آیت فطرت

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

آیت فطرت سورہ روم کی آیت نمبر 30 کو کہا جاتا ہے جس میں دین کی طرف انسان کی رغبت کو ایک فطری امر قرار دیا گیا ہے۔ اس آیت میں دین کی طرف پوری توجہ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ مفسرین کے مطابق اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کے قوانین کو خدا نے فطرت کے عین مطابق تشریع کی ہیں۔ مجمع البیان میں لفظ "حَنیفاً" سے دین میں ثابت قدم رہنے کا معنی لیا گیا ہے جبکہ تفسیر المیزان میں اس سے دین میں اعتدال کا معنی لیا گیا ہے۔

بہت ساری احادیث میں توحید کو فطرت کے مصادیق میں سے قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح بعض احادیث میں خدا کی شناخت، اسلام اور ولایت کو فطرت کے مصادیق میں سے قرار دیا گیا ہے۔ علامہ طباطبایی اور آیت اللہ جوادی آملی مذکورہ آیت سے استناد کرتے ہوئے تمام انسانوں کی ہدایت کے راستے کو ایک ہی راستہ قرار دیتے ہیں۔

متن اور ترجمہ

آیت فطرت سورہ روم کی آیت نمبر 30 ہے جس میں آیا ہے:

فَأَقِمْ وَجْهَک لِلدِّینِ حَنِیفًا ۚ فِطْرَ‌تَ اللَّهِ الَّتِی فَطَرَ‌ النَّاسَ عَلَیهَا ۚ لَا تَبْدِیلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِک الدِّینُ الْقَیمُ وَلَٰکنَّ أَکثَرَ‌ النَّاسِ لَا یعْلَمُونَ ﴿۳۰﴾
آپ اپنے رخ کو دین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارہ کش رہیں کہ یہ دین وہ فطرت الہیۤ ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور خلقت الہٰی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے یقینا یہی سیدھا اور مستحکم دین ہے مگر لوگوں کی اکثریت اس بات سے بالکل بے خبر ہے۔ (۳۰)


پوری توجہ دین خدا کی طرف

علامہ طباطبائی کے مطابق آیہ فطرت میں خداوند متعال حقیقت میں اس سے پچھلی آیتوں کا نتیجہ بیان فرماتا ہے۔ آپ لکھتے ہیں: چونکہ پچھلی آیتوں میں خدا نے معاد، انسانوں کے زندہ کئے جانے اور آخرت میں ان سے حساب کتاب لئے جانے کو ثابت کیا ہے، اس آیت میں فرماتے ہیں کہ جب یہ ساری باتیں صحیح اور ثابت ہیں تو نتیجہ یہ نکتا ہے کہ خدا سے منہ نہیں پھیرنا چاہئے اور صرف ایک ایسے دین کی پیروی کرنی چاہئے جسے خدا نے بھیجا ہے کیونکہ تمام ادیان میں صرف وہی دین انسان کی خلقت اور اس کے فلسفے سے مطابقت رکھتا ہے۔[1]

لفظ "حنیفاً" کے معنی

مجمع البیان میں "حَنیفاً" سے ثابت اور پایدار مراد لیتے ہوئے دین میں ثابت قدم رہنے کا معنا کرتے ہیں، یعنی اس دین سے منہ پھیر کر کسی اور دین کی پیروی نہ کریں۔[2] لیکن علامہ طباطبائی کے مطابق یہ لفظ دین داری کی کیفیت بیان کرتا ہے اس بنا پر اس لفظ کے لغوی معنی کو مد نظر رکھتے ہوئے یہاں پر اس کا معنا دین میں اعتدال برقرار رکھنا ہے۔[3]

لفظ "فطرت" کے معنی

مجمع البیان میں فطرت سے مراد توحید اور دین اسلام لیتے ہیں جس پر انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلامؐ کی ایک حدیث سے استناد کرتے ہوئے ... کہتے ہیں: ہر انسان کی خلقت فطرت کے عین مطابق ہوتی ہے یہاں تک کہ اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی یا زرتشتی بنا دیتا ہے۔[4]

اکثر شیعہ احادیث میں فطرت سے مراد توحید لی گئی ہے؛[5] لیکن بعض احادیث میں خدا کی شناخت، اسلام اور ولایت کو بھی فطرت کے مصادیق میں شمار کیا گیا ہے۔[6]

زُرارہ امام باقرؑ سے نقل کرتے ہیں کہ "فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْها" سے مراد یہ ہے کہ خدا نے انسانوں کو اپنی شناخت دے کر پیدا کیا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان کو اپنے خالق اور رازق سے آشنا نہیں ہو سکتے تھے۔[7] کتاب مناقب میں ابن شہرآشوب امام رضاؑ سے بھی ایک حدیث نقل کرتے ہیں جس میں امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ مذکورہ عبارت سے مراد توحید، حضرت محمدؐ کی رسالت اور امام علیؑ کی ولایت ہے.[8]

ہدایت کا واحد راستہ

علامہ طباطبایی اور آیت اللہ جوادی آملی "فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْها" سے یہ نتیجہ لیتے ہیں کہ انسان کی ہدایت اور نجات کا راستہ صرف ایک ہی ہے۔[9] ان کے مطابق مذکورہ عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ایک خاص فطرت یعنی وجود کے ایک ایسے گوہر سے خلق ہوا ہے جو اسے ایک معین راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے تاکہ اسے جس مقصد کیلئے خلق کیا گیا ہے اس تک پہنچ سکے؛[10] اسی طرح قرن کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے علاوہ دوسرے موجودات بھی خاص اہداف کیلئے خلق کی گئی ہیں جن کی طرف ان کی ہدایت کی جاتی ہے: "رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى‏ كُلَّ شَيْ‏ءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى‏"[11] ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی مناسب خلقت عطا کی ہے اور پھر ہدایت بھی دی ہے۔[12]

دوسری طرف سے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمام انسان ایک ہی صنف سے تعلق رکھتے ہیں اور سب انسان ایک جیسے خصوصیات کے حامل ہیں، جس کا لازمہ یہ ہے کہ ان کی ہدایت کا راستہ بھی ایک ہی ہو۔[13]

حوالہ جات

  1. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۶، ص۱۷۷.
  2. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۴۷۴.
  3. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۶، ص۱۷۸.
  4. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۴۷۴.
  5. بحرانی، البرہان فی تفسیر القرآن، ۱۴۱۶ق، ج۴، ص۳۴۱تا۳۴۵.
  6. بحرانی، البرہان فی تفسیر القرآن، ۱۴۱۶ق، ج۴، ص۳۴۱تا۳۴۶.
  7. صدوق، توحید، ۱۳۹۸ق، ص۳۳۰.
  8. ابن شہرآشوب، مناقب، ۱۳۷۹ق، ج۳، ص۱۰۱.
  9. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۶، ص۱۷۹؛ جوادی آملی، فطرت، ۱۳۹۲ش، ص۱۵۱.
  10. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۶، ص۱۷۸؛ جوادی آملی، فطرت، ۱۳۹۲ش، ص۱۵۱.
  11. سوره طہ، آیہ ۵۰.
  12. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۶، ص۱۷۸.
  13. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۶، ص۱۷۹؛ جوادی آملی، فطرت، ۱۳۹۲ش، ص۱۵۲.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمدمہدی فولادوند۔
  • ابن شہرآشوب مازندرانی، محمد بن علی، مناقب آل ابی‌طالب، قم، علامہ، چاپ اول، ۱۳۷۹ق
  • بحرانی، سیدہاشم، البرہان فی تفسیر القرآن،تہران بنیاد بعثت، چاپ اول، ۱۴۱۶ق،
  • جوادی آملی، عبداللہ، تفسیر موضوعی قرآن کریم: فطرت در قرآن، قم، اسراء، چاپ ہفتم، ۱۳۹۲ش۔
  • صدوق، محمد بن علی، توحید، قم، تحقیق ہاشم حسینی، جامعہ مدرسین، چاپ اول، ۱۳۹۸ق
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ق۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ش۔