آیت ابتلائے ابراہیم علیہ السلام

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آیت ابتلائے ابراہیم علیہ السلام
آیت کی خصوصیات
آیت کا نام: ابتلائے ابراہیم
سورہ: بقرہ
آیت نمبر: 124
پارہ: 1
صفحہ نمبر: 19
محل نزول: مدینہ
موضوع: عقائد
مضمون: امامت حضرت ابراہیمؑ
دیگر: عصمت اور منصب امامت



آیت ابتلائے ابراہیم سورہ بقرہ 124ویں آیت کو کہا جاتا ہے جس میں خداوند متعال نے حضرت ابراہیم(ع) کو منصب امامت عطا کیا ہے۔ اس آیت کے مطابق شیعیان آل رسولؐ کا عقیدہ ہے کہ منصب امامت ایک الہی منصب ہے اور امام کو مقام عصمت کا حامل ہونا چاہئے۔

الفاظ آیت

وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَاماً قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي قَالَ لاَ يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ

اور وہ وقت جب ابرہیم کا ان کے پروردگار نے چند باتوں کے ساتھ امتحان لیا اور انہوں نے ان باتوں کو پورا کر دیا تو ارشاد ہوا کہ میں تمہیں خلق خدا کا امام بناتا ہوں۔ انہوں نے کہا اور میری اولاد میں سے؟ارشاد ہوا کہ میری طرف کا عہد ظالموں تک نہیں پہنچے گا

مضمون

اس آیت میں تین باتوں نے اسلام کے مفسرین اور متکلمین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے:

  1. ان "باتوں (کلمات) یا "امتحانات" سے کیا مراد ہے جن کے ذریعے خداوند متعال نے ابراہیم(ع) کو آزمایا؟
  2. اس امامت سے کیا مقصود ہے جو خداوند متعال نے ابراہیم(ع) کی کامیابی کے بعد انہیں عطا فرمائی؟
  3. اس ظلم سے کیا مراد ہے جو منصب امامت تک پہنچنے میں مانع اور حائل ہے؟ بالفاظ دیگر، کیا یہ آیت امام کے لئے مقام عصمت کی ضرورت پر دلالت کرتی ہے؟

کلمات سے مراد

اس سلسلے میں مختلف آراء نقل ہوئی ہیں:

ا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ ابراہیم(ع) کا امتحان اس خواب کے ذریعے انجام پایا جو انھوں نے دیکھا کہ اپنے بیٹے اسمعیلؑ کو قربان کررہے ہیں۔
معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کے مطابق، یہ حضرت ابراہیمؑ کا اہم ترین امتحان تھا اور اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ابراہیمؑ کا پورا امتحان اسی ایک عمل سے مختص ہے۔

ب۔ ابن عباس سے اس کی تین تفسیریں منقول ہیں:

  1. وہ کلمات دس خصال یا دس سنتیں ہیں؛ جن کا تعلق جسمانی طہارت سے ہے، جیسے: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، سر میں مانگ نکالنا، مسواک کرنا، مونچھیں کاٹنا، ناخن کاٹنا، زیر ناف بال مونڈنا، ختنہ کرنا، بغلوں کے بال اکھاڑنا اور پانی سے رفع حاجت کے بعد پانی سے استنجا کرنا۔
  2. وہ کلمات شریعت کی 30 خصلتیں یا 30 احکام ہیں جو سورہ توبہ کی آیت 112، سورہ احزاب کی آیت 35 اور سورہ مؤمنون کی آیات 1 تا 9 میں بیان ہوئے ہیں۔
  3. وہ کلمات حج کے اعمال و مناسک ہیں۔

ج۔ حسن بصری نے کہا ہے کہ "کلمات" سے مراد ستاروں، چاند اور سورج کے پجاریوں کے ساتھ ابراہیم(ع) کے مناظرے اور احتجاجات، ان کا آگ میں پھینکا جانا، آبائی وطن سے ہجرت کرنا اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کو ذبح کرنا، ہے۔

د۔ ابوعلی جبائی کا کہنا ہے کہ ابتلا و امتحان سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عقلی اور شرعی طاعات کے ذریعے آزمایا جانا، مراد ہے۔

هـ۔ مجاہد کا کہنا ہے: "کلمات" سے "قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَاماً" اور بعد کی آیات کریمہ، مقصود ہیں۔ اس صورت میں امامت بذات خود ابراہیم(ع) کے امتحان و ابتلاء کا حصہ ہے اور یہ (امامت) وہ عطا و بخشش نہیں ہے جو سرخرو ہوکر عہدہ برآ ہونے کے بعد آپ کو دی گئی۔

امین الاسلام طبرسی نے مذکورہ اقوال کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے: یہ آیت ان تمام اقوال پر صادق آسکتی ہے۔[1]

تنقیدی جائزہ

علامہ سید محمد حسین طباطبائی کہتے ہیں کہ چونکہ "کلمات" کا اطلاق کلام معہود (آیت کریمہ) کے الفاظ پر نہیں ہوتا (اور یہ الفاظ کلمات کا مصداق نہيں ہیں) لہذا مجاہد کی رائے قابل اعتناء نہیں ہے۔[2]

طبری نے اول الذکر کے سوا مذکورہ اقوال کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے: احتمال یہ ہے کہ کلمات سے مذکورہ تمام اقوال مقصود ہوں یا پھر بعض اقوال مقصود ہوں کیونکہ اس سلسلے میں کوئی معتبر روایت نقل نہیں ہوئی ہے۔[3]

ابن کثیر نےمجاہد کا قول کو آیت کے سیاق و تناظر کے خلاف جانا ہے اور باقی اقوال کو ممکن و محتمل قرار دیا ہے۔[4]

"قرطبی" نے "ابواسحق زجاج" سے نقل کیا ہے کہ لفظ "کلمات" کی تفسیر میں مختلف اقوال ناہمآہنگ اور ناسازگار نہيں ہیں اور حضرت ابراہیم ابراہیم کا ان تمام مسائل کے ذریعے امتحان لیا گیا ہے۔ [5]

اگرچہ قرآن میں "کلمات" کا مقصود بیان نہیں ہوا ہے تاہم آیت کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ "کلمات جو بھی تھے، ابراہیم علیہ السلام کی اہلیت اور ان کے مقام امامت پر فائز ہونے میں مؤثر تھے۔[6]

بحث کا خلاصہ

ائمۂ اہل بیت علیہم السلام کی حدیثوں کے پیش نظر خداوند متعال نے مقام امامت، مقام خُلّت کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عطا کیا ہے۔[7]

مقامِ خُلَّت یہ ہے کہ انسان اللہ کی محبت اور دوستی میں اس قدر غرق اور محو ہوجائے اور کسی اور چیز سے دلبستہ نہیں ہوتا[8] اور نتیجتاً رضائے الہی کی راہ میں کسی قسم کے ایثار و فداکاری سے دریغ نہیں کرتا۔ (ابراہیم(ع) کا لقب خلیل اللہ بھی "خلت" سے ماخوذ ہے)"۔

چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ نمرود کے ہاتھوں آگ میں پھینکے جانے، آبائی وطن سے ہجرت پر مجبور کیا جانا، اپنی ذریت اور خاندان کو عرب کی گرم اور تپتی سرزمین میں بسانے پر مجبور ہونے اور فرزند کو ذبح کرنے پر مامور ہونے جیسے امتحانات، ان "کلمات" اور "آزمائشوں" کے زمرے میں آتے ہیں جو اس آیت میں مد نظر ہیں۔

یہ نکتہ بھی واضح ہے کہ مذکورہ امتحانات و ابتلائات حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نبوت اور رسالت کے دور میں ان کو پیش آئے ہیں۔

خلیل اللہ کا منصب امامت

اس سلسلے میں بھی مختلف آراء نقل ہوئی ہیں:

عالمی امامت

پہلا نظریہ

خلیلؑ کی پیشوائی اور امامت آپ کی ذاتی خصوصیات میں محسوب ہوتی ہے۔ اہم امتحانات اور آزمائشوں کے بعد آپ کو اپنے زمانے اور بعد کے زمانوں حتی بعد کے انبیاء کی امامت و پیشوائی کا منصب عطا ہوا اور بعد کے متعدد انبیاء بھی آپ کے پیروکار ٹہرے؛ یعنی یہ کہ تمام انبیاء خلیلؑ کی توحیدی سنتوں کی پیروی کرتے ہیں۔[9]

اس رائے اور نظریئے کی تائید میں قرآن سے کئی شواہد لائے گئے ہیں؛ جیسا کہ رسول اللہؐ کے زمانے میں یہود اور نصاری' کے دعؤوں کی تردید کے لئے ـ جو کہ اپنے مذاہب و تفکرات کو ابراہیم(ع) سے منسوب کرتے تھے ـ فرمایا گیا کہ: "إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَاللّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ" ترجمہ: بلاشبہ تمام لوگوں میں ابراہیم سے زیادہ تعلق رکھنے والے وہ ہیں جنہوں نے قبل از اسلام ان کی پیروی کی ہے۔[10] اور ایک آیت میں خداوند متعال نے پیغمبر اکرم(صلی الله علیہ وآلہ وسلم) کو وحی بھیجی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مکتب کی پیروی کریں۔[نوٹ 1]اور ایک آیت کریمہ میں خداوند متعال نے دین اسلام کو دین ابراہیم ہی قرار دیا ہے۔

تنقیدی جائزہ

ا۔ موسی، عیسی اور پیغمبر اسلام علیہم السلام، میں سے ہر ایک، مستقل شریعت لائے ہیں اور چونکہ ہر نئی شریعت سابقہ شریعت کے لئے ناسخ کی حیثیت رکھتی ہے [اور سابقہ شریعت کو منسوخ کرتی ہے]، یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ یہ انبیاءؑ شریعتِ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تابع و پیروکار ہیں۔ چنانچہ مذکورہ آیات کریمہ کا مقصود دین ابراہیم(ع) کی روح یعنی یکتاپرستی نیز اللہ کے اوامر و نواہی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوا ہے: "إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّهِ الإِسْلاَمُ"،[11] "دین اللہ کے نزدیک اسلام [یعنی خدا کے سامنے تسلیم ہونے کا نام] ہے۔

ب۔ قرآن کریم نے ابراہیم علیہ السلام کو نوح علیہ السلام کا شیعہ قرار دیا ہے۔ اور اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ خلیل الرحمن نوحؑ کے دین و شریعت کے پیرو تھے بلکہ معنی یہ ہیں کہ ابراہیم(ع) نے بھی عقیدہ یکتاپرستی کے فروغ اور شرک و جاہلیت کے خلاف جدوجہد میں نوح(ع) کی روش اپنائی تھی؛ ابراہیم(ع) کے بعد آنے والے پیغمبروں کی طرف سے آپ کی پیروی کے معنی بھی یہی ہیں۔

ج۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے امامت کا منصب اپنی ذریت کے لئے بھی مانگی اور خداوند متعال نے امامت کا منصب آپ کے پاک اور معصوم فرزندوں کو عطا کیا؛ جیسا کہ خداوند متعال نے ابراہیمؑ، اسحق، اور یعقوب علیه‌السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے: "وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاء الزَّكَاةِ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ" (ترجمہ: اور ہم نے انہیں امام بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق ہدایت کرتے ہیں اور ان کی جانب وحی بھیجی نیک کاموں کے کرنے اور نماز ادا کرنے اور زکوٰة دینے کی اور وہ صرف ہماری عبادت کرتے تھے)۔[12]

چنانچہ منصب امامت کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خصوصیات میں نہیں گردانا جا سکتا۔

نبوت اور پیغمبری

دوسرا نظریہ

بعض علماء نے، اس آیت میں "امامت" کو نبوت اور پیغمبری سے تفسیر کیا ہے۔ فخر رازی نے اس فرضیئے کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے:

أوّلاً، "لِلنَّاسِ إِمَاماً" سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم(ع) عام لوگوں کے امام تھے اور یہ صاحب شریعت انبیاء کی خصوصیات میں سے ہے کیونکہ دوسری صورت میں آپ سابقہ پیغمبر کے پیروکار ہوتے اور یہ وصف آپ کی امامت کے عام ہونے سے ہم آہنگ نہيں ہے۔

ثانیاً، انبیاء ـ خواہ وہ صاحب شریعت ہوں خواہ صاحب شریعت نہ ہوں، منصب امامت کے مالک تھے کیونکہ ان کی اطاعت تمام لوگوں پر واجب تھی۔

ثالثاً، اس آیت میں امامت ابراہیم(ع) پر اللہ کے احسان کے طور پر، آپ کو عطا ہوئی ہے، اور امتنانی [یا تعریفی = Appriciative] ہے، اسی رو سے امامت خدا کی عظیم ترین نعمت، یعنی نبوت ہے۔[13]

تنقیدی جائزہ

فخر رازی کے کلام میں اول الذکر دو دلیلیں ایک دوسرے سے ہمآہنگ نہیں ہیں کیونکہ پہلی دلیل میں ابراہیم(ع) کی امامت کو صاحب شریعت نبی کی نبوت قرار دیا گیا ہے اور دوسری میں اس کے مفہوم کو عام اور وسیع کرکے کہا گیا ہے کہ امامت انبیاء کی نبوت ہے خواہ وہ صاحب شریعت ہوں خواہ صاحب شریعت نہ ہوں۔

جیسا کہ تیسری دلیل بھی ان کا مدعا ثابت نہیں کرتی کیونکہ امامت کا امتنانی ہونا اس بات کا لازمہ نہيں ہے کہ امامت سے مراد نبوت ہو۔ [14]

علاوہ ازیں، بےشک ابراہیم(ع) اپنی نبوت کے دور میں بعض یا تمام، امتحانات اور آزمائشوں سے گذرے ہیں اور منصب امامت کے اہل ہوئے، تو ایسی صورت میں امامت کو کیونکر نبوت سے تفسیر کیا جاسکتا ہے، [حالانکہ آپ منصب نبوت کے مالک تھے جب امامت کے منصب پر فائز ہوئے]؟

ایک نکتہ اور، جو مذکورہ نظریئے کو رد کرتا ہے یہ ہے کہ جب ابراہیم(ع) کو منصب امامت عطا ہوا تو آپ نے اپنی اولاد کے لئے بھی اس کی درخواست کردی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت آپ صاحب اولاد تھے یا آپ کو صاحب اولاد ہونے کی امید واثق تھی۔ کیونکہ آپ کی درخواست اس بات سے مشروط نہ تھی کہ "اگر آپ صاحب اولاد ہوئے تو اس کو امامت کا منصب عطا کیا جائے۔

ادھر ابراہیم(ع) کافی عمر رسیدہ تھے اور آپ کی کوئی اولاد نہ تھی اور عام فطری قواعد کے مطابق صاحب اولاد ہونے سے مایوس ہوچکے تھے۔ چنانچہ جب فرشتوں نے آپ کو اولاد کی خوشخبری سنائی تو آپ نے فرمایا: "قَالَ أَبَشَّرْتُمُونِي عَلَى أَن مَّسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ ٭ قَالُواْ بَشَّرْنَاكَ بِالْحَقِّ فَلاَ تَكُن مِّنَ الْقَانِطِينَ"۔ (ترجمہ: (ابراہیم نے) کہا کیا تم مجھے اس کی خوش خبری دیتے ہو اس عالم میں کہ کبر سنی مجھ پر چھا چکی ہے تو یہ کیا خوش خبری ہے جو تم مجھے دیتے ہو ٭ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو سچائی کے ساتھ خوش خبری دی ہے تو نا امید ہونے والوں میں سے نہ ہوں)۔ [15] چنانچہ امامت کا منصب آپ کو نبوت کے آخری برسوں میں اور اولاد کی خوشخبری پانے کے بعد، عطا ہوا ہے۔[16]

بہترین نمونہ

تیسرا نظریہ:

آیت میں منصب امامت سے (ابراہیم علیہ السلام کا نمونۂ کاملہ اور ہمہ جہت اسوہ ہونا، مقصود ہے۔

اس منصب تک پہنچنے کی شرط یہ ہے کہ انسان معنوی اور روحانی کمال کے اس درجے پر فائز ہوجائے کہ حتی اس سے کہیں ترکِ اولی[17] بھی ـ جسے ترک کرنا جائز ہے ـ سرزد نہ ہو۔ اگرچہ (ابراہیم(ع) سے پہلے یا بعد میں گذرنے والے انبیاء بھی مقام معصوم تھے، لیکن قرآن کی گواہی کے مطابق بعض مواقع پر ان سے بعض اعمال سرزد ہوئے ہیں جنہیں ترک کرنا زیادہ بہتر تھا۔[18] یہ انبیاء اس بلند مرتبے کے مالک نہيں تھے جو (ابراہیم(ع) کو عطا ہوا تھا چنانچہ ان کے تمام اقوال و اعمال کو تمام زمانوں میں بنی نوع انسان کے لئے نمونۂ کاملہ قرار نہیں جاسکتا؛ جبکہ (ابراہیم(ع) نہایت دشوار امتحانات سے گذرنے کے بعد ایسے رتبے پر فائز ہوئے کہ تمام زمانوں کے تمام انسانوں کے لئے نمونۂ کاملہ قرار پائے۔[19]

تنقیدی جائزہ

جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں اشارہ کیا گیا: منصب امامت ابراہیم(ع) کے اسحق اور یعقوب جیسے پاک اور معصوم فرزندوں کو عطا ہوا ہے، اور بےشک انبیائے اولو العزم جیسے نوح، موسی اور عیسی کی معنوی منزلت اور اور ان کے وجود کی عظمت ایسے پیغمبروں سے کہیں برتر و بالاتر تھی اور یہ سب منصب امامت کے مالک تھے؛ چنانچہ صرف ابراہیم(ع) ہی کو بنی نوع انسان کے لئے نمونۂ کاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

سیاسی ولایت و زعامت

چوتھا نظریہ

بعض مفسرین، نے آیت کریمہ میں "امامت" کو ولایت اور سیاسی زعامت سے تفسیر کیا ہے۔

اس تفسیر کی بنیاد ہے کہ سیاسی ولایت و زعامت نبوت اور رسالت کے مناصب اور عہدوں و اختیارات میں شامل نہیں ہے اور نبوت اور سیاسی زعامت کے درمیان منطق کی نسبت "عموم و خصوص من وجہ"[20] حکمفرما ہے؛ یعنی بعض انبیاء نبوت کے ساتھ ساتھ سیاسی ولایت و زعامت کے منصب پر فائز تھے اور اکثر نبی تھے لیکن انہیں سیاسی زعامت کا منصب حاصل نہ تھا۔ جیسا کہ ائمہ سیاسی زعامت اور ولایت کے منصب پر فائز ہیں لیکن نبی نہیں ہیں۔

شیخ طوسی اپنی تفسیرتبیان، میں اس نظریئے کی طرف اشارہ کیا ہے۔[21] انھوں نے اسی موضوع پر اپنے تحریر کردہ ایک رسالے میں لکھا ہے:

امام کے دو اطلاقات (Applications) ہیں: ایک وہ جو اپنے فعل اور قول میں دوسروں کا مقتدا ہو اور دوسرا وہ جو امت کی تدبیر و انتظام اور اس کی سیاسی قیادت و پیشوائی کے لئے قیام کرتا ہے۔

اول الذکر اطلاق میں نبی اور امام مشترک ہیں؛ کیونکہ کوئی بھی پیغمبر ایسا نہیں ہے جس کا قول، اور فعل دوسروں کے لئے مثال، نمونہ عمل اور اسوہ نہ ہو جبکہ مؤخر الذکر اطلاق ایسا نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ اللہ کی حکمت تقاضا کرے کہ ایک پیغمبر کو محض احکام الہیہ کے ابلاغ کے لئے مبعوث فرمائے اور اس کو معاشرے کی سیاسی زعامت کا مشن نہ سونپے۔

شیخ طوسی اس کے بعد نبوت کو ـ "امامت بمعنی سیاسی زعامت" ـ سے الگ کرنے کے لئے ذیل کی دلیلیں پیش کی ہیں:

طالوت کی حکمرانی سے متعلق آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کے نبی اس وقت امامت اور فرمانروائی کے عہدیدار نہيں تھے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو لوگ ان سے نہ کہتے کہ "ہمارے لئے فرمانروا مقرر کردیجئے"،[22] نیز اگر وہ حکمیت کے منصب پر فائز ہوتے تو لوگ نہ کہتے کہ "ہم حکمیت کے زیادہ حقدار ہیں"[23] بلکہ کہہ دیتے کہ "آپ کو طالوت کی نسبت حکومت کا زیادہ حق ہے"۔

ہارون(ع)، موسی(ع) کے ساتھ منصب نبوت میں شریک [اور خود بھی نبی] تھے لیکن وہ معاشرتی امور کے انتظام کے معنوں میں منصب امامت کے عہدیدار نہ تھے کیونکہ جب موسی(ع) میقات جارہے تھے تو انھوں نے انہیں (ہارون(ع) کو) اپنا جانشین قرار دیا[24] حالانکہ اگر وہ ان معنوں میں منصب امامت کے حامل ہوتے تو انہیں موسی(ع) کی جانب سے تقرر و تعین کی ضرورت نہ تھی۔ 3۔ خداوند متعال نے ابراہیم(ع) کو ایسے وقت منصب امامت عطا کیا جب آپ نبوت و رسالت پر فائز تھے اور جب آپ کڑی آزمائشوں سے کامیاب ہوکر عہدہ برآ ہوئے تو آپ کو مقام امامت عطا کیا[25] چنانچہ ابراہیم(ع) کی نبوت اور آپ کی امامت کے درمیان کوئی ربط و ملازمہ نہ تھا۔[26] امین الإسلام طبرسی نے بھی یہ رائے اختیار کی ہے۔[27]

تنقیدی جائزہ

قرآن کریم نے بعثت [اور ارسال رسل] کے اہداف و مقاصد بیان کرتے ہوئے اختلافات میں فیصلے کرنے کو ان مقاصد میں شمار کیا ہے۔ خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے: "فَبَعَثَ اللّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُواْ فِيهِ"۔ (ترجمہ: تو اﷲ نے انبیاء کو خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر اور ان کے ساتھ حق کی طرف بلانے والی کتاب اتاری تاکہ وہ لوگوں میں ان امور کا فیصلہ کر دے جن میں وہ اختلاف کرنے لگے تھے)۔[28]

یہ صحیح ہے کہ لوگوں کے اختلافات میں حکم اور فیصلے کو کتاب سے نسبت دی گئی ہے تاہم ظاہر ہے کہ کتاب صرف قضاوت اور فیصلہ کرنے کا قانون و معیار بیان کرتی ہے؛ اور اس کے ساتھ مصداق کے تعین کے لئے قاضی اور عدلیہ کے احکام کے نفاذ کے لئے حاکم کا ہونا ضروری ہے تاکہ نبوت اور شریعت کی غرض و غایت پوری ہوجائے؛ اور شریعت نافذ کرنے والے افراد انبیاء سے مستقل نہیں تھے اور پیغمبروں کے متوازی حیثیت نہیں رکھتے تھے، چنانچہ انبیاء امامت کے دونوں معنوں پر پورے اترتے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے: "لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۔۔۔" (ترجمہ: ہم نے اپنے پیغمبر واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجے اور اتارا ان کے ساتھ قانون حیات اور توازن و اعتدال کا معیار تا کہ لوگ عدالت وانصاف کو قائم رکھیں۔۔۔)۔[29]

استدلال کی جو صورتیں شیخ الطائفہ نے نبوت اور امامت کو الگ کرنے کے لئے بیان کی ہیں، ان کا مدعا ثابت نہیں کرتیں۔

طالوت کے زمانے میں بنی اسرائیل کے پیغمبر کے بارے میں کہنا چاہئے: یہی کہ، لوگوں نے پیغمبر سے درخواست کی کہ دشمنوں کے ساتھ جنگ کی غرض سے ان کے لئے ایک سپہ سالار متعین کریں، اس بات کی روشن دلیل ہے کہ وہ اپنی افواج کی قیادت اعلی کو پیغمبر کے لئے مخصوص سمجھتے تھے اور دوسری طرف سے پیغمبر نے بھی ان کی درخواست مسترد نہیں کی اور یہ نہیں کہا کہ "سپہ سالار کا تعین نبوت کی حدود اختیارات سے خارج ہے"، لیکن یہ کہ عوام نے کہا کہ "انہیں سپہ سالاری کے عہدے کا طالوت سے زیادہ حق ہے" تو اس کا سبب یہ تھا کہ وہ "ثروت" اور "شہرت" کو معیار سمجھ کراس بارے میں استدلال کررہے تھے۔[30] چنانچہ پیغمبر خدا نے طالوت کی جسمانی قوت اور علم و دانائی کی طرف اشارہ کرکے لوگوں کی چہ میگوئیوں کو رد کردیا۔[31]

ہارون(ع)، اگرچہ منصب امامت کے عہدیدار تھے لیکن حضرت موسی(ع) ـ جو اولوالعزم]] پیغمبر تھے اور معاشرے کے سیاسی زعیم بھی تھے ـ کی موجودگی میں ان کی امامت کا اطلاق نہیں کرسکتے تھے اور تمام معاملات حضرت موسی(ع) کی اجازت سے انجام پاتے تھے۔

نیز اگر حضرت ابراہیم(ع) کی امامت سے مراد سیاسی زعامت ہوتی تو آپ کو اتنے دشوار امتحانات سے گزرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ سیاسی قیادت و زعامت میں معنوی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ حکمت و کیاست اور معاشرے کی قیادت کی انتظامی مہارت کا ہونا بھی ضروری ہے اور انبیائے الہی ـ جو اپنے زمانوں اور معاشروں کے لائق ترین افراد تھے ـ ان خصوصیات کے حامل تھے بالخصوص یہ کہ وہ علم و عمل میں مقام عصمت کے مالک تھے۔

ہدایت باطنی

پانچواں نظریہ

علامہ طباطبائی کی رائے کے مطابق، اس آیت میں امامت سے مراد ہدایت باطنی ہے۔ یہ ہدایت راہنمائی اور راہ دکھانے والی ہدایت کے زمرے میں نہیں آتی بلکہ اس کے معنی ایصال الی المطلوب [32] اورمقصود تک پہنچانے کے ہیں۔

اس طرح کی ہادیانہ صلاحیت وجود کے عُلُوّ[33] نیز معنوی مراتب و مدارج اور خاص معنوی مرتبت کے مرہون منت ہے جو طویل جدوجہد کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ انھوں نے اس نظریئے کے اثبات کے لئے آیات کریمہ سے استناد کیا ہے:

ا۔ وہ آیات جن میں انبیاء کی امامت کی طرف اشارہ کرکے ان کا ہادیانہ کردار بیان کیا گیا ہے:

"وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ"۔ ترجمہ: اور ان (بنی اسرائیل) میں سے ہم نے بعض کو ـ جب انہوں نے صبر سے کام لیا ـ امام قرار دیا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر یقین کرتے تھے۔[34]

"وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاء الزَّكَاةِ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ"۔

ترجمہ: اور ہم نے انہیں امام بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق ہدایت کرتے ہیں اور ان کی جانب وحی بھیجی نیک کاموں کے کرنے اور نماز ادا کرنے اور زکوٰة دینے کی اور وہ صرف ہماری عبادت کرتے تھے۔[35]

ب۔ وہ آیات کریمہ جن میں اللہ کے امر کو بیان کیا گیا ہے:

"إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئاً أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ٭ فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ"

ترجمہ: اس کی بات تو بس یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کو چاہتا ہے، کہہ دیتا ہے ہو جا اور فوراً ہی وہ ہو جاتی ہے ٭ تو پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اقتدار ہے اور اسی کی طرف تم پلٹ کر جاؤ گے۔[36]

"وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ"

ترجمہ: اور نہیں ہے ہمارا حکم مگر یہ کہ یکبارگی سے واقع ہوجاتا ہے چشم زدن (آنکھ جھپکنے) کی طرح)۔[37]

ج۔ وہ بیان جو بیان کرتی ہیں کہ معرفت کاملہ اور خالص یقین اس بات کے مرہون ہے کہ انسان دنیا کی ظاہری صورت سے عبور کرجائیں اور اس کی ملکوت اور باطن کا مشاہدہ کریں؛ جیسا کہ خداوند متعال نے ابراہیم(ع) کے بارے میں ارشاد فرمایا: "وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ"

ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے (ابراہیم(ع)) آسمان و زمین کی ملکوت [یعنی آسمانوں اور زمین پر اللہ کی حکومت مطلقہ] دکھا دی تاکہ آپ یقین والوں میں سے ہوجائیں۔[38]

نیز ارشاد فرماتا ہے:

"لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ"۔

ترجمہ: ضرور ضرور تمہیں دوزخ کا سامنا ہو گا۔[39]

"كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ ٭ وَمَا أَدْرَاكَ مَا عِلِّيُّونَ ٭ كِتَابٌ مَّرْقُومٌ ٭ يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُون"

ترجمہ: ہرگز نہیں یقینا نیکوکاروں کے اعمال کی تحریر بلند مرتبہ افراد کے دیوان میں ہے ٭ اور تم کیا جانو کہ بلند مرتبہ افراد کا دیوان کیا چیز ہے؟ ٭ وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے ٭ جس پر مقرب فرشتوں کی گواہیاں ہیں۔[40]

ان آیات کے مجموعے سے درج ذیل تین نکات حاصل ہوتے ہیں:

  1. امامت اور ہدایت کے درمیانہ ملازمہ ہے [یعنی امامت و ہدایت دونوں لازم و ملزوم ہیں] یعنی یہ کہ ہدایت امامت کا وصف خاص اور مُعَرِّف [41] ہے؛ پس امامت ہدایت کے بغیر اور ہدایت امامت کے بغیر نہیں ہے۔ مذکورہ ہدایت اللہ کے امر خاص سے انجام پاتی ہے۔
  1. اللہ کے حکم خاص سے امامت اور ہدایت کے منصب پر پہنچنا دو راستوں سے ممکن ہے: اللہ کی راہ میں صبر [و استقامت] اور آیات الہی پر یقین، اور چونکہ "صبر" مطلق ہے اسی لئے اس میں اللہ کی راہ میں ہر قسم کا صبر اور دشواریوں میں تحمل، نیز اللہ کے امتحانات اور آزمائشوں میں پامردی اور استواری شامل ہے؛ یہ صبر معرفت کامل اور آیات الہیہ پر یقین کامل کا نتیجہ ہے۔
  2. اللہ کا حکم یا امر الہی اشیاء کے ملکوتی پہلو کا نام ہے اور ہر موجود اپنے وجود کے ملکوتی اور باطنی پہلو میں اللہ تعالی سے ربط و تعلق رکھتا ہے۔ چنانچہ امام کو اصحاب یقین میں سے ہونا چاہئے یعنی وہ اس رتبے پر ہو کہ ملکوتِ عالم کا مشاہدہ کرسکے؛ اس طرح کی معرفت کی روشنی میں وہ مستعد قلبوں کے باطن کے راستے ان میں نفوذ و رسوخ کرسکتا ہے اور انہیں اللہ کی طرف ہدایت عطا کرسکتا ہے۔

چنانچہ خدا کی طرف انسانوں کا سلوک و تحرک اور کمال مطلوب تک ان کی پہنچ اندرونی اور معنوی تأثی کے ذریعے ممکن ہوجاتی ہے؛ جس طرح کہ ظاہری حیات میں بھی امام بنی نوع انسان کو سعادت اور خوشبختی کا راستہ دکھاتا ہے۔ اس لحاظ سے امامت کے ادیانہ کردار کے دو پہلو ہیں 1۔ ظاہری پہلو اور 2۔ باطنی پہلو۔[42]

ہدایت باطنی کے کئی مراتب و مدارج

سورہ انبیاء کی آیات 72 و 73[43] ـ جو امامت کو اسحق(ع) اور یعقوب(ع) کے لئے ثابت کرتی ہیں، ـ اور منصب امامت کی بنا پر ان دو پیغمبروں کی دوسرے پیغمبروں پر عدم برتری، اور اولو العزم پیغمبروں کی امامت کی قطعیت کے پیش نظر، اس بات کا انکار ممکن نہيں ہے کہ منصب امامت انبیاء الہی کے لئے عمومیت رکھتی ہے۔ تا ہم امامت ـ بمعنی "ایصال الی المطلوب" ـ کے مختلف مراتب اور درجات ہیں اور ان مراتب و درجات کی بیشی کمی کا دارمدار ہر نبی کے وجود کے مرتبے پر ہے اور وہ سب اس منصب کے حامل ہیں۔

عصمت امام

آیت ابتلائے ابراہیم عصمت کی دلیل بھی ہے:

فخر رازی کا استدلال

فخر رازی نے "إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَاماً" "میں نے تمہیں خلق خدا کا امام بنایا" کو ـ امام کے عنوان سے ـ ابراہیم(ع) کی عصمت کی دلیل قرار دیا ہے اور کہا ہے: امام وہ ہے جس کی اقتدا کی جائے، لہذا اگر وہ کسی گناہ کا ارتکاب کرے تو اس گناہ میں اس کی پیروی واجب ہوگی، لیکن یہ باطل ہے کیونکہ کسی فعل کے معصیت و گناہ ہونے کا لازمہ حرمت ہے جبکہ دوسروی طرف سے، چونکہ امام کی پیروی واجب ہے، اسی فعل کو انجام دینا واجب ہوگا، اور ایک ہی وقت میں ایک فعل کی حرام اور واجب ہونا محال اور ناممکن ہے۔[44]

امامیہ کا استدلال

شیعہ امامیہ متکلمین اور مفسرین نے آیت کریمہ میں "لاَ يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ"، (ترجمہ:میرا یہ عہد (عہدہ) ظالموں تک نہیں پہنچے گا) سے استناد کرتے ہوئے، استدلال کیا ہے کہ: جس نے گناہ کیا وہ ظلم کا مرتکب ہوا، کیونکہ اس نے حدود الہی کو پامال کیا ہے وہ ظالم ہے۔ ارشاد رب متعال ہے: "تِلْكَ حُدُودُ اللّهِ فَلاَ تَعْتَدُوهَا وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللّهِ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ۔" (ترجمہ: یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں سو وہی لوگ ظالم ہیں)۔ [45] اور خداوند متعال کا ارشاد ہے: "لاَ يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ" (ترجمہ: میرا یہ عہد (عہدہ) ظالموں تک نہیں پہنچے گا)۔ اور اس عہد یا عہدہ سے مراد امامت ہے؛ کیونکہ اس سے قبل خداوند متعال نے ابراہیم(ع) سے مخاطب ہوکر فرمایا: "إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَاماً" (ترجمہ: میں نے تمہیں خلق خدا کا امام بنایا)؛ اور ابراہیم(ع) نے عرض کیا: "وَمِن ذُرِّيَّتِي" (ترجمہ: اور میری اولاد میں سے بھی) اور خداوند متعال نے جواب دیا: "لاَ يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ" (ترجمہ: میرا یہ عہد (عہدہ) ظالموں تک نہیں پہنچے گا)۔ لہذا اگر عہد سے مراد امامت نہ ہو تو خدا کا جواب ابراہیم(ع) کی درخواست سے ہم آہنگ نہ ہوگا۔[46][47]

اعتراض اور جواب

کہا گیا ہے کہ ظالم وہ ہے جو اوّلاً، گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوجائے، اور ثانیاً، اپنے گناہ سے توبہ نہ کرے۔ تاہم ہر وہ گنہگار جو اپنے گناہوں سے توبہ کرے اس پر "ظالم" کا عنوان صادق نہيں آتا۔[48][49][50] [51]

جواب یہ ہے کہ "لاَ يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ" میں "نفی" کا پہلو مطلق ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس شخص پر اپنی زندگی کے کسی بھی لمحے میں "ظالم" کا عنوان صادق آئے وہ منصب امامت کا لائق نہيں ہوسکتا۔ اور اس اطلاق کو مشروط و مقید کرنے کے لئے دوسری دلیل کی ضرورت ہے اور ایسی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔[52][53][54]

دوسرا جواب:

یہاں ایک قرینہ قطعیہ[55]-[56] ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ گناہ میں مرتکب ہوتے ہیں اور پھر توبہ کرتے ہیں وہ بھی عہدہ امامت کے حقدار نہيں ہوسکتے۔

ابراہیم(ع) کی اولاد کو چار گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

  1. وہ لوگ جو زندگی کے آغاز میں ظالم تھے اور پھر توبہ کرتے ہیں اور آخر عمر تک راہ ثواب و ہدایت پر گامزن رہتے ہیں؛
  2. وہ لوگ جو آغاز زندگی میں ظالم نہ تھے لیکن زندگی کے تسلسل میں ظالم ہوجاتے ہیں اور اس رویے کو آخر عمر تک جاری رکھتے ہیں؛
  3. وہ لوگ جو زندگی کے آغاز سے آخر تک ظلم کے راستے پر گامزن رہتے ہیں؛
  4. وہ لوگ جو کبھی بھی [لفظ] ظالم کا مصداق نہيں بنتے۔

بے شک حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ذریت میں دوسرے اور تیسرے گروہ کے لوگوں کے لئے منصب امامت کی درخواست نہيں کی ہے اور جن کے لئے آپ نے اس منصب کی درخواست کی ہے ان کا تعلق پہلے اور چوتھے گروہ سے ہے۔ اور پھر آیت میں "لاَ يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ" (یعنی میرا یہ عہد (عہدہ) ظالموں تک نہیں پہنچے گا) جس سے ظاہر ہوا کہ پہلا گروہ منصب امامت سے بہرہ مند نہيں ہوگا۔ چنانچہ صرف چوتھا گروہ ہے جو عہدہ امامت سے مستفیض ہوگا؛ یعنی وہ لوگ جو کبھی بھی ایسے فعل کے مرتکب نہیں ہوئے جو [لفظ] "ظالم" کا مصداق ٹہرنے کا سبب بنتا ہے۔[57]

نوٹ

  1. سوره نحل آیت 23: ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ (ترجمہ: پھر ہم نے آپ کو بھی پیغام دیا کہ آپ ابراہیم کی ملت کی پیروی کیجئے)۔

حوالہ جات

  1. مجمع البیان، ج1، ص 200
  2. تفسیر المیزان، ج1، ص270
  3. تفسیر جامع البیان، ج1، ص 608
  4. تفسیر القرآن العظیم، ج1، ص 292
  5. الجامع لأحکام القرآن، ج2، ص 95
  6. المیزان، ج1، ص 270
  7. البرہان فی تفسیر القرآن، ج1، ص 151ـ 149
  8. النهایة فی غریب الحدیث والأثر، ج2، ص 72
  9. تفسیر طبری، ج1، ص 610
  10. سوره آل عمران آیت 68۔
  11. سورہ آل عمران آیت 19۔
  12. سورہ انبیاء آیت 73۔
  13. مفاتیح الغیب، ج2، ص 36
  14. یعنی اگر امامت امتنانی ہو تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ امامت نبوت ہی کا نام ہو۔
  15. سورہ حجر آیات 54 و55۔
  16. محمد حسین طباطبائی، تفسیر المیزان، ج1، ص 267ـ 268۔
  17. وہ عمل جو واجب اور شرعی فریضہ نہ ہو لیکن اس کو انجام دینا زیادہ بہتر ہو تو اس کو "اَولی" کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک سرکاری کارکن دفتری اوقات کے بعد رجوع کرنے والے افراد کا جواب نہ دے اور ان کا مسئلہ حل نہ کرے تو اس نے کوئی واجب عمل ترک نہیں کیا لیکن اگر رجوع کرنے والے افراد کا کام قانونی اور درست ہو تو وہ شخص "ترک اولی" کا مرتکب ہوا ہے۔
  18. سورہ طه آیت 115: {{حدیث|"وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْما" (ترجمہ: اور اس سے پہلے آدم سے ہم نے عہد و پیمان لیا تو وہ بھول گئے اور نہیں پایا ہم نے ان میں مضبوط ارادہ)۔ سورہ قصص آیات 15 و 16: "وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلَى حِينِ غَفْلَةٍ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَذَا مِن شِيعَتِهِ وَهَذَا مِنْ عَدُوِّهِ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِن شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ فَوَكَزَهُ مُوسَى فَقَضَى عَلَيْهِ قَالَ هَذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِينٌ" (ترجمہ: اور وہ (حضرت موسی علیہ السلام) شہر میں داخل ہوئے ایسے وقت جب وہاں کے لوگوں کو خبر نہ تھی تو وہاں دیکھا دو آدمیوں کو آپس میں لڑتے ہوئے، یہ ان کے دوستوں میں سے تھا اور یہ ان کے دشمنوں میں سے تو اس نے جو ان کے دوستوں میں سے تھا فریاد کی ان سے، اس کے خلاف جو ان کے دشمنوں میں سے تھا، تو موسیٰ نے اسے گھونسا مار دیا تو اس نے اس کا فیصلہ کر دیا [یعنی ہلاک کر ڈالا]، کہا یہ شیطان کی کارستانی کا نتیجہ ہے، بلاشبہ وہ کھلا ہوا گمراہ کرنے والا دشمن ہے۔
  19. منشور جاوید، ج5، ص 234ـ 237
  20. { منطق } عام و خاص من وجہ ایک منطقی نسبت ہے جہاں ہر کلى دوسرى کلّى کے بعض افراد پر صادق آتى ہے یا یوں کہئے کہ بعض افراد میں دونوں شریک ہیں لیکن دونوں کے کچھ اپنے مخصوص افراد ہیں جہاں دوسرى کلى کا گذر نہیں ہر ایک کى اپنى الگ الگ قلمرو بھى ہے اس صورت میں ان دونوں کلّیوں کے درمیان پائى جانے والى نسبت عموم و خصوص من وجہ "ہوگى اور ان کلّیوں کو" عام و خاص من وجہ" کہیں گے؛ جیسے بعض انسان سفید (گورے) ہیں اور بعض سفید موجودات انسان ہیں (گورے افراد) لیکن بعض انسان سفید نہیں ہیں (کالے اور زرد افراد) اور بعض سفید چیزیں انسان نہیں ہیں جیسے (برف جو سفید ہے لیکن انسان نہیں ہے)۔ استاد شہید مطہری، کتاب: اسلامى علوم کا تعارف، باب "نسب اربعہ"۔
  21. التبيان في تفسير القرآن، ج1، ص 449۔
  22. سورہ بقرہ آیت 24 "قَالُواْ لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكاً" (ترجمہ: انہوں نے اپنے ایک نبی سے کہاکہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر دیجئے)۔
  23. سورہ بقرہ آیت 247: "وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكاً قَالُوَاْ أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ" (ترجمہ: اور ان سے ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ مقررکیا ہے، انہوں نے کہااس کے لئے ہم پر بادشاہت کا حق کہاں سے ہو سکتا ہے، ہم اس سے زیادہ باد شاہت کے حق دار ہیں)۔
  24. سورہ اعراف آیت 142:"وَقَالَ مُوسَى لأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ" (ترجمہ: اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا تھا کہ تم میری قوم میں میری جانشینی کرو اور ٹھیک کام کرنا اور خرابی کرنے والوں کے طریق کار کی پیروی نہ کرنا)۔
  25. سورہ بقرہ آیت 124۔
  26. الرسائل العشر، ص 111ـ 113
  27. مجمع البیان، ج1، 201
  28. سورہ بقرہ آیت 213۔
  29. سورہ حدید آیت 25۔
  30. سورہ بقرہ آیت 147: "قَالُوَاْ أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ۔۔۔" (ترجمہ: تو کہنے لگے کہ اسے ہم پر حکمرانی کہاں سے مل گئی حالانکہ ہم اس سے حکومت (کرنے) کے زیادہ حق دار ہیں اسے مال و دولت میں کچھ وسعت تو ملی ہی نہیں ہے)۔
  31. سورہ بقرہ آیت 147:"قَالَ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ" (ترجمہ: اللہ نے اسے تم پر ترجیح دی ہے اور اسے علم اور جسمانی طاقت میں زیادتی عطا کی ہے اور اللہ اپنی بادشاہت جسے چا ہتا ہے عطا کر تا ہے)۔
  32. ہدایت کی دو قسمیں ہیں: "ارائۃالطریق" یعنی راستہ دکھانا اور راہنمائی کرنا اور "ایصال الی المطلوب" یعنی منزل مقصود تک پہنچانا۔
  33. عُلُوّ: بلند اور اعلی ہونا، اونچائی اور عروج۔
  34. سورہ سجدہ آیت 24۔
  35. سجده:24؛ انبیا:73
  36. سورہ یس آیات 82 و83۔
  37. سورہ قمر آیت 50۔
  38. سورہ انعام آیت 75۔
  39. سورہ تکاثر آیت 6۔
  40. سورہ مطففین آیات 18 تا 21۔
  41. { منطق } کسی شیۓ کا مُعَرِّف وہ مفہوم ہوتا ہے جو اس شیۓ پر محمول ہو، تاکہ اس شئے کے تصور کا فائدہ دے؛ مثلا "حیوانِ ناطق"، "انسان" کے لئے، مُعَرِّف ہے۔ اس مثال میں انسان مُعَرَّف یا شیۓ اور حیوانِ ناطق مُعَرِّف ہے۔ اس معرِف یعنی حیوان ناطق کو انسان پر اس لئے محمول کیا گیا تاکہ انسان کی حقیقت معلوم ہوجائے۔
  42. المیزان، ج1، ص 272ـ 273
  43. سورہ انبیاء آیات 72 و 73:"وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً وَكُلّاً جَعَلْنَا صَالِحِينَ ٭ وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاء الزَّكَاةِ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ" (ترجمہ: اور ہم نے انہیں اسحاق کی سی اولاد عطا کی اور مزید برآں یعقوب، اور ان سب کو نیکو کار بنایا ٭ اور ہم نے انہیں امام بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق ہدایت کرتے ہیں اور ان کی جانب وحی بھیجی نیک کاموں کے کرنے اور نماز ادا کرنے اور زکوٰة دینے کی اور وہ صرف ہماری عبادت کرتے تھے)۔
  44. مفاتیح الغیب، ج4، ص 40
  45. سورہ بقرہ آیت 229۔
  46. اللوامع الالہیہ، ص 332ـ 333
  47. الشافی، ج3، ص 141
  48. شرح المواقف، ج8، ص 351
  49. المغنی، ج20، ص 194
  50. مفاتیح الغیب، ج4، ص 42
  51. شرح العقائد النسفیہ، ص 113
  52. شیخ طوسی، تفسیر التبیان، ج1، ص 449۔
  53. سید مرتضی علم الہدی، الشافی، ج3، ص 139
  54. مجمع البیان، ج1، ص 202
  55. قرینہ: وہ علامت اور نشانہ جو دلیل ہو کسی چیز کو سمجھنے کی
  56. قرینۂ قطعیہ: وہ علامت ہے جو قوی ہو اور اطمینان کا سبب بنے (قانون شہادت وامارات (ایران) منظور شدہ 1308 ہجری شمسی)۔
  57. تفسیر المیزان، ج1، ص 274


مآخذ

  • قرآن کریم
  • البرهان فی تفسیر القرآن، بحرانی، سید هاشم، دارالکتب العلمیه، قم، 1393 ہجری۔
  • التبیان فی تفسیر القرآن، طوسی، محمد بن حسن، مکتب الاعلام الاسلامی، قم، 1409 ہجری۔
  • تفسیر القرآن العظیم، ابن کثیر، اسماعیل بن عمرو بن کثیر دمشقی، دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1419 ہجری۔
  • التفسیر الکبیر، رازی، فخر الدین، دار احیاءالتراث العربی، بیروت.
  • تفسیر طبری، طبری محمد بن جریر، ضبط و تعلیق: محمود شاکر، دار احیاء التراث العربی، بیروت.
  • جامع البیان فی تفسیر القرآن، طبری، ابو جعفر محمد بن جریر، دار المعرفة، بیروت، 1412 ہجری۔
  • الجامع لأحکام القرآن (تفسیر قرطبی، قرطبی، محمد بن احمد، تحقیق عبد الرزاق المهدی، دار الکتاب العربی، بیروت، 1423 ہجری۔
  • الرسائل العشر، طوسی، محمد بن حسن، مؤسسة النشر الاسلامی، قم، بی تا.
  • الشافی فی الامامة، سید مرتضی، علی بن حسین، مؤسسة الصادق، تهران، 1407 ہجری۔
  • شرح العقاید النسفیہ، تفتازانی، سعد الدین، مطبعہ مولوی، محمد عارف، 1364 ہجری شمسی۔
  • شرح المقاصد، تفتازانی، سعد الدین، منشورات الشریف الرضی، قم، 1409 ہجری۔
  • شرح المواقف، جرجانی، میر سید شریف، منشورات الشریف الرضی، قم، 1412 ق
  • اللوامع الالهیہ، الفاضل المقداد، جمال الدین مقداد بن عبد الله، مکتبة المرعشی، قم، 1405 ہجری۔
  • مجمع البیان، طبرسی، فضل بن حسن، داراحیاء التراث العربی، بیروت، 1379 ہجری شمسی۔
  • المغنی فی ابواب التوحید والعدل، همدانی، عبدالجبار، تحقیق الدکتور محمود محمد قاسم، دار الکتب، بیروت، 1382 ہجری۔
  • منشور جاوید، سبحانی، جعفر، انتشارات توحید، قم.
  • المیزان، طباطبایی، محمد حسین، مؤسسة الأعلمی، بیروت، 1393 ہجری۔
  • النهایة فی غریب والاثر، ابن الأثیر، مبارک بن محمد، مؤسسہ اسماعیلیان، قم، 1361 ہجری شمسی۔

بیرونی ربط

مضمون کا مأخذ: دانشنامۂ کلام اسلامی کی تلخیص۔