مہدویت

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیعہ
السعید۲.jpg
اصول دین (عقائد)
بنیادی عقائد توحید  • عدل  • نبوت  • امامت  • معاد یا قیامت
دیگر عقائد عصمت  • ولایت  • مہدویت: غیبت  • انتظار • ظہور • رجعت  • بداء  • ......
فروع دین (عملی احکام)
عبادی احکام نماز • روزہ • خمس • زکات • حج • جہاد
غیرعبادی احکام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر  • تولا  • تبرا
مآخذ اجتہاد قرآن کریم  • سنت (پیغمبر اور ائمہ کی حدیثیں)  • عقل  • اجماع
اخلاق
فضائل عفو • سخاوت • مواسات • ...
رذائل كبر  • عُجب  • غرور  • حسد  • ....
مآخذ نہج البلاغہ  • صحیفۂ سجادیہ  • .....
نمایاں عقائد
امامت  • مہدویت • رجعت • بدا • شفاعت  • توسل  • تقیہ  • عصمت  • مرجعیت، تقلید • ولایت فقیہ • متعہ  • عزاداری  • متعہ  • عدالت صحابہ
شخصیات
شیعہ ائمہ امام علیؑ  • امام حسنؑ  • امام حسینؑ  • امام سجادؑ  • امام باقرؑ  • امام صادقؑ  • امام کاظمؑ  • امام رضاؑ  • امام جوادؑ  • امام ہادیؑ  • امام عسکریؑ  • امام مہدیؑ  •
صحابہ سلمان فارسی  • مقداد بن اسود  • ابوذر غفاری  • عمار یاسر

خواتین:

خدیجہؑ • فاطمہؑ • زینبؑ • ام کلثوم بنت علی • اسماء بنت عمیس • ام ایمن  • ام سلمہ
شیعہ علما ادبا • علمائے اصول • شعرا • علمائے رجال • فقہا • فلاسفہ • مفسرین
مقامات
مسجد الحرام • مسجد النبیبقیع • مسجدالاقصی • حرم امام علیمسجد کوفہ  • حرم امام حسینؑ • حرم کاظمین • حرم عسکریینحرم امام رضاؑ
حرم حضرت زینب • حرم فاطمہ معصومہ
اسلامی عیدیں
عید فطر • عید الاضحی • عید غدیر خم • عید مبعث
شیعہ مناسبتیں
ایام فاطمیہ • محرّم ، تاسوعا، عاشورا اور اربعین
واقعات
واقعۂ مباہلہ • غدیر خم • سقیفۂ بنی ساعدہ • واقعۂ فدک • خانۂ زہرا کا واقعہ • جنگ جمل • جنگ صفین • جنگ نہروان • واقعۂ کربلا • اصحاب کساء  • افسانۂ ابن سبا
شیعہ کتب
الکافی • الاستبصار • تہذیب الاحکام • من لایحضرہ الفقیہ
شیعہ مکاتب
امامیہ • اسماعیلیہ • زیدیہ • کیسانیہ


مہدویت [المهدوية] بارہویں امام معصوم(عج) کے ظہور پر یقین و اعتقاد کا نام ہے جو پیغمبرؐ کے خاندان سے ہیں۔ نجات دہندہ کا عقیدہ ـ جو قسط و عدل کو دنیا میں ظلم و جور کی جگہ قائم کریں گے ـ مذہب شیعہ کی ضروریات میں (اور لازمی عقائد) اور تمام مسلمانوں کے اعتقادات میں سے ہے۔ شیعہ امامیہ کی تعلیمات میں مُنجی موعود (= نجات دہندہ جس کا وعدہ دیا گیا ہے) کو قائم آل محمد(عج) جیسے اسماء و القاب بھی دیئے گئے ہیں۔[1]

مآخذ حدیث کے مطابق، رسول اللہؐ نے وعدہ دیا ہے کہ ایک مرد آپؐ کے خاندان سے ظہور کرے گا جس کا نام "مہدی" ہے اور وہ زمین کو عدل و قسط سے مالامال کریں گے جس طرح کہ یہ ظلم و ستم سے مالامال ہوچکی ہوگی۔[2] اسی بنا پر مسلمان رسول اللہؐ کے وصال کے بعد ہر وقت مہدی(عج) کے ظہور کا انتظار کرتے آئے ہیں۔

تمام الہی اور غیر الہی ادیان کا عقیدہ ہے کہ آخر کار ایک مرد ظہور کرے گا جو ایک الہی رسالت (= مشن) لے کر انسان کو ظلم، گمراہیوں اور جرم و گناہ کے اندھیروں سے نجات دلائے گا اور زمین اور اہل زمین کے لئے خوشبختی اور خیر و برکت لائے گا۔

جانے پہچانے مُنجی

شیعہ مذہب میں مُنجی جانے پہچانے ہیں؛ وہ رسول اللہؐ کی نسل سے اور آپؐ کے ہم نام اور بارہویں امامؑ ہیں۔ ان کے القاب "قائم، صالح، منتظَر، صاحب الامر، صاحب الزمان، ولی عصر، امام زمانہ، اور بقیۃ اللہ" ہیں؛ اور ان کا مشہور ترین لقب مہدی ہے۔ شیعہ عقائد اور تاریخی حقائق کے مطابق حضرت مہدی علیہ السلام سنہ 255 ہجری میں پیدا ہوئے ہیں، اللہ کے اذن سے پردہ غیبت میں چلے گئے ہيں اور اس وقت زندہ اور ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔

بشری مکاتب میں منجی کا وجود

تمام آسمانی ادیان حتی کہ بشری اور انسانی مکاتب ـ منجملہ ہندو مت، بدھ مت وغیرہ میں منجی کی موجودگی کا تذکرہ صراحت یا کنایت کے ساتھ ہوا ہے۔[3]۔[4]۔[5] وجود او در معارف و تعالیم ادیان، نویدی است از اینکه سرانجام، جهان روی به خوشبختی و بهروزی و آسایش می‏نهد.

مُنجی کا تذکرہ قرآن میں

بعض قرآنی آیات دنیا کے مستقبل کے بارے میں نازل ہوئی ہیں منجملہ وہ آیات جن میں حق و حقیقت کی آخری فتح، زمین پر صالحین کی عالمی حکومت، مستضعفین کی ورثہ داری، کلمۃ اللہ کی سربلندی وغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ ان آیات میں کبھی صراحت اور کبھی کنایت کے ساتھ امام زمانہ(عج) کے ظہور اور قیام و عدل اور عالمی اسلامی اور انسانی حکومت کی تشکیل کی طرف اشارے ہوئے ہیں۔ بعض آیات کریمہ میں امام(عج) کی ولایت باطنیہ اور ولایت تکوینیہ پر تصریح ہوئی ہے:

"هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ
ترجمہ: وہ وہ ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین کے مقابلے میں غالب کرکے رہے۔[6]۔[7]

خداوند متعال اپنا نور کمال تک پہنچا کر ہی رہے گا

"يُرِيدُونَ أَن يُطْفِؤُواْ نُورَ اللّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللّهُ إِلاَّ أَن يُتِمَّ نُورَهُ
ترجمہ: وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ انکاری ہے کسی بات سے سوا اس کے کہ وہ اپنے نور کو کمال تک پہنچائے۔[8]۔[9]

باطل مٹ کر رہے گا

"إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقاً
ترجمہ: یقیناً باطل تو مٹنے والا ہی ہے۔[10]

اللہ کے صالح بندے زمین کے ورثہ دار ہونگے

"وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ
ترجمہ: اور بے شک ہم نے توریت کے بعد زبور میں بھی یہ لکھ دیا ہے کہ زمین کے ورثہ دار میرے نیک بندے ہوں گے۔[11]

امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ یہ صالح اور لائق بندے آخر الزمان میں امام مہدی علیہ السلام کے اصحاب ہیں۔[12]

مستضعفین امام اور مستضعفین وارث زمین ہونگے

"وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ
ترجمہ: اور ہمارا مقصود یہ ہے کہ احسان کریں ان پر جنہیں دنیا میں دبایا یا پیسا (= مستضعف بنایا) گیا تھا اور ان ہی کو پیشوا قرار دیں، ان ہی کو آخر میں قابض و متصرف بنائیں۔[13]

ائمۂ معصومین علیہم السلام نے امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کے قیام کو اس آیت کا مقصود قرار دیا ہے۔[14]

مؤمنین جانشین ہونگے

"وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئاً وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
ترجمہ: اللہ کا وعدہ ہے تم میں ان افراد سے جو باایمان ہیں اور نیک اعمال کرتے رہے ہیں کہ وہ انہیں روئے زمین پر خلیفہ قرار دے گا جس طرح انہیں خلیفہ بنایا تھا جو ان کے پہلے تھے اور ضرور اقتدار عطا کرے گا ان کے اس دین کو جو اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ضرور بدل دے گا انہیں ان کے ہر خوف کو امن و اطمینان میں؛ وہ میری عبادت کریں گے اس طرح کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے اور جو اس کے بعد کفر اختیار کرے تو یہی فاسق لوگ ہوں گے۔[15]

ائمۂ معصومین علیہم السلام نے فرمایا ہے کہ یہ آیت کریمہ بھی امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

مروی ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: "خدا کی قسم یہ ہمارے شیعہ ہیں۔ خداوند متعال انہیں دیئے ہوئے وعدے کو ہمارے ایک مرد کے ہاتھوں عملی جامہ پہنائے گا، وہ مرد اس امت کے مہدی ہیں"۔ یہی مضمون امام باقر اور امام صادق علیہما السلام سے بھی نقل ہوا ہے۔[16]

عنقریب اللہ کے دوستوں کی حکمرانی ہوگی

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَخَافُونَ لَوْمَةَ لآئِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاء وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
ترجمہ: اے ایمان لانے والو ! جو تم میں سے ان اپنے دین سے پلٹ جائے تو کوئی بات نہیں بہت جلد اللہ ایک جماعت کو لائے گا جنہیں وہ دوست رکھتا ہو گا اور وہ اسے دوست رکھتے ہوں گے، وہ ایمان والوں کے سامنے نرم ہوں گے اور کافروں کے مقابلہ میں سخت ، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہ کریں گے یہ اللہ کا فضل و کرم ہے جسے چاہتا ہے، وہ عطا کرتا ہے اور اللہ بڑی سمائی والا ہے، بڑا جاننے والا۔۔[17]

مروی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اس آیت کریمہ سے مراد امام مہدی علیہ السلام کے اصحاب ہیں۔[18] بعض دیگر روایات میں منقول ہے کہ یہ آیت حضرت قائم(عج) اور آپ(عج) کے اصحاب کی شان میں نازل ہوئی جو اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور کسی چیز سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔[19]

بقیۃ اللہ تمہارے لئے بہتر ہے

"بَقِيَّةُ اللّهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
ترجمہ: جو کچھ ذخیرہ خدا کی طرف کا باقی ہے وہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔[20]

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بَقِيَّةُ اللّهِ سے مراد حضرت مہدی علیہ السلام ہیں۔ مروی ہے کہ کسی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا: "جب ہم حضرت قائم(عج) کو سلام دینا چاہیں تو کیا آپ(عج) کو امیرالمؤمنین کہہ کر پکار سکتے ہیں؟ امامؑ نے فرمایا: نہیں! امیر المؤمنین کا لقب خداوند متعال نے صرف علی بن ابی طالب علیہ السلام کو عطا کیا ہے؛ پوچھا تو پھر آپ(عج) کو کس عنوان سے سلام کریں؟ فرمایا کہہ دو:السَّلامُ عَلَیکَ یَا بَقیَّۃَ اللہِ! اور پھر اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: بقیّة اللهِ خَیرٌ لکم...۔[21]

[ان ساری آیات کریمہ کے پیش نظر] شیعیان اہل بیت کا مستقبل کے سلسلے حُسنِ ظنّ ظہور مہدی(عج) کے عقیدے پر استواری اور ایمان کا نتیجہ ہے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: حتی اگر زمین کی عمر میں صرف ایک ہی دن بھی باقی ہو خداوند متعال اس کو اس قدر طویل کرے گا کہ مہدی(عج) ظہور کریں اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں جس طرح کہ یہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔[22]

امام مہدی اور شب قدر

قرآن کریم نے دو بار "شب قدر" کا تذکرہ کیا ہے: 1) سورہ قدر میں 29) سورہ دخان میں۔ سورہ قدر کی آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر سال کی ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات کو فرشتے اپنے سربراہ "روح" کے ہمراہ زمین پر اتر آتے ہیں اور اگلے سال کے لئے اللہ کا فرمان اور اس کی تقدیر لے کر آتے ہیں۔

سورہ قدر اور سورہ دخان کی تفسیر میں واردہ روایات و احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے شب قدر ایک سال کی تقدیر کو زمانے کے ولی مطلق کے پاس لے کر آتے ہیں اور ان کو پیش کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ ہمیشہ سے جاری تھا اور ہمیشہ کے لئے جاری رہے گا۔

رسول اللہؐ کے دور میں فرشتے آپؐ پر نازل ہوتے تھے اور آنحضور کے بعد ہر زمانے میں موجود اللہ کی حجت اور ولی مطلق کے پاس حاضر ہوتے ہیں۔ وہ شب قدر کے مالک ہیں۔ شب قدر اور فرشتوں کا نزول تمام مسلمانوں کے ہاں امر مسلّم ہے؛ اسی بنا پر ائمۂ معصومین علیہم السلام نے شیعیان آل رسول کو ہدایت فرمائی ہے کہ ائمہ کی امامت کے اثبات کے لئے ان آیات سے استناد کریں۔ کیونکہ ہر سال شب قدر کے نام سے ایک رات ہوتی ہے چنانچہ ہمیشہ کے لئے روئے زمین پر ایک ولی اور حجت کی موجودگی ضروری ہے۔[23] یہ آیات کریمہ امام زمانہ(عج) کے وجود اور آپ(عج) کی ولایت باطنیہ کا اثبات کرتی ہیں۔

آیات مہدویت شیعہ تفسیری منابع میں

کہا جاسکتا ہے کہ تمام شیعہ تفسیری منابع میں آیات کریمہ کے ذیل میں حضرت مہدی(عج) کا تذکرہ ہوا ہے۔

آیات مہدویت پر مشتمل کتاب کا تعارف

حضرت مہدی(عج) کے بارے میں متعدد کتب تالیف ہوئی ہیں جو آپ(عج) کی شان میں نازلہ آیات کریمہ پر مشتمل ہیں۔ جیسے: المحجّة فیما نزل فی القائم الحجّة تالیف سید ہاشم بحرانی۔

اس کتاب کا فارسی ترجمہ سیمای حضرت مہدی در قرآن کے عنوان سے شائع ہوا ہے اور مترجم "مہدی حائری قزوینی" ہیں۔ المہدی فی القرآن بھی سید صادق شیرازی کی کاوش ہے۔


اہل سنت کی معتبر تفاسیر نے بھی لکھا ہے کہ قرآن کی بعض آیات کریمہ حضرت مہدی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہیں جیسے: "نظام نیشابوری" کی کتاب غرائب القرآن، "جار اللہ زمخشری" کی کتاب الکشاف، "شہاب الدین آلوسی بغدادی" کی کتاب روح المعانی، "شیخ محمد عبدہ مصری" کی کتاب المنار وغیرہ۔[24]

حضرت مہدی(عج) روایات و احادیث میں

حضرت مہدی(عج) کی شان میں وارد ہونے والی احادیث اس قدر واضح اور فراواں ہیں کہ مسلمانوں کے لئے اس حقیقت میں شک و شبہے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔[25]

وہ غیبت میں بھی امام ہیں

شیعہ عقائد کے مطابق حضرت مہدی(عج) غیبت کے زمانے میں منصب امامت کے حامل ہیں اور بادلوں کے پردے میں نہاں سورج کی مانند اس عالم کو اپنی روشنی اور حرارت سے بہرہ ور کرتے ہیں اور ہدایت باطنیہ کے ذریعے کائنات کی ہدایت و راہنمائی کررہے ہیں۔[26]

مسلمانوں کا اختلاف

مسلمانان عالم حضرت مہدی(عج) کے اور آسمانی مُنجی کے وجود کے سلسلے میں کوئی اخلاف نہیں رکھتے اور ان کا اختلاف اس بات پر ہے کہ مہدی موعود علیہ السلام ہیں کون؟ اہل سنت کا خیال ہے کہ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کی نسل ہیں لیکن ابھی تک ان کی ولادت نہیں ہوئی ہے۔[27]

مہدویت کے دعویدار

اس دوران بعض لوگوں نے مہدویت کا دعوی کیا ہے؛ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ یا دیگر اسباب و موجبات کی بنا پر، ان کے دعؤوں کا کھوکھلا پن ظاہر ہوا ہے۔ مہدویت کی دعویداری کا آغاز محمد بن حنفیہ کی وفات سے ہوا جب ان کے بعض پیروکاروں نے گمان کیا کہ گویا وہ رسول اللہؐ کے موعود مہدی ہیں۔ بعض دوسروں نے گمان کیا کہ مختار بن ابی عبیدہ ثقفی مہدی ہیں کیونکہ وہ "یا لثارات الحسین" کے نعرے کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کے خلاف میدان جنگ میں اترے اور ان سے انتقام لیا۔ روایات میں منقول ہے کہ یہ نعرہ حضرت مہدی(عج) کا نعرہ ہے۔ زید بن علی بن الحسین کے پیروکاروں نے بھی انہیں مہدی سمجھا۔

[مہدویت کے دعوے مختلف ممالک کے بعض باشندوں نے کئے جن میں مہدی سوڈانی وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔] ایران میں علی محمد باب شیرازی نے مہدویت کا جھوٹا دعوی کیا اور ایک جماعت کو گمراہ کیا اور بہائی فرقے کی بنیاد رکھی۔[28]

متعلقہ مآخذ

حوالہ جات

  1. صدر، سيد محمد، تاریخ الغیبة، ج3، ص135۔
  2. الصدوق، كمال الدين و تمام النعمة ،ج‏1، ص287۔
  3. نصر، معارف اسلامی در جهان معاصر، ص245۔
  4. مصلح جهانی، ص53۔
  5. امامت و مهدویّت، ج2، ص129۔
  6. سوره توبه آیه33۔
  7. سوره فتح، آیه28۔
  8. سوره توبه، آیه32۔
  9. سوره صف، آیه8۔
  10. سوره اسراء، آیه81۔
  11. /سوره انبیاء، آیه105۔
  12. طبرسی، مجمع البیان، ج7، ص120۔
  13. سوره قصص، آیه5۔
  14. العروسى الحويزى، نور الثّقلین، ج4، ص110۔
  15. سوره نور، آیه55۔
  16. طبرسی، مجمع البیان، ج7، ص262۔
  17. سوره مائدہ، آیه54۔
  18. بحرانی، سیمای حضرت مهدی در قرآن،، سیمای حضرت مهدی در قرآن،(عربی میں: المحجّة فیما نزل فی القائم الحجّة) مترجم: حائری قزوینی، ص118۔
  19. القمی، تفسیر القمی، ج1، ص170۔
  20. سوره هود، آیه86۔
  21. [ http://lib.eshia.ir/12024/2/390/190 نور الثّقلین، ج2، ص390]۔
  22. صافی گلپایگانی، امامت و مهدویّت، ج2، ص129۔
  23. [ http://lib.eshia.ir/11005/1/251/8 کلینی، اصول کافی ج1، ص251]۔
  24. حکیمی، خورشید مغرب، ص122-123۔
  25. حکیمی، خورشید مغرب، ص59۔
  26. صافی گلپایگانی، منتخب الاثر، ص271-272۔
  27. تیجانی سماوی، همراه با راستگویان، ص414۔
  28. شهید مطهّری، مجموعه آثار، ج18، ص171۔

مآخذ

  • قرآن کریم ۔ ترجمہ اردو سید علی نقی لکھنوی (نقن)۔
  • بحرانی، ہاشم بن سلیمان، سیمای حضرت مہدی در قرآن،(عربی میں: المحجّة فیما نزل فی القائم الحجّة) مترجم (فارسی): حائری قزوینی، مہدی ۔ نشر آفاق ۔ تہران ۔ 1384ہجری۔
  • جبارى‏، محمدرضا سازمان وکالت و نقش آن در عصر ائمة علیہم السلام‏، قم، مؤسسہ آموزش پژوہشى امام خمینى، ‏ 1382 ش‏
  • حکیمی، محمد رضا، خورشید مغرب (غیبت، انتظار، تکلیف)، ناشر: دلیل ما ۔ قم ۔ 1388ہجری شمسی۔
  • خاکپور، ابراہیم و صالحی، سید محمد، مصلح جہانی از نظر تا تحقق، (الحسنی، سید نذیر یحیی، المصلح العالمی، من النظریة الی التطبیق 2004عیسوی = 1382ہجری شمسی) تہران، شرکت انتشارات علمی و فرہنگی، 1389ہجری شمسی۔
  • سماوی، محمد تیجانی، ہمراہ با راستگویان، (لِاَکُونَ مَعَ الصّادِقِین) مترجم: مہری، محمد جواد۔ ناشر: بنیاد معارف اسلامی ۔ قم ۔ 1375ہجری شمسی۔
  • صدوق؛ کمال الدین وتمام النعمہ، ترجمہ‏ منصور پہلوان‏، قم‏، دار الحدیث‏، 1380 ش.
  • الصدوق، أبى جعفر محمد بن على بن الحسين بن بابويہ القمى، كمال الدين وتمام النعمة۔ تصحیح: عليہ على اكبر الغفاري ۔ مؤسسة النشر الاسلامي (التابعة) لجامعة المدرسين بقم المشرفة (ايران) ۔ 1405 / 1363.
  • صافی گلپایگانی، آیت اللہ شیخ لطف اللّہ، منتخب الاثر فی الامام الثانی عشر علیہ السلام، مؤسسة الوفاء ۔ بیروت ۔ لبنان ۔ الطبعة الثانیة ۔ 1403ہجری قمری / 1983‏عیسوی۔
  • صافی گلپایگانی، آیت اللہ شیخ لطف اللّہ، سلسلہ مباحث امامت و مہدویت، دفتر آیت اللہ لطف اللہ صافی گلپایگانی، قم ۔ طبع پنجم۔ 1391ہجری شمسی۔
  • صدر، سید محمد؛ تاریخ الغیبہ، بیروت، دار التعارف، 1412ق
  • الطبرسي، الفضل بن الحسن، مجمع البيان في تفسير القران، تحقیق: لجنة من العلماء... مقدمہ: السيد محسن الامين العاملي، مؤسسة الاعلمي للمطبوعات بيروت - لبنان 1415ہجری قمری / 1995عیسوی۔
  • العروسى الحويزى، الشيخ عبد على بن جمعہ، تفسير نور الثقلين، مؤسسہ اسماعيليان ۔ قم ۔ الطبعة الرابعة ۔ 1412ہجري قمرى / 1370 ہجري شمسي۔
  • القمي، علي بن ابراہيم، تفسير القمي، تصحیح: السيد طيب الموسوي الجزائري ۔ مؤسسة دار الكتاب للطباعة والنشر قم - 1404ہجری قمری۔
  • الكليني الرازي، محمد بن يعقوب بن اسحاق القمي، الاصول من الكافي ۔ تصحيح: على اكبر الغفاري ۔ دار الكتب الاسلامية ۔ تہران ۔ الطبعة الثالثة 1388ہجری قمری۔
  • مطہری، مرتضی، مجموعہ آثار، ج 18، (كتاب سیری در سیرہ ائمہ اطہار علیہم السلام ، بحث عدل كلّی)۔
  • نصر، سید حسین، معارف اسلامی در جہان معاصر، نشر: علمی و فرہنگی۔ 1388ہجری شمسی۔