مجتہد

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دائیں سے: سید ابو القاسم خوئی، سید محسن حکیم، سید محمود شاہرودی و سید علی تبریزی پندرہویں صدی ہجری کے فقہاء

مُجْتَہِد یا فَقیہ وہ شخص ہوتا ہے جو علم فقہ میں اجتہاد کے مرتبے تک پہنچے اور معتبر منابع سے شرعی احکام استنباط کرنے کی صلاحیت رکھے۔ شرعی دلیلوں کے مطابق جامع الشرائط مجتہدین حاکم شرع ہوتے ہیں جو حق قضاوت، عمومی اموال اور اوقاف میں تصرف کرنے بلکہ جنگ اور صلح کے اعلان کا بھی حق رکھتے ہیں۔ شیعہ معاشرے کی دینی سربراہی بھی مجتہدین کے ذمے ہے۔ مذہبی لوگ ان کی باتوں کو مانتے ہیں اور اپنے دینی اعمال کو ان کے فتوے کے مطابق انجام دیتے ہیں جبکہ اپنی آمدنی میں سے شرعی وجوہات کو مجتہدین کے سپرد کرتے ہیں۔ جو مجتہد اعلم ہوتے ہیں ان کی باتوں کو زیادہ مانا جاتا ہے اور وہ مرجعیت کے مقام تک پہنچتے ہیں۔ شیخ طوسی، محقق حلی، علامہ حلی، شیخ انصاری و میرزا شیرازی شیعہ مجتہدین میں سے ہیں۔

مجتہد کی تعریف

مجتہد یا فقیہ اصطلاح میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جو علم فقہ میں اجتہاد کے مرتبے تک پہنچے اور معتبر منابع سے شرعی احکام کے فروعات کو استنباط کرنے کی صلاحیت رکھے۔[1]شیعہ نظرئے کے مطابق جامع الشرائط فقہاء امام معصوم کے جانشین ہیں۔ اور انہیں امام کے نایب عام کہا جاتا ہے[2] اور ائمہؑ کی بہت ساری اختیارات جیسے قضاوت اور وجوہات شرعی میں تصرف کرنے کی انہیں اجازت ہے۔[3]

آخری صدیوں میں یہ مرسوم تھا کہ جب حوزہ علمیہ سے جو شخص فارغ ہوتا تھا تو ان کے استاد زبانی یا تحریری طور پر ان کی اجتہاد کی تائید کرتے تھے۔ اس تصدیق اور تائید کو «اجازہ اجتہاد» کہا جاتا ہے۔[4]

مجتہدوں کے اختیارات اور ذمہ داریاں

شیعہ فقہ کے مطابق جو شخص اجتہاد کے مرتبے پر فائز ہوتا ہے اور بعض شرائط اس میں پائی جائیں تو وہ حاکم شرع کہلاتا ہے[5] اور ان کے بعض اختیارات اور ذمہ داریاں ہیں۔ شیخ انصاری نے فقیہ کی تین اہم ذمہ داریاں بیان کی ہیں۔ افتاء یعنی فتوا دینا، قضاوت یعنی حکومت کرنے کے معنی میں اور اموال اور جانوں پر ولایت تصرف رکھنا۔[6]

آیت‌اللہ مکارم شیرازی فقیہ کے اختیارات کے بارے میں سب سے پہلے فتوا دینا اور قضاوت کرنے کو بیان کیا ہے اور اس کے بعد ولایت فقیہ کے منصب کے ذیل میں فقیہ کے مندرجہ ذیل سات اختیارات کو بیان کیا ہے جن پر علم فقہ میں بحث ہوتی ہے:

  • محجور افراد جیسے؛ ان غائب، اور بچوں کے مال کی سرپرستی جن کا کوئی ولی نہیں ہے، نیز بعض مجنون اور سفیہ افراد پر ولایت
  • وجوہات شرعی جیسے خمس، زکات اور وقف عام کو لینے اور خرچ کرنے پر ولایت،
  • منصب قضا کے علاوہ شرعی حدود جاری کرنے پر ولایت،
  • امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ایسے موارد پر ولایت جن میں مارنے، زخمی کرنے یا کسی کو قتل کرنے کی ضرورت پڑے،
  • حکومتی اور سیاسی امور، اسلامی سرزمین کے حدود اور بارڈرز کی حفاظت اور دشمنوں کے مقالے میں دفاع اور عمومی مصالح سے مربوط امور پر ولایت،
  • لوگوں کی جان اور مال پر ولایت،
  • تشریع اور قانون بنانے پر ولایت۔[7]

بعض فقہاء نے نماز جمعہ قائم کرنے کو بھی فقیہ کے اختیارات میں سے شمار کیا ہے۔[8] محمدحسین نائینی نے اپنی کتاب تنبیہ الامہ میں امور حسبیہ کی سرپرستی اور ولایت کو بھی فقیہ کے منصب میں شمار کیا ہے اور اسے شیعہ مذہب کے مسلمات میں سے قرار دیا ہے۔[9]

مراتب

محمد حسن نجفی، المعروف صاحب جواہر، تیرہویں صدی ہجری کے ایک فقیہ

مجتہد لفظ کی مختلف تقسیمات کے پیش نظر مجتہد کی درج ذیل اقسام ہوسکتی ہیں:

  • مجتہد مُتَجَزّی: وہ شخص جو فقہ کے بعض ابواب میں شرعی احکام استنباط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔[10]بعض فقہاء متجزی مجتہد کی تقلید کرنے کو جائز نہیں سمجھتے ہیں، جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ جن احکام کو انہوں نے استنباط کیا ہے اس میں ان کی تقلید کی جاسکتی ہے۔[11]
  • مجتہد مُطلَق: وہ مجتہد جو استنباط کی صلاحیت رکھتا ہے اور شرعی استدلال کے ذریعے سے اکثر شرعی احکام کو استنباط کر چکا ہے۔[12]
  • مجتہد بالفعل: اس مجتہد کو کہا جاتا ہے جو استنباط کی صلاحیت رکھنے کے علاوہ عملی طور پر بھی بہت سارے احکام کو استنباط کر چکا ہے۔[13]
  • مجتہد بالقوّہ: اس مجتہد کو کہا جاتا ہے جو شرعی احکام استنباط کرنے کی صلاحیت رکھتا تو ہے لیکن عملی طور پر اکثر شرعی احکام کو استنباط نہیں کیا ہے۔[14]
  • مجتہد اعلم: وہ جامع الشرائط فقیہ ہے جو شرعی احکام کے استنباط میں دوسرے فقہا کی نسبت زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔[15]بعض فقہا کا کہنا ہے کہ اگر اعلم مجتہد تک رسائی ممکن ہو تو ان کی تقلید کرنا واجب ہے اور بعض احتیاط واجب سمجھتے ہیں۔[16]
  • مجتہد جامعُ الشرایط، اس مجتہد کو کہا جاتا ہے کہ جن میں وہ تمام شرائط پائی جاتی ہیں جو کسی اور کا ان کی تقلید کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ جیسے مرد، عاقل، حلال‌زادہ، شیعہ امامی، زندہ، عادل اور اعلم ہونا۔[17]

مجتہد اور مرجع تقلید میں فرق

ہر وہ مجتہد جو فتوا دینے کی صلاحیت رکھتا ہو تو ممکن ہے وہ مرجعیت تک پہنچے۔ مرجع تقلید حقیقت میں جامع الشرائط مجتہد ہے جو شیعہ لوگوں میں مقبول ہے اور ان کی تقلید کرتے ہیں؛ یعنی اپنے دینی اعمال کے ان کے فتوے کے مطابق انجام دیتے ہیں۔ اپنے شرعی وجوہات کو انہیں یا ان کے نمایندوں کے سپرد کرتے ہیں۔[18]

میرزا شیرازی، چودہویں صدی ہجری کے جامع الشرائط مجتہد

شیعہ نامور مجتہدین

شیعہ فقہاء کو کبھی ان کے عصر کے مطابق اور کبھی ان کے اجتہادی مکتب کے مطابق تقسیم کیا گیا ہے۔[19]

متقدم اور متأخر فقہاء

شیعہ فقہی کتابوں میں شیخ طوس سے پہلے کے فقہاء کو قدما کہا گیا ہے،[20]اور شیخ طوسی سے لیکر علامہ حلی تک کے فقہاء کو متقدمین کہا گیا ہے[21]اور علامہ حلی سے لیکر معاصر فقہاء کی پہلی نسل تک کے فقہاء کو متاخرین کہا گیا ہے۔[22]اور معاصر فقہاء کو «متأخر المتأخرین» (متاخرین سے بعد کے فقہاء) کہا گیا ہے۔[23]
اس تقسیم بندی کی علت ہر دور کی مختلف فقہی روش کو قرار دیا ہے۔[24]البتہ یہ اصطلاحات نسبی ہیں جن کے بارے میں دیگر نظرئے بھی ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر بعض فقہاء نے محقق حلی سے پہلے کے فقہاء کو قدماء نام دیا ہے۔[25]

شیعہ مشہور فقہاء

شیعہ فقہ کی تاریخ میں بہت سارے فقہاء گزرے ہیں لیکن ان میں سے بعض مشہور مندرجہ ذیل ہیں جنہیں ان کی تاریخ وفات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے:

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. مرکز اطلاعات و مدارک اسلامی، فرہنگ‌نامہ اصول فقہ، ۱۳۸۹ش، ص۶۹۶.
  2. کاشف الغطاء، کشف الغطاء، انتشارات دفتر تبلیغات، ج۴، ص۳۷۰
  3. شیخ انصاری، کتاب المکاسب،چاپ کنگرہ، ج۳، ص۵۴۵-۵۴۶
  4. گرجی، «اجتہاد»، ص۶۱۰.
  5. فرہنگ فقہ، ج۳، ص۱۹۹
  6. شیخ انصاری، کتاب المکاسب،چاپ کنگرہ، ج۳، ص۵۴۵-۵۴۶
  7. مکارم شیرازی، بحوث فقہیہ ہامہ، سال ۱۴۲۲، ص۴۰۰-۴۰۱
  8. بروجردی، تبیان الصلاۃ، نشر گنج عرفان، ج۱، ص۵۸
  9. نائینی، تنبیہ الامۃ و تنزیہ الملۃ، انتشارات دفتر تبلیغات، ص۷۶
  10. مشکینی، اصطلاحات الأصول، ۱۴۱۶ق، ص۱۹.
  11. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۲۸ق، ج۱، ص۱۷.
  12. مشکینی، اصطلاحات الأصول،۱۴۱۶ق، ص۱۹.
  13. مرکز اطلاعات و مدارک اسلامی، فرہنگ‌نامہ اصول فقہ، ۱۳۸۹ش، ص۷۵.
  14. مرکز اطلاعات و مدارک اسلامی، فرہنگ‌نامہ اصول فقہ، ۱۳۸۹ش، ص۷۱.
  15. انصاری، مطارح الأنظار، ۱۳۸۳ش، ج۲، ص۶۷۹.
  16. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۲۸ق، ج۱، ص۱۹؛ امام خمینی، توضیح المسائل، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۱۳.
  17. امام خمینی، توضیح المسائل، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۱۳.
  18. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۲۸ق، ج۱، ص۴؛ رحمان‌ستایش، «تقلید»، ص۷۸۹.
  19. گرجی، تاریخ فقہ و فقہا، ص۱۵
  20. بدرى، معجم مفردات أصول الفقہ المقارن، ۱۴۲۸ق، ص۲۲۶.
  21. بدرى، معجم مفردات أصول الفقہ المقارن، ۱۴۲۸ق، ص۲۵۳.
  22. بدرى، معجم مفردات أصول الفقہ المقارن، ۱۴۲۸ق، ص۲۵۲، ۲۵۳.
  23. بدرى، معجم مفردات أصول الفقہ المقارن، ۱۴۲۸ق، ص۲۵۲.
  24. بدرى، معجم مفردات أصول الفقہ المقارن، ۱۴۲۸ق، ص۲۲۶، ۲۵۲، ۲۵۳.
  25. ملكى اصفہانى، ‏فرہنگ اصطلاحات اصول،‏ ۱۳۷۹ش، ج۲، ص۶۰.
  26. مکارم شیرازی، دائرۃ المعارف فقہ مقارن، ۱۴۲۷ق، ج۱، ص۲۵۹تا۲۶۶.


مآخذ

  • انصاری، مرتضی، مطارح الأنظار، قم، مجمع الفکر الإسلامی، چاپ دوم، ۱۳۸۳ش.
  • انصاری، مرتضی، کتاب المکاسب، چاپ کنگرہ بزرگداشت شیخ اعظم انصاری، قم، ۱۴۱۵ق.
  • بدری، تحسین، تہران، ‏المشرق للثقافہ و النشر، چاپ اول، ۱۴۲۸ق.
  • بروجردی، سید حسین طباطبایی، تبیان الصلاۃ، تقریر: علی صافی گلپایگانی، انتشارات گنج عرفان، قم، ۱۴۲۶ق.
  • جزایری، محمد جعفر، منتہی الدرایۃ فی توضیح الکفایۃ، قم، مؤسسہ‌دار الکتاب، چاپ چہارم، ۱۴۱۵ق.
  • حسینی شیرازی، محمد، الوصول الی کفایۃ الأصول، قم، دار الحکمہ، چاپ سوم، ۱۴۲۶ق.
  • رحمان ستایش، محمد کاظم، «تقلید۱»، دانشنامہ جہان اسلام، تہران، بنیاد دایرۃ المعارف اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۲ش.
  • فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت علہیم السلام، زیر نظر آیۃ اللہ سید محمود ہاشمی شاہرودی، مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، قم، ۱۳۸۷ش.
  • کاشف الغطاء، جعفر، کشف الغطاء عن وجہ شریعۃ الغراء، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم، قم، ۱۴۲۲ق.
  • کاشف الغطاء، علی، النور الساطع فی الفقہ النافع، نجف، مطبعہ الآداب‏، چاپ اول، ۱۳۸۱ق.
  • گرجی، ابو القاسم، «اجتہاد»، دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، تہران، مرکز دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۷۳ش.
  • گرجی، ابو القاسم، تاریخ فقہ و فقہا، انتشارات سمت، تہران،۱۳۹۲ش.
  • مرکز اطلاعات و مدارک اسلامی، فرہنگ‌ نامہ اصول فقہ، قم، پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۹ش.
  • مشکینی، میرزا علی، اصطلاحات الأصول و معظم أبحاثہا، قم، الہادی، چاپ ششم، ۱۴۱۶ق.
  • مصطفوی، حسن، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، چاپ سوم، ۱۴۳۰ق.
  • مکارم شیرازی، ناصر، بحوث فقہیۃ ہامۃ، مدرسۃ الامام علی بن ابی طالب، قم، ۱۴۲۲ق.
  • مکارم شیرازی، ناصر، دائرۃ المعارف فقہ مقارن، قم، مدرسہ الامام علی بن ابی طالب (ع)، چاپ اول، ۱۴۲۷ق.
  • ملكى اصفہانى، مجتبى، ‏فرہنگ اصطلاحات اصول،‏ قم، عالمہ‏، چاپ اول، ۱۳۷۹ش.
  • موسوی خمینی، سید روح اللہ، توضیح المسائل (مُحَشَّی)، قم، چاپ ہشتم، مرکز انتشارات اسلامی، ۱۴۲۴ق.
  • یزدی، سید محمد کاظم، العروۃ الوثقی مع التعلیقات، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ اول، ۱۴۲۸ق.