نماز تراویح

ویکی شیعہ سے

نماز تَراویح ماہ رمضان کی راتوں میں پڑھی جانے والی مستحب نمازوں میں سے ایک ہے جسے اہل‌ سنت حضرت عمر کے حکم سے جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں، لیکن شیعہ ان نمازوں کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کو بدعت سمجھتے ہیں۔ شیعہ اور اہل سنت منابع کے مطابق پیغمبر اکرمؐ اور حضرت ابوبکر کے دور میں ماہ رمضان کی مستحب نمازیں فُرادا(بغیر جماعت کے انفرادی طور پر) پڑھی جاتی تھیں؛ لیکن حضرت عمر کے دور خلافت میں انہوں نے ان نمازوں کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا۔ اہل‌ بیتؑ ماہ رمضان کی مستحب نمازوں کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کو بدعت سمجھتے هیں۔ بعض اہل سنت فقہا اور علماء بھی ان نمازوں کو فرادا پڑھتے تھے۔

اہل‌ سنت ہر سال ماہ رمضان کی راتوں میں مختلف مساجد خاص کر مسجد الحرام اور مسجد النبی میں نماز تراویح جماعت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ ان نمازوں کی تفصیلات اور احکام کے بارے میں اہل‌ سنت فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

وجہ تسمیہ

نماز تراویح ماہ مبارک رمضان کی راتوں میں پڑھی جانے والی مستحب نمازوں میں سے ہے جسے اہل سنت جماعت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔[1] تراویح کے معنی ماہ رمضان کی دو[2] یا چار رکعت نماز کے درمیان بیٹھنے اور آرام کرنے کے ہیں۔[3] یوں بطور کنایہ ماہ رمضان کی دو یا چار رکعت مستحب نمازوں کو بھی ترویحہ کہا جاتا ہے؛ کیونکہ نمازی ان نمازوں کے قیام کو طول دیتے ہیں اور نماز ختم ہونے کے بعد آرام کرنے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں۔[4]

اہمیت

ماه رمضان کے نوافل کو جماعت کے ساتھ پڑھنے اور نہ پڑھنے میں شیعہ اور اہل سنت کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔[5] اہل‌ سنت اس نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کو مشروع جانتے ہوئے ہر سال ماہ رمضان کی راتوں کو مساجد میں ان نمازوں کو جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں،[6] لیکن شیعہ اور اہل سنت کے بعض علماء انہیں جماعت کے ساتھ پڑھنے کو بدعت سمجھتے ہیں۔[7]

بدعت یا سنت؟

مآخذ کے مطابق حضرت عمر نے سنہ 14 ہجری کو نماز تراویح کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا۔[8]بخاری عبدالرحمن بن عبدالقاری سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رات کو حضرت عمر مسجد پہنچے تو دیکھا کہ لوگ فرادا نمازیں پڑھ رہے تھے، اس وقت انہوں نے ابی بن کعب کی اقتدا کرتے ہوئے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم دیا، جب اگلے دن مسجد گئے تو دیکھا کہ لوگ کسی قاری کی اقتداء میں نماز جماعت پڑٍھ رہے ہیں اس موقع پر انہوں نے کہا: «نِعمَ البِدعَۃً ہذِہِ: یہ ایک اچھی بدعت ہے»۔[9]

حضرت عمر نے معاذ بن حارث،[10] ابوبکر بن مجاہد[11] اور سلیمان بن ابی‌ حثمہ عدوی کو نماز تراویح پڑھانے کے لئے امام جماعت مقرر کیا۔[12]

اہل‌ سنت فقہاء کے مطابق نماز تراویح مستحب بدعت اور سنت ہے۔[13] ابوحامد غزالی بدعت کو پسندیده اور غیر پسندیدہ بدعت میں تقسیم کرتے ہوئے نماز تراویح کو پسندیدہ بدعت قرار دیتے ہیں۔[14] جنبلی مذہب کے عالم دین ابن‌ابی‌ یعلی کے مطابق اس سنت کو حضرت عمر نے قائم نہیں کیا بلکہ خود پیغمبر اکرمؐ نے اسے سنت اور مستحب قرار دیا ہے، جہاں آپ نے فرمایا: خدا نے ماہ رمضان کے روزوں کو واجب قرار دیا ہے اور میں نے اس کی راتوں کو قیام(نماز) کی حالت میں گزارنے کو سنت قرار دی ہے۔[15]

شیعہ فقہاء کے مطابق ماہ رمضان کی نفل نمازیں فرادا پڑھی جاتی ہیں[16] اور ان نمازوں کو جماعت کے ساتھ پڑھنا بدعت ہے[17] اور پیغمبراکرمؐ کے زمانے میں ان نمازوں کو جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی جاتی تھیں۔[18] شیخ طوسی کے مطابق شیعہ علماء کا اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ ماہ رمضان کے نوافل کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا بدعت ہے۔[19]اسی طرح شیعہ عالم دین علامہ مجلسی کے مطابق ماہ رمضان کے نوافل کا جماعت کے ساتھ پڑھنا جائز نہ ہونے میں شیعہ علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔[20]

اہل‌ بیت کی سیرت

امام صادقؑ سے منقول ہے، جب حضرت علیؑ ظاہری خلافت پر پہنچے تو آپ نے اپنے فرزند امام حسنؑ سے فرمایا کہ لوگوں سے کہیں کہ وہ نماز تراویح کو جماعت کے ساتھ ادا نہ کریں، امام حسنؑ کی بات سن کر لوگوں نے "واعُمَراہ" کہتے ہوئے اعتراض کرنا شروع کیا؛[21] حضرت علیؑ نے لشکر اسلام میں اختلاف پیدا ہونے سے بچنے کے لئے اسے رہنے دیا۔[22]

ائمہ معصومینؑ کے بعض اصحاب جیسے زرارہ، محمد بن مسلم اور فُضیل وغیرہ نے امام باقرؑ اور امام صادقؑ سے ماہ رمضان کے نوافل کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے سے متعلق سوال کیا؟ جس پر ائمہ اطہارؑ نے پیغمبر اکرمؐ کی سیرت کا حوالہ دیتے ہوئے اس نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے کو بدعت قرار دیا۔[23] اسی طرح ماہ رمضان کے نوافل کی تعداد اور اس کی کیفیت کے بارے میں منقول ایک حدیث میں امام رضاؑ نے پیغمبر اکرمؐ کے ارشادات کا حوالے دیتے ہوئے فرمایا: نوافل کو جماعت کے ساتھ نہیں پڑھ سکتے اور پیغمبر اکرمؐ اپنی حیات طیبہ کے آخری لمحات تک انہیں فرادا ادا کرتے تھے۔[24]

احکام

نماز تراویح کے بعض احکام درج ذیل ہیں:

  • جماعت کے ساتھ ادا کرنا: اہل‌ سنت علماء کے درمیان نماز تراویح کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا واجب ہونے [25]، مستحب ہونے[26] یا جماعت اور فرادا میں سے جسے چاہے اختیار کرنے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔[27] البتہ اہل سنت مشہور علماء کی طرف نسبت دی جاتی ہے کہ وہ اس نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے کے قائل ہیں۔[28] حنفی مذہب کے عالم دین کاسانی نماز تراویح کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے کو سنت کفایی جانتے ہیں۔[29]اسی طرح مالکی مذہب کے پیشوا مالک بن انس اس نماز کو فرادا اور گھر میں پڑھنے کو افضل سمجھتے تھے۔[30] ابن‌ عساکر کے مطابق اہل سنت مذاہب اربعہ کے فقہاء من جملہ عبدالرحمن بن محمد بن ادریس (ابومحمد بن ابی‌حاتم رازی)[31] اور محمد بن ادریس شافعی (150-204ھ) نماز تراویح کو گھر میں فرادا ادا کرتے تھے۔[32]
  • رکعات کی تعداد: نماز تراویح کی رکعت کی تعداد میں بھی اختلاف‌ پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ اس سلسلے میں پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے کوئی حدیث کا نہ ہونا اور اسے صحابہ کی سیرت کے ساتھ مستند کرنا قرار دیا جاتا ہے۔[33] اہل سنت اکثر فقہاء نے نماز تراویح کی رکعت کی تعداد 20 ذکر کی ہیں۔[34] کہا جاتا ہے کہ ابوحنیفہ، شافعی اور احمد بن حنبل جیسے فقہاء بھی اس سلسلے میں اسی نظریے کے قائل تھے۔[35] لیکن مالک بن انس نے ان کی تعداد 36 بیان کی ہے۔[36] اسی طرح نماز تراویح رکعتوں کی تعداد 11 سے 47 تک بتائی گئی ہیں۔[37] کہا جاتا ہے کہ اکثر مسلمانوں کے نزدیک نماز تراویح 11 رکعت پر مشتمل ہے۔[38]
  • شیعہ نطقہ نگاه سے ماہ رمضان کے نوافل کی تعداد 1000 رکعت ہیں، پہلی 20 راتوں میں ہر رات 20 رکعت اور آخری 10 راتوں میں ہر رات 30 رکعت اور شب قدر کی تینوں راتوں میں ہر رات 100 رکعت پڑھی جاتی ہے۔[39]
  • وقت: اہل سنت کے مطابق نماز تراویح ماہ رمضان کی راتوں کو نماز عشاء کے بعد سے فجر تک ادا کی جا سکتی ہے۔[40] کہا جاتا ہے کہ حنفی، مالکی اور حنبلی مذہب کے مطابق نماز تراویح کی قضا نہیں ہے؛‌ لیکن شافعی فقہاء کے مطابق وقت گزرنے کے بعد اسے بھی دوسری نمازوں کی طرح قضا کی جا سکتی ہے۔[41]

اذان و اقامہ،[42] بسم اللہ کا بلند آواز کے ساتھ پڑھنا[43] اور حضرت محمدؐ پر درود بھیجنا[44] اس نماز کے دوسرے احکام میں سے ہیں۔

اہل‌ سنت مآخذ میں نماز تراویح کے احکام بیان ہوئے ہیں[45] سرخسی (متوفی 483ھ) نے کتاب المبسوط میں 12 فصل نماز تراویح کے احکام کے ساتھ مختص کی ہے۔[46]

ختم قرآن

بعض اہل‌ سنت فقہاء نے نماز تراویح میں ختم قرآن کی سفارش کی ہیں۔ نماز تراویح میں قرآن ختم کرنے کے لئے نمازی قرآن کے رکوع[یادداشت 1] سے مدد لیتے ہیں۔[47] بعض علماء قرآن کو رکوعات میں تقسیم‌ کرنے کو نماز تراویح کے ساتھ منسلک کرتے ہیں۔[48]

کتابیات

نماز تراویح کے بارے میں متعدد کتابیں لکھی گئی ہیں۔

«صلاۃ التراویح سنۃ مشروعۃ او بدعۃ محدثۃ» تالیف جعفر باقری،[49] اور «صلاۃ التراویح بین السنۃ و البدعۃ»، تألیف نجم‌الدین طبسی[50] شیعہ علماء کی طرف سے نماز تراویح کے بارے میں میں لکھی گئی ہیں۔

اسی طرح "تراویح"، تالیف امام حسام‌الدین عمر بن عبدالعزیز،[51] «المصابیح فی صلاۃ التراویح»، تألیف عبدالرحمن سیوطی،[52] «نور المصابیح فی صلاۃ التراویح» تألیف علی بن عبدکافی سُبکی[53] اور «اقامۃ البرہان علی کمیۃ التراویح فی رمضان»، تألیف عبدالرحمن بن عبدالکریم زبیدی اہل‌ سنت کی طرف سے نماز تراویح کے بارے میں لکھی گئی کتابیں ہیں۔[54]

نوٹ

  1. مشہور قول کی بنا پر قرآن کے 450 رکوع ہیں جنہیں قرآن کے بعض نسخوں میں"ع" کے ساتھ مشخص کیا جاتا ہے۔

حوالہ جات

  1. عبدالرحمن عبدالمنعم، معجم المصطلحات و الالفاظ الفقہیۃ، دار الفضیلۃ، ج2، ص380؛ رجوع کریں: المصطلحات، ص1560؛ قمی، جامع الخلاف و الوفاق، زمینہ‌سازان ظہور، ص119۔
  2. ابن‌اثیر، النہایۃ، 1364ش، ج2، ص274۔
  3. ابن‌منظور، لسان العرب، 1405ھ، ج2، ص463؛ سبحانی، الانصاف، 1423ق، ج1، ص383۔
  4. عبدالرحمن، معجم المصطلحات و الالفاظ الفقہیۃ،‌ دار الفضیلۃ، ج2، ص380؛ ابن‌منظور، لسان العرب، 1405ھ، ج2، ص463۔
  5. طبسی و رہبر، «نماز تراویح، سنّت یا بدعت»، ص18۔
  6. طبسی و رہبر، «نماز تراویح، سنّت یا بدعت»، ص18۔
  7. «بدعت تراویح بہ اعتراف بزرگان اہل سنت+تصاویر کتاب»، وبگاہ مؤسسہ تحقیقاتی ولی عصر(عج)۔
  8. ملاحظہ کریں: طبری، تاریخ طبری، مؤسسۃ الاعلمی، ج3، ص277؛ مسعودی، مروج الذہب، 1404ھ، ج2، ص319۔
  9. بخاری، صحیح البخاری، 1401ھ، ج2، ص252۔
  10. المزی، تہذیب الکمال، 1413ھ، ج28، ص117؛ ابن‌ابی‌حاتم، الجرح و التعدیل، 1372ھ، ج8، ص246۔
  11. خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، 1417ھ، ج2، ص162۔
  12. ابن‌حبان، الثقات، 1393ھ، ج3، ص161۔
  13. سبکی، فتاوی السبکی، دار المعرفۃ، ج2، ص107۔
  14. غزالی، احیاء علوم الدین، دار الکتب العربی، ج3، ص113۔
  15. ابن‌ابی یعلی، طبقات الحنابلہ، دار المعرفۃ، ج2، ص277۔
  16. شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج1، ص529۔
  17. کاشف الغطاء، کشف الغطاء، انتشارات مہدوی، ج1، ص18؛ سبحانی، الانصاف، 1423ھ، ج1، ص391۔
  18. قمی سبزواری، جامع الخلاف و الوفاق، زمینہ‌سازان ظہور، ص119۔
  19. طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج1، ص528۔
  20. مجلسی، مرآۃ العقول، 1404ھ، ج16، ص378۔
  21. شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، 1365ہجری شمسی، ج3، ص70؛ حر عاملی، وسائل الشیعۃ، 1414ھ، ج8، ص46۔
  22. کلینی، الکافی، 1362ہجری شمسی، ج8، ص63؛ حر عاملی، وسائل الشیعۃ، 1414ھ، ج8، ص47۔
  23. شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، نشر اسلامی، ج2، ص137۔
  24. شیخ طوسی، الاستبصار، 1363ش، ج1، ص465؛ شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، 1365ہجری شمسی، ج3، ص65۔
  25. سبکی، فتاوی السبکی، دار المعرفۃ، ج1، ص156۔
  26. رافعی، فتح العزیز، دار الفکر، ج4، ص264 و 265۔
  27. النووی، المجموع، دار الفکر، ج4، ص31۔
  28. سرخسی، المبسوط، 1406ھ، ج2، ص144۔
  29. کاسانی، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، 1406ھ، ج2، ص288۔
  30. مراجعہ کریں: سرخسی، المبسوط، 1406ھ، ج2، ص144۔
  31. ابن‌عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 1415ھ، ج51، ص394۔
  32. ابن‌عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 1415ھ، ج35، ص375۔
  33. «نماز تروایح یکی از عبادت‌ہای ماہ رمضان است»، وبگاہ وااسلاماہ۔
  34. دیکھیں: بہ النووی، روضۃ الطالبین، دار الکتب العلمیۃ، ج1، ص437؛ النووی، المجموع، دارالفکر، ج4، ص31؛ رافعی، فتح العزیز، دار الفکر، ج4، ص264 و 265۔
  35. رہایی، «تراویح»، ص820؛ ضمیری، «نماز تراویح از دیدگاہ فریقین»، ص134۔
  36. سرخسی، المبسوط، 1406ھ، ج2، ص144۔
  37. رہایی، «تراویح»، ص820۔
  38. «نماز تروایح یکی از عبادت‌ہای ماہ رمضان است»، وبگاہ وااسلاماہ۔
  39. طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج1، ص530۔
  40. ضمیری، «نماز تراویح از دیدگاہ فریقین»، ص132۔
  41. ضمیری، «نماز تراویح از دیدگاہ فریقین»، ص132۔
  42. سرخسی، المبسوط، 1406ھ، ج1، ص134۔
  43. النووی، روضۃ الطالبین، دار الکتب العلمیۃ، ج1، ص354۔
  44. مقریزی، امتاع الاسماع، 1420ھ، ج11، ص133۔
  45. دمیاطی، اعانۃ الطالبین، 1418ھ، ج1، ص307۔
  46. سرخسی، المبسوط، 1406ھ، ج2، ص143۔
  47. مجاہدی، «تراویح»، ص743۔
  48. مستفید، تقسیمات قرآنی و سور مکی و مدنی، 1384ہجری شمسی، ص16۔
  49. باقری، صلاۃ التراویح سنۃ مشروعۃ او بدعۃ محدثۃ، قم، مرکز الابحاث العقائدیۃ، 1427ھ۔
  50. طبسی، صلاۃ التراویح بین السنۃ و البدعۃ، قم، 1420ھ۔
  51. حاجی خلیفہ، کشف الظنون، دار احیاء التراث العربی، ج2، ص1403۔
  52. حاجی خلیفہ، کشف الظنون، دار احیاء التراث العربی، ج2، ص1702۔
  53. حاجی خلیفہ، کشف الظنون، دار احیاء التراث العربی، ج2، ص1983۔
  54. باشا بغدادی، ایضاح المکنون، دار احیاء التراث العربی، ج1، ص110۔

مآخذ

  • ابن‌ابی حاتم رازی، عبدالرحمن، بالجرح و التعدیل، بیروت، دار احیاء التراث العربی،1372ھ۔
  • ابن‌ابی یعلی، محمد، طبقات الحنابلہ، بیروت، دار المعرفۃ، بی تا۔
  • ابن‌اثیر، مجدالدین، النّہایۃ فی غریب الحدیث و الأثر، تحقیق محمود محمد طناحی، قم، اسماعلیلیان، چاپ چہارم، 1364ہجری شمسی۔
  • ابن‌حبان، محمد، الثقات، حیدرآباد، موسسۃ الکتب الثقافیۃ، 1393ھ۔
  • ابن‌عساکر، علی، تاریخ مدینہ دمشق، تحقیق علی شیری، بیروت: دارالفکر،1415ھ۔
  • ابن‌منظور، محمدبن مکرم، لسان العرب، بیروت، دار صادر، بی‌تا۔
  • المزی، یوسف، تہذیب الکمال فی اسماء الرّجال، تحقیق بشار عواد، بیروت، الرّسالۃ، چاپ چہارم، 1413ھ۔
  • المصطلحات، اعداد مرکز المعجم الفقہی، بی‌جا، بی‌نا، بی‌تا۔
  • النووی، یحیی بن شرف، المجموع فی شرح المہذب، بی‌جا، دار الفکر، بی‌تا۔
  • النووی، یحیی بن شرف، روضۃ الطالبین، تحقیق احمد عبدالموجود و علی محمد معوض، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، بی‌تا۔
  • باشا بغدادی، اسماعیل، ایضاح المکنون، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا۔
  • بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح بخاری، بیروت، دار الفکر، 1401ھ۔
  • «بدعت تراویح بہ اعتراف بزرگان اہل سنت + تصاویر کتاب»، وبگاہ مؤسسہ تحقیقاتی حضرت ولی عصر(عج)، تاریخ درج مطلب: 1 مرداد 1392ش، تاریخ بازدید: 17 فروردین 1402ہجری شمسی۔
  • حاجی خلیفہ، مصطفی بن عبداللہ، کشف الظنون، تصحیح محمدشرف الدین و رفعت بیلگہ، بیروت: دار احیاء التراث العربی، بی‌تا۔
  • حر عاملی،‌ محمد، وسائل الشیعۃ الی تحصیل مسائل الشرعیۃ، تحقیق مؤسسۃ آل البیت، قم، مؤسسۃ آل البیت، 1414ھ۔
  • خطیب بغدادی، احمد، تاریخ بغداد او مدینۃ السلام، تحقیق مصطفی عبدالقادر، بیروت، دار الکتب العلمیّۃ، 1417ھ۔
  • دمیاطی، ابوبکر بن سید، اعانۃ الطالبین، بیروت، دار الفکر، ۔
  • رافعی، عبدالکریم، فتح العزیز، بی‌جا، دار الفکر، بی‌تا۔
  • رہایی، یحیی، «تراویح»، دانشنامہ جہان اسلام، ج6، تہران، بنیاد دائرۃ المعارف اسلامی، 1375ہجری شمسی۔
  • سبحانی، جعفر، الانصاف فی مسائل دام فیہا الخلاف، قم، مؤسسۃ الامام الصادق، 1423ھ۔
  • سبکی، عبدالوہاب بن علی، طبقات الشافعیۃ الکبری، تحقیق محمد طناحی و عبدالفتاح محمد، بی‌جا، دار احیاء الکتب العربیۃ، بی‌تا۔
  • سبکی، علی‌ بن عبدالکافی، فتاوی السبکی، بیروت: دار المعرفۃ، بی‌تا۔
  • سرخسی، شمس‌الدین، المبسوط، بیروت، دار المعرفۃ، 1406ھ۔
  • شافعی،‌ محمد بن ادریس، الام، بیروت، دار الفکر، 1403ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد، من لایحضرہ الفقیہ، تحقیق علی‌اکبر غفاری، قم، جامعہ مدرسین، الطبعۃ الثانیۃ، 1404ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد، الاستبصار، تحقیق حسن موسوی، طہران، دار الکتب الاسلامیۃ، چاپ چہارم، 1363ہجری شمسی۔
  • شیخ طوسی، محمد، الخلاف، تحقیق جماعۃ من المحقیقن، قم، موسسۃ النشر الاسلامی، 1407ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد، تہذیب الأحکام فی شرح المقنعۃ للشیخ المفید، تحقیق حسن موسوی ، طہران، دارالکتب الاسلامیۃ، چاپ چہارم، 1365ہجری شمسی۔
  • ضمیری، محمدرضا، «نماز تراویح از دیدگاہ فریقین»، پژوہشنامہ حکمت و فلسفہ اسلامی (طلوع نور)، شمارہ 10 و 11، تابستان و پاییز 1383ہجری شمسی۔
  • طبسی، نجم‌الدین و محمدتقی رہبر، «نماز تراویح، سنّت یا بدعت»، میقات حج، دورہ 9، شمارہ 35، فروردین 1380ہجری شمسی۔
  • طبسی، نجم‌الدین، صلاۃ التراویح بین السنۃ و البدعۃ، قم، بی‌نا، 1420ھ۔
  • عبدالرحمن عبدالمنعم، محمود، معجم المصطلحات و الالفاظ الفقہیۃ، قاہرۃ، دار الفضیلۃ، بی‌تا۔
  • غزالی، محمد بن محمد، احیاء علوم الدین، تحقیق عبدالرحیم بن حسین حافظ عراقی، دار الکتب العربی، بی‌تا۔
  • قمی سبزواری، علی بن محمد، جامع الخلاف و الوفاق بین الامامیۃ و بین ائمۃ الحجاز و العراق، قم، زمینہ سازان ظہور، 1379ہجری شمسی۔
  • کاسانی، ابوبکر بن مسعود، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، دار الكتب العلميۃ، الطبعۃ الثانیۃ، 1406ھ/1986ء۔
  • کاشف‌الغطاء، جعفر، کشف الغطاء عن مبہمات الشریعۃ، تحقیق عباس تبریزان و ۔۔۔، قم، مکتب الاعلام الاسلامی، 1422ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، اصول الکافی، تعلیق علی‌اکبر غفاری، بی‌جا، دارالکتب الاسلامیۃ، 1363ہجری شمسی۔
  • مجاہدی، فاطمہ، «تراویح»، دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ج14، مرکز دایرۃ المعارف بزرگ اسلامی، 1385ہجری شمسی۔
  • مجلسی، محمدباقر، مرآۃ العقول فی شرح أخبار آل الرسول‏، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ دوم، 1404ھ۔
  • مستفید، حمیدرضا و کریم دولتی، تقسیمات قرآنی و سور مکی و مدنی، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، 1384ہجری شمسی۔
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، قم، دار الہجرۃ، چاپ دوم، 1404ھ۔
  • مقریزی، احمد بن علی، امتاع الاسماع بالنبی من الاحوال و الاموال و الحفدۃ و المتاع، تحقیق محمد عبدالحمید، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 1420ھ۔
  • ‌«نماز تروایح یکی از عبادت‌ہای ماہ رمضان است»، وبگاہ وااسلاماہ، تاریخ بازدید: 17 فروردین 1402ہجری شمسی۔