آیت نماز جمعہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آیت نماز جمعہ
آیت کی خصوصیات
آیت کا نام: آیت نماز جمعہ
سورہ: جمعہ
آیت نمبر: 9
پارہ: 28
صفحہ نمبر: 554
شان نزول: اسعد بن زرار کی امامت میں مسلمانی کی سب سے پہلی نماز جمعہ کا انعقاد
محل نزول: مدینہ
موضوع: فقہ
مضمون: نماز جمعہ
مربوط آیات: جمعہامام جمعہ • سورہ جمعہ


آیت نماز جمعہسورہ جمعہ کی 9ویں آیت ہے جس میں مسلمانوں کو نماز جمعہ میں شریک ہونے اور خرید و فروخت چھوڑنے کا حکم بیان ہوا ہے۔ فقہا کا نماز جمعہ میں مسلمانوں کی شرکت کے واجب اور خرید و فروخت کے حرام ہونے کا فتوا اسی آیت کی بنیاد ہر ہے۔ علامہ طباطبایی کے مطابق آیت کے سیاق سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز جمعہ میں رکاوٹ بننے والا ہر کام حرام ہے۔ نماز جمعہ میں شرکت کا وجوب اور نماز جمعہ کے موقع پر خرید و فروخت کی حرمت کا حکم معصوم کی موجودگی کے ساتھ مخصوص ہے۔اس آیت کا شان نزول مسلمانوں کی وہ پہلی نماز جمعہ قرار دیا جاتا ہے جو اسعد بن زُرارہ کی امامت میں برقرار ہویی۔ اور کہا جاتا ہے کہ تھوڑی تعداد میں مسلمانوں کے نماز جمعہ میں شرکت کرنے کی وجہ سے یہ آیت نازل ہوئی ۔

آیت اور ترجمہ

يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ‌ اللَّـہِ وَذَرُ‌وا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ‌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ(ترجمہ: اے ایمان والو! جب تمہیں جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لئے پکارا جائے (اس کی اذان دی جائے) تو اللہ کے ذکر (نمازِ جمعہ) کی طرف تیز چل کر جاؤ اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔)

شأن نزول

طبرسی مجمع البیان میں نماز جمعہ کی آیت کے نزول کو ہجرت سے پہلے مدینہ میں برپا ہونے والی مسلمانوں کی پہلی نماز جمعہ کو سمجھتے ہیں۔[1] طبرسی کے بیان کے مطابق مسلمانوں نے یہودیوں اور مسیحیوں ہفتے میں ایک دن اکٹھے ہو کر عبادت کرتے ہوئے دیکھنے کی بنا پر ارادہ کیا کہ وہ بھی اسی طرح ایک دن کو عبادت کیلئے مخصوص کریں۔ لہذا وہ جمعہ کے دن اسعد بن زُرارہ کے پاس اکٹھے ہوئے اور انہوں نے اس کی امامت میں نماز پڑھی اور اس دن کا نام جمعہ رکھا۔ تھوڑے لوگوں کے نماز می شرکت کرنے کی بدولت آیت نماز جمعہ نازل ہوئی اور اس میں انہیں اس نماز حاضر ہونے کا حکم دیا۔[2]

تفسیر

تفسیر نمونہ کے مطابق آیت میں نماز کیلئے ندا دینے سے مراد اذان ہے؛ کیونکہ اسلام میں نماز کیلئے اذان کے علاوہ کوئی اور ندا موجود نہیں ہے اور اسی وجہ سے دوسری جگہ قرآن میں آیا ہے:وَ إِذا نادَیتُمْ إِلَی الصَّلاة (اور جب تم (اذان دے کر لوگوں کو) نماز کی طرف بلاتے ہو). پس اس بنا پر آیت کا یہ معنا ہو گا: جب جمعہ کے دن اذان ظہر کی آواز سنیں تو مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ کاروبار چھوڑ دیں اور نماز جمعہ پڑھنے کیلئے جلد حاضر ہوں۔[3] تفسیر المیزان کے مطابق آیت نماز جمعہ کے وجوب اور اس وقت خرید و فروخت سے رکنے کی تاکید کرتی ہے۔[4] محمد حسین طباطبائی کے مطابق وَ ذَرُوا البَیع (اورخرید و فروخت چھوڑ دو۔)، صرف تجارت سے نہی نہیں کرتی بلکہ ہر اس کام سے منع کرتی ہے جو نماز جمعہ میں رکاوٹ بنے۔ آیت کا سیاق اس بات پر دلالت کرتا ہے نماز جمعہ کے موقع پر اس نماز کے علاوہ ہر طرح کی مصروفیت جائز نہیں ہے۔[5] البتہ یہ حکم معصوم کے حضور کے ساتھ مخصوص ہے کہ ان کی موجودگی میں نماز جمعہ میں حاضر ہونا واجب عینی ہے۔[6]

نماز جمعہ

تفصیلی مضمون: نماز جمعہ

نماز جمعہ دو رکعتی نماز ہے کہ جسے جمعہ کے دن نماز ظہر کے بدلے میں جماعت کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔[7] نماز جمعہ میں دو خطبے ہیں جنہیں امام جمعہ نماز سے پہلے بیان کرتا ہے۔[8] نیز اس نماز میں دو قنوت ہیں جن میں سے پہلا قنوت رکعت اول کے رکوع میں جانے سے پہلے اور دوسرا قنوت دوسری رکعت کے رکوع کے بعد پڑھا جاتا ہے۔[9] شیعہ فقہا کی معصوم کی موجودگی کے زمانے میں نماز جمعہ میں حاضر ہونے کو واجب عینی سمجھتے ہیں[10] جبکہ غیبت کے زمانے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔[11]

امام خمینی، آیت‌ اللہ خوئی، آیت‌ اللہ اراکی، آیت‌ اللہ تبریزی، آیت‌ اللہ سیستانی اور آیت‌ اللہ مکارم شیرازی، سمیت اکثر مراجع تقلید کے نزدیک امام زمانہ کے غیبت کے دور میں نماز جمعہ واجب تخییری ہے؛ یعنی انسان جمعہ کے دن نماز ظہر یا نماز جمعہ ادا کرے۔[12]

فقہی کتب میں آیت سے استناد

فقہی کتب میں وجوب نماز جمعہ، اذان کے بعد خطبے پڑھنے اور نماز کے موقع پر خرید و فروخت کی حرمت کیلئے اس آیت سے استناد کیا جاتا ہے۔[13] نیز علامہ حلی نے لکھا:

«نُودِی لِلصَّلاۃ» کہ جو اذان پر دلالت کرتا ہے، کے بعد (فَاسْعَوْا) کا آنا ظاہر کرتا ہے کہ نماز کے خطبے اذان کے بعد کہے جائیں۔[14]

روز جمعہ اور تلاوت آیت

من لایحضرہ الفقیہ کی ایک روایت کے مطابق مدینہ میں مرسوم تھا کہ جب نماز جمعہ کیلئے اذان دی جاتی تو منادی ندا دیتا تھا کہ اب خرید و فروخت حرام ہوگئی اور اس کے بعد آیت جمعہ کی تلاوت کرتا تھا۔[15]

معتلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲، ج۱۰، ص۴۳۱، ۴۳۲.
  2. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲، ج۱۰، ص۴۳۱، ۴۳۲.
  3. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۴، ص۲۶.
  4. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۹، ص۲۷۳.
  5. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۹، ص۲۷۳.
  6. سروش، «اقامہ جمعہ در دولت اسلامی»، ص۱۰۱.
  7. توضیح المسائل مراجع، ۱۳۹۲ش، ج۱، ص۱۰۶۲، ۱۰۶۳، ۱۰۶۸.
  8. توضیح المسائل مراجع، ۱۳۹۲ش، ج۱، ص۱۰۶۸.
  9. توضیح المسائل مراجع، ۱۳۹۲ش، ج۱، ص۱۰۶۸.
  10. سروش، «اقامہ جمعہ در دولت اسلامی»، ص۱۰۱.
  11. سروش، «اقامہ جمعہ در دولت اسلامی»، ص۱۰۱.
  12. مراجعہ کریں: توضیح المسائل مراجع، ۱۳۹۲ش، ج۱، ص۱۰۶۲، ۱۰۶۴، ۱۰۷۹، ۱۰۸۳.
  13. دیکھیں: محقق حلی، المعتبر، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۲۷۴؛ بحرانی، الحدائق الناظرہ، ۱۴۰۵ق، ج۱۰، ص۱۷۲؛ شیخ طوسی، الخلاف، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۵۹۸.
  14. علامہ حلی، مختلف الشیعہ، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۱۳.
  15. شیخ صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۲۹۹.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی .
  • بحرانی، یوسف بن احمد، الحدائق الناضرہ فی احکام العترۃ الطاہرہ، تحقیق محمدتقی ایروانی و سیدعبدالرزاق مقرم، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ اول، ۱۴۰۵ق.
  • توضیح المسائل مراجع، تحقیق سیدمحمدحسین بنی‌ہاشمی خمینی‌، قم، ‌چاپ ہشتم، ۱۳۹۲ق.‌
  • سروش، محمد، «اقامہ جمعہ در دولت اسلامی»، حکومت اسلامی، ش۳۲، ۱۳۸۳ش.
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، تحقیق علی‌اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ دوم، ۱۴۱۳ق.
  • شیخ طوسی، ابوجعفر محمد بن حسن، الخلاف، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ اول، ۱۴۰۷ق.
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیرالقرآن، قم، انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، انتشارات ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ش.
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، مختلف الشیعہ فی احکام الشریعہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ دوم، ۱۴۱۳ق.
  • محقق حلی، نجم الدین محمد بن حسن، المعتبر فی شرح المختصر، قم، مؤسسہ سید الشہداء، چاپ اول، ۱۴۰۷ق.
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران،‌ دار الکتب الإسلامیۃ، چاپ اول، ۱۳۷۴ش.