے وگرنہ آخری اور حتمی فیصلہ کرنے والا خود پیغمبر خداؐ ہیں، جیسا کہ آیت کا مفہوم بھی یہی ہے۔ لہذا پیغمبر اسلام کےلیے لوگوں کی مشاورت کے نتیجے پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے۔ ان کے مقابلے میں بعض لوگوں کا کہنا ہے: یہ جو آیت کے آخر میں نبی اکرمؐ کو حتمی فیصلہ کرنے والے کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپؐ لوگوں سے مشورہ کرتے ہیں اور پھر ان کی رائے کو نظر انداز کرتے ہیں؛ کیونکہ یہ مطلب آیت کے ہدف سے مطابقت نہیں رکھتا، علاوہ بر ایں، اس سے رائے عامہ کی اہانت ہوگی اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی خفگی اور ان کی ناراضگی کا سبب بنے گا اور مطلوبہ ہدف کے برعکس نتیجہ نکلے گا۔ نبی مکرم اسلامؐ کی سیرت میں یہ ملتا ہے اگر اکثریتی رائے اپنی رائے سے فرق کرتی ہے تو آپؐ ہمیشہ اکثریتی رائے کو ترجیح دیتے تھے، تاکہ باہمی مشاورت کے اصول کو مضبوط کیا جائے۔[20]

قرآن کی مشاورتی تعلیمات کی بنیاد پر حکومت کی تشکیل

بعض اسلامی مفکرین جیسے سید محمود طالقانی اور رشید رضا کے نقطہ نظر سے قرآن کی مشاورتی تعلیمات عصر حاضر میں اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے سب سے موزوں طریقہ کار اور حکمت عملی ہے، جس کے ذریعے اسلامی دنیا کے بحرانوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔[21] طالقانی نے سورہ آل عمران کی آیات 159، سورہ شوری 38 اور سورہ البقرہ کی آیت 233 سے استناد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب قرآن نے چھوٹے چھوٹے خاندانی معاملات میں مشاورت کرنے کا حکم دیا ہے تو ہر گھر کو شوریٰ کا مرکز ہونا چاہیے اور اسے اجتماعی امور تک سرایت دینی چاہیے تاکہ معاشرہ یا ملک کا نظم و نسق بہتر طریقے سے چل سکے۔[22] طالقانی مزید لکھتے ہیں: ایک طرف تو مشاورت اور شوریٰ پر مبنی نظام استبداد کی نفی کرتا ہے اور دوسری طرف یہ جمہوریت سے مطابقت رکھتا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جمہوریت صرف مادیات پر زور دیتی ہے جبکہ اسلامی اور وحیانی شورائی نظام میں چونکہ انسان کو خدا کا خلیفہ مانتا ہے، عظیم انسانی اقدار مد نظر ہوتے ہیں۔[23]

حوالہ جات

  1. مکارم شیرازی، پیام قرآن، 1386ہجری شمسی، ج10، ص87-88.
  2. مغنیه، الکاشف، 1424ھ، ج2، ص189؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، 1371ہجری شمسی، ج3، 142-148.
  3. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج18، ص63
  4. رضائی اصفهانی، تفسیر قرآن مهر، 1387ہجری شمسی، ج3، ص309.
  5. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، 1371ہجری شمسی، ج3، ص140-143.
  6. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج4، ص56؛ مغنیه، الکاشف، 1424ھ، ج2، ص188؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، 1371ہجری شمسی، ج3، ص140.
  7. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، 1371ہجری شمسی، ج3، ص143.
  8. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج4، ص56.
  9. طبرسی، مجمع البیان، 1372ہجری شمسی، ج2، ص869.
  10. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج4، ص56.
  11. طبرسی، مجمع البیان، 1372ہجری شمسی، ج2، ص869؛ موسوی سبزواری، مواهب الرحمان، 1409ھ، ج7،ص9؛ طیب، احسن البیان، 1378ہجری شمسی، ج3، ص409؛ قرائتی، تفسیر نور، 1383ہجری شمسی، ج2، ص184-185.
  12. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، 1371ہجری شمسی، ج20 ص462-463.
  13. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج4، ص57.
  14. مغنیه، الکاشف، 1424ھ، ج6، ص529.
  15. مغنیه، الکاشف، 1424ھ، ج6، ص529.
  16. موسوی سبزواری، مواهب الرحمان، 1409ھ، ج7،ص8.
  17. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج4، ص57؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، 1371ہجری شمسی، ج20، ص463.
  18. صادقی تهرانی، الفرقان، 1365ہجری شمسی، ج6، ص61-62؛ مکارم شیرازی، پیام قرآن، 1386ہجری شمسی، ج10، ص89.
  19. الزمخشری، الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل، ج4، ص229.
  20. مکارم شیرازی، پیام قرآن، 1386ہجری شمسی، ج10، ص88.
  21. خان‌محمدی و جعفری، «جایگاه شورا در حکومت اسلامی ...» ص23.
  22. طالقانی، تبیین رسالت برای قیام به قسط، 1360، ص158.
  23. خان‌محمدی و جعفری، «جایگاه شورا در حکومت اسلامی ...» ص32-33.

مآخذ

  • خان‌محمدی، یوسف و جعفری، سید نادر، «جایگاه شورا در حکومت اسلامی از دیدگاه محمد رشیدرضا و سید محمود طالقانی»، در فصلنامه سیاست متعالیه، شماره 22، 1397ہجری شمسی.
  • صادقی تهرانی، محمد، الفرقان فی تفسیر القرآن، تهران، انتشارات فرهنگ اسلامى، 1365ہجری شمسی.
  • طالقانی، سید محمود، تبیین رسالت برای قیام به قسط، تهران، شرکت سهامی انتشار، 1360ہجری شمسی.
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسه الاعلمی للمطبوعات، 1390ھ.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تهران، ناصر خسرو، 1372ہجری شمسی.
  • طیب، سید عبدالحسین، اطيب البيان في تفسير القرآن، تهران، انتشارات اسلام، 1378ہجری شمسی.
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور، تهران، مرکز درس‌هایی از قرآن، 1382ہجری شمسی.
  • مغنیه، محمدجواد، الکاشف فی تفسیر القرآن، تهران، دارالکتاب الاسلامی، 1424ھ.
  • مکارم شیرازی، ناصر، پیام قرآن، قم، مدرسه امیر المومنین،‌ 1368ہجری شمسی.
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دارالکتب الاسلامیه، 1371ہجری شمسی.
  • موسوی سبزواری، عبدالاعلی، مواهب الرحمان، بیروت، موسسه اهل بيت(ع)، 1409ھ.